August 2, 2017

فون چارج کرنا ہے تو اپنی ذاتی بجلی استعمال کروبھئی

جدت ویب ڈیسک :امریکی ریاست ٹینیسی میں تیار کیا جانے والا یہ ننھا آلہ نہایت باریک ہے جس کو چھونے سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہےحرکت اور دباؤ سے بجلی بنانے والے آلات تو موجود ہیں لیکن اب ماہرین نے ایسا آلہ تیار کر لیا ہے جو صرف چھونے سے معمولی مقدار میں ذاتی استعمال کے لیے بجلی پیدا کرسکتا ہے۔۔ٹینیسی کی ونڈر بلٹ یونیورسٹی کے پروفیسر کارل زیلک کے مطابق یہ ایجاد خطرناک مشن پر جانے والوں اور مشکل کام سر انجام دینے والوں کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوگی جس کے دوران اسے کپڑوں سے منسلک کرلینا آسان ہوگا۔لباس سے منسلک ہونے کے بعد یہ آلہ نہ تو دکھائی دے گا اور نہ ہی یہ لباس کی ساخت یا شکل میں کوئی تبدیلی لائے گا۔اس سے پیدا ہونے والی بجلی سے اسمارٹ فونز، فٹنس ٹریکر اور ذاتی استعمال کے دیگر چھوٹے برقی آلات چارج کیے جاسکیں گے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس آلے کے استعمال کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ذاتی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔اس آلہ پر فی الحال مزید کام کیا جارہا ہے اور مزید بہتری کے بعد یہ انسانی حرکت اور ارد گرد کے ماحول سے بجلی بنانے کے قابل ہوجائے گااس آلے کو سیاہ فاسفورس کی انتہائی باریک پرتوں سے تیار کیا گیا ہے اور یہ بیٹری کے ذریعے کام کرتا ہے۔

 

August 1, 2017

روبوٹ نے سائنسدانوں کے چھکے چھڑادئیے ،جانیے

جدت ویب ڈیسک :فیس بک کے لیے ڈیزائن کردہ مصنوعی ذہانت کے شاہکار روبوٹ کو سائنس دانوں نے بند کردیا ہے اور اس کی وجہ روبوٹ کا اپنی ’لینگوئج از خود تیار کرنا ‘ بتایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سائسنسدانوں نے محسوس کیا کہ فیس بک کے لیے بنائے جانے والے روبوٹ اپنے خود کے کوڈ تشکیل دے رہا ہے‘ اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی آرٹیفشل ذہانت سے جڑی تخیلاتی فلمیں گویا حقیقت کا روپ دھار گئی ہیں۔تحقیق کے اندر پیش آنے والے اس خطرنا ک موڑ پر سائنسدانوں کو سمجھ آیا کہ روبوٹ نے انگریزی زبان کا استعمال ترک کرکے ایسی زبان کا استعمال شروع کردیا ہے جسے مصنوعی ذہانت کا حامل دوسرا روبوٹ ہی سمجھ پارہا تھا۔facebook robotڈیجیٹل جرنل نامی سائنسی جریدے کو فراہم کردہ تفصیلات میں سائسنس دانوں نے بتایا کہ باب نے ایک جملہ کہا جس کے جوان میں ایلس نے بھی ایک جملہ کہا اور ان دونوں جملوں میں گرائمر کے بنیادی قوائد کی غلطی تھی جس کے سبب سائنس داں ایسا سمجھنے پر مجبور ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا شاہ کار یہ روبوٹ خود کو درپیش آنے والی مشکلات کا حل نکالنے کے پہلے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیںسائنسدانوں نے جب روبوٹ کی زبان سمجھنے کی کوشش کی تو ابتدا میں وہ انہیں کچھ مہمل الفاظ لگے تاہم مزید تحقیق سے ثابت ہوا کہ بوب اور ایلس نامی روبوٹ آپس میں ایک دوسرے سے از خود رابطہ کررہے ہیں۔

 

 

August 1, 2017

سمارٹ انگوٹھی تیار ،اب کسی کوبھی انگلی کرسکتے ہیں ، جانیے

جدت ویب ڈیسک ؛ ٹیکنالوجی کی دُ نیا میں جدید انقلاب آگیا ، اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور موبائل کے گر جانے یا کھو جانے کے ڈر سے اسمارٹ فونز کا گھر سے باہر استعمال نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔اوری نامی یہ انگوٹھی اسمارٹ فون سے کنیکٹ ہو کر مختلف ایپلی کیشنز کے ذریعے آپ کو آنے والی کالز اور پیغامات سے آگاہ رکھے گی۔اس انگوٹھی کو بون کنڈکشن نامی طبی تکیک کے تحت تیار کیا گیا ہے۔اگر آپ مستقلاً ایک اسمارٹ فون کے مالک ہیں اور اسے باہر نہیں لے جانا چاہتے، اور گھر سے باہر استعمال کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی معمولی فون نہیں، تب ایسی صورت میں گھر سے باہر جانے کے بعد آپ کسی سے بھی رابطہ کرنے سے محروم ہوجائیں گے۔تاہم اب ہانگ کانگ کی ایک کمپنی نے ایک اسمارٹ انگوٹھی تیار کرلی ہے جو گھر سے باہر آپ کے لیے اسمارٹ فون کا کام سرانجام دے سکتی ہے۔یہ پیغامات صرف آپ کے کانوں تک ہی پہنچیں گے اور کوئی دوسرا شخص ان سے آگاہ نہیں ہوسکے گا چاہے وہ کتنا ہی قریب کیوں نہ بیٹھا ہو۔اس تکنیک میں ہڈیوں کے ذریعے کان کے اندرونی خلیات تک پیغامات کی ترسیل کی جاسکتی ہے۔اب سے قبل یہ طریقہ کار صرف سننے سے معذور افراد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا تاہم اب عام افراد کے لیے اس کی دستیابی ایجادات کی دنیا میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہےاسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور موبائل کے گر جانے یا کھو جانے کے ڈر سے اسمارٹ فونز کا گھر سے باہر استعمال نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

July 28, 2017

بل گیٹس سے اعزازچھن گیا،اب نمبرون کون ؟جانیے

جدت ویب ڈیسک : کرسی یا اعزاز ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتا ہے مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس اور کون، جی نہیں بل گیٹس سے اب یہ اعزاز چھین لیا گیا ہے، شئیرز میں اضافہ سے ایمیزون کے بانی جیف بیزوز امیر نمبر ون بن چکے ہیں جیف بیزوز گزشتہ 30 برسوں کے دوران دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز پانے والے چھٹے فرد ہیں جبکہ وہ ارب پتی افراد کی فہرست میں 20سال قبل شامل ہوئے تھے۔۔ونڈوز کے ونڈرمین پر آن لائن ریٹیلر بازی لے گیا۔ مائیکروسافٹ بنا کر مالامال ہونے والے بل گیٹس ۔ رئیس نمبر ون نہ رہے۔ امیزن کے بانی نے یہ اعزاز چھین لیا۔اب جیف بیزوز دنیا کے امیرترین آدمی ہیں ۔فاربز کے مطابق جیف 90ارب کے مجموعی اثاثوں کے مالک ہیں، صرف ایک روز پہلے ان کے اثاثوں کی مالیت 89ارب ڈالرز بتائی جاتی تھی۔ایسے میں ایمزون کے شئیرز بڑھنے اور مائیکروسافٹ کے شئیرز گرنے سے جیف کی دولت میں اضافہ ہوگیا۔ بل گیٹس کے مقابلے میں جیف جیف کے اثاثے 500ملین زیادہ ہیں، تاہم یہ برتری دائمی نہیں ۔ ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھا بل گیٹس کو ایکبارپھر اوپر لے جا سکتا ہے۔

July 27, 2017

حیران کُن انکشاف،اسٹریٹ لائٹس کا رنگ پیلا ہی کیوں ہوتا ہے ؟

جدت ویب ڈیسک :اسٹریٹ لائٹس کا رنگ پیلا ہی کیوں ہے؟ آخر کوئی اور رنگ کیوں نہیں؟کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کے شہر میں لگی ہوئی ہیں، آپ اگر ذرا دنیا بھر کی اسٹریٹ لائٹس کے بارے میں غور کریں، سرچ کریں یا کسی بھی غیر ملکی سڑک کی کوئی ویڈیو دیکھیں تو آپ پر منکشف ہوگا دنیا میں اسٹریٹ پر نصب زیادہ تر لائٹس پیلے رنگ ہی کی ہیں۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سڑک کنارے جو لائٹس استعمال کی جاتی ہیں ان کی تیاری میں سوڈیم استعمال ہوتا ہے، سوڈیم سے بنی ہوئی لاٹس سے نکلنے والی روشنی پیلی ہوتی ہے، ان لائٹس کی قیمت کم ہوتی ہے اور دنیا بھر کی بلدیاتی حکومتوں کو سڑکوں پر لائٹس لگانے کے لیے بہت بڑی تعداد درکار ہوتی ہے اسی لیے وہ سوڈیم سے بنی لائٹس ہی خریدتی ہیں۔عام طور پر بنے ہوئے بلب میں جب بجلی بلب کے اندر پہنچتی ہے اور سوڈیم سے متصل ہوتی ہے تو اس اتصال سے یک دم بہت ساری اورنج رنگ کی روشنی خارج ہوتی ہے۔بہر حال یہ پیلی لائٹس اپنی جگہ لیکن اب دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں، کمپنیوں اور گھروں میں بھی ایل ای ڈی لائٹس کا رجحان فروغ پارہا ہے جو کہ ان لائٹس کی بہ نسبت کم بجلی خرچ کرتی ہیں اور ماہانہ بل ان لائٹس کی بہ نسبت آتا ہے۔پیلی لائٹس کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ لائٹس سفید رنگ کی ہیں جن میں ہلکی سی نیلے رنگ کی آمیزش ہوتی ہے جیسا کہ چاندنی کا رنگ ہوتا ہے، ایل ای ڈی لائٹس میں یہی رنگ استعمال کیا جارہا ہے یعنی بالفاظ دیگر کہیں تو اس کی تیاری میں کسی رنگ کا استعمال نہیں کرنا پڑتا یعنی اسے بنانے میں کوئی پیچیدہ عمل نہیں اور کوئی خاص لاگت بھی نہیں، کم لاگت میں بڑی جگہ روشن کرنے کے لیے یہ ایک عمدہ لائٹ ہے۔دوسری جانب پیلی لائٹس کی بہ نسبت سفید لائٹس لائٹس بنانے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے، سفید لائٹس بنانے کے لیے مختلف اقسام کے رنگوں کو ملانا پڑتا ہے جو کہ بلب کے اندر لگایا جاتا ہے جس کے بعد بلب سے سفید رنگ کی روشنی خارج ہوتی ہے۔اسی طرح کسی بھی دیگر رنگ کی لائٹ بنانے کے لیے مختلف رنگوں کے کیمیکلز کو ملا کر مرکب تیار کرنا پڑتا ہے جس سے لائٹ کی تیاری مشکل ہوجاتی ہے، زیادہ وقت لگتا ہے اور اس کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔اسی لیے دنیا بھر میں حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ کم لاگت میں زیادہ روشنی دینے والی یہ لائٹس ہی سڑکوں پر نصب کی جائیں۔