September 29, 2017

۔250افرادکی شہادت کا زخم آج بھی تازہ ہے‘فاروق ستار

کراچی جدت ویب ڈیسک ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے سانحہ حیدر آباد کے شہدائ کی 29ویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں تمام شہدائ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30سمتبر 1988کاسانحہ کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔250افرادکی شہادت کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ حیدرآباد لطیف آباد ،میئر حیدر آباد، ایم کیو ایم کے دفاتر ، ہیر آباد، قلعہ چوک،گرونگر چوک،تلسی داس روڈ، گاڑی کھاتہ،کالی موری پر ہونے والا قتل عام آج بھی نظروں کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاتل آزاد ہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا کہ 30ستمبر1988کوشام 7بجے سے رات بھر شہیدوں کے جنازے اور زخمیوں کو اسپتال پہنچاتے رہے چوک،تلسی داس روڈ، گاڑی کھاتہ،کالی موری پر ہونے والا قتل عام آج بھی نظروں کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس روزمہاجروں پر شب خون مارنے والے دہشت گرد آج بھی آزاد ہیں ۔ 31اکتوبر 1986، مئی 1990کے حیدر آباد میں ہونے والے قتل عام پر بھی کاروائی کی ضرورت ہے ۔جسطرح ماڈل ٹائون لاہور پر تحقیقات اور کاروائی کی بات ہوتی ہے ہمارے سانحات پر بھی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے مذید کہا کہ حیدرآباد کی تاریخ شہیدوں اور قربانیاں دینے والوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم اپنے شہیدوں کے لہو کورائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ حق پرستی کا انقلاب آکر رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم 1986سے آج تک مسلسل سازشوں اور دہشت گردوں کے ظلم وستم اور انصاف کے متلاشی رہے ہیں ۔ اب یہ امید کرتے ہیں کہ ہمیں بھی انصاف دیا جائے گا اور سارے مکروہ چہرے بے نقاب ہوں گے۔ انہوں نے تمام شہدا کے لئے دعائے مغفرت اور انکے اہل خانہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ عہد ہے کہ شہیدوں اور اسیروں کی قربانیوں کو اپنے مشن پر کاربند رہتے ہوئے غریبوں اور مظلوموں کا انقلاب لاکر رہیں گے۔

September 29, 2017

سندھ حکومت نے ایسی خوشخبری سنادی کہ مسیحی جھوم اٹھیں

کراچی جدت ویب ڈیسک صوبا ئی وزیر اطلا عات،محنت اور ٹرانسپورٹ سید نا صر حسین شاہ نے کہا ہے کہ آئیندہ عام انتخابا ت میں قومی اور سندھ اسمبلیوں میں مسیحی برادری کو بھی پیپلز پا رٹی کی جا نب سے نما ئیندگی دی جا ئیگی ،جس کیلئے پارٹی کے چیئر مین بلا ول بھٹو نے خصوصی ہدایات جا ری کردی ہیں ۔پاکستان میں اقلیتی برادری کو دہی حقوق حاصل ہیں جیساکہ اکثریت کو۔ ان خیالات کا اظہا ر انھوں نے اپنے دفتر میں اقلتیوں پرمشتمل تنظیم نیشنل لا بنگ ڈلیگیٹس کے ایک نما ئیندہ وفد سے ملا قات کے مو قعہ پر کیا ،جسکی قیادت انتھو نی نوید نے کی جبکہ وفد میں ڈاکٹر صابر مائیکل ،کریشن شرما ،روس مٹھا نی ،جا ئی پر کا ش مو رانی اور پشپا کماری شامل تھی۔جبکہ اس مو قع پر وزیر اعلی سندھ کے سابق معاون خصوصی نا در خواجہ اور سیکریٹری محکمہ اطلا عات سندھ عمران عطا سومروبھی مو جو د تھے ۔صوبا ئی وزیر اطلا عات نے اس مو قعہ پر وفد کو یقین دلا یا کہ ملازمتوں میں اقلیتوں کے کوٹہ پر مکمل عمل درآمد کرایا جا ئیگا ،انھو ں نے اقلیتوں کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی برادری کے مسائل کے حل کیلئے ایک اعلی اختیا راتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلا ن کیا جس میں صوبے میں رہنے والی تمام برادریو ں بشمول مسیحی ،ہندو ،بھائی ،سکھ سمیت دیگر طبقات کے تعلق رکھنے والے افراد کو نما ئیندگی دی جا ئیگی ،صوبا ئی وزیر نے کہا کہ پیپلز پا رٹی وہ واحد جما عت ہے جو کہ پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتی برادری کو قومی و صوبا ئی اسمبلیو ں میں ہمیشہ نما ئیندگی دیتی ہے ،اور آئیندہ بھی دیگی ،کیونکہ اقلیتی برادری کا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں بڑا ہا تھ ہے اور پیپلز پا رٹی وحکومت اقلیتی برادری کی پاکستان کیلئے خدمات کو نا صرف سراہتی ہے بلکہ قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتی ہے ،اس مو قعہ پر وفد نے اقلیتوں کے مختلف مسائل اور تکا لیف سے صوبا ئی وزیر کو آگاہ کیا ،صوبا ئی وزیر نے حکومت اور پیپلز پا رٹی کی جا نب سے مکمل تعاون اور مسائل حل کرنے کی یقین دھا نی کرائی ۔

September 29, 2017

چترال میں پاک فوج نے ایسی سُرنگ بنالی, جسکا افتتاح سیاستدان کرتے رہے

جدت ویب ڈیسک :ایک چترال کی سرنگ ہے جسکا جمھوریت کے دعویدار پچھلے 10 سال سے ہر سال فیتہ کاٹتے ہیں اور ایک ہماری فوج ہے جنہوں نے بغیر ٹی وی پر اشتہار چلائے مہمند ایجنسی کے لیئے قلیل مدت میں یہ سرنگ بنا لی۔مشرف نے کہا تھا کہ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں جمھوریت ہو یا بادشاہت ہو یا فوجی حکومت ہو۔ عوام کو بس ایک ایماندار مخلص سمجھدار انصاف اور کرپشن فری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے

ایک چترال کی سرنگ ہے جسکا جمھوریت کے دعویدار ہر سال فیتہ کاٹتے ہیں پچھلے 10 سال سےاور ایک ہماری فوج ہے جنہوں نے بغیر ٹی وی پر اشتہار چلائے مہمند ایجنسی کے لیئے قلیل مدت میں یہ سرنگ بنا لی۔مشرف نے کہا تھا کہ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں جمھوریت ہو یا بادشاہت ہو یا فوجی حکومت ہو۔ عوام کو بس ایک ایماندار مخلص سمجھدار انصاف اور کرپشن فری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے

Posted by Nadia Ali Janjua on Wednesday, September 27, 2017

 

September 29, 2017

ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے کہا کہ سی پیک شروع ہوتے ہی بحری سرگرمیاں کئی گنا بڑھ جائیں گی

کراچی جدت ویب ڈیسک :: ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان کو قدرت نے طویل ساحلی پٹی اور بے پناہ آبی وسائل سے نوازا ہے، ملکی سطح پر ان وسیع بحری امکانا ت کا مناسب ادراک نہیں پایا جاتا۔میری ٹائم سیکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نیول چیف نے کہا کہ پاکستان نیوی ملک کے بحری شعبے کی مستقبل کی ضروریات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے جو کہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اولین ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی معیشت کے اس اہم پہلو کی اہمیت کا صحیح ادراک کیا جائے اور اپنے عوام بالخصوص نوجوان نسل اور میر ی ٹائم انفرا اسٹرکچر کی استعداد کو بڑھانے کے لیے مناسب مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ ملکی بحری وسائل سے دیرپا فوائد حاصل کیے جاسکیں۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ نے کہا ہے کہ سی پیک شروع ہوتے ہی بحری سرگرمیاں‌ کئی گنا بڑھ جائیں‌ گی، ملکی معیشت کے اس اہم پہلو کی اہمیت کا صحیح ادراک کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے آغاز کے ساتھ پاکستان میں بحری سرگرمیاں کئی گنا بڑھ جائیں گی لہذا ہمارے بحری شعبے کی منظم ترقی کے ضمن میں بندرگاہوں اور جہاز رانی کی صنعت کے درمیان موجودہ اشتراک مزید اہمیت اختیار کرجائے گا۔دریں اثنا سربراہ پاک بحریہ نے ورلڈ میری ٹائم ڈے کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جن میں ہاربر کی صفائی، ٹاک شوز، مضمون نویسی کے مقابلے، خصوصی لیکچرز، بوٹ ریلیز، پاک بحریہ کے اسکولز اور کالجز میں مختلف پروگرامز اور عوام الناس کے لیے پاکستان میری ٹائم میوزیم میں فری انٹری اور میری ٹائم گالا کا انعقاد، جس میں خصوصی اسٹالز کا قیام شامل تھےعوام کی بھر پور شرکت نے ایونٹ کو چار چاند لگادیئے

 

September 29, 2017

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کانجو گیریژن میں آرمی پبلک سکول و کالج کا افتتاح، سوات کے پر عزم عوام کے لیے تحفہ

جدت ویب ڈیسک :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان میں بتا یا گیا ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے سوات کا دورہ کیا ہے، آرمی چیف نے کانجو گیریژن میں آ رمی پبلک سکول و کالج کا افتتاح کیا۔اس موقع پر آ رمی چیف نے طلباء، اساتذہ اور مقامی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکول سوات کے پر عزم عوام کے لیے تحفہ ہے، نوجوانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں۔ آرمی پبلک اسکول اورکالج میں طلباءکی گنجائش 3ہزار 600سے زائد ہے، جبکہ اسکول میں جدید ترین آڈیٹوریم، کمپیوٹر و سائنس لیبا رٹری بھی قائم ہے ، اس کے علاوہ وسیع اسٹیڈیم بھی موجود ہے۔مقامی عمائدین نے سوات کینٹ میں اسکول وکالج کے قیام پرآرمی چیف کاشکریہ اداکیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ امن و استحکام کیلیے نوجوانوں کو معیاری تعلیم دینے سے بہتر کوئی سوچ نہیں ہو سکتی۔

General Qamar Javed Bajwa Chief of Army Staff (COAS) visited Swat and inaugurated Army Public School and College (APS&C) at Kanju Garrison, Swat Cantt. A state of the Art infrastructure with present capacity of 3600 students, computer and science labs, Auditorium and sports stadium is a gift from Pakistan Army for resilient people of Swat in recognition of their contributions and sacrifices in defeating terrorism. While interacting with students, faculty, local elders and the administration, COAS said that there is no better approach towards enduring peace and stability than providing quality education to our youth. Local elders thanked COAS for establishment of Swat Cantt and APS&C for them. Commander Peshawar Corps and GOC Malakand were also present at the occasion.

Posted by Maj Gen Asif Ghafoor on Wednesday, September 27, 2017

 

September 29, 2017

پاک فوج میں اعلی سطح کی تقرریاں اورتبادلوں کاسلسلہ جاری،تفصیل پڑھیے

راولپنڈی جدت ویب ڈیسک : : پاک فوج میں اعلی سطح کی تقرریاں اور تبادلوں کا سلسلہ جاری ہیں، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کمانڈر سدرن کمان، لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کو کور کمانڈر لاہور اور لیفیننٹ جنرل صادق علی کو آئی جی آرمز تعینات کیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے اعلامیے کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کمانڈر سدرن کمانڈ تعینات کیے گئے ہیں جب کہ موجودہ کمانڈر سدرن کمان لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کو کور کمانڈر لاہور لگایا گیا ہے۔سدرن کمان کے نئے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ پاک فوج میں شاندار کیئریر کے حامل افسر ہیں۔ اس وقت جی ایچ کیو میں آئی جی آرمز کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، اس سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر طویل ترین مدت کے لیئے خدمات انجام دیں اور آپریشن راہ نجات کے دوران جی او سی جنوبی وزیرستان بھی تعینات رہے۔لاہور کے نئے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اس وقت کمانڈر سدرن کمان تعینات ہیں، اس سے پہلے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے اہم عہدے پر تعینات رہے ہیں۔اسی طرح موجودہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی جی ایچ کیو میں انسپکٹرجنرل آرمز تعینات کیے گئے ہیں۔

 

September 28, 2017

اسحاق ڈار معاشی دہشت گردقرار‘ استعفے کیلئے بڑامطالبہ سامنے آگیا

کراچی جدت ویب ڈیسک بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے وائس چیئرمین بی ایم جی ہارون فاروقی کی جانب سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف مضبوط قرارداد منظور کرنے کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے سی سی آئی کو مکمل اتفاق رائے سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے فوری استعفے کا مطالبہ کرنا چاہیے کیو نکہ ان پرکرپشن کے کیس میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہے اور وہ ملک میں اقتصادی بحران پیدا کرنے کے پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر کے 56ویں اجلاس عامہ سے خطاب میں کیا۔وائس چیئرمینز بی ایم جی و سابق صدور کے سی سی آئی زبیر موتی والا،ہارون فاروقی اور انجم نثار،نومنتخب صدر کے سی سی آئی مفسر عطا ملک،سینیئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق،نائب صدر ریحان حنیف،سبکدوش صدر شمیم احمد فرپو،سبکدوش سینیئر نائب صدر آصف نثار،سبکدوش نائب صدر محمد یونس سومرو،سابق صدور اے کیو خلیل، میاں ابرار، ہارون اگر، عبداللہ ذکی، یونس محمد بشیر،منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور ممبران کی کثیر تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔سراج قاسم تیلی نے کہاکہ ساری دنیاہم پر ہنس رہی ہے کہ ان کے موجودہ وزیرخزانہ پر کرپشن کیس میں فرد جرم عائد کیا جا چکا ہے لہٰذا اسحاق ڈار کو فوری طور پر اس وقت تک کے لیے مستعفی ہو جانا چاہئے جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔اگرچہ آج کے سالانہ اجلاس میں ہارون فاروقی کی جانب سے پیش کی گئی قراردار منظور کرنے کی تجویز کو تمام شرکائ کی بھرپور حمایت حاصل ہے تاہم اس قراداد میںمزید اضافہ کیا جائے کہ ملک میں جاری معاشی بحران کے زمے دار اکیلے اسحاق ڈار نہیں بلکہ وہ تمام چیمبرز، ٹریڈباڈیز پشمول ایف پی سی سی آئی بھی برابر کی زمے دارہے جنہوں نے پچھلے چار سالوں میں اسحاق ڈار کی کاروبار مخالف پالیسیوں کی ہمیشہ واہ واہ کی اور چمچہ گیری کرنے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیاجبکہ اس سال اب انہی میں سے چنداداروں نے حکومت پر تنقید کرنا شروع کردی ہے۔ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ کراچی چیمبر کو چھوڑ کر 90 فیصد چیمبرز اور ٹریڈ باڈیز بشمول ایف پی سی سی آئی ایسے عناصر سے بھرے پڑے ہیں جنہیں چمچہ گیری کی عادت ہے اور وہ تمام مسائل کے باوجود قانون سازوں کی واہ واہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں جبکہ کراچی چیمبر وہ واحد ادارہ ہے جو پچھلے کئی سالوں سے ہمیشہ سچ بولتے ہوئے حکومت کی کاروبار مخالف پالیسیوں کے خلاف ہمیشہ بھرپور آواز بلند کرتا رہا ہے۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار نے چار سال پہلے صرف ایک بار کے سی سی آئی کا دورہ کیا جہاں انھیں چمچہ گیری کے بجائے سوالات اور سچائی کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سالوں میں اسحاق ڈار نہ مختلف مواقعوں پر عوامی حلقوں میں کہاکہ وہ کے سی سی آئی کا کبھی دورہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ بہت زیادہ سوالات کرتے ہیں اور میں ان کو جواب دہ نہیں۔انہوںنے سی پیک منصوبے پر رائے دیتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے دونوں جانب جیت کی صورتحال پیدا ہونے کہ امکانات نظر نہیں آرہے جو صرف چائنا کے لئے تجارتی لحاظ سے قابل قبول ہے جبکہ پاکستان کو صرف انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لحاظ سے فائدہ ہوگا۔ اس منصوبے سے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو بہت زیادہ نقصان متوقع ہے کیونکہ سی پیک کوژنگ جیانگ صوبے سے منسلک کیا جارہا جہاں چائنا اگلے دس برس میں ایک بہت بڑا ٹیکسٹائل زون جو پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر سے کم از کم پانچ گنا بڑا ہوگا قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔انہوں نے بزنس مین گروپ کے 1998سے جاری کامیاب سفر پر روشنی ڈالی جب گروپ نے پہلی بار چیمبرکے الیکشن میں حصہ لیا۔انہوں نے کہاکہ شروع کے 9سالوں میں سخت مقابلے کے باوجود بی ایم جی کے اُمیدوار ایک سیٹ ہارے بغیر تمام الیکشن میں کامیابی حاصل کرتے رہے جبکہ ان الیکشنزمیں ووٹرز کا 50 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ عام طور پر دیکھا گیا۔گزشتہ 11سالوں کے دوران تمام بی ایم جی اینز بلامقابلہ منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ کراچی چیمبر کے22ہزار ممبران سے کوئی ایک بھی شخص مقابلے کے لئے سامنے نہیں آتا جس سے شہر بھر کی پوری تاجروصنعتکار برادری کی بھرپور سپورٹ اور بی ایم جی قیادت پر اعتماد صاف ظاہر ہے ۔ہم نے اِن تمام سالوں میںکراچی چیمبر، اس شہر اور شہریوں کے لیے پوری مخلصی اور ایمانداری کے ساتھ کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی جس کا ہر ایک نے اعتراف کیا۔ حتیٰ کہ ہمارے مخالفین بھی کبھی ہم پر انگلی نہیں اُٹھاتے کہ ہم میں سے کسی نے بھی کے سی سی آئی کے فنڈز کا غلط استعمال کیا ہو یا ناجائز کام کئے ہوں۔ ہم بغیر کسی رنگ ونسل اور تفریق کے ایک چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے صنعتکار کی پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ خدمت کررہے ہیں۔ یہ سب ہماری ایمانداری ، سخت محنت اور بی ایم جی اینز کی جانب سے خود کو خدمت کے لیے وقف کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایک بار پھرتینوں عہدیداران کے سی سی آئی کے الیکشن برائے2017-18 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔انہوں نے بی ایم جی کے ایک اور کامیاب سال کی تکمیل پر سبکدوش عہدیدران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نومنتخب عہدیدان کی مدت میں بھی مزید بہتری کا عمل جاری رہے گا۔نئی منتخب ٹیم تاجروصنعتکار برادری کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں قانون سازوں کے سامنے آواز بلندکرے گی اور سخت محنت کو شعار بنائے گی۔نومنتخب عہدیداران کو سابقہ عہدیدران کی کارکردگی سے مزید بہتر کارکردگی کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی جو ہمیشہ بزنس مین گروپ کی روایت رہی ہے۔اس موقع پر وائس چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا نے نومنتخب عہدیداران کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ تاجروصنعتکار برادری کو درپیش بعض اہم مسائل پر بھرپور توجہ دیں جن میں ٹیکسیشن کے مسائل،ایف بی آر اور سندھ ریونیو بورڈ، یوٹیلیز، پانی،بجلی وگیس کی قلت،اوگرا و نیپرا سے متعلق مسائل اور انفرااسٹرکچر کے مسائل سرفہرست ہیں۔ اس ضمن میں کراچی چیمبر کو زیادہ مؤثر طریقے سے ان مسائل کے حل پر توجہ دیناہو گی کیونکہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں کافی بدانتظامیاں ہورہی ہیں۔انہوں نے سی پیک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر چہ چین پاکستان کا قابل بھروسہ اور آزمایا ہوا دوست ہے لیکن سی پیک میں پاکستان کے لیے سب ہرا بھرا نہیں کیونکہ سچائی یہ ہے کہ چائینز ہر چیز کو تجارتی طور پر دیکھ رہے ہیں لہٰذا ہمیں مجموعی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔انہوں نے کہاکہ حکومت سی پیک منصوبے کے مندرجات کو عوام کے سامنے مکمل طور پر تشہیرنہیں کررہی جو وقتا فوقتاً افشا ہورہے ہیں۔حال ہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ماہر کارکنوں کے ساتھ غیر ماہر چائینز کو اجازت دی گئی کہ وہ پاکستان آکر کام کریں جو اصل منصوبے کا حصہ نہیں۔اصل منصبوبے میں غیرماہر مقامی مزدوروں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے تھے اور صرف ماہر ورکرز کوہی چین سے پاکستان آنے کی اجازت تھی لیکن ایس انہیں ہوا اب چین سے غیر ماہر ورکرز کو بھی اجازت دے دی گئی ہے جس کامطلب ہے کہ یاتو اس کی اجازت اب دی گئی ہے یا پھر یہ اجازت پہلے سے موجود تھی اور اسے خفیہ رکھا گیا۔انہوں نے کہاکہ54ارب ڈالر میں سے مجموعی طور پر 39ارب ڈالر سی پیک منصوبے کے لیے قرضہ ہے جس کی ادائیگی عنقریب 2019سے شروع ہو جائے گی جس سے ملکی معیشت کو کئی مزید مسائل کا سامنا ہوگا۔کے سی سی آئی کی نومنتخب ٹیم سی پیک کی ترقی سے متعلق تمام امور پر توجہ دے اور ملک کے بہتر مفاد میں حکومت کو تجاویز دی جائیں۔بی ایم جی کے وائس چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی ہارون فاروقی نے کہا کہ کراچی چیمبر ناقص ٹیکس پالیسیوں اور گزشتہ 4 سالوں کے دوران ایف بی آر کو دیے گئے لامحدود اختیارات کی مذمت ہر دستیاب پلیٹ فارم پر کرتا چلا آرہا ہے جو معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ چار سالوں کے معاشی دہشت گردی جاری رہی جبکہ سب سے بڑے معاشی دہشت گرد کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا رہا جن پر اب کرپشن کیس میں فرد جرم بھی عائد کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر پر زور دیا کہ کے سی سی آئی کے اجلاس عام میں ایک مضبوط قرارداد منظور کی جائے جس میں اسحاق ڈار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جائے جو فرد جرم عائد ہونے کے باوجود بطور وزیرخزانہ کام کررہے ہیں۔ پورے پاکستان اور کراچی کی تمام تاجروصنعتکار برادری کی جانب سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسحاق ڈار فوری طور پر استعفیٰ دیں۔وائس چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی انجم نثار نے کے سی سی آئی کی نومنتخب ٹیم کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کراچی کے بارے میںمنفی تاثر کو زائل کرنے پر زور دیا کیونکہ شہر قائد کے بارے میں مختلف ممالک میں تاثر درست نہیں۔ہمیں کراچی کے مثبت امیج کو ضرور اجاگر کرنے اور برانڈنگ پر توجہ دیناچاہیے۔کے سی سی آئی کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے صدر شمیم احمد فرپو نے بی ایم جی کی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ بھرپور تعاون اور سپورٹ فراہم کی جس سے مختلف مسائل کو حل کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔کے سی سی آئی کے نومنتخب صدر مفسر عطا ملک نے2017-18کے ایجنڈا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ کے سی سی آئی کے ایجنڈا میں طویل وقت سے حل طلب مسائل کو شامل کیا گیا ہے۔ان مسائل میں ٹیکسز، انفرااسٹرکچر، بجلی، سڑکیں، پانی، امن و امان، اسمگلنگ، رشوت ستانی، صحت عامہ،اقتصادی ترقی و تنوع اور سب سے آخر میں گورننس جو بالکل بھی اچھی نہیں شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کے حل کے لئے ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ہمیں حکومت کی ہر سطح پر عوامی پالیسی وضع کرنے کے سلسلے میں مدعو کیا جائے۔ ان تمام مسائل میں سے پچھلے سالوں میں کاروبار پرلگائے گئے ٹیکسوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر اولین توجہ دی جائے گی جو اس نام نہاد کاروبار دوست حکومت کی جانب سے مسلط کئے گئے جن کی وجہ سے ملکی معیشت بالخصوص کراچی کو خطرات کا سامنا ہے۔ 2017-18 میں ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں کہ ہم ان تمام خطرات پوری ہمت سے سامنا کریں۔ ٹیکس پالیسی کو انتہائی خطرناک اور کاروباری لحاظ سے بیکار قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں کہیں کوئی ثبوت نظر نہیں آتا جس سے یہ ثابت ہو کیا ریونیو کی مد میں جمع کئے گئے فنڈز کو نیک نیتی سے تعلیم، امن وامان، انفراسٹرکچر یا کسی اور مثبت ترقی پر خرچ کیا گیا ہو۔