امریکہ کیلئے پالیسی

April 15, 2018 8:54 pm

مصنف - حفیظ خٹک

ریمنڈ ڈیوس ،ہاں وہ قاتل جس نے تین معصوم ہموطنوں کو شہید کیا اورایک شہید کی بیوہ نے خودکشی کی ۔اپنے ہاتھوںسے موت کو ہمسفر بناتے ہوئے اس کے آخری الفاظ تاریخ پر انمٹ رہیں گے۔ حکمرانوں کو ، سیاسی رہنمائوں کو یاد ہوں یا نہ ہوںان کے علاوہ کسی کو بھی وہ ماجرایاد ہویا نہ ہو،کسی کو کوئی فکروغرض نہیں۔ چند دنوں کی پریشانیاں تھیں خاندانوں نے سخی اور اس کے بعد باعزت انداز میں ریمنڈڈیوس کو رخصت کردیا گیا۔
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں ہے لیکن متعدد واقعات مستقل انداز میں پے درپے ہوتے ہیں اور ہوتے چلے جاتے ہیں۔انسانی عقل گر ان حالات و واقعات سے کچھ حاصل نہیں کرتے تو اس طرح کے اقدامات جو مستقبل میں ہوتے ہیں ، ہونگے ان کے ذمہ دار یہی ہونگے۔پاکستان معرج وجود میں آجانے کے بعد سے اب تلک امریکہ کو ہی اپنا یار بلکہ یارغار سمجھتا رہا ہے۔اس امریکہ نے آج تلک کوئی بھی ایسا اقدام نہیںکیا کہ جس سے حکومت و عوام کی تسلی و خوشی ہوئی ہو۔لیکن اس کے باوجود یہ اک المیہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیںاور اسی سے اپنے تمام مسائل کے حل کی توقع وابستہ رکھتے ہیں۔
وطن عزیز میں تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا نہیں بلکہ اس ملک کے اپنوں کے اعمال کے سبب ایسا عمل ہوا کہ جس پہ امریکہ کوکوئی پریشانی نہیںہوئی ۔پریشانی تو دور کی بات ہے اسے تو اس کے چہرے پہ ماتھے پہ ذرا خم تک نہیں آیا ہے۔چند دن قبل امریکہ سفارتکار نے ایک محب وطن پاکستانی کو سگنل تھوڑتے ہوئے ٹکر ماری جس کے نتیجے میں وہ شہری شہید ہوگیا اور امریکہ سفارتکار کو تھانے لیجانے ،مقدمہ درج کرنے کے بجائے باعزت انداز میں سفارتخانے تک بحفاظت انداز میں پہنچا دیا گیا۔یہ کیسا عمل تھا ؟ یہ کیسا عمل ہے؟ یہ سب کیوں ہوا، کیسے ہوا؟
کرنل جوزف نے شراب پی ، شراب پینے کے بعد گاڑی کو جس انداز میں چلایا وہ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آگیا ہے ، کس طرح اس نے سگنل کو توڑااورپھر امریکی فلموں کے کسی سین کی عکاسی کرتے ہوئے موٹرسائکل سوار کوہٹ کیا ۔موٹرسائکل سوار کہاں گیا اور اس کا سوار کہاں گیا۔دونوں زخمی ہوگئے ،موٹر سائکل تو ٹھیک ہوبھی جائے گی لیکن وہ انسان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔امریکہ جو کہ اپنے آپ کو انسانیت کا علمبردار کہتاہے ، کہاں ہے اس کی اس انسانیت ؟ کہاں گئی اس کی انسانی حقوق کیلئے اٹھائی جانے والی آوازیں۔۔۔اور کہاں ہیں وطن عزیز کی حکومت؟ کہاں ہیں وطن عزیز کی تمام سیاسی ، مذہبی ، سماجی جماعتیں۔۔۔کہاں ہے وہ سابق ناہل وزیر اعظم نواز شریف جسے ابھی تک مجھے کیوں نکالا تک سے فرصت نہیں ملی۔کہاں ہے اس کا چھوٹا بھائی شہباز شریف جو برسوں سے پنجاب کا سربارہ بناہوا ہے یہ واقعہ بھی تو اسی پنجاب میں ہوا ہے نا، پھر کیا اس میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ۔۔۔کہاں ہے وہ سیاستدان جو کہ خود بھی نعرے لگاتااور لگواتا ہے کہ سب پہ بھاری زرداری، اگلی باری پھر زرداری۔۔۔کہاں ہے وہ خان جو تبدیلی کی بات کرتاہے ، کیا یہ تبدیلی نہیں ہے یا یہ سانحہ اس کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتا ہے۔ کرکٹ کے بادشاہ عمران خان صاحب، یاد رکھئے گا کہ پاکستان کی عوام تبدیلی چاہتی ہے اور ضرور چاہتی ہے لیکن وہ تبدیلی غیرت کی تبدیلی پر مبنی ہونی چاہئے۔ اس قوم کی ایک بیٹی برسوں سے اسی امریکہ کے جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزابگھت رہی ہیںاور آپ نے تو ایوان ریڈلے ، (مریم ) کے ساتھ خود پریس کانفرنس کی تھی اور اس کو واپس لانے کی باتیں کیں تھیں۔ لیکن اس کے بعد آپ بھول گئے شاید اور بھول قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو صرف آپ ہی نہیں اس پوری قوم کی تمام سیاسی مذہبی جماعتیں گئیں ہیں۔ سب کو اس وقت وہ یاد نہیں وہ بیٹی وہ بہن یاد نہیں ، جس کی ماں ، جس کی بہن ، جس کے بچے احمدومریم سمیت سینکڑوں ،ہزاروں عافیہ موومنٹ کے رضاکار آسماں کو تک رہے ہیں جو عافیہ کی واپسی کیلئے جدوجہد تو کررہے ہیں لیکن ان کی اس جدوجہد میں آج کسی بھی جماعت یا کوئی کردار نہیں رہا ہے۔ بہرحال یہ یاد رکھنا عمران خان صاحب اور اس ملک کے تمام سیاستدانوں ، رہنمائوں ، حکمرانوں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی باعزت واپسی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی اور یہ جدوجہد بہت جلد کامیابی سے بھی ہمکنار ہوگی۔
برسوں قبل اگر اس بیٹی کی واپسی کیلئے آواز اٹھا لی گئی ہوتی ، تو نہ صرف وہ واپس آجاتی بلکہ ریمنڈ ڈیوس والے واقعات بھی نہ ہوتے ، اس کے ساتھ ہی یہ جو ابھی چند ودن قبل سانحہ ہوا ہے یہ بھی ہوتا۔لیکن سب سو چکے ہیںسبھی سو چکے ہیں۔ عوام کو مہنگائی ، بجلی سمیت دیگر بہت ساری پریشانیوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ان حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں رہی ، کاش کہ ایسا نہ ہوتا ۔۔۔۔انہیں اپنے پیاروں کی طرح عوام کی فکر ہوتی،ان کی پریشانیوں کی ،انکی اداسیوں کی ،ان کے ساتھ ہونے والے مظالم بالخصوص امریکی مظالم، انہیں احساس ہوتا اپنی باتوں کا اپنے وعدوں کا ،ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کا ، ان کے گھروالوں کے دکھ درد کا، اس بیوہ کا اس کے احساس کا کہ جس نے اپنے جیون ساتھی کے دکھ میں اپنی زندگی کو ختم تک کردیا ۔ ان کے ساتھ ان حکمرانوں کو اس ماں ، اک بہن کا معصوم بچوں کا کہ جن کی بیٹی اور ماں زندہ تو ہے لیکن قید میں ہے اور قید ناحق میں ہے۔جسے ایک آواز پر ایک خط پر ایک ملاقات و درخواست پر آزادی اور باعزت رہائی مل سکتی ہے ، لیکن بے حسی کے سبب ، بے وفائی کے سبب ، اپنی چاہت و اپنی خواہشوں کے سبب اس کا احساس تو درکنار اب اس کا ذکر تک چھوڑدیا ہے۔
امریکی کرنل جوزف نے جو کیا وہ سب کے سامنے ہے اسکے بعد امریکہ نے پاکستان کے سفیروں ، سفارتخانے کے عملے کے ساتھ یہاں تک کردیا کہ انہیں چالیس کلومیٹر محدودکردیا ۔ یعنی وہ اب صرف چالیس کلومیٹر کے اندر ہی رہہ سکتے ہیں اس سے زیادہ باہر نکلیں گے تو وہ بھی قانونی مجرم بن جائیں گے۔ ایسا کیوں ؟ امریکہ اور اس کے لوگ تو جہاں چاہیں وطن عزیز میں جاسکتے ہیں ، ان کے اوپر کوئی پابندی نہیں ، کیا اس لئے کہ وہ امریکی ہیں۔ وہ باعزت ہیں اور پاکستانی باعزت نہیں ، وہ بھلے کم ترقی یافتہ ملک کے شہری ہیں لیکن وہ پاکستان جیسے عظیم ملک کے باعزت شہری ہیں ، واحداسلامی ایٹمی قوت کے شہری ہیں ، وہ ملک کے جس پہ امت مسلمہ کو فخر ہے۔ وہ ملک کے جو کشمیر سمیت ، برما، شام ، مصر و عراق سمیت جہاں بھی انسانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو اس ملک کی عوام کھڑی ہوتی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔
حکمرانوں ، سمجھو اس بات کو کہ امریکہ کا یہ رویہ ، یہ سفارتی رویہ MISS FIT ہے اور اس کی یہ مس فٹنس کیا صرف پاکستان کیلئے ہے؟ اگر ہے تو حکمرانوں جاگ جائو۔ وہ امریکہ تو وطن عزیز کے وزیراعظم تک کی عزت نہیں کرتا اسے ایئر پورٹ پر ، الگ کھڑا کرکے اس کی تلاشی لیتا ہے ۔ اس کے بعد اسے امریکہ جانے کی اجازت دیتا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرتاہے تو حکمرانوں ، ان کے ساتھ ایسا رویہ کیوں نہیں رکھا جاتاہے؟ آخر کیوں؟
امریکی کی پالیسیاں ، سب MISS FIT ہیں اور اس امریکہ کے حامیوں و ہمدردیوں کو چاہئے کہ وہ امریکہ کی اس مس فٹنس میںنرمی کرنے ، اسے بالکل ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ذراسی ہمت کریں اور امریکہ کو بتائیں کہ یہ مس فٹ ہے، اسے فٹ کیجئے ۔ یہی بہتر ہے اگر وہ سمجھے ، اور یہی نہیں امریکہ کیلئے پاکستان کی بھی یہ پالیسی MISS FIT ہے، موجودہ حکومت ، اس کے بعد آنے والی عارضی حکومت کو اور اس کے بعد آنے والی اگلی حکومت کو بھی امریکہ کیلئے اپنی پالیسی درست کرنی پڑے گی۔ یہی ان کیلئے بھی بہتر ہی نہیں بہت بہتر ہے اگر یہ سمجھیں ، سمجھدار تو یہ بہت ہیں۔ کاش کہ اپنوں کیلئے اور اپنوں کیلئے ہی احساسات وجذبات کے ساتھ ان کیلئے آواز ہی نہیں اقدام بھی اٹھائیں۔