حضرت ابو بکر صدیق ص کی صفت معیت

March 11, 2018 10:15 pm

مصنف - علامہ مفتی ابوعمیر سیف اﷲسعیدی

صحابہ کرام کی فضیلت کے بارے میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایامحمد رسول اﷲوالذین معہ ’’یعنی محمد اﷲکے رسول ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں ۔مذکورہ آیت میں صحابہ کرام کے دیگر اوصاف جلیلہ کا بھی بیان ہے ،اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان نفوس قدسیہ کی تمام خوبیاں معیت محمد رسول اﷲﷺکی بدولت ہیں اور یہی ان حضرات کا سب سے بڑا اعزاز اور شرف ہے کہ انہیں معیت محبوب علیہ السلام کا شرف حاصل ہے ،نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ وجہا د ،تقویٰ وغیرہ تمام حسنات میں امت مسلمہ کے دیگر افراد بھی شامل ہوسکتے ہیں مگر یہ معیت صرف صحابہ کرام کو حاصل ہے اور اسی لئے وہ ساری امت میں درجات کے اعتبار سے افضل واعلیٰ ہیں اور یہ معیت جسے جس قدر خصوصیت اور کیفیت کے ساتھ حاصل ہوئی اسی قدر اسے قرب سے نوازاگیا اسی لئے حضرت سید نا صدیق اکبر رضی اﷲعنہ تمام صحابہ کرام رضی اﷲعنہم سے افضل ہیں کہ کے ان کیلئے یہ عظیم انعام رب کریم نے ساری امت سے علیحدہ اور منفرد انداز میں بیان فرمایا ۔قال اﷲسبحانہ’’ ثانی اثنین اذھما فی الغار اذیقول لصاحبہ لاتحزن ان اﷲمعنا‘‘ جبکہ دومیں سے دوسرے تھے جب وہ دونوں غار میں تھے جب آپ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے کہ غمگین مت ہو بیشک اﷲتعالیٰ ہما رے ساتھ ہے ،یہاں یہ معیت ارفع واعلیٰ خصوصیت اور کیفیت کے ساتھ بیان ہوئی ،پہلے ’’ثانی ثنین ‘‘میں پھر ’’اذھمافی الغار ‘‘میں پھر ’’لصاحبہ ‘‘ میں اور اس کے بعد تو معیت کا معاملہ حدود وقیو د کی گرفت سے آگے نکل گیا اور اسے حضورعلیہ السلام کے وسیلہ جلیلہ سے حضرت ابو بکر صدیق کی صحابیت اور صدیقیت کی معراج کہوں تو بجا کہ رب العزت نے فرمایا ’’انااﷲمعنا‘ ‘حضرت موسیٰ علیہ السلام ساری امت کو علیحدہ کرکے فرمائیں ’’ان معی ربی سیھدین‘‘گویا ان لاکھوں امتیوں میں کوئی ایک بھی ایسا پیکر وفااور مجسمہ اخلاص نہیں ہے جسے اس معیت میں شامل فرمائیں اس لئے فرمایا میرے ساتھ میرا پروردگارہے جبکہ حضور سید الانبیاء امام المرسلین ﷺنے اپنے وفادار ،پیکر وفاجانثار صدیق اکبر رضی اﷲعنہ کو’’ان اﷲمعنا‘‘ فرماکر اس معیت میں شامل فرمالیا۔پتہ چلا کہ اخلاص ووفا ،عقیدت وصفا،طاعت وولا،نیز عشق مصطفی ﷺحضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہ کاایک منفرد مقام ہے بلکہ قرب خداوندی میں انبیاء ومرسلین علیہ السلام کے بعد اولین و آخرین میں آپ کا ثانی نہیں اس لئے حدیث پاک میں حضرت درداء رضی اﷲعنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھا کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ کے آگے آگے چل رہا ہوں تو فرمایا یاابالدرداء کیاتو ایسے کے آگے چلتا ہے جو کہ دنیا وآخرت میں تجھ میں سے بہتر ہے ۔(الریاض النضرہ )
انبیاء ومرسلین علیہ السلام کے بعدسورج کسی ایسے پرکبھی طلوع ہوانہ غروب جوکہ ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ سے افضل ہو۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ کو حضور رحمت عالم ﷺکی معیت صرف بعثت شریفہ کے بعدہی نہیں بلکہ پہلے بھی حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے عظیم صاحب حضرت محمد ﷺکی ذاتی خوبیوں ،خداداد صلاحیتوں کا تعارف تھا بلکہ آ پکامزاج حضور علیہ السلام کے قبل ازبعثت کے خصائل وشمائل سے پوری طرح مناسبت رکھتا تھا ،یہی وجہ ہے کہ آپ نے بعثت شریفہ اور بعد کمالات نبوت کی تصدیق میں عام لوگوں کی طرح قطعاًتاخیر نہ فرمائی کیونکہ پہلے سے ہی جانتے پہنچانتے ہیں اور ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ جہاں تک مجھے رسول اﷲکا ارشاد پہنچاہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس نے کچھ پس وپیش تردداور سوچ بچار ضرور کی سوائے ابوبکرابی قحافہ کہ میںنے جیسے ہی اس کے پاس اسلام کا تذکرہ کیا ا س نے کوئی تاخیر وتردد نہیں کیا اس حقیقت سے حضرت ابوبکر صدیقص کی درست فہمی طہا رت ذہنی اور سید عالم ﷺکی ذات پاک کے متعلق قبل بعثت سے ہی ان کی معرفت کی برتری کا پتہ چلتا ہے ،کیونکہ وہ اعلان نبوت سے قبل ہی آپ کی ذات ستودہ صفات میں ان مکارم اور محاسن کا مطالعہ کرچکے تھے جوکہ نبوت ورسالت کیلئے لازم ہیں ،اس لئے مردوں میں سب سے پہلے آپ ہی کو مشرف بااسلام ہونے کا شرف حاصل ہوا،پس حضرت ابو بکر صدیق صہی انسان کامل اور نبوت کے سواتمام افراد انسانی میں پائے جانے والے متفرق کمالات کے جامع ہیں ،کیونکہ صدیق ہر مقام کے جامع کمال کانام ہے ابن عساکر نے حضرت عبد اﷲبن عمربن العاص صسے روایت کی ہے کہ میںنے رسول کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبریل امین آئے اور کہا کہ اﷲتعالیٰ آپ کو حکم فرماتا ہے کہ ابوبکر سے مشورہ طلب کیا کریں ۔حضرت ابوبکر صدیق صان صحابہ میں سے ہیں جنہیں پورا قرآن کریم حفظ تھا ،اہل سنت کا اس مسئلہ پر اجما ع ہے کہ رسول کریم ﷺکے بعد سب افضل ابوبکر صدیق صہیں۔
حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی مسجد بنا رکھی تھی جہاں ابتدائے اسلام آپ نمازاداکرتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تھے،دوران تلاوت رضی اﷲتعالیٰ عنہ پرگریاں طاری ہوجاتا اور لوگوں کا ہجوم آپ کی تلاوت سننے کیلئے اکٹھا ہوجاتا ،حضرت ابوبکر صدیق کی سورۃ تلاوت کا ہی اَثرتھاکہ بے شمارلوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔