January 23, 2018

نواز اورشہباز شریف سے بڑے چور ہیں، شیخ ر شید احمد

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ میرے استعفے دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اب تو میرا استعفیٰ مریل اور بے جان ہوچکا ہے۔ منگل کو پریس کانفرنس کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ سیاست کرتا ہوں بدمعاشی نہیں، حکومت جو کام میرے خلاف کرے گی وہ ان کے سامنے آئیں گے۔ بلاول خود کہتا ہے وہ میرا فین ہے اور میں انہیں کہتا ہوں کہ میں ان کا فین ہوں، دکھ ہوا کہ چوہدری نثار پرویز رشید کے ہاتھوں ذلیل ہوئے، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ چوہدری نثار پرویز رشید سے ذلیل ہوں گے۔شیخ رشیداحمد نے کہا کہ میرے استعفے دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا ٗ اب تو میرا استعفیٰ مریل اور بے جان ہوچکا ہے، میں استعفیٰ دینے کیلئے اب بھی تیار ہوں لیکن عمران خان نے مجھے ایک ہفتہ تک استعفیٰ دینے سے روک رکھا ہے، میں عمران خان کی ہدایت پر دبئی فنڈ ریزنگ کیلئے گیا تھا، میرے دبئی جانے پر شور مچایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ اندھوں کو بھی پتا ہے آشیانہ اسکیم کس کی ہے، آج برملا کہتا ہوں شہباز شریف نواز شریف سے بڑے چور ہیں، یہاں دو، دو ارب ایسے کھائے جاتے ہیں جیسے پیسے نہیں ریوڑیاں ہوں۔سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ نواز شریف کبھی نہیں چاہتے حسین حقانی کو سزا ہو، خورشید شاہ جیسے انسان نے آج چیف جسٹس کو للکارا، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا جب کہ ایل این جی کا کیس 15 فروری سے پہلے لگ جائے گا۔

January 23, 2018

زینب کے قاتل کی سزا موت، سب کچھ سامنے آگیا ، اب انتظار کس بات کا ؟؟؟

جدت ویب ڈیسک ::زینب کے قاتل کی سزا موت، سب کچھ سامنے آگیا ، اب انتظار کس بات کا ؟؟؟
زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم عمران علی گرفتار ہو گیا ۔ عمران علی کا ڈی این اے میچ ہو جبکہ ملزم نے قتل کا اعتراف بھی کرلیا۔ ۔زینب کیس کے حوالے سے 6ملزموں کی فرانزک رپورٹ بھی مکمل ہو گئی ۔ جے آئی ٹی کے تمام ارکان نے تفتیش مکمل کر لی ۔ 4 ملزموں نے عمران کو واردات کے بعد چھپنے میں مدد کی ۔ ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بن گیا ۔ ملزمان کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی مکمل ہو گیا ۔ رپورٹ جے آئی ٹی کے حوالے کر دی گئی ۔دوران تفتیش ملزم کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا ہے ۔ ملزم نے بیان میں کہا کہ زینب کو کہا کہ آؤ تمہارے ماں باپ عمرے سے واپس آئے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق معصوم زینب والدین کی واپسی کا سن کر بخوشی ملزم کے ساتھ روانہ ہوگئی ۔ملزم نے پہلی بار جون 2015میں بچی سے زیادتی کی ۔ ملزم نے بیان میں کہا کہ 8جولائی2017کو ایک بچی سے زیادتی کے دوران زیر تعمیر مکان میں ایک شخص آگیا ۔ ملزم اوروہ شخص اندھیرے میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی ہوئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عمران 7 بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔ ملزم اپنے 2 چچا کے ہمراہ ایک ہی گھر میں رہتا تھا ۔ ملزم نے واقعہ کے بعد داڑھی اور مونچھیں کٹوالی ۔ شناختی کارڈ کے مطابق ملزم کی عمر 24سال ہے ۔ ملزم 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات میں ملوث ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم کو پاکپتن سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ملزم عمران زینب کا محلے دار ہے اور پہلے بھی پکڑا گیا تھا مگر پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔

January 23, 2018

آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کیاکرنیوالی ہے‘ قائم علی شاہ نے راز سے پردہ اٹھادیا‘ جانئے

خیرپورجدت ویب ڈیسک پیپلز پارٹی سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ جیلانی نے کہاہے کہ ڈسٹرکٹ بار کونسل میں پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ پروگریسو لائرز پینل کے صدر یاسر عرفات شر کابینہ کی کامیابی خیرپور کے عوام کی فتح ہے اور وکلاء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ پینل کی کامیابی نے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کا واضع ثبوت فراہم کردیا کہ عوام پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی اور سیاسی پارٹی سے محبت نہیں کرتے کیوں کہ پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک و قوم کی خدمت خوشحالی استحکام مہیا کرسکتی ہے اور جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے والوں کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔جیلانی ہائوس میں ڈسٹرکٹ بار کونسل کے نو منتخب عہدیداران کے اعزاز میں دیئے جانے والے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ جیلانی نے کہاکہ آمروں کی پشت پناہی سے اقتدار حاصل کرنے والے ہمیشہ خود ہی اپنے بنے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں اور الزام حذب اختلاف کو دیتے ہیں ۔عام انتخابات میں انشاء اللہ سندھ سمیت ملک بھر سے پیپلز پارٹی کی کامیابی کے ڈنگے بجیں گے اور پیپلز پارٹی مخالفین کو الیکشن میں ناکامی کے بعد انہیںچھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔۔

January 23, 2018

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی کنسلٹنسی میں بھی پنجاب حکومت نے اپنوں کو ہی نوازا

جدت ویب ڈیسک ::۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کنسلٹنسی انجینئرنگ کنسلٹنسی پنجاب کو دینے کا حکم دیا ۔ پنجاب حکومت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی کنسلٹنسی میں بھی اپنوں پر نوازشات کو مدنظر رکھا
ذرائع کے مطابق کم قیمت پر پیشکش کے باوجود کنسلٹنسی نیسپاک کو نہ ملی بلکہ انجینئرنگ کنسلٹنسی پنجاب کو ہی ملی۔ انجینئرنگ کنسلٹنسی نے درحقیقت کام خود کیا ہی نہیں بلکہ آگے جرسی انجینئرنگ کمپنی کو آؤٹ سورس کر دیا ۔ذرائع نے کہا کہ انجینئرنگ کنسلٹنسی نے حکومت پنجاب کو دو سو چالیس ملین روپے کی ڈیمانڈ دی جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی گئی کہ نیسپاک یہی کام صرف پینتیس ملین روپے میں کرنے پر راضی ہے جس پر انجینئرنگ کنسلٹنسی نے پیسے کم کر کے ایک سو نوے ملین روپے کر دیئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ انجینئرنگ کنسلٹنسی کمپنی کو بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ ابھی تک بھی بہت زیادہ فرق ہے جس پر انجینئرنگ کنسلٹنسی کمپنی ساڑھے چونتیس ملین روپے میں کام کرنے پر راضی ہو گئی ۔ صورتحال معلوم ہونے پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا تھا کہ انجینئرنگ کنسلٹنسی حکومت کا ادارہ ہے جتنے بھی پیسے لیتے خزانے میں ہی جاتے لیکن گزشتہ روز پریس کانفرنس میں انہوں نے اس حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا ۔

January 23, 2018

خواجہ صاحب مجمعے میں تو آپ خوب بولتے ہیں۔ عدالت وہاں جواب دے سکتی ہے نہ ٹی وی پر آ کر یہاں بولیں جواب دینگے

جدت ویب ڈیسک ::چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔ مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق ، وزیر داخلہ احسن اقبال ، وزیر ریلوے سعد رفیق اور پرویز رشید سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی حدود میں سیاسی گفتگو پر پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ جس نے بولنا ہے وہ رات کو ٹاک شوز میں بولے ۔ ادھر راجہ ظفر الحق نے کیس کی تیاری کے لئے عدالت سے مہلت مانگ لی جبکہ شیخ رشید کے وکیل فروغ نسیم کی جانب سے عبوری حکم نامے کی استدعا کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی قانون سے متعلق عبوری حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں ۔ اس کے بعد کیس کی مزید سماعت 6 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔دوران سماعت چیف جسٹس اور سعد رفیق کے درمیان دلچسپ مقالمہ ہوا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب مجمعے میں تو آپ خوب بولتے ہیں ۔ عدالت وہاں جواب دے سکتی ہے نہ ٹی وی پر آ کر یہاں بولیں جواب دینگے ۔ اس پر سعد رفیق نے کہا کہ وہ عدالت میں کچھ نہیں بولیں گے ۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے استدعا کی جا سکتی ہے ، دباؤ نہیں ڈالاجاسکتا ۔ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار عدالت نے خود طے کرنا ہے ۔ کچھ بھی کرنا پڑے ادارے کی تکریم کم نہیں ہونے دینگے ۔ سب کو سنیں گے لیکن حدود و قیود کے اندر رہ کر ۔