May 10, 2020

ویڈیو کانفرنسنگ کی ایپلیکیشن زوم کے ڈھائی لاکھ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک ہوگیا

بیجنگ ویب ڈیسک ::: ویڈیو کانفرنسنگ کی ایپلیکیشن زوم کے ڈھائی لاکھ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک ہوگیا جسے ہیکرز نے ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کردیا۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائبر کرملنز نے زوم کے سیکیورٹی نقائص کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس تک نہ صرف رسائی حاصل کی بلکہ اُن کی ذاتی معلومات کو اب ڈارک ویب پر فروخت کیا جارہا ہے۔
کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں زوم ایپ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا، ماہرین کے مطابق ایک کروڑ کے قریب صارفین گھر سے کام کرنے کے دوران اسی ایپ کے ذریعے ویڈیو کانفرنسنگ کرتے ہیں اور یومیہ 20 کروڑ صارفین اسے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زوم ایپ چین سے تعلق رکھنے والے ایرک یوآن کی زیر ملکیت کمپنی ہے جس کے حصص کی مالیت 4 ارب 60 کروڑ یورو کے قریب بنتی ہے۔
ہیکرز نے زوم کی ویڈیو کانفرنس کالز کا ڈیٹا بھی ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیا اور خریدار کو پیش کش کی ہے کہ وہ صارفین کے آئی اور پاس ورڈ بھی خرید سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے جن اکاؤنٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا اُن میں بینکس، فنانس کمپنیاں اور یونیورسٹیز کے آئی ڈیز شامل ہیں۔

سائبر سیکیورٹی پر نظر رکھنے والی کمپنی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے اکاؤنٹ نہایت ہی کم قیمت میں فروخت کے لیے پیش کیا، ایک آئی ڈی کی قیمت 1پینی مقرر کی گئی ہے۔

Govt warns its officials about the Zoom app

 

May 9, 2020

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین کا سحر انگیز منظر ،دیکھئے

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک ::: زمین سے دور خلا میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن) سے زمین کی ایک نہایت سحر انگیز ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے جسے دیکھ کر آپ کی سانسیں رک سکتی ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری کردہ ایک خوبصورت ویڈیو میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین کا سحر انگیز منظر دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں ایک خلا باز اسٹیشن سے باہر کچھ تکنیکی کاموں میں مصروف ہے جبکہ اس کے عین نیچے زمین ایک محدود دائرے میں موجود نظر آرہی ہے۔
زمین کی فضا پر نرم روئی جیسے بادل اور کہیں نیلگوں سمندر نظر آرہا ہے، ناسا کے مطابق یہ زمین کا وہ منظر ہے جو ہم میں سے بہت سے لوگ کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔
خیال رہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن) زمین کے محور سے 408 کلو میٹر باہر زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے، یہ اسٹیشن خلا میں تحقیقی مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ناسا جلد اسے تجارتی مقاصد کے لیے بھی کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے لیے ناسا اور معروف ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز کے درمیان ایک پروجیکٹ زیر غور ہے جس کے تحت ٹام کروز اپنی ایک فلم کی شوٹنگ خلائی اسٹیشن پر انجام دیں گے۔

May 7, 2020

فیس بک کی ایک اور ایپ, مفت ویب براؤزنگ کی سہولت فراہم کرے گی

کراچی جدت ویب ڈیسک ::فیس بک کی ایک اور ایپ مفت ویب براؤزنگ کی سہولت فراہم کرے گی
کیا آپ کو فری بیسک سن کر کچھ یاد آتا ہے؟ فیس بک کا وہ پروگرام جس کا مقصد لوگوں کو پہلی بار انٹرنیٹ استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنا تھا اور وہ بھی مفت۔
اب اس سے ہی ملتا جلتا منصوبہ ایک ایپ ڈسکور کی شکل میں فیس بک نے متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے کسی بھی ویب سائٹ پر ‘مفت’ وزٹ کیا جاسکے گا۔
فیس بک کی جانب سے اس ایپ کو لاطینی امریکی ملک پیرو میں آزمایا جارہا ہے جو ان 55 ممالک میں سے ایک ہے جہاں فری بیسک پروگرام کام کررہا ہے۔
فیس بک نے اس مقصد کے لیے مقامی ٹیلی کام کمپنیوں سے شراکت داری کی ہوئی ہے اور کسی بھی موبائل ویب سائٹ پر مخصوص وقت تک براؤزنگ مفت ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک انٹرنیٹ پہنچ سکے۔
یہ ٹیلی کام کمپنیاں ڈسکور ایپ استعمال کرنے والے صارفین کو روزانہ ایک مخصوص تعداد میں انٹرنیٹ ڈیٹا فراہم کریں گے جس کے ذریعے وہ کسی بھی ویب سائٹ پر براؤز کرسکیں گے۔ اس فری ڈیٹا میں ویڈیو، آڈیو اور دیگر زیادہ ڈیٹا خرچ کرنے والے ٹریفک کی سپورٹ شامل نہیں ہوگی۔ ڈسکور کے پراڈکٹ منیجر یوآو زیوی نے بتایا کہ ایپ سے لوگوں کو انٹرنیٹ سے کنکٹ کرنے میں مدد ملے گی وہ بھی اس وقت جب ان کا ڈیٹا بیلنس ختم ہوچکا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں متعدد صارفین اب تک انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں یا کچھ وقت بعد ہی انٹرنیٹ سے دور ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کا ڈیٹا بیلنس ختم ہوجاتا ہے، یہ ایپ اس خلا کو بھرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اس سے قبل فیس بک کو فری بیسک پروگرام میں مخصوص ویب سائٹس کا استعمال مکمل مفت تھا مگر پرائیویسی ایڈووکیٹس کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی تھی اور بھارت میں 2016 میں اس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اب فیس بک کی جانب سے اس پروگرام کو نئے طریقے سے متعارف کرایا جارہا ہے اور ہر ویب سائٹ کے ساتھ یکساں سلوک کیا جارہا ہے، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈسکور کا براؤزنگ ڈیٹا ٹارگٹ اشتہارات یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اسے استعمال کرنے کے لیے صارف کو فیس بک اکاؤنٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی اور پیرو کے بعد اسے تھائی لینڈ، فلپائن اور عراق میں آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرایا جارہا ہے۔
امکان ہے کہ جلد پاکستان میں بھی اسے پیش کردیا جائے گا جہاں اب بھی فری بیسک پروگرام کسی شکل میں موجود ہے۔

Facebook Discover App Unveiled as Part of Free Basics Programme ...

April 30, 2020

نئے فوول کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ

ویب ڈیسک  ::نئے فوول کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور سب سے زیادہ فائدہ فیس بک کی ایپس کو ہوا ہے۔

فیس بک کی سہ ماہی رپورٹ جاری کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا ‘پہلی بار ہر ماہ 3 ارب سے زیادہ افراد فیس بک انسٹاگرام، واٹس ایپ میسنجر استعملا کررہے ہیں، جس میں صرف فیس بک کے 2 ارب 60 کروڑ سے زائد افراد ہیں جبکہ 2 ارب 30 کروڑ سے زائد افراد روزانہ ہماری کسی ایک سروس کو استعمال کررہے ہیں’۔

درحقیقت 3 ارب کی تعداد بہت بڑی ہے کیونکہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے مجموعی صارفین کی تعداد 4 ارب 70 کروٖڑ کے قریب ہے۔

کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ممالک میں فیس بک کی سروسز میں میسجنگ، وائس اور آڈیو کالنگ کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔‎

مارک زکربرگ کے مطابق ‘مثال کے طور پر اٹلی میں ہماری ایپس پر گزارے جانے والے وقت میں 70 فیصد اضافہ ہوا، انسٹاگرام اور فیس بک لائیو ویوز ایک ہفتے میں دوگنا بڑھ گئے، جبکہ گروپ ویڈیو کالنگ کی شرح میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوچکا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے سروسز کو ہموار طریقے سے چلانے کے لیے کام کیا جارہا ہے اور ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہماری ٹیمیں اس وقت گھروں سے کام کررہی ہیں۔

فیس بک نے حال ہی میں مینسجر رومز نامی ویڈیو فیچر متعارف کرایا تھا جس کے ذریعے 50 افراد ویڈیو کانفرنس کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ اس کے لیے فیس بک اکاؤنٹ کی بھی ضرورت نہیں، اسی طرح واٹس ایپ نے ویڈیو اور آڈیو کال کی حد کو 4 سے بڑھا کر 8 افراد کردیا۔اے ایف پی فائل فوٹو

دوسری جانب اس وبا کے نتیجے میں ٹوئٹر صارفین کی تعداد می ںبھی اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس سوشل میڈیا سائٹ کے روزانہ صارفین کی تعداد 16 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 13 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

کمپنی کے سی ای او جیک ڈورسے نے اپنے بیان میں کہا ‘اس مشکل وقت میں ٹوئٹر پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے، ہم لوگوں کو معلومات کی ترسیل میں مدد کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک منفرد ذریعہ فراہم کررہے ہیں تاکہ وہ اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کی مدد یا تفریح فراہم کرسکیں’۔

I just shared our quarterly community update and business results. Right now, we're focused on three major areas of the…

Posted by Mark Zuckerberg on Wednesday, April 29, 2020

April 30, 2020

مخصوص صارفین گوگل میٹ ’ویڈیو کانفرنسنگ‘ ایپ کو یکم مئی سے بالکل مفت استعمال کرسکیں گے

نیویارک ۔جدت ویب ڈیسک ::: انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے اپنی مقبول ترین ایپ کو صارفین کے لیے بالکل مفت فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔
گوگل کی جانب سے جاری ایک بلاگ میں کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ مئی سے گوگل میٹ ’ویڈیو کانفرنسنگ‘ ایپ کو مخصوص صارفین یکم مئی سے بالکل مفت استعمال کرسکیں گے جس کے لیے انہیں صرف جی میل کے اکاؤنٹ کی ضرورت ہوگی۔
اس سے قبل ایپ استعمال کرنے کے لیے صارف کو ماہانہ 6 ڈالر فیس ادا کرنا پڑتی تھی مگر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد بڑھتی ہوئی ویڈیو کانفرنسنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے گوگل نے سروس کو بالکل مفت کردیا۔
بلاگ میں بتایا گیا ہے کہ گوگل صارفین ویب سائٹ، اینڈرائیڈ یا آئی او ایس اسٹور سے ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ میٹ ایپ کےذریعے 100 سے زائد صارفین بیک وقت ویڈیو کانفرنس پر بات کرسکیں گے۔
گوگل کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں صارفین کو میٹ ایپلیکیشن بالکل مفت فراہم کی جائے گی اور انہیں بذریعہ ای میل مطلع کیا جائے گا کہ وہ اپنا آئی ڈی بنا لیں۔
دوسری جانب گوگل نے یہ بھی اعلان کیا کہ فیس ادا کرنے والے صارفین کے لیے سروس تیس ستمبر تک بالکل مفت کردی گئی ہے، پریمیئم سروس استعمال کرنے والے صارفین بیک وقت 250 افراد کو ویڈیو کانفرنس کال میں شامل کرسکتے ہیں۔
گوگل کے مطابق مفت اکاؤنٹ استعمال کرنے والے صارفین 60 منٹ تک ایپ استعمال کرسکیں گے، اس سروس کا اطلاق 30 ستمبر کے بعد ہی کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کے بعد مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایات جاری کیں جس کے بعد زوم ایپ کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے، علاوہ ازیں مختلف تعلیمی ادارے بھی اسی ایپ کے ذریعے طالب علموں کی آن لائن کلاسز کا انعقاد کررہے ہیں۔

April 29, 2020

صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرنے پر فیس بک نے اسرائیلی کمپنی پر مقدمہ کردیا۔۔

۔ویب ڈیسک :: جدید دور کی اسمارٹ وار میں اگرچہ گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک جیسی ویب سائٹس کے خلاف صارفین کی جاسوسی کرنے کے خلاف آئے دن الزامات لگانے سمیت ان کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے جاتے ہیں۔
تاہم اب پہلی بار فیس بک انشورنس نے اپنی میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے صارفین کے اکاؤنٹ کو ہیک کرنے یا ان تک رسائی حاصل کرنے کے الزام میں اسرائیلی کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
جی ہاں، فیس بک نے امریکی عدالت میں ایک اسرائیلی ٹیکنالوجی فرم کے خلاف واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیک کرنے یا ان تک رسائی حاصل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کردیا۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق فیس بک انشورنس نے اسرائیلی سافٹ ویئر ٹیکنالوجی فرم این ایس او گروپ کے خلاف ریاست کیلی فورنیا کے شہر اوکلینڈ کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔
گزشتہ ہفتے فیس بک انشورنس کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ اسرائیلی سافٹ وریئر فرم این ایس او نے امریکا میں اپنے دفاتر اور امریکی کمپیوٹر سرورز کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم 1400 واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا یا ان تک غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کی۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ادارے نے متعدد ممالک کے صحافیوں، قانون دان، سیاستدانوں، سماجی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات کے موبائل فونز تک رسائی حاصل کی۔
فیس بک انشورنس کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کے لیے نہ صرف امریکی سرزمین استعمال کی بلکہ اسرائیلی کمپنی نے امریکی کمپیوٹرز سرور استعمال کرنے سمیت امریکی ملازمین بھی استعمال کیے۔
فیس بک نے عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں بتایا کہ اسرائیلی فرم نے غیر قانونی طور پر واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس تک نہ صرف رسائی حاصل کی بلکہ اسرائیلی ادارے نے ان صارفین کو دھمکی آمیز پیغامات اور فون کالز بھی کیے۔
تاہم اسرائیلی فرم نے فیس بک انشورنس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف حکومتوں کی اپنی خدمات فراہم کیں اور انہیں نہیں معلوم کہ حکومتوں نے کن کن افراد کو نشانہ بنایا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی فرم نے جن 1400 واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا یا ان تک رسائی حاصل کی ان کا تعلق کن کن ممالک سے تھا اور وہ اسرائیلی فرم نے یہ کام کس ملک کی حکومت کی درخواست پر کیا۔
اسرائیلی فرم کی انتظامیہ نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا کہ وہ حکومتوں کو خدمات کی فراہمی کو ہیکنگ نہیں مانتے بلکہ وہ تو حکومتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور تخریب کاری کی کوششوں کو ناکام بنا کر دنیا میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

NSO Group hits back at Facebook - Mobile World Live

April 27, 2020

انٹرنیٹ کی دُنیا ۔وائی فائی میں 20 سال کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ

ویب ڈیسک ::کیا اپنے گھر کے وائی فائی انٹرنیٹ کی اسپیڈ سے بیزار رہتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس وائرلیس کمیونیکشن میں 20 سال بعد سب سے بڑی تبدیلی آرہی ہے۔
وائی فائی بینڈ 1989 میں سامنے آئے تھے اور اس وقت سے اب تک اس کے اسپیکٹرم یا فریکوئنسی بینڈ میں 4 گنا اضافہ ہوچکا ہے مگر اب بھی یہ کافی نہیں لگتا۔
یہی وجہ ہے کہ رواں ہفتے امریکا کے فیڈرل کمیونیکشن کمیشن (ایف سی سی) نے وائی فائی 6 ای کی منظوری دی ہے جو کہ 6 گیگاہرٹز فریکوئنسی بینڈ سے اوپن ہوگا جبکہ 1200 میگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ ریلیز کرے گا۔آسان الفاظ میں یہ نیا وائی فائی پروٹوکول موجودہ وائی فائی سے ڈھائی گنا زیادہ تیزرفتار ہوگا۔
گزشتہ سال ستمبر میں وائی فائی 6 کی منظوری دی گئی تھی اور اب اس کو مزید بہتر کیا جارہا ہے جو اسی وائی فائی کا نیا ورژن ہے جو آپ برسوں سے استعمال کررہے ہیں مگر یہ زیادہ تیز اور زیادہ افادیت والا ورژن ہے، جیسے موبائل انٹرنیٹ جو 3 جی سے 4 جی پر گیا اور اب 5 جی کا عہد شروع ہورہا ہے، وائی فائی ٹیکنالوجی میں گزرے برسوں کے دوران بتدریج بہتری آئی ہے۔
چونکہ آج کل 4 کے فلمیں اسٹریم کی جاتی ہیں بلکہ پوری پوری ویڈیو گیمز بھی انٹرنیٹ پر چلتی ہیں تو وائی فائی میں بہتری کوئی حیرانی کی بات نہیں۔
ویسے یہ نئی ٹیکنالوجی رواں سال کے آخر تک دستیاب ہوگی کیونکہ ابھی تو وائی فائئی سکس سپورٹ کرنے والی ڈیوائسز ہی زیادہ نہیں۔
مگر دونوں میں فرق واضح ہے کہ وائی فائی 6 کے لیے جو روٹرز استعمال ہوتے ہیں ان میں 2.4 گیگا ہرٹز سے 5 گیگا ہرٹز بینڈز استعمال ہوتے ہیں جبکہ 6 ای روٹرز میں آغاز ہی 6 گیگاہرٹز سے ہوگا جس سے وائی فائی ڈیوائسز کو تیز ترین اور کلیئر کنکشن مل سکے گا،
مگر اس کا مطلب ہے کہ آپ کو ایسی ڈیوائسز بھی درکار ہوں گی جن میں 6 گیگا ہرٹز بینڈز کام کرسکے اور رواں سال کی آخری سہ ماہی میں کمپیوٹر اور دیگر ڈیوائسز میں یہ سپورٹ فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وائی فائی 6 ای صارفین کو انٹرنیٹ کی بہت، بہت تیز رفتار فراہم کرے گا اورامکان ہے کہ اس نئے ورژن میں اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ موجودہ وائی فائی سے سیکڑوں گنا تیز ہوگی۔ یعنی ایچ ڈی فلمیں بھی چند سیکنڈوں یا منٹ میں ڈاؤن لوڈ ہوسکیں گی جبکہ زیادہ ہجوم والی جگہوں یعنی ایسے مقامات جہاں ایک نیٹ ورک سے متعدد ڈیوائسز کنکٹ ہوتی ہیں، پر بھی وائی فائی 6 ای زیادہ بہتر کارکردگی دکھائے گا۔
اس وقت بیشتر ہوم نیٹ ورکس اتنی رفتار کو سپورٹ ہی نہیں کرتے، یعنی اگر وائی فائی سکس ای والی ڈیوائس خرید لیتے ہیں مگر ہوم انٹرنیٹ پیکج محض 200 ایم بی پی ایس پر کام کرتا ہو، تو یہ کچھ ایسا ہی ہوگا جیسے فائیو جی فون کو 4 جی نیٹ ورک پر استعمال کیا جائے گا، یعنی کام کرے گا اور مایوسی بھی نہیں ہوگی، مگر یہ ماضی کے تجربے سے کچھ زیادہ مختلف بھی نہیں ہوگا۔ درحقیقت وائی فائی 6 ای کے مکمل پھیلاؤ میں ابھی کچھ عرصہ لگے گا کیونکہ اس کے لیے انفراسٹرکچر درکار ہے مگر یہ ضرور ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

5G - Wikipedia

April 26, 2020

خلائی دوربین ہبل کو زمین پر چکر لگاتے 30سال مکمل . کائنات کی خوبصورتی اور اس کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ویب ڈیسک ::خلائی دوربین ہبل کو زمین پر چکر لگاتے 30سال مکمل ہوگئے، ناسا نے ہبل سے لی گئی تصاویر کی جھلکیاں جاری کردیں ، اس خلائی دوربین نے کائنات کی خوبصورتی اور اس کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خلائی دوربین ہبل 30 سال کی ہوگئی ، جی ہاں  یہ 30 سال پہلے کی بات ہے جب ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں چھوڑا گیا۔

یہ زمین سے ایک لاکھ 63 ہزار نوری سال کے فاصلے پر خلا کے اس حصے میں ہے جہاں ستارے بنتے ہیں۔ماہرین فلکیات نے اس کو اس کی زیر سمندر نظاروں سے مشابہت کی وجہ سے کوسمک ریف یعنی کائناتی چٹان کا نام دیا ہے۔

سال 1990 میں خلا میں چھوڑے جانے کے وقت دھندلی تصاویر بنانے کی وجہ سے اسے وہ قدر و منزلت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن بعد میں ہبل کی مرمت کی گئی اور اس کو اور جدید بنا دیا گیا جو تصاویر ہبل نے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کی بنائی ہیں ان کی وجہ سے خلا کے بارے میں انسان کا تصور بدل گیا ہے۔

ناسا کے مطابق اس کے لیے پیسہ اس وقت تک فراہم کیا جاتا رہے گا جب تک اس کی افادیت اپنی جگہ موجود رہے گی۔گذشتہ سال اس ٹیلی سکوپ سے حاصل کی گئی تصاویر اور ڈیٹا کی بنیاد پر ایک ہزار سے زیادہ سائنسی مقالے شائع ہوئے تھے۔

سال 1990 میں اس دوربین کے خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدانوں کو یہ علم نہیں تھا کہ ہماری کائنات 10 ارب سال پرانی ہے یا 20 ارب سال پرانی ہے۔ اور اب ہم یہ جانتے ہیں کہ کائنات کی عمر 13 اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا ہے کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اسی دوربین کی بنیاد پر یہ ٹھوس ثبوت بھی ملا تھا کہ کہکشاؤں کے مرکز میں انتہائی بڑے بلیک ہولز موجود ہیں۔Launch expected today: NASA′s space telescope TESS on a search for ...

Hubble Marks 30 Years in Space With Tapestry of Blazing Starbirth ...

NASA May Have Fixed Hubble By Shaking It and Turning It Off and On ...