منفی رویوں کی سیاست

March 11, 2018 10:11 pm

مصنف - رضوان احمد فکری

ملک میں سیاست کے نام پر جو جگل بندی اور جگ ہنسائی ہو رہی ہے جس طرح عدالتوں کے احترام کو روندھا جا رہا ہے ذاتی اور مفادات کی سیاست عروج بام پر ہے اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے وہ ملک کی تاریخ میں جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ بنتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن نے عدلیہ کو تحریک انصاف نے ن لیگ کو ذاتی اور انتقامی حد تک، پیپلزپارٹی نے اقتداربام کے لئے مصلحت اور ن لیگ مخالف ، ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی کی سیاست میں جبکہ لندن ایم کیو ایم معاملات درست کرکے دوبارہ سیاست کی انٹری میں لگے ہوئے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں کھلی ہارس ٹریڈنگ بھی سوالیہ نشان ہے؟ ایم کیو ایم کی دھڑے بازی کا فائدہ اٹھا کرایم پی ایز جو لندن سے خوف کھاتے تھے اپنی من مانی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کے پی کے ، بلوچستان اور پنجاب میں پی ٹی آئی ، ن لیگ ، پی پی پی بھی ہارس ٹریڈنگ میں مصروف نظر آئے اور سینیٹ کی نشستوں میں نتائج نے قلعی بھی کھول دی۔ سب سے زیادہ تماشا ایم کیو ایم بنی جسکی 5خواتین نے پی پی پی کو ووٹ دیا۔ جبکہ سینیٹ الیکشن سے ایک دن قبل ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرکے سینیٹ الیکشن کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا۔ لیکن دونو ں گروپس کے اعلانات کے باوجود ایم پی ایز نے اپنی من مانی کی ۔ ایم کیو ایم کے بہادرآباد مرکز نے اپنے امیدوار فروغ نسیم کا کامیاب کرالیا۔ جبکہ پی آئی بی کے امیدوار کو ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا۔ ایم کیو ایم 4نشستوں کے جواب میں صرف ایک نشست حاصل کرسکی۔ فروغ نسیم کی کامیابی پر ایم کیو ایم پاکستان مرکز بہادر آباد کی کامیابی پر انکے کنٹرول کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جبکہ 25اراکین سندھ اسمبلی پی آئی بی گروپ کے پاس ہونے کے باوجوداسکی عدم کامیابی انکے اوپر سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ ن لیگ کے گڑھ پنجاب میں چوہدری سرور کی کامیابی ،بلوچستان سے پی پی پی کا ن لیگ کو کامیاب نہ ہونے دینا پہلے صوبائی حکومت کا خاتمہ اور اب سینیٹ میں ناکامی بھی ن لیگ کی بلوچستان میں گرفت کی کمزوری کو واضع کر رہی ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کے گڑھ میں ن لیگ کی جیت اور ملک بھر میں کھلے عام اپنی جماعتوں کو ووٹ نہ دینے کا اعلان بھی کھلی ہارس ٹریڈنگ اور الیکشن کمیشن کے علاوہ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کا بھی امر بنتا ہے۔ عائشہ گلا لئی کا اعلان کہ انہوں نے پی پی پی کو ووٹ دیا۔ ایم کیو ایم کی خواتین اراکین اسمبلی کا اقرا ر کہ انہوں نے کامران ٹیسوری کی دشمنی اور اسے ٹکٹ ملنے پر پی پی پی کو ووٹ دیا بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ن لیگ کی عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بھی بڑھتی جا رہی ہے نہال ہاشمی نے رہا ہونے کے بعد پہلے سے زیادہ شدو مد کے ساتھ عدلیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان نے ذاتی اور انتقامی سیاست بھی شدو مد کے ساتھ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ن لیگ کے ساتھ اب شہباز شریف کے لئے بھی الزام تراشی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ پی پی پی بھی تند و تیز الفاظوں کی سیاست کر رہی ہے۔ جس میں ن لیگ کو حدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ سندھ میں جی ڈی اے کے نام سے الائنس بھی تشکیل پا چکا ہے جو فنکشنل اور قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ فروغ نسیم کو ایک ووٹ فنکشنل لیگ کا بھی پڑا ہے اس لئے قومی امکان ہے کہ آئندہ سیاسی الائنس میں ایم کیو ایم بہادر آباد انکی اتحادی ہو۔ ایم کیو ایم کی سوئی الیکشن کمیشن پر بھی اٹکی ہوئی ہے جہاں کنوینر شپ پر فیصلہ ہونا ہے ۔ فاروق ستار خود کو کنوینر کی جگہ سربراہ لکھوا رہے ہیں ۔ جبکہ انکی حیثیت کنوینر کی ہے آئندہ دنوں میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے منفی رویئے ملک بھر میں سیاست دانوں کی زبان جگ ہنسائی کا سبب ہیں اور یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ قومی مفادات انہیں عزیز نہیں ہیں ۔ بھارت کی بار بار جارحیت پر حکمراں جماعت سمیت اپوزیشن جماعتیں بھی چپ سادھے رکھتی ہیں ۔آئندہ انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں میں گھمسان کی جنگ بھی نظر آرہی ہے ۔ ایم کیو ایم کے دونوں گروپ اور لندن متحرک ہو رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اسکا بھی قومی امکان ہے کہ یہ گروپ ایک ہوجائیں ۔ لندن انکے حریف کے طور پر پھر بھی موجود ہوگا۔ یہ بھی امکان ہے کہ اگر یہ گروپ متحد نہ ہوئے تو لانڈھی سے ایم کیو ایم حقیقی جیت سکتی ہے۔ سیاسی منظر نامہ میں ن لیگ کی عوامی تائید میں مسلسل اضافہ اور ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی کامیابی یہ تاثر دے رہی ہے کہ ن لیگ اور مضبوط ہو رہی ہے جس طرح ایم کیو ایم پر وار پر وار کئے جاتے رہے وہ اور مضبوط ہوتی گئی اب ن لیگ بھی وار پر وار کے بعد مضبوط ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کی پالیسی اور عدم استحکام کی وجہ سے اسکی کامیابی میں اضافہ کم نظر آتا ہے البتہ آصف زرداری موقع کا فائدہ اٹھا کر پی پی پی کو بلوچستان اور سندھ میں مضبوط کر رہے ہیں ۔