August 18, 2017

ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کے لئے رابطوں کا سلسلہ تیز ،دو بڑے کھلاڑی بھی ورلڈ الیون ٹیم کا حصہ ہوں گے، جانیے

جدت ویب ڈیسک :پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق زمبابوے کے سابق کپتان اور انگلینڈ ٹیم کے کوچ اینڈی فلور ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان ممکن بنانے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں اینڈری فلور نے ہاشم آملہ اور عمران طاہر سے رابطہ کیا جس کے بعد انہوں نے دونوں کھلاڑیوں کو دورہ پاکستان کے لئے آمادہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب فیڈریشن انٹرنیشنل کرکٹرز ایسو سی ایشن کی طرف سے ورلڈ الیون ٹیم کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ ماہ ستمبر میں آئی سی سی ورلڈ الیون ٹیم کی میزبانی لاہور میں کرےگا جہاں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔ ورلڈ الیون ٹیم کا دورہ ستمبر میں طے پایا ہے لیکن حکومت پنجاب کی جانب سے این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے باعث اسے انتخاب سے قبل کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ورلڈ الیون کے تین ٹی ٹوئنٹی میچز 10ستمبر سے 15 ستمبر تک ہونے کے امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں 13 رکنی ورلڈ الیون ٹیم کا اعلان کردیا جائے گا۔

 

August 17, 2017

پاکستان میں اسکواش پر کبھی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی، جہانگیر خان

لندن جدت ویب ڈیسک سکواش کے سابق عالمی چمپئن جہانگیر خان نے کہاہے کہ اس کھیل نے پاکستان کو کھیلوں کی دنیا میں جو رتبہ دلوایا اس کے بدلے میں اسے کچھ نہیں ملا۔ایک انٹرویومیں جہانگیر خان نے کہا کہ پاکستان میں سکواش پر کبھی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو، منتظمین کی جانب سے ہو یا فیڈریشن کی طرف سے۔جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال تک بین الاقوامی سکواش مقابلوں میں ناقابل شکست رہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان بننے کے صرف چار سال بعد ہی ہم اس کھیل میں عالمی چمپئن بن گئے تھے جبکہ دوسرے ممالک کو اس مقام تک پہنچنے میں طویل عرصہ لگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے سکواش کی دنیا میں بلند مقام حاصل تو کر لیا لیکن اسے مزید استحکام دینے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔چھ بار ورلڈ چمپئن بننے والے جہانگیرخان نے کہاکہ ان سمیت جتنے بھی عالمی چمپئن بنے وہ اپنی مدد آپ کے تحت بنے البتہ بعد میں انھیں بحریہ، فضائیہ اور پی آئی اے کی طرف سے مدد ضرور ملی لیکن اکیڈمیوں کے ذریعے تربیت کا منظم پروگرام نہ پہلے تھا نہ آج موجود ہے۔جہانگیر خان پاکستان سکواش فیڈریشن کو پاکستان ایئرفورس سے لے کر کسی دوسرے ادارے کو دینے کے حق میں نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر فیڈریشن ایئرفورس سے لے لی جاتی ہے تو پھر حکومت کو اس کھیل کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت سے جو مدد اس وقت مل رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دس بیس لاکھ روپے سے فیڈریشن چلائی جا سکتی ہے تو یہ ناممکن ہے۔جہانگیر خان نے کہاکہ سابق عالمی چمپئن کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا حکومت اور سکواش فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔انہوںنے کہاکہ کوئی بھی ورلڈ چمپئن اپنی فائل لے کر ِخود نہیں گھومے گا اور کہے گا کہ اس سے کام لے لیں۔ آج انگلینڈ ،آسٹریلیا ،فرانس اور مصر میں سابق ورلڈ چیمپیئنز کوچنگ اور ٹریننگ سے وابستہ ہیں تو انھیں یہ ذمہ داری ان کی حکومت اور فیڈریشن نے سونپ رکھی ہے اور وہ بڑی تعداد میں جونیئر کھلاڑی تیار کررہے ہیں۔جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں ہے جو بڑا کھلاڑی بننے کیلئے درکار ہوتا ہے۔ان کے پاس واضح سوچ نہیں ہے ،وہ جس مقام پر ہیں اسی پر خوش ہیں، اسی پر سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ سکواش میں شارٹ کٹ نہیں ہے ،یہ راتوں رات کامیابی حاصل کرنے والا کھیل نہیں ہے تاہم جہانگیر خان نے کہا کہ وہ پاکستان میں سکواش کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ملک میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں ان میں صرف محنت کی کمی ہے اگر وہ آج سے سخت محنت شروع کریں تو اگلے پانچ دس سال میں کوئی نہ کھلاڑی ورلڈ چمپئن بن سکتا ہے لیکن آج وہ جس طرح مطمئن ہو کر کھیل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کے لیے بلند مقام تک پہنچنا ممکن نہیں ۔

August 16, 2017

عمر اکمل نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر سے پنگا لے لیا ، جانیے

جدت ویب ڈیسک :قومی ٹیم کے ہیڈ کو چ مکی آرتھر نے عمر اکمل کو گالیاں نکالنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے ڈانٹنے کا اعتراف کیاہے ۔ان کا کہناتھ کہ یہ معاملہ ہوا تو اس وقت انضمام الحق اور مشتاق احمد بھی وہیں موجود تھے ۔دوسری جانب وسیم اکرم کا کہناتھا کہ کوچ انہیں ڈانٹیں گے نہیں تو کیا گود میں بٹھائیں گے ۔نیوز کے مطابق مکی آرتھر کا کہناتھا کہ عمر اکمل اکیڈمی آئے اور انہوں نے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان سے بیٹنگ ٹپس مانگیں تاہم عمرا کمل کنٹریکٹ پلیئر نہیں ہیں اور وہ سپورٹس سٹاف کو استعمال نہیں کر سکتے ۔مکی آرتھر کاکہناتھا کہ میں نے انہیں کئی بار اس حرکت سے منع بھی کیا لیکن وہ باز نہیں آئے ۔نجی ٹی وی کا کہناتھا کہ مکی آرتھر نے عمر اکمل سے کہا کہ وہ کنٹریکٹ کرکٹر نہیں ہیں ،اس لیے وہ پہلے جائیں اور کلب کرکٹ کھیلیں اپنی پرفارمنس بہتر کریں اور پھر انہیں استعمال کرنے کے حقوق حاصل کریں ۔

 

 

August 16, 2017

جشن آزادی مارشل آرٹس فیسٹیول کا انعقاد

کراچی جدت ویب ڈیسک جشن آزادی ہمیں تمام قومیتوں، مذاہب اور فقوں سے بالا تر ہوکر یونٹی اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے، ہمیشہ کی طرح آج بھی ہمارے تمام مارشل آرٹ کے اساتزہ اور کھلاڑیوں نے اسٹائیل سسٹم سے ہٹ کر صرف ایک پلیٹ فارم NMGCپاکستان کے اس فیسٹیول میں مختلف مارشل آرٹس فنون کا مظاہرہ کرکے یونٹی۔ ڈسپلن اور بھائی چارگی کا عملی پیغام دیتے ہوئے ملک دشمنوں کو یہ باور کرایا ہے کہ ہم سب ہر سطح پر ایک ہیں، ان خیالات کا اظہارجشن آزادی مارشل آرٹس فیسٹیول 2017 کے چیف آرگنائزر، نیشنل مارشل آرٹس گیمز کمیٹی پاکستان کے سیکریٹری اور پاکستان مارشل آرٹس کنکشن فیڈریشن انٹرنیشنل کے بانی وصدر شہزاد احمد نے کیا۔اس موقعے پر پاکستان کے ممتاز مارشل آرٹس انسٹرکٹرز/ماسٹرز اورفیسٹیول کی آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل شی ہان جاوید علی، ماسٹر راجہ غضنفر، ماسٹر محمد راشد، ماسٹر ناظم برکت علی، سینسی سید اشرف علی، سینسی خورشید سموں، ماسٹر محمد شہباز، سینسی ناصر احمد، ماسٹر دوست محمد، ماسٹر شعیب مجاہد بٹ کے ساتھ ساتھ خصوصی مہمان ماسٹرز میں ماسٹر ملک محمد ایاز، سینسی دلاور بھٹی، سینسی خالد خان، سینسی محمدعلی، ماسٹر محمد فیصل خان ودیگر کئی شخصیات بھی موجود تھیں۔ نیشنل مارشل آرٹس گیمز کمیٹی پاکستان کے زیر اہتمام اور پاکستان مارشل آرٹس کنکشن فیڈریشن کے تعاون سے کورنگی محمڈن فٹبال اسٹیڈیم ڈسٹرکٹ کورنگی میں منعقد ہ اس مارشل آرٹس فیسٹیول میں کراچی کی سات مختلف مارشل آرٹس کی ٹیموں کے 150سے زائد گرلز وبوائز کھلاڑیوں اور انسٹرکٹرزنے شرکت کی اورشوتوکان کراٹے، کیوکوشن کراٹے،کک باکسنگITFتائیکوانڈو، WTFتائیکوانڈو، گوجوریو کراٹے اور فل کونٹیکٹ کراٹے ریسلنگ کے زبردست ڈیمانسٹریشن پیش کیے ، جبکہ ان میں بریکنگ کے زبردست آئٹمزبھی شامل تھے جنہیں پروگرام میں موجود مہمانوں کی جانب سے زبردست پزیرائی ملی۔ تقریب کے اختتام پرتما م شرکاء کھلاڑیوں کو سرٹیفکیٹ اور ٹیموں کو ٹرافیاں ایوارڈ کی گئی اس موقعے پر شوتوکان کراٹے جونیئر کاتا کمپیٹیشن اور ڈیمانسٹریشن و پروموشن ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے گرلز و بوائز کراٹیکاز کو انعامات، بیلٹس اور اسناد جبکہ انسٹرکٹرز اور مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔