February 26, 2021

امریکی طیاروں کی شام میں ایرانی ٹھکانوں پر بمباری، 17 جنگجو ہلاک

دمشق: شام میں امریکا کے جنگی طیاروں نے ایران کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 17 جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے مشرقی علاقے دیر الزور میں امریکی فضائیہ نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی، فضائی حملے میں ایران نواز مسلح گروہ کے 14 جنگجو ہلاک ہوگئے جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔ایران نے شام میں امریکی حملوں پر ردعمل نہیں دیا تاہم سابق صدر ٹرمپ کے عالمی جوہری معاہدے سے دستبردار ہو کر اقتصادی پابندی عائد کرنے سے شروع ہونے والی کشیدگی میں امریکا میں نئی حکومت آنے کے بعد بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے امریکی فضائی حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے 17 جنگجو ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ عراق میں امریکی تنصیبات اوr سفارت خانے پر حملوں کے جواب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے ان حملوں کی اجازت دی تھی۔
پینٹا گون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملوں میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسلحہ ڈپو تباہ کردیئے گئے۔ شام کی جانب سے امریکی فوج کی کارروائی پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

February 20, 2021

کابل بم دھماکوں سے گونج اُٹھا، 5افراد جاں بحق ہوگئے

کابل:جدت ویب ڈیسک: افغانستان کے دارالحکومت میں مختلف مقامات پر تین کاروں کو دھماکوں سے اُڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 5 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں آج مختلف مقامات پر 3 دھماکے ہوئے اور حیران کن طور پر تینوں دھماکوں میں کرولا کار کو نشانہ بنایا گیا۔ تینوں کار میں شہری سوار تھے جب کہ ایک کار میں خاتون سمیت بچے بھی موجود تھے۔ پہلا دھماکا دارالامن روڈ پر ہوا جس میں خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم کار میں سوار دو افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے ایک حالت نازک ہے جب کہ دوسرا دھماکا کارتہ پروان میں ہوا جس میں خاتون سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح تیسرے دھماکے میں بھی ایک کرولا کار کو نشانہ بنایا گیا جس میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔ پولیس نے تینوں کارروائیوں کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں واقعات میں مماثلت کو دیکھتے ہوئے تفتیش کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ دوحہ میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی جب کہ رواں برس جنوری سے تاحال اب تک صرف کابل میں 39 بارودی دھماکے اور 8 مسلح حملے ہوئے ہیں جن میں 51 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے۔

February 20, 2021

ایران نے جوہری پروگرام پر نظرثانی کا عندیہ دیدیا

تہران:جدت ویب ڈیسک: ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا پابندیاں اٹھائے ہم جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایران سے جوہری معاہدہ میں شمولیت کے اشارہ کے بعد ایران نے بھی معاہدہ کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کا عندیہ دیا ہے۔ ٹوئٹر پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اگر امریکا تمام پابندیاں اٹھا دے تو ایران فوری طور پر جوہری پروگرام سے متعلق تمام اقدامات واپس لے لیگا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایران کے سینیئر حکام نے مسئلہ کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ڈیل پر غور کررہاہے لیکن امریکا سب سے پہلے خود معاہدے میں واپس آنے کا اعلان کرے۔گزشتہ روز واشنگٹن کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے تیار ہے۔

February 16, 2021

پاکستانی کوہ پیما کا بڑا کارنامہ، بڑا اعزاز پاکستان کے نام

ڈوڈوما: ارادے مصم ہوتو منزل مل ہی جاتی ہے، اس محاورے کو سچ کردکھایا ہے، پاکستان کوہ پیما اسد علی میمن نے، جنہوں نے براعظم افریقہ کی بلند ترین چوٹی کو دنوں کے بجائے گھنٹوں میں سر کرلیا ہے۔ فروری میں افریقا کی سب سے بلند چوٹی مانٹ کیلی منجارو کو چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں سر کرونگا، لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اسد علی میمن نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور براعظم افریقہ کی بلند ترین ماونٹ کیلی منجیرو صرف چودہ گھنٹے میں سر کرلی۔ماونٹ کیلی منجیرو کی اونچائی 5,895 میٹر ہے،کوہ پیماں کو یہ چوٹی سر کرنے میں پانچ سے سات دن لگتے ہیں، اس کے ساتھ ہی اسدعلی میمن ریکارڈ وقت میں سمٹ کو سر والے واحد ایشیائی اور پاکستانی بن گئے۔تاریخی موقع پر پاکستان ہائی کمیشن نے اپنے فیس بک بیج پر کارنامہ شیئر کیا اور تنزانیہ میں موجود پاکستانی سفیر محمد سلیم نے بھی اسد میمن کو مبارکباد دی۔اس سے قبل اسد علی میمن نے مانٹ ایلبرس کے بعد مانٹ اکنگوا پر بھی پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرایا تھا، جس کے ساتھ ہی اسد علی بلند ترین پہاڑ پر 50 میٹر لمبا قومی پرچم لہرانے والے دنیا کے پہلے کوہ پیما بھی بنے تھے، مائونٹ اکنگوا 23 ہزار فٹ بلند ہے۔نوجوان کوہ پیما نے اس سے قبل جنوبی امریکا کی آکونکاگووا چوٹی سر کی تھی۔ پاکستانی کوہ پیما اسد علی نے کیرتھر مانٹین کو سر کرلیا