October 12, 2017

کمال ہوگیا ہوورڈ بورڈ نامی ٹیکنالوجی جدید الیکٹریکل بورڈ کا استعمال شاید پاکستانیوں سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا

کراچی جدت ویب ڈیسک :: ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستانیوں سے زیادہ بہتر انداز میں شاید کوئی نہیں کرسکتا جس کا اندازہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو سے کیاجاسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے سائنس دان انسان کی زندگی آسان بنانے کے لیے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، چند سال قبل ماہرین سے پیدل چلنے کی محنت سے بچنے کے لیے اسکیٹ شوز متعارف کروائے تاہم اس میں جدت کرکے چند برس قبل ہوور بورڈ تخلیق کیا گیا۔دنیا بھر میں ہوورڈ آمد ورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم پاکستانی خاتون نے اس ٹیکنالوجی کو انوکھے انداز میں استعمال کرکے دنیا کو حیران کردیا۔پاکستانی خاتون الیکٹریکل بورڈ پر بیٹھیں اور انہوں نے ہاتھ میں جھاڑوو پکڑ کر صحن کی صفائی شروع کی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہوورڈ کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہوگیا ہوورڈ بورڈ نامی ٹیکنالوجی جدید الیکٹریکل بورڈ ہے، اس بورڈ پر دو بٹن دیے گئے ہیں جو آگے اور پیچھے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ دو پیہے بھی لگائے گئے ہیں، چونکہ اس بورڈ کو کھڑے ہوکر چلایا جاتا ہے اس لیے ماہرین نے بناوٹ کے وقت خصوصی طور پر بلینس کا بھی خیال رکھا ہے۔ویڈیو دیکھنے کے لیے اسکرول کریں

 

October 12, 2017

جدید ترین دفاع ،پاکستان آئندہ برس جدید ترین خلائی سیارہ،پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے گا ، جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک: پاکستان آئندہ برس جدید ترین خلائی سیارہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹ(پی آرایس ایس) خلا میں بھیجے گا‘ اس تجربے کے بعد خطے سے جدید ترین دفاعی مقاصد کے لیے سیارے پاکستان سینتھیٹک اپرچر ریڈار سٹیشن (سار) خلا میں بھجوانے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔تفصیلات کےمطابق حکومت نے اس میگا پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے سوا بارہ ارب روپے سپارکو کے لیے مختص کیے ہیں۔ 2017 سے 2020 تک یہ رقم خلائی پروگرام پر خرچ کی جائے گی۔سنہ 2018 کے اختتام تک پاکستان خود سیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) کے مطابق پاکستان نے پہلا خلائی سیارہ ‘بدر’ فضا میں چھوڑا تھا اور اب پاکستان نے جدید ترین خلائی سیارہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پریس) کی تیاری شروع کر دی ہے جس میں چین کا تعاون بھی شامل ہے۔یہ پراجیکٹ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ 2018 میں پی آر ایس ایس کو خلا میں بھجوائے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔یاد رہےکہ پاکستان نے اپنا اسپیس پروگرام سنہ 1961 میں بھارت سے آٹھ سال قبل شروع کیا تھا اور پہلا راکٹ راکٹ بدر ۱ آئندہ سال ناسا کے تعاون سے لانچ کیا تھا۔ اسرائیل اور جاپان کے بعد خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ایشیائی ملک پاکستان تھا اس کامیاب تجربے کے بعد پاکستان سیٹیلائٹ کراپ ، فارسٹ مانیٹرنگ ، تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش، موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بارے میں قبل از وقت معلومات حاصل کر کے ان کی تباہ کاریوں سے بچنے کی حکمتِ عملی تیار کر سکے گا جس کے ذریعے ہر سال ہونے والے جانی اور ،مالی نقصان پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مستقبل میں پاکستان کو محفوظ اور بہتر بنایا جا سکے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیگر اہم کاموں کے ساتھ یہ سیٹلائٹ پاک چین اقتصادی کاریڈور ( سی پیک) کی نگرانی کے فرائض بھی انجام دے گا۔

October 11, 2017

چوروں کو پکڑنے کے لیے اڑنے والی موٹر سائیکل متعارف ، جانیے

جدت ویب ڈیسک :گاڑی کے بعد جاپانی کمپنی نے جرائم پر قابو پانے کے لیے اڑنے والی موٹرسائیکل متعارف کروائی ہے جسے مستقبل قریب میں دبئی پولیس استعمال کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق دبئی میں منعقدہ گاڑیوں کی نمائش میں جاپانی کمپنی نے اڑنے والی بائیک پیش کی جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی، منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ موٹرسائیکل خصوصی طور پر پولیس کے لیے تیار کی گئی ہے۔اس موٹر سائیکل کو ہوورسرف کا نام دیا گیا ہے جو بیٹری سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام تر سہولیات موجود ہیں۔بیٹر ی سے چلنے والی یہ موٹر سائیکل ایک وقت میں 8 گھنٹے تک چلنے جبکہ اس کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ اور یہ 70 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جاپانی کمپنی نے دبئی پولیس کے اشتراک سے یہ موٹرسائیکل متعارف کروائی ہے، دبئی حکام کا کہنا ہے کہ یہ موٹر سائیکل جلد پولیس کو استعمال کے لیے دے دی جائے گی تاکہ جرائم پر جلد سے جلد قابو پایا جاسکے

 

October 11, 2017

پاکستان میں پہلی بار 4.5جی انٹرنیٹ سروس متعارف

لاہور جدت ویب ڈیسک پاکستان میں پہلی بار 4.5 جی انٹرنیٹ سروس کو متعارف کرا دیا گیا،کمپنی کے بقول صارفین الٹرا ایچ ڈی مواد کو بغیر کسی بفرنگ کے دیکھ سکیں گے اور کاروباری اداروں کو ناقص رفتار سے متعلق مسائل کا سامنا نہیں ہوگا۔انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی وائی ٹرائب نے یہ سروس فراہم کی ہے جس کا اعلان تو مارچ میں کیا گیا تھا تاہم اس کے پیکجز کا آغاز اب ہوا ہے۔کمپنی نے اگست میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس کے ایل ٹی ای ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی نیٹ ورک نے 200 ایم بی پی ایس اسپیڈ کے سنگ میل کو عبور کیا۔اب یہ سروس تمام صارفین کے لیے متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لیے مختلف پیکجز لوگ اپنی پسند کے مطابق منتخب کرسکیں گے۔ ابتدائی طو رپر یہ سروس ملک کے پانچ شہروں میں متعارف کروائی جائے گی جن میں میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور فیصل آباد شامل ہیں۔اس سروس کی جانچ سب سے پہلے اسلام آباد کے ہیڈ آفس میں کی گئی اور اب اسے مکمل طور پر لانچ کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ 4 جی سروس میں ایک سیکنڈ کے اندر 1 جی بی ڈیٹا فراہم کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ اس نئی سروس کے ذریعے صارفین 100 ایم بی پی ایس کا کنکشن حاصل کرسکیں گے جسے 2018 کے آخر تک مزید بہتر کیا جائے گا۔

October 6, 2017

گوگل نےچالیس زبانوں میں فوری ترجمہ کرنے والا ہیڈفو ن متعارف کرنےکااعلان کردیا

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی شہر سان فرانسسکو میں ایک تقریب میں ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ایسا ہیڈفون لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے جو 40 زبانوں میں فوری ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوگل پکسل بڈز’ کے نام سے موسوم یہ ہیڈفون متعارف کرواتے ہوئے سٹیج پر ایک خاتون اور مرد درمیان مکالمہ دکھایا گیا جس میں مرد انگریزی اور خاتون سویڈش زبان بول رہی تھیںگوگل اسسٹنٹ اور ہیڈفون کی قیمت 159 ڈالر مقر ر یہ 22 نومبر کو فروخت کیلئے دستیاب ہوں گے ۔ وائرلیس گوگل پکسل بڈز مرد کی انگریزی فوری طور پر سویڈش زبان میں ترجمہ کر کے خاتون کو سنا رہے تھے، جب کہ خواتین کا سویڈش جواب ترجمہ ہو کر انگریزی میں سنائی دے رہا تھا۔اس کے علاوہ گوگل نے پکسل فون 2 اور پکسل 2 ایکس ایل کا بھی اعلان کیا، جن میں بقول اس کے کسی بھی سمارٹ فون سے بہتر کیمرے نصب ہیں۔ ان فونز کے کناروں کو دبا کر مصنوعی ذہانت والا گوگل اسسٹنٹ لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہیڈفون گوگل ٹرانسلیٹ سروس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے جو پہلے ہی انٹرنیٹ پر خاصی مقبول ہے۔ کوئی صارف ہیڈفون کو دبا کر مثال کے طور پر کہہ سکتا ہے کہ ‘مجھے جرمن زبان میں گفتگو کرنی ہے،’ جس کے بعد صارف انگریزی بولے تو گوگل پکسل فون کے سپیکر سے اس کا فوری جرمن ترجمہ سنائی دے گا۔ گوگل اسسٹنٹ اور ہیڈفون کی قیمت 159 ڈالر رکھی گئی ہے، اور یہ 22 نومبر کو فروخت کے لیے دستیاب ہوں گے۔اس کے علاوہ گوگل نے مصنوعی ذہانت کے حامل سپیکر بھی متعارف کروائے ہیں جن سے مخاطب ہو کر صارف مختلف قسم کی سروسز حاصل کر سکتے ہیں

October 5, 2017

فیس بک کااینڈرائیڈ صارفین کے لیے لائٹ میسنجر متعارف کروانے کااعلان

سانس فرانسسکو جدت ویب ڈیسک ::تفصیلات کے مطابق فیس بک نے آئی فون میں لائٹ میسنجر کی کامیابی کے بعد اینڈرائیڈ صارفین کی شکایت کو دور کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے میسجنر کا لائٹ ورژن متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ماہرین نے مسلسل کام کیا اور ہم نے بلآخر اینڈرائیڈ ورژن تیار کرلیا جو جلد 100 سے زائد ممالک میں متعارف کروایا جائے گا ۔فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کی بہت خوشی ہے کہ لائٹ میسنجر کا اینڈرائیڈ ورژن اس وقت چار ممالک کے صارفین کے لیے دستیاب ہے، ان ممالک میں امریکا، برطانیہ، کنیڈا اور آئرلینڈ شامل ہیں‘ انہوں نے کہا کہ ’لائٹ میسنجر سست انٹرنیٹ میں بھی اچھی سروس پیش کرے گا، اس اقدام کا مقصد صارفین کی شکایت کو دور کرنا اور انہیں سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے دوستوں اور فیملی سے ہروقت رابطے میں رہیںمنتظمین کا کہنا ہے کہ لائٹ ورژن میں توسیع کا اصل مقصد صارفین کو سست انٹرنیٹ میں بھی سروس فراہم کرنا ہے کیونکہ اس وقت اینڈرائیڈ صارفین کو چیٹ کے لیے اچھی رفتار والے نیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو انٹرنیٹ کی سست رفتار میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔فیس بک انتظامیہ کے مطابق لائٹ میسنجر کی تیاری میں بہت سی مشکلات کا سامنا رہا

October 5, 2017

لوڈشیڈنگ کا حل،زیادہ سےزیادہ روئیں اوربجلی بنائیں، ماہرین کی تحقیق

ڈبلن جدت ویب ڈیسک ::سائنس نے کتنی ترقی کرلی ہے اب رونے سے بھی بجلی بن سکتی ہے ماہرین نے انسانی آنسوؤں ، پسینے اور تھوک میں چھپا وہ پروٹین تلاش کرلیا ہے جو بجلی بنانے میں کافی مؤثر ثابت ہوگا۔تفصیلات کے مطابق آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لمیرک کے سائنس دانوں نے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے تحقیق شروع کی تو یہ بات سامنے آئی کہ انسانی آنسو، پسینے اور تھوک میں ایک خاص پروٹین چھپا ہے جو بجلی بنانے کے لیے کارآمد ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسان کے علاوہ اس پروٹین کی وفر مقدار دودھ اور انڈے کی سفیدی میں بھی موجود ہوتی ہے جس میں پیزو الیکٹرک کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔یونیورسٹی آف لمیرک کے ماہرین نے اس تجربے کا عملی مظاہرہ میں کیا جس میں لائسوزائیم قلموں کو پتلے شیشوں کے درمیان دبا کر ان سے بجلی پیدا کی گئی۔واضح رہے کہ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’اپلائیڈ فزکس لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں ماہرین کے مطابق ’لائسوزائیم‘ نامی پروٹین قدرتی ماحول میں جراثیم کی خلوی دیواریں ختم کر کے انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ قدرتی طور پر انسانی حفاظت کا کام کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک ایفیکٹ کے تحت کسی مادے پر دباؤ بڑھانے کے بجلی پیدا ہوتی ہے جس کی تازہ مثال ٹچ اسکرین موبائل، ایل سی ڈیز وغیرہ شامل ہیں، اس مقصد کے لیے کوارٹز کہلانی والی فلمیں استعمال کی جاتی ہیں جن کا شمار غیر نامیاتی مادوں میں ہوتا ہے۔