November 27, 2020

ٹرمپ نے عہدہ چھوڑنے اور وائٹ ہائوس سے رخصت کیلیے نئی شرط رکھ دی

واشنگٹن: جدت ویب ڈیسک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس چھوڑنے اور عہدے سے دستبردار ہونے کو جوبائیڈن کی فتح کی الیکٹورل کالج سے باضابطہ منظوری سے مشروط کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرنے اور عہدہ چھوڑنے کے لیے ایک نئی شرط رکھ دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے والے جو بائیڈن کی فتح کو باضابطہ طورالیکٹورل کالج سے منظور کرلیا جائے تو وہ بھی اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔تھینکس گیونگ کی تعطیل کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر الیکٹورل کالج میں بھی جوبائیڈن کی فتح برقرار رہتی ہے تو وائٹ ہاوس چھوڑ کر اپنی شکست تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے لیکن جوبائیڈن کے حلف اٹھانے (20 جنوری) تک کئی نئی چیزیں سامنے آئیں گی جو صورت حال کو بدل سکتی ہیں۔امریکی صدارتی انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے الیکٹرز الیکشن میں فتح یاب امیدوار کی توثیق کرتے ہیں جس کے بعد 20 جنوری کو کامیاب امیدوار حلف اٹھاتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس دن سے قبل کسی معجزے کے منتظر ہیں جب کہ دوسری جانب جوبائیڈن اپنی کابینہ کے ارکان کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔امریکی صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹ کے امیدوار جوبائیڈن نے 538 میں 306 الیکٹورل ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرلی ہے جب کہ صدر ٹرمپ 232 ووٹ لیکر دوسری بار صدر بننے سے محروم رہے تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے جب کہ وائٹ ہاوس میں اقتدار کی منتقلی کے لیے کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

November 26, 2020

متحدہ عرب امارات میں 8 ماہ بعد مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت

دبئی: جدت ویب ڈیسک :متحدہ عرب امارات نے 8 ماہ بعد مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔عرب ویب سائیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پھیلا کو مد نظر رکھتے ہوئے 8 ماہ بعد مساجد میں خصوصی ضابطہ کار کے تحت نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔ یو اے ای حکام کی جانب سے جاری ضابطہ کار کے تحت مسجد کی گنجائش سے 30 فیصد افراد ہی نماز جمعہ ادا کرسکیں گے اور اس کا اطلاق 4 دسمبر سے ہوگا۔ اس کے علاوہ ابو ظہبی کی انتظامیہ نے تجرباتی طور پر ویکسین کی پہلی 2 خوراکیں لینے والے افراد کو گولڈن اسٹار کیٹیگری میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، ان افراد کا امارات کی کسی ریاست سے ابوظہبی واپسی پر کورونا ٹیسٹ نہیں لیا جائے گا اور وہ قرنطینہ سے بھی مستثنی ہوں گے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، یو اے ای میں ایک لاکھ 60 سے زائد افراد میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے جب کہ 560 سے زائد لقمہ اجل بنے ہیں، کورونا ہی کی وجہ سے ہی یو اے ای نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں کے لیے وزٹ اورورک ویزا کے اجرا پر دوبارہ پابندی بھی عائد کردی ہے۔

November 25, 2020

صنفی تشدد کے خاتمے سے متعلق یورپی یونین کی 16 روزہ خصوصی مہم

کراچی :جدت ویب ڈیسک:یورپی یونین ای یو کے بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خاتمے کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی 16 دن کی خصوصی مہم کا آن لائن آغاز کردیا۔پاکستانیز ہیرو نامی خصوصی آن لائن مہم کے دوران صارفین کی ایسے مرد یا خواتین کی تصاویر یا ویڈیوز بھیجنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جن سے متعلق صارفین کو یقین ہو کہ وہ اپنے کردار کے باعث سماج میں خواتین کی نمایاں جگہ بنانے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔مذکورہ مہم کو یورپی یونین کے تحت ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک اس مقصد کے تحت منایا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں صنفی تشدد کے واقعات کو نمایاں کرنا ہے اور اس مہم کا اختتام 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ہوگا۔مذکورہ مہم کو کسی خاص تھیم کے تحت منایا جاتا ہے اور اس سال کی تھیم ‘فنڈ، جواب دینا، روکنا اور اکٹھا کرنا ہے ‘۔مذکورہ تھیم کو رواں برس کورونا کی وبا کے دوران خواتین کے خلاف بڑھتے گھریلو تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے منتخب کیا گیا ہے ۔مہم کے حوالے سے یورپی یونین کے پاکستانی وفد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ دنیا بھر میں خواتین اور بچوں پر ہونے والے صفنی تشدد کے خلاف ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اس مہم میں یورپی یونین کی ایسی 10 کہانیاں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستانی خواتین و مرد حضرات نے سماج کی فرسودہ روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے معاشرے میں خواتین کے حقوق اور نمایاں مقام کے لیے آواز بلند کی۔مذکورہ مہم کے لیے سوشل میڈیا صارفین اردو یا انگریزی میں ‘SHEro’ کے عنوان کے تحت ایسی خواتین کی کہانیاں اور تصاویر ہمیں بھیج سکتے ہیں جنہوں نے معاشرے سے تشدد یا صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے فرسودہ روایات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اہم کارنامے سر انجام دیے ہوں۔صارفین کی جانب سے بھیجی جانے والی اسٹوریز میں سے 3 بہترین اسٹوریز کو انعامات بھی دیے جائیں گے ۔مہم کے حوالے سے پاکستان میں موجود یورپی یونین کی سفیر ایندرولا کمنارا نے کہا کہ صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے مرد و خواتین کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے یورپی یونین ‘SHEroes’ کے نام سے مہم چلا رہا ہے ، تاکہ انفرادی کاوشیں کرنے والے افراد کی کہانیاں سامنے آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ مہم کورونا کی وبا کے دوران خطرناک حد تک بڑھ جانے والے صنفی تشدد کو سامنے لانے کا ایک نادر موقع ہے اس مہم میں شامل ہونے کے لیے سوشل میڈیا صارفین کو اپنے فیس بک، انسٹاگرام یا ٹوئٹر پر صنفی تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے کردار ادا کرنے والے افراد کی کہانیاں شیئر کرنی ہوں گی۔ایسے صارفین کو کہانیاں شیئر کرتے وقت PakistaniSHEro# کا ہیش ٹیگ استعمال کرنا ہوگا اور اپنی پوسٹس کو پبلک کرنا ہوگا۔مہم میں شامل کہانیوں میں سے 3 شارٹ لسٹ ہونی والی کہانیوں کو ڈان ڈاٹ کام کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جائے گا اور جیتنے والے خوش نصیبوں کو آئی پیڈ اور فٹنس بینڈ سمیت خصوصی انعامات دیے جائیں گے ۔مذکورہ مہم کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے سوشل میڈیا پر #PakistaniSHEro کو فالو کریں اور دیکھیں کہ کس طرح اس مہم میں شامل ہوا جا سکتا ہے اور کیسی اسٹوریز شیئر کی جا سکتی ہیں۔

November 24, 2020

بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں بھارتی سکھ یاتریوں کی شرکت بے یقینی کا شکار

ویب ڈیسک ::بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث گورونانک کے 551 ویں جنم دن کی تقریبات میں بھارتی سکھ یاتریوں کی شرکت غیریقینی کا شکار ہوگئی، پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہو رہا ہے۔
بھارتی ہٹ دھرمی پھر رکاوٹ بن گئی ،سکھ شہریوں کی جانب سے بھارتی فارن آفس میں پاسپورٹ جمع کروانے کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کو ویزہ جاری کرنے کےاحکامات نہ ملے ، صورتحال کے پیش نظر پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا گیا۔
گورونانک کے جنم دن کی تقریبات تین روز بعد 27 نومبر سے شروع ہو رہی ہیں ، پروگرام کے تحت مطابق بھارتی سکھ شہریوں نے 27نومبر کو واہگہ چیک پوسٹ کے راستے پیدل پاکستا ن پہنچنا تھا ، انہیں خصوصی بسوں کے ذریعے گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب لے جانے کے انتظامات پہلے ہی مکمل تھے۔
بھارت کے سکھ مذہب کے پیروکاروں نے قواعد کے مطابق اپنے پاسپورٹ بھارتی وزارت داخلہ میں کئی روز قبل جمع کروا دئیے تھے ، تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے ویزوں کے اجراءکے لئے پاسپورٹ پاکستانی ہائی کمیشن کو نہیں بھجوائے۔

November 22, 2020

فرانسیسی صدر کی مسلمانوں پر مزید سخت پابندیاں لگانے کی تیاری

پیرس:جدت ویب ڈیسک : فرانسیسی صدر مسلمانوں پر مزید پابندیوں پر مشتمل پہلے سے بھی زیادہ سخت قوانین متعارف کروانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایمانیول میکخواں کا کہنا ہے کہ چارٹر آف ریپبلکن ویلیوز کا مقصد مسلمانوں کو انتہاپسندی سے روکنا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایمانیول میکخواں نے فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کو وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنانے کے لیے 15 دن کی مہلت دی ہے۔ اس قانون سازی کے بعد سی ایف سی ایم نینشل کانسل آف امام تشکیل دے گی۔ مساجد میں اماموں کو حکومت کی مرضی سے لگایا اور ہٹایا جاسکے گا۔چارٹر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام مذہب ہے کوئی سیاسی تحریک نہیں۔ اس چارٹر کے تحت ملک میں مسلمانوں کے معاملے پر غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے گا ۔ نئے قوانین کے تحت مسلمان بچوں کی گھروں میں تعلیم دینے پر پابندی ہوگی۔