سید یاور حسین کیف ؔ بنارسی

September 5, 2018 9:51 pm

مصنف -  عالمگیر سیفی

تحریک پاکستان کا ایک مخلص کارکن ۔قائد اعظم محمد علی جناح کے سپاہی
جس نے کلیم میں ملنے والی ساری جائیداد حکومتِ پاکستان کو واپس کردی
قارئینِ محترم آپ میں سے بیشتر نے یقینا تحریکِ پاکستان میں برصغیر کے طول و عرض میں گونجنے والایہ نعرہ ضرور سُنا ہوگا
’’لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘
لیکن یقینا آپ میں سے بیشتر اسِ نعرے کے خالق اور اُس کی زندگی کے شب و روز سے ناواقف ہونگے۔ سو آج آپ کی نذر وہ معلومات کہ جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
ہندوستان کے مشہور قلع بند شہر چُنا ر میں سید ابنِ علی ہیڈکانسٹبل کے گھر پیداہونے والے بیٹے کا نام سید یاور حسین رکھا گیا۔ابنِ علی ایک ایمان داراور بہادر پولیس کانسٹبل تھے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں پولیس ڈپارٹمنٹ کا سب سے بڑا اعزاز ’’انڈین پولیس میڈل‘‘ دیا گیا تھا۔یاور حسین کے بچپن میں ہی ابنِ علی کا ٹرانسفر ہندوئوںکے مشہور شہر بنارس ہوگیا۔ یوں قیامِ پاکستان تک کی زندگی یاور حسین نے بنارس میں گزاری۔یہاں کے مشہور جئے نارائین اسکول میں تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کارکردگی کا بھی مظاہرہ کیا اور چھٹی جماعت میں تھے کہ اسکول میگزین کے ایڈیٹر بنادئےے گئے۔ پھر تو اسکول کی فٹبال اور کرکٹ ٹیم کے کپتان یاور حسین تھے تو بزمِ ادب کے سیکریٹری ، بہترین اسکائوٹ و اسپورٹس مین کا اعزاز بھی یاور حسین کے پاس تھا۔ سب سے زیادہ کامیابیاں انہیں ٹقریری مقابلوں اور بیت بازی میں حاصل ہوئی۔ یاور حسین ابھی اسکول ہی میں تھے کہ شاعری کرنی شروع کی اور تخلّص کیف ؔ رکھا ۔ یوں وہ کیف ؔ بنارسی کے نام سے مشہور ہوگئے۔ جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو ہیڈماسٹر نے انہیں ’’مروجہ پرویژنل سرٹیفکیٹ ‘‘ نہیں جاری کیا بلکہ اپنے لیٹر ہیڈ پر انکے بارے میں لکھنا شروع کیا یہاں تک کہ صفحہ کا اختتام ہوگیا تو انہوں نے صفحہ کی دوسری طرف لکھنا شروع کیا اور آخر میں لکھا کہ ” In short, Syed Yawer Hussain gave name to our school”مختصر یہ کہ سید یاور حسین نے اسکول کا نام روشن کیا۔ انہوں نے بنارس کے بنگالی اینگلو کالج سے انٹر کیا اور ریلوے میں کلرک بھرتی ہوگئے اب تعلیم اور نوکری ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔
تحریکِ پاکستان میں شمولیت اور خدمات :
کیف ؔ بنارسی ۴۱ ñ برس کی عمر سے ہی تحریکِ پاکستان کے ایک کارکن کی حیثیت سے کام کررہے تھے ۔وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور پختہ ہوتا گیا اور پھر وہ دن بھی آیا کہ جب کیف ؔ بنارسی نے تحریکِ پاکستان کے لئے کام کرنے کی خاطر ریلوے کی قیمتی نوکری سے استعفی دے دیا اور آٹھ آنے روز پر ایک ٹیوشن پڑھانے لگے۔ ۴۴۹۱ئ÷ میں جب قائدِ اعظم اور گاندھی کے درمیان مذاکرات اس بات پر ناکام ہوئے کہ موہن داس کرم چند گاندھی نے مسلمانوں کو ایک الگ قوم ماننے سے انکار کردیا تھا تو کیف ؔ بنارسی کے دِل سے وہ آفاقی نغمہ بہ اندازِ نظم بہ عنوان ’’شعلۂ آزادی ‘‘ بلند ہوا کہ جس کے ایک شعر نے سارے ہندوستان میں تحریکِ پاکستان کو ایک نیا جوش و جذبہ عطا کیا اور پاکستان کے حصول کی تحریک اپنے بامِ عروج کو پہنچی وہ نظم قارئین کی نظر ہے:
شعلۂ آزادی
âشاعر : سید یاور حسین کیف ؔ بنارسیá
چشمِ روشن پاکستان ۔ دل کی دھڑکن پاکستن
صحر اصحرا اِس کی دھوم ۔ گلشن گلشن پاکستان
اپنی ہستی کا حاصل ۔ اپنا مامن پاکستان
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
منزل کو سر کرنا ہے ۔ مشکل سے کیا ڈرنا ہے
آزادی کے شعلے کے ۔ دل میں روشن کرنا ہے
پاکستان کی اُلفت میں ۔ اپنا جینا مرنا ہے
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
کس نے شب خوںمارا ہے ۔ شیروں کو للکارا ہے
بچہ بچہ مومن کا ۔ شعلہ ہے انگارہ ہے
قوم کی خاطر مر جائیں ۔ بس یہ قومی نعرہ ہے
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
ہند کے سارے صوبوں میں ۔ اسلامی لشکر تیار
کثرت ہے دشمن کی فوج ۔ وحدت ہے اپنی تلوار
نام خدا کا لیتے ہیں ۔ ہوجائے گا بیڑہ پار
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹۱ñبرس کی عمرمیں بنارس مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اہم اور فعال کارکن اور مسلم نیشنل گارڈز کے نائب سالارِ اعلیٰ تھے۔ کیف ؔ بنارسی کے فنِ تقریر کی سارے بنارس میں دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اورآل انڈیا مسلم لیگ âبنارسáنے اُن کی ایک تقریر کو مسلمانانِ برصغیر کا منشورِ رجز کے طور پر ’’صدائے قلب‘‘ کے نام سے اپریل ۶۴۹۱ئ÷ میں کتابی شکل میں شائع کیا ۔
کیف ؔ بنارسی کا پاکستان کے قیام کےلئے جنون دیکھ کر بنارس کے ہندو اور کانگریسی مسلمان اُن کوسمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے کہ ’
’’پاکستان تو کہیں اور بن رہا ہے تم پاکستان کے قیام کے لئے اس قدر پُرجوش کیوں ہو ‘‘ تو جواب میں کیف ؔ بنارسی یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ: ’’اب آپ ہمیں ہوش کی باتیں نہ بتائیں üüüüüüü دِل خوب سمجھ سوچ کے دیوانہ بنا ہے ‘‘
کیف ؔ بنارسی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے ۔ قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت نے مایوس اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک پُر عظم اور بہادر قوم بنادیا۔ ’’کوئی اندازہ کرسکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا üüüüنگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘
سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی چودہ سو برس کی تاریخ میں قائدِ اعظم جیسا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہُو اکہ جس کے پیچھے کروڑوں مسلمان اس طرح چلے ہوں جس طرح تحریکِ پاکستان کے دوران چل رہے تھے۔
آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طالب علم لیڈر ، مسلم لیگ نیشنل گارڈز بنارس کے نائب سالارِ اعلیٰ اور مسلم لیگ کے ایک پُر جوش مقرر کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت سے عشق کرنے والے کیف ؔ بنارسی نے جسم و جاں کی پوری توانائی حصولِ پاکستان کے لئے وقف کردی اور بنارس میں کانگریس کے طاقتور اُمّید وار ’’بابا خلیل داس‘‘ کو ساڑھے آٹھ ہزار ووٹ سے شکست دینے میں اہم کردار اداکیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد :
پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی کیف ؔ بنارسی پاکستا ن آگئے۔ ۱۲ñ اکتوبر ۷۴۹۱ئ÷ سے ۳۲ñ اکتوبر ۷۴۹۱ئ÷ تک کراچی میں قیام رہا۔ اس وقت کراچی میں بے شمار کوٹھیاں اور بنگلے خالی پڑے تھے ۔ ہندئووں کی اکثریت جاچکی تھی ۔ چند کوٹھیاں خالی پڑی تھیں جن میں کچھ بوڑھے رہ گئے تھے۔ ایک بوڑھے ہندو نے جب کیف ؔ بنارسی کو بندر روڈ پرا یک بنگلے کی پیش کش کی اور کہا کہ وہ صرف ایک کاغذ پر دستخط کردے جس میں لکھ اہو کہ وہ کراچی میں صاحبِ جائیداد تھا تو کیف ؔبنارسی نے جواب دیا ’’میں پاکستان اس لئے نہیں آیا ہوں۔‘‘
کیف ؔ بنارسی نے اپنے والدین کے ساتھ پاکستان میں مستقل سکونت ڈیرہ اسمٰعیل خاں میں اختیار کی۔ وہیں کیف ؔ بنارسی کے والدکو حکومتِ پاکستان نے ایک تین منزلہ مکان، ایک دُکان اور سوâ۰۰۱á کنال کی زرعی زمین الاٹ کردی تھی۔ کیف ؔ بنارسی نے ملازمت کے سلسلے میں کافی وقت ڈیرہ اسمعیل خان، کوہاٹ، شکردرہ، ٹانک اور لاہور میں گزارا۔ ۳۵۸۱ئ÷ میں والد کا انتقال ہوگیا۔ تو انہوں نے تمام مذکورہ بالا جائیداد حکومتِ پاکستان کو یہ کہہ کر واپس کردی ’’میں پاکستان میں کسی الاٹمنٹ کےلئے نہیں آیا ہوں۔‘‘
اس کے علاوہ کیف ؔ بنارسی کے والد صاحب نے بھارت میں چھوڑی ہوئی زمین کا ایک کلیم داخل کیا تھا، جس کا رجسٹریشن نمبر ۳۷۵ مورخہ ۰۲ñ مارچ ۶۵۹۱ئ÷ تھا ۔ لیکن علالت کی وجہ سے وہ کلیم لینے سے قبل انتقال کرگئے۔ تو کیف ؔ بنارسی نے وہ کلیم اپنے نام کرانے کے بجائے یہ کہہ کر اُس کے کاغذات داخل دفترکردئےے کہ ’’ میں پاکستان میں کوئی کلیم داخل کرنے نہیں آیا ہوں۔‘‘
کیف ؔ بنارسی ساری زندگی اپنا مکان نہیںبناسکے لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ’’ پاکستان نے ہمیں کیا دِیا‘‘ وہ ہمیشہ کہتے تھے پاکستان بنانے والوں نے پاکستان بنادیا اب اس ملکِ خداداد میں بسنے والوں کا فرض ہے کہ اسے دنیا کی عظیم مملکت بنادیں۔
پاکستان بن جانے کے بعد کیف ؔ بنارسی نے سیاست تر ک کردی لیکن پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مصروفِ عمل ہوگئے۔کیف ؔ بنارسی کے سامنے اگر کوئی پاکستان یا قائدِ اعظم کے خلا ف کچھ کہتا تو کیف ؔ بنارسی کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اُس کا منہ کچل دے، کیونکہ وہ کہتے تھے کہ:
’’ ہم نے لاکھوں جان گنواکر پاکستان بنایا ہے üüüüüüüüüüگھر کے سارے دیپ بُجھاکر اس کا دیپ جلایا ہے ‘‘
ہمارے ملک میں لیڈری کا دعویٰ کرنے والے ایسے افراد کی کمی نہیں جنہوںنے متروکہ جائیداد پر ناجائز قبضہ کیا۔ کروڑوں روپے کے جعلی کلیم داخل کئے اور پھر بھی یہ ہی کہتے رہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟جبکہ کیف ؔ بنارسی ساری زندگی اپنا مکان نہیں خرید سکے مگر کبھی یہ نہیں کہا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دِیا ۔ وہ یہ ہی کہتے تھے کہ ہم تو یہ سوچ کہ آئے تھے کہ پاکستان میں اگر پینے کو پانی نہ ملے ، کھانے کو روٹی نہ ملے، بات کرنے کو انسان نہ ملے اور رہنے کو گھر نہ ملے پھر بھی ہم پاکستان میں رہیںگے کیوں کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے یہ ہمارا ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔