July 23, 2017

مسلم مہاجرین کاہنگری میں داخلہ بند

بڈاپسٹ جدت ویب ڈیسک ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رہنما اور ہنگیرئن نڑاد امریکی ارب پتی جورج سوروز ’نئے، مکسڈ، مسلمائزڈ یورپ‘ کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ان کی حکومت ایسا نہیں ہونے دے گی۔امریکی ٹی وی کے مطابق ہنگری کے مہاجرین اور مسلم مخالف وزیراعظم وکٹور اوربان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی سرحدوں پر رکاوٹیں نصب کرنے کا مقصد یہی ہے کہ وہ یورپی یونین کے رہنماؤں اور سوروز کی کوششوں کا ناکام بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وسطی یورپی ریاستیں مہاجرین اور تارکین وطن کی غیر قانونی آمد کو روکنے کی خاطر سرحدی رکاوٹوں کے حق میں ہیں۔اوربان کے بقول ان کے دور اقتدار میں ’مغربی یورپی خطے کے مسیحی ہنگری میں خود کو محفوظ تصور کرتے رہیں گے۔وکٹور اوربان کا خیال ہے کہ یورپ میں مسلمان مہاجرین کی آمد کے سبب یورپ کی بنیادی مسیحی اقدار کو خطرہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ملک میں مہاجرین کی آمد کی سخت مخالفت جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ وہ ایسے مہاجرین کی ہنگری میں آباد کاری نہیں ہونے دیں گے، جو ہنگری کی ثقافتی پہچان کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔

July 23, 2017

پریس ڈے پر صحافیوں کےلئے فلیٹس کا تحفہ

باکو جدت ویب ڈیسک آذربائیجان میں منائے جانے والے نیشنل پریس ڈے کے موقع پر حکومت نے 255 صحافیوں کو ان کی خدمات کے صلے میں فلیٹس دیے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 1875 میں اسی روز آذربائیجانی زبان کا پہلا اخبار آکنجا شائع ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے سابق صدر حیدر آلیا نے نیشنل پریس ڈے 2010 میں منانا شروع کیا تھا۔ رواں سال ان کے بیٹے اور موجودہ صدر الہم آلیا نے اس دن صحافیوں کو مفت فلیٹس دینے، پریس کے فروغ کے لیے مالی معاونت اور مزید صحافیوں کے لیے فلیٹس بنانے کے لیے رقم کا اعلان کیا۔ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان میں اظہار رائے کی آزادی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور میڈیا پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔دوسری جانب امریکہ میں قائم میڈیا کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم ہاوس کے خیالات کچھ اس کے منافی ہیں، اس تنظیم کا کہنا تھا کہ آذربائیجان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔واضح رہے کہ آذربائیجان میں ایک کمرے کے فلیٹ کی قیمت 50 ہزار ڈالر ہے اوریہ پہلی بار نہیں ہے کہ صحافیوں کو نوازا گیا ہے۔ حکومت نے صحافیوں کے لیے فلیٹس کا اعلان پہلی بار 2013 میں کیا تھا۔

July 22, 2017

ہر سال مُردوں کو قبروں سے نکالنے والا انڈونیشین قبیلہ

جدت ویب ڈیسک :آج میں آپ کو ایک حیرت انگیز قبیلے کے بارے میں بتاتا ہوں۔جو اپنے مردہ لوگوں کو ہر سال نکال کر ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ایک اخباری خبر کے مطابق“ماماسا ” نامی قبیلے کے لوگ ستمبر کے ابتدائی ہفتے میں مردوں کو قبرستانوں سے نکال کر دوبارہ گھروں میں لاتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ مقامی رسم و رواج کے مطابق لاشوں کو حنوط کرکے دفن کرتے ہیں ، اس لیے ان کی ممیاں طویل عرصے میں بھی خراب نہیں ہوتیں۔ تہوار کے دوران گھر لائے ممردوں کو غسل دے کر انہیں نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ ان کوپھر نئے سرے سے مسالہ لگا کر دفن کیا جاتا ہے۔متحدہ عرب سے شائع ہونے والے اخبار ” البیان” نے برطانوی جریدے ڈیلی میل کے حوالے سے لکھا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبے ” جنوبی سلا ویسی ” میں مردوں کو قبروں سے نکالنے کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی یہ رسم مذکورہ صوبے کے ” توراجا” نامی علاقے میں جاری ہے۔ توراجا کے لوگ ہر سال مردوں کو قبروں سے نکالتے ہیں۔ ان تقریبات کو جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس رسم کو مقامی زبان میں ” مائی نین ” کہا جاتا ہے۔ توراجا کے باسیوں کا تعلق ویسے عیسائی مذہب سے ہے۔ اور وہ اپنے ممردوں کی عیسائی مذہب کے رواج کے مطابق تجہیزوتدفین کرتے ہیں۔ تاہم ان کا عقیدہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس لیے سال بعد مردے کو اس مقام کی زیارت کرانا ضروری ہے ، جہاں اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ اس کے بغیر مردے کی روح شدید تکلیف میں رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توراجا کہ لوگ دور دراز سفر کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دور کسی علاقے میں ان کی موت واقع ہوتو اہل خانہ کے لیے ہر سال مردے کی ممی کو اس جگہ لے جانا دشوار ہوگا۔ اس لیے یہ لوگ اپنے علاقے میں ہی رہتے ہیں۔ خصوصا بڑھاپے کی عمر میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ” مائی نین ” کی رسم اس علاقے میں زمانہ قدیم سے جاری ہے۔ اس کا اعلان مقامی مذہبی پیشواؤں کی جانب سے ہوتا ہے۔ ممردوں کے اہل خانہ پہلے سے اپنے پیاروں کی لاشوں کو قبروں سے نکالنے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ ماں باپ کی لاشوں کا دیدار کرنے کے لیے ان کے بیٹے اور بیٹیاں دور دراز سے گاوں آتے ہیں۔ مردے کے اہل خانہ اس لے لیے نئے کپڑے لے کر قبرستان پہنچ جاتے ہیں۔ قبروں کو اکھیڑنے کے وحشت ناک مناظر بچے بھی دیکھتے ہیں۔ بچوں کو میت کے تابوت کے سرہانے بٹھایا جاتا ہے۔ جبکہ ممردوں کو قبروں سے نکالتے ہی تمام اہل خانہ انہیں مخاطب ہوکر کہتے ہیں “نیا سال مبارک ہو ”۔ توراجا کے باشندے ایک خاص طریقے سے حنوط لگا کر اپنے ممردوں کو محفوظ بناتے ہیں۔ اس کے بعد ایک مسالہ لگے کپڑے میں میت کو لپیٹا جاتا ہے اس کپڑے کے اندر ایک مقامی درخت کے پتے بھی رکھے جاتے ہیں ، جبکہ تابوت بھی ایک خاص لکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ ہرمرتبہ نئے تابوت میں میت کی تدفین کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں ممردوں کی قبروں میں تدفین کے ساتھ انہیں علاقے کے ایک متبرک پہاڑ میں بنے غار نما قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔ میتوں کو سیدھا کھڑا رکھنے کے لیے مردے کے دونوں ہاتھوں کو ایک لکڑی پر اس طریقے سے رکھا جاتا ہے جیسے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں۔ مائی نین ” تہوار کو مردوں کی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن تمام مردے قبروں سے نکالے جاتے ہیں اس کے بعد انہیں اچھی طرح غسل دیا جاتا ہے۔ بالوں کو سنوارا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ بیوٹی پارلر والوں کو بلا کر بھی اپنے مردہ عزیزوں کو سنوارتے ہیں۔ میت کو دوبارہ تدفین کے لیے تیار کرنے سے پہلے حنوط کے لیے لگایا جانے والا پرانا مسالہ ہٹا کر دوبارہ نیا مسالہ لگایا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کی لاشوں کی دوبارہ تدفین کے وقت ان کے لیے نئے کھلونے بھی تابوت میں رکھے جاتے ہیں۔ مائی نین رسم کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فوت شدہ جوڑوں کی لاشوں کو قبروں سے نکالنے کے بعد انہیں نئے کپڑے پہنا کر دونوں کو ایک ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس دوران اہل خانہ اور عزیزواقارب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور فوٹو کھنچواتے ہیں۔جبکہ بعض صاحب ثروت افراد ممردوں کو چلا کر دکھانے کے لیے بھاری معاوضہ ادا کرکے بازی گروں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ، توراجا دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے ، جہاں ہر سال کئی برس پرانی لاشوں کو لوگ پیروں پر چلتا دیکھتے ہیں۔ نیویارک نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ جس میں 80 برس پہلے فوت ہونے والے پیٹر سامبی سامبارا نامی شخص کی میت کو اپنے پیروں پر چلتا دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، توراجا ایک پہاڑی علاقہ ہے ،کچھ برس پہلے تک یہاں بسنے والے ماما سا قبیلے کی اس عجیب رسم کے بارے میں دنیا کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ تاہم اب مردے نکالنے کی رسم شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے سیاح یہاں پہنچنا شروع ہو جا تے ہیں۔

July 22, 2017

پولش سپریم کورٹ پر سیاستدانوں کا کنٹرول، متنازعہ قانون منظور

وارسا جدت ویب ڈیسک یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ میں سپریم کورٹ کا کنٹرول سیاستدانوں کو منتقل کر دینے کا ایک نیا لیکن بہت متنازعہ قانون منظور کر لیا گیا ہے۔ اس قانونی مسودے پر یورپی یونین اور ملکی اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکی اپوزیشن، یورپی یونین اور کئی یورپی ملکوں کے رہنما ء یہ کہتے ہی رہے کہ وارسا حکومت عدلیہ میں اصلاحات کے نام پر جو نیا قانون منظور کروانا چاہتی ہے، وہ دراصل بنیادی جمہوری اصولوں کے منافی ہو گا اور عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کو بری طرح متاثر کرے گا۔لیکن وارسا میں پارٹی برائے قانون اور انصاف یا پی آئی ایس کی قدامت پسند حکومت نے، جس نے اس حوالے سے ایک مسودہ قانون پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیش کر رکھا تھا، ہر طرح کی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس بل پر رائے شماری کا فیصلہ کیا،رائے شماری میں ایوان زیریں کے 235 ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا اور 192 نے اس کی مخالفت کی جبکہ 23 اراکین نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔پولینڈ میں موجودہ حکمران پارٹی کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے اور اب یہی قانون منظوری کے لیے ایوان بالا میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔ حکومت اس بل کی ایوان بالا کی طرف سے منظوری میں بھی کوئی دیر نہیں کرنا چاہتی۔ اس قانونی مسودے کے خلاف پولینڈ کے مختلف شہروں میں عوام کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کرتے رہے، اپوزیشن یہ کہتی رہی کہ یوں ملکی عدلیہ کسی بھی طور آزاد اور غیر جانبدار نہیں رہ سکے گی، جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد قدر ہوتی ہے، اور یورپی یونین نے تو پولینڈ کو کئی بار یہ دھمکیاں بھی دی تھیں کہ اس قانون کی منظوری کی صورت میں برسلز کی طرف سے وارسا کے خلاف ایسی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں، جو پہلے کبھی نہ لگائی گئی ہوں۔یہ قانون اس لیے متنازعہ ہے کہ اس کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کے اختیارات اسی عدالت عظمیٰ کے پاس رہنے دینے کے بجائے ملکی وزیر انصاف کو منتقل کر دیے جائیں گے۔آئینی امور کے بہت سے پولستانی اور یورپی ماہرین اس بل کے قانونی حیثیت اختیار کر جانے کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کا اختیار وزیر انصاف کو دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ پولینڈ میں آئندہ اس اعلیٰ ترین ملکی عدالت کو سیاستدان ہی کنٹرول کریں گے، جس کا دوسرے لفظوں میں مطلب ’آزاد عدلیہ کا قتل‘ ہو گا۔ یہ متنازعہ قانونی بل وارسا میں یاروسلاو کاچنسکی کی پارٹی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پی آئی ایس کی عوامیت پسند حکومت کے اس سیاسی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت پولستانی عدلیہ کی ہر سطح پر تنظیم نو کی جائے گی۔

July 22, 2017

طالبہ کے ریپ اور قتل نے شملہ کی پہاڑیوں کو ہلادیا‘ ملزم ہلاک

نئی دہلی جدت ویب ڈیسک: بھارتی شہر شملہ میں چند روز قبل ایک طالبہ کی اجتماعی جنسی زیادتی اور اس کے قتل کا نامزد ملزم پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گیا ہے۔ اِس لڑکی کے ریپ اور بہیمانہ قتل پر ہمالیہ خطے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اس جرم نے شملہ کے پہاڑی شہر کی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے،شملہ میں ہزاروں افراد نے اس مقدمے پر پولیس کے برتاؤ کے حوالے سے مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرین حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے شملہ کے بعض علاقوں میں کاروبار معطّل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس کیس میں کشیدگی اْس وقت بڑھ گئی جب اس سنگین جرم کے ایک ملزم کو اْس کے سیل میں ایک دوسرے قیدی نے ہاتھا پائی کے دوران قتل کر دیا۔ ہماچل پردیش پولیس کے انسپکٹر جنرل ظہور ایس زیدی نے بتایا کہ نیپال سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی سورج سنگھ نے لڑائی کے دوران ملزم کا سر دیوار سے ٹکرا دیا۔ زیدی کے مطابق ملزم کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اْس کی موت کی تصدیق کر دی۔سولہ سالہ طالبہ کی جنسی زیادتی اور قتل کے مبینہ ملزم کی موت کی خبر سنتے ہی شملہ میں ہنگامے شروع ہو گئے جن میں غصے سے بھر پور مظاہرین کی جانب سے پولیس اسٹیشن اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعے کی سفّاکی نے ہماچل پردیش کے رہائشیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یاد رہے کہ ہمالیہ کی اس ریاست میں جنسی جرائم کی شرح تمام بھارت کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ قتل ہونے والی طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ریپ کرنے کے بعد گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کیا گیا جبکہ اْسکی ایک ٹانگ بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

July 22, 2017

جنوبی ایشیا میں ہم جنس پرستوں کی زبردستی شادیوں کا انکشاف

لندن جدت ویب ڈیسک برطانیہ کی ایک پولیس فورس نے بتایاہے کہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں ہم جنس پرست مرد اور خواتین کی اْن کی مرضی کے خلاف مخالف جنس کے افراد سے شادیاں کروائی جا رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے کہاکہ اپنے ہی خاندان کی جانب سے مخالف جنس کے ساتھ شادی پر مجبور کرنے کی شکایت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔برطانیہ میں جبری شادیاں روکنے کے لیے قائم خصوصی یونٹ کو پچھلے سال 30 ہم جنس پرست افراد کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔ مگر اْن کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی برادری میں ہم جنس پرستی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔اس بات کی تائید ہم جنس پرست افراد کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں کی جانب سے جمع شدہ اعداد وشمار سے بھی ہوتی ہے جنھوں نے پولیس کو شکایات بھجوائیں۔جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 22 ہم جنس پرست مرد اور خواتین نے بتایا کہ انھیں مختلف مواقعوں پر مخالف جنس کے افراد سے شادی کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔زیادہ تر کیسز میں مجبور کیے جانے والے افراد اس بات پر راضی ہونے کے لیے تیار ہو گئے کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور ان کی ساکھ متاثر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ایک شخص جن کا فرضی نام رنجیپ ہے کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے اْنھوں نے اپنے خاندان والوں کو بتایا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔ اس پر ان کے والد نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عورت سے شادی کر لیں۔رنجیپ نے کہا کہ میرا دل اس بات کو دیکھ کر ٹوٹ گیا ہے کہ میرے والد میری جنسی رغبت کو دیکھ کر دل برداشتہ ہیں۔جبری شادی اْسے کہتے ہیں جس میں ایک یا دونوں فریقین کی مرضی کے خلاف شادی کی جائے جس میں دباؤ اور بدسلوکی کی جائے۔ برطانیہ میں یہ غیرقانونی ہے اور یہ مرد اورخواتین کے ساتھ تشدد کے ذمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے جبری شادیاں روکنے کے لیے سنہ 2005 میں فورسڈ میرج یونٹ قائم کیا۔اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال 30 ہم جنس پرست افراد جنھوں نے اس یونٹ سے رابطے کیے وہ اْن ایک ہزار چار سو اٹھائیس لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس یونٹ سے مدد مانگی۔حکومت نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ ممکن ہے کہ ہم جنس پرست افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ شکایت کرنے والوں سے اْن کی جنسی رغبت کے بارے میں باقاعدہ سوالات نہیں کیے گئے اور یہ کہ اْن کی جنسی رغبت جبری شادی کے لیے ذمہ دار تو نہیں۔یہ یونٹ اب ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ متاثرین کو مدد مانگنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔

July 22, 2017

مسجد اقصی میں کشیدگی،فلسطینیوں پر اسرائیلی فورسزنے دھاوا بول دیا

یروشلم جدت ویب ڈیسک ؛ : فلسطینیوں پراسرائیلی مظالم جاری ہیں، فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری رابطے معطل کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں اپنی کابینہ سے خطاب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل سے تمام رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا۔محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی فورسز جب تک مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پر ظلم اور تشدد کا باب ختم نہیں کرتی اور بالخصوص قبلہ اول اور بیت المقدس میں فلسطینیوں پر عاید کردہ پابندیاں نہیں اٹھاتے اس وقت تک اسرائیل کیساتھ تمام سرکاری رابطے معطل رہیں گے۔فلسطینی صدر کا کہنا ہے کہ نام نہاد سیکیورٹی کے نام پر مسجد اقصیٰ پر بالادستی کے قیام کے لیے اٹھائے گئے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینی قوم نے مسترد کردیا ہے اور کہا کہ اسرائیل بامقصد بات چیت کی بحالی کے بجائے سیاسی، مذہبی کشمکش کو ہوا دینے اور قبلہ اول کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازشوں میں مصروف ہے۔اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور وحشیانہ تشدد سے 6 فلسطینی نوجوان شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے جبکہ اسرائیل نے50 سال سے کم عمر فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا تھا،خیال رہے اسرائیلی فورسز کا نہتے فلسطینوں کیخلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال جاری ہے، گزشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے سمیت فلسطین بھر میں قبلہ اول کے دفاع اور اسرائیلی پابندیوں کے خلاف’یوم الغضب‘ منایا گیا،مسجد اقصیٰ میں میٹل ڈیٹیکٹر لگانے کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجی ٹوٹ پڑے۔