April 17, 2019

پیغام رسانی کی 9 ایپس پر پابندی عائد

یبجنگ ۔جدت ویب ڈیسک :: چین میں انٹرنیٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے غیر قانون معلومات پھیلانے اور دھوکا دہی میں ملوث پیغام رسانی کیلئے استعمال ہونے والی ایپس کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
سائبر ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے پہلے مرحلے میں 9 ایپس کو بند کردیا ہے جن میں ان بیلین، لی آؤ لی آؤ اور می ٹاک شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایپس کو جنسی مواد پھیلانے، جسم فروشی کا کام کرنے والوں سہولیات فراہم کرنے کی مد میں بند کیا گیا ہے۔حکام نے کہا ہے کہ چین میں عوام کی کثیر تعداد مذکورہ ایپس استعمال کرتی تھی اور یہ اقدام اٹھانا ناگزیر تھا۔ بند کی گئی ایپس میں سے کچھ ایسی تھیں جو عوام اور انٹرنیٹ صارفین کیلئے خطرہ تھیں۔سال 2019 کے آغا زمیں بھی مائیکروسافٹ کمپنی کے سرچ انجن بنگ پر چین میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ قبل ازیں چین میں گوگل، ٹوئٹر، یوٹیوب، فیس بْک اور واٹس ایپ پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔حکومت نے2017 میں ’کلین اپ‘ نامی مہم بھی شروع کی تھی جس کے تحت ایسے افراد اور اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا جو ممنوعہ ویب سائٹس تک غیرقانونی طریقے سے رسائی حاصل کرتے تھے۔یاد رہے کہ 2018 میں چائنہ انٹرنیٹ نیٹ ورک انفارمیشن سنٹر نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین میں57.7فیصد شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا 2018کی پہلی ششماہی تک لیے گئے اعدادوشمار کے مطابق چین میں788ملین افراد انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے موبائل فون استعمال کرتے ہیں یہ تعداد کل انٹرنیٹ صارفین کا98.3فیصد ہے

April 12, 2019

واٹس ایپ کانیا فیچرمتعارف۔۔۔

جدت ویب ڈیسک ::واٹس ایپ کانیا فیچرمتعارف۔۔۔
رپورٹ کیا گیا ہے کہ WhatsApp ایک ‘تعطیل موڈ پر کام کر رہا ہے جو خود بخود خاموشی چیٹوں کو محفوظ کرے گا.
اب وہی خصوصیت موجودہ لوڈ، اتارنا Android بیٹا اپ ڈیٹ میں “آرکائیو کردہ چیٹوں کو نظر انداز کریں” کے تحت کے خلاف بنایا گیاہے. یہ ورژن نمبر v2.19.101 پر لاتا ہے. اس وقت خصوصیت آزمائش کی جا رہی ہے لہذا اس نے تمام فونز کو ختم نہیں کیا ہے.
اس کے علاوہ، اپ ڈیٹ WhatsApp اے پی پی کے مرکزی مینو میں “آرکائیوڈ چیٹ” نامی ایک سیکشن کا اضافہ کرتا ہے. تازہ ترین بیٹا اپ ڈیٹ میں کوئی اہم خصوصیات شامل نہیں ہیں “آرکائیو کردہ چیٹ” سیکشن کے علاوہ.
اس کے ذریعہ وائٹ ایپ صارفین چیٹ فیڈ کو سکرال کرنے کے بغیر آسانی سے محفوظ شدہ چیٹ تک پہنچ سکیں گے.
صارفین اپنی آرکائشی چیٹ کی فہرست تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے. اس کے علاوہ، WhatsApp جلد ہی اس کی چھٹی موڈ شروع کر رہا ہے جسے “آرکائیو کردہ چیٹوں کو نظر انداز کریں” کہا جاتا ہے جو کہ WhatsApp نوٹیفکیشن کی ترتیبات کے ذریعہ فعال ہو جائے گا. یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آرکائیو کردہ چیٹ ذخیرہ ہوجائیں یہاں تک کہ جب صارف کو نئے پیغامات موصول ہوجائیں.
وائسسپ کے “آرکائیو کردہ چیٹس” کو نمایاں کریں اور چھٹی کے موڈ کو نظر انداز کریں. تعطیل موڈ چیٹوں کو غیر محفوظ شدہ بنا دیتا ہے، جب وہ “خاموشی شدہ چیٹوں کو نظر انداز نہ کریں” خاموشی کرتے وقت خاموش ہوجاتے ہیں تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں اور غیر خاموشی چیٹ دونوں کو روکنے کے لئے غیر محفوظ شدہ طور پر روک سکتے ہیں. جب صارف دستی طور پر کرتا ہے تو آرکائیو کردہ چیٹ صرف غیر محفوظ ہوجائے گی.

April 12, 2019

اسرائیلی خلائی جہاز کا چاند پر اترنے کا مشن ناکام، جہاز تباہ

جدت ویب ڈیسک ::تل ابیب: اسرائیل کی چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی کوشش ناکام ہوگئی اور لینڈنگ کے دوران خلائی جہاز تباہ ہوگیا جس کے بعد اسرائیل چاند پر پہنچنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کا نجی سرمایہ کاری سے تیار کردہ خلائی جہاز اپنے مشن میں ناکام ہوگیا۔ برشیٹ نامی خلائی جہاز چاند کی سطح پر بھیجا گیا تھا۔
مشن کی کامیابی کی صورت میں اسرائیل چاند پر جہاز بھیجنے والا چوتھا ملک بن جاتا، اب تک امریکا، روس (سوویت یونین) اور چین اپنے خلائی جہاز کامیابی سے چاند کی سطح پر اتار چکے ہیں تاہم اسرائیل اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا۔خلائی جہاز برشیٹ 4 اپریل کو چاند کے مدار میں پہنچا تھا اور اس وقت سے چاند کے گرد گردش کررہا تھا۔ گزشتہ روز مقررہ شیڈول کے مطابق اسے چاند پر لینڈنگ کرنی تھی تاہم لینڈنگ کی تیاری کے دوران انجن میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔اسرائیلی مشن کنٹرول کا کہنا تھا کہ لینڈنگ سے پہلے جہاز کا انجن خراب ہوگیا تھا جس کے باعث لینڈنگ نہ ہو سکی۔، جہاز کی لینڈنگ کی مانیٹرنگ کرتے زمین پر موجود خلائی عملے نے رابطہ بحال کرنے اور انجن کی خرابی دور کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے۔مذکورہ خلائی جہاز کی تیاری میں 100 ملین ڈالرز کی لاگت آئی تھی اور اسے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز نے ایک نجی کمپنی کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔مشن سے منسلک ماہرین کے مطابق لینڈنگ سے قبل خلائی جہاز کا زمین سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا تھا

Image result for israeli spacecraft crashes during moon landing

April 5, 2019

جنوبی کوریا میں 5 جی نیٹ ورک کا آغاز

جدت ویب ڈیسک ::جنوبی کوریا میں دنیا کے سب سے بڑے 5 جی نیٹ ورک کا آغاز کر دیا گیا ،،اب صارفین کو تیز ترین وائرلیس ٹیکنالوجی کی سہولیات میسر ہوں گی۔جنوبی کوریا ٹیکنالوجی کی ریس میں امریکہ ، چین اور جاپان سے آگے نکل گیا, فائیو جی کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار 4 جی کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ تیز ہو گی۔
جنوبی کوریا کی ٹیلی کام کی سہولتیں فراہم کرنے والی تین بڑی کمپنیاں، ایس کے ٹیلی کام، کے ٹی اور ایل جی یو پلس نے اپنی 5 جی سروسز کا آغازکر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ایس کے ٹیلی کام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدا میں 6 مشہور شخصیات کو 5 جی سروسز فراہم کی ہیں جن میں پاپ بینڈ ایگزو کے دو ارکان اور اولمپک آئس سکیٹنگ کے مشہور کھلاڑی کم یو نا شامل ہیں۔تقریب میں عوام کو فائیو جی ٹیکالنوجی سے کیا کیا تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی اس کے لیے خاص ٹیبلو بھی تیار کیے گئے تھےعام صارفین کو ان سروسز کی فراہمی آج سے شروع کی جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 5 جی کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار 4 جی کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ تیز ہو گی۔دو ہزار چونتیس میں دنیا کی معیشت میں فائیو جی سروسز کی مدد سے 565 بلین ڈالر کا اضافہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔جنوبی کوریا میں فائیو جی سروسز کے آغاز کے دو گھنٹے بعد امریکہ نے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی کا آغاز کیا۔

April 4, 2019

ملکی تاریخ میں پہلی بار فیس بک انوویشن لیب قائم

جدت ویب ڈیسک ::سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان کی وزارت آئی ٹی اور قومی ٹیکنالوجی فنڈ کے اشتراک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار فیس بک انوویشن لیب قائم کر دی ہے۔جامعہ لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد احمد نے کہا کہ انوویشن جامعہ لمز میں تحقیق کے میدان میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتی ہے۔
جامعہ لمز کے قومی انوویشن سینٹر میں قائم انوویشن لیب کا مقصد پروگرامنگ ڈیولپرز، کاروباری افراد اور مختلف کمیونٹی گروپس کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے تجربات کا آپس میں تبادلہ کر سکیں۔یہ لیب ان ایپلیکیشن ڈویلپرز کو بھی مدد فراہم کرے گی جو جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں مخلتف سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز بنانا چاہتے ہیں جیسے کہ ورچوئل ریائلیٹی۔
اس ضمن میں فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ فیس بک پاکستان میں ایک کار آمد کمیونٹی بنانے کا خواہاں ہے اور ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کے منصوبے نئے کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کو جدید طریقوں سے چلانے میں مدد فراہم کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ یہ لیب نہ صرف جدید سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز بنانے مدد فراہم کرے گی بلکہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں تجربہ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا بھی ذریعہ بنے گی جس سے نوجوان ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

Image result for facebook lab lums

Image result for facebook lab lums

Image result for facebook lab lums

April 3, 2019

’میں یہ کیوں دیکھ رہا ہوں‘ فیس بک میں نیا فیچر متعارف

کیلیفورنیا: جدت ویب ڈیسک ::سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے اسپونسرڈ پوسٹوں پر میں یہ کیوں دیکھ رہا ہوں( وائے آئی ایم سی انگ دس پوسٹ) کا فیچر متعارف کرادیا ہے۔
فیس بک میں اس نئے فیچر کا مقصد صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ مخصوص مواد ان کی وال پر کیوں نظرآرہا ہے۔
فیس بک نے 2014 میں بھی یہ فیچر متعارف کروایا تھا اور صارفین کے مثبت ردعمل کو دیکھتے ہوئے اس فیچر میں مزید تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
صارفین اپنی وال پر نظر آنے والی کسی بھی اسپونسرڈ پوسٹ پر دائیں جانب بنے تین نقاط پر کلک کریں تو انہیں یہ فیچر نظر آئے گا۔ اس فیچر پر کلک کرنے سے ایک نئی ونڈو اوپن ہوجائے گی جس میں پوسٹ سے متعلق تمام معلومات آپ کی وال پر نظر آنے کی وجوہات درج ہوں گی۔فیس بک نے صارفین کو یہ سہولت بھی دی ہے کہ آپ اس پیج، فرد یا کمپنی کے اشتہارات بند کر سکتے ہیں اور مستقبل میں وہ آپ کی وال پر نظر نہیں آئیں گے۔ فیچر پر کلک کرنے سے اوپن ہونے والی ونڈو کے دائیں جانب آپشن کا بٹن دیا گیا ہے جس کو استعمال کر کے آپ کسی بھی کمپنی کے اشتہار بند کر سکتے ہیں۔
فیس بک انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کمپنی صارفین کے ردعمل کو مد نظر رکھتے مذکورہ فیچر میں مزید بہتری لائے گی۔

March 29, 2019

کیا ہمیں فکر مند ہونا چائیے؟کیا فائیو جی ٹیکنالوجی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟

جدت ویب ڈیسک :: دنیا بھر میں موبائل فون نیٹ ورک کی پانچویں جنریشن (5G) متعارف کروانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جانیے موبائل فون سے نکلنے والی شعاعوں کے انسانی اور خاص طور پر بچوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟موبائل فون نیٹ ورک کی پانچویں جنریشن یعنی فائیو جی میں ہائی فریکوئنسی اور بینڈ ویتھ استعمال کی جائے گی۔ اس کی وجہ سے صارفین ماضی کے مقابلے میں کئی گنا تیزی سے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کر سکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی سے فی سیکنڈ دس گیگا بائٹ منتقل ہو سکتے ہیں۔
کیا ہمیں فکرمند ہونا چاہیے؟
حال ہی میں دنیا بھر سے تقریباﹰ دو سو پچاس سائنسدانوں نے اقوام متحدہ میں ایک پیٹیسشن دائر کی تھی، جس پر عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس میں ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسمارٹ فون یا پھر ریڈیو انٹینا سے نکلنے والی شعاعیں برقی مقناطیسی میدان (ای ایم ایف) پیدا کرتی ہیں، جن سے کینسر کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’اس کے اثرات میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات، سیلولر اسٹریس، خطرناک مالیکیولز کا اخراج، جینیاتی نقصانات، تولیدی نظام کی ساخت اور فعال میں تبدیلیاں، سیکھنے اور یادداشت کے عمل میں کمزروی شامل ہیں۔‘‘ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ موبائل سے نکلنے والی شعاعوں سے انسانی رویے کے ساتھ ساتھ اعصابی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
ٹو جی، تھری جی اور فور جی سے متعلق ہونے والے متعدد سائنسی مطالعے مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ برقی مقناطیسی میدان انسان کی صحت پر کیا اثرات چھوڑتے ہیں؟ ایسے مطالعات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فونز کے سگنلز اسٹریس کے ساتھ ساتھ سپرمز، تولیدی نظام، انسانی دماغ میں برقی تبدیلیوں اور ڈی این اے کے لیے نقصان دے ہیں۔
سائنسدانوں کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے صرف انسان ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ برقی مقناطیسی شعاعیں جانوروں اور پودوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ سارا ڈرائسن جرمنی کی مشہور آخن یونیورسٹی میں ’برقی مقناطیست اور ماحولیاتی مطابقت‘ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کا ایک امریکی تحقیقق کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ چوہوں کو دو سال کے لیے دن میں تقریبا نو گھنٹے برقی مقناطیسی میدان کے زیر اثر رکھا گیا تھا۔ دو سال میں چوہوں کے اعصابی نظام، دماغ، دل اور تولیدی نظام میں تبدیلیاں پیدا ہو گئیں تھیں۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا، ’’اگر لہریں ملی میٹر میں اور زیادہ طاقتور ہوں گی جیسا کہ فائیو جی میں ہو رہا ہے، تو ابھی تک کی نسبت صورتحال مزید سنجیدہ ہو جائے گی۔‘‘ کچھ سائنسدان بچوں کو لاحق خطرات سے خبردار کرتے ہیں۔ بچوں کی کھوپڑی چھوٹی ہونے اور اس کی ہڈیاں کمزور ہونے کہ وجہ سے ان شعاعوں کا ان پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔
دریں اثناء جرمنی میں ریڈی ایشن سے تحفظ کے وفاقی دفتر (بی ایف ایس) نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کے خلاف خطرات جاننے کے لیے بنیادی تحقیق کروانے کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ اس ملک میں بھی جلد ہی یہ ٹیکنالوجی متعارف کروا دی جائے گی۔
ابھی تک جی نیٹس کے لیے سات سو میگا ہرٹس سے چھ گیگا ہرٹس کی فریکوئنسیاں استعمال کی جا رہی تھیں لیکن اب فائیو جی میں اٹھائیس سے ایک سو گیگاہرٹس کے درمیان فریکوئنسیاں استعمال کی جائیں گئی۔ موازنہ کرنے کی صورت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ فور جی انٹرنیٹ تھری جی سے دس گناہ زیادہ تیز تھا لیکن فائیو جی فور جی سے ایک ہزار گنا تیزی سے کام کرے گا۔ سویڈن کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایریکسن کے اندازوں کے مطابق سن دو ہزار چوبیس میں دنیا کی چالیس فیصد آبادی فائیو جی ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔

March 28, 2019

کیاہم بھی خلائی مخلوق کو ڈھونڈ سکتے ہیں؟

جدت ویب ڈیسک ::امریکا کی ایک کوانٹم آسٹرو کیمسٹ کلارا سلوا اس بارے میں بتاتی ہیں، ’اگر اس کائنات میں ہمارے علاوہ بھی کوئی ہے تو وہ باآسانی ہمیں ڈھونڈ سکتا ہے‘۔جب سے انسان ترقی یافتہ اور خلائی اسرار سمجھنے کے کچھ قابل ہوا ہے، تب سے وہ اس تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیا اس وسیع و عریض کائنات میں ہم اکیلے ہیں یا ہمارے جیسا کوئی اور بھی سیارہ اپنے اندر زندگی رکھتا ہے؟
کیا کوئی سیارہ ایسا بھی ہے جہاں زمین کی طرح زندگی رواں دواں ہے؟ کیا اس کائنات میں ہمارے جیسی کوئی مخلوق نت نئی ایجادات اور تحقیقوں میں مصروف ہے یا کم از کم پتھر کے دور میں ہی جی رہی ہے؟
اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، یعنی ہمارے علاوہ بھی اس کائنات میں زندگی بستی ہے اور لوگ رہتے ہیں تو کیا وہ بھی ایسے ہی کسی کی تلاش میں ہوں گے؟
کلارا اس بارے میں مزید کیا بتاتی ہیں، انہی کی زبانی سنیں۔
’اگر خلائی مخلوق ہمیں تلاش کرنا چاہیں تو وہ بہت آسانی سے ہمیں تلاش کرسکتے ہیں۔ ہم گزشتہ 100 سال سے ریڈیو کے سگنلز خلا میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے ٹیلی ویژن کے سگنلز بھیجنا شروع کیے۔ اگر یہ سگنلز روشنی کی رفتار سے خلا میں جارہے ہیں تو اب تک یہ طویل فاصلے طے کر کے دور دراز واقع ستاروں اور سیاروں تک پہنچ چکے ہوں گے، ایسے ہی کسی دور دراز سیارے پر موجود، کسی دوسرے سیارے پر زندگی کھوجتی مخلوق آسانی سے یہ سگنلزوصول کرسکتی ہے‘۔
’اگر کوئی ایسا ہوگا جو اپنے طاقتور ڈی ٹیکٹرز کا ہماری طرف رخ کیے ہوگا، تو وہ بی بی سی کی براڈ کاسٹنگ سن رہا ہوگا، وہ ہمارے ٹی وی پروگرامز سن رہا ہوگا اور اب تک اندازہ کرچکا ہوگا کہ ہمارا رہن سہن اور طرز زندگی کیسا ہے‘۔
’کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک انہایت احمقانہ عمل ہے کہ ہم اپنے بارے میں بہت ساری معلومات پوری کائنات میں بھیج رہے ہیں۔ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق خطرناک بھی ہوسکتی ہے چنانچہ ہمیں اپنی پوزیشن کے بارے میں نہیں بتانا چاہیئے‘۔
اگر ہم خلا میں سگنلز نہ بھیجیں کیا تب بھی ہمیں ڈھونڈا جا سکتا ہے؟
اگر ایک لمحے کے لیے تصور کیا جائے کہ ہم اپنے تمام سگنلز بند کردیں اور بالکل خاموشی سے بیٹھ جائیں، کیا تب بھی خلائی مخلوق ہمیں ڈھونڈ سکتی ہے؟
اس بارے میں کلارا کہتی ہیں۔
’اگر ہم خلا میں کوئی سنگلز نہ بھیجیں، اور کوئی خلائی مخلوق طاقتور دوربین لگا کر ہمیں ڈھونڈنا چاہے تو اسے ہر جگہ 300 ارب سیارے دکھائی دیں جو خوبصورت سفید روشنیوں کی صورت میں چمک رہے ہوں گے‘۔
’تاہم یہ سفید روشنی بھی بہت سارے راز عیاں کرسکتی ہے‘۔
’ہم جانتے ہیں کہ جب سفید روشنی میں پانی کا قطرہ داخل ہوتا ہے تو آس پاس موجود اشیا کے رنگ اس میں منعکس ہونے لگتے ہیں (اسی تکنیک سے قوس قزح تشکیل پاتی ہے)۔ اگر خلائی مخلوق ایک طاقتور پریزم (ایک تکون جسم جس سے روشنی گزرتی ہے تو منعکس ہوتی ہے) ہمارے سورج کی طرف کریں تو وہ ہماری قوس قزح کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں‘۔
’اور اگر وہ کچھ عرصے تک مستقل اس کا مشاہدہ کریں تو دیکھیں گے کہ ہر سال اس قوس قزح میں کچھ نئے رنگ ظاہر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ رنگ ان مالیکیولز کی وجہ سے ظاہر اور غائب ہوتے ہیں جو ہماری فضا میں موجود ہیں‘۔ ’ان رنگوں کو دیکھ کر باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس ایک خوبصورت اور متنوع سیارہ موجود ہے۔ ہمارے پاس آبی حیات سے بھرے سمندر ہیں اور آکسیجن پر انحصار کرنے والی زندگیاں ہیں۔‘
’ان تمام معلومات پر مبنی ہماری فضا، زمین کے گرد ایک تہہ تشکیل دیتی ہے جسے بائیو سفیئر کہا جاتا ہے اور صرف یہی ہماری موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بائیو سفیئر بتاتا ہے کہ اس سیارے پر کون موجود ہے اور کس طرح زندگی گزارتا ہے۔ گویا اگر ہم اپنے سگنلز بھیجنا بند بھی کردیں تب بھی ہماری موجودگی کے اشارے ملتے رہیں گے‘۔
کیا اس تکنیک سے ہم بھی خلائی مخلوق کو ڈھونڈ سکتے ہیں؟
کلارا کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہم ایسے ٹولز نہیں بنا سکے جو کسی سیارے کی بائیو سفیئر کی جانچ کرسکیں، ہم صرف اس قابل ہیں کہ اگر کوئی خلائی مخلوق اپنے سگنلز ہماری طرح خلا میں بھیج رہی ہے تو ہم اسے وصول کرسکیں، تاہم میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایسے ٹولز کی تیاری پر کام جاری ہے جو بائیو سفیئر کی جانچ کرسکے۔
’ان ٹولز کی تیاری کے بعد ہم ان خلائی مخلوق کو بھی ڈھونڈ سکتے ہیں جو ہماری طرح ترقی یافتہ نہیں اور خلا میں کوئی سگنلز نہیں بھیج رہی‘۔