April 3, 2020

ویڈیو کالز کے لیے فیس بک میسنجر کی ڈیسک ٹاپ ایپ متعارف

ویب ڈیسک ::فیس بک نے میسننجر کی ڈیسک ٹاپ ایپ متعارف کرادی ہے جس کا بنیادی مقصد لامحدود مفت گروپ ویڈیو کالز کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ونڈوز اور ایپل کے میک آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے والے کمپیوٹرز اور ڈیسک ٹاپ پر اس ایپ کو انسٹال کیا جاسکتا ہے جو موبائل ایپ سے جڑ جائے گی۔
مارچ میں فیس بک نے بتایا تھا کہ ڈیسک ٹاپ برائوزر پر اس کی میسنجر سروس میں آڈیو اور ویڈیو کالز استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس نئی ڈیسک ٹاپ ایپ سے دوستوں اور رشتے داروں سے آڈیو اور ویڈیو کالز کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا، کیونکہ برائوزر میں ٹیبز ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کرنی ہوگی۔
مختلف کمپنیوں جیسے زوم اور سلیک کی جانب سے بھی ویڈیو چیٹ سروس کو زیادہ بہتر بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔
زوم کی جانب سے صارفین سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی ریویو پر نظرثانی کررہی ہے جبکہ سلیک نے مائیکرو سافٹ ٹیمز ویڈیو کال آپشن کو اپنی سروس کا حصہ بنایا۔
فیس بک میسنجر کی جانب سے دنیا بھر میں حکومتوں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کے حوالے سے افواہوں کی روک تھام کے لیے کام کیا جارہا ہے۔
اس مقصد کے لیے چیٹ بوٹس کی سہولت کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ہب بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اس انفارمیشن ہب کا مقصد آن لائن غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنا بھی ہے۔
میسنجر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ہب میں ایسے ذرائع صارفین کو فراہم کیے جائیں گے جن سے انہیں اپنے دوستوں، گھروالوں، دفتری ساتھیوں، طالبعلموں، اساتذہ اور دیگر سے گھر میں قرنطینہ کے دوران رابطے میں مدد دے سکیں۔
میسنجر کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے افواہوں اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فارورڈ میسجز کی تعداد میں کمی لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
اس کے لیے ایک فیچر پر کام ہورہا ہے جس کے تحت صارف ایک میسج کو 5 افراد سے زیادہ کو نہیں بھیج سکے گا، تاکہ افواہوں کے پھیلائو کو مشکل تر بنایا جاسکے۔
یہ فیچر فی الحال متعارف نہیں کرایا گیا مگر فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی کے اندر اس کی آزمائش کی جارہی ہے۔
اس سے قبل فیس بک نے 19 مارچ کو کورونا وائرس انفارمیشن سینٹر نیوزفیڈ پر سب سے اوپر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ انفارمیشن سینٹر فیس بک کا نیا فیچر ہے جس کا مقصد وائرس کے حوالے سے حکومتوں اور طبی محققین کی جانب سے فراہم کی جانے والی کارآمد معلومات لوگوں تک پہنچانا ہے جبکہ غلط اطلاعات پھیلنے کی شرح کم از کم کرنا ہے۔
یہ انفارمیشن سینٹر رئیل ٹائم میں اپ ڈیٹ ہوگا، جبکہ عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر آفیشل ذرائع سے نئی معلومات اور تجاویز فراہم کی جائیں گی۔
اسی طرح فیس بک میں کورونا وائرس کے علاج کے حوالے اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی جبکہ عالمی ادارہ صحت کو 2 کروڑ ڈالرز مالیت کے اشتہارات کی جگہ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
واٹس ایپ نے اپنی ویب سائٹ پر کورونا وائرس سے متعلق مستند معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے واٹس ایپ کورونا وائرس کا پیچ متعارف کرایا، جہاں پر لوگوں کو دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبا سے متعلق درست معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے متعارف کرائے گئے کورونا وائرس کی معلومات کے فیچر کو نہ صرف صحت سے متعلق عالمی اداروں کے تعاون سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اس فیچر میں درست معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے میسیجنگ ایپلی کیشن نے متعدد فیکٹ چیکر اداروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین کو درست معلومات کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ صحت نے بھی ایک ہیلتھ الرٹ یا چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے جو اعدادوشمار، مختلف سوالات کے جواب اور دیگر معلومات فراہم کرتا ہے۔
اس مقصد کے لیے +41 79 893 1892 کو فون کانٹیکٹ میں سیو کرکے اس پر hi کا مسیج کردیں، آپ کے سامنے مینیو کھل جائے، جس میں مختلف ایموجیز کے ذریعے مطلوبہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

April 1, 2020

فیس بک آپ کے بارے میں کیا کیا جانتی ہے؟تو پھر پڑھیے

ویب ڈیسک :: یہ پوسٹ آپ کے لئے ایک الارم بھی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ فیس بک آپ کے بارے میں اتنا کچھ جانتی ہے جس کا بیشتر افراد کو اندازہ بھی نہیں ہوتا، مگر یہ کمپنی چاہتی ہے کہ لوگ بھی اس بارے میں جانیں۔

فیس بک کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب صارفین اس ڈیٖٹا کو دیکھ اور ڈائون لوڈ کرسکیں گے جو وہ جمع کرتی ہے۔

آپ اس ڈیٹا کو فیس بک موبائل ایپ یا ڈیسک ٹاپ سائٹ کے سیٹنگز مینیو میں یور فیس بک انفارمیشن کے سیکشن میں دریافت کرسکتے ہیں۔

وہاں جاکر ڈائون لوڈ یور انفارمیشن پر کلک کرنا ہوگا جبکہ انسٹاگرام پر ڈائون لوڈ یور ڈیٹا ٹول کو استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں معلومات دی گئی ہے کہ یہ کمپنی کس طرح ان پلیٹ فارمز پر آپ کی عادات کو ٹریک کرتی ہے یعنی پروفائل پر کیا ایڈ کررہے ہیں یا کن پیجز یا پوسٹس کو لائیک کیا۔

یہ معلومات فیس بک اور انسٹاگرام فیڈ پر مواد دکھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر اس سے ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے خدشات بھی ابھرتے ہیں۔

یور فیس بک انفارمیشن کے سیکشن میں آف فیس بک ایکٹیویٹی کے نام سے بھی ایک آپشن موجود ہے۔

جس پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے ان تمام ویب سائٹ اور ایپس کی فہرست دیکھ سکیں گے جو فیس بک اس وقت ٹریک کرتا ہے جب آپ فیس بک کو استعمال نہیں کررہے ہوتے۔

درحقیقت اس فہرست کو دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ آخر فیس بک کو آپ کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کس حد تک معلومات حاصل ہے۔

فیس بک کی اس فہرست میں یہ بھی درج ہے کہ آپ نے کسی ویب سائٹ پر کتنی بار اور کس کس وقت وزٹ کیا اور کسی نام پر کلک کرنے پر بتایا جائے گا کہ کمپنی کو اس کا علم کیسے ہوا اور وہ اس معلومات کے ساتھ کیا کرسکتی ہے۔

اگر آپ اس ڈیٹا کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو سب سے اوپر کلیئر ہسٹری کا بٹن موجود ہوگا جس پر کلک کرنے پر فیس بک کی جانب سے خبردار کیا جائے گا کہ ایسا کرنے پر آپ ان سروسز سے لاگ آﺅٹ ہوسکتے ہیں جن میں آپ فیس بک سے لاگ ان ہوتے ہیں۔

فیس بک کی جانب سے ڈیٹا کے حصول کا سلسلہ اس صفائی کے بعد بھی جاری رہے گا اور یہ اسی وقت رک سکے گا جب آپ آپٹ آﺅٹ کا آپشن استعمال نہیں کرتے جو منیج فیوچر ایکٹیویٹی میں چھپا ہوگا جو ویب سائٹ ورژن کے دائیں جانب موجود ہوگا۔

اگر آپ ڈیٹا کلیکشن آف کریں گے فیس بک کی جانب سے کہا جائے گا آپ کو اتنے ہی اشتہار نظر آئیں گے جتنے پہلے دیکھ رہے تھے، مگر وہ کم پرسنلائزڈ ہوں گے۔

اور ہاں یہ ڈیٹا آپ کے اکاﺅنٹ سے نہ ہونے کے برابر ڈس کنکٹڈ ہوگا اور مکمل طور پر فیس بک سرورز سے ڈیلیٹ نہیں ہوگا، ایسا فیس بک نے گزشتہ سال اگست میں بتایا تھا۔

مگر یہ فیس بک کی جانب سے غیرضروری ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کی روک تھام کے حوالے سے صارف کو کچھ شفافیت فراہم کرنا ہے اور کسی حد تک کنٹرول بھی دینا ہے۔

فیس بک ڈائون لوڈ یور انفارمیشن میں بھی آپ کچھ دیگر چیزیں جان سکیں گے اور حیران ہوں گے فیس بک اور انسٹاگرام کس حد تک آپ کو ٹریک کرتے ہیں۔

چند بظاہر عام پوسٹس آپ کے لیے مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں سوا 2 ارب سے زائد افراد فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔

مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں کہ فیس بک اور دیگر مقبول سوشل میڈیا نیٹ ورکس صارفین کی بہت زیادہ ذاتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

تعلقات کے بارے میں تفصیلات شیئر کرنا

آپ کے اور آپ کے شریک حیات کے درمیان تعلق جیسا بھی ہو، اسے دیگر افراد کی رسائی سے دور رکھیں، کبھی اس بارے میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر کچھ شیئر نہ کریں اور ذاتی تفصیلات کو اپنی حد تک ہی محدود رکھیں، اس سے آپ قریبی رشتے داروں کے اعتماد سے محروم ہوسکتے ہیں۔

المیہ مواقعوں کی سیلفی

کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جو باوقار رویے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کسی تدفین پر مسکراتی سیلفی لینے یا شیئر کرنے کی کوشش نہ کریں، اسی طرح مقدس مقامات جیسے مساجد یا دیگر میں بھی سیلفیز لے کر شیئر نہ کریں۔

غیر قانونی اقدامات

ایسی کوئی بھی چیز جو قوانین کے خلاف ہو جیسے ڈرائیونگ کرتے ہوئے فون کرنا یا اسلحہ وغیرہ، کی تصاویر شیئر کرنا آپ کو جیل بھی پہنچا سکتا ہے۔

ذاتی گفتگو کے اسکرین شاٹ

ذاتی کا لفظ ہی بتاتا ہے کہ یہ گفتگو نجی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر کیوں شیئر کیا جائے؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک بار تو بہت زیادہ لائیکس مل جائیں، مگر پھر آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے گا یا آپ سے زندگی کے بارے میں کچھ شیئر نہیں کرے گا۔

گھر کا پتا اور فون نمبر

اپنے گھر کا پتا اور ذاتی فون نمبر شیئر کرنے سے ہمیشہ گریز کریں، ماسوائے اس صورت میں آپ کی پروفائل میں چند گنے چنے قابل اعتماد افراد ہی ایڈ ہوں، اگر آپ کی پروفائل پبلک ہے اور میں متعدد اجنبی موجود ہیں تو اس طرح کی معلومات ڈالنے سے ہر قیمت پر گریز کریں۔ اگر کسی سوشل میڈیا سائٹ میں اس کی ضرورت ہے تو سیٹنگز میں جاکر اسے پبلک اور فرینڈز سے ہٹا کر خود تک محدود کرلیں۔

نامناسب مواد

کبھی بھی غیراخلاقی مواد سوشل میڈیا پر شیئر مت کریں، انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والا مواد کبھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا، چاہے آپ اپنی پروفائل سے ڈیلیٹ ہی کیوں نہ کردیں، کیونکہ اس سے پہلے ہی متعدد سائٹس اسے محفوظ کرچکی ہوتی ہیں، جبکہ اس طرح کا مواد قانونی مشکلات کا شکار بھی کرسکتا ہے۔

کسی اور کے بارے میں غلط معلومات

آپ کو اپنا سوشل میڈیا اکاﺅنٹ انتقام کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے اور اس کی مدد سے کسی کو تکلیف پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔ موجودہ عہد میں شخصیات کے بارے میں سوشل میڈیا پر فرضی معلومات کا پھیلاﺅ بہت زیادہ ہورہا ہے جو اخلاقی لحاظ سے تو غلط ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ یہ قوانین کے تحت بھی جرم ہے۔

فرینڈ لسٹ سے باہر افراد کے لیے نیک تمناﺅں کا اظہار

اگر آپ کی ماں فرینڈ لسٹ میں نہیں تو مدر ڈے ون کو اپنی پروفائل پر کیوں شیئر کرتے ہیں، براہ راست ماں کو کیوں نہیں کہتے؟ اسی طرح سوشل میڈیا سے دور دوستوں کو سالگرہ کی مبارکباد سوشل میڈیا پر مت دیں بلکہ ان سے رابطہ کرکے دیں۔

نامناسب کمنٹس

چاہے آپ مذاق میں ہی کوئی کمنٹ کررہے ہوں، آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیشہ دوسروں کے ردعمل کو ذہن میں لکھ کر الفاظ کا چناو ¿ کریں، مذہب، سیاست، صنفی امتیاز اور دیگر سنگین معاملات پر غیرسنجیدہ کمنٹس سے گریز کریں جو تنازع کا باعث بن جائیں۔

اپنے کام کے بارے میں شکایات

چاہے آپ کے دفتری ساتھیوں کی آپ کے فیس بک اکاﺅنٹ تک رسائی نہ بھی ہو تو بھی وہ آپ کے دفتر یا باس کے بارے میں آپ کے رویے کے بارے میں جان سکتے ہیں، تو اپنی ملازمت سے ذہنی طور پر پریشانی کا شکار ہی کیوں نہ ہوں، اسے اپنے حد تک رکھیں۔

شناختی دستاویزات

کئی بار لوگ کسی بڑے سنگ میل جیسے پہلے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول پر بہت خوش ہوتے ہیں، کہ وہ خوشی میں سب کچھ آن لائن شیئر کردیتے ہیں، مگر یہ نہیں بھولیں کہ جتنی ذاتی معلومات آپ آن لائن شیئر کرتے ہیں، اتنا ہی خود کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔

مہنگے تحائف اور اشیا کی خریداری

مختلف تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ دیگر لوگوں کی مہنگی اشیا کو سوشل میڈیا پر دیکھنے سے ہمارے اندر عدم تحفظ اور ناکامی کا احساس جنم لیا ہے اور زندگی پر عدم اطمینان بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر کسی مہنگی چیز کی نمائش کرتے ہیں تو یہ ضرور ذہن میں رکھیں اس سے آپ اپنی امارات کی غیرضروری نمائش کررہے ہیں اور کچھ افراد انہیں چوری کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں آپ سوشل میڈیا پر جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں اسے مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے اور آپ کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں ہوتا کہ یہ معلومات کس کے پاس جارہا ہے، تو پوسٹس کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں۔

March 28, 2020

ماحولیات سے متعلق ایک اچھی خبر, اوزون کی تہہ میں شگاف بھرنا شروع

 

ویب ڈیسک ::عالمی برادری کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تاہم ماحولیات سے متعلق ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اوزون کی تہہ میں شگاف بھرنا شروع ہو گیا ہے۔
ماہرین نے مونٹریال پروٹوکول کو اوزون کی تہہ میں بحالی کا نتیجہ قرار دیا ہے جس میں اوزون کو بری طرح نقصان پہنچانے والی زہریلی گیسز کے کم استعمال کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دنیا کے ممالک کو ابھی مزید موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
خیال رہے کہ اوزون کی تہہ سورج سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے۔ اوزون کی تہہ کا 90 فیصد حصہ زمین کی سطح سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے۔
فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کاربن کا اخراج ہماری اور ہماری زمین کی صحت کے لیے نہایت مضر ہے اور یہ اوزون پر بھی منفی طور سے اثر انداز ہوتا ہے۔
اوزون تہہ کی تباہی سے مراد اس کی موٹائی میں کمی ہونا یا اس میں شگاف پڑنا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر برف سے ڈھکے انٹار کٹیکا کے علاقے میں ہوا جہاں اوزون کی تہہ میں گہرا شگاف پیدا ہوگیا۔
اوزون کو نقصان کی وجہ سے اس علاقے میں سورج کی روشنی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آنے لگی جس سےعلاقہ کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا اور برف کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہوئی جس سے دنیا بھر میں شدید سیلاب آنے کے خدشات بڑھ گئے

Ozone Layer is Healing, Could Fully Recover

The ozone layer is healing!, World News | wionews.com

March 27, 2020

واٹس ایپ کے بعد فیس بک میسنجر پر بھی انفارمیشن ہب متعارف

ویب ڈیسک ::۔۔۔۔۔۔واٹس ایپ کے بعد فیس بک نے اپنی میسنجر ایپ میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے انفارمیشن ہب متعارف کرادیا ہے۔
اس انفارمیشن ہب کا مقصد آن لائن غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنا بھی ہے۔
میسنجر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ہب میں ایسے ذرائع صارفین کو فراہم کیے جائیں گے جن سے انہیں اپنے دوستوں، گھروالوں، دفتری ساتھیوں، طالبعلموں، اساتذہ اور دیگر سے گھر میں قرنطینہ کے دوران رابطے میں مدد دے سکیں۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں فیس بک میسنجر کے استعمال کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
فیس بک میسنجر کے نائب صدر اسٹان Chudnovsky نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ‘ دنیا بھر میں 70 فیصد زیادہ افراد گروپ ویڈیوز کالز کررہے ہیں جبکہ اس حوالے سے وقت کا دورانیہ دوگنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔
کورونا وائرس کے حوالے سے آن لائن غلط معلومات کے پھیلائو کے خلاف یہ انفارمیشن ہب عالمی ادارہ صحت، سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن اور یونیسیف کی جانب سے معلومات صارفین تک پہنچائے گا۔
اس کے علاوہ صارفین کو آن لائن فراڈ سے بچنے میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔
اس سے قبل فیس بک نے 19 مارچ کو کورونا وائرس انفارمیشن سینٹر نیوزفیڈ پر سب سے اوپر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ انفارمیشن سینٹر فیس بک کا نیا فیچر ہے جس کا مقصد وائرس کے حوالے سے حکومتوں اور طبی محققین کی جانب سے فراہم کی جانے والی کارآمد معلومات لوگوں تک پہنچانا ہے جبکہ غلط اطلاعات پھیلنے کی شرح کم از کم کرنا ہے۔
یہ انفارمیشن سینٹر رئیل ٹائم میں اپ ڈیٹ ہوگا، جبکہ عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر آفیشل ذرائع سے نئی معلومات اور تجاویز فراہم کی جائیں گی۔
اسی طرح فیس بک میں کورونا وائرس کے علاج کے حوالے اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی جبکہ عالمی ادارہ صحت کو 2 کروڑ ڈالرز مالیت کے اشتہارات کی جگہ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
فیس بک کی زیرملکیت واٹس ایپ نے اپنی ویب سائٹ پر کورونا وائرس سے متعلق مستند معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے واٹس ایپ کورونا وائرس کا پیچ متعارف کرایا، جہاں پر لوگوں کو دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبا سے متعلق درست معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے متعارف کرائے گئے کورونا وائرس کی معلومات کے فیچر کو نہ صرف صحت سے متعلق عالمی اداروں کے تعاون سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اس فیچر میں درست معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے میسیجنگ ایپلی کیشن نے متعدد فیکٹ چیکر اداروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین کو درست معلومات کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ صحت نے بھی ایک ہیلتھ الرٹ یا چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے جو اعدادوشمار، مختلف سوالات کے جواب اور دیگر معلومات فراہم کرتا ہے۔
اس مقصد کے لیے +41 79 893 1892 کو فون کانٹیکٹ میں سیو کرکے اس پر hi کا مسیج کردیں، آپ کے سامنے مینیو کھل جائے، جس میں مختلف ایموجیز کے ذریعے مطلوبہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔Flipboard: Facebook Messenger introduces COVID-19 info hub amid ...
Facebook Has a New Coronavirus Community Hub That Has Useful Info ...
March 26, 2020

پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جو فیس بک میسنجر کے نئے پروگرام میں شامل ہوئے ہیں اور ایک چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے

ویب ڈیسک  ::۔۔۔۔۔پاکستان میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 873 تک پہنچ گئی ہ

یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے اور غلط معلومات کی ترسیل کی روک تھام کے لیے طاقتور ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک کو استعمال کرنا شروع کردیا ہ

فیس بک میسنجر نے دنیا بھر کی حکومتوں اور عالمی ادارہ صحت کے لیے ایک پروگرام کو متعارف کرایا ہے تاکہ وہ بروقت کورونا وائرس سے متعلق معلومات عوام تک پہنچاسک

اس پروگرام کے تحت میسنجر ڈویلپرز کو حکومتی اداروں سے کنکٹ کرکے ایپس اور چیٹ بوتش کی تیار میں سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ لوگوں کو وبا کے بارے میں تازہ ترین صورتحال، ذہنوں میں موجود سوالات کے جواب اور دیگر کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جو فیس بک میسنجر کے اس نئے پروگرام میں شامل ہوئے ہیں اور ایک چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے

فیس بک نے ایک بلاگ میں بتایا کہ ارجنٹائن، یونیسیف اور پاکستان کی وزارت قومی صحت نے میسنجر کو کووڈ 19 معلومات کو شیئر کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

اس لنک پر جاکر آپ پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے مختلف معلومات کو حاصل کرسکتے ہی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس پروگرام کے حوالے سے کہا ‘کورونا وائرس کے عالمی بحران کے لیے فیس بک کا تعاون عوامی شعور اجاگر کرنے اور شہریوں کو اہم طبی ٹپس کی فراہمی کے لیے بہت اہم ہے، میسنجر کی مدد سے ہمیں کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات جاننے کے خواہشمند افراد تک مستند معلومات کی فراہمی میں مدد ملے گی جبکہ اس سے ہیلپ لائن کو زیادہ اہم کیسز کے لیے اوپن رکھنے میں مدد ملے گی’۔

March 18, 2020

واٹس ایپ نے کرونا وائرس سے متعلق پھیلنے والی بے بنیاد معلومات کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اہم اعلان کردیا

سان فرانسسکو: ویب ڈیسک ::پیغام رسانی کی سب سے بڑی موبائل ایپ لیکیشن واٹس ایپ نے کرونا وائرس سے متعلق پھیلنے والی بے بنیاد معلومات کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اہم اعلان کردیا۔
واٹس ایپ صارفین کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے ایک دوسرے کو غیر تصدیق شدہ معلومات اور احتیاطی تدابیر بذریعہ میسج ارسال کی جارہی تھیں جس کی وجہ سے پیغام موصول کرنے والا شخص بیشتر اوقات پریشان بھی ہوجاتا تھا۔
ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق واٹس ایپ پر چالیس فیصد سے زائد صارفین ایک دوسرے کو غیر تصدیق شدہ پیغامات ارسال کررہے تھے، جن میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ، ہلاکتیں، لاک ڈاؤن اور کرونا کی علامات و احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہ کیا جارہا تھا۔
فیس بک، انسٹاگرام کے بعد اب واٹس ایپ نے بھی اپنے پلیٹ فارم پر جعلی پیغامات ارسال کرنے والوں کی حوصلی شکنی کے لیے اہم اقدامات کرنے کا اعلان کردیا۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف، یو این ڈی پی کے اشتراک سے واٹس ایپ کرونا وائرس سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا مرکز بن گیا جہاں صارفین کو مستند معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس ضمن میں واٹس ایپ نے ایک پورٹل متعارف کرایا جہاں صارفین کو کرونا وبا سے متعلق ہر قسم کی معلومات فراہم کی جائیں گی اور یہی معلومات صارف کو فیس بک ، انسٹاگرام پر بھی دستیاب ہوں گی۔
واٹس ایپ، ویب سائٹ
علاوہ ازیں واٹس ایپ نے جعلی معلومات اور بے بنیاد خبروں کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں، اس مقصد کے لیے واٹس ایپ نے دس لاکھ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا۔
کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے صارفین کرونا بحران کے حوالے سے پریشان ہیں اور وہ اپنے دوستوں، بہن بھائیوں کی وقتاً فوقتاً خیریت جاننا چاہتے ہیں، ڈاکٹر، مریض، طالب علم اور استاد ایک دوسرے سے رابطے رکھنے کے لیے واٹس ایپ استعمال کررہے ہیں‘۔
’ہم چاہتے ہیں کہ آسان اور سادہ طریقے سے صارفین کو مستند معلومات فراہم کریں، اس حوالے سے کمپنی نے اقدامات شروع کردیے تاکہ پلیٹ فارم کو افواہوں اور غیر تصدیق شدہ خبروں سے محفوظ رکھا جاسکے، واٹس ایپ جعلی پیغامات کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرے گا بلکہ ہم ان کی تصدیق کے لیے بین الاقوامی اداروں سے رابطے بھی کریں گے تاکہ درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے‘۔
واٹس ایپ معلوماتی مرکز کی سہولت کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
کرونا وائرس کے حوالے سے واٹس ایپ کی جانب سے بنائے جانے والے معلوماتی پورٹل کو صارف whatsapp.com/coronavirus پر جا کر استعمال کرسکتا ہے جہاں اُن کو مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

Image result for whatsapp coronavirus

March 14, 2020

ٹیلی نار پاکستان فائیو جی کا کامیاب تجربہ کرنے والی تیسری ٹیلی کام کمپنی بن گئی۔

اسلام آباد: ویب ڈیسک ::ٹیلی نار پاکستان ملک میں فائیو جی کا کامیاب تجربہ کرنے والی تیسری ٹیلی کام کمپنی بن گئی۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) عرفان وہاب خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جس طرح ٹیلی کام سیکٹر کے لیے کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ملائیشیا اور چین سمیت بعض ممالک نے اقدامات اٹھائے، ویسے ہی ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ اجتماعی شراکت کا فارمولا نافذ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں بہت کچھ شیئر بھی کررہی ہیں لیکن پاکستان میں ہم اب تک بنیادی ڈھانچوں مثلاً ٹاورز کی سرمایہ کاری کررہے ہیں’۔
کمپنی کے مطابق فائیو جی کی رفتار ‘1.5 گیگا بائٹ فی سیکنڈ’ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ٹیلی نار پاکستان سے قبل زونگ اور جاز نے پاکستان میں فائیو جی کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری جانب ٹیلی نار پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس پر کمپنی کا کہنا تھا کہ ‘فائیو جی کے کامیاب تجربے کے بعد کمپنی ڈیجیٹل دنیا کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

March 5, 2020

دنیا کا طاقتور ترین ’کوانٹم کمپیوٹر‘ جلد متعارف ہوگا

واشنگٹن:ویب ڈیسک :: دنیا کا ’’طاقت ور ترین‘‘ کوانٹم کمپیوٹر جلد متعارف کروا دیا جائے گا۔
عام طور پر جب دنیا کے طاقت ور ترین کمپیوٹر کی بات ہوتی ہے تو فوری طور پر آئی بی ایم اور گوگل جیسی بڑی کمپنیاں دھیان میں آتی ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں ایک نئی کمپنی شامل ہوگئی ہے جو اب تک گھریلو کنٹرولر اور تھرمواسٹیٹ بنانے کی ماہر سمجھی جاتی رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہنی ویل انٹرنشینل انکارپوریٹ کے کوانٹم سلوشنز کی ذیلی کمپنی نے آئندہ تین ماہ میں دنیا کا ’طاقت ور ترین‘ کوانٹم کمپیوٹر متعارف کروانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ہنی ویل انٹرنیشنل بنیادی طور پر خلا میں دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے ماہرین کا خیال ہے کہ کمپیوٹنگ کی کارکردگی سے متعلق 2017 میں آئی بی ایم کی جانب سے بنائے گئے کمپیوٹر سے ان کا نیا کوانٹم کمپیوٹر زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہوگا۔
ہنی ویل کوانٹم سلیوشنز کے سربراہ ٹونی اٹلے نے کہا ہے کہ ہم گزشتہ دس برس سے کوانٹم کمپیوٹر پر کام کررہے ہیں اور اگلے تین ماہ میں متعارف کردیا جائے گا۔ اس کےبعد دنیا بھر کےادارے انٹرنیٹ کے ذریعے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔
ہنی ویل کا دعوی ہے کہ اس کے کمپیوٹر کا کوانٹم والیوم کم از کم 64 ہوگا جسے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اگلے پانچ برسوں تک یہ کوششیں جاری رہیں گی۔
گوگل کے سائکامور کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ 53 کیوبٹ کے ساتھ وہ 2019ہی میں اس شعبے میں برتری قائم کرچکا ہے۔ حال ہی میں آئی بی ایم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 28 کیوبٹ کمپیوٹر کا کوانٹم والیوم 32 ہے۔
رپورٹ کے مطابق مائیکروسوفٹ، لانگ کیو، کیو سی ائی، ڈی ویوو، Rigetti، 1QBitاور اسٹرینج ورکس بھی کوانٹم کمپیوٹنگ پر کام کررہے ہیں۔
کارکردگی کے اعتبار سے کوانٹم کمپوٹر کو سپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز ترین اور طاقتور کہا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کوانٹم کمپیونٹگ کی بہتر سے بہتر کارکردگی کی دوڑ جاری ہے۔ ہنی ویل کو اس دوڑ میں ایک نیا مقابل قرار دیا جارہا ہے۔کوانٹم کمپیوٹر میں روایتی بٹس کی بجائے کیو بِٹ استعمال کی جاتی ہیں۔

Image result for fastestcomputer

Image result for fastestcomputer

کمپنی کا دعوی ہے کہ وہ اگلے تین ماہ میں دنیا کا سب سے طاقتور ترین کمپوٹر متعارف کروادے گی، فوٹو، فائل۔

March 2, 2020

سوشل میڈیا کمپنیاں غیر قانونی مواد 24گھنٹے میں ہٹانے کی پابند خلاف ورزی پر 50 کروڑ تک کاجرمانہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::: سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز2020 پرکمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی مواد 24گھنٹےمیں ہٹانےکاپابند بنایا ہے۔ خلاف ورزی پر 50 کروڑ تک کاجرمانہ ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا علی خان جدون کی زیرصدارت اجلاس ہوا ، اجلاس میں سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز2020 پرکمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا وزارت آئی ٹی سوشل میڈیا کیلئےنیشنل کوارڈینیٹر تعینات کرےگی، سوشل میڈیا کمپنیوں کوغیرقانونی مواد 24گھنٹےمیں ہٹانےکاپابند بنایا ہے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو اسلام آباد میں اپنا آفس بناناہوگا اور پاکستان میں ڈیٹابینک بنانا ہوں گے۔
،بریفنگ میں کہا گیا قانون کی خلاف ورزی پرنیشنل کوآرڈینیٹر کمپنیز پر 50 کروڑ تک کاجرمانہ کر سکتا ہے۔
اجلاس میں سیکریٹری آئی ٹی نے کہا سیکرٹری قانون کی قیادت میں بین الوزارتی کمیٹی نے سوشل میڈیا رولزبنائے، 28 جنوری کوکابینہ نےسوشل میڈیا رولزکی منظوری دی، وفاقی وزیر آفس نہیں آ رہے ،نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات نہیں ہوسکا، وفاقی وزیرآئی ٹی نےاستعفیٰ جمع کرارکھاہےجوابھی منظورنہیں ہوا۔
یاد رہے وزارتِ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق ایس آر او جاری کئے تھے ، قوانین کو سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020 کا نام دیا گیا ہے۔ ایس آر او کے مطابق نیشنل کوآرڈینیٹرکےحکم پرسوشل میڈیاکمپنی کومواد24گھنٹےمیں ہٹاناہوگا، جبکہ ایمرجنسی میں سوشل میڈیاکمپنی کو غیر قانونی مواد 6 گھنٹے کے اندر اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانا ہوگا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتِ کی جانب سے لاگو کیے گئے قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیزکو مذہبی،سیکیورٹی سےمتعلق حساسیت کو مد نظر رکھنا ہوگا اور انہیں انتہاپسندی، نفرت انگیز موادکی روک تھام کویقینی بناناہوگا، علاوہ ازیں سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز پر شیئر ہونے والی جھوٹی خبروں، سیکیورٹی کے خلاف آن لائن ویڈیو اسٹریمنگ کو بھی لازمی روکنا ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو 3 ماہ کے اندر خود کو اتھارٹی کے پاس رجسٹر کروا کر اپنا دفتر اسلام آباد میں قائم کرنا ہوگا اور معاونت کے لیے پاکستان میں مستقل نمائندہ بھی تعینات کرنا ہوگا۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہدایت کی کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنا ڈیٹا بیس سرور پاکستان میں قائم کریں گی اور وہ تحقیقاتی اداروں کو صارفین کی معلومات فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور نیشنل کوارڈینیٹر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیز کو بلاک کرنے یا پچاس کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کرسکتا ہے، پلیٹ فارم بند ہو جانے پر کمپنی کو اپیل کا حق ہوگا۔