July 28, 2017

بل گیٹس سے اعزازچھن گیا،اب نمبرون کون ؟جانیے

جدت ویب ڈیسک : کرسی یا اعزاز ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتا ہے مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس اور کون، جی نہیں بل گیٹس سے اب یہ اعزاز چھین لیا گیا ہے، شئیرز میں اضافہ سے ایمیزون کے بانی جیف بیزوز امیر نمبر ون بن چکے ہیں جیف بیزوز گزشتہ 30 برسوں کے دوران دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز پانے والے چھٹے فرد ہیں جبکہ وہ ارب پتی افراد کی فہرست میں 20سال قبل شامل ہوئے تھے۔۔ونڈوز کے ونڈرمین پر آن لائن ریٹیلر بازی لے گیا۔ مائیکروسافٹ بنا کر مالامال ہونے والے بل گیٹس ۔ رئیس نمبر ون نہ رہے۔ امیزن کے بانی نے یہ اعزاز چھین لیا۔اب جیف بیزوز دنیا کے امیرترین آدمی ہیں ۔فاربز کے مطابق جیف 90ارب کے مجموعی اثاثوں کے مالک ہیں، صرف ایک روز پہلے ان کے اثاثوں کی مالیت 89ارب ڈالرز بتائی جاتی تھی۔ایسے میں ایمزون کے شئیرز بڑھنے اور مائیکروسافٹ کے شئیرز گرنے سے جیف کی دولت میں اضافہ ہوگیا۔ بل گیٹس کے مقابلے میں جیف جیف کے اثاثے 500ملین زیادہ ہیں، تاہم یہ برتری دائمی نہیں ۔ ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھا بل گیٹس کو ایکبارپھر اوپر لے جا سکتا ہے۔

July 27, 2017

حیران کُن انکشاف،اسٹریٹ لائٹس کا رنگ پیلا ہی کیوں ہوتا ہے ؟

جدت ویب ڈیسک :اسٹریٹ لائٹس کا رنگ پیلا ہی کیوں ہے؟ آخر کوئی اور رنگ کیوں نہیں؟کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کے شہر میں لگی ہوئی ہیں، آپ اگر ذرا دنیا بھر کی اسٹریٹ لائٹس کے بارے میں غور کریں، سرچ کریں یا کسی بھی غیر ملکی سڑک کی کوئی ویڈیو دیکھیں تو آپ پر منکشف ہوگا دنیا میں اسٹریٹ پر نصب زیادہ تر لائٹس پیلے رنگ ہی کی ہیں۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سڑک کنارے جو لائٹس استعمال کی جاتی ہیں ان کی تیاری میں سوڈیم استعمال ہوتا ہے، سوڈیم سے بنی ہوئی لاٹس سے نکلنے والی روشنی پیلی ہوتی ہے، ان لائٹس کی قیمت کم ہوتی ہے اور دنیا بھر کی بلدیاتی حکومتوں کو سڑکوں پر لائٹس لگانے کے لیے بہت بڑی تعداد درکار ہوتی ہے اسی لیے وہ سوڈیم سے بنی لائٹس ہی خریدتی ہیں۔عام طور پر بنے ہوئے بلب میں جب بجلی بلب کے اندر پہنچتی ہے اور سوڈیم سے متصل ہوتی ہے تو اس اتصال سے یک دم بہت ساری اورنج رنگ کی روشنی خارج ہوتی ہے۔بہر حال یہ پیلی لائٹس اپنی جگہ لیکن اب دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں، کمپنیوں اور گھروں میں بھی ایل ای ڈی لائٹس کا رجحان فروغ پارہا ہے جو کہ ان لائٹس کی بہ نسبت کم بجلی خرچ کرتی ہیں اور ماہانہ بل ان لائٹس کی بہ نسبت آتا ہے۔پیلی لائٹس کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ لائٹس سفید رنگ کی ہیں جن میں ہلکی سی نیلے رنگ کی آمیزش ہوتی ہے جیسا کہ چاندنی کا رنگ ہوتا ہے، ایل ای ڈی لائٹس میں یہی رنگ استعمال کیا جارہا ہے یعنی بالفاظ دیگر کہیں تو اس کی تیاری میں کسی رنگ کا استعمال نہیں کرنا پڑتا یعنی اسے بنانے میں کوئی پیچیدہ عمل نہیں اور کوئی خاص لاگت بھی نہیں، کم لاگت میں بڑی جگہ روشن کرنے کے لیے یہ ایک عمدہ لائٹ ہے۔دوسری جانب پیلی لائٹس کی بہ نسبت سفید لائٹس لائٹس بنانے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے، سفید لائٹس بنانے کے لیے مختلف اقسام کے رنگوں کو ملانا پڑتا ہے جو کہ بلب کے اندر لگایا جاتا ہے جس کے بعد بلب سے سفید رنگ کی روشنی خارج ہوتی ہے۔اسی طرح کسی بھی دیگر رنگ کی لائٹ بنانے کے لیے مختلف رنگوں کے کیمیکلز کو ملا کر مرکب تیار کرنا پڑتا ہے جس سے لائٹ کی تیاری مشکل ہوجاتی ہے، زیادہ وقت لگتا ہے اور اس کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔اسی لیے دنیا بھر میں حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ کم لاگت میں زیادہ روشنی دینے والی یہ لائٹس ہی سڑکوں پر نصب کی جائیں۔

 

July 25, 2017

حیرت انگیز چیزیں صرف دبئی میں ہی کیوں نظر آتی ہیں ؟جانیے

جدت (ریسرچ ڈیسک)دنیا کی دس حیرت انگیز چیزیں جو صرف اور صرف آپ کو دبئی میں ہی نظر آتی ہے۔
-1انڈر واٹر سیوٹ پام ہوٹل دبئی میں دو انٹر واٹر سیوٹ پوسیڈون اور نیپٹیون کے نام سے موجود ہیں اور اس انتہائی دلکش اور رومانوی ماحول کے آپ کو ادا کرنے پڑتے ہیں 8ہزار ڈالر ایک رات کے کسی بھی ایک سیوٹ پر قیام کیلئے ۔
-2دنیا کا بلند ترین ٹینس کورٹ جو قائم ہے دنیا کے چوتھے بلند ترین ہوٹل برج العرب پر جسے 2005ء میں تعمیر کیا گیا،برج العرب نے اس ہیلی پیڈ میں تبدیل ہوجانے والے ٹینس کورٹ پر دنیا کے بہترین ٹینس پلیئرز روگر فیڈر اور آندرے آگاسی کے مابین مقابلہ بھی کروایا
-3پالم آئس لینڈ کے نام سے مشہور مصنوعی تین جزیرےہیں جن کے نام پالم جمیرا،پالم جبل علی اور پالم ڈیرہ ہیں ۔ ڈیرہ آئس لینڈ پر چار ہزار بنگلے اور اپارٹمنٹس قائم ہوچکے ہیں اور پالم جمیرہ پر بھی کئی ریستوران اور ریزورٹ قائم ہیں ۔
-4پالتو جنگلی جانور ….جی ہاں !کیسا لگے گا جب آپ کے برابر سے گزرگی فراٹے بھرتی گاڑی کی ونڈو میں سے کسی چیتے نے منہ باہر نکال رکھا ہو،یقیناً آپ کو ایک لمحہ کیلئے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا لیکن یہ آج کل اسٹیٹس سمبل کا درجہ اختیار کرچکا ہے دبئی میں،چیتے،شیر اور تیندوے کسی بھی گاڑی میں نظر آنا اب حیرت کی بات نہیں رہی اور انہیں پالنے کی خاطر کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے حالانکہ ان جانوروں کی نقل و حمل غیر قانونی ہے۔
-5غیر ملکی انتہائی مہنگی پولیس گاڑیاں،یہاں آنے والے امیر کبیر لوگ جو اپنی دولت پر بہت نازاں ہیں وہ بھی پولیس کو فراہم کی جانے والی گاڑیوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں کا اسکواڈ موجود ہے جو لیمبرگینی ،ایسٹون مارٹینگ،بینٹلی،فریری اور بگاٹی جیسی گاڑیوں پر مشتمل ہے ۔
-6گولڈ اے ٹی ایم اور گولڈ وینڈنگ مشین،یہ آپ کو دبئی میں کئی مقامات پر نصب ملیں گی ۔ آپ اس میں رقم ڈالیں اور اس میں سے سونا ایک خوبصورت باکس کی صورت میں برآمد ہوگا۔
-7دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال جس کا باقاعدہ افتتاح 2009ء میں کیا گیا اور اس پر 20بلین ڈالر لاگت آئی جس میں 1200اسٹور اور 14000گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام ہے اور جہاں انڈر واٹر زو بھی قائم ہے اور اس پر آئس رنک ایک اضافی خصوصیت ہے ۔
-8دنیا کا مہنگا ترین فوارّہ بھی آپ کو یہیں دیکھنے کو ملے گا جو برج خلیفہ کی جھیل میں نصب کیا گیا ہے جسے کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے اور جس پر 218ملین امریکی ڈالر لاگت آئی۔ یہ 900فٹ پر محیط فوراہ پانی کو دوسو فٹ کی اونچائی تک اچھالتا ہے جبکہ مختلف انواع کی شکلوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے
-9دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ جو دنیا کی بلند ترین عمارت تصور کی جاتی ہے جس کی اونچائی 829.8میٹر جبکہ یہ عمارت 163منزلوں پر مشتمل ہے ۔ اس بلند و بالاعمارت کا باقاعدہ آغاز 2010جنوری میں کیا گیا جس پر 15بلین ڈالر لاگت آئی ۔
-10دنیا کا پہلا سیون اسٹار ہوٹل برج العرب جو کہ دنیا کے بلند ترین ہوٹلوں میں چوتھے نمبر پر ہے ۔ہوٹل 321میٹر بلند جو کہ مصنوعی جزیرے پر قائم کیا گیا ہے اور جس کی شکل بادبانی کشتی سے مماثل ہے۔

July 25, 2017

امریکہ اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑتاریخ کے آئینہ میں 

جدت ویب ڈیسک :6اگست 1945کو ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا گیا جس میں ایک اندازے کے مطابق1لاکھ 35ہزار افراد صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔9اگست1945کون بھلا سکتا ہے جب ناگا ساکی پر ایٹمی بم داغا گیا جس میں تقریبا 75ہزار انسان لقمۂ اجل بن گئے۔یہ تو ورلڈ وار IIکا زمانہ تھا لیکن آج ایٹمی ہتھیار اس سے ہزارھا گنازیادہ طاقتور اور خوفناک ہو چکے ہیں جو پلک جھپکتے ہی اتنی تباہی مچاسکتے ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہیرو شیما پر گرایا جانے والاایٹمی بم 15کلوٹونز کی تباہی مچا سکتا تھا ایک کلوٹون سے مرادٹی این ٹی کے ایک ہزار ٹن کی طاقت کے برابرہوتا ہے۔ مثلا اگر اسے نیو یارک سٹی کے ٹائم اسکوائر پر گرایا جائے تو متاثرہ علاقہ کم و بیش ایک میل پر محیط ہوگا ، تصویر میں موجو د پیلی لکیر آگ کی لپٹوں کی نشاندھی کررہی ہے،سرخ دائرے میں 100فیصد تباہی کی نشاندہی کی گئی جس میں بلڈنگ اور املاک مکمل ہو پر تباہ ہوجائیںجبکہ گرے دائرے کو اندر موجود کوئی بھی شے استعمال کے لائق نہ رہیںاور یہاں آباد انسان موت سے بچ بھی جائے تو قریب المرگ ضرور ہوگااو ر اورینج سرکل تھرڈ ڈگری ریڈئیشن کی نشاندہی کیلئے ہےجو تباہ کن ہو۔ موجودہ سب سے تباہ کن ایٹمی ہتھیار بھی امریکہ کے پاس ہے B83جو 1200کلوٹون کی تباہی کےلئے تیار کیا گیا ہےجو کہ ہیروشیما میں پھیلائی گئی تباہی سے 80گنا زیادہ خطرناگ ہوگی یعنی 1.3ملین ٹن TNTاور جس سے تقریبا 7میل سے زیادہ کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہوجائیگا۔1954میں کیسٹل براوو آپریشن کو دوران امریکہ نے تاریخ کا سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والاایٹمی حملہ کیااور جو 15ہزار کلوٹون کی تباہی پھیلانے کی طاقت کا حامل تھااور جو ہیروشیما میں داغے گئے بم سو 1000گنا زیادہ طاقت ور تھااور جس کی تابکاری سو 21میل تک کا علاقہ متاثر ہو ا، صرف یہیں تک نہیں بلکہ 30اکتوبر 1961کو سوویت یونین نے Tsar Bombaکا تجربہ کیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی تجربہ تھا اور جو 50ہزار کلوٹون تباہی کی طاقت رکھتا تھااور جس سے اٹھنے والے دھویں اور شعلے دنیا کی تمام چیزوں سو بلند تھےاور یہ کتنے بلند تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ 29,035فٹ کے مقابلے میں 209,974فٹ تھی۔ اگر اسے نیویارک سٹی پر داغا جائے تواس سے متاثر ہونے والاعلاقہ 31معکب میل ہوگا۔ Tsar Bombaپانچ دہائی پہلے تیار کیا گیا تھا مگر آج ایک انداز ے کے مطابق 14,900کے قریب ایٹمی ہتھیارپوری دنیا میں موجود ہیں۔ اگر 1963میں دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات پر جزوی پابندی کے معاہدےپر دستخط نہ ہوئے ہوتے تو آپ درج بالاتباہی کاریاں دیکھ پاتے۔

 

July 25, 2017

آئی فون میں چھوٹے سوراخ کا کیا مطلب ہے ؟جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک : ۔ اگر آپ اپنے آئی فون کے مائیکروفونز کو ٹیسٹ کرنا چاہیں تو وائس میمو کھول کر ریکارڈنگ کا بٹن دبائیں اور پھر پلے کا بٹن دبا کر آپ اس ریکارڈنگ کو سن سکتے ہیں۔
دی مرر کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سوراخ دراصل ایک مائیکروفون ہے اور آئی فون میں اس طرح کے کل تین سوراخ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک فون کی سامنے کی جانب سپیکر کے پاس ہوتا ہے جبکہ ایک نچلی طرف ہوتا ہے۔ سامنے اور نچلی جانب کے ساتھ پچھلے کیمرے کے پاس بھی مائیکروفون فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے فون کو جس طرح بھی پکڑیں یہ تمام آوازوں کو اچھی طرح ریکارڈ کرسکے۔اگر آپ آئی فون کے مالک ہیں تو اس کے پچھلے کیمرے کے قریب موجود باریک سوراخ کو دیکھ کر کبھی نہ کبھی ضرور حیران ہوئے ہوں گے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ یہ سوراخ پہلی بار آئی فون 5 میں سامنے آیا اور اس کے بعد سے ہر ماڈل میں موجود ہے۔ا گرچہ اکثر آئی فون صارفین کو اس کا مقصد معلوم نہیں لیکن دراصل یہ ایک اہم کام کیلئے بنایا گیا ہے، خصوصاً جب آپ صاف اور واضح آواز کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ کرنا چاہیںاس سوراخ کی حقیقت کا انکشاف پہلی بار ایپل کے مارکیٹنگ چیف فل شلر نے ایک تقریب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ فیس ٹائم کال کررہے ہوں یا ویڈیو ریکارڈ کررہے ہوں، آئی فون میں موجود تین مائیکروفون بہترین آڈیو ریکارڈنگ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ صرف آڈیو ریکارڈ ہی نہیں کرتے بلکہ نائز کینسلیشن کا فیچر استعمال کرتے ہوئے شور سے پاک آڈیو ریکارڈنگ کرتے ہیں اور ساؤنڈ بیم بنانے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں جو وائس ریکگنیشن جیسی ایپس میں استعمال ہوتی ہے