January 24, 2021

بابر بڑے منجھے ہوئے اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں جو دباؤ سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انضمام الحق

ویب ڈیسک :: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔

اُنہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، بابراعظم محدود طرز کی کرکٹ میں ثابت کرچکے کہ ان پر کپتانی کا کوئی اضافی دباؤ نہیں، بابر بڑے منجھے ہوئے اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں جو دباؤ سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا، ٹاپ رینک ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا پوری قوم کے لیے خوش آئند ہے۔ ملک میں انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ کی مکمل واپسی پاکستان میں کرکٹ کی مزید ترقی اور فروغ کا سبب بنے گی۔

انضمام بولے کہ، پاک جنوبی افریقہ سیریز پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، اکثر کھلاڑیوں نے ہوم گراؤنڈ پر میچز نہیں کھیلے، کوئی بھی کھلاڑی سٹار سے سپر سٹار تب ہی بنتا ہے جب وہ اپنے گراؤنڈ میں کھیلتا ہے۔ یہ سیریز اسکواڈ میں شامل نئے کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے۔

سابق کپتان نے کہا، پاکستان کی کنڈیشنز جنوبی افریقہ کے لیے کسی صورت آسان نہیں ہوں گی۔ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے مشکل کنڈیشنز نیوزی لینڈ میں ہی ہوتی ہیں۔ لہٰذا قومی کھلاڑیوں کو دورہ نیوزی لینڈ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہوگا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے اپنی ہوم کنڈیشنز پر ابھی سری لنکا کو شکست دی ہے مگر یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں بہت فرق ہے۔ پاکستان کی ٹیم کو 5 بیٹسمین اور 5 باؤلر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے، ان 5 باؤلر میں 2 فاسٹ باؤلر، 2 اسپنر اور ایک الراؤنڈر شامل ہونا چاہیے۔

اُن کا مزید کہنا تھا 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف نیا قومی ریکارڈ بنانے کے لیے مزید 18 رنز درکار تھے مگر صرف تین رنز کی کمی سے جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہا۔ قسمت کو یہی منظور تھا کہ جاوید میانداد کا نام اس ریکارڈ لسٹ میں ان سے اوپر رہے۔ جاوید میانداد میرے ہیرو تھے، میں نے ان سے بہت کرکٹ سیکھی۔

January 23, 2021

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے کی بہت خوشی ہے، وسیم خان

لاہور: جدت ویب ڈیسک : پی سی بی کے چیف ایگزیکٹووسیم خان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اورپاکستان کی سیریزسے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے کی بہت خوشی ہے، پاکستان کرکٹ اورفینز کے لیے یہ انتہائی یادگارلمحات ہیں۔ لاہورمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹووسیم خان نے کہا کہ کوویڈ کے باوجود ڈومیسٹک میچز کے بعد ہوم سیریز ہونے سے پاکستان کی نیک نامی میں بہت اضافہ ہوگا، اب تک مجموعی طورپر ہم نے چار ہزار کے قریب کوویڈ ٹیسٹنگ کرواچکیہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی کوویڈ کیتمام تقاضے پورے کررہے ہیں۔ وسیم خان کے مطابق تنقید ہوتی رہتی ہے، ٹیم ہارے تو سب کی طرح ہمیں بھی دکھ ہوتا ہے، ہم کرکٹ کی بہتری کے لیے اپنا کام کررہے ہیں کہ تمام معاملات میں بہتری آئے، تھوڑا وقت ضرور لگیگا۔ پی ایس ایل فرنچائزرز کے ساتھ بھی ایشوز ختم ہورہیہیں۔ وسیم خان کے مطابق بورڈ سربراہ کے ساتھ اختیارات کیمعاملات پر کوئی ایشو نہیں،کلب کرکٹ کے حوالیسے چند دنوں میں پیش رفت نظر آے گی۔

January 23, 2021

باکسر عامر خان کی والدہ میں کینسر کی تشخیص، دعائوں کی اپیل

لندن جدت ویب ڈیسک :پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی والدہ لبلبے کے کینسر کا شکار ہوگئیں اس ضمن میں باکسر عامر خان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی والدہ کے ہمراہ ماضی کی اپنی یادگار تصویر شیئر کی ہے۔مذکورہ تصویر میں دیکھا گیا کہ باکسر عامر خان کی والدہ اپنے بیٹے کی کامیابی پر بیحد خوش ہیں۔باکسر عامر خان نے والدہ اور اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو ایک اہم اطلاع سے آگاہ کیا۔عامر خان نے کہا کہ میری والدہ میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔اْنہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق میری والدہ اس وقت کینسر کے چوتھے اسٹیج پر ہیں۔باکسر عامر خان نے بتایا کہ ‘اْن والدہ خود کو بہتر اور مضبوط محسوس کر رہی ہیں۔اْنہوں نے اپنے مداحوں سے دْعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ‘براہِ کرم میری والدہ کو اپنی دْعاؤں میں یاد رکھیں۔باکسر عامر خان کی اس پوسٹ پر اْن کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد اْن کی والدہ کی جلد صحتیابی کے لیے دْعائیہ پیغامات جاری کررہی ہے۔

January 23, 2021

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی نئے کھلاڑیوں پر بھی دباؤ ہوگا، اظہر علی

کراچی جدت ویب ڈیسک :قومی کرکٹ ٹیم کے بلے باز اظہر علی نے کہا ہے کہ ہمارے لوگ اچھی کارکردگی پر سر پر چڑھادیتے ہیں اور ناقص کارکردگی پر فوراً سے نیچے گرادیتے ہیں تاہم یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے تجربہ کار بلے باز اظہرعلی نے کہا ہے کہ ہر سیریز میں کھلاڑی پر دباؤ ہوتا ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی نئے کھلاڑیوں پر بھی دباؤ ہوگا، کھلاڑی کو خدشہ رہتا ہے کہ خراب کارکردگی پر اسے ٹیم سے نکال دیا جائے گا، نئے کھلاڑی بھی اپنی اسکلز پر بھروسہ کریں، دباؤ سے بالا تر ہوکرکھیل سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں،دباؤ سے نکالنے کے لیے فیملیز کو ساتھ رکھنے کی اجازت دی،لیکن اب فیملیز کو بھی پتہ چل رہا ہے کہ کیا مشکلات ہوتی ہیں۔اظہر علی نے کہاکہ کورونا کے حالات چیلنج ہیں، ان ہی حالات میں کھیلنا ہوگا، کپتان بابر اعظم کے واپس آنے سے ٹیم مضبوط ہوئی ہے، جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم ہے، اس میں تجربے کار بیٹسمیںن اور باصلاحیت فاسٹ بولرز اور اسپنرزموجود ہیں تاہم ہوم کنڈیشنز سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے،ہم بھی ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، گزشتہ دو ہوم سیریز میں پاکستان نے اچھی کارکردگی دکھائی۔سابق کپتان نے کہا کہ ہمارے بیٹسمین انگلینڈ میں بھی اچھا کھیلے اور نیوزی لینڈ میں بھی اچھی بیٹنگ کرنے میں کامیاب رہے تاہم مزید اچھا کر سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، ہماری روایت رہی ہے کہ اچھی کارکردگی پر سر پر چڑھا لیتے ہیں، ناقص پرفارمنس پر گرا دیتے ہیں ، یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا، ہر کھلاڑی پر برا وقت آتا ہے،غلطیوں اور خامیوں کو دور کر رہا ہوں، کوچز رہنمائی کرتے ہیں، کوشش ہوگی کہ اچھی کارکردگی کو برقرار رکھوں، میں نے ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق منجمنٹ کے فیصلے پر عمل کرکے دیے جانے والے نمبر پر جاکر بیٹنگ کی ہے، کوچ اور کپتان کے پلان کے تحت کھیلتا ہوں ، تاہم بطور سینئر کھلاڑی سمجھتا ہوں کہ بیٹسمین کی ایک مقررہ پوزیشن ہونی چاہیے، قیادت سے الگ کیے جانے پر اظہار نہیں کروں گا۔

January 23, 2021

نامور کمنٹیٹرز پاکستان -جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز میں کمنٹری کریں گے

کراچی جدت ویب ڈیسک :تیرہ سال سے زائد عرصہ بعد جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شائقین کرکٹ کو اعلی معیار کی کوریج فراہم کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ چھبیس جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شیڈول پہلے ٹیسٹ میچ سے شروع ہونے والی سیریز کے کمنٹری پینل میں معروف کمنٹیٹرز شامل ہیں۔ستاروں سے سجی اس کہکشاں میں پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم، رمیز راجہ اور بازید خان کے ساتھ ساتھ مائیک ہیسمین اور ڈیرل کلینن سمیت نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بالر سائمن ڈول بھی شامل ہیں۔وسیم اکرم صرف ٹیسٹ سیریز جبکہ سائمن ڈول صرف ٹی ٹونٹی سیریز میں کمنٹری کے فرائض انجام دیں گے۔ دونوں ٹیموں کے مابین تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔ اس ضمن میںجنوبی افریقہ کے سابق بیٹسمین ڈیرل کلینن کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان واپسی پر بہت خوش ہیں، دونوں ٹیمیں باصلاحیت ہیں، لہذا وہ ایک شاندار سیریز کے انعقاد کے منتظر ہیں۔نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بالر سائمن ڈول کا کہناہے کہ وہ اعلی معیار کے فاسٹ بالرز پر مشتمل دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کے آغاز کا اب مزید انتظار نہیں کرسکتے۔معروف کمنٹیٹر مائیک ہیسمین کا کہنا ہے کہ سال 2003 میں پاکستان میں کھیلی گئی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انہوں نے آن ائیر ایک جملہ کہا تھا کہ ان دونوں ٹیموں کو کوئی علیحدہ نہیں کرسکتا، آج اٹھارہ سال بعد ان دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ کا دوبارہ آغاز ہونے جارہا ہے،اس تاریخی ٹور پر انہیں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سیریز کے میچز پر تبصرہ کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔دوسری طرف سیریز کی براڈکاسٹ پروڈکشن سروسزمشترکہ طور پر ٹرانس گروپ ایف زیڈ ای، این ای پی گروپ اور بلٹز ایڈورٹائزنگ کو فراہم کردی گئی ہیں۔اس کنسورشیم میں این ای پی گروپ ٹیکنکل پارٹنر ہے۔ این ای پی گزشتہ تیس سال سے دنیا کا ایک نامور پروڈکشن پارٹنر ہے۔سیریز کی کوریج کل 28 مختلف کیمروں سے کی جائے گی،جن میں ہاک آئی بال ٹریکنگ پر مشتمل ڈی آر ایس، آلٹر موشن، بگی کیمرہ اور ڈرون کیمرہ بھی شامل ہیں۔گروپ ڈائریکٹر ٹرانس گروپ را عمر ہاشم خان کا کہنا ہے کہ انہیں جنوبی افریقہ سیریز کے لیے پی سی بی کے پروڈکشن پارٹنر بننے پر خوشی ہے، وہ اسٹیٹ آف دی آرٹ آلات سے ایونٹ کی کوریج کرکیاپنے صارفین کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرانس گروپ پی سی بی کا بہت پرانا پارٹنر ہے، جن کی خاصیت ہی اسٹیڈیمز کی ایونٹ منیجمنٹ، براڈکاسٹ اور کمرشل اسپانسرشپ رائٹس ہیں۔این ای پی سنگاپور کے صدر سعید اعزادی کا کہنا ہے کہ پروڈکشن کے ہر پہلو میں ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے، این ای پی اپنے پارٹنرز ٹرانس گروپ اور بلٹز کو اسپورٹ کرنے کے لیے اپنے تجربے اور جدید آلات کے ذریعے کرکٹ کی اعلی معیار کی کوریج فراہم کریگا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک انٹرنیشنل سیریز میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کام کرنے لیے پرجوش ہیں، وہ پاکستان کے کرکٹ گرانڈز میں پہلی مرتبہ 4K ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔بلٹز ایڈوارٹائزنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احسن ادریس کا کہنا ہے کہ بلٹرز اور ٹرانس گروپ کے کنسورشیم کی حیثیت سے وہ دنیا کی دو بہترین ٹیموں،پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین سیریز کی کوریج کرنے پر بہت خوش ہے، بلاشبہ دونوں ٹیموں میں بہترین کھلاڑی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کنسوریشم کے ٹیکنکل پاڑٹنر این ای پی کے ساتھ یہ ان کے تعلقات کا آغاز ہے، این ای پی دنیا بھر میں کھیلوں اور انٹرٹینمنٹ کے براہ راست ایونٹ کا ایک ٹیکنکل پروڈکشن پارٹنر رہاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلٹز ٹرانس گروپ کا یہ کنسوریشم پاکستان اور جنوبی افریقہ سیریز کے دوران اپنیمقررہ معیار کو گرنے نہیں دے گا۔

January 22, 2021

جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کوشکست کا ذائقہ چکھانے کے لیے پاکستانی کوچزنے سرجوڑلیے

لاہور:جدت ویب ڈیسک : 14 سال بعد آنے والی جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کو شکست کا ذائقہ چکھانے کے لیے پاکستانی کوچز نے سر جوڑ لیے۔ 2007 میں کراچی ٹیسٹ میں ہونے والی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے مہمان ٹیم کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، 2 میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں منگل سے نیشنل اسٹیڈیم پر شروع ہونے والے مقابلے کے لیے دونوں ٹیموں کی تیاریاں جاری ہیں،پاکستان ٹیم نے دوسرے دن بھی نیشنل اسٹیڈیم پر پریکٹس سیشن میں جاری ہے،سابق ٹیسٹ کپتان اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی زیر نگرانی دیگر تین سابق ٹیسٹ کپتانوں بولنگ کوچ وقار یونس، بیٹنگ کوچ یونس خان، پی سی بی کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے کوچ محمد یوسف اور اسپن بولنگ اسپیشلسٹ محمد ثقلین نے حریف سائیڈ کے خلاف بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کراچی جیمخانہ گرانڈ پر تیاریوں میں مصروف ہے۔