July 3, 2020

کورونا وائرس ۔ ناسا کی منفرد ڈیوائس۔کیسے کام کرتی ہے۔دیکھیے

جدت ویب ڈیسک ::امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو نوول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکے گی۔
ناسا کی جیٹ پروپلسیون لیبارٹری نے ایک نیکلس یا ہار تیار کیا ہے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ اپنے چہرے کو چھونے جارہے ہیں۔اس ڈیوائس کو پلس (Pulse) کا نام دیا گیا ہے اور اسے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کیا گیا۔اس میں ایک سنسر لگایا گیا ہے جو اس وقت ارتعاش یا وائبریشن پیدا کرتا ہے جب ہاتھ چہرے کی جانب بڑھتے ہیں۔ہاتھ چہرے کے جتنا قریب ہوگا ارتعاش اتنا زیادہ طاقتور ہوگا۔
ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘اس ویئرایبل ڈیوائس کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم از کم کرنے میں مدد دینا ہے، جو اس وقت پھیلتا ہے جب کوئی فرد کسی آلودہ سطح کو ہاتھوں سے چھوتا ہے اور پھر اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو چھوتا ہے’۔بیان میں مزید بتایا گیا ‘اس ڈیوائس سے لوگوں کو اندازہ ہوسکے گا کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چہرے کو دن بھر میں کتنی بار چھوتے ہیں، یہ ایسا لاشعوری رویہ ہے جس پر کوئی غور بھی نہیں کرتا’۔امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائس کم قیمت اور آسانی سے کوئی بھی تیار کرسکتا ہے۔اس کو تیار کرنے کا طریقہ کار اور پرزوں کی فہرست اوپن سورس فراہم کی گئی ہے اور کوئی بھی مفت ان کی مدد سے اس ڈیوائس کو تیار کرسکتا ہے۔دہگر ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ایپل، سام سنگ اور گوگل سمیت دیگر کی جانب سے بھی ڈیوائسز میں ایسی اپ ڈیٹس کی جارہی ہیں جن کا مقصد کووڈ 19 کے پھیلاؤ میں کمی لانا ہے۔سام سنگ اور گوگل نے اسمارٹ واچز کے لیے ہاتھ دھونے کے حوالے سے ٹائمر پیش کیے ہیں جبکہ ایپل نے اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران متعدد فیچرز متعارف کرائے جن میں سے ایک ایپل واچ میں ہینڈ واش ٹائمر بھی تھا۔خیال رہے کہ گھر سے باہر فیس ماسک کا استعمال، عام استعمال کی اشیا کو اکثر صاف کرنا، ہاتھوں کو اکثر دھونا اور اپنے منہ کو کم از کم چھونا کورونا وائرس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

— فوٹو بشکریہ ناسا

July 3, 2020

وی پی این رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ

ویب ڈیسک ::پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کاروباری اداروں اور عام افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وی پی این ایس رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
اب صارفین 31 جولائی تک رجسٹریشن کراسکیں گے۔
گزشتہ مہینے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ملک میں انٹرنیٹ پر ہر طرح کے مواد تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) سافٹ ویئر استعمال کرنے والے صارفین کو رجسٹریشن کے لیے 30 جون تک مہلت دی گئی تھی، تاہم اب اس مدت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
بیان میں انٹرنیٹ صارفین کو تجویز دی گئی کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے 31 جولائی تک وی پی این کی رجسٹریشن کروالیں، جبکہ متعلقہ معلومات کے لیے ای میل ایڈریس ipreport@pta.gov.pk پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

July 1, 2020

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے جدید منصوبہ پاکپاس ایپ متعارف

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے ایک جدید منصوبہ پاکپاس ایپ متعارف کرا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت نے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ، ان کی نقل و حرکت اور ہوم قرنطینہ سے متعلق معلومات اکھٹی کرنے کا جدید منصوبہ بنا لیا۔اس سلسلے میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے پاکپاس موبائل ایپ متعارف کرائی گئی ہے، تمام مسافروں کو پاکپاس موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، پاکپاس ایپ کے لازمی استعمال کے حوالے سے ایئر پورٹس انتظامیہ اور ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کر دی گئیں، جب کہ سی اے اے کے شبعہ ایئر ٹرانسپورٹ نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ موبائل ایپ متعارف کرانے کا مقصد پاکستان پہنچنے والے مسافروں کا 14 دن تک قرنطینہ موجودگی کو لازمی بنانا ہے، ایپ کے ذریعے ان کی ٹریکنگ ہوگی۔
ایپ سے کرونا ٹیسٹنگ اور ہوم آئسولیشن کے بارے میں معلومات اکٹھا کی جا سکیں گی، سی اے اے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ٹکٹ بک کرواتے وقت ایئرلائن انتظامیہ مسافروں کو بذریعہ ای میل موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ہدایت کرے، اور چیک اِن، بورڈنگ ڈیسک پر مسافروں کے موبائل میں ایپ کی موجودگی یقینی بنائے۔ ایئر لائن انتظامیہ بورڈنگ پاس پر موبائل ایپ کا لِنک پرنٹ کرے گی، بورڈنگ کے وقت انتظامیہ پاسپورٹ کے ساتھ موبائل ایپ پر درج پاسپورٹ نمبر بھی چیک کرے گی، موبائل ایپ انسٹال نہ کرنے والے مسافروں کے خلاف لینڈنگ کے وقت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ فیملی کی صورت میں ایک فرد ہی موبائل ایپ انسٹال کرے گا، اسمارٹ فونز نہ رکھنے والے مسافروں کو ایئر پورٹ پر سخت عمل سے گزارا جائے گا۔

June 29, 2020

(ناسا) چاند کےلیے بیت الخلاء کا ڈیزائن تیار کرنے والے کو انعام دینے کا اعلان

واشنگٹن :جدت ویب ڈیسک :: امریکی خلائی ادارے (ناسا) نے چاند کےلیے بیت الخلاء کا ڈیزائن تیار کرنے والے کو 33 لاکھ سے زائد انعامی رقم دینے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ناسا میں ٹوائلٹ ڈیزائن جمع کرانے کی آخری تاریخ 17 اگست ہے، جس شخص کا ڈیزائن سب سے بہترین ہوگا اسے 20 ہزار ڈالر جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے کو 10 اور تیسرے نمبر پر آنے والے شخص کو 5 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ناسا کی جانب سے یہ اعلان خلانورد کی سہولت کےلیے کیا گیا ہے تاکہ انہیں خلا میں بھی گھر جیسی سہولیات میسر آسکیں۔

ناسا نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص چاند کےلیے کمپیکٹ ٹوائلٹ کا ڈیزائن تیار کرے اسے 20 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا تاہم بیت الخلاء کو ناسا کے فراہم کردہ اصولوں کے مطابق ہی تیار کرنا ہوگا۔

امریکی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ چاند کےلیے تیار کیے جانے والے ٹوائلٹ کا ڈیزائن 4.2 کیوبک فٹ سے بڑا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس میں 60 ڈیسیبل سے زیادہ آواز ہونے کی گنجائش ہو۔

ناسا کا کہنا ہے کہ خلانورد اپنے کیبن میں ہوتے ہیں تو وہ اپنا اسپیس سوٹس اتار دیتے ہیں اور انہیں وہاں بھی بیت الخلاء کی ضرورت پڑتی ہے جس میں وہ تمام سہولیات موجود ہوں جو ایک گھر میں موجود ٹوائلٹ میں ہوتی ہیں۔

June 27, 2020

خلا میں کام کے دوران غلطی سے آئینہ گر گیا۔ خلا کی وسعتوں میں گم ۔ناسا

جدت ویب ڈیسک ::امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ایک خلا باز نے خلا میں کام کے دوران غلطی سے ایک چھوٹا سا آئینہ گرا دیا جو خلا کی وسعتوں میں گم ہوچکا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ خلا باز کمانڈر کرس بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے خلائی چہل قدمی (اسپیس واک) کے لیے باہر جارہے تھے، انہیں اسٹیشن کی بیٹریز پر کام کرنا تھا جب ان کے لباس سے آئینہ گر پڑا۔
ناسا کے مطابق یہ آئینہ خلا بازوں کے لباس میں نصب ہوتا ہے اور کمانڈر کرس جب خلائی اسٹیشن سے باہر نکلے تو کسی طرح یہ ان کے لباس سے علیحدہ ہوگیا۔ مذکورہ آئینہ ایک فٹ فی سیکنڈ کے حساب سے خلا میں تیرتا ہوا کمانڈر کی پہنچ سے دور ہوگیا، اب یہ آئینہ خلا میں زمین کے مدار میں بڑی تعداد میں تیرتے خلائی ملبے کا حصہ ہے تاہم اس سے خلائی مشن، خلائی اسٹیشن یا خلا بازوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ہالی ووڈ فلم گریویٹی کا منظر، جس میں خلا باز (جارج کلونی) مذکورہ آئینے میں اپنے پیچھے موجود خلا باز کو دیکھتا ہے
ناسا کا کہنا ہے کہ یہ آئینہ خلا بازوں کے خلائی لباس میں ہر آستین پر نصب ہوتا ہے تاکہ کام کے دوران خلا باز اس کی مدد سے آس پاس بھی نظر رکھ سکیں۔ یہ آئینہ 3 بائی 5 انچ کا ہوتا ہے اور اس کا وزن منسلک کیے جانے والے بینڈ سمیت بمشکل ایک پاؤنڈ کا دسواں حصہ ہوتا ہے۔
ناسا کے مطابق خلا باز کمانڈر کرس اپنے ایک اور ساتھی باب بینکن کے ساتھ خلائی اسٹیشن کی پرانی نکل ہائیڈروجن بیٹریوں کو تبدیل کرنے کا کام کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں نئی لیتھیئم آئن بیٹریز نصب کی جارہی ہیں جو اب اس وقت تک کے لیے کافی ہوں گی جب تک خلائی اسٹیشن فعال رہے گا۔ سنہ 2017 سے شروع کیے جانے والے اس مشن میں اب تک 18 بیٹریز اسٹیشن میں نصب کی جاچکی ہیں جبکہ خلا باز کرس اور باب مزید 6 بیٹریز نصب کریں گے۔یہ کام رواں برس جولائی تک مکمل ہوجائے گا جس کے بعد کمانڈر کرس اگست میں زمین پر واپس لوٹ آئیں گے۔

Mirror | Space nasa, Space exploration, Space flight

NASA astronaut admits losing wrist mirror during spacewalk

June 27, 2020

گوگل کی نئی سہولت۔ڈیٹا خود بہ ڈیلیٹ ۔صارفین کیا کریں؟

نیویارک جدت ویب ڈیسک ::: انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے صارفین کا ایک سال پرانا ڈیٹا خود کار طریقے سے ڈیلیٹ کرنے کا نظام متعارف کروادیا۔
ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے گزشتہ روز کمپنی کی جانب سے پرائیویسی سینٹگز میں ہونے والی تبدیلیوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ اب صارفین کا ایک سال پرانا ڈیٹا سسٹم سے خود بہ خود ڈیلیٹ ہوجائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اب صارفین کو کمپنی کی جانب سے ریکارڈ کی گئی تمام معلومات کو 3 سے 18 مہینے کے دوران خودکار طریقے سے ڈیلیٹ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
گوگل نے اس تبدیلی کے ساتھ ہی ڈیفالٹ سیٹنگز کو تبدیل کر کے اسے آٹو ڈیلیٹ کردیا، جس کے بعد صارفین کی معلومات مخصوص وقت کے بعد خود بہ خود ڈیلیٹ ہوجائیں گی۔
سروس کے بعد بھی صارفین کے پاس اپنی مرضی سے معلومات ڈیلیٹ کرنے کا آپشن موجود رہے گا یعنی اگر وہ کچھ ریکارڈ کو محفوظ رکھنا چاہیں تو رکھ سکیں گے۔
لوکیشن ہسٹری
گوگل کے نئے نظام کے تحت لوکیشن ہسٹری 18 مہینے کے بعد خود بخود ختم ہوجائے گی۔
ویب اور ایپ استعمال کا ریکارڈ
گوگل ویب اور ایپ کی ہسٹری بھی 18 ماہ کے بعد خود بہ خود ڈیلیٹ ہوجائے گی، صارفین کو کمپنی پہلے ای میل کر کے آگاہ کرے گی تاکہ وہ اپنا ڈیٹا محفوظ کرلیں۔
یوٹیوب ہسٹری
گوگل کی نئی سروس کے تحت یوٹیوب پر سرچ کیا جانے والا مواد 36 ماہ بعد نظر آنا بند ہوجائے گا۔
گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے بتایا کہ صارفین کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے حساب سے ریکارڈ محفوظ رکھ سکیں، صارفین کو سیٹنگز میں جاکر آپشن آن کرنا ہوگا۔

Google will now automatically delete Web & App activity, Location history, and YouTube search history for new users

June 22, 2020

گوگل نے تفصیلات جاری کردیں۔پاکستانیوں نے لاک ڈاؤن میں کیا سرچ کیا؟

کراچی:جدت ویب ڈیسک :: گوگل نے پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ سرچنگ کی تفصیلات جاری کردیں، لاک ڈاؤن میں آن لائن گراسریز ڈیلیوری کی تلاش میں 300 فیصد اضافہ ہوا ، پاکستانی صارفین زیادہ تر ماحول، صحت مند طرز زندگی اور آن لائن خریداری کے بارے میں مواد سرچ کررہے ہیں۔
گوگل ایشیا پیسفک کے انڈسٹری ہیڈ فار ساؤتھ ایشیا، فراز اظہر نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صارفین بلند تر نفاست، زیادہ پائیدار اشیا اور خدمات میں دلچسپی لیتے ہیں اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران، صحت مند تر طرز زندگی کی جانب اْن کی رغبت بڑھی ہے۔
گوگل کے مطابق پانچ میں سے چار پاکستانی صارفین خریداری سے پہلے مصنوعات آن لائن تلاش کرتے ہیں اور آن لائن سرچ اور ویڈیو کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران آن لائن گراسریز کی خریداری بڑھ گئی اور کورونا کی وبا سے قبل اور بعد میں آن لائن گروسریز ڈیلیوری کی تلاش میں 300 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
صارفین کی جانب سے مصنوعات کی تلاش میں اپنے اردگرد اور قریبی فراہمی کے آپشن کے استعمال میں 138 فیصد اضافہ ہوا، اسی روز ڈیلیوری کا آپشن استعمال کرنے کے رجحان میں ڈیڑھ گنا جبکہ تیز رفتار ڈیلیوری کے آپشن سرچ کرنے والوں کی تعداد میں 130 فیصد اضافہ ہوا۔
گوگل کے مطابق پاکستانی انٹرنیٹ صارفین ماحول کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس سے متعلق مواد کی تلاش میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ”موسمیاتی تبدیلی“ اور ”الیکٹرک گاڑیوں“سے متعلق مواد کی تلاش میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا جبکہ قابل تجدید توانائی کے بارے میں معلومات کی تلاش 130 فیصد بڑھ گئی۔
پاکستان میں گوگل سرچ استعمال کرنے والے ہوا کے معیار اور آلودگی کے واضح اثرات کے بارے میں بھی تجسس رکھتے ہیں کیوں کہ کلیئر اسکائز کی تلاش میں 300 فیصد اضافہ ہوا، کلین ایئر کی تلاش میں 225 فیصد صاف پانی کی تلاش میں 217 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گوگل کے مطابق ڈیجیٹل ویڈیو کے استعمال میں اضافہ جاری ہے، ویڈیو اسٹریمنگ اور شیئرنگ کے پلیٹ فارمز وہ مقامات ہیں جہاں پاکستانی اپنی معلومات، تفریح، خبروں اور کھیلوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
اسی طرح صحت بخش طرز زندگی یعنی خوراک اور ورزش کا رجحان بھی پاکستانیوں میں بڑھ رہا ہے، پاکستان میں کھانا پکانے سے متعلق مختلف شاندار روایتیں پائی جاتی ہیں تاہم متبادل خوراک اور خوراک کے ایسے طریقے جنہیں انسانی صحت کے اعتبار سے بنایا گیا ہو ان کی سرچنگ میں بھی اضافہ ہوا جب کہ ”یومیہ ورزش“ کی تلاش میں 160 فیصد اضافہ ہوا۔

June 20, 2020

میگزیمائیزیشن‘ ۔ واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرادیا

جدت ویب ڈیسک ::سان فرانسسکو: پیغام رسانی کی سب سے بڑی موبائل اپیلیکیشن واٹس ایپ نے بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا۔
پیغام رسانی کی معروف ایپلی کیشن واٹس ایپ پر خصوصی نظر رکھنے والے ادارے ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے صارفین کے لیے گروپ ویڈیو کال سے متعلق نیا فیچر متعارف کرایا۔
یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین استعمال کرسکتے ہیں۔
نئے فیچر کو ’میگزیمائیزیشن‘ کا نام دیا گیا جس کے تحت صارف ویڈیو کال میں موجود دستوں میں سے کسی کا انتخاب کر کے اُس سے رابطہ کرسکتے ہیں اور اب انہیں پوری اسکرین پر ویڈیو نظر آئے گی۔
یاد رہے کہ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے گروپ کالنگ میں دوستوں کی تعداد بڑھانے کی سہولت متعارف کرائی جس کے بعد ایک اور فیچر بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت صارف فیس بک کے دوست کو بھی گروپ کالنگ میں ایڈ کرسکتا ہے۔پیغام رسانی کی معروف ایپلیکشن واٹس ایپ کے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین موجود ہیں جن کو سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کمپنی نت نئے فیچرز متعارف کرواتی ہے۔