January 8, 2020

واٹس ایپ نے آئندہ ماہ سے مزید اسمارٹ فونز پر سروس بند کرنے کا اعلان کردیا۔

جدت ویب ڈیسک ::سان فرانسسکو: پیغام رسانی کی سب سے بڑی موبائل اپیلیکیشن واٹس ایپ نے آئندہ ماہ سے مزید اسمارٹ فونز پر سروس بند کرنے کا اعلان کردیا۔
واٹس ایپ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال جنوری کی 31 تاریخ تک اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کے پرانے آپریٹنگ پر سروس دستیاب ہوگی اور یکم فروری 2020 سے صارفین ایپلیکیشن استعمال نہیں کرسکیں گے۔
کمپنی کے مطابق وہ صارفین جو اینڈرائیڈ 2.3.7 یا اُس سے پرانا ورژن استعمال کررہے ہیں وہ سروس استعمال نہیں کرسکیں گے اسی طرح آئی فون کے وہ صارفین جو آئی او ایس 8 یا اُس سے پرانا آپریٹنگ سسٹم استعمال کررہے ہیں وہ بھی ایپ کو استعمال نہیں کرسکیں گے۔
آئی فون کے وہ صارفین جو 4 ایس ماڈل استعمال کررہے ہیں اُن کے موبائل پر سروس قابل استعمال ہوگی کیونکہ اس کا آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ ہوکر آئی او ایس 9 ہوگیا ہے۔
آپریٹنگ سسٹم چیک کرنے کا طریقہ
اینڈرائیڈاور آئی او ایس استعمال کرنے والے صارفین باآسانی اپنے آپریٹنگ سسٹم کا معلوم کرسکتے ہیں۔
اینڈرائیڈ صارفین
اینڈرائیڈ صارفین سیٹنگز میں جاکر وہاں موجود About Phone کے آپشن پر کلک کریں تو سافٹ ویئر سے متعلق معلومات سامنے آجائیں گی۔
آئی او ایس
اسی طرح آئی او ایس استعمال کرنے والے صارفین سیٹنگز پر کلک کریں گے تو انہیں جرنل کا آپشن نظر آئے گا، اس پر کلک کر کے آپریٹنگ سسٹم کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔
ونڈوز آپریٹنگ سسٹم
اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین کو تو واٹس ایپ نے یکم فروری تک مہلت دے دی جبکہ ونڈوز اسمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین اس معاملے میں بدقسمت ہیں کیونکہ اُن کے آپریٹنگ سسٹم پر سروس 31 دسمبر کے بعد سے مکمل بند ہے۔

January 8, 2020

ٹک ٹاک سیکیورٹی ، لاکھوں صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ

سان فرانسکو جدت ویب ڈیسک ::: دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپ ٹک ٹاک کے سیکیورٹی نقائص سامنے آگئے جس کے باعث اب ہیکرز ناصرف صارفین کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ذاتی اور حساس معلومات بھی افشا کرسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مختصر ویڈیو شیئر کرنے والی موبائل ایپ لیکشن کے صارفین تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ٹک ٹاک 150 سے زائد ممالک میں استعمالی کی جاتی ہے جبکہ اس کے صارفین کی تعداد 1 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جس طرح صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے بالکل اسی طرح اس کے سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین نے حال ہی میں سیکیورٹی کمزوریوں کا انکشاف کیا ہے جس کے ذریعے ہیکرز عام صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
ٹک ٹاک نے بڑی پابندی عائد کردی
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کی سیکیورٹی نقائص سامنے آنے کے بعد صارفین کی ذاتی اور حساس معلومات محفوظ نہیں ہیں۔ البتہ انتظامیہ نے ایپ لیکشن دوبارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ہیکرز کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جاسکیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک ایپ لیکشن کے موبائل ایس ایم ایس سروز کے ذریعے صارفین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ چینی ایپ ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے گمراہ کن معلومات کے خلاف بڑی پابندی عائد کردی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز جس سے عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے وہ ٹک ٹاک سے ہٹا دی جائیں گی۔

January 7, 2020

اچھی خبر ۔پاکستان میں 5 جی کی آزمائش شروع

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :::پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی( پی ٹی اے) کے مطابق 2 موبائل آپریٹرز کو 5 جی کے نان کمرشل ٹرائل کی اجازت دی ہے جس کا دورانیہ 6 مہینے ہے۔ پاکستانیوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ سروس 5جی کی آزمائش شروع کردی گئی ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ زونگ اور موبی لنک کو6ماہ کیلئے5جی ٹیسٹنگ کی اجازت ہوگئی جب کہ یہ اجازت صرف غیر تجارتی بنیادوں پرآزمائش تک ہی محدود رہے گی۔
دوسری جانب پی ٹی اے نے ملک میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
کمیٹی کی سربراہی پی ٹی اے کا رکن کرے گا جب کہ چاروں ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے اور دیگر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 22 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اور 5 جی کی دستیابی سے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

December 24, 2019

لوگ اپنے خلاف خبریں گوگل سے کس طرح ہٹواتے ہیں؟جانیے

جدت ویب ڈیسک ::نیویارک: انٹرنیٹ پر لوگوں کی کھوئی عزت بحال کروانے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں معرض وجود میں آچکی ہیں۔
میل آن لائن کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد اپنی ساکتھ کو برقرار رکھنے کیلئے ان کمپنیوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
یہ کمپنیاں اپنے کسٹمرز کی تعریف و توصیف پر مبنی آرٹیکلز لکھ کر انہیں گوگل پر رینک کرواتی ہیں اور کسٹمرز کے ماضی کے شرمناک واقعات، جو گوگل پر موجود ہیں انہیں ہٹانے کا کام کرتی ہیں اور اس کی جگہ ایسے آرٹیکلز لاتی ہیں جن سے ان کے کسٹمرز کا انٹرنیٹ پر اچھا تشخص پیش ہو۔
اس قسم کی ایک بڑی کمپنی کا نام “اسٹیٹس لیبز” ہے جو امریکی شہر آسٹن میں قائم کی گئی ہے۔ امریکا میں اب تک اس قسم کی 5 ہزار سے زائد کمپنیاں بن چکی ہیں۔
میل آن لائن نے ایسی ہی ایک کمپنی کے امیر کسٹمر کے متعلق بتایا کہ وہ نیویارک ہیج فنڈ منیجر ہے اور ماہانہ ایک رپیوٹیشن کمپنی کو 4 سے 5 ہزار ڈالر دے رہا ہے تاکہ وہ انٹرنیٹ پر موجود اس کے ماضی کے متنازع اور شرمناک قصے ہٹائے اور ان کی جگہ پر اچھے آرٹیکلز پوسٹ کروا کر اس کے امیج کو بہتر بنائے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان کمپنیوں نے فرضی ویب سائٹس بنا رکھی ہوتی ہیں اور ان پر اپنے کسٹمرز کے متعلق اچھے آرٹیکلز پوسٹ کرکے انہیں گوگل پر رینک کرواتی ہیں تاکہ لوگ جب ان کے کسٹمرز کے متعلق گوگل پر سرچ کریں تو انہیں ان کے متعلق اچھی باتیں پڑھنے کو ملیں۔
ریان اسٹون راک نامی ایک وکیل کا کہنا تھا کہ کوئی ایک شخص کسی ایک امیر آدمی پر کوئی الزام عائد کر دیتا ہے تو وہ واقعہ گوگل پر آجاتا ہے۔ اس الزام میں کوئی صداقت نہ بھی ہو تو بھی لوگ وہ واقعہ پڑھ کر اس امیر آدمی کے متعلق بری رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امراء کی بڑی تعداد اس طرف توجہ دے رہی ہے اور اس کے نتیجے میں رپیوٹیشن کمپنیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

December 5, 2019

ٹویٹر نے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس معطل کر دیے، پی ٹی اے کانوٹس

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::ٹویٹر انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ کے پاکستانی صارفین کے متعدد اکاؤنٹس معطل کر دیے ہیں، جس پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے نوٹس لے لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹویٹر انتظامیہ نے بغیر وجہ پاکستانی صارفین کے متعدد اکاؤنٹس معطل کر دیے، معلوم ہوا ہے کہ ٹویٹر نے 396 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطل کیے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی شکایات پر ٹویٹر انتظامیہ کو 396 معطل اکاؤنٹس کی اطلاع دی گئی ہے، جس پر ٹویٹر نے صرف 66 اکاؤنٹس بحال کیے، جب کہ 330 تاحال معطل ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ٹویٹر انتظامیہ کے اس اقدام کو آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا، اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ٹویٹر انتظامیہ کا اقدام اصولوں کے خلاف ہے، پی ٹی اے نے سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ معطل اکاؤنٹس سے ویب سائٹ پر رپورٹ کریں، پی ٹی اے اس مسئلے کو ٹویٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھائے گا۔

December 3, 2019

فیس بک نے صارفین کی سہولت کےلیے تصاویر گوگل فوٹوز میں منتقل کرنے کا ٹول متعارف کرا دیا۔

واشنگٹن : جدت ویب ڈیسک :: سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے صارفین کی سہولت کےلیے تصاویر گوگل فوٹوز میں منتقل کرنے کا ٹول متعارف کرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق فیس بک کی جانب سے بہت جلد صارفین کو ڈیٹا کے حوالے سے زیادہ کنٹرول دیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں ایک کارآمد ٹول متعارف کرایا جارہا ہے، جس کی بدولت صارفین اپنے ڈیٹا یا میڈیا فائلز کو دیگر سروسز میں منتقل کرسکیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس فیچر کی بدولت صارفین اپنی فیس بک پر موجود تصاویر اور ویڈیوز کسی اور آن لائن سروس جیسے گوگل فوٹوز پر منتقل کرسکیں گے۔
درحقیقت کمپنی نے فی الحال گوگل فوٹوز سے ہی آغاز کیا ہے اور یہ گوگل، مائیکرو سافٹ، ٹوئٹر اور فیس بک کے درمیان طے پانے والے ڈیٹا ٹرانسفر پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ان سروسز کے درمیان اطلاعات کی منتقلی کو آسان تر بنانا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ نیا اوپن سورس پروجیکٹ ڈیٹا ٹرانسفر پروجیکٹ، صارفین کو ان تمام پلیٹ فارمز کے درمیان ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کا آسان اور باسہولت آپشن فراہم کرے گا اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو صارفین کا ڈیٹا ایک سے دوسری سروس میں بغیر ڈاؤن لوڈ یا اپ لوڈ کیے منتقل ہوسکے گا۔
فیس بک کی جانب یہ ٹول فی الحال آئرلینڈ میں متعارف کرایا گیا ہے اور 2020 کی دوسری سہ ماہی تک یہ دنیا بھر میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، یہ ٹول فیس بک سیٹنگز میں یور فیس بک انفارمیشن میں موجود ہوگا اور یہ تمام ڈیٹا انکرپٹڈ ہوگا۔فیس بک انتظامیہ کے مطابق آپ کو ڈیٹا منتقل کرنے سے پہلے اپنے پاس ورڈ کا اندراج کرنا ہوگا۔

Image result for facebook new tool photo

November 26, 2019

انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے منصوبہ تیار

جدت ویب ڈیسک ::ورلڈ وائڈ ویب(ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) کے موجد برطانوی انجنئیر ٹِم بیرنرز لی نے حکومتوں، کمپنیوں اور افراد کے ہاتھوں انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
انہوں نے 1989 میں دنیا کو ورلڈ وائڈ ویب سے متعارف کروایا تھا اور اب 30 سال ایک نیا منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد انٹرنیٹ پر غلط معلومات، معلومات کی نگرانی اور سینسرشپ کو روکنا بتایا گیا ہے۔
بیرنرز لی کا بیان ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو فاؤنڈیشن پر جاری کیا گیا جس میں کہا ہے کہ’اگر ہم اب یکجا ہوکر عمل نہیں کریں گے تو ویب کا غلط استعمال کرنے والوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور اگر ہم منقسم اور کمزور رہے تو ہمارے بھٹکنے کا خدشہ ہے‘۔
مذکورہ منصوبے کو دنیا کی 150 تنظیموں اور کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں گوگل، مائیکروسافٹ اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز جیسے گروپ بھی اس نئے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جرمنی اور فرانس کی حکومت نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بیرنرز لی کا ایک تبصرہ شائع کیا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا’ویب کو ان سب لوگوں کی بنیادی مداخلت کی ضرورت ہے، جو اس کے مستقبل پر طاقت رکھتے ہیں‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم آخری حدود کو چُھو رہے ہیں، ویب اچھی صلاحیت کی حامل ایک عالمی طاقت کے طور پر قائم رہی گی یا پھر اس کا غلط استعمال کیا جائے گا، اس کا انحصار ہمارے آج کے ردعمل پر ہے‘ ۔
بیرنرز لی نے اس معاہدے کا بھی دفاع کیا ہے، جو وہ گوگل اور فیس بک کے ساتھ مل کر کرنا چاہتے ہیں۔
انٹر نیٹ کے موجد کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے ساتھ مل کر چلنا بہت ضروری ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ حکومتوں اور کمپنیوں کو برابر کے اختیارات ملنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان طاقتوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، عوام کی طرف سے ان کے ڈیجیٹل حقوق کے مطالبے کا احترام ضروری ہے اور آن لائن صحت مند گفتگو کو فروغ ملنا چاہیے۔خیال رہے کہ گوگل اور فیس بک کو حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مذکورہ کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ صارفین کی معلومات چوری کر کے اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان دونوں کمپنیوں کے ‘نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

November 25, 2019

فیس بک ، انسٹاگرام نے بچوں کو جنسی مواد سے دوررکھنے کے لیے حد مقررکردی

نیویارک جدت ویب ڈیسک :سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے بچوں کو جنسی مواد دیکھنے سے روکنے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام نے بچوں کو جنسی مواد دیکھنے سے روکنے کے لیے ایک حد مقرر کردی ہے جس کے تحت اب فیس بک اور انسٹاگرام پر 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو جنسی مواد تک رسائی حاصل نہیں ہوگی یعنی دونوں کمپنیوں نے اس کے لیے 18 سال کی حد مقرر کی ہے۔نئی پالیسی کے تحت فیس بک جنسی سرگرمی کی عکاسی کرنے والے اشتہارات اور تصاویر کو بچوں سے چھپائے گا۔فیس بک نے ٹیلی گراف کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کے صارفین کے لیے جنسی مواد دیکھنے کی روک تھام کا آغاز 2020 کے اوائل میں شروع کریں گے۔کمپنی نے نئی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی جنسی سرگرمیوں پر مشتمل اشتہارات، فن پارے اور تصاویر کی رسائی صرف بالغ صارفین کی حد تک محدود کردے گی۔اس طرح کا مواد ان صارفین کے لیے پوشیدہ ہوگا جن کی فیس بک پر درج کردہ تاریخ پیدائش 18 سال سے کم ہوگی۔کمپنی نے اس پالیسی کا مقصد یہ بتایا کہ اس تبدیلی کا مقصد اس تنقید کا جواب دینا ہے جس میں یہ سمجھا جاتا ہیکہ فیس بک کے موجودہ قواعد وضوابط نابالغوں کو جنسی مواد کی رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ان جنسی مواد میں تصاویر، جنسی عکاسی کے مجسمے اور ساتھ ہی ٹی وی شوز جیسے گیم آف تھرونس کی تصاویروغیرہ شامل ہیں۔