July 20, 2017

وزیراعظم نے لوار ی ٹنل منصوبے کا افتتاح کردیا

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریفنے لواری ٹنل کے عظیم اورتاریخی منصوبے کا افتتاح کردیا ،لواری ٹنل نوشہرہ،مردان،ملاکنڈ،چکدرہ،چترال شاہراہ پر تعمیر کی گئی ہے، منصوبے کے پی سی ون کی لاگت تقریبا 27 ،ارب روپے ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا لواری ٹنل پہنچنے پر مسلم لیگ ن کے رہنمائوں اورکارکنوں نے شاندار استقبال کیا گیا اور ان کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے رہنما پیرصابر اور امیر مقام بھی تھے ۔بڑی ٹنل کی لمبائی 8.5 کلومیٹر ہے۔اس کے ساتھ 1.9 کلومیٹر دوسری ٹنل بھی تعمیر کی گئی ہے جبکہ ٹنل کے دونوں اطراف35 کلومیٹر رسائی سڑکوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔اس منصوبے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹنل چترال اور ملک کے تمام حصوں کے درمیان پورا سال مسلسل رابطہ مہیا کرنے کے علاوہ بالخصوص دیر اور چترال کے درمیان معاشی سرگرمیاں سہل اور مسافروں کی آمدورفت میں روانی پیدا کرے گی ۔ اس منصوبے کے پی سی ون کی لاگت تقریبا 27 ،ارب روپے ہے۔لواری ٹنل کی تعمیر یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے اور اس پر2005 میں کام شروع کیا گیا تھا،لیکن گزشتہ کئی سالوں میں اس منصوبے پر کام جاری نہ رہ سکا۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چار سال قبل اقتدار سنبھالنے پر اس منصوبے کی طرف خصوصی توجہ دی اور اس مشکل منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا گیا اس ٹنل کا باقاعدہ افتتاح وزیراعظم نوازشریف نے جمعرات کے روز کردیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ٹنل یہاں کے لوگوں کیلئے جمہوری حکومت کا اہم تحفہ ہے۔یہ منصوبہ بلا شبہ یہاں اقتصادی اور معاشرتی سرگرمیوں کا ذریعہ ثابت ہوگا۔لوگوں کا آپس میں میل جول بڑھے گا ،زندگی کے کاروبار میں ترقی کی نئی راہیںکھلیں گی اورمقامی آبادی کو اپنے روز گار کے ذرائع وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔حکومت کے مطابق یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹنل کی تعمیر سے قبل سال میں سے تقریبا 5،مہینے اور خاص طور پر شدید سردی کے موسم میں چترال کا علاقہ پورے ملک سے کٹ جاتا تھااور مقامی لوگوں کو گوناں گوں مسائل کا سامنا رہتا تھا۔بلاشبہ یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ اور فوری توجہ طلب تھی۔ اس بات کا کریڈٹ بھی موجودہ حکومت کو جاتا ہے کہ لواری ٹنل جیسے عظیم اور مشکل منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا۔لواری ٹنل کی تکمیل پر ملک کا یہ دور دراز کا علاقہ بھی قومی ترقی کے دھارے میں شامل ہو گیا ہے ،اب اس علاقے میں چھوٹی صنعتوں اور گھریلو دستکاریوں کو غیر معمولی فروغ ہوگا اور لوگوں کے زرائع آمدن بڑھیں گے۔اس علاقے میں معدنیات کی بہتات ہے اور ان کی دریافت معاشی نقطہ نظر سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔منصوبے کی تکمیل سے گاڑیوں کو موجودہ خطرناک موڑوں اور دشوار گزار راستوں سے نجات مل جائے گی اور یہ علاقہ پورا سال آمدورفت کیلئے کھلا رہے گا۔علاوہ ازیں اس علاقے میں سیاحت کے فروغ کے وسیع ترامکانات ہیں اور سارا سال رسائی کے باعث یہاں سیاحت کی صنعت ترقی کرے گی۔یہاں کے دلفریب قدرتی نظارے یقینی طور پر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھی دلچسپی کا باعث ہونگے۔سیاحت کا فروغ مقامی آبادی کی معاشیات پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔وزیر اعظم پاکستان کی رہنمائی میں ملک بھرمیں موٹرویز اور ہائی ویز کی تعمیر و توسیع اور اپ گریڈیشن کا جوسلسلہ 2013 میں شروع کیا گیا وہ انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ اس وقت تقریبا 1200،ارب روپے سے زائد کے شاہراتی منصوبے زیر تکمیل ہیں جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خِطہ کا معاشی مستقبل وابستہ ہے۔سی پیک منصوبے کے تحت خنجراب سے گوادر تک موٹرویز او رہائی ویز کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا جار ہا ہے۔جس کی بدولت پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ علاقائی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔

July 20, 2017

ایم کیو ایم کی درخواست مسترد :سعید غنی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن حکم امتناع بھی ختم

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مستردکردی، مبینہ دھاندلی پر دوبارہ گنتی کا کیس الیکشن ٹربیونل کو بھیج دیاگیا،اس حلقے سے پیپلز پارٹی کےامیدوار سعید غنی کامیاب ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ایس 114میں مبینہ دھاندلی پر دوبارہ گنتی کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری کی جانب سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے کیس ٹربیونل کو بھیج دیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے سعید غنی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کے لیے جاری حکم امتناع بھی ختم کردیا۔گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست پرسماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حلقے کے 21 پولنگ اسٹیشنوں میں نتائج مرتب کرتے وقت قواعد کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔بیرسٹر فروغ نسیم نے ووٹوں کی نادرا سے تصدیق کرواکر ان پولنگ اسٹیشنوں پرانتخاب کالعدم قراردینے کی درخواست کی تھی۔واضح رہے کہ پی ایس 114سے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کامیاب ہوئے تھے جنہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کو شکست دی تھی جس کے بعد فاروق ستار کی جانب سے دھاندلی کا الزام عائد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی تک سعید غنی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی استدعا بھی کی گئی تھی ۔پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار سعید غنی کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل میں کہا تھا کہ ووٹوں کی گنتی میں بے قاعدگی کی کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی، نتائج الیکشن کمیشن کو چلے گئے تو انتخابی ریکارڈ میں ٹمپرنگ کیسے ہو سکتی ہے۔

July 20, 2017

گورنمنٹ سندھ کا انتہائی احسن اقدام ، ’’این آئی سی وی ڈی ‘‘میں تمام علاج مفت کردیا

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی کی عوام کیلئے سندھ گورنمنٹ کی جانب سے بڑی خوشخبری اس مہنگائی کے دور میں جہاں عوام اپنے زندگی کے دیگر مسائل سے دوچار ہے وہاں پر علاج کی سہولیات مفت میسر ہونا کیسی نعمت سے کم نہ ہوگا ۔ اس سے قبل ادارہ برائے امراض میں دل کے مرض میں مبتلا مریضوں کو علاج کروانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس میں ادویات اور آپریشن کے اخراجات نے تو علاج کروانا ہی مشکل کردیا تھا ان تمام تر مسائل کو دیکھتے ہوئے سندھ گورنمنٹ نے انتہائی احسن اقدام اٹھایا ہے ۔ سندھ گورنمنٹ نے قومی ادارہ برائے امراض قلب NICVDمیں مریضوں کا تمام تر علاج مفت کر دیاگیاہے۔ عوام کا فیصلے کا خیر مقدم تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب میں جنرل وارڈ میں مریضوں کو صحت کی تمام ترسہولیات مفت فراہم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔،جس میں بائی پاس سرجری، انجیو پلاسٹی، انجیوگرافی مفت میں کی جائیگی ادویات سے لیکر تمام اخراجات اسپتال کے ذمے ہوگا جنرل وارڈ کے اخراجات بھی اسپتال انتظامیہ برداشت کرے گی۔ طبی سہولیات کو فری کرنا عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کر نا ہے یاد رہے اس سے پہلے تمام سہولیات کے لیے مریضوں کو بھاری بھر رقم علاج کے لیے اداکر نی پڑتی تھی فیصلے سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

July 20, 2017

شاہراہ فیصل انڈر پاس کی تعمیر مکمل ، 22 جولائی کو افتتاح

کراچی جدت ویب ڈیسک ڈرگ روڈ اسٹیشن کے سامنے شاہراہ فیصل انڈر پاس کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے ۔22 جولائی بروز بروز ہفتہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا، جبکہ شہر یوں نے منگل کے روز سے ہی از خود استعمال کرنا شروع کردیا ہے ، تاہم محکمہ بلدیات سندھ لوکل گورنمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ 22 جولائی بروز بروز ہفتہ کو انڈرپاس کو باقاعدہ ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا جبکہ تعمیر کی گئی شاہراہ فیصل پر لین مارکنگ اورکیٹ آئی لگانے کا کام بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے ۔شاہراہ قائدین فلائی اوور نرسری سے اسٹار گیٹ تک شاہراہ فیصل کی کارپٹنگ کا عمل بھی مکمل ہوگیا ہے جبکہ اسٹارگیٹ سے ناتھا خان پل تک سڑک کی کارپٹنگ آئندہ دو تین روز میں مکمل کر لی جائے گی اس کے بعد شاہراہ قائدین فلائی اوور سے ایف ٹی سی تک دونوں ٹریک کی کارپیٹنگ کا کام انجام دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ انڈر پاس کے اندر اور راشد منہاس روڈ سے صدر جانے کیلئے سڑک کی کارپٹنگ اور دیگر ضروری کام مکمل کر لئے گئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی انڈر پاس کھولنے کی حتمی تاریخ 22 جولائی دی ہے ،شاہراہ فیصل کو کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت ناتھا خان پل سے اسٹارگیٹ اور اسٹارگیٹ سے ناتھا خان پل تک سڑک کی کارپٹنگ کیلئے ٹھیکیدار کو چھ روز دیئے گئے تھے جبکہ شاہراہ قائدین سے ایف ٹی سی فلائی اوور تک شاہراہ فیصل کے دونوں ٹریک کی ازسرنو کارپٹنگ کا کام بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے ، واضح رہے کہ شہری جنہوں نے تعمیراتی کاموں کے دوران گھنٹوں ٹریفک جام میں گزارے ہیں شدت سے سڑکوں کی تعمیر مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں حکومت سندھ نے پہلے کراچی میں جاری میگا منصوبوں کی تکمیل کی مدت 30 جون تک مقرر کی تھی کیونکہ ان منصوبوں پر دسمبر 2016ئمیں کام شروع ہو گیا تھا اب تک صرف طارق روڈ اورمنزل پمپ فلائی اوور کی تعمیر مکمل ہو سکی ہے جبکہ بقیہ منصوبوں این ای ڈی تا صفورا چورنگی یونیورسٹی روڈ، صفورا سے ملیر کینٹ چیک پوسٹ نمبر6 تک سڑک کی تعمیر نامکمل ہے ، سرجانی تا مدینہ الحکمت منگھو پیر، بلدیہ ٹاؤن کے سامنے حب ریور روڈ کی تعمیرجیسے منصوبے بھی ادھورے ہیں،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرانتظام ایئرپورٹ تا قائدآباد این فائیو روڈ اور جامعہ ملیہ جانے کے لئے فلائی اوور کی تعمیر بھی شہریوں کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہے ،اس منصوبے پر دو ڈھائی سال سے کام جاری ہے ،میئر، ڈپٹی میئر کو آئے ہوئے بھی دس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال سڑک اور ملیر پندرہ فلائی اوور کے بقیہ حصے کا کام مکمل نہیں ہو سکا،لوگ دن رات این فائیو پر گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے اور دھول مٹی کا شکار رہتے ہیں۔

July 19, 2017

بارش کو شہریوں کےلئے رحمت ہونا چاہیے زحمت نہیں

کراچی جدت ویب ڈیسک میئر کراچی وسیم اختر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جن مقامات پر بارش کا پانی جمع ہے اس کی فوری نکاسی کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ شہریوں کو پریشانی نہ ہو، مزید بارش کی پیشگوئی کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کئے جائیں رین ایمرجنسی سینٹر کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے اور شہریوں کی طرف سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری اقدامات کئے جائیں، یہ بات انہوں نے بدھ کی سہ پہر ہونے والی بارش کے بعد شہر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے برنس روڈ، صدر، ایمپریس مارکیٹ، نمائش، ایم اے جناح روڈ اور دیگر علاقوںکے دورے اور بعدازاں کشمیر روڈ پر اسپورٹس کمپلیکس میں قائم رین ایمرجنسی سینٹر کے دورے کے موقع پر کہی، اس موقع پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ میئر کراچی نے رین ایمرجنسی سینٹر پہنچ کر وہاں موصول ہونے والی شہریوں کی شکایات کو دیکھا اور متعلقہ عملے کو ان فوری دور کرنے کے احکامات دیئے انہوں نے ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور کو یونیورسٹی روڈ پر جمع برساتی پانی کی فوری نکاسی کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ رین ایمرجنسی سینٹر میں تمام متعلقہ افسران اور دیگر عملہ موجود رہے تاکہ مزید بارشوں کے صورت میں نکاسی آب کے ساتھ ساتھ شہریوں کی شکایات دور کی جاسکیں، انہوں نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات پیش نظر رکھتے ہوئے انڈرپاسز اور سڑکوں کے ایسے مقامات جہاں برساتی پانی جمع ہوتا ہے وہاں خاص نظر رکھی جائے،انہوں نے کہا کہ شہر میں موجودہ بارش کے بعد کی صورتحال اگرچہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہے تاہم متعلقہ افسران اور عملہ اپنے فرائض انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہ برتے اور نکاسی آب کے لئے فوری اور موثر اقدامات جاری رکھے،بارش کے دوران سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے سٹی وارڈنز ٹریفک کنٹرول کرنے میں ٹریفک پولیس کی مدد کریں۔ میئر کراچی نے کہا کہ بارش کو شہریوں کے لئے رحمت ہونا چاہئے زحمت نہیں لہٰذا میونسپل سروسز، پارکس، ورکس اور دیگر محکمے باہمی کوآرڈینیشن کے ذریعے بارش سے متعلق شہریوں کے مسائل بلاتاخیر حل کرنے کے لئے اقدامات کریں اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے، انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ بارشوں کے حوالے سے شہر میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے اور شہری بارشوں کو مکمل انجوائے کرسکیں، انہوں نے کہاکہ برساتی نالوں کی صفائی کے بعد نکاسی آب کی صورتحال کافی بہتر ہوگئی ہے جبکہ انڈرپاسز میں بھی اندرونی نالوں کی صفائی کے بعد نکاسی آب کا نظام ٹھیک کام کر رہا ہے انہوں نے ہدایت کی کہ مزید بارشوں کی صورت میں تمام متعلقہ محکمے 24 گھنٹے الرٹ رہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد مستقل بنیادوں پر رین ایمرجنسی اور ریسکیو ٹیم بنائی گئی ہے تاکہ نکاسی آب اور ہنگامی صورتحال میں امدادی کاموں کی انجام دہی میں کوئی تاخیر نہ ہو، شہر کی سڑکوں پر پہلے کی نسبت صورتحال بہترہے، ہمارا تمام ڈسٹرکٹس سے رابطہ ہے اور ہم سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ بارش کے حوالے سے شہری اپنی شکایات رین ایمرجنسی سینٹر کے نمبر0335-7553976،0332-2685090پر درج کراسکتے ہیں جہاں افسران و عملہ 24 گھنٹے ان کی خدمت کےلئے موجود ہے، انہوں نے کہاکہ وسائل محدود ہونے کے باوجود ہم شہر اور شہریوں کی بہتری کے لئے جو بھی ممکن ہوا اقدامات کرتے رہیں گے۔

July 19, 2017

سی پیک میں رکاوٹوں سے پاکستان اور چین ملکر نمٹیں گئے‘تہمینہ جنجوعہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالے سے جو بھی رکاوٹیں پیش آئیں گی ان کو پاکستان اور چین مشترکہ طور پر نمٹیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پیک منصوبہ کے حوالے سے بدھ کے روز پاکستان کونسل آف چائنا کی جانب سے منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ سی پیک منصوبہ چین اور پاکستان کے درمیان تعاون دنیا کے دیگر ممالک کے لئے مثال ہے، پاکستان اور چین دونوں ممالک باہمی تعاون سے خطے کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ ہوگا اور اس منصوبہ سے نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے بلکہ خطے کے درمیان بھی رابطہ بڑھے گا، انہوں نے بھارت کا نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایک مشرقی پڑوسی ملک نے مخالفت کی ہے اور ہم اس چیلینج سے اچھی طرح واقف ہےں، سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن استحکام اور ترقی کی سوچ پر گامزن ہے، چین کے پاکستان میں ناظم الامور لی جئان زاؤ نے فورم سے خطاب میں کہا کہ چین کی جانب سے بیلٹ اور روڈ کا آغاز دنیا کے مختلف براعظموں اور خطوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے اور یہ اقدامات ایک دوسرے سے تعاون، شراکت، ایک دوسرے سے سیکھنے اور تعاون کے بنیاد پر ہیں، انہوں نے سی پیک منصوبہ کو پاکستان اور چین کے درمیان بے مثال قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ کے خلاف جو آوازیں آرہی ہے ان سے کوئی اثر نہیں پڑی گا، انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی، روڈس اور دیگر پر تیزی سے کام جاری ہے، گوادر میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کا افتتاح رواں سال ہو جائے گا، فورم سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ انعام الحق نے کہا کہ منصوبہ کے حوالے سے پاکستانی حکومت کو خود باریک بینی سے دیکھنا ہوگا کہ سی پیک منصوبہ کو کس طرح سے مزید اپنی مفادات میں کیا جا سکتا ہے۔