September 18, 2018

دوران اسمبلی لوہے کا پائپ بجلی کے تار سے ٹکرا گیا، ٹیچر اور3 طلبا جاں بحق

مانسہرہ جدت ویب ڈیسک :صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے کوائی کے ایک نجی اسکول میں لوہے کا پائپ بجلی کے تار سے ٹکرانے سے ٹیچر اور 3 طلبا جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعہ اْس وقت پیش آیا، جب ٹیچر اور طلبا اسمبلی کے دوران لوہے کے پائپ پر جھنڈا چڑھا رہے تھے کہ وہ وہاں لٹکنے والے بجلی کے تار سے ٹکرا گیا۔کرنٹ اتنا شدید تھا کہ ٹیچر اور 3 طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔جاں بحق ہونے والے بچے چوتھی، پانچویں اور آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے، جن کی شناخت استاد سفیر خان، نعمان، بلال اور آصف کے نام سے کی گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔واقعہ کے بعد سکول میں بھگدڑ مچ گئی، علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد اور پولیس موقع پر پہنچ گئی، ورثا نے لاشوں کا پوسٹمارٹم کرانے سے انکار کر دیا جس پر پولیس نے استاد اور تینوں بچوں کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دیں۔#/s#

September 18, 2018

حیدرآباد: پولیس کی بڑی کارروائی، محرم الحرام کے مرکزی جلوس پر حملے کا منصوبہ ناکام

حیدرآباد جدت ویب ڈیسک :سندھ پولیس نے شہر کو بڑی تباہی سے بچالیا، اہم کارروائی کرتے ہوئے محرم الحرام کے مرکزی جلوس پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے علاقے نبوفقیر چوک کے قریب پولیس نے کارروائی کرکے دو ملزمان گرفتار کیا جن کے قبضے سے چار دستی بم اور ایک دیسی ساختہ بم برآمد کرلیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے 4 دستی بم اور ایک دیسی ساختہ بم برآمد ہوا، ملزمان محرم کے مرکزی جلوس کی گزرگاہ پر بم نصب کرنا چاہتے تھے۔پولیس کے کہنا تھا کہ ملزمان سے تفتیش کی جارہی ہے، جس کی روشنی میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔اس سے قبل بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے محرم الحرام کے جلوس پر حملے کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا، گذشتہ ہفتے ایف سی بلوچستان نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 21 بارودی سرنگیں برآمد کی تھیں، مذکورہ بارودی سرنگوں کا مجموعی وزن 235 کلو گرام تھا۔دوسری جانب محرم الحرام میں سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے حکومت نے اہم اقدامات کرلیے، پنجاب اور سندھ میں کنٹرول روم قائم کردیئے گئے، متعدد علماکرام پر اسلام آباد میں داخلے اور تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی۔خیال رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے محرم الحرام کے موقع پر ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

September 18, 2018

کفایت شعاری اورسادگی ،وزیراعلیٰ سندھ نے رواں مالی سال کوئی نئی گاڑی نہ خریدنے کا اعلان کردیا

کراچی جدت ویب ڈیسک ::سندھ سرکار نے بھی کفایت شعاری اورسادگی اپنالی،وزیراعلیٰ سندھ نے رواں مالی سال کوئی نئی گاڑی نہ خریدنے کا اعلان کردیا ، مراد علی شاہ نے کہاکہ غیرقانونی لوگوں کو کسی ملک کی شہریت نہیں دی جاتی،یہ بھی کہاکہ جلسہ موڈ سے نکل کر اب حکومتی موڈ میں آجائیں۔وزیراعلی سندھ نےپوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کفایت شعاری کااعلان بھی کردیا ، کہاکہ رواں مالی سال کسی محکمے کےلئے کوئی نئی گاڑی نہیں کرخریدیں گے۔یہ بھی بتایاکہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فورکی لاگت بڑھ چکی ہے ، وفاق سے تکمیل کےلئے مدد مانگی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کاکہناتھاکہ تھر میں قحط سالی اور اموات پر افسوس ہے، ریلیف آپریشن شروع کردیاہے گندم بھی تقسیم کررہےہیں۔مراد علی شاہ نےکہ غیرقانونی لوگوں کو ملک کی شہریت نہیں دی جاتی۔ کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے تین اسمبلیاں ایسے مسترد کرچکی ہیں، گاڑیاں اور بھینس بیچنے سے حکومت نہیں چلتی ،بھینسوں کے بجائے پانچ سال تک ان کا دودھ بیچتے تو زیادہ فائدہ ہوتا۔

September 18, 2018

این آر او کیس: زرداری، مشرف کے 10 سالہ اثاثوں اور اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب زرداری کی فیصلے پر نظرثانی درخواست

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :: سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے این آر او کیس میں 10 سالہ اثاثوں کی تفصیلات اور اندرون و بیرون ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 29 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔نظرثانی درخواست سابق صدر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائک نے دائر کی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آصف علی زرداری نیب کے کیسز سے پہلے ہی بری ہوچکے ہیں اور اثاثوں سے متعلق ان کی دستاویزات دستیاب نہیں ہیں
درخواست کے مطابق قانون کے تحت کسی شخص کے ماضی کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں مانگی جاسکتیں اور یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
درخواست میں عدالت عظمیٰ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کر رکھی ہیںواضح رہے کہ 29 اگست کو سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی 10 سالہ اثاثوں کی تفصیلات اور اندرون و بیرون ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

September 18, 2018

پانی بحران کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی میں نئے ڈیمز کی تعمیر کی قرارداد منظور ہو گئی

جدت ویب ڈیسک ::تحریک انصاف کی حکومت نے پانی بحران کے خاتمے کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھا لیا۔ قومی اسمبلی میں نئے ڈیمز کی تعمیر کی قرارداد منظور ہو گئی۔ مخدوم سمیع الحسن گیلانی نے نئے ڈیمز کی قرارداد پیش کی۔
قومی اسمبلی میں نئے ڈیمز کی تعمیر کی قرار داد پر پیپلز پارٹی نے اعتراض اٹھا دیا۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی بات کرنے سے صوبوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں گے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ڈیم کا مسئلہ سیاسی نہیں عوامی ہے ، چندہ جمع کرنا احسن اقدام ہے ، کالا باغ ڈیم کو تین صوبوں نے مسترد کیا، بھاشا ڈیم سے متعلق دستاویزات میں سب واضح ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں پانی کا بحران ہے، نئے ڈیم نہ بنائے تو پاکسان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
دوسری طرف وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ کالا باغ ڈیم پر اگر صوبے اعتراض کرتے ہیں تو اس کا احترام کریں گے جن دستاویزات کا ذکر کیا گیا ہے اس کو تسلیم کرتے ہیں۔

September 18, 2018

وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ اپنے 2 روزہ پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :: وزیراعظم عمران خان اپنے 2 روزہ پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد بھی وزیراعظم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہناہےکہ وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کی دعوت پر یو اے ای بھی جائیں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔اس دوران وہ مدینہ منورہ میں زیارت اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کریں گے۔وزیراعظم سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد بھی ملاقات کریں گے۔

September 18, 2018

بھاشا ڈیم اور ڈیم فنڈ پر خواجہ آصف کی نکتہ چینی شاہ محمود قریشی کا جواب مزیدجانیے

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپریل 2018 میں چاروں صوبوں نے جس واٹر پالیسی پر دستخط کیے اس میں اس میں بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر اتفاق کیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے ایوان میں مطالبہ کیا کہ ڈیم فنڈ اور واٹر پالیسی کو متنازع نہ بنایا جائے جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کوئی ابہام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ واٹر پالیسی کا معاملہ 2003 سے زیرالتوا تھا جو اپریل 2018 میں حل ہوا جس کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے، گزارش ہے کہ جن مسائل سے وفاق کے درمیان تنازع کھڑا ہوتا ہے اسے نہیں چھیڑنا چاہیے۔خواجہ آصف نے کہا کہ 150 ارب روپے بھاشا ڈیم پر خرچ ہوچکے، 122 ارب روپے اس کی زمین پر خرچ ہوئے اور 23 ارب روپے سالانہ اس ڈیم کے لیے فکس ہیں، ڈیم کو 9 سال میں مکمل ہونا ہے، اگر آپ اسے جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں تو 23 ارب کو 40 ارب پر لے جائیں اور 5 سے 6 سال میں مکمل کرسکتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈیم پر تنازع ہماری تاریخ کا حصہ ہے، وہ غلط ہے یا صحیح یہ الگ بات ہے، اس حوالے سے 2018 میں چاروں صوبوں میں معاہدہ ہوچکا ہے جس میں سب چیز کلئیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چندہ جمع کرنا احسن اقدام ہے اس میں تمام لوگوں کا حصہ شامل ہوگا، اگر 10، 20 یا 200 ارب روپے چندے میں جمع ہوجائیں تو وہ بھی شامل کریں لیکن اگر کسی کو اختلاف ہے تو اس پر بات کریں اور اس حوالے سے جو متتفقہ معاہدہ ہوچکا اس کو آگے لے کر چلیں۔
خواجہ آصف نے کہا یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں، مریض کو جتنی بوتلیں خون کی لگالیں جب تک اس کا خون بہنا بند نہیں ہوتا اس وقت تک مریض کی جان نہیں بچے گی، اس لیے ڈیم کے ساتھ ساتھ پانی بچت کے ذخائر بھی بنانا ہوں گے، جب صرف ڈیم کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ابہام پیدا ہوتا ہے، اس پر کوئی تنازع نہیں کہ ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس کا سدباب کرنا ہے۔
احسن اقبال:
مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ایوان میں کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ واٹر پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میں پانی کے حوالے سے دو ہی معاہدے ہیں، جس میں 1991 کا معاہدہ اور اپریل 2018 کا معاہدہ شامل ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ بھاشا ڈیم پر 122 ارب روپے سے زائد خرچ ہوچکے، 14 ہزار ایکٹر سے زائد زمین خریدی گئی تاہم تین ارب روپے چندے میں اکھٹے کر کے دیامر ڈیم پر کریڈٹ لیا جارہا ہے۔
شاہ محمود قریشی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خواجہ آصف کے نکتے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیم بنانے پر کوئی ابہام نہیں، 1991 کا معاہدہ پر چاروں صوبوں نے اتفاق کیا جسے کل بھی اون کرتے تھے آج بھی اون کرتے ہیں، جس معاہدے کا ذکر خواجہ آصف نے کیا اسے بھی تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاوجہ ایک بحث کا آغاز کردیا گیا ہے جس کی ضرورت نہیں تھی، چاروں اکائیوں کے نکتہ نظر کا احترام کرنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ چالیس سال سے حکومتیں آتی اور جاتی رہیں اور سوائے تقریروں کے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، پہلی مرتبہ وزیراعظم اور چیف جسٹس نے قوم کا مطالبہ کیا اور قوم پہلی مرتبہ متحرک ہوئی اور ساتھ دے رہی ہے اس لیے اس مسئلے پر کوئی ابہام نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اگر ڈیم کے ایشو کو حل نہ کیا، سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کالا باغ ڈیم پر اعتراض کرتے ہیں تو اس کا احترام کریں گے۔

September 18, 2018

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا جب کہ قومی اسمبلی نے بھی کمیٹی کے قیام کی تحریک منظور کرلی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں جاری ہے جس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے انتخابات 2018 کی چھان بین کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایاکہ انتخابات 2018 کی چھان بین کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے، کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے ے ممبران کی تعداد برابر ہوگی اور کمیٹی 2018 کے انتخابات پر اپنی آرا قائم کرکے چھان بین کرے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خصوصی کمیٹی کا چیئرمین وزیراعظم کی مشاورت سےحکومت نامزد کرے گی، کمیٹی قومی اسمبلی کے ممبران پر مشتمل ہوگی اور اس میں سینیٹ کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا۔
شاہ محمود قریشی نے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی تحریک پیش کیاس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے انتخابی دھاندلی سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک پیش کی گئی جس کے متن کے مطابق مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان شامل ہوں۔تحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز تیار کرے گی اور آئندہ دھاندلی کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات تجویز کرے گی۔
پی پی کا پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دی جائے اور شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی حزب اختلاف کو دی جائے۔اسی طرح کا مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین تحفظات ہیں اس لیے پارلیمانی کمیٹی میں برابر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کے پاس ہونی چاہیے۔
عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی، حکومت کا پارلیمانی کمیشن بنانے کا فیصلہ
اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمانی کمیشن بااختیار ہوگا اور ہم کسی چیز کو پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے، شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا تاہم اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے، ان کا نکتہ اعتراض رجسٹر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اپنا موقف پیش کریں، اس کو سنا جائے گا، شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہے، ہم نے اپوزیشن کے موقف پر سر تسلیم خم کیا ہے، ، جمہوری قدروں کی مضبوطی اصولی موقف ہے اور اختلافات کے باوجود آگے بڑھنا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک ہی مطالبہ سامنے آنے پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی کمیٹی بناؤں گا رولز کے مطابق بناؤں گا۔