وقت کم مقابلہ سخت۔سیاسی ٹمپریچر کراچی ۔مہاجر سیاست پر غلبہ کی جنگ

May 13, 2018 8:00 pm

مصنف - رضوان احمد فکری

کراچی میں 29اپریل سے ٹنکی گرائونڈ پر پیپلز پارٹی کے جلسے اور ایم کیو ایم پاکستان کے 5مئی کو جوابی جلسے نے کراچی کی سیاست میں مقابلے کی سیاست میں رنگ ڈال دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو کا ٹنکی گرائونڈ کا جلسہ شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے متوازن تو تھا لیکن اس میں کراچی کے عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کا جلسہ 22اگست 2016کے سانحہ کے بعد بھرپور اور تل دھرنے کی جگہ نہ ہونے والا جلسہ تھا۔ اسٹیج سے لیکر اختتام تک اور سڑکوں پر بھی عوام ہی عوام تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر پی پی پی نے 12مئی کو جلسہ کا جبکہ اے این پی، پی ٹی آئی نے بھی جلسوں کا اعلان کیا۔ ہفتہ 12مئی کو کراچی میں تین جلسے ہوئے پی ٹی آئی نے الہ دین پارک سے متصل گراونڈ میں، جبکہ پیپلز پارٹی نے جناح پارک متصل مزار قائد پر ، بنارس باچا خان چوک پر عوامی نیشنل پارٹی نے جلسہ کیا۔جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے بہادر آباد میں اجتماع قران خوانی منعقد کیا ۔ 12مئی کے جلسوں سے قبل اردو کالج ویونیورسٹی سے متصل گرائونڈ میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کا ایک ہی مقام پر جلسہ کرنے کی کشمکش میں شدید تصادم ہوا جس میں گاڑیاں جلانے ، کیمپ جلانے ، ایک دوسرے کو تشدد کانشانہ بنانے کے علاوہ آزادانہ فائرنگ بھی کی گئی۔ اس واقعہ نے ایم کیو ایم پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کے اصل چہرے بے نقاب کردیئے کراچی کے عوام حیران رہ گئے کہ معمولی بات پر ایک دوسرے کے ساتھ کھلی غنڈہ گردی کرنے والے کس منہ سے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ سیاسی عدم برداشت کیاس عمل نے انتخابات میں کیا رخ ہوگا اسکا منظر نامہ بھی واضع کردیا ہے۔ گزشتہ روز ایم کیو ایم کے رہنما سید امین الحق کے کالم ’’ چلو کہ منزل بلا رہی ہے ‘‘میں انکی ٹائم لائن یہی تھی کہ ایم کیو ایم اب دوبارہ مضبوط ہوکر اپنے میڈیٹ کا تحٖفظ کریگی۔ مہاجر کارڈ اور مہاجر مہاجر کی صداکو اب ہر جگہ سنا جا رہا ہے ۔ 6مئی کو لیاقت آباد پل پر مہاجر قومی موومنٹ کا جلسہ بھی مہاجر سیاست کا ایک رخ تھا جو تعداد کے اعتبار سے متاثر کن نہیں تھا۔ لیکن ایم کیو ایم پاکستان کا ٹنکی گرائونڈ کا جلسہ ہوتے ہی سارے سیاسی چغادری میدان میں نکل آئے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔سیاسی ٹمپریچر کراچی بتدریج بڑھ رہا ہے ۔مہاجر سیاست پر غلبت کی جنگ چل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مہاجر کو جاگنے اور اپنوں کا ساتھ دو غیروں کا ساتھ چھوڑو اے مہاجروں کے ترانوں کی صدا ۔ دل دیا ہے جاں بھی دینگے ایم کیو ایم تیرے لئے ۔۔۔تو ہمارے واسطے ہے اور ہم تیرے لئے کے نغمے کیوں جگہ جگہ بج رہے ہیں؟ مہاجر کمیونٹی کیوں پھر مہاجر نعرے پر متحد ہوگئی ہے پھر لسانیت کی بات کرکے مہاجروں کو احساس محرومی کا شکار کیا جا رہا ہے ، لسانیت اگر دیگر قومیتیں کر رہی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں لیکن ملک بنانے والوں کے خلاف اتنی لعن طرانی اور انہیں محکوم رکھنے کی سازش ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف لسانیت اور ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر اتر آئے ہیں ۔ ممبئی حملوں پر انکا غیر ذمہ دارانہ بیان ایسا ہی ہے جیسے 22اگست پر لندن رہنما کا بیان ، اب آجائیے پی ٹی آئی اور پی پی پی کے 12مئی کے جلسوں پر جہاں مہاجروں کو پھر للکارا گیا۔ عامر لیاقت نے جو لوٹا کریسی اور لوٹا چینل بدلی کے مشہور کردار ہیں ۔ انکی مہاجروں کی نمائندہ جماعت کے خلاف ہرزہ سرائی اور انکی مکارانہ سیاست عمران خان کی خوشامد کو بے نقاب کردیا ہے۔ جبکہ بلاول بھٹو نے بھی مہاجروں کے ذخموں کو ہرا کیا۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں بھول گئیں کہ وہ چند روز قبل کرنے والی دہشت گردی سے اردو یونیورسٹی گلشن اقبال میں اپنا اصلی کردار بے نقاب کر چکی ہیں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ انکے عسکری ونگ بھی اب بے نقاب کئے جائیں ۔ پی پی پی کی امن کمیٹی ، تحریک انصاف کی عسکری قیادت بھی اب مذید تاخیر کے بغیر بے نقاب ہونی چاہئے۔ عامر لیاقت پر اس حوالے سے کڑی نگاہ رکھنے لکی ضرورت ہے جو پی ٹی آئی کو بھی ایم کیو ایم بنانا چاہتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی وجہ سے ایک بار پھر لسانیت کا زہر پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے اور بلاول بھٹو نے اسے گزشتہ روز خوب ہوا دی ۔ اپنے باپ کے گناہ لیاقت علی خان پر ڈالنے کی کوشش کی اور پوری دیدہ دلیری سے کہا کہ کوٹہ سسٹم لیاقت علی خان کے دور میں شروع ہوا۔ تو کیا ملک دو لخت بھی لیاقت علی خان نے کرایا۔ اردو کا جنازہ ہے ذرا شان سے نکلے بھی لیاقت علی خان نے کہسا اور دادو کا شاہانی محلہ، میہڑ ، لاڑکانہ، شہداد پور ، نواب شاہ سمیت متعدد اندرون سندھ کے شہروں سے مہاجروں کو بے دخل کردیا گیا۔ ٹنڈوالہ یار میں کئی رات مورچے لگے۔ 27دسمبر کو بے نظیر کی شہادت کے بعد مہاجروں کی املاک سمیت اغوا اور جلائو گھیرائو، ہائی ویز کو گاڑیوں کا قبرستان ، لوٹ مار ، بنکوں پر حملے، ریلوے اسٹیشنز کی بربادی جلائو گھیرائو ، ملک کی معیشت کو برباد کرنے والی پیپلزپارٹی ، جسکی تاریخ الذولفقار اور جہاز اغوا کرنے سے امن کمیٹی کے ذریعے مہاجروں کے سروں کے مینار بنانے سے لیکر کوٹہ سسٹم ، نفرت کی سیاست سے بھری ہوئی ہے ۔ وہ مہاجروں کے ذخموں کو کرید کرید کر لسانیت کے بتوں کو اور مضبوط کر رہی ہے ۔ بلاول بھٹو نے میئر کراچی کو اختیارات نہ دیکر کراچی کا پہیہ جام ویسے ہی جام کر رکھا ہے اس پر انکا یہ کہنا کہ ایم کیو ایم پیسوں کی بند بانٹ کے لئے ایک ہوئی ہے جلتی پر تیلی کا کام ہے ۔ پی پی پی کو سو ارب لاڑکانہ پر خرچ ہونے کا حساب دینا چاہئے تھا۔ کراچی کے لئے پیکیج اور مہاجر عوام کے ذخموں پر مرہم رکھنا چاہئے تھا ۔ لیکن باپ کی طرح وہ بھی لسانیت اور مہاجر عوام کی دل آزاری کرکے چلے گئے جس سے واضع ہوگیا ہے کہ پی پی پی سندھی کارڈ استعمال کر رہی ہے۔ ملک میں اسوقت مفادات کی سیاست ہو رہی ہے ن لیگ کی سیاست اب نفرت کا رخ اختیار کر رہی ہے۔پی پی پی جئے سندھ کی بلا واسطہ سپورٹ کر رہی ہے ورنہ جامعہ سندھ میں سندھو دیش کے ترانے پر اور وائس چانسلر کے خلاف ایکشن لیتی۔ جامعہ سندھ سے اردو کے بائیکاٹ اور پی پی پی کی اردو کے خلاف قرارداد بھی وہی عمل ہے جو مہاجروں اور سندھیوں کو باہمی متصادم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پی پی پی کی مہاجر دشمن کے سیاست کے خالق ذوالفقار علی بھٹو تھے اور بلاول بھٹو اسکے پیش رو ہیں ۔ پی ٹی آئی بھی مہاجر دشمن سوچ کے ساتھ کراچی میں نہیں پنپ سکتی۔ عامر لیاقت پر انکا ٹرسٹ انہیں پستی کی طرف لے جائے گا۔ لیکن اس میں کوئی ابہام نہیں کہ ان تمام حرکات و سکنات کے بعد مہاجر ووٹ بنک سمٹ کر ایم کیو ایم کی جھولی میں گر چکا ہے۔ اب ایم کیو ایم اپنے تمام معاملات درست کرکے اپنے ووٹ بنک کو سمیٹ کر دوبارہ اپنی پوزیشن بحال کرسکتی ہے۔ پی ایس پی کا کردار اب ختم ہو چکا ہے ۔ جماعت اسلامی بھی ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ لیکن عاقبت نا اندیشوں نے پرانی نفرت کی سیاست دہرا کر ایم کیو ایم کی بکھری ہوئی قوت کو مجتمع کردیا ہے ۔ ایم کیو ایم مضبوط تنظیمی ڈھانچہ رکھنے والی جماعت ہے ۔ جس کے کارکنان بے لوث کام کرتے ہیں ۔ اس لئے اسکی جڑوں کو چند لوگوں کی وفاداری خرید کر کوئی بھی جماعت کمزور نہیں کرسکتی اور یہی اسکی کامیابی کا زینہ ہوگی۔