October 2, 2019

پاکستانی ماہر نے نظامِ شمسی کے خوبصورت سیارے زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ پر ایک اہم نامیاتی سالمہ دریافت کرلیا

کراچی: جدت ویب ڈیسک :: پاکستانی ماہر نے نظامِ شمسی کے خوبصورت سیارے زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ پر ایک اہم نامیاتی سالمہ دریافت کیا ہے۔
یہ اہم دریافت ڈاکٹر نوزیر خواجہ کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کا بیشتر تحقیق کام فری یونیورسٹی برلن میں ہوا ہے۔ انہوں نے زحل کی جانب بھیجنے جانے والے کیسینی خلائی جہاز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اینسیلاڈس، زحل کے بہت سے چاندوں میں درمیانے درجے کا ایک چاند ہے جس کا قطر 500 کلومیٹر ہے۔
ڈاکٹر خواجہ کی زیرِنگرانی امریکی اور جرمن سائنسدانوں نے اینسیلاڈس کی سطح کے نیچے سمندر میں ہائیڈروتھرمل قلب (کور) سے ابلنے والا ایک چھوٹا سالمہ دریافت کیا ہے جو نامیاتی ہے اور حیات کےلیے اہمیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹرنوزیر خواجہ نے کہا: ’میں نے ایک چھوٹا لیکن حل پذیر (سولیوبل) اور تعامل کرنے والا (ری ایکٹیو) مرکب دریافت کیا ہے جو اینسیلاڈس کی گہرائیوں سے پھوٹ رہا ہے۔ یہ مرکب پہلے ہی زمینی سمندروں سے خارج ہونے والے ایسے سالمات سے ملتا جلتا ہے جو سمندری گہرائیوں میں گرم چمنیوں یا تھرمل وینٹس سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔  یہ تحقیق منتھلی نوٹسز آف رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی (ایم این آر اے ایس) کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ امائنو ایسڈ کرہ ارض پر ہر جاندار کےلیے انتہائی ضروری اور بنیادی اجزا تصور کیے جاتے ہیں۔ ایک جانب تو یہ جسم کےلیے ضروری پروٹینز کی تشکیل کرتے ہیں تو دوسری جانب استحالے (میٹابولزم) کو منظم بناتے ہیں، ہارمونوں کی تالیف کرتے ہیں اور دماغ سے پورے بدن تک جانے والے نیوروٹرانسمیٹر کو منظم رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر نوزیر کا کام بہت اہم ہے کیونکہ ان کا دریافت کردہ مرکب آکسیجن اور نائٹروجن سے بنا ہے جسے کیسینی خلائی جہاز کے حساس ترین آلات نے دریافت کیا تھا۔ اس مرکب کو امائنو ایسڈ کا پیش رو کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہمارے نیلے سیارے سے باہر عمیق خلا میں یہ پہلی دریافت ہے۔ اسی بنا پر اینسیلاڈس کو نظامِ شمسی میں حیات کی سادہ ترین شکل کا منبع کہاجاسکتا ہے جس سے یہ چاند ماہرین کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
برف کے ذرے میں لپٹا یہ نامیاتی مرکب اینسیلاڈس کے سمندر کی گہرائی سے نمودار ہوا ہے۔ جس طرح ہمارے قطبین کے سمندر برف سے ڈھکے ہیں عین اسی طرح پورا چاند اینسیلاڈس، برف کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ تاہم اس پر کہیں کہیں دراڑیں موجود ہیں اور سمندر کے اندر ہائیڈروتھرمل سرگرمی سے یہ سالمات باہر نکل کر بہت بلندی تک دور خلا میں پہنچتے رہتے ہیں۔
کرہ ارض کے سمندری فرش پر بے حساب چمنی نما ساختیں موجود ہیں جن سے گرم پانی کے ساتھ ایسے نامیاتی سالمات باہر پھوٹتے رہتے ہیں جو زندگی کےلیے اہم ہیں۔ خیال ہے کہ عین اسی طرح اینسیلاڈس کے سمندر کی گہرائیوں میں بھی گرم چشمے اور چمنیاں ہوسکتی ہیں جہاں سے اہم نامیاتی سالمات باہر آرہے ہیں۔
ایک سال قبل ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے اینسیلاڈس پر ایک اور نامیاتی لیکن بڑا سالمہ دریافت کیا تھا تاہم اس کے مقابلے میں آج کی دریافت غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ مرکب، پانی حل پذیر ہے اور دیگر سالمات کے ساتھ کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) کرسکتا ہے۔ پھر اسے امائنو ایسڈ کا پیش رو بھی کہا گیا ہے۔
انکشافات ابھی باقی ہیں
کیسینی خلائی جہاز ایک عشرے سے زائد عرصے تک زحل اور اس کے چاندوں پر تحقیق کرتا رہا اور سال 2017 میں اسے جان بوجھ کر زحل کی فضا میں دھکیل کر اس کا تصادم کرایا گیا۔ لیکن اس سے ملنے والا ڈیٹا اب بھی نت نئی دریافتوں سے بھرپور ہے جو سائنسی ماہرین کو اگلے کئی برس تک مصروف رکھے گا۔
’اینسیلاڈس روز بروز زمین سے ماورا حیات کا بھرپور امیدوار بن کر سامنے آرہا ہے۔ اسی لیے مزید حیاتی معلومات کےلیے اس کا ڈٰیٹا کھنگالنا ضروری ہے۔ دوسری جانب ایسے خلائی مشن کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے جو کسی طرح اینسیلاڈس تک پہنچ کر اس انوکھی دنیا کو مزید تسخیر کرسکیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وہاں کئی حیرت انگیز انکشافات ہمارے منتظر ہیں،‘ ڈاکٹر نوزیر نے بتایا۔
وزیرآباد میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے پنجاب یونیورسٹی سے خلائی سائنس و فلکیات میں ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی اور جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی سے ارضی علوم میں ڈاکٹریٹ کے بعد اسی جامعہ کے ارضیاتی تحقیقی ادارے سے وابستہ ہوئے۔
اب ان کا شمار زمین سے ماوراء حیات کی تلاش کے اہم ماہرین میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نوزیر کا تحقیقی کام ’’سائنس‘‘ اور ’’نیچر‘‘ سمیت کئی اہم جرائد میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ آپ ناسا کے ساتھ فلکی حیاتیات کے کئی منصوبوں پر بھی کام کررہے ہیں۔

September 16, 2019

اب موبائل چارج کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں ،جانیے

جدت ویب ڈیسک ::امریکی ریاست لاس اینجلس میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایسا نظام بنایا ہے جو رات کے وقت زمین سے نکلنے والی تپش کو بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس بجلی سے ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل کی بیٹری اور ایل ای ڈی لائٹس ہی روشن ہو سکتی ہیں۔ برق بنانے کا مذکورہ نظام یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس کے سائنسدان ڈاکٹر آسوتھ رامن کی سربراہی میں ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔
ڈاکٹر آسوتھ رامن نے جو نیا طریقہ اختیار کیا ہے اسے ریڈی ایٹو اسکائی کولنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے لیے پولی اسٹائرین ڈبے پر ایک سیاہ ڈسک رکھی گئی ہے جس کا رخ آسمان کی جانب ہے اور اس میں المونیم سے بنی ایک رکاوٹ یا بلاک رکھا گیا ہے۔
سیاہ ڈسک زمینی حرارت کو ٹھنڈا کرتی ہے اور المونیم بلاک رات کی ٹھنڈی ہوا کو گرم کرتا ہے۔ اس فرق سے تھرمو الیکٹرک فرق بنتا ہے اور اس سے بجلی کی بڑی مقدار بنتی ہے جس سے ایل ای ڈی بلب یا موبائل فون آسانی سے چارج کیا جاسکتا ہے۔
ابتدائی تجربے میں ایک مربع میٹر سے 25 ملی واٹ بجلی بنتی ہے جو ایک ایل ای ڈی روشن کرنے کے لیے کافی ہے لیکن گرم علاقوں میں بجلی کی پیداوار 20 گنا بڑھ سکتی ہے جہاں درجہ حرارت میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔اس پورے نظام کی قیمت صرف 30 ڈالر ہے اور یہ غریب ممالک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا لیکن اب بھی اس کی کمرشل منزل بہت دور ہے۔
مذکورہ آلہ تھرمو الیکٹرک اثر استعمال کرتے ہوئے بجلی بناتا ہے اور قبل ازیں اسی اصول پر کارخانوں کے بوائلر، حرارتی پلانٹ اور کاروں کے ایگزاسٹ سے نکلنے والی گرمی کو بجلی میں بدلنے والے آلات اب عام استعمال ہو رہے ہیں۔

September 11, 2019

موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں پاکستان نے بھارت کو پچھاڑ دیا

اسلام آباد۔ جدت ویب ڈیسک ::: پاکستان نے جولائی کے مہینے میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اپنے پڑوسی ملک بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اوکلا کے اسپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس کے تازہ ترین ایڈیشن کے مطابق پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے جاری کی گئی درجہ بندی میں 116ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ پوزیشن پاکستان کو ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 13.55 میگابٹس فی سیکنڈ ہونے پر ملی ہے۔
بھارت اس درجہ بندی میں پاکستان سے کہیں پیچھے 130ویں پوزیشن پر ہے اور اسکی ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 10.63 میگابٹس فی سیکنڈ پائی گئی۔
اوکلا کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان میں اپ لوڈنگ کی اوسط رفتار 9.93 میگابٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان دو درجے جبکہ بھارت چار درجے نیچے آیا ہے۔
موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے جنوبی کوریا 97.44 میگا بیٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ سرفہرست ہے، آسٹریلیا 63.34 میگابٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ دوسرے جبکہ قطر 61.72 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔
61.24 کی رفتار کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا چوتھا اور ناروے کا 60.90 میگا بٹس فی سیکنڈ رفتار کے باعث پانچواں نمبر ہے۔
اوکلا کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں کینیڈا کا چھٹا، نیدرلینڈز کا ساتواں، سوئٹزرلینڈ کا آٹھواں، سنگاپور اور مالٹا کا بالترتیب نواں اور دسواں نمبر ہے۔

Image result for pakistan beat india in fast internet mobile

September 11, 2019

ایپل نےجدید تین کیمروں پر مشتمل آئی فون صارفین کے لئے پیش کر دیئے

جدت ویب ڈیسک ::نئے موبائل پیش کرنے کا اعلان ایپل کے سب سے بڑے مارکیٹنگ ایونٹ کے دوران کیا گیا جہاں کمپنی نے اپنی نت نئی مصنوعات بھی پیش کیں۔
ایپل کا کہنا ہے کہ ان کا نیا موبائل اسمارٹ فون 11 دو الٹرا وائڈ اینگل لینز بیک کیمروں کے ساتھ دستیاب ہے جس میں نیکسٹ جنریشن مائیکروچِپ اے 13 چسپا کی گئی ہے۔
اس موبائل کی قیمت 699 ڈالر سے شروع ہوتی ہے جبکہ گزشتہ سال پیش کیے گئے آئی فون کے نئے موبائل کی قیمت 749 ڈالر تھی۔
مارکیٹ میں پیش کئے گئے موبائلز میں آئی فون 11 پرو سب سے مہنگا موبائل ہے جس کی قیمت 999 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔
اس میں تین وائڈ اینگل ٹیلی فوٹو بیک کیمرے موجود ہیں جبکہ اس کی اسکرین کا سائز بھی دوسرے ماڈلز سے بڑا ہے۔
ایپل ٹی وی پلس
ایپل اسٹریمنگ ٹیلی ویژن کے میدان میں بھی کود پڑا ہے اور رواں سال نومبر کے مہینے میں ایپل ٹی وی پلس کی سروس میں مہیا کرنے جا رہا ہے جو چین کے علاوہ سو ممالک میں دستیاب ہو گی۔
ایپل کی نئی مصنوعات جن میں آئی فون، آئی پیڈ اور میک لینے والے صارفین کو اسٹریمنگ ٹی وی کی سہولت ایک سال کے لئے مفت فراہم کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ ایپل کی نئی اسٹریمنگ سروس مارکیٹ میں موجود نیٹ فلیکس اور دیگر اسٹریمنگ سروس سے قدرے سستی ہو گی۔

Image result for apple iphone 3 cameras

September 5, 2019

ایک بار پھرفیس بک سے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا چوری

جدت ویب ڈیسک ::سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک کے ڈیٹا بیس سے ایک بار پھر لاکھوں افراد کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی فیس بُک کے ڈیٹا چوری کئے جانے کی خبر منظرعام پر آچکی ہیں،سیکیورٹی ریسرچر سنیام جین نے انکشاف کیا ہے کہ نامعلوم ہیکرز نے امریکہ، برطانیہ، ویتنام سمیت دیگر ممالک کے تقریباً 419 ملین صارفین کے فون نمبرز، آئی ڈی، شناخت و نام اور صنف کے بارے میں فیس بک پر موجود معلومات چرائی ہیں۔
ان کے مطابق فیس بک ابھی تک ڈیٹا چرانے والے ہیکرز کا کھوج لگانے میں ناکام ہوا ہے۔ ریسرچر سنیام جین کے مطابق ہیکرز نے 133 ملین امریکی، 18 ملین برطانوی اور 50 ملین ویتنامی اور دیگر ممالک کے فیس بک صارفین کا ڈیٹا چرایا ہے۔
ہیکرز نے یہ ڈیٹا فیس بک کے ایک بے نقاب سرور سے چرایا ہے جو پاس ورڈ سے محفوظ نہیں بنایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ہیکرز نے ڈیٹا بیس سے کئی مشہور شخصیات کے فون نمبرز اور دیگر معلومات بھی چوری کی ہیں۔
فیس کے ترجمان کے مطابق صارفین کے حوالے سے چوری کیا گیا ڈیٹا پرانا دکھائی دیتا ہے جو لوگوں کے فون نمبر استعمال کرکے دوسروں کو تلاش کرنے کی صلاحیت کو روکنے کے لیے فیس بُک میں گزشتہ سال کی گئی تبدیلیوں سے پہلے ٖحاصل کیاگیا ہے۔ترجمان کے مطابق اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ اس حوالے سے صارفین کے تازہ ترین ڈیٹا کے بارے میں کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔
فیس بک کے مطابق صارفین کے ڈیٹا چوری کے سدباب کے بنیادی مسٔلہ کو 2018 میں ہی حل کیا جاچکا ہے اور تازہ ترین ڈیٹا کو ہیکرز کے حملے سے محٖفوظ بنایا گیا ہے۔
فیس بک کے مطابق متاثرہ صارفین کی تعداد 419 ملین کا نصف ہے کیونکہ ہیکرز کی جانب سے معلومات کو دہرا (duplicate) کرکے پیش کیا گیا ہے۔
فیس بک کے مطابق گزشتہ سال اپریل میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد وہ صارفین کے ڈیٹا کے کھرچنے کے خطرے کو کم کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔

September 3, 2019

فیس بک کا پوسٹوں پر سے لائک کا آپشن ختم کرنے پر غور

جدت ویب ڈیسک ::سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے صارفین کی طرف سے شیٔر کی گئی پوسٹوں پر سے لائک کا اختیار (option) ختم کرنے پر غور کرنا شروع کر دیاہے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ پوسٹوں پر سے لائک کا آپشن ختم کرنے کا مقصد صارفین کی زندگیوں میں ذہنی سکون اور قلبی اطمینان پیدا کرنا ہے۔
فیس بک ابتدائی طور پر اس آپشن کو اپنے اینڈرائیڈ سسٹم میں متعارف کرانے پر غور کررہا ہے، تاہم فیس بک صارفین کے لیے اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
فیس بک کے زیر ملکیت انسٹاگرام پہلے ہی 7 ملکوں میں پوسٹوں پر سے لائک کے آپشن کو ختم کر چکی ہے۔
فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرک کا کہنا ہے وہ چاہتے ہیں کہ صارفین پوسٹوں پر لائک پر توجہ دینے کے بجائے دوسرے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
اگر فیس بک انسٹا گرام کی طرح یہ نیا فیچر متعارف کراتی ہے تو صارفین صرف اپنے پوسٹوں پر اور نہ کہ دوسرے صارفین کی پوسٹوں پر کئے گئے لائک دیکھ پائینگے۔
فیس بک کے مطابق اس نئے فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد لوگوں میں دوسرے صارفین کی شیٔر کی گئی پوسٹوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے منفی احساسات، بے چینی اور حسد کو کم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نئے فیچر سے اگر صارفین کے منفی احساسات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے تو وہ امید رکھتے ہیں کہ صارفین پوسٹوں کے شیٔر اور لائک پر دوسروں سے جگھڑنے اور پوسٹوں کو مٹانے سے اجتناب کرینگے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ نئے فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جھگڑے سے پیدا ہونے والی ذہنی بیماریوں، بے چینی اور ڈپریشن جیسی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
فیس بک کے مطابق پوسٹوں پر مثبت جوابات سے صارفین میں مثبت احساسات بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور لوگ اپنی پوسٹوں کے حوالے سے دوستوں اور ہم خیال لوگوں سے حمایت بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔

August 27, 2019

اسمارٹ فونز بنانے والی دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’’ ایپل ‘‘ مبینہ طور پر صارفین کی نجی نوعیت کی ریکارڈنگ سننےکا انکشاف

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک :: اس دور میں عوام کی کوئی بھی بات یا حرکت کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ،حال میں ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسمارٹ فونز بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’’ ایپل ‘‘ مبینہ طور پر صارفین کی نجی نوعیت کی ریکارڈنگ سننے میں ملوث ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی نے ایک معاہدے کے تحت ایسے افراد کو ملازمت دی جن کا کام ’سری‘ کے ذریعے ایپل صارفین کی ریکارڈنگ کو سننا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن صارفین کی نجی معلومات افشا کی گئیں ان کا تعلق آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ سے ہے اور ایپل نے اس کے لئے چند ممبران پر مشتمل ٹیم کو یہ کام سونپا تھا۔
دوسری جانب ایپل نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ صارفین کی ریکارڈنگ محض سری کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے سنا کرتے تھے تاہم کمپنی نے یہ بات واضح نہیں کہ کیسے ان کے ملازمین صارف کی مرضی کے بغیر ان کی ریکارڈنگ کو سنتے رہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایپل نے اپنے ’فیس ٹائم سافٹ ویئر‘ میں موجود خرابی کا اعتراف کیا تھا جس کے باعث بعض اوقات کال وصول کرنے والے کے آئی فون سے اس کی لاعلمی میں ویڈیو بھی چلی جاتی ہے۔
اس حوالے سے ایپل کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کی خرابی دور کرنے کے لیے اپڈیٹ تیار کرلی گئی ہے جو بہت جلد صارفین تک پہنچ جائے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق اس مسئلے کی سب سے پہلے نشاندہی ’نائن ٹو فائیو میک بلاگ‘ نامی ویب سائٹ نے کی تھی۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت درپیش ہوتی ہے جب دونوں صارفین ایپل کا 12.1 یا اس سے نیا آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ نائن ٹو فائیو میک بلاگ کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب کال پر دو صارفین موجود ہوتے ہیں اور موجود خرابی کے سبب گروپ میں بات کرنے والا فنکشن آن ہو جاتا ہے۔
فیس ٹائم سافٹ ویئر میں موجود خرابی کال نہ اٹھانے کی صورت میں بھی کال وصول کرنے والے کا مائک آن کردیتی ہے اور صورتحال اس وقت اور پیچیدہ ہوجاتی ہے جب متعدد گھنٹوں کے بعد کال ڈراپ ہونے تک دوسری طرف سے آواز آتی رہتی ہے