December 26, 2017

چین اور پاکستان کا اقتصادی راہداری میں افغانستان کو بھی شامل کرنے پرغورشروع

جدت ویب ڈیسک :تین ملکوں(پاکستان، چین اور افغانستان )کے وزرائے خارجہ کا پہلا سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں سی پیک میں افغانستان کو شامل کرنے پر غور کرتے ہوئے افغان حکومت و طالبان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں افغان امن عمل، اقتصادی تعاون، سی پیک اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، تینوں ممالک افغانستان کی قیادت میں وسیع تر مفاہمتی عمل کی معاونت کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کو مفاہمتی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں، مفاہمت کے حوالے سے علاقائی اور عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ چین افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں ضروری تعاون اور معاونت بھی فراہم کرتا رہے گا، خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ بہت ضروری ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تینوں ممالک میں اتفاق رائے ہے، پاکستان اور چین افغانستان میں امن چاہتے ہیں اور 57 ارب ڈالر مالیت کی اقتصادی راہداری میں افغانستان کو بھی شامل کرنے کا جائزہ لیں گے، راہداری سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا اور ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔وانگ ژی نے کہا کہ افغانستان کو ترقی کی فوری ضرورت ہے اور امید ہے کہ وہ باہم منسلک کرنے والے منصوبوں میں شامل ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان دونوں نے آپس کے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، چین اور پاکستان باہمی مفاد کی خاطر سی پیک کو افغانستان تک وسیع کرنے کے خواہاں ہیں، اس کے لیے تینوں ممالک کو بتدریج اتفاق رائے پر پہنچنے کے بعد پہلے آسان اور چھوٹے منصوبوں پر کام شروع کرنا ہوگا۔سہ فریقی اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کی قیادت میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور ڈی جی چین ڈیسک عائشہ عباس پر مشتمل وفد نے پاکستان کی نمائندگی کی، جب کہ افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان تعاون اور تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان اور چین نے سی پیک منصوبے میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی مثالی ہے اور دونوں اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں۔ وانگ ژی نے کہا ان مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہے اور ہم چاہیں گے کہ اچھا نتیجہ برآمد ہو۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک میں ڈائیلاگ اور تعاون قدرتی عمل ہے، چین پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان سے دوستی مضبوط رکھنے پر کام جاری رکھے گا، خطے کی سلامتی کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے اور دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی، پاکستان اور چین افغان حکومت کے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور طالبان کو مشترکہ امن عمل میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کی کامیاب تکمیل ایک مثال ہے اور اسی طرح کے چھوٹے منصوبوں کے ذریعے پڑوسی ممالک بشمول افغانستان، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون اور رابطوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

December 26, 2017

ن لیگ کی سوشل میڈ یا ٹیم کی طاقت سے مخالفین ڈرتے ہیں

جدت ویب ڈیسک :سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سوشل میڈ یا ٹیم اب اتنی بڑی طاقت بن گئی ہے کہ مخالفین ان سے ڈرتے ہیں ،سوشل میڈ یا ٹیم کے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے ۔انہوں نے نواز شریف سے درخواست کی کہ مسلم لیگ ن کے سپورٹرز کو دھمکا یا جاتا ہے ،اس معاملے پر سخت ایکشن لیں ۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما کا ڈرامہ رچایا گیا اور نیب مقدمات بنائے گئے ،ایسی صورتحال میں اچھاراستہ تو یہ تھا کہ چپ کر کے ڈر کر گھر بیٹھ جاتے اور کہتے مقدمات ختم کردیں میں خاموشی کے ساتھ گھر بیٹھ گیا ہوں لیکن نواز شریف نے آسان راستہ نہیں اپنا یا ،اس کے ثمرات قوم کو عدل کی بحالی کی صورت میں ملیں گے ۔مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈ یا ٹیم نے نواز شریف کے نظریے کو گھر گھر پہنچانے میں جتنا قلیدی کردار ادا کیا ،اس کی مثال نہیں ملتی ،یہ سب لوگ نواز شریف کے نظریے پر چلنے والے لوگ ہیں ۔مریم نواز نے کہا کہ پوچھنے والوں کو بتا دو نواز شریف کا نظریہ ہے ،جمہوریت میں ملاوٹ نہیں ہو سکتی ،جمہوریت میں کٹھ پتلیاں اور ایمپائر کی انگلیوں پر ناچنے والے نہیں ہو سکتے ،جمہوریت میں نظریہ ضرورت نہیں ہو سکتی ،بیس کروڑ لوگوں کی رائے پر چند لوگوں کا نظریہ مسلط نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ باقی اداروںکی عزت بھی ہونی چاہیے لیکن منتخب وزیر اعظم کی عزت بھی ہونی چاہیے کیونکہ وزیراعظم پرحملہ ایک شخص پر حملہ نہیں ہر شخص پر حملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے ان پر حملے ہوتے ہیں ،نواز شریف جانتے ہیں کہ حق کو حق اور غلط کو غلط کہنے کی قیمت کیا ہوتی ہے ،انہوں نے بار بار یہ قیمت ادا کی ہے اور ہمیشہ قیمت ادا کرنے کے ثمرات عوام کو ملے ہیں کبھی جمہوریت اور کبھی عدلیہ کی بحالی کی صورت میں ۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف جیسی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی ،یہاں کوئی استعمال ہو رہا ہے اور کوئی استعمال کر رہا ہے مگر ایک شخص ہے جو آ زمائشوں میں سے گزر کر ہمیشہ کندن ہو کر نکلا ۔انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آکر نواز شریف نے مشرف کے خلاف مقدمہ بنا یا اور آواز اٹھائی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دھرنے ہوئے ،لاک ڈاؤن ہوئے ،ڈان لیکس اور پاناما لیکس سامنے آئیں لیکن نواز شریف جھکے نہیں ،اسی جدو جہد کا ثمر ہے کہ عوامی نمائندوں کو جلا وطن کرنے والا آج خود جلا وطنی کی زندگی گزار رہا ہے ۔

December 26, 2017

عمران خان اورطاہرالقادری ملاقات میں ایسا اعلان کہ لوگ منہ تکنے لگے

لاہور جدت ویب ڈیسک :پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف مجھے فوج کا لاڈلہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن ساری دنیا جانتے ہے کہ لاڈلہ تو وہ جس کو جنرل ضیاءالحق نے چوسنی دے کر تیار کیا، لاڈلہ تو وہ ہے جس نے مہران بینک سے پیسے لئے ، لاڈلہ تو وہ جس نے آئی جے آئی کے ذریعے فوج کا کندھا استعمال کیا ہے اور زیادہ دور جانے کی بات نہیں 2013ءمیں ایک بریگیڈئر نے ٹھپے لگانے کے لئے ان کی مدد کی تھی، نواز شریف کو اس وقت صرف یہ دکھ ہے کہ اسٹیبلشمبٹ ان کی مدد نہیں کر رہی ، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لئے طاہر القادری جو فیصلہ کریں گے ، میں اور میری پارٹی پاکستان عوامی تحریک کا ساتھ دیےگی۔تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں ملاقات کی جس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی ۔ملاقات کے بعد مشترکا پریس کانفرنس بھی ہوئی جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان سیاستدان نہیں بلکہ آمروں سے بھی زیادہ خطرناک مافیہ ہے جنہوں نے لوگوں کو سر عام قتل کیا ۔ادھر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ شہباز شریف اور رانا ثنااللہ نے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔اس موقع پر ایک صحافی نے طاہر القادری سے سوال کیا ”آپ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے ،آپ کیا کہیں گے؟“۔اس سوال پر طاہر القادری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تو یہ بہت اچھی بات ہے ،اب میری باہر کی مصروفیات خود ہی ختم ہو جائیں گی تو میں یہاں ہی رہ کر اپنا کیس لڑوں گا ۔طاہر القادری کے اس برجستہ جواب پر عمران خان بھی ہنسنے پر مجبور ہو گئے اور صحافیوں نے بھی اس جواب سے خوب لطف اٹھا یا ۔اس دوران عمران خان نے طاہر القادری سے کہا کہ اگر آپ باہر نہیں جائیں گے تو یہ اور بھی زیادہ اچھا ہو جائے گا ۔

December 25, 2017

امریکاکا پاکستان کو مزیدF-16 طیارے دینے سے انکار

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : ٹرمپ کے دور صدارت مےں امرےکہ اور پاکستان کے مابےن دو طرفہ تعلقات مزےد خراب ہوگئے ہےں۔ امرےکہ نے پاکستان کو مزےد 8اےف سولہ طےارے دےنے سے انکار کردےا ہے۔ ےہ طےارے پاکستان کو فروخت کرنے کا باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا لےکن ٹرمپ انتظامےہ کی پاکستان مخالف پالےسےوں کے نتےجہ مےں اس معاہدے پر عملدرآمد روک دےا گےا ہے۔ سرکاری دستاوےزات کے مطابق پاکستان نے 8اےف سولہ طےاروں کےلئے حکومت امرےکہ کو 699ملےن ڈالر ادا کرنے تھے اس مالےت کا 40فےصد حکومت پاکستان نے اپنے خزانے سے ادا کرنا تھا جبکہ باقی رقم امرےکہ نے اپنے غےر ملکی فنڈز (FMF)سے اد اکرنی تھی ۔ ےہ معاہدہ 2016سے قبل ہوا تھا لےکن نئی امرےکی انتظامےہ نے اس معاہدے پر عملدرآمد روک دےا ہے جبکہ امرےکی کانگرس نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد اب پاکستان کو مزےد اےف سولہ طےارے فراہم کرنے کے امکانات ختم ہوگئے ہےں دونوں ملکوں کے مابےن بڑھتی ہوئی خلےج سے دونوں ممالک کے قومی مفادات کو شدےد نقصانات ہو رہا ہے جبکہ امرےکہ کے بھارت کی طرف سے جھکاﺅ کی پالےسی سے جنوبی اےشےاءمےں سےکورٹی کے خطرات پےدا ہوگئے ہےں۔