November 6, 2017

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آئندہ پیشی پر طلب کر لی

جدت و یب ڈیسک :لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آئندہ پیشی پر طلب کر لی ۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے 3 رکنی بنچ نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ منظرعام پرلانےکےفیصلےکیخلاف پنجاب حکومت کی انٹراکورٹ اپیل پرسماعت کی ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے وکیل نے کہ اکہ حکومت پنجاب کے وکیل خواجہ حارث دانستہ اپیل کو طول دے رہے ہیں اور دلائل مکمل نہیں کر رہے ۔عدالت نے آئندہ سماعت پر خواجہ حارث کو ہر صورت اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی وقت ختم ہونے پر سماعت ملتوی کر دی گئیتین رکنی بنچ نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے ۔ عدالت رپورٹ کا ان کیمرہ جائزہ لے گی ۔حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ غیرضروری کاغذبن چکا ہے ۔ جس مقصد کے لیے حکومت نے انکوائری کروائی تھی وہ پورا ہوچکا ہے ۔ دو ایف آئی آرز درج ہیں جن کا ٹرائل چل رہا ہے ۔ اگر اس موقع آرڈر جاری کیا گیا تو ٹرائل متاثر ہو سکتا ہے۔

 

November 6, 2017

شدید دھند مزید 9جانیں نگل گئی، موٹر وے بند

پنجاب جدت ویب ڈیسک صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہر اتوار کو بھی دھند اور اسموگ کی لپیٹ میں رہے،حد نگاہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ٹریفک حادثات میں9افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ،موٹروے ایم 2 بابو صابو سے کوٹ مومن، موٹروے ایم 3 پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد، ایم 4 فیصل آباد سے گوجرہ اور خانیوال سے ملتان موٹروے کو دھند کے باعث بند کر دیا گیا،ایئرپورٹس پرمتعدد پروازیں منسوخ ہوگئیں ،فضائی آلودگی کے باعث بننے والی زہریلی دھند سے پھیلنے والی بیماریوں سے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد متاثر ہورہے ہیں، کئی پاور پلانٹس بند ہونے سے بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں آج بھی گہری اسموگ کا راج ہے جس کے نتیجے میں متعدد پروازیں منسوخ ہوگئیں جبکہ فضائی آلودگی کے باعث بننے والی زہریلی دھند سے پھیلنے والی بیماریوں سے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھرمیں اسموگ بیماریوں کا سبب ہی نہیں باربار بجلی جانے کی وجہ بھی بن گئی ہے۔ ملک میں کئی پاورپلانٹ بندکردئیے گئے ہیں جس سے شہروں اور دیہات میں گھنٹوں لوڈشیدنگ جاری ہے، متاثرہ علاقوں میں بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں نے شہروں اور دیہات کیلئے لوڈشیڈنگ کاشیڈول جاری کردیا۔ ہرگھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند ہو رہی ہے۔ صنعتی اورکمرشل فیڈرزبھی 12،12 گھنٹے بندرکھے جائیں گے جب کہ گزشتہ روز کی طرح اتوار کو بھی پروازوں اورٹرینوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثرہوا ہے۔دوسری جانب ہر طرف چھائی فضائی آلودگی کے باعث بننے والی زہریلی دھند سے پھیلنے والی بیماریوں سے شہریوں کی پریشانی بڑھ گئی۔بارش نہ ہونے سے اسموگ کی شدت میں دو ہفتے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ چیف میٹرلوجسٹ نے ایک آدھ بارش کو اسموگ کے خاتمے کیلئے ناکافی قراردے دیا۔شدید دھند کے باعث پنڈی بھٹیاں میں چنیوٹ روڈ پرتیزرفتار ٹرک بے قابو ہو کر الٹ گیا، حادثہ میں 3 افراد شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حافظ آباداور گردو نواح میں بھی حد نگاہ صفر ہو گیا، موٹروے ایم 2 ، ایم 3 ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ساہیوال اور جی ٹی روڈ پر شدید دھند کے باعث حد نگاہ 10 میڑ رہ گئی، شدید دھند کے باعث ٹریفک کو لائنوں میں چلایا جارہاہے۔ بہاولپور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ دھند کے باعث ٹریفک حادثات میں 4 افراد جاں بحق اور خاتون سمیت 8 زخمی ہو گئے جن کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

November 4, 2017

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا دل خون کے آنسو رونے لگا ، جانیے

جدت ویب ڈیسک :کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سول سروس ریفارمز کسی بھی سول حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ آمرفرارہوکرغیر ملک بیٹھ گیا ہے۔ 18 ویں ترمیم کےبعد مارشل لاء کا راستہ روکا گیا۔ایک دوسرے کے کاموں میں غیر آئینی مداخلت نہ کی جائے غیر آئینی اقدامات کی وجہ سےاٹھارہویں ترمیم پر عملد آمد نا ممکن ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں نیشنل ڈائیلاگ پربات کریں،میں نے کوئٹہ میں عدلیہ کےساتھ ڈائیلاگ کی بات کی تھی اورملٹری بیوروکریسی کی بات بھی کی تھی۔سینیٹ پہلا ادارہ ہے جس میں سینیٹرز جوابدہ ہوں گے۔ اگر کسی سینیٹرپر الزام ہوگا تو وہ خود کو پیش کرےگا سینیٹ اور سینیٹرز نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف آپریشن میں فوج کو کامیابی ملی ہے، رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین سب سے بالاتر ہے،تین بجٹ گزرگئے لیکن این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا،میرا عہدہ ایسا ہے کہ میں سیاسی باتیں نہیں کرسکتا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ احتساب کا عمل پاکستان کے آئین میں موجود ہےاور احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ کوئی ملک نہیں چل سکتا۔

 

November 4, 2017

پنجاب میں اسموگ کا راج‘ 12افراد جان سے گئے

لاہور جدت ویب ڈیسک پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ روز بھی دھند اور اسموگ کا راج برقرار رہا جس کے باعث شہریوں کو سفر میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،مختلف حادثات میں خاتون سمیت 12افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ،دھند کے باعث موٹروے کے مختلف سیکشن کو بھی بند کر دیا گیا اور شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ، محکمہ موسمیات کے مطابق دھند اور سموگ کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہے گا، بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز بھی دھند اور اسموگ کا راج برقرار رہا ۔ موٹروے حکام کے مطابق موٹروے پر لاہور سے بھیرہ تک حدنگاہ 25سے 50میٹر رہی ۔دھند اور سموگ کے باعث موٹروے کے مختلف سیکشن کو بھی بند کیا گیا۔ موٹروے پولیس نے شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قصور، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، ساہیوال، ملتان سمیت دیگر شہروں میں بھی دھند اور سموگ کی شدت کم نہ ہوسکی جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے اسموگ سے بچا ئوکی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہری سفر کے دوران چشمہ اور ماسک استعمال کریں اور سفر کے دوران یا بعد میں آنکھوں کو اچھی طرح دھوئیں جبکہ اسموگ میں زیادہ ٹھنڈے مشروبات سےاجتناب کیا جائے۔دوسری جانب شہریوں کو روزانہ زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور گھروں سے غیرضروری طورپر باہر نہ نکلنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔دھند اور سموگ کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے ۔ گزشتہ روز شیخوپورہ میں بیگ پور کے قریب مسافر بس اور وین میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں 5افراد موقع پر جاں بحق جبکہ 20افراد شدید زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو ڈی ایچ کیو شیخوپورہ اور گوجرانوالا کے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔لیہ کی تحصیل چوبارہ میں چوک اعظم کے قریب آئل ٹینکر کی رکشہ کوٹکر کے باعث 2بھائیوں سمیت 3افراد جاں بحق ہوگئے،ورثا نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔گوجرانوالہ میں بھی شیخوپورہ روڑ پرمسافربس اورکار میں تصادم ہوا،جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 12شدید زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف پنجاب میں اسموگ کے باعث گیس کی فراہمی معطل ہونے سے بجلی پیداکرنے والے کئی پلانٹس بند ہوگئے جس کی وجہ سے 4ہزار 250میگاواٹ بجلی سسٹم میں کم ہوگئی ہے اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ترجمان پاورڈویژن کے مطابق پنجاب میں شدید دھند کے باعث کئی میگاواٹ کے پیداواری یونٹس بند ہوگئے ہیں ¾چار سو میگاواٹ کا جام شورو، سات سو میگاواٹ کا کیپکو پلانٹ ،9 سو 85 میگا واٹ کا حبکو، چونیاں، لبرٹی، حبکو نارووال اور اٹلس پاور پلانٹ اور ایک ہزار میگاواٹ کا مظفر گڑھ بجلی گھر بند ہوگیا ہے جبکہ ٹرپنگ کے باعث چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق پلانٹ وفاقی حکومت کی جانب سے بند کئے گئے ہیں جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے بھی پاورپلانٹس کوگیس کی فراہمی بند کردی ہے جس کی وجہ سے 7پاور پلانٹس کو نومبرتک200ملین گیس کی فراہمی بند رہے گی۔اس کے ساتھ ساتھ فرنس آئل اورڈیزل پرچلنے والے پاورپلانٹس کوبھی بندکردیاگیا ¾ پاورپلانٹ بندش سے4ہزار 250میگاواٹ بجلی سسٹم میں کم ہوگئی اور بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔