تبدیلی

May 11, 2018 1:00 am

مصنف - محمد طارق خان

ملائیشیا کے عام انتخابات میں واقعی تبدیلی آگئی ہے ۔
61 سال سے جاری باریسان نیشل کی حکومت پر اجارہ داری کا خاتمہ ہوگیا ہے ، اور 15 سال ریٹائرمنٹ گزارنے کے بعد 92 سالہ مہاتیر محمد ایک بار پھر وزیراعظم منتخب گئے ہیں، وہ دنیا کے معمر ترین منتخب وزیر اعظم ہوں گے ۔ مہاتیر اس سے پہلے 1981 سے 2003 تک باریسان نیشل کے سربراہ اور وزیر اعظم تھے ان کے دست راست اور نائب وزیر اعظم انور ابراہیم کو مہاتیر نے 1999 ہم جنس پرستی کے الزامات کے بعد حکومت اور حکومتی پارٹی سے الگ کردیا تھا اور جیل میں ڈال دیا، جنہیں بعد سزاں بعد ازاں 2004 میں مہاتیر کی ریٹائرمنٹ کے بعد عبوری طور پر رہا کیا گیا تاہم ان کا مقدمہ چلتا رہا، اس دوران انہوں نے پکاٹن رعیت یا پیپلز جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت نے 2008 اور 2013 کے انتخابات میں حصہ لیا اور حزب مخالف کی نمایاں جماعت بن کر ابھری۔2015 میں عدالت نے انور ابراہیم کو پانچ سال قید کی سزا سنادی اور وہ تاحال جیل میں ہیں۔
انور ابراہیم جو زمانہ طالب علمی میں اسلامی تحریک پاس سے وابستہ تھے ، عملی سیاست میں آئے تو حکومتی پارٹی میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کی اور مہاتیر کے ساتھ طویل عرصہ تک نائب وزیراعظم رہے ، انہیں مہاتیر کی پیچھے اصل دماغ اور جدید ملائیشیا کا معمار سمجھا جاتا ہے ، تاہم مہاتیر کے ساتھ اختلافات انہیں مہنگے پڑے اور انور ابراہیم کو ایک ایسے کیس ملوث کیا گیا جس سے ان کا سیاسی کیریر تقریبا ختم ہوگیا، تاہم انور ابراہیم نے ہمیشہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو مسترد کیا اور طویل عدالتی جنگ لڑی۔
عدالت سے انور ابراہیم کو جیل ہونے کے بعد ان کی زوجہ وان عزیزہ اسمعیل نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اپنی جماعت پکاٹن رعیت کی رہنمائی کرتی رہیں۔
مہاتیر محمد نے اپنے بعد آنے والے وزاء اعظم عبداللہ احمد باداوی اور نجیب رزاق پر بدعنوانی کے الزامات لگائے ، اور 2017 میں ایک بار پھر عملی سیاست کے میدان میں کود پڑے ، قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ اپنے نئے سیاسی کیریر میں انہوں نے جن دیگر جماعتوں کی ساتھ مل کر ایک وسیع البنیاد انتخابی اتحاد بنایا اس میں انور ابراہیم کی جماعت پکاٹن رعیت سب سے نمایاں تھی۔
مپاتہر کا انتخابی وعدہ ہے کہ وہ منتخب ہوکر دو سال میں حکومتی سطح پر بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے اور ملائیشیا کے بادشاہ سے انور ابراہیم کی معافی کی درخواست کریں گے اور دو سالہ مدت کی تکمیل پر حکومت انور ابراہیم کے حوالے کردیں گے ۔
ملائیشیا نے مہاتیر اور انور ابراہیم کے ادوار میں فقیدالمثال ترقی کی، اور دونوں عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ مہاتیر نے عام انتخابات 2018 سے قبل ایک وسیع البنیاد سیاسی اتحاد قائم کیا جس کا نام پکاٹن ہراپان یا امید کا اتحاد ہے ۔ اور گذشتہ روز ہونے والے ملائیشیا کے چودھویں عام انتخابات میں ان کی نوزائیدہ جماعت نے 60 سالہ باریسان اقتدار کا خاتمہ کردیا۔ یوں مہاتیر کے وزیر اعظم بننے اور انور ابراہیم کی رہائی کی امید بر آئی ہے ۔
ایک اور تبدیلی یہ کہ مہاتیر محمد نے نائب وزیر اعظم کے لئے ایک خاتون کا انتخاب کیا ہے ، قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والے انور ابراہیم کی زوجہ وان عزیزہ اسمعیل ملائشیا کہ پہلی نائب وزیراعظم ہوں گی۔ 66 سالہ وان عزیزہ تیسری بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئی ہیں، وہ 1999 اور 2008 میں بھی ممبر اسمبلی منتخب ہوچکی ہیں، اور گذشتہ ایک دہائی سے اپنے شوہر کا مقدمہ عوامی عدالت میں لڑ رہی ہیں، اسی سال جنوری میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد کے کنونشن میں انہوں نے مہاتیر محمد کو 2018 کے عام انتخابات میں اتحاد کے وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا تھا۔
ان انتخابات میں جہاں دنیا کی تاریخ میں سب سے معمر وزیراعظم کا انتخاب ہوا وہیں سب سے کم عمر 22 سالہ امیدوار بھی ممبر اسمبلی منتخب ہوا ہے ۔ تامل نزاد پی پراباکرن قانون کے طالب علم ہیں اور آزاد امیدوار کے طور پر ریاست باتو سے کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ کہ تاریخ میں پہلی بار اسلام پسند پاس ملائیشیا کی تین ریاستوں میں براہ راست حکومت بنانے اور دو مزید ریاستوں میں مہاتیر کی پکاٹن ہراپان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے پوزیشن میں آگئی ہے ، اس سے پہلے پاس حکومت محض کلانٹن ریاست تک محدود تھی اس بار کیڈا اور ترنگانو میں بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ پاس کے موجودہ سربراہ عبدالہادی اوانگ ہیں۔
اپنے والد اور اسلام پسند پاس کے مرحوم مرشد عام نک عبدالعزیز نک مات کے بڑے بیٹے نک عمر جو پاس مخالف پی کے آر کے ٹکٹ پر کلانٹن سے انتخاب لڑے عوامی پذیرائی حاصل نہ کرسکے ، اور ان کے مخالف ایک نسبتا غیر معروف پاس امیدوار کو کامیابی حاصل ہوگئی ہے ، تاہم ان کے جماعت پی کے آر نے دعوی کیا ہے کہ اسے پیراک اور سنگاپور سے متصل جوہر ریاست میں اکثریت حاصل ہوگئی ہے ، تاہم الیکشن کمیشن نے ابھی نتائج کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ اگر پی کے آر کا دعوی ٹھیک نکلا تو تاریخ میں پہلی بار ملائیشیا کی پانچ ریاستوں میں اسلام پسند جماعتوں کی حکومت بن جائے گی، گو کہ پاس اور پی کے آر ایک دوسرے کی شدید مخالف ہیں، تاہم دونوں ہی مذہبی شناخت رکھتی ہیں۔