August 22, 2019

پاکستان میں پہلی مرتبہ فائیوجی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ

اسلام آباد : جدت ویب ڈیسک :: پاکستان ساؤتھ ایسٹ ایشیا میں فائیوجی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کرنےوالا پہلاملک بن گیا ہے، چیئرمین پی ٹی اے، وفاقی وزیر آئی ٹی اور کمپنی آج تفصیلات میڈیا کو دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ٹیلی کمیونی کیشن کے میدان سے بڑی خبر سامنے آگئی، پہلی بار فائیوجی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کر لیا، موبائل کمپنی زونگ نےفائیوجی ٹیکنالوجی کا اسپیڈ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا۔جس کے بعد پاکستان ساؤتھ ایسٹ ایشیا میں فائیوجی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کرنےوالا پہلاملک بن گیا ہے ، چیئرمین پی ٹی اے، وفاقی وزیر آئی ٹی اور کمپنی آج تفصیلات میڈیا کو دیں گے ۔
یاد رہے اس سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کا کہنا تھا کہ فائیو جی کے لائسنسز کا اجرا رواں سال نومبر میں ہوگا۔درخواستیں وصول کرنے کیلئے اخبار میں اشتہار دے دیا گیا جبکہ اس کا طریقہ کار بھی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 2014 میں تھری جی اور فور جی کے لائسنس کا اجرا کیا گیا تھا جس کے بعد بڑی تعداد میں صارفین نے اس کا استعمال شروع کیا۔
پی ٹی اے کے مطابق اب تک چار کروڑ 40 لاکھ افراد تھری جی اور فور جی کی سروس استعمال کررہے ہیں، فائیو جی لائسنس کیلئے مختلف ٹیلی کام سیکٹر کی کمپنیاں خواہش مند ہیں۔
واضح رہے کہ 5 جی سیلولر کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید اور تیز ترین ٹیکنالوجی ہے، ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق 5 جی ٹیکنالوجی سے اسمارٹ فونز پر انٹرنیٹ کی رفتار پچاس گنا بڑھ جائے گی ، جس کے ذریعے صارفین محض ایک سیکنڈ میں کئی میگا بائیٹ کی فلم ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔

August 20, 2019

آزادی رائے کا ڈھنڈورا پیٹنے والا بھارت ڈیجیٹل میڈیا پر قدغن لگانے لگا

جدت ویب ڈیسک ::ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعے دنیا بھر کو جموں و کشمیر میں بھارتی بربریت کے بارے میں معلومات دی جارہی تھیں جس پر پاکستان کی عوام میں شدیدبے چینی پائی جاتی ہے۔
جمہویت اور آزادی اظہار رائے کے علمبردار خود ہی آزادی رائے پر قدغنیں لگانے لگے۔ جب کہ دنیا بھر میں ڈیجٹیل میڈیا کو آزادانہ رائے کے اظہار کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے ٹوئیٹر اور فیس بک پر موجود جموں و کشمیر کے بارے میں کسی طرح کی بھی حمایت کرنے والے والے بیانات کو ان کے صفحات سے ہٹایا جارہا ہے۔
21ویں صدی میں بلاشبہ انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ کے استعمال سے ہم اپنے خیالات کا اظہار ایک بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔دنیا بھر سمیت کی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹویٹرکے 1.62 ملین جبکہ 31 ملین فیس بک کو استعمال کررہے ہیں۔
جموں و کشمیر کے حالات و واقعات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والے افراد کے اکاونٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ٹوئیٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کے استعمال پرقبضہ کرنے کے لئے ہندوستانی قانون لاگو کو کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹویئٹر اور فیس بک دونوں ہندوستان میں رجسٹرڈ ہیں جسکی وجہ سے پاکستان کی عوام کی طرف سے جو بھی سوشل میڈیا پرجموں و کشمیر کے بارے میں مواد پیش کیا جارہا ہے اس کو معطل کیا جارہا ہے جس پر پاکستانی عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی رائے کی حمایت کرنے والے ممالک کس طرح اپنے ملک کا قانون لاگو کرسکتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے استعمال سے ہم اپنے خیالات کا اظہار ایک بہتر انداز میں کرسکتے ہیں اور اگر اس کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ معلومات کا ایک مفید ذریعہ ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل دنیا میں استعمال ہونے والے منفی پروپیگنڈے کو روکے جانے کے لئے مناسب اقدامات ہونے چاہیں۔ٹیک کمپنیاں ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی کارروائیوں سے علاقوں کو تقسیم کردیا ہے تاکہ علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کو آسانی سے پایا جاسکے لیکن اس تقسیم سے پاکستان کی عوام میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
عوام کا کہنا تھا کہ ٹوئیٹر اور فیس بک کا بھارت سے کنٹرول کیا جانا افسوس ناک ہے جبکے ڈیجیٹل دنیا میں ٹویٹر اور فیس بک کے بانی ہمیشہ سے آزادی رائے اور قوانین کی پاسداری کا اعلان کرتے آئے ہیں۔
جموں و کشمیر کے لئے رائے دینے والے ٹوئیٹر اور فیس بک کے یوزر کے اکاؤنٹس معطل کئے جا رہے ہیں جس پر پاکستانی عوام کی طرف سےسخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہناتھا کہ جموں و کشمیر کے حالات کے بارے میں آگاہی کس طرح دی جائے اور کیسے ممکن ہے کہ دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ دکھایا جائے کیوں کہ وہ کشمیری عوام کے بارے میں آگاہی کے لئے جو بھی خبر دے رہے ہیں ان کو صفحات سے ہٹایا جا رہا ہے جو کہ ظلم کے مترادف ہے۔
بھارت کے قوانین پر اگر نظر ڈالی جائے توایسی کوئی بھی رائے ان بلاگز پر نہیں دی جاسکتی جو کہ بھارت کے قوانین کے منافی ہو یا ریاست کی فیصلوں کو چیلنج کرتی ہو۔جب کہ ٹیک جین کی پالیسیاں بھارت کی قوانین کے منافی ہیں کیونکہ ہر انسان کو اپنی رائے دینے کا حق ہے۔
بھارت کی طرف سے بہیمانہ اقدام کی بہترین مثال اس وقت منظر عام پر آئی جب برھان وانی کی رائے کو ٹویئٹر اور فیس بک سے ہٹا کر اکاونٹس کو معطل کردیا گیا تھا یہ اور بات ہے کہ انٹرنیٹ کے قوانین بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے قوانین لاگو کئے جائیں۔

August 17, 2019

ہواوے کا نیا 5 جی اسمارٹ فون لانچ ۔مِنٹوں میں فروخت

بیجینگ جدت ویب ڈیسک ::: چین کی اسمارٹ فونز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہواوے نے 5 جی اسمارٹ فون موبائل میٹ 20 ایکس لانچ کر دیا جو چند منٹوں میں فروخت ہو گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق ہواوئے نے اگست کے مہینے میں وعدے کے مطابق پہلا فائیو جی موبائل لانچ کیا جس کے تمام یونٹس بہت ہی قلیل وقت کے اندر بک گئے۔
اس وقت ہواوئے میٹ ایکس دنیا کا واحد اسمارٹ فون موبائل ہے جو فائیو جی کے ساتھ ساتھ ایس اے اور این ایس اے کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
ہواوئے کے اس جدید موبائل کی قیمت چھ ہزار ایک سو ننانوے یوان یعنی کے 880 امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی ایک لاکھ چالیس ہزار روپے بنتی ہے۔
اس سے قبل ہواوئے کا میٹ 20 ایکس موبائل لانچ کیا جا چکا ہے مگر نئے ورژن میں فائیو جی کی سہولت بھی موجود ہے۔
یاد رہے گزشتہ ہفتے ہی اینڈرائیڈ کے حقوق کھونے کے ڈر سے ہواوے نے اپنا آپریٹنگ سسٹم مارکیٹ میں پیش کیا تھا۔
اس حوالے سے ہواوئے کمپنی کے ایک عہدے دار ریچرڈ یو نے پریس کانفرنس میں ہارمنی آپریٹنگ سسٹم جسے چینی زبان میں ہونگ مینگ کا کہا جاتا ہے، کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ ہارمنی دنیا بھر میں صارفین کے لئے نت نئی سہولیات لائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ جدید آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ سے بالکل مختلف ہے، یہ بہت زیادہ محفوظ اور کارکردگی میں بہترین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس آپریٹنگ سسٹم کو رواں سال میں کسی بھی وقت اپنی اسمارٹ فون ڈیوائسز میں لانچ کر دیں گے۔
یو کا بتانا تھا کہ اگر اینڈروئڈ کے استعمال میں مکمل پابندی عائد کر دی جاتی ہے تو ہم اپنی ڈیوائسز کو مکمل طور پر اپنے آپریٹنگ سسٹم میں منتقل کر دیں گے۔
واضح رہے گزشتہ ماہ ہواوے نے امریکی پابندیاں نرم ہونے کے باوجود دنیا کے مقبول ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہواوے کے بانی رین زین فائی کےمطابق کمپنی کا اپنا ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ سے زیادہ تیز اور بہتر ہے اور ہم بتدریج پرانہ سسٹم چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ کے مقابلے 60 فیصد تیز ہے اور صرف موبائل فونز کے لیے مخصوص نہیں۔
ہواوے کمپنی کا تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم انٹرنیٹ راؤٹرز، معلومات محفوظ کرنے والے مراکز، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ اور خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں میں بھی استعمال ہو سکے گا۔

August 16, 2019

واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا فیچر متعارف کرا دیا ہے

جدت ویب ڈیسک ::واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی خوشخبری۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر میں میسجنگ کے لیے سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپلیکیشن (ایپ) واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا فیچر متعارف کرا دیا ہے۔
اس سال کے شروع میں واٹس ایپ کے آئی او ایس صارفین کے لیے چہرے کے ذریعے تصدیق کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی اور اب واٹس ایپ بِیٹا کے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی اسے شروع کر دیا گیا ہے تاہم اس کا استعمال فون میں فنگر پرنٹ اسکینر کی موجودگی سے مشروط ہے۔
اس فیچر کو استعمال میں لانے کے لیے ان ہدایات پر عمل کیجئے
واٹس ایپ بِیٹا ورژن کو اینڈرائیڈ ڈیوائس پہ کھولیں اور سب سے اوپر دائیں جانب دیے گئے مینیو کے آپشن کو منتخب کریں۔
اب ترتیبات پر جائیں اور اکاؤنٹ کا آپشن منتخب کریں۔
یہاں پر آپ کو پرائیویسی کا آپشن نظر آئے گا اسے منتخب کیجئے۔
پیج کو نیچے سکرول کریں اور فنگر پرنٹ لاک آپشن دیکھیں (پہلے سے طے شدہ اصول کے مطابق یہ بند ہو گا)۔
اس آپشن کو ٹچ کریں اور آن کر دیں۔
اس کے بعد واٹس ایپ آپ کو فنگر پرنٹ سنسر کو ٹچ کرنے کی ہدایت دے گا۔
آخر میں واٹس ایپ آپ سے مقررہ وقت مانگے کا جس کے بعد یہ ایپ خودکار طریقے سے لاک ہو جائے گی۔
حیران کن طور پر آئی فون اور آئی پیڈ کا استعمال کرنے والوں کے لیے چہرے اور فنگر پرنٹس دونوں کے ذریعے شناخت کا آپشن موجود ہے

July 26, 2019

چین کا جہاز سے تیز چلنے والی ٹرین بنانے کا فیصلہ

بیجنگ: جدت ویب ڈیسک ::چین نے جہاز سے تیز چلنے والی ٹرین چلانے کا فیصلہ کرلیا جس کی رفتار 500 میل فی گھنٹہ رکھی جائے گی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کی جانب سے مختلف شہروں میں جہاز سے تیز چلنے والی ٹرین بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کی رفتار 600 سے 800 کلو میٹر کے درمیان 373 سے 497 مائلز پر آور رکھی جائے گی۔تیز ترین ٹرین بنانے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے چین کے سچوان صوبے میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا اور جہاز سے تیز چلنے والی ٹرین بنانے کی منظوری دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق تیز رفتار ٹرین بنانے کا مقصد ٹریفک کو اپ ڈیٹ کرنا ہے جس کے ذریعے دور دراز شہروں کے راستوں کو منٹوں میں طے کیا جاسکے گا۔
چین کے ویسٹرن شہروں چینگدو اور چانگنگ کے درمیان یہ ٹرین چلائی جائے گی جس کی آبادی 50 ملین کے لگ بھگ ہے۔
واضح رہے کہ چین تیز رفتار کمرشل ٹرین چلانے والا ملک ہے لیکن ملک کے انجینئرز چاہتے ہیں کہ ملک کے شہری اور تیزی سے اپنی منزل کی جانب پہنچ سکیں۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ ٹرین 2020 میں مکمل کرلی جائے گی اور اس کا پہلا تجربہ 2021 میں کیا جائے گا۔
انتظامیہ کی جانب سے اس ٹرین کو ’اڑنے والی ٹرین‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی لاگت ایک بلین پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں چین نے تیز رفتار ٹرین چلانے کا دعویٰ کیا تھا جو 373 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک کارپوریشن کی مدد سے تیار کی جانے والے ٹرین کی مکمل پروڈکشن 2021 میں شروع ہوگی جبکہ اسے آزمائشی مراحل سے گزارا جارہا تھا۔

July 19, 2019

موبائل ایپلیکشن ٹک ٹاک کا نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

نیویارک: جدت ویب ڈیسک :: سماجی رابطے کی ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکشن ٹک ٹاک نے نئے فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک ایک ایسی موبائل ایپ اور پلیٹ فارم ہے جہاں صارف اپنی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جو مختلف انداز کی ہوتی ہیں، دنیا بھر میں صارفین کی تعداد بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے پالیسی میں سختیاں بھی کیں۔ٹک ٹاک استعمال کرنے والا صارف اپنے پسندیدہ گانوں یا جملوں کا انتخاب کر کے صرف ہونٹ ہلا کر اپنی ویڈیو بھی ریکارڈ کرسکتا جبکہ اپنی ویڈیو کے پیچھے ایپ کے ذریعے ہی میوزک ڈال سکتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ ایک برس کے دوران ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ، ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں 80 ہزار سے زائد صارفین یہ ایپ استعمال کررہے ہیں۔ٹک ٹاک انتظامیہ صارفین کو اچھی سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف فیچرز متعارف کراتی ہیں، گزشتہ دنوں ویڈیو دیکھنے والے صارفین کی تعداد کا فیچر متعارف کرایا گیا یعنی اب ویڈیو شیئر کرنے والے کے علاوہ دوسرا صارف بھی views ، کمنٹس کو دیکھ سکتا ہے۔تاہم اب اطلاع یہ سامنے آئی ہے کہ ٹک ٹاک نے اکاؤنٹ سوئچ فیچر پر کام شروع کردیا، یعنی ایپ میں ایک سے زائد آئی ڈی ایڈ ہوگی اور پھر صارف جس سے چاہیے گا ویڈیوز شیئر کرسکے گا۔

July 15, 2019

کرّہِ ارض اور مریخ کے درمیان خلا میں تیرتی ایک کیتلی۔حقیقت کیا؟

جدت ویب ڈیسک ::کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ خلا میں ایک چھوٹی سے کیتلی معلق تیر رہی ہے؟خدا کے وجود کی بحث میں برٹرینڈ رسل کی ’کیتلی‘ کا کیا مقام ہے؟
آپ تصور کریں کہ آپ اپنی کسی دوست کے ساتھ چائے نوش کر رہے ہیں اور وہ آپ کو بتاتی ہے کہ کرّہِ ارض اور مریخ کے درمیان خلا میں ایک کیتلی سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔
عین ممکن ہے کہ آپ اپنی دوست سے کہیں گے کہ وہ اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت دے۔
لیکن آپ کی دوست کہے گی کہ کیتلی اتنی چھوٹی شے ہے کہ دنیا کی انتہائی طاقتور دوربین کے ذریعے بھی اسے دیکھا نہیں جا سکتا۔ اس طرح آپ کی دوست یہ ثابت تو نہیں کر سکتی کہ خلا میں کیتلی وجود رکھتی ہے، تاہم آپ بھی اسے یہ نہیں دکھا سکتے ہیں کہ کیتلی وجود نہیں رکھتی ہے۔لہٰذا یہی ایک دوہری مشکل والی تذبذب کی کیفیت ہے۔ کیتلی کا وجود ہے یا نہیں ہے، اس بات کو ثابت کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟بظاہر ایک سادہ سی یہ بے ضرر مثال خدا کے وجود پر ایمان رکھنے والوں اور خدا کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والوں (دہریوں) کے درمیان ہونے والی گرم جوش بحث کا ایک کلیدی حصہ بن جاتی ہے۔
کیتلی کے خلا میں وجود پر بحث کی مثال نوبل انعام یافتہ معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نے سنہ 1952 میں اپنے ایک مقالے میں بیان کی تھی جس کا عنوان تھا ’کیا خدا ہے؟‘
حیاتیات کے علوم کے ایک برطانوی ماہر رچرڈ ڈوکِنز، جو کہ اس وقت دہریت کے نظریات رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی نمائندہ آواز ہیں، اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں کیتلی کے خلا میں وجود کی مثال کو اکثر پیش کرتے ہیں۔لیکن بھلا برٹرینڈ رسل کی کیتلی کا خدا کے وجود کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا تعلق ہے؟
مقدس کیتلی
رسل کو خود بھی خلا میں کیتلی کے وجود کی مثال بے معنی لگتی تھی، لیکن اس نے تصور کیا تھا کہ اس قسم کی کوئی ایک کیفیت ہو تو سکتی ہے۔
برٹرینڈ رسل نے سنہ 1950 میں لکھا تھا کہ ’اگر اس قسم کی کیتلی کے وجود میں ہونے کو قدیم کتابوں میں ثابت کر دیا گیا ہوتا، اسے ہر اتوار کو بچوں کو ایک مقدس سچ کے طور پر پڑھایا جاتا اور سکولوں میں بچوں کے ذہن میں راسخ کر دیا جاتا تو خلا میں کیتلی کے وجود کی بات کو تسلیم کرنے میں اگر کوئی بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ دکھاتا تو اسے ایک پاگل سمجھا جاتا۔‘
رسل نے مزید لکھا تھا کہ اس بات پر شک کرنے والے کو یا تو ذہنی امراض کے معالج کے پاس بھیج دیا جاتا یا حیران کن باتوں کا مطالعہ کرنے والے کے پاس۔دہریت کے قائل اس فلسفی کی دراصل دلیل یہ تھی کہ اگر لوگوں کی کثیر تعداد خدا پر ایمان رکھتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کا وجود ہے۔خاص طور پر رسل کا دعویٰ یہ تھا کہ کسی شے کے وجود کو ثابت نہ کر پانے کو اس شے کے وجود کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

برٹرینڈ رسل کیتلی خدا دہریت ایمان

برٹرینڈ رسل کیتلی خدا دہریت ایمان

Bertrand Russell

June 29, 2019

واٹس ایپ کا نیا فیچر متعارف

جدت ویب ڈیسک ::تفصیلات کے مطابق، یہ خصوصیت فی الحال ترقیاتی مرحلے .میں ہے اور آنے والی ہفتوں میں روٹنگ شروع کرنا ہے.WhatsApp will introduce “Hide Muted Status” feature
WABetaInfo کی طرف سے شائع ہونے والے ایک رپورٹ کے مطابق، فیس بک کے ملکیت کے پیغام رسانی ایپ Whatsapp نے اعلان کیا ہے کہ اضافی خصوصیت کو “چھٹی خاموش حیثیت” کہا جائے. تفصیلات کے مطابق، اس خصوصیت کو WhatsApp صارفین کو جب تک وہ چاہتے ہیں خاموش کہانیوں کو دور کرنے کی اجازت دے گی. اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی کی کہانی خاموش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو WhatsApp کی کہانیاں / حیثیت کے نچلے حصے پر نظر آئے گا.فی الحال، کسی بھی شخص کی حیثیت کو گونگا کرنے کے لئے، آپ کو کرنا ہے کہ اسٹیٹ اپ ڈیٹ پر لمبا پریس پریس کریں اور گونگا نامی ایکشن کو منتخب کریں جو اس مخصوص رابطہ کے ذریعہ حیثیت کی تازہ کاری کرے گی جس کے نیچے گرے آؤٹ آؤٹ ریاست میں موجود ہے. کہانیاں ونڈو. خاموش اپ ڈیٹس ہیڈر کے آگے نیا “چھپائیں” کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، یہ خاموش کہانیوں کی فہرست بنائی جائے گی اور آپ کو حیثیت کی ونڈو کے نچلے حصے میں کوئی مجسمہ نہیں مل جائے گا جس سے آپ کو ایک صاف حیثیت کے نقطہ نظر بھی پیش کرے گا. متفق ہونے کے بعد، اگر آپ کسی بھی رابطہ کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو کرنا ہے کہ ونڈو کے ہیڈر میں ‘شو’ کا اختیار اختیار کریں اور انفرادی خصوصیت کا استعمال کریں.