May 29, 2020

یو این چارٹر کے تحت عالمی امن کے لیے پاکستان کام جاری رکھے گا: آرمی چیف

راولپنڈی۔ جدت ویب  ڈیسک ::: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یو این امن مشنز کے عالمی دن کے موقع پر بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت عالمی امن کے لیے کام جاری رکھے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آج کے دن پاکستان اپنی بہادر امن فورسز کی قربانیوں کے جذبےکی یاد مناتا ہے۔
آرمی چیف نے پیغام میں کہا کہ امن کے پیامبر دنیا میں انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، پاکستان بھی یو این چارٹر کے تحت عالمی امن کے لیے کام جاری رکھےگا۔
واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یو این امن مشن کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، رواں برس اس دن کا موضوع وومن پیس کیپنگ رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی تھی، جب کہ امن مشن کے لیے پاکستان کی معاونت کا آغاز 1960 میں ہوا، 60 سال میں پاکستان 26 ممالک میں 46 امن مشنز میں حصہ لے چکا ہے۔دنیا میں امن کے لیے پاک فوج کی خدمات بلاشبہ ناقابل تسخیر ہیں جس کا اعتراف اقوام متحدہ کی جانب سے کئی بار کیا گیا ہے۔پاک فوج کی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں، عالمی امن کے لیے پاک فوج کے افسران اور متعدد جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔۔ اپنے گھر بار چھوڑ کر پاک فوج کے دستے ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں امن کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

May 28, 2020

28مئی کوپاکستان نےخطےمیں طاقت کا توازن بحال کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی جدت ویب ڈیسک ::: ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایٹمی پروگرام کےخالق اور سائنسدان، انجینئرز اور اس صلاحیت کے حصول میں حصہ ملانے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28مئی کوپاکستان نےخطےمیں طاقت کےتوازن کوبحال کیا۔
یوم تکبیر کے حوالے سے اپنے ٹوئٹ میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے لکھا کہ 28مئی کو کم از کم جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کی تھی اس روز پاکستان نےخطےمیں طاقت کےتوازن کوبحال کیا، پاکستان کےایٹمی دھماکوں سےخطےمیں طاقت کاتوازن مستحکم ہواتھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ خیال کو حقیقت کا روپ دینے والوں کو مسلح افواج کا سلام، ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئےکوششیں کرنےوالے تمام افراد کو سیلوٹ کرتے ہیں، پاک فوج ایٹمی پروگرام کےخالق اور سائنسدان، انجینئرز کوسلام پیش کرتی ہے۔

اٹھائیس مئی 1998ء میں آج کے دن پاکستان کی طرف سے کیے گئے تاریخی ایٹمی تجربات کی یاد میں آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے۔ اس دن بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے دیا تھا۔
بائیس برس قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے اس لیے کیے گئے کہ گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں تین بم دھماکے کرکے بھارت نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
بھارتی قیادت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک طرف بھارت دھمکیوں اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پرحملے کی تیاری کررہا تھاتو دوسری جانب مغربی ممالک پابندیوں کا ڈراوا دے کرپاکستان کو ایٹمی تجربے سے بازرکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
اُس وقت کے امریکی صدربل کلنٹن نے بھی پانچ بار فون کرکے اس وقت کے وزیراعظم کو ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا جبکہ اس کے بدلے کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی گئی۔ تاہم عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے اٹھائیس مئی کے دن پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور چاغی کے پہاڑوں پر نعرہ تکبیر کی گونج میں ایٹمی تجربات کردیے گئے۔

May 28, 2020

ہماری ایٹمی قوت پاکستان اور اس کےعوام کےتحفظ و سلامتی کی ضامن ہے، شبلی فرار

جدت ویب ڈیسک ::اسلام آباد : وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ہماری ایٹمی قوت پاکستان اور اس کےعوام کےتحفظ و سلامتی کی ضامن ہے، مریم نواز پاکستان کو ایٹمی قوت بنانےوالی نسل کی کاوش کو اپنے خاندان سے نہ جوڑیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یوم تکبیر کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا آج کےدن پاکستان کو اسلامی دنیاکی واحدایٹمی طاقت بننےکااعزازحاصل ہوا، ہماری ایٹمی قوت پاکستان اور اس کےعوام کےتحفظ و سلامتی کی ضامن ہے ، قومی وقار اورسالمیت ہمارےلئےسب سےمقدم ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ مریم نواز پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی نسل کی کاوش کواپنےخاندان سےنہ جوڑیں، اپنے کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر ہر مرتبہ میدان سے بھاگنے والوں سےقوم آگاہ ہے، جو اپنے بیانیےسےوفانہ کرسکےوہ عوام سےکیاوفا کریں گے؟
شبلی فراز نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ آپ کی قیادت کی وفامٹی سےنہیں پیسےسےرہی، ان وفاؤں کی تصویریں ایون فیلڈ اوردیگرجائیدادوں کی صورت دنیابھرمیں نظرآتی ہیں، بچوں کامستقبل چھین کراپنی اولادوں کی زندگی بنانےوالوں کوقوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

May 28, 2020

تاریخی ایٹمی تجربات کی یاد میں آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 22 برس ہوگئے

.کراچی جدت ویب ڈیسک ::ٓآج جیسے قوم کے لئے عید کا دن ہے
اٹھائیس مئی 1998ء میں آج کے دن پاکستان کی طرف سے کیے گئے تاریخی ایٹمی تجربات کی یاد میں آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے۔ اس دن بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے دیا تھا۔
بائیس برس قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے اس لیے کیے گئے کہ گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں تین بم دھماکے کرکے بھارت نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
بھارتی قیادت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک طرف بھارت دھمکیوں اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پرحملے کی تیاری کررہا تھاتو دوسری جانب مغربی ممالک پابندیوں کا ڈراوا دے کرپاکستان کو ایٹمی تجربے سے بازرکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
اُس وقت کے امریکی صدربل کلنٹن نے بھی پانچ بار فون کرکے اس وقت کے وزیراعظم کو ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا جبکہ اس کے بدلے کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی گئی۔ تاہم عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے اٹھائیس مئی کے دن پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور چاغی کے پہاڑوں پر نعرہ تکبیر کی گونج میں ایٹمی تجربات کردیے گئے۔
پسِ منظر
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر نے 1974 میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھ کرایٹمی پروگرام کے لیے کام کرنے کی پیشکش اور اسی سال کہوٹہ لیبارٹریز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا گیا۔ پاکستانی سائنسدانوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اورملک کو جدید ترین ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل کردیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وارہیڈز رکھتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباؤ کے باوجود تیزی سے جاری ہے اور پاکستان ہرسال اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کرلیتا ہے۔
بھارت امریکہ ایٹمی معاہدے کے بعد پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا گیا ہے۔ ملک میں چین کے تعاون سے ایٹمی بجلی گھربھی بنائے جا رہے ہیں جبکہ خوشاب کے قریب پلوٹینیم تیارکرنیوالے دو نئے ایٹمی ری ایکٹرزبھی مکمل ہو چکے ہیں۔ خوشاب میں ہی ایک اور ایٹمی پلانٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جن سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی ملکی صلاحیت میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے۔
ایک جانب تو یہ ایٹمی بم بھارت جیسے جنگ پسند ملک کے مدمقابل پاکستان کی پر وقار سالمیت کو یقینی بنائے ہوئے ہے لیکن اس مہنگے ترین ہتھیار کی تیاری اور اس کی حفاظت کی وجہ سے پاکستان معاشی ترقی کے وہ اہداف حاصل نہیں کرسکا جو اسے اب تک کرلینے چاہئے تھے بلکہ بعض میدانوں میں تو پاکستان جہاں تھا وہاں سے بھی پیچھے چلا گیا۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع دن سے ہی عالمی سازشوں اور شدید تنقید کا شکار ہے۔ پاکستانی کی ایٹمی طاقت کئی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے بعد باقاعدہ مخالفانہ مہم چلائی جاتی ہے۔
حکومت اورپوری قوم کا فرض ہے کہ ملکی سلامتی کی علامت اس ایٹمی پروگرام کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیاررہیں اور یہی آج کے دن یعنی یومِ تکبیرکا پیغام ہے۔ پاکستان نے ایٹمی طاقت بننے کے بعد ہمیشہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جبکہ اس کے برعکس بھارت نے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر ایٹمی جنگ کی دھمکی دی۔

May 28, 2020

وزیراعظم عمران خان آج فنانسنگ فارڈویلپمنٹ کے اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس سے خطاب کریں گے

جدت ویب ڈیسک ::اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان آج فنانسنگ فارڈویلپمنٹ کے اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش بے پناہ مالی چیلنجوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظرسے آگاہ کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا وزیراعظم عمران خان آج فنانسنگ فارڈویلپمنٹ کے اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے ، تقریب کی میزبانی کینیڈا، جمیکا کے وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کریں گے۔
اس اعلیٰ سطح کے پروگرام کی میزبانی کینیڈا ، جمیکاکےوزیراعظ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کریں گے، اجلاس سے خطاب کے لئے مختلف سربراہان مملکت کی ایک منتخب تعداد کو مدعو کیا گیا ہے۔
فنانسنگ فارڈویلپمنٹ فنڈزریزنگ ورچوئل اجلاس سے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ ، فرانس، برطانیہ، ساؤتھ افریقا، جاپان، اٹلی، جرمنی، ناروے، سعودی عرب، آئرلینڈ، قازقستان کے سربراہان بھی خطاب کریں گے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا خطرہ ان چھ منسلک مالی امور میں سے ایک ہوگا جو اعلی سطحی ایونٹ میں زیربحث ہوں گے جبکہ وزیر اعظم تقریب سے خطاب میں قرض کے مسئلے سے نمٹنے کے ممکنہ طریقوں اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش بے پناہ مالی چیلنجوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظرسے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے اپریل میں وزیراعظم عمران خان نے کرونا سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں کو یہ فکر ہے کہیں غریب بھوک سے نہ مرجائیں، ترقی پذیر ملکوں میں لاک ڈاون کی وجہ سے بھوک کے مسائل سے بھی نمٹنا ہے،ترقی یافتہ ملکوں میں کورونا کو وائرس کی روک تھام اور معیشت سےنمٹنا ہے۔
بعد ازاں ترقی یافتہ ممالک کے گروہ جی ٹوینٹی نے پاکستان سمیت 76 ممالک پر واجب الادا قرضے مؤخر کرنے کی منظوری دے دی ہے، ان ممالک پر رواں سال یکم مئی سے 31 دسمبر تک واجب الادا قرضے مؤخر کیے گئے ہیں، یہ ادائیگیاں اب جون 2022 سے 2024 کے درمیان کرنا ہوں گی۔
قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی کرونا کی وبا سے پیدا ہونے والے صحت اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں مدد کرنا ہے، یہ سہولت ان ممالک کو ملے گی جو عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے تحت قرضوں میں ریلیف کے اہل ہیں، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

High-Level Event on FFD in Era of COVID-19 and BeyondPrime Minister Imran Khan will be participating in a virtual…

Posted by Office of the Spokesperson, Mofa Pakistan on Wednesday, May 27, 2020

May 27, 2020

بھارت میں پھنسے 176 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

لاہور:جدت ویب ڈیسک : کورونالاک ڈان کی وجہ سے بھارت میں پھنسے پاکستانیوں میں سے مزید 176 شہری واہگہ بارڈرکے راستے واپس پہنچ گئے۔کورونا وائرس کی وجہ سے بند کئے گئے واہگہ بارڈر کو خصوصی طورپرکھولاگیا اور بدھ کے روز بھارت سے پاکستانی شہریوں کا تیسرا قافلہ واپس پاکستان پہنچا ہے۔ یہ پاکستانی بھارت کی 20 مختلف ریاستوں میں گزشتہ دوماہ سے مقیم تھے۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں سے اب تک بھارت سے 400 پاکستانی شہریوں کی واپسی یقینی بنائی گئی ہے۔ بھارت سے واپس آنیوالے سید سرورحسین نے بتایا کہ ان کا تعلق کراچی سے ہے وہ 19 فروری کو بھارت کو گئے تھے، مارچ میں ان کی واپسی تھی لیکن اس دوران کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈان لگ گیا ،انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اوربھارت دونوں حکومتوں کے شکرگزارہیں ۔اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندوخاندان کے سربراہ مہیش کماربھی پاکستان واپسی پربہت خوش تھے ، انہوں نے بتایا کہ وہ فیملی کے ساتھ 8 مارچ کو مذہبی رسومات اداکرنے بھارت گئے تھے ، پاکستانی ہائی کمیشن نے بہت تعاون کیا ہے اوران کی واپسی یقینی ہوئی ہے۔