January 23, 2018

جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں،ترجمان پاک فوج

راولپنڈی جدت وےب ڈیسک :ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں،وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں ،آئینی حدود میں انتخابات سے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے، بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے، کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دینگے اور دیا جاتا رہے گا،مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے ،ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ،دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا الزام بے بنیاد ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی جمہوریت کے حامی ہیں انہوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں اسی لئے وہ سینیٹ میں جانےوالے پہلے آرمی چیف بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں البتہ آئینی حدود میں انتخابات سے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے۔بھارت نے کئی بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دیں گے اور دیا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے جبکہ ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا الزام بے بنیاد ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان میں بیٹھے حقانی نیٹ ورک کے افراد افغانستان میں حملے کررہے ہیں کیونکہ حقانیوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام بہت ضروری ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوج عوام کی فوج ہے اور عوام کی بہتری کےلئے فوج کو جو کرنا پڑے گا کریں گے۔

January 23, 2018

بھارتی جارحیت پر ہمیشہ بھرپور جواب دیا جائے گا‘ آرمی چیف

راولپنڈی جدت ویب ڈیسک :پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر عوام کو بھارتی شیلنگ سے محفوظ رکھنے کےلئے مزید مؤثر اقدامات کرنے اور حفاظتی شیلٹرز قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 2003کے سیزفائرمعاہدے کی پابندی کے ہمارے عزم کو کمزوری نہ سمجھاجائے ¾ بھارتی جارحیت پر ہمیشہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کھوئی رٹہ اور رٹہ ارایان سیکٹرز کا دورہ کیا۔مقامی کمانڈرز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی بالخصوص عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے آگاہ کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے پاک فوج کے جوانوں کی جانب سے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے پر جوانوں اور عوام کے عزم کو سراہا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر عوام کو بھارتی شیلنگ سے محفوظ رکھنے کےلئے مزید مؤثر اقدامات کرنے اور حفاظتی شیلٹرز قائم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف مقامی آبادی کے بلند عزائم کی تعریف بھی کی۔پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ 2003کے سیزفائرمعاہدے کی پابندی کے ہمارے عزم کو کمزوری نہ سمجھاجائے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا ہمیشہ بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔بعد ازاں آرمی چیف نے سی ایم ایچ سیالکوٹ میں بھارتی شیلنگ اور گولہ باری سے زخمی ہونے والے شہریوں کی عیادت بھی کی۔

January 22, 2018

چیف جسٹس پہلے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں.خورشید شاہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک  قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس دوسروں کو بہتر کرنے کی بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں ٗعدالتیں انصاف کیلئے ہوتی ہیں حکمرانی کیلئے نہیں ٗ عدالتوں کے پاس 8 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، اس کو بھی گورننس ہی کہا جاتا ہے ٗعمران خان کی جانب سے استعفوں کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے فوری استعفے آ جانے چاہیے تھے ٗراؤ انوار قبائلی نوجوان نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوگا تو اس کے خلاف جوڈیشل انکوائری ہوگی۔ پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ خورشید شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس دوسروں کو بہتر کرنے کی بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں، پہلے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں پھر دوسروں کو بھی ٹھیک کرنے کی اجازت ہے ٗعدالتیں انصاف کرنے کیلئے ہوتی ہیں حکمرانی کے لیے نہیں، عدالتوں کے پاس 8 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، اس کو بھی گورننس ہی کہا جاتا ہے ٗسپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو بڑھا کر 35 کرنا چاہیے ٗپنجاب ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 60 سے 80 جبکہ سندھ میں 45 ہونی چاہیے۔سید خورشید شاہ نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے استعفوں کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے فوری استعفے آ جانے چاہیے تھے، انہوں نے استعفوں کی بات سسٹم کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کی لیکن ہم جمہوری پارٹی ہیں اس لیے سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، تحریک انصاف نے پارلیمنٹ سے 11 کروڑ روپے سے زائد تنخواہیں اور مراعات لیں، عمران خان نے بھی 70 سے 80 لاکھ روپے لیے ہیں وہ واپس کریں، استعفوں کے معاملے پر تحریک انصاف کا دہرا معیار ہے۔شہباز شریف کی نیب کے سامنے عدم پیشی سے متعلق سوال پر خورشید شاہ نے کہا کہ اگر شہباز شریف پیش نہ ہوئے تو نیب کا ادارہ نہیں چل سکے گا، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، قانون کی دھجیاں اڑتی رہیں اور ادارے خاموش تماشا دیکھتے رہے تو ادارے ختم ہو جائیں گے۔خورشید شاہ نے راؤ انوار کو پیپلز پارٹی کی سرپرستی حاصل ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری راؤ انوار کی سرپرستی نہیں کر رہے، اگر راؤ انوار قبائلی نوجوان نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوگا تو اس کے خلاف جوڈیشل انکوائری ہوگی، راؤ انوار کو بھاگنا نہیں بلکہ مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے ٗبے گناہ آدمی شہید ہوا انصاف ملنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ ریاست کی کمزوری سے افرا تفری پھیلتی ہے ٗپھر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس ہو گی۔

January 22, 2018

 کراچی کی ترقی کیلئے وفاق کا ہر ممکن تعاون کرے گا‘گورنر سندھ

کراچی  جدت ویب ڈیسک  گورنر سندھ محمد زبیر سے میئر کراچی وسیم اختر نے گورنر ہائوس میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں جاری ترقیاتی منصوبوں، کراچی ترقیاتی پیکج ،کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی کارکردگی ، عوامی فلاح وبہبود کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سمیت اہمیت کے حامل دیگر امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اقتصادی حب ہے شہر کی ترقی سے پورے ملک کی ترقی و خوشحالی مضمر ہے اس ضمن میں وفاق شہر کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہر ممکن تعاون ، مدد اور معاونت فراہم کررہا ہے ، کراچی ترقیاتی پیکج شہر کے انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی ، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے ، سماجی شعبہ کی ترقی اور شہر کے مکینوں کا معیار زندگی بھی بلندکرنے میں اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے کراچی میٹر و کارپوریشن شہریوں کو جدید اور معیار ی سہولیات کی فراہمی میں فعال کردار ادا کررہی ہے ، وفاق کے تحت کراچی میں جاری گرین لائن ، پینے کے صاف پانی کا منصوبہ K-IV اور لیاری ایکسپریس وے کی تکمیل سے عوام کو زبردست سہولیات حاصل ہونگی ، گرین لائن جدید سفری سہولت کا معیا ری ، سستا اور آرام دہ منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے شہر کے ایک بڑے حصہ کے مکینوں کو جدید دور کی سفری سہولت حاصل ہوگی ، لیاری ایکسپریس وے مکمل کرلیا گیا جس کا عنقریب وزیر اعظم پاکستان افتتاح کرینگے اس منصوبہ سے شہر کے مختلف حصوں سے ٹریفک کے اژدھام کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جبکہ پینے کے صاف پانی کا منصوبہ K-IV سے شہریوں کو اضافی پانی فراہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ترقیاتی پیکج میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے نجی شعبہ کی نامور شخصیات پر مشتمل ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے تاکہ عوام کے ایک ایک پیسہ کی نگرانی کو موئثر بنایا جا سکے ، کراچی ترقیاتی پیکج میں روڈ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لئے 6.7 بلین روپے ، فائر ٹینڈر ، اسنارکل اور بائو زر کی خریداری کے لئے 1.5 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ روڈ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تین فلائی اوورز کی تعمیر کی جائے گی جن میں سخی حسن ،فائیو اسٹار اور کے ڈی اے چورنگی شامل ہیں جبکہ منگھو پیر روڈ کی بحالی و ترقی کے لئے 2588 ملین روپے اور 6.7 کلومیٹر نشتر روڈ کی بحالی و ترقی کے لئے 860 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ گورنر محمد زبیر نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بعد شہر میں ترقیاتی منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کو آپریشن کے ثمرات پہنچائے جا سکیں اس ضمن میں وفاق نے 25 ارب روپے کے کراچی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے اس سے قبل وفاق کے تعاون سے 50 ارب روپے سے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اس طرح وفاقی حکومت شہر ترقی و خوشحالی کے لئے 75 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے ، صنعتی ، تجارتی ، اقتصادی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالہ سے یہ شہر منفرد اہمیت رکھتا ہے ، امن و امان کے قیام کے بعد ایک بار پھر شہر کی روشنیاں تیزی سے بحال ہو رہی ہیں ،شہر میں معاشی ، اقتصادی ،صنعتی، سماجی ، ادبی ، ثقافتی اور دیگر سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ بھی دیکھا جا رہاہے جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتمادبحال ہونے سے شہر میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تسلسل سے اضافہ ہو رہا ہے، نجی سیکٹر کے فعال کردار سے بے روزگاری اور غربت کے خاتمہ میں مدد مل رہی ہے اس ضمن میں شہر کے انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبو د کے ترقیاتی منصوبوں کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی چونکہ مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پھیلتے شہر کے مسائل میں اضافہ بھی فطری عمل ہے اس لئے شہریوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن کراچی ترقیاتی پیکج سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کی تکمیل سے عوام کے معیار زندگی میں بہتری یقینی ہے ۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت شہر کی ترقی و خوشحالی کے لئے بھرپور تعاون فراہم کررہی ہے ، کراچی ترقیاتی پیکج میں عوامی فلاح وبہبود کے منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے عوام کو سہولیات حاصل ہونگی ، کراچی کے شہری وفاق کی بھرپور دلچسپی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

January 22, 2018

شادی کاجھانسہ دیکرلڑکیاں اسمگل کرنے والا گروہ پکڑاگیا

میرپورخاص/خیرپور جدت ویب ڈیسک سوشل میڈیا کے ذریعے شادی کا جھانسہ دے کرلڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ پکڑاگیا۔ خیرپورمیں غیرت کے نام پر بھائی نے شادی شدہ بہن کو قتل کردیا۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے میرپورخاص میں کارروائی کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کوورغلانے والے تین کارندوں کو پکڑ لیاہے۔پولیس کے مطابق گروہ کے ارکان سوشل میڈیا پر لڑکیوں سے دوستی کرکے انہیں شادی کا جھانسہ دیتے تھے اورپھر دوسرے شہر لے جاکر فروخت کردیتے تھے۔سٹی تھانے میرپورخاص میں بازیاب لڑکیوں کو والدین سے ملایا گیا تو جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسری جانب خیر پورمیں سسرال سے میکے آنے والی 22 سالہ فرزانہ کو سگے بھائی نے گولی مارکر قتل کردیا۔لاش پانچ گھنٹے تک گھر میں پڑی رہی مگر والدین سمیت کسی نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔مقتولہ کے رشتہ دار نے پولیس کو بتایا کہ ہمیں لڑکی کے بھائی نے فون کرکے اطلاع دی ، جب ہم پہنچے تو وہ دم توڑ چکی تھی۔مقتولہ فرزانہ کی تین سال پہلے کزن سے شادی ہوئی تھی۔

January 22, 2018

این آر او چور کرتے ہیں ہم چور نہیں ہیں،وزیراعظم

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ ججز کا چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہیے کیونکہ انہوں نے تاریخی فیصلے کرنے ہیں اس لیے کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے۔ ججز کی پارلیمانی نگرانی دنیا بھر میں ہوتی ہے، امریکا سمیت دنیا بھر میں جج کی تعیناتی کے وقت اس کی پوری زندگی کھنگالی جاتی ہے، اسی لیے یہی معیار رکھنا چاہیے، اگر کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے،پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں، الیکشن جولائی میں ہوں گے،سینیٹ انتخابات سے پہلے حکومت کے جانے اور اسمبلی توڑنے کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہیں، اسمبلی تحلیل کرنے کے دو طریقے ہیں، نوازشریف اور پارٹی فیصلہ کرے اور مجھے بتائیں تو میں اسمبلی تحلیل کروں گا اور اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو تحریک عدم اعتماد پیش کرے، اسمبلی تحلیل کا تیسرا کوئی طریقہ نہیں ہے۔نگران وزیراعظم کا فیصلہ ماضی کی طرح کا نہیں ہوگا، نگران وزیر اعظم کا فیصلہ آئین کے تحت کریں گے، میرے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی اور سازش پر کبھی یقین نہیں کیا۔ جو مظاہرے کرتے ہیں ان کی عقل کو داد دیتا ہوں، جو لعنتی ہیں انہیں خود سمجھ آجائے گی، حیران ہوں کہ اسمبلی رکن اور پارٹی سربراہ اسمبلی کو گالی دیتے ہیں،جتنی شفاف یہ حکومت ہے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں آئی، یہاں وزیراعظم کے آفس میں نقد رشوت لی جاتی تھی، یہاں گیس کے کنکشن اور 45 ہزار کلاشنکوف کے لائسنس بیچے گئے۔این آر او چور کرتے ہیں ہم چور نہیں ہیں، آمروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں، سیاستدانوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے، سیاستدانوں کو کبھی ہائی جیکر اور کبھی سسلین مافیا کہا جاتا ہے، مشرف نے غلط فیصلہ کیا، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں، وہ لندن اور دبئی میں مزے کر رہا ہے۔جمہوریت کو چلنے دیں، ہر ادارہ جگہ بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن عوام اسے قبول کرتے ہیں جو فطرت کے مطابق ہو۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اورپاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا موازنہ درست نہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی نے جہاز اور فوجی لا کر پہلے فتح کیا پھر تجارت کی مگریہاں چینی سرمایہ کاری لا کر پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ 20 ہزار چینی باشندے پاکستان میں ہیں، چینی حکومت نے پاکستان میںاپنے شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کا سخت نوٹس لیا ہے، ڈو مور پر امریکہ کو کہہ چکے ہیں کہ پہلے ہی بہت کر چکے،دہشت گردی کے خلاف پاکستان اپنی اور دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ختم نبوت کا بل منظور کرنے میں تمام جماعتیں شامل تھیں،حافظ حمد اللہ کی ترمیم منظور کر لی جاتی تو یہ معاملہ کھڑا نہ ہوتا لہٰذا اس حوالے سے راجہ ظفر الحق رپورٹ عوام کے پاس جانی ہے ،اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔بچوں کے جرائم سے متعلق قوانین میں کمی نہیں ہے۔پیر کو وزیراعظم آفس میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پوری دنیا میں یہ نظام ہوتا ہے کہ کورم ہو نہ ہو ایوان کا اجلاس جاری رہتاہے چاہے ایوان میں ایک رکن موجود ہو پارلیمان میں ہونیوالی بحث ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہے ،پارلیمانی رپورٹرز کا بہت اہم کردارہے ان کے ذریعے حلقے کے عوام کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا نمائندہ اسمبلی میں کیا کر رہا ہے ،الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ مگر پرنٹ میڈیا حلقے کے عوام میں بہت اہمیت ہوتی ہے وہ اپنے نمائندے کی تفصیلی خبر پرھتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو کسی قسم کا فوجی تھریٹ کبھی نہیں تھا،ہماری فوج نے جو کام کیا ہے پوری دنیا نے اکھٹے ہوکر بھی افغانستان میں وہ کام نہیں کیا،افغانستان میں جو بجٹ خرچ کیا جارہا ہے وہ ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے،افغان آپس میں بیٹھیں گے تو مسئلہ حل ہوگا،انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے اورجو کام نواز شریف کی حکومت نے پانچ سالوں میں کیا ہے وہ کام 65سالوں میں بھی نہیں ہوسکے اس پر اسمبلی سمیت ہر جگہ بحث کروالیں ہم اس کے لیے تیار ہں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ڈومور کا پاکستان نے واضح جواب دے دیا ہے ہم سے زیادہ ڈومور کسی نہیں کیا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چھ ہزارفوجی جوانوں اورہزاروں عام شہریوں کی شہادتیںدی ہیں،وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان کے دولاکھ فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ہم نے افغانستان میں اس قوت کو شکست دی ہے جس کو پوری دنیا ملکربھی شکست نہیں دے سکی تھی،انہو ں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ قومی بیانیہ کا حصہ بن گیا ہے،اس چلنے دیا جائے یہ بڑی کاوش ہے،ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہر ادارہ اپنی جگہ بنانے میں رہتا ہے لیکن کامیابوہی ہوتی ہے جس کو عوام قبول کریں،دنیا بھر میں ججز کے حوالے سے اوورسائٹ کمیٹی ہوتی ہے جو بھی جج لگایا جائے اس کا چہرہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے،جس شخص کو جج تعینات کیا جائے اس کے حوالے سے تمام معلومات عام ہونی چاہیئں کیونکہ اس نے 25سے 30سال تک ملک میں انصاف کر نا ہوتا ہے زندگی اورموت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں اس لیے تمام ملکوں میں ججز تعینات کرنے سے پہلے اس کی پوری زندگی کھنگالی جاتی ہے،این آراوکرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ این آر او وہ کرتے ہیں جو چور ہوتے ہیں ہم نے کوئی ڈاکہ نہیں مارا ،جتنی صاف اورشفاف موجودہ حکومت ہے پوری تاریخ میں نہیں آئی مشرف سے این آراوہم بھی کرسکتے تھے لیکن ہم نے ایسانہیں کیا،ایک اورسوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ،ا س پارلیمنٹ کے چارمہینے باقی رہ گئے ہیں اسمبلی تحلیل کرنے کے دوہی طریقے ہیں ایک تو پارٹی قائد میاں نوازشریف فیصلہ کریں اورمجھے بتادیں تو میں اسملبی تحلیل کردوں گاجبکہ دوسراطریقہ یہ ہے کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں اورتحریک کامیاب ہوجائے اورنیا منتخب ہونیوالا اسمبلی تحلیل کردے،ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں نہ کبھی سازشوں کا حصہ بنا ہوں اورنہ ہی میں اس کاحصہ ہوں اگرکسی کو بھی اسمبلی توڑنی ہے تو وہ شوق پورا کرلے اگر آج بھی اسمبلی ٹوٹی تو الیکشن جولائی میں ہی ہوں گے،جس نے بھی سیاست کھیلنی ہے وہ کھیل لے اورانتخابات کا انتظارکرے،ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل کا تقررچیئرمین نیب کی مشاورت سے ہونا ہے انہوں نے پانچ نام بھجوائے تھے اس پر حکومتی موقف انہیں دے دیا ہے اورتین نام بھی بھجوادیئے ہیں نگراں وزیراعظم کا فیصلے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں ،لیکن یہ فیصلہ ایسا نہیں ہوگا جیسا پچھلی بار کیا گیا ،نگراں وزیراعظم کے دور میں کیش رشوت لی جاتی رہی،سب ریکارڈ کا حصہ ہے اب ایسا نہیں ہوگا ماضی میں گیس کنکشن بیچے گے اور45ہزار کلاشنکوف کے لائسنس دیئے گئے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی،میں سازشوں پر یقین نہیں رکھتا اورایسا بندہ جس کے صرف چارماہ رہتے ہوں اس کے خلاف سازش ہونی بھی نہیں چاہیے،انہوں نے کہاکہ جو مظاہرے کررہے ہیں وہ اپنے آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں عمران خان اورآصف علی زرداری طاہر القادری کی قیادت میں مظاہرے کررہے ہیں میں ان کی عقل کی داددیتا ہوں،عمران خان اورشیخ رشید کی طرف سے اسمبلی پر لعنت بھیجنے سے متعلق سوال کے جواب پروزیراعظم نے کہاکہ لعنتیوں کو خود سمجھ آجائیگی جو پارٹی سربراہ ہیں اوررکن اسمبلی ہونے کے باوجود اسمبلی کو گالیاں نکالتے ہیں،اپوزیشن سے سیاسی مکالمہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ گالیاں دینے والوں سے کیا مکالمہ کیاجائے اب سیاسی مکالمہ جولائی میں پولنگ اسٹیشن پر ہی ہوگا،ایک اورسوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے اپوزیشن کا کام احتجاج کرنا ہوتا ہے اگراپوزیشن ایوان میں ایجنڈا پھاڑنے کی بجائے وہاں بحث کرے اورمسائل کو سامنے لائے توبہتر ہوگا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ختم نبوت کے معاملے پر ن لیگ قصوروار نہیں حقائق موجو دہیں حکومت اس معاملے پر بیک فٹ پر نہیں گئی یہ حکومت کا بل نہیں تھا پارلیمانی کمیٹی کا بل تھا جسے اسمبلی نے منظورکیا سینیٹ میں گیا اورپھر سینیٹ کمیٹی میں بھی اس پر بحث ہوئی پھر سینیٹ میں سینیٹرحافظ حمد اللہ نے اس کی نشاندہی کی ن لیگ نے حافظ حمد اللہ کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی ،ہمارا موقف بہت واضح ہے ،ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کی انتخابی مہم کی قیادت محمد نوا زشریف کریں گے ووٹ بینک میاں نواز شریف کا ہے ،جس طرح پیپلزپارٹی کو بے نظیرکے علاوہ ووٹ نہیں مل سکتا اسی طرح ن لیگ کو بھی نواز شریف کے علاوہ ووٹ نہیں مل سکتا،راجہ ظفرالحق کی رپورٹ عام کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی کے 104اجلاس ہوئے ہیں اس تمام ریکارڈ کو دیکھ رہے ہیں کہ کیا محرکات تھے ہر چیز کا جائزہ لیکر یہ رپورٹ عام کی جائیگی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف ہم دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی جنگ بھی لڑرہے ہیں سیاسی حکومتوں سے بازپرس ہوتی ہے آمریت میں جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے کوئی بھی اس سے نہیں پوچھتا،مشرف سے بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ،دبئی ،لندن اوردیگرممالک میں اس کی جائیدادیں ہیں اوروہ آرام سے زندگی گزارر ہا ہے لیکن سیاستدان ادھر ہی ہیں ان کو نیب کی عدالتوں میں پیش ہوناپڑرہا ہے ،جب ایٹمی دھماکہ کیاگیا تو ایک منتخب حکومت تھی دو،دوگھنٹے برطانیہ اورامریکہ سے منتخب قیادت کو فون آتے تھے لیکن قومی قیادت نے وہی فیصلہ کیا جو ملک کے مفاد میں تھا اگردہشت گردی کے خلاف جنگ کے فیصلے کے وقت بھی منتخب حکومت ہوتی تو حالات مختلف ہوتے،ایک سوا ل کے جواب میںوزیراعظم نے کہاکہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر ے تو بہتر ہوگا،چین سے بڑی تعداد میں باشندوں کے پاکستان آنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ ایسٹ انڈیا کمپنی جہازلیکر آئی تھی جنہوں نے پہلے یہاں قبضہ کیا اورپھر تجارت کی سی پیک منصوبے کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دینا درست نہیں،جب ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تھی توجی ڈی پی کا بڑا حصہ برصغیر میں تھا،اوران کے سارے سلسلے یہاں چلتے تھے مگر اس کے برعکس چینی کمپنیاںسرمایہ کاری لیکر یہاں آئی ہیں جو کہ پاورپلانٹس،موٹرویز،پورٹس،اورائیرپورٹس سمیت دیگر منصوبوں پر خرچ ہورہی ہے اس سے ملک کا فائدہ ہے کسی ملک نے خود کما کر ترقی نہیں کی،چین ہماری مددکررہاہے،منصبوے مکمل ہونے پر اس کے قرضے کی رقم واپس کی جائیگی اورمنصوبے اثاثے بن کر یہیں رہیں گے،ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ ڈالر کی قیمت طلب اوررسد کے مطابق ہوتی ہے،ایک اور سوال کے وزیراعظم نے کہاکہ اگلا بجٹ تیار کررہے ہیں اسے پیش کون کرے گا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے امن اومان کے قیام کے لیے بھرپوراقدامات کیے ہیں،زینب کیس کے معاملے میں پیشرفت ہورہی ہے ملزم جلد کیفرکردارکو پہنچے گا،مردان میں اسماء سے زیادتی کے واقعے میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ پنجاب میں کیئے جارہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں فاٹا اصلاحات کا پہلا ڈرافٹ آگیا ہے اب اسے سینیٹ منظورکرے گا ا س کا طریقہ کار بن چکا ہے اس میں تمام لوگ شامل ہیں،دس سال تک ایک سو ارب روپے اضافی فاٹا میں خرچ کرنے ہیں صوبائی حکومتوں سے کہاہے کہ اس کو این ایف سی می رکھیں،انہوںنے کہاکہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے والے حکومت کا حصہ تھے ،جس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا میں اس میں شامل تھا،عدالت کا حکم تھا کہ طاقت کا استعمال نہ کی جائے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں،اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا بڑا کردارہے،معاشی ایجنڈا اب سیاسی تبدیلی سے الگ ہوگیا ہے،1990میں جو معاشی ایجنڈا ن لیگ نے دیا تھا سب حکومتیں اسی کو مدنظر رکھ کر چل رہی ہیں ،پی آئی اے کی نجکاری ہم نہیں کریں گے تو اگلی حکومت کرد ے گی۔

January 22, 2018

پنجاب یونیورسٹی میں طلبا کی ہنگامہ آرائی، متعدد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ

لاہور جدت ویب ڈیسک : پنجاب یونیورسٹی میں فیسٹول منعقد کرانے پر اسلامی جمعیت طلبہ اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی۔ حالات پر قابو پانے کے لئے آنے والی پولیس پر بھی ڈنڈا بردار طلبائ نے دھاوا بول دیا اور پولیس وین سمیت کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے جبکہ پولیس نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے طلبائ کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے جس سے متعدد طلبائ زخمی ہوئے اور پولیس نے حالات پر قابو پا لیا ۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنائ اللہ اور وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا ذاکر کا یونیورسٹی میں حالات خراب کرنے والے طلبائ کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز صبح پانچ بجے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بک سٹال فیسٹیول منعقد کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجیئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں تیاریوں میں مصروف تھے کہ ایک دوسرے گروپ نے دھاوا بولا۔ تھوڑ پھوڑ کی اور ایک کمرے کو آگ لگائی۔ جس کے نتیجے میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور اسلامی جمعیت طلبہ کے درمیان تصادم ہوا۔صورت حال کو قابو میں لانے کے لئے موقع پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ۔