October 11, 2019

روسی خلا باز کا خلا میں مصنوعی گوشت بنانے کا کامیاب تجربہ

جدت ویب ڈیسک :؛ خلیات سے گوشت بنانا آنے والے وقتوں میں اب صرف سائنسی تجربات یا سائنس دانوں کا ہی کمال نہیں رہے گا کیوں کہ روس کے ایک خلا باز نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں سیلز سے گوشت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق روسی خلا باز نے ستمبر میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں مختلف تجربات کیے جس میں تھری-ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے مختلف ٹشوز سے گائے، خرگوش اور مچھلی کے گوشت کی تخلیق کی گئی۔
خلا میں ان تجربات کے لیے خلیات فراہم کرنے والے اسرائیل کی فرم کے سربراہ دیدیر طوبیا کا کہنا تھا کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے طویل سفر کرنا ممکن ہو پائے گا جب کہ اس سے خلا میں بھی نئی دریافتیں ممکن ہو سکیں گی۔دیدیر طوبیا کے مطابق ہمارا مقصد تو زمین پر گوشت فروخت کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نئی تخلیق سے فارمنگ کے روایتی طریقوں میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے تاہم بڑے پیمانے پر ہونے والی فیکٹری فارمنگ میں اس سے معاونت حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ گائے کے گوشت کے نوزائیدہ خلیے سے برگر بنانے کا تجربہ نیدر لینڈز کی ماسٹرہیتھ یونیورسٹی میں کیا گیا تھا۔
2013 میں ہونے والے اس تجربے کے بعد کئی اداروں نے اس تخلیق کا فارمولا لیا اور بعد میں اسے استعمال بھی کیا گیا۔
خلیات سے بنائے جانے والے گوشت کے نام کے حوالے سے بحث ابھی بھی جاری ہے کہ اس گوشت کو لیبارٹری کا گوشت کہا جائے یا مصنوعی گوشت کا نام دیا جائے یا خلیات سے بنایا گیا گوشت کہہ کر پکارا جائے۔
امریکہ کے شہر سان فراسسکو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں خلیات سے بنائے جانے والے گوشت کے حوالے سے کیلی فورنیا کی فرم جسٹ کے سربراہ جوش ٹیٹرک کا کہنا تھا کہ اس گوشت کی دستیابی جلد ممکن ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے یہ بڑی فوڈ چینز میں دستیاب نہ ہو لیکن ہوٹلوں کی ایک بڑی تعداد میں اس کا استعمال کیا جائے گا۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ نوزائیدہ خلیات سے تیار کیا جانے والا گوشت ایک سے دو دہائیوں میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔
کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے گوشت کی تیاری کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی جس سے ضروریات کے مطابق گوشت کی تیاری کے تجربے ہو سکیں گے۔
مچھلی اور جانوروں کے گوشت کے متبادل ذرائع کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے ‘گُڈ فوڈ انسٹیٹیوٹ’ کے مطابق 2018 میں اس سیکٹر میں مجموعی طور پر سات کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے قریب سرمایہ کاری کی گئی۔
دوسری جانب خلیات سے گوشت بنانے کی کئی طبقات حمایت بھی کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے جانوروں کو مصنوعی ذرائع سے تیزی سے پرورش اور ان کو مارنے کا عمل بھی رک جائے گا۔
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ایسا گوشت بنانے کے لیے توانائی کی بڑی مقدار استعمال ہوگی جب کہ اس کے ماحولیات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اس گوشت کا استعمال کس قدر محفوظ ہوگا یہ بھی ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب ابھی تلاش کیا جانا ہے۔

Image result for scientists made fake meat in space

Image result for scientists made fake meat in space

Image result for scientists made fake meat in space

Image result for scientists made fake meat in space

October 11, 2019

’سیپیا‘اعصابی تناؤ کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ

جدت ویب ڈیسک ::بارسلونا: اسپین کی ایک فیشن کمپنی نے ’’الٹیمیٹ اسمارٹ شرٹ 3.0‘‘ کے نام سے ایک ذہین قمیض ایجاد کی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ اعصابی تناؤ کم کرتی ہے، رگوں میں خون کا بہاؤ بہتر بناتی ہے اور میٹابولزم (استحالہ) میں تیزی لاتے ہوئے، اپنے پہننے والی کی جسمانی توانائی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔صحت کےلیے بیش بہا خوبیوں والی اس شرٹ کی قیمت صرف 16,000 ہزار پاکستانی روپے جتنی ہے
’سیپیا‘ نام کی یہ کمپنی کئی سال سے ذہین قمیضیں تیار کررہی ہے جبکہ نئی اسمارٹ شرٹ ان ہی کی تیسری نسل ہے۔ اسی وجہ سے اس کے نام میں 3.0 موجود ہے۔ اس کے دو علیحدہ علیحدہ ڈیزائن ہیں: ایک مردوں کےلیے اور دوسرا خواتین کےلیے۔اس شرٹ کے صحت بخش فوائد کے بارے میں کمپنی کے دعوے صرف میٹابولزم ہی پر ختم نہیں ہوتے بلکہ کمپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے یہ شرٹ اپنے پہننے والے کی جلد میں تیزابیت کے علاوہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بھی قابو میں رکھتی ہے جو اگر زیادہ ہوجائے تو پٹھوں اور ہڈیوں میں درد کی وجہ بنتا ہے۔
ان تمام خصوصیات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ اسے پہننے والے کا اعصابی تناؤ اور تھکن، دونوں کم ہوں گے اور اس کی صحت بہتر رہے گی۔

Image result for sepiia shirts

صحت کےلیے بیش بہا خوبیوں والی اس شرٹ کی قیمت صرف 16,000 ہزار پاکستانی روپے جتنی ہے۔ (فوٹو: سیپیا)

October 9, 2019

ٹویٹر نے کیا بڑا فیصلہ۔۔بھارتی سازشیں ناکام

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان کے خلاف بھارت کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں، پاکستان نے ایسا کام کر دیا کہ مودی بھی منہ چھپانے پر مجبور ہو گئے
رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹویٹر انتظامیہ کے مابین معاملات طے پا گئے، معاہدہ ہوا ہے کہ ٹویٹر آئندہ یکطرفہ طور پر پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس معطل نہیں کرے گا،
چیئرمین نیشنل آئی ٹی بورڈ صباحت علی نے امریکہ میں ٹویٹر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی،ٹویٹر پر بھارتی اجارہ داری سے پاکستانی صارفین کی آواز دبانے کا معاملہ زیربحث آیا، ملاقات میں ٹویٹر انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جس کے مطابق ٹویٹر انتظامیہ کسی بھی شکایت کی صورت میں حکومت پاکستان سے رابطہ کرے گی،ٹویٹر کسی کا اکاؤنٹ بلا وجہ بند نہیں کرے گا.
قانون دان اظہرصدیق نے بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370کی معطلی کو چیلنج کیا تھا ،اظہر صدیق نے ٹوئیٹر اکاونٹ پر بھی بھارتی مظالم کو اجاگر کیاتھا، ٹویٹر نے اظہر صدیق ایڈوکیٹ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا .
واضح رہے کہ کشمیریوں کے حق میں ٹویٹ کرنے پر ٹویٹر انتظامیہ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھی نوٹس بھجوا دیا، اس سے پہلے وفاقی وزیر مراد سعید کو نوٹس بھجوایا گیا تھا، ٹویٹر انتظامیہ نے رحمان ملک کا اکاؤنٹ کشمیر پر ٹویٹ کرنے کی وجہ سے بند کر دیا.
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں میں کشمیر کے حوالے سے مواد شیئر کرنے پر5 21 اکاؤنٹس معطل کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ دعوے کشمیر کی آزادی کے حق میں ٹویٹ کرنے والے صحافیوں، سماجی رہنماؤں، سرکاری حکام اور فوج کے حامیوں کی جانب سے سامنے آئے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی پاکستانیوں نے ٹوئٹر کو کشمیر کی حمایت میں لکھنے والے اکاؤنٹ معطل کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔

October 2, 2019

پاکستانی ماہر نے نظامِ شمسی کے خوبصورت سیارے زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ پر ایک اہم نامیاتی سالمہ دریافت کرلیا

کراچی: جدت ویب ڈیسک :: پاکستانی ماہر نے نظامِ شمسی کے خوبصورت سیارے زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ پر ایک اہم نامیاتی سالمہ دریافت کیا ہے۔
یہ اہم دریافت ڈاکٹر نوزیر خواجہ کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کا بیشتر تحقیق کام فری یونیورسٹی برلن میں ہوا ہے۔ انہوں نے زحل کی جانب بھیجنے جانے والے کیسینی خلائی جہاز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اینسیلاڈس، زحل کے بہت سے چاندوں میں درمیانے درجے کا ایک چاند ہے جس کا قطر 500 کلومیٹر ہے۔
ڈاکٹر خواجہ کی زیرِنگرانی امریکی اور جرمن سائنسدانوں نے اینسیلاڈس کی سطح کے نیچے سمندر میں ہائیڈروتھرمل قلب (کور) سے ابلنے والا ایک چھوٹا سالمہ دریافت کیا ہے جو نامیاتی ہے اور حیات کےلیے اہمیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹرنوزیر خواجہ نے کہا: ’میں نے ایک چھوٹا لیکن حل پذیر (سولیوبل) اور تعامل کرنے والا (ری ایکٹیو) مرکب دریافت کیا ہے جو اینسیلاڈس کی گہرائیوں سے پھوٹ رہا ہے۔ یہ مرکب پہلے ہی زمینی سمندروں سے خارج ہونے والے ایسے سالمات سے ملتا جلتا ہے جو سمندری گہرائیوں میں گرم چمنیوں یا تھرمل وینٹس سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔  یہ تحقیق منتھلی نوٹسز آف رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی (ایم این آر اے ایس) کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ امائنو ایسڈ کرہ ارض پر ہر جاندار کےلیے انتہائی ضروری اور بنیادی اجزا تصور کیے جاتے ہیں۔ ایک جانب تو یہ جسم کےلیے ضروری پروٹینز کی تشکیل کرتے ہیں تو دوسری جانب استحالے (میٹابولزم) کو منظم بناتے ہیں، ہارمونوں کی تالیف کرتے ہیں اور دماغ سے پورے بدن تک جانے والے نیوروٹرانسمیٹر کو منظم رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر نوزیر کا کام بہت اہم ہے کیونکہ ان کا دریافت کردہ مرکب آکسیجن اور نائٹروجن سے بنا ہے جسے کیسینی خلائی جہاز کے حساس ترین آلات نے دریافت کیا تھا۔ اس مرکب کو امائنو ایسڈ کا پیش رو کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہمارے نیلے سیارے سے باہر عمیق خلا میں یہ پہلی دریافت ہے۔ اسی بنا پر اینسیلاڈس کو نظامِ شمسی میں حیات کی سادہ ترین شکل کا منبع کہاجاسکتا ہے جس سے یہ چاند ماہرین کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
برف کے ذرے میں لپٹا یہ نامیاتی مرکب اینسیلاڈس کے سمندر کی گہرائی سے نمودار ہوا ہے۔ جس طرح ہمارے قطبین کے سمندر برف سے ڈھکے ہیں عین اسی طرح پورا چاند اینسیلاڈس، برف کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ تاہم اس پر کہیں کہیں دراڑیں موجود ہیں اور سمندر کے اندر ہائیڈروتھرمل سرگرمی سے یہ سالمات باہر نکل کر بہت بلندی تک دور خلا میں پہنچتے رہتے ہیں۔
کرہ ارض کے سمندری فرش پر بے حساب چمنی نما ساختیں موجود ہیں جن سے گرم پانی کے ساتھ ایسے نامیاتی سالمات باہر پھوٹتے رہتے ہیں جو زندگی کےلیے اہم ہیں۔ خیال ہے کہ عین اسی طرح اینسیلاڈس کے سمندر کی گہرائیوں میں بھی گرم چشمے اور چمنیاں ہوسکتی ہیں جہاں سے اہم نامیاتی سالمات باہر آرہے ہیں۔
ایک سال قبل ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے اینسیلاڈس پر ایک اور نامیاتی لیکن بڑا سالمہ دریافت کیا تھا تاہم اس کے مقابلے میں آج کی دریافت غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ مرکب، پانی حل پذیر ہے اور دیگر سالمات کے ساتھ کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) کرسکتا ہے۔ پھر اسے امائنو ایسڈ کا پیش رو بھی کہا گیا ہے۔
انکشافات ابھی باقی ہیں
کیسینی خلائی جہاز ایک عشرے سے زائد عرصے تک زحل اور اس کے چاندوں پر تحقیق کرتا رہا اور سال 2017 میں اسے جان بوجھ کر زحل کی فضا میں دھکیل کر اس کا تصادم کرایا گیا۔ لیکن اس سے ملنے والا ڈیٹا اب بھی نت نئی دریافتوں سے بھرپور ہے جو سائنسی ماہرین کو اگلے کئی برس تک مصروف رکھے گا۔
’اینسیلاڈس روز بروز زمین سے ماورا حیات کا بھرپور امیدوار بن کر سامنے آرہا ہے۔ اسی لیے مزید حیاتی معلومات کےلیے اس کا ڈٰیٹا کھنگالنا ضروری ہے۔ دوسری جانب ایسے خلائی مشن کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے جو کسی طرح اینسیلاڈس تک پہنچ کر اس انوکھی دنیا کو مزید تسخیر کرسکیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وہاں کئی حیرت انگیز انکشافات ہمارے منتظر ہیں،‘ ڈاکٹر نوزیر نے بتایا۔
وزیرآباد میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے پنجاب یونیورسٹی سے خلائی سائنس و فلکیات میں ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی اور جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی سے ارضی علوم میں ڈاکٹریٹ کے بعد اسی جامعہ کے ارضیاتی تحقیقی ادارے سے وابستہ ہوئے۔
اب ان کا شمار زمین سے ماوراء حیات کی تلاش کے اہم ماہرین میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نوزیر کا تحقیقی کام ’’سائنس‘‘ اور ’’نیچر‘‘ سمیت کئی اہم جرائد میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ آپ ناسا کے ساتھ فلکی حیاتیات کے کئی منصوبوں پر بھی کام کررہے ہیں۔

September 16, 2019

اب موبائل چارج کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں ،جانیے

جدت ویب ڈیسک ::امریکی ریاست لاس اینجلس میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایسا نظام بنایا ہے جو رات کے وقت زمین سے نکلنے والی تپش کو بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس بجلی سے ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل کی بیٹری اور ایل ای ڈی لائٹس ہی روشن ہو سکتی ہیں۔ برق بنانے کا مذکورہ نظام یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس کے سائنسدان ڈاکٹر آسوتھ رامن کی سربراہی میں ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔
ڈاکٹر آسوتھ رامن نے جو نیا طریقہ اختیار کیا ہے اسے ریڈی ایٹو اسکائی کولنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے لیے پولی اسٹائرین ڈبے پر ایک سیاہ ڈسک رکھی گئی ہے جس کا رخ آسمان کی جانب ہے اور اس میں المونیم سے بنی ایک رکاوٹ یا بلاک رکھا گیا ہے۔
سیاہ ڈسک زمینی حرارت کو ٹھنڈا کرتی ہے اور المونیم بلاک رات کی ٹھنڈی ہوا کو گرم کرتا ہے۔ اس فرق سے تھرمو الیکٹرک فرق بنتا ہے اور اس سے بجلی کی بڑی مقدار بنتی ہے جس سے ایل ای ڈی بلب یا موبائل فون آسانی سے چارج کیا جاسکتا ہے۔
ابتدائی تجربے میں ایک مربع میٹر سے 25 ملی واٹ بجلی بنتی ہے جو ایک ایل ای ڈی روشن کرنے کے لیے کافی ہے لیکن گرم علاقوں میں بجلی کی پیداوار 20 گنا بڑھ سکتی ہے جہاں درجہ حرارت میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔اس پورے نظام کی قیمت صرف 30 ڈالر ہے اور یہ غریب ممالک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا لیکن اب بھی اس کی کمرشل منزل بہت دور ہے۔
مذکورہ آلہ تھرمو الیکٹرک اثر استعمال کرتے ہوئے بجلی بناتا ہے اور قبل ازیں اسی اصول پر کارخانوں کے بوائلر، حرارتی پلانٹ اور کاروں کے ایگزاسٹ سے نکلنے والی گرمی کو بجلی میں بدلنے والے آلات اب عام استعمال ہو رہے ہیں۔

September 11, 2019

موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں پاکستان نے بھارت کو پچھاڑ دیا

اسلام آباد۔ جدت ویب ڈیسک ::: پاکستان نے جولائی کے مہینے میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اپنے پڑوسی ملک بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اوکلا کے اسپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس کے تازہ ترین ایڈیشن کے مطابق پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے جاری کی گئی درجہ بندی میں 116ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ پوزیشن پاکستان کو ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 13.55 میگابٹس فی سیکنڈ ہونے پر ملی ہے۔
بھارت اس درجہ بندی میں پاکستان سے کہیں پیچھے 130ویں پوزیشن پر ہے اور اسکی ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 10.63 میگابٹس فی سیکنڈ پائی گئی۔
اوکلا کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان میں اپ لوڈنگ کی اوسط رفتار 9.93 میگابٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان دو درجے جبکہ بھارت چار درجے نیچے آیا ہے۔
موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے جنوبی کوریا 97.44 میگا بیٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ سرفہرست ہے، آسٹریلیا 63.34 میگابٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ دوسرے جبکہ قطر 61.72 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔
61.24 کی رفتار کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا چوتھا اور ناروے کا 60.90 میگا بٹس فی سیکنڈ رفتار کے باعث پانچواں نمبر ہے۔
اوکلا کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں کینیڈا کا چھٹا، نیدرلینڈز کا ساتواں، سوئٹزرلینڈ کا آٹھواں، سنگاپور اور مالٹا کا بالترتیب نواں اور دسواں نمبر ہے۔

Image result for pakistan beat india in fast internet mobile

September 11, 2019

ایپل نےجدید تین کیمروں پر مشتمل آئی فون صارفین کے لئے پیش کر دیئے

جدت ویب ڈیسک ::نئے موبائل پیش کرنے کا اعلان ایپل کے سب سے بڑے مارکیٹنگ ایونٹ کے دوران کیا گیا جہاں کمپنی نے اپنی نت نئی مصنوعات بھی پیش کیں۔
ایپل کا کہنا ہے کہ ان کا نیا موبائل اسمارٹ فون 11 دو الٹرا وائڈ اینگل لینز بیک کیمروں کے ساتھ دستیاب ہے جس میں نیکسٹ جنریشن مائیکروچِپ اے 13 چسپا کی گئی ہے۔
اس موبائل کی قیمت 699 ڈالر سے شروع ہوتی ہے جبکہ گزشتہ سال پیش کیے گئے آئی فون کے نئے موبائل کی قیمت 749 ڈالر تھی۔
مارکیٹ میں پیش کئے گئے موبائلز میں آئی فون 11 پرو سب سے مہنگا موبائل ہے جس کی قیمت 999 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔
اس میں تین وائڈ اینگل ٹیلی فوٹو بیک کیمرے موجود ہیں جبکہ اس کی اسکرین کا سائز بھی دوسرے ماڈلز سے بڑا ہے۔
ایپل ٹی وی پلس
ایپل اسٹریمنگ ٹیلی ویژن کے میدان میں بھی کود پڑا ہے اور رواں سال نومبر کے مہینے میں ایپل ٹی وی پلس کی سروس میں مہیا کرنے جا رہا ہے جو چین کے علاوہ سو ممالک میں دستیاب ہو گی۔
ایپل کی نئی مصنوعات جن میں آئی فون، آئی پیڈ اور میک لینے والے صارفین کو اسٹریمنگ ٹی وی کی سہولت ایک سال کے لئے مفت فراہم کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ ایپل کی نئی اسٹریمنگ سروس مارکیٹ میں موجود نیٹ فلیکس اور دیگر اسٹریمنگ سروس سے قدرے سستی ہو گی۔

Image result for apple iphone 3 cameras