October 17, 2017

سوناکیسے بنتا ہے ؟دوستاروں کے ٹکرانے سے مخفی راز سے پردہ اُٹھ گیا

کراچی جدت ویب ڈیسک :دھیرے دھیرےکائنات میں چھپے راز افشا ہو رہے ہیں ؛ دو ستاروں کے ٹکراؤ نے سائنسدانوں کئی مخفی رازوں کے پردے اٹھا دیئے۔سونا کیسے بنتا ہے۔یہ بھی پتا چلا لیا گیا ۔پچھلے 2 مہینے کے دوران ہماری کائنات میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اگست کے وسط میں دو نیوٹرون ستاروں کے آپس میں ٹکرانے کے واقعے کی دریافت ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ آج تک گریویٹیشنل ویوز کی تخلیق کے صرف 4 واقعات کے بارے میں ہی جان سکے ہیں جو بلیک ہولز کے آپس میں ملنے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں جبکہ دو نیوٹرون ستاروں کے آپس میں ٹکرانے سے کشش ثقل کی لہروں کی تخلیق کا عمل تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ واقعے سے ہیوی میٹلز جیسا کہ سونے،پلاٹینیم اور یورینیم کی تخلیق کے اس دعوے کہ بھی تصدیق ہو گئی ہے جس کے مطابق یہ دھاتیں نیوٹرون ستاروں کے ٹکرانے کے سے پیدا ہوتی ہیں۔ صرف اس ایک واقعے کی وجہ سے زمین سے 10 گنا زیادہ سونا اور پلاٹینیم پیدا ہوا ہے۔نیوٹرون سٹارز کے ٹکرانے کا یہ واقعہ 13 کروڑ نوری سال کی دوری پر پیش آیا۔زمین پر اسکے سگنلز 17 اگست کو پہنچے۔سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کشش ثقل کی لہریں دو نیوٹرون ستاروں کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ ایونٹ سے آئن سٹائن کی یہ تھیوری بھی سچ ثابت ہو گئی ہے۔

 

October 14, 2017

انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں ؟؟امریکی خلائی ادارے ناسا کی رپورٹ جھوٹ پر مبنی

کراچی جدت ویب ڈیسک :انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں ؟؟امریکی خلائی ادارے ناسا کی رپورٹ جھوٹ پر مبنی !! عرصہ دراز سے یہ بات مشہور ہے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھا اور یہ دعویٰ 20جولائی 1969ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے کیا گیاجس میں بتایا گیا کہ ا neil armstrongنامی خلاء باز نے سب سے پہلے چاند پر قدم رکھا اور اسے انسانی تاریخ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا اور طرح طرح کی باتیں مشہور ہونے لگیں ، میڈیا بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہوگیا اور اسے انسانی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ قرار دیا جانے لگا اور دیگر سیاروں کو بھی تسخیر کرنے کا عزم کیا جانے لگا اور وہاں انسانوں کو آباد کرنے کے دعوے تک کئے جانے لگے اور باقاعدہ عام انسانوں کو بھی سیر و تفریح کی غرض سے وہاں لے جانے کی خبریں گردش کرنے لگیں ۔ لیکن آج تقریباً ا س دعوے کے48سال بعد بھی ایسا کچھ نہیں ہوا اور اس بارے میں بڑی تعداد میں امریکیوں کے خیال میں بھی یہ دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں تھا بلکہ بعض کے مطابق یہ روس اور امریکہ کے مابین جاری خلائی جنگ میں برتری اور سبقت حاصل کرنے کے لئے گھڑی گئی ایک جھوٹی داستان تھی آج کی رپورٹ میں اسی حولے سے چند ایسے حقائق پیش کئے جارہے ہیں جس سے ثابت ہوگا کہ یہ واقعی ایک ڈرامہ سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ستمبر 1959کو سب سے پہلے روس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے بغیر کسی خلاء باز کے اپنا سیارہ چاند پر اتارنے کے دعوے نے امریکی خلائی ادارے کی نیندیں اڑادیں اور انہوں نے پلاننگ شروع کردی کہ کونسا ایسا کارنامہ اپنے نام سے منسوب کیا جائے جس سے روسی خلائی ادارے کو جواب دیا جاسکے لہٰذا Appolo Mission منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے فلم بندی کا فیصلہ کیا گیا جس کے حوالے سے ماہرین نے مختلف دعوے کئے ہیں بعض نے مطابق شکاگو جبکہ بعض نے ہالی ووڈ کے کسی خفیہ اسٹوڈیو کا ذکر کیا ہے۔ زمین پر رہ کر چاند پر قدم رکھتے ہوئے انسان کی عکس بندی واقعی ایک مشکل کام ہے اور جب یہ فلم منظر عام پر آئی تو خلائی ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایسے اعتراضات اٹھائے جن کا جواب ناسا سمیت کسی کے پاس نہ تھا جس یہ ثابت ہوا کہ انسان نے کبھی چاند پر قدم رکھا ہی نہیں اس بات کو تقویت دینے کیلئے سب سے بڑآ ثبوت یہ ہے کہ امریکی ادارے ناسا کے مطابق انسان کے چاند پر قدم رکھنے کی فوٹیج ہی ضائع ہوچکی ہے اور دوسرا یہ کہ انسانی تاریخ کی اتنی اہم اور منصوبے کی تکمیل پر خرچ کی جانے والی لاگت کے حساب سے دنیا کے مہنگے ترین تجربہ کے ثبوت ضائع کرنے پر آج تک کوئی کمیشن نہیں بنایا گیا جس نے اس معاملے کی تحقیقات کی ہو۔ ویڈیو سمیت کئی اہم دستاویز اور نمونے بھی اب ان کے پاس نہیں ہیں جن سے متعلق محض یہ بتایا گیا کہ وہ گم ہوگئے ہیں۔ یہ تمام امور اپنی جگہ پر مگر ناقدین و ماہرین کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے سوالات کا ذکر ابھی ذیل میں کیا جارہا ہے جس کے بارے میں ایک عام انسان کو بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ یہ مشن جھوٹا ہے۔۱۔آسمان پر ستاروں کا نہ پایا جانا: فلم بندی کے دوران کہیں پر بھی ستاروں کی عدم موجودگی اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ یہ ویڈیو فیک ہے کیونکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چاند پر کوئی بادل نہیں ہے جس کے باوجود ستاروں کا نظر نہ آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جبکہ فلم کی عکس میں آسمان پر تاریکی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین سے بادلوں موجودگی کے باوجود بھی ستارے نظر آئیں جبکہ چاند سے مطلع بالکل صاف ہونے باوجود ستارے دیکھے نہ جاسکیں جس کے جواب میں ناسا نے عجیب و غریب جواب دیا کہ اس وقت کیمرے کی کوالٹی اتنی بہتر نہیں تھی جتنی کہ آج ہے لئے اس ویڈیو میں ستاروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ ناقدین کے مطابق اگر ستاروں دکھتے تو ان کی سمت سے چھوٹ عیاں ہوجاتا ۔۲۔ مختلف سمت سے روشنی کی موجودگی: آپ سب جانتے ہیں کائنات پر روشنی کے لئے قدرتی طور پر ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے سورج جس کے ذریعے چاند بھی روشن ہے اور ستارے بھی لیکن ویڈیو میں عکس بندی کے دوران چاند پر موجود اشیاء کے عکس مختلف سمت میں ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہاں روشنی کے ایک سے زائد ذرائع موجود ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ شوٹنگ کے دوران مختلف لائٹس استعمال کی گئی ہیں جس کے جواب میں ناسا کے مطابق چو نکہ چاند کی سطح ناہموار اس لئے ایسا ہوا۔ ۳۔ چیزوں پر موجود کوڈ: ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک پتھر پر انگریزی زبان کا حروف تہجی Cدرج ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ دوران شوٹنگ کوئی بھی ڈائریکٹر مختلف اشیاء پر اس قسم کے کوڈ ڈالتے ہیں جن کی مدد سے ان اشیاء کی جگہ کا تعین کرنا ممکن ہوتا ہے عام طور پر یہ کوڈ چھپا دیئے جاتے ہیں لیکن مذکورہ ویڈیو میں غلطی سے یہ کوڈ نمایاں ہوا ہے جس کے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ویڈیو فیک ہے اور یہ زمین پر ہی کسی اسٹوڈیو میں شوٹ کی گئی ہے۔۴۔ لہراتا پرچم: یہ بات طے ہے کہ چاند پر ہوا موجود نہیں جس کے باجود پرچم کا لہرانا عقل سے ماورا ہے۔ امریکی خلائی ادارے کے مطابق چاند پر جانے والے خلاء باز نے وہاں امریکی پرچم لگایا جو کہ ویڈیو میں لہراتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے جو اس ویڈیو کو مشکوک بناتا ہے۔۵۔ van radiation belt کو عبور کرنا:یہ ایک انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ زمین کے گرد موجود حفاظتی رو جسے van radiation beltکہا جاتا ہے جو کہ زمین کی کشش ثقل کے باعث ایک جگہ پر موجود ہے اور اگر کسی کو چاند پر جانا ہو تو اسے یہ رکاوٹ عبور کرنا ہوگی۔ اور ناسا کی رپورٹ کے مطابق Appolo Mission بحفاظت اس مقناطیسی رو کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر جہاز کی بیرونی اور اندرونی ساخت پر موجود ایلومینیم کی سطح اگر اس رو سے گزرنا چاہے تو جل کر خاکستر ہوجائے مگر ناسا کے مطابق خلائی شٹل کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اسے کچھ نہ ہوا جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔۔۶ کیمرے کی آنکھ کا متاثر نہ ہونا:یہ بات اور بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ کس طرح چاند پر موجود نامساعد حالات میں کیمرے کی آنکھ نے یہ تمام مناظر قید کئے جبکہ چاند پر ہوا کی عدم موجودگی کے باعث وہاں کا درجہ حرارت 150ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ آج کے دور میں اتنی ترقی کے باوجود بھی عمدہ سے عمدہ کیمرہ 60ڈگری سینٹی گریڈ کے بعد عکس بندی کی سہولت سے محروم ہوجاتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت سے اس کے لینس پر کیمیائی اثر مرتب ہوتا ہے جس سے لینس ناکارہ ہوجاتا ہے جس کے لئے خصوصی آلات کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ مذکورہ ویڈیو کو شوٹ کرنے کیلئے ایک عام سا کیمرہ تھا جسے بغیر کسی خصوصی آلات کےاستعمال کیا گیا جبکہ حقیقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ۷۔ چاند کی سطح پر پیروں کے نشان:اس بات سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ چاند پر نہ ہوا ہے اور نہ پانی اور کسی بھی سطح پر ان دونوں کی عدم موجودگی کے باوجود پیروں کے نشانات کا پڑ جانا ممکن نہیں کیونکہ جس سطح پر پانی ہی موجود نہ ہو وہاں پائوں کس طرح دھنس سکتا ہے۔ جبکہ ویڈیو میں انسانی پائوں کو سطح میں دھنستے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی ایسے حقائق ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے اور درحقیقت انسان چاند پر گیا ہی نہیں۔ اور اب جبکہ اس دعوے کو تقریباً48سال گزرنے کے بعد اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے باوجود امریکی خلائی ادارے کو حقیقی سفر کرنا پڑا تو اس کے اوسان خطا ہوچکے ہیں کیونکہ چاند کی زمین سے دوری 3لاکھ 84ہزار 400کلو میٹر ہے جس کو طے کرنے کیلئے تقریباً 7ماہ کا عرصہ درکار ہے اور سات ماہ کے طویل عرصہ تک کسی بھی انسانی جسم کا کسی بھی قسم کے لباس میں خلائی تابکاری شعاعوں میں محفوظ رہنا ممکن نہیں زمین سے 99ہزار کلو میٹر کی دوری پر آسمان کی حدود کا آغاز ہوتا ہے جہاں پر بے شمار پہاڑوں سے بھی بڑے بڑے پتھر خلاء میں اڑتے دکھائی دیتے ہیں یہی نہیں ان کے علاوہ سیارے وغیرہ بھی موجود ہیں اور ان سے خارج ہونے والی تابکاری شعاعوں اور زمین کی کشش ثقل کی عدم موجودگی میں کسی بھی انسانی جسم کا بچنا ممکن نہیں ۔امریکی خلائی سفر جھوٹ پر مبنی ہے اور اگر ایسا حقیقت میں ہوتا تو کیا وجہ ہے اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد دوبارہ انسان نے چاند پر قدم رکھنے کی ہمت نہ کی حالانکہ اس عرصہ میں سائنس و ٹیکنالوجی نے کئی گنا ترقی کرلی ہے

October 12, 2017

کمال ہوگیا ہوورڈ بورڈ نامی ٹیکنالوجی جدید الیکٹریکل بورڈ کا استعمال شاید پاکستانیوں سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا

کراچی جدت ویب ڈیسک :: ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستانیوں سے زیادہ بہتر انداز میں شاید کوئی نہیں کرسکتا جس کا اندازہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو سے کیاجاسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے سائنس دان انسان کی زندگی آسان بنانے کے لیے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، چند سال قبل ماہرین سے پیدل چلنے کی محنت سے بچنے کے لیے اسکیٹ شوز متعارف کروائے تاہم اس میں جدت کرکے چند برس قبل ہوور بورڈ تخلیق کیا گیا۔دنیا بھر میں ہوورڈ آمد ورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم پاکستانی خاتون نے اس ٹیکنالوجی کو انوکھے انداز میں استعمال کرکے دنیا کو حیران کردیا۔پاکستانی خاتون الیکٹریکل بورڈ پر بیٹھیں اور انہوں نے ہاتھ میں جھاڑوو پکڑ کر صحن کی صفائی شروع کی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہوورڈ کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہوگیا ہوورڈ بورڈ نامی ٹیکنالوجی جدید الیکٹریکل بورڈ ہے، اس بورڈ پر دو بٹن دیے گئے ہیں جو آگے اور پیچھے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ دو پیہے بھی لگائے گئے ہیں، چونکہ اس بورڈ کو کھڑے ہوکر چلایا جاتا ہے اس لیے ماہرین نے بناوٹ کے وقت خصوصی طور پر بلینس کا بھی خیال رکھا ہے۔ویڈیو دیکھنے کے لیے اسکرول کریں

 

October 12, 2017

جدید ترین دفاع ،پاکستان آئندہ برس جدید ترین خلائی سیارہ،پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے گا ، جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک: پاکستان آئندہ برس جدید ترین خلائی سیارہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹ(پی آرایس ایس) خلا میں بھیجے گا‘ اس تجربے کے بعد خطے سے جدید ترین دفاعی مقاصد کے لیے سیارے پاکستان سینتھیٹک اپرچر ریڈار سٹیشن (سار) خلا میں بھجوانے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔تفصیلات کےمطابق حکومت نے اس میگا پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے سوا بارہ ارب روپے سپارکو کے لیے مختص کیے ہیں۔ 2017 سے 2020 تک یہ رقم خلائی پروگرام پر خرچ کی جائے گی۔سنہ 2018 کے اختتام تک پاکستان خود سیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) کے مطابق پاکستان نے پہلا خلائی سیارہ ‘بدر’ فضا میں چھوڑا تھا اور اب پاکستان نے جدید ترین خلائی سیارہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پریس) کی تیاری شروع کر دی ہے جس میں چین کا تعاون بھی شامل ہے۔یہ پراجیکٹ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ 2018 میں پی آر ایس ایس کو خلا میں بھجوائے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔یاد رہےکہ پاکستان نے اپنا اسپیس پروگرام سنہ 1961 میں بھارت سے آٹھ سال قبل شروع کیا تھا اور پہلا راکٹ راکٹ بدر ۱ آئندہ سال ناسا کے تعاون سے لانچ کیا تھا۔ اسرائیل اور جاپان کے بعد خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ایشیائی ملک پاکستان تھا اس کامیاب تجربے کے بعد پاکستان سیٹیلائٹ کراپ ، فارسٹ مانیٹرنگ ، تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش، موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بارے میں قبل از وقت معلومات حاصل کر کے ان کی تباہ کاریوں سے بچنے کی حکمتِ عملی تیار کر سکے گا جس کے ذریعے ہر سال ہونے والے جانی اور ،مالی نقصان پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مستقبل میں پاکستان کو محفوظ اور بہتر بنایا جا سکے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیگر اہم کاموں کے ساتھ یہ سیٹلائٹ پاک چین اقتصادی کاریڈور ( سی پیک) کی نگرانی کے فرائض بھی انجام دے گا۔

October 11, 2017

چوروں کو پکڑنے کے لیے اڑنے والی موٹر سائیکل متعارف ، جانیے

جدت ویب ڈیسک :گاڑی کے بعد جاپانی کمپنی نے جرائم پر قابو پانے کے لیے اڑنے والی موٹرسائیکل متعارف کروائی ہے جسے مستقبل قریب میں دبئی پولیس استعمال کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق دبئی میں منعقدہ گاڑیوں کی نمائش میں جاپانی کمپنی نے اڑنے والی بائیک پیش کی جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی، منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ موٹرسائیکل خصوصی طور پر پولیس کے لیے تیار کی گئی ہے۔اس موٹر سائیکل کو ہوورسرف کا نام دیا گیا ہے جو بیٹری سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام تر سہولیات موجود ہیں۔بیٹر ی سے چلنے والی یہ موٹر سائیکل ایک وقت میں 8 گھنٹے تک چلنے جبکہ اس کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ اور یہ 70 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جاپانی کمپنی نے دبئی پولیس کے اشتراک سے یہ موٹرسائیکل متعارف کروائی ہے، دبئی حکام کا کہنا ہے کہ یہ موٹر سائیکل جلد پولیس کو استعمال کے لیے دے دی جائے گی تاکہ جرائم پر جلد سے جلد قابو پایا جاسکے

 

October 11, 2017

پاکستان میں پہلی بار 4.5جی انٹرنیٹ سروس متعارف

لاہور جدت ویب ڈیسک پاکستان میں پہلی بار 4.5 جی انٹرنیٹ سروس کو متعارف کرا دیا گیا،کمپنی کے بقول صارفین الٹرا ایچ ڈی مواد کو بغیر کسی بفرنگ کے دیکھ سکیں گے اور کاروباری اداروں کو ناقص رفتار سے متعلق مسائل کا سامنا نہیں ہوگا۔انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی وائی ٹرائب نے یہ سروس فراہم کی ہے جس کا اعلان تو مارچ میں کیا گیا تھا تاہم اس کے پیکجز کا آغاز اب ہوا ہے۔کمپنی نے اگست میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس کے ایل ٹی ای ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی نیٹ ورک نے 200 ایم بی پی ایس اسپیڈ کے سنگ میل کو عبور کیا۔اب یہ سروس تمام صارفین کے لیے متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لیے مختلف پیکجز لوگ اپنی پسند کے مطابق منتخب کرسکیں گے۔ ابتدائی طو رپر یہ سروس ملک کے پانچ شہروں میں متعارف کروائی جائے گی جن میں میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور فیصل آباد شامل ہیں۔اس سروس کی جانچ سب سے پہلے اسلام آباد کے ہیڈ آفس میں کی گئی اور اب اسے مکمل طور پر لانچ کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ 4 جی سروس میں ایک سیکنڈ کے اندر 1 جی بی ڈیٹا فراہم کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ اس نئی سروس کے ذریعے صارفین 100 ایم بی پی ایس کا کنکشن حاصل کرسکیں گے جسے 2018 کے آخر تک مزید بہتر کیا جائے گا۔