December 5, 2019

ٹویٹر نے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس معطل کر دیے، پی ٹی اے کانوٹس

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::ٹویٹر انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ کے پاکستانی صارفین کے متعدد اکاؤنٹس معطل کر دیے ہیں، جس پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے نوٹس لے لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹویٹر انتظامیہ نے بغیر وجہ پاکستانی صارفین کے متعدد اکاؤنٹس معطل کر دیے، معلوم ہوا ہے کہ ٹویٹر نے 396 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطل کیے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی شکایات پر ٹویٹر انتظامیہ کو 396 معطل اکاؤنٹس کی اطلاع دی گئی ہے، جس پر ٹویٹر نے صرف 66 اکاؤنٹس بحال کیے، جب کہ 330 تاحال معطل ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ٹویٹر انتظامیہ کے اس اقدام کو آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا، اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ٹویٹر انتظامیہ کا اقدام اصولوں کے خلاف ہے، پی ٹی اے نے سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ معطل اکاؤنٹس سے ویب سائٹ پر رپورٹ کریں، پی ٹی اے اس مسئلے کو ٹویٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھائے گا۔

December 3, 2019

فیس بک نے صارفین کی سہولت کےلیے تصاویر گوگل فوٹوز میں منتقل کرنے کا ٹول متعارف کرا دیا۔

واشنگٹن : جدت ویب ڈیسک :: سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے صارفین کی سہولت کےلیے تصاویر گوگل فوٹوز میں منتقل کرنے کا ٹول متعارف کرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق فیس بک کی جانب سے بہت جلد صارفین کو ڈیٹا کے حوالے سے زیادہ کنٹرول دیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں ایک کارآمد ٹول متعارف کرایا جارہا ہے، جس کی بدولت صارفین اپنے ڈیٹا یا میڈیا فائلز کو دیگر سروسز میں منتقل کرسکیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس فیچر کی بدولت صارفین اپنی فیس بک پر موجود تصاویر اور ویڈیوز کسی اور آن لائن سروس جیسے گوگل فوٹوز پر منتقل کرسکیں گے۔
درحقیقت کمپنی نے فی الحال گوگل فوٹوز سے ہی آغاز کیا ہے اور یہ گوگل، مائیکرو سافٹ، ٹوئٹر اور فیس بک کے درمیان طے پانے والے ڈیٹا ٹرانسفر پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ان سروسز کے درمیان اطلاعات کی منتقلی کو آسان تر بنانا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ نیا اوپن سورس پروجیکٹ ڈیٹا ٹرانسفر پروجیکٹ، صارفین کو ان تمام پلیٹ فارمز کے درمیان ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کا آسان اور باسہولت آپشن فراہم کرے گا اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو صارفین کا ڈیٹا ایک سے دوسری سروس میں بغیر ڈاؤن لوڈ یا اپ لوڈ کیے منتقل ہوسکے گا۔
فیس بک کی جانب یہ ٹول فی الحال آئرلینڈ میں متعارف کرایا گیا ہے اور 2020 کی دوسری سہ ماہی تک یہ دنیا بھر میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، یہ ٹول فیس بک سیٹنگز میں یور فیس بک انفارمیشن میں موجود ہوگا اور یہ تمام ڈیٹا انکرپٹڈ ہوگا۔فیس بک انتظامیہ کے مطابق آپ کو ڈیٹا منتقل کرنے سے پہلے اپنے پاس ورڈ کا اندراج کرنا ہوگا۔

Image result for facebook new tool photo

November 26, 2019

انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے منصوبہ تیار

جدت ویب ڈیسک ::ورلڈ وائڈ ویب(ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) کے موجد برطانوی انجنئیر ٹِم بیرنرز لی نے حکومتوں، کمپنیوں اور افراد کے ہاتھوں انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
انہوں نے 1989 میں دنیا کو ورلڈ وائڈ ویب سے متعارف کروایا تھا اور اب 30 سال ایک نیا منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد انٹرنیٹ پر غلط معلومات، معلومات کی نگرانی اور سینسرشپ کو روکنا بتایا گیا ہے۔
بیرنرز لی کا بیان ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو فاؤنڈیشن پر جاری کیا گیا جس میں کہا ہے کہ’اگر ہم اب یکجا ہوکر عمل نہیں کریں گے تو ویب کا غلط استعمال کرنے والوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور اگر ہم منقسم اور کمزور رہے تو ہمارے بھٹکنے کا خدشہ ہے‘۔
مذکورہ منصوبے کو دنیا کی 150 تنظیموں اور کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں گوگل، مائیکروسافٹ اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز جیسے گروپ بھی اس نئے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جرمنی اور فرانس کی حکومت نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بیرنرز لی کا ایک تبصرہ شائع کیا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا’ویب کو ان سب لوگوں کی بنیادی مداخلت کی ضرورت ہے، جو اس کے مستقبل پر طاقت رکھتے ہیں‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم آخری حدود کو چُھو رہے ہیں، ویب اچھی صلاحیت کی حامل ایک عالمی طاقت کے طور پر قائم رہی گی یا پھر اس کا غلط استعمال کیا جائے گا، اس کا انحصار ہمارے آج کے ردعمل پر ہے‘ ۔
بیرنرز لی نے اس معاہدے کا بھی دفاع کیا ہے، جو وہ گوگل اور فیس بک کے ساتھ مل کر کرنا چاہتے ہیں۔
انٹر نیٹ کے موجد کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے ساتھ مل کر چلنا بہت ضروری ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ حکومتوں اور کمپنیوں کو برابر کے اختیارات ملنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان طاقتوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، عوام کی طرف سے ان کے ڈیجیٹل حقوق کے مطالبے کا احترام ضروری ہے اور آن لائن صحت مند گفتگو کو فروغ ملنا چاہیے۔خیال رہے کہ گوگل اور فیس بک کو حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مذکورہ کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ صارفین کی معلومات چوری کر کے اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان دونوں کمپنیوں کے ‘نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

November 25, 2019

فیس بک ، انسٹاگرام نے بچوں کو جنسی مواد سے دوررکھنے کے لیے حد مقررکردی

نیویارک جدت ویب ڈیسک :سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے بچوں کو جنسی مواد دیکھنے سے روکنے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام نے بچوں کو جنسی مواد دیکھنے سے روکنے کے لیے ایک حد مقرر کردی ہے جس کے تحت اب فیس بک اور انسٹاگرام پر 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو جنسی مواد تک رسائی حاصل نہیں ہوگی یعنی دونوں کمپنیوں نے اس کے لیے 18 سال کی حد مقرر کی ہے۔نئی پالیسی کے تحت فیس بک جنسی سرگرمی کی عکاسی کرنے والے اشتہارات اور تصاویر کو بچوں سے چھپائے گا۔فیس بک نے ٹیلی گراف کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کے صارفین کے لیے جنسی مواد دیکھنے کی روک تھام کا آغاز 2020 کے اوائل میں شروع کریں گے۔کمپنی نے نئی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی جنسی سرگرمیوں پر مشتمل اشتہارات، فن پارے اور تصاویر کی رسائی صرف بالغ صارفین کی حد تک محدود کردے گی۔اس طرح کا مواد ان صارفین کے لیے پوشیدہ ہوگا جن کی فیس بک پر درج کردہ تاریخ پیدائش 18 سال سے کم ہوگی۔کمپنی نے اس پالیسی کا مقصد یہ بتایا کہ اس تبدیلی کا مقصد اس تنقید کا جواب دینا ہے جس میں یہ سمجھا جاتا ہیکہ فیس بک کے موجودہ قواعد وضوابط نابالغوں کو جنسی مواد کی رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ان جنسی مواد میں تصاویر، جنسی عکاسی کے مجسمے اور ساتھ ہی ٹی وی شوز جیسے گیم آف تھرونس کی تصاویروغیرہ شامل ہیں۔

November 15, 2019

سوشل میڈیا سنسرشپ: پاکستانی حکومت کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لئے درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

جدت ویب ڈیسک ::کیا پاکستان میں سوشل میڈیا پر سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا؟ حال ہی میں جاری ہونے والی فیس بک ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں چونکا دینے والے اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم فیس بک نے اپنی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فیس بک صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسی کے علاوہ 2019 کی پہلی ششماہی میں فیس بک کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی درخواست پر مقامی قوانین، توہین مذہب، عدلیہ مخالف، ملکی خودمختاری کے خلاف 5690 پوسٹس کو رسٹرکٹ کیا گیا جبکہ 2018 کی دوسری ششماہی کے دوران یہ تعداد 4174 تھی۔دنیا بھر میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران دنیا بھر سے فیس بک کو ڈیٹا کے حصول کے لیے درخواستوں میں 16 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور امریکا نے سب سے زیادہ درخواستیں کیں، جس کے بعد بھارت، برطانیہ، جرمنی اور فرانس رہے۔
فیس بک کی جانب سے 2019 کی پہلی ششماہی کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2019 کے دوران پاکستان کی جانب سے فیس بک سے ایمرجنسی اور لیگل پراسیس کے نام پر مجموعی طور پر ڈیٹا کے حصول کے لیے 1849 درخواستیں دی گئیں۔
یہ تعداد جولائی سے دسمبر 2018 کے دوران 1752، جنوری سے جون 2018 کے دوران 1233، جولائی 2017 سے دسمبر 2017 کے دوران 1320، جنوری 2017 سے جون 2017 کے دوران 1050، جولائی 2016 سے دسمبر 2016 کے دوران 998، جبکہ جنوری 2016 سے جون 2016 کے دوران 719 تھی۔
رپورٹ کے مطابق فیس بک نے 51 فیصد درخواستوں پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو کسی قسم کا ڈیٹا یا معلومات فراہم کیں۔

November 11, 2019

آج سورج پر ایک کالا دھبا پڑے گا، جامعہ کراچی میں منظر دیکھنے کی تیاریاں

کراچی ۔جدت ویب ڈیسک ::آج شام سیارہ عطارد سورج کے عین سامنے سے گزرے گا، پاکستان میں منفرد نظارہ صرف کراچی اور زیریں سندھ میں دیکھا جاسکے گا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں نظام شمسی کا سیارہ عطارد آج سورج کے سامنے سے گزرے گا اور دنیا کے کئی ممالک میں ٹیلی اسکوپ کے ذریعے عطارد کے اس سفر کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔
پاکستان میں کراچی اور زیریں سندھ میں سیارہ چند منٹوں کے لیے نمودار ہوگا۔ جامعہ کراچی میں حالیہ نصب کی جانے والی 16 انچ میڈ دوربین کے ذریعے صحافیوں، طلبہ وطالبات اور عام افراد کو یہ منظر دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔
سیارہ عطارد نقطے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یہ واقعہ اگلی مرتبہ 13 سال بعد 2032ء میں نمودار ہوگا کیونکہ ایک صدی میں ایسا 13 مرتبہ ہی ہوتا ہے۔
اس سے قبل جون 2012ء میں زہرہ سیارہ سورج کے سامنے سے گزرا تھا اور اسے دیکھنے کے لیے جامعہ کراچی سمیت کئی اداروں نے خصوصی انتظامات کیے تھے۔
واضح رہے کہ عطارد سورج کے گرد بہت تیزی سے گزرتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کے مدار کی سطح زمین کی سیدھ میں نہیں ہوتی یا تو وہ سورج کے پس منظر میں اوپر ہوتا ہے یا پھر نیچے سے گزر جاتا ہے لیکن یہ ایک خاص لمحہ ہے جب ہماری زمین، عطارد اور سورج ایک ہی سیدھ میں ہیں۔

Image result for mercury and sun

Related image

November 6, 2019

سائنسی دنیا میں انقلاب، طالب علموں نے روبوٹک مکھیاں بنا لی

جدت ویب ڈیسک ::ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق طالب علموں کے ایک گروپ نے نرم پٹھوں والی شہد کی مکھیاں تیار کرلیں جو دو سینٹی میٹر تک اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔سائنس کے طالب علموں نے ’’روبو بی‘‘ نامی مکھی ایجاد کی جس دیواروں کو بالکل نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ یہ لچک دار پٹھوں کی مدد سے اڑ نے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
نرم اور لچکدار پٹھوں والی یہ روبوٹک مکھیاں دیوار کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچاتی اورکرنٹ کی مدد سے بالکل اصلی مکھیوں کی طرح اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ ماہرین کی تیار کردہ مکھی کے دو پر ہیں۔
ماہرین نے اسے انقلابی ایجاد قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی پٹھوں کے پروں کو باآسانی ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ پروجیکٹ میں ہارورڈ مائیکرو لیبارٹری اور ہارورڈ جون اے پاؤلسن اسکون انجینئرنگ اور اپلائیڈ سائنس کے ماہرین شامل تھے۔سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکھی کی رفتار کو ریموٹ کے ذریعے آسانی کے ساتھ کنٹرول کیا جاسکتا ہے، مجموعی طور پر یہ ایجاد بہت اہم ہے مگر اس روبوٹ میں کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔یوفینگ چین نامی طالب علم کا کہنا تھا کہ ’’مکھی کی ایجاد مائیکروبائیوٹکس کے شعبے میں بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کی مددسے لچک دار موبائل روبوٹس بھی تیار کیے جاسکتے ہیں‘‘۔

Image result for robotic bee

Related image

Image result for robotic bee

Image result for robotic bee