September 28, 2017

سابق نااہل وزیراعظم نےدس سال کا برطانوی ویزاحاصل کرلیا،ایل ڈی اے کے پلاٹوں پربھی تحقیقات شروع

جدت ویب ڈیسک :نواز شریف کے خلاف ۱۹۸۵ میں ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی غیر قانونی تقسیم کا کیس بھی شروع ۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں سنگین بد عنوانیوں کا انکشاف، ایل ڈی اے کے تیرہ افسروں کو 29ستمبر کےسمن جاری کردیئے گئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا برطانیہ روانہ ہونے کا امکان ہے لیکن ان پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان دو اکتوبر کو ہے نیب کی احتساب عدالت میں ان پر کیس چل رہے ہیں ذرائع کے مطابق نواز شریف نے نجی کورئیر کمپنی سے اپنا پاسپورٹ حاصل کرلیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی ویزے کی مدت ختم ہونے پر دوبارہ ویزہ لے لیا وہ بھی دس سال کا جبکہ وہ اپنا پاسپورٹ لینے خود کورئیر کمپنی پہنچے ۔بیگم کلثوم نواز کو ڈاکٹروں نے کینسر تشخیص کیا ہے اور ان کا علاج لندن میں جاری ہے جہاں ان کے بچے ان کی تیمارداری کے لیے موجود ہیں۔بیگم کلثوم نواز کی گزشتہ روز طبیعت بگڑ گئی تھی اور ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں لندن کے پرنس گریس اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں ایمرجنسی میں منتقل کیا۔خیال رہے گزشتہ روز نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی جس پر انہیں ایمرجنسی میں داخل کیا گیا۔

نواز شریف کے خلاف ۱۹۸۵ میں ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی غیر قانونی تقسیم کا کیس بھی شروع ۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں سنگین بد عنوانیوں کا انکشاف۔ ابھی آگے آگے دیکھئیے کیا نکلتا ہے۔

Posted by Imran Khan (official) on Wednesday, September 27, 2017

September 28, 2017

پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے،افغانستان میں ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا نادرست نہیں،اعزاز چوہدری

جدت ویب ڈیسک : پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے کہا پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثرکارروائی کی جب کہ بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیفنس ڈے پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے، پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی جنگ میں بھی بہت قربانیاں دی ہیں، پاک فوج نے پڑوسی ملک کی جارحیت کا بھی سامنا کیا، 1965 میں ہمسایہ ملک بھارت کی جارحیت کو ہماری فورسزنے منہ توڑجواب دیا تھا، پاکستان یواین پیس مشن میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والا ملک ہے جب کہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کی جنگ میں قربانیوں نے خطے میں امن بحال کیا۔اعزاز چوہدری نے پاک امریکا تعلقات پرکہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ پچھلی سات دہائیوں سے بہترین تعلقات ہیں، پاکستان مستقبل میں بھی امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اوردہشت گردی کی جنگ میں امریکا کا بھرپورساتھ دے گا۔اعزازچوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سمیت عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثرکارروائی کی جب کہ پاک فوج نے بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا۔اس موقع پر فوجی اتاشی میجر جنرل سرفراز چودھری نے کہاکہ افغانستان کا استحکام پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، ہم مسلسل ایک جنگ کی حالت میں ہیں، ہر گزرے دن کے ساتھ قوم طاقتور بن کر ابھر رہی ہے۔ اس موقع پر قومی پرچم بھی لہرایا گیا اور مختلف پروگرام پیش کئے گئے امر یکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا درست نہیں،پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے،پاک فوج نے بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا،پاکستان مستقبل میں بھی امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانے میں دفاع پاکستان کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں امریکا میں بسنے والے پاکستانیوں اور سفارتخانے کے عملے کے ارکان اور انکے اہلخانہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈالا جا سکتا، افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔

September 27, 2017

وزیراعلی سندھ نے گھوٹکی غوثپور پل کی نئی الائنمنٹ کی منظوری دیدی

کراچی جدت ویب ڈیسک وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر گھوٹکی۔ غوثپور پل کی نئی الائنمنٹ کی منظوری دی ہے اس سے2.7 کلومیٹرکمی واقع ہوگی اور منصوبے کی لاگت میں916ملین روپے کی بچت بھی ہوگی۔ انہوں نے یہ منظوری وزیر اعلی ہائوس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا میر ہزار خان بجارانی، صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی محمد وسیم، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری ورکس اعجاز میمن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کے سینئر افسران اور کنسلٹنٹس نے شرکت کی ۔منسٹر پی این ڈی نے کہا کہ دریائے سندھ پر پل کی اصل الائنمنٹ گھوٹکی اور کندھ کوٹ کے درمیان تھی۔بڈ جاری کی گئی جس کے تحت قومی اور بین الاقوامی 20بڈرس نے نیلامی میں حصہ لیا۔اس عرصے کے دوران وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے گھوٹکی تا کندھ کوٹ اپروچ سڑک کو تبدیل کرتے ہوئے گھوٹکی تا غوثپور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے اس فیصلے کی بنیاد پر کام کی ایڈوائزری کنسورشیم اسکوپ پر دوبارہ نظر ثانی کی گئی اور تعمیری لاگت اور مالی امور اور دیگر ٹرانزیکشن اسٹرکچر وغیرہ کو بھی اپ ڈیٹ کیاگیا۔ صوبائی وزیر میر ہزار خا ن بجارانی نے کہا کہ الائنمنٹ پر نظر ثانی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ 5کلومیٹر طویل لنک روڈ ٹھل روڈ کو منسلک کرتاتھا جس سے جیکب آباد اور بلوچستان کی ٹریفک کو مدد ملے گی۔ وزیر اعلی سندھ کے ایک سوال کے جواب میں کنسلٹنٹ نے کہا کہ 5کلومیٹرلنک روڈ جوکہ ٹھل روڈ سے ملاتا ہے کی نئی الائنمنٹ کے ڈیزائن کی ابتدائی جیومیٹرک سیٹلائٹ پر امیج بنایاگیاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے فنانشل ماڈل کو بھی اپ ڈیٹ کیاگیاہے۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیاکہ سابقہ الائنمنٹ 34.7کلومیٹر کی تھی جبکہ نئی الائنمنٹ گھوٹکی ۔ غوثپور 32 کلومیٹر ہے اور اس طرح سے 2.7کلومیٹر کی بچت ہوگی۔سابقہ برج کی لمبائی 2000میٹر تھی جبکہ نیو الائمنٹ کے تحت برج کی لمبائی 1200میٹر ہے ۔اس طرح سے پل کی لمبائی میں800میٹر کی بچت ہوئی ہے ۔ سابقہ الائمنٹ کی لاگت 6952ملین روپے تھی جبکہ نئی الائنمنٹ کی لاگت 6036ملین روپے ہوگی، اس طرح سے 916ملین روپے کی بچت ہوگی۔ وزیر اعلی سندھ نے اجلاس کے شرکا ، انجینئرز اور میر ہزار خان بجارانی جن کا تعلق ضلع کندھ کوٹ ۔ کشمورسے ہے سے نئی الائمنٹ پر تفصیلی بات چیت کی۔ وزیر اعلی سندھ نے نئی الائمنٹ کی منظوری دیتے ہوئے پی پی پی یونٹ کو ہدایت کی کہ وہ ریکویسٹ فار پروپوزل(آر ایف پی) جاری کرے اور ایک ہفتے کے اندر بین الاقوامی ٹینڈر طلب کئے جائیں تاکہ 3ماہ کے اندر اس منصوبے پر کام شروع ہوسکے۔ انہوں نے محکمہ ورکس کو ہدایت کی کہ وہ منصوبہ شروع کرتے وقت محکمہ ایری گیشن سے ماہرین کو لے لیں۔فنانشل ماڈل اور اسٹرکچر سے متعلق باتیں کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ اصولی طورپر حکومت ایکویٹی کا 14فیصد ادا کرے گی جبکہ نجی شراکت دار ایکویٹی کا 16فیصد دیں گے اور 70فیصد کا قرضہ ہوگا اس پر چیئرمین پی این ڈی محمد وسیم نے کہا کہ انہوں نے اے ڈی بی کے ساتھ اجلاس منعقد کیاتھا اور وہ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ میں دسمبر 2017 کے آخر تک اس کا سنگ بنیاد رکھنا چاہتاہوں تاکہ یہ 3سال کی مدت میں مکمل ہوسکے۔

September 27, 2017

اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی ‘تحریک انصاف میں پھوٹ پڑگئی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرلانے کے معاملے پر تحریک انصاف اختلافات کا شکار ہوگئی۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کو قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف نامزد کرنے پر پارٹی رہنما دوحصوں میں تقسیم ہوگئے ،اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پارٹی گروپ بندی کا شکار ہوگئی ہے اور اس فیصلے پر بعض ارکان ِقومی اسمبلی نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی سربراہ عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کو اپوزیشن لیڈربنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم شاہ محمود قریشی کی گزشتہ روز ایم کیوایم کی قیادت سے ان کے مرکز پرملاقات سے انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا تاثردیا گیا جس پر کراچی کی مقامی قیادت اور خیبرپختونخوا کے بعض ارکان نے اعتراض کیا ہے۔کراچی سے پی ٹی آئی کے اہم رہنما عمران اسماعیل نے شاہ محمود کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم کے ساتھ ملنے پر کارکنوں کا سخت ردعمل آئے گا جس سے پارٹی قیادت اور ورکرز میں تناؤ کی کیفیت ہوگی جو پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔انہی خدشات کا اظہار خیبرپختونخوا سے منتخب ارکان اسمبلی بھی کررہے ہیں جو شاہ محمود کی ایم کیوایم سے ملاقات پر ناخوش ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو خود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد سے منتخب پی ٹی آئی رہنما اسد عمر سے متعلق ارکان اسمبلی کی رائے ہے کہ وہ دھیمے لہجے اور نرم مزاج شخصیت کے حامل ہیں جو اپوزیشن لیڈر کی سخت ذمہ داریوں کےلئے ان فٹ ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر پارٹی میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین بھی ناراض ارکان کے موقف کی حمایت کررہے ہیں جب کہ مذکورہ ارکان اس پوری صورتحال کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے کراچی جاکر ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے ملاقات کی تھی جس میں دونوں پارٹیوں نے شاہ محمود کو قائد حزب اختلاف بنانے پراتفاق کیا تھا۔

September 27, 2017

پاکستان سے ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہوں‘خواجہ آصف

نیویارک جدت ویب ڈیسک وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ پاکستان پرحقانی نیٹ ورک ، حافظ سعید اور دیگر دہشتگردوں کو تحفظ دینے کا الزام نہ لگایا جائے ، یہ لوگ 20سے 25سال قبل کبھی امریکہ کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہائوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے ، 80 کی دہائی میں امریکا کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے ، پاکستان کو ملک میں موجود شدت پسند عناصر پر قابو پانا ہے ، حوالے سے وہ ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہیں ، سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا ، ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر موثر بارڈرمینجمنٹ کی ضروری ہے ، افغانستان میں امن اورسیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے ، امریکا جنگ کے ذریعے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، مذاکرات ہی کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ، سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہوگی ، پاکستان بھارت کے ساتھ ملکر کام کر نے کو تیار ہے ۔ نیویارک میں ایشیائ سوسائٹی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اب امریکا پاکستان کو حقانی اور حافظ سعید کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرارہا ہے جبکہ یہ لوگ کھبی آپ کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہاوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے۔ پروگرام کے میزبان نے خواجہ آصف سے ماضی کو بھول کر مستقبل کی جانب دیکھنے کو کہا جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ ماضی کو بھولنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ہمارے مستقبل اور حال کا ایک اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانی اور حافظ سعید کو تحفظ فراہم کررہا ہے ، پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کا الزام نہ لگایا جائے۔کسی ملک کا نام لیے بغیر انہوںنے کہاکہ انہیں حقانی اور حافظ سعید کو بعد میں پاکستان کے گلے کا ہار بنادیا گیا، کہ ہم پر بوجھ ہیں ، ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کےلئے ہمارے پاس متبادل اثاثے موجود نہیں جبکہ آپ امریکا ہمارے بوجھ میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔خواجہ آصف نے مذکورہ پروگرام کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس بوجھ کو اتارنے میں کچھ وقت لگے گا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر موثر بارڈرمینجمنٹ کی ضروری ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی افغان رہنما مفادات کےلئے کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ افغانستان میں امن اورسیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہاکہ امریکا جنگ کے ذریعے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، مذاکرات ہی کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں غیر ملکی در اندازی، بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت، افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کررہا ہے۔وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اب تک گجرات سے باہرنہیں نکل سکی ہیں جبکہ بھارت میں 66 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں کام کررہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق وزیر خارزجہ خواجہ آصف نے تقریب کے میزبان ، امریکی صحافی سٹیو کول کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو ملک میں موجود شدت پسند عناصر پر قابو پانا ہے اور وہ تمام لوگ جو پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں ، انھیں ختم کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے وہ ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہیں۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 80 کی دہائی میں امریکا کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا ، ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا ۔ ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہاکہ سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہوگی۔خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں بھارت کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن بھارمت نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ تمام تنازعات کو حل کیا جائے اور خطہ میں امن و استحکام قائم کیا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ پاکستان کے مسائل اور مشکلات امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا ہوئے جب پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلہ کار استعمال کیا۔بلاشبہ ہم نے غلطیاں کی ہیں تاہم ہم اکیلے نہیں ہیں ان غلطیوں کو کرنے میں اور صرف ہمیں مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے ، امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا ، اس کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ گذشتہ 15 سالوں سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، شدت پسند تنظیم داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔خواجہ آصف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد کم ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کاروائی کی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اگر دیگر اور ممالک اس اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کو تیار ہیں تو اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔سڑکیں بنیں گی ¾مواصلاتی ذرائع میں بہتری آئے گی اور یہ سب کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد دیں گی اور جب تجارت شروع ہوگی تو اختلافات میں کمی آئے گی اور دشمنیاں کم ہوں گی۔

September 27, 2017

ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباص کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی کی مقامی عدالت نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباص کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔دوران سماعت وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ یہ کیس قابل ضمانت ہے، درخواست ضمانت منظور کی جائے، ملزم کو تحقیقات کیے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ ملزم حنیف کے بیان کے بعد شوکاز نہیں کیا گیا اور گرفتاری ڈال دی گئی۔ ایف آئی اے کے وکیل کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ یہ ابتدائی مرحلہ ہے ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ ملزم عدالتی حکم پر ریمانڈ پر ہے۔تحقیقات مکمل ہونے کے بنا ضمانت نہیں دی جا سکتی کیونکہ کیس ناقابل ضمانت ہے۔ عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس کو 28 ستمبر تک ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔ملزم بڑے پیمانے پر غیر قانونی پاکستانی کرنسی حوالہ ہنڈی کے ذریعہ بیرون ملک منتقل کرنے میں ملوث ہے، ملزم نے کنیڈا، امریکہ اور تھائی لینڈ اثاثے بنائے، ملزم کے خلاف فارن اکیس چینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

September 27, 2017

شہرقائد میں جرائم پیشہ عناصر کےخلاف کارروائیاں جاری

کراچی جدت ویب ڈیسک شہرقائد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ گلستان جوہر میں پولیس مقابلہ میں ایک ملزم ہلاک ہوگیا۔کراچی کے علاقے محمودآباد سے سیاسی جماعت کے کارکن کو گرفتار کر لیا گیا۔ماڑی پور اور شیرشاہ میں انٹیلی جنس اطلاعات پر پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیاہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔گلستان جوہر بلاک چھ اور سات کے درمیان پولیس مقابلے کے دوران ایک ملزم ہلاک ہوگیا۔ملزم کی لاش کو پولیس نے تحویل میں لے کر عباسی شہیداسپتال میں منتقل کردیاہے تاہم ملزم کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ادھرمحمود آباد میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے چھاپا مار کر ایم کیو ایم پاکستان محمود آباد کے سیکٹر انچارج عامر شاہ کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاہے۔ ماڑی پور اور شیرشاہ میں انٹیلی جنس اطلاعات پر پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیاہے۔ حساس اداروں اور پولیس نے گلبائی اور اطراف میں بھی محرم الحرام کے پیش نظر سرچ آپریشن کیا۔ سرچ آپریشن کے دوران یہاں سے بھی متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔