June 16, 2018

کیٹ مڈلٹن کی نیم عریاں تصاویر سامنے آنے پرکیاہوا‘ جانئے

لندن جدت ویب ڈیسک برطانوی شہزادے ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کی 6 سال قبل 2012 میں کھینچی گئی نیم عریاں تصاویر کا معاملہ ایک بار پھر فرانسیسی عدالت میں جا پہنچا ہے۔خیال رہے کہ 2012 میں فرانسیسی ہفت روزہ میگزین ’کلوزر‘ نے کیٹ مڈلٹن کی ان کے شوہر شہزادے ولیم کے ساتھ نیم عریاں تصاویر شائع کی تھیں۔قریبا ایک درجن تصاویر میں کیٹ مڈلٹن کو بکنی میں سن باتھ لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔شاہی خاندان کی نیم عریاں تصاویر میگزین میں شائع ہونے کے بعد برطانیہ بھر میں ہلچل مچ گئی تھی، یہاں تک کہ اس معاملے پر برطانوی ایوانوں میں بھی بحث چھڑ گئی تھی۔نیم عریاں تصاویر چوری چھپے کھینچنے اور انہیں عام کرنے پر بعد ازاں برطانوی شاہی جوڑے نے فرانسیسی میگزین پر فرانس کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا تھا۔نیم عریاں تصاویر کھینچنے اور انہیں شائع کرکے عام کرنے کا یہ مقدمہ قریبا 5 سال تک عدالت میں چلتا رہا۔ستمبر 2017 میں عدالت نے فرانسیسی میگزین اور ان کے فوٹوگرافرز کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔عدالتی احکامات کے بعد فرانسیسی میگزین اور فوٹوگرافرز نے شاہی جوڑے کو جرمانے کی مد تقریباََ ایک لاکھ یوروز (ایک کروڑ چالیس لاکھ) کی رقم بھی ادا کی تھی۔تاہم اب یہ معاملہ ایک بار پھر فرانسیسی عدالت میں جا پہنچا ہے۔ ’کلوزر‘ میگزین کے 2 سینیئر ایڈیٹرز نے ستمبر 2017 میں اپنے خلاف دیے گئے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔مغربی پیرس کے علاقے ویرسائی میں موجود عدالت میں سماعت کے ا?غاز کے موقع پر فرانسیسی میگزین کے وکیل نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ عدالت میں اس بات پر بحث کریں گے کہ عدالت نے گزشتہ برس میگزین پر ناکافی ثبوتوں کی بناء￿ پر جرمانہ عائد کرکے شاہی جوڑے کو رقم کی ادائگی کا حکم دیا۔رپورٹ کے مطابق میگزین کی ٹیم نے عدالت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ نیم عریاں ہونا یا مختصر لباس پہننا شاہی خاندان کا رواج ہے اور اسی لباس میں ان کی خواتین خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھتیں۔

June 15, 2018

حدیدہ بندر گا ہ کی بند ش سے قیامت خیز تباہی ہو سکتی ہے، اقوام متحدہ

نیو یارک جدت ویب ڈیسک :اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر اتفاق نہیں کر سکے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر کارروائی سے روکا جائے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے یمن کی صورتحال کے سلسلے میں ہنگامی بند کمرہ اجلاس کیا ہے جس میں صرف اس بات پر اتفاق ہوا کہ بندرگاہ کو کھلا رہنا چاہیے۔سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان ملک کی اہم ترین بندر گاہ حدیدہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔ حدیدہ امدادی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی اہم بندرگاہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمنی خانہ جنگی میں حدیدہ کا محاذ سب سے بڑا اور مہلک ترین محاذ ہو سکتا ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 باغی جبکہ نو حکومتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امارات کے مندوب کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز اب شہر کے ہوائی اڈے سے دو کلومیٹر کی مضافت پر ہیں۔قحط کے خطرے سے دوچار حدیدہ کی بندرگاہ اس ملک کی سترہ فیصد درآمدات کا ذریعہ ہے اور اس بندر گاہ پر حملے کے بارے میں اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں قیامت خیز تباہی ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ حکومتی فورسز کے باغیوں کے زیرِ کنٹرول بندرگاہ حدیدہ پر تازہ ترین حملے کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ افراد بھوک سے مرنے کے خطرے میں ہیں جن کا امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔خطے میں موجود طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی فورسز کے حملوں میں 22 حوثی باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتحادی فورسز کے جنگی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔ خیال رہے کہ حوثی یمن کی زیدی شیعہ مسلم اقلیت ہیں۔

June 15, 2018

عیدالفطر رمضان کے روزوں، کار خیر، ہمدردی اور احساس کا نام ہے‘امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ رمضان امن کو فروغ دینے کا مہینہ ہے، جو مشکل کے شکار اور بے دخل ہونے والوں کی مدد کرنے اور سب سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کا درس دیتا ہے۔عید کے موقعے پر پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ عید الفطر امریکہ اور بیرون ملک مقیم مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ماہ رمضان کے دوران دیکھے گئے روح پرور جذبے اور یادوں کو قائم رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔ا±نھوں نے کہا کہ عیدالفطر رمضان کے روزوں، کار خیر، ہمدردی اور احساس کا نام ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ میں عید الفطر کے موقعے پر امریکی محکمہ خارجہ اور اپنی جانب سے اپنے مسلمان احباب اور ساتھیوں کو اِس پر مسرت جشن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ا±نھوں نے کہا کہ امریکہ کو دنیا بھر کے مسلمان ملکوں اور برادریوں کے ساتھ قائم ہونے والے مضبوط تعلقات پر فخر ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ 34 لاکھ امریکی مسلمان روزانہ کی بنیاد پر ملکی سماجی تانے بانے کو انتہائی مالا مال کر رہے ہیں۔ا±نھوں نے مزید کہا کہ اس نوع کی خدمات کثیر مذہبی رہن سہن اور لوگوں سے اچھی طرح پیش آنے کے نمایاں اصولوں کی ترجمان ہیں۔مائیک پومپیو نے کہا کہ ایسے میں جب آپ اپنے پیاروں کے ساتھ یہ خصوصی تعطیل منا رہے ہیں، میں دعاگو ہوں کہ آئندہ برس آپ کے لیے امن اور مزید خوشحالی کا سال ہو۔ عید مبارک۔

June 15, 2018

مسجد الحرام اورمسجد نبوی میں نمازِعید کی ادائیگی‘15لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے

مکہ مکرمہ/مدینہ منور جدت ویب ڈیسک :مسجد الحرام اورمسجد نبوی میں نماز عید کی ادائیگی کے کئے15 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک ،انڈو نیشیا میں بھی جمعتہ المبارک کے روز عید الفطر منا ئی گئی ۔سعودی عرب کے شاہ سلمان نے مسلم امہ کو عید کی مبارکباد کے پیغام میں کہا ہے کہ عیدخوشیوں کا دن ہے عید رواداری اور یکجہتی کا پیغام لاتی ہے۔ مکہ مکرمہ سے جاری پیغام میں شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے، مسلمانوں کے حالات ہر جگہ بہتر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عید کو خوشیوں کا دن بنایا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ عید رواداری اور یکجہتی کا پیغام لاتی ہے، اللہ مذہب اور وطن کی خاطر شہید ہونے والوں پر رحم کرے۔شاہ سلمان نے مملکت اور دنیا بھر کو برائی سے بچانے کی بھی دعا کی ۔برطانیہ ،فرانس ،بیلجئیم سمیت یورپ اور امریکامیں مسلم کمیونٹی کی اکثریت نے جمعتہ المبارک کو عید منائی ۔ترکی میں بھی جمعہ کو عیدالفطر منائی گئی ۔فرانس اور آسٹریلیا میں اس سال بھی دو عیدیں منائی گئیں ۔ پیرس کی جامع مسجد نے جمعہ کو عید منانے کااعلان کیا جبکہ فقہ جعفریہ کے تحت عیدہفتہ 16 جون کو ہوگی ۔

June 15, 2018

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کا آغاز ہو چکا ،طالبان کی جانب سے بھی عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگی بندی کا اعلان

کابل : جدت ویب ڈیسک ::افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی امید ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کا آغاز ہو چکا ہے اور جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی امید ہے ۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان ملک میں امن قائم کرنے میں افغان حکومت کی مدد کریں اور پائیدار امن کے لئے عوامی مطالبہ قبول کریں۔ جس کے بعد طالبان کی جانب سے بھی عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگی بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق صرف مقامی فوجیوں کے لیے ہوگا جبکہ نیٹو اور امریکی فوج نے کوئی کارروائی کی تو طالبان اس کا جواب دیں گے۔یاد رہے کہ افغان حکومت نے عید الفطر کی آمد کے پیش نظر طالبان کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تاہم ساتھ میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے دہشت گردی کی گئی تو سیکیورٹی ادارے بھرپور جواب دیں گے۔

June 15, 2018

عیدالفطرکے موقع پرعالمی رہنماؤں کی دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد

کراچی : جدت ویب ڈیسک ::تفصیلات کے مطابق آج سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں اور برطانیہ، فرانس، بیلجئیم سمیت یورپ بھر میں آج عید الفطر منائی جا رہی ہے اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکبادد دی۔عیدالفطرکے موقع پرعالمی رہنماؤں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد ددی ہے، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈا اوردنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے اختتام پرعید کی مبارکباد دیتا ہوں۔سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے مسلم دنیا کوعیدالفطرکی مبارکباد دی اور دعا کی کہ ہر جگہ مسلمانوں کے حالات بہتر ہوں۔برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے مسلمانوں کوعید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی ترقی میں برطانوی مسلمانوں کی خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی مسلمانوں کو رمضان المبارک کے اختتام پر عید کی مبارک دی۔

June 14, 2018

شمالی کوریا سے اب کوئی جوہری خطرہ نہیں، امریکی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرات مندانہ مگر سوالیہ دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا سے اب کوئی جوہری خطرہ نہیں ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میرے صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کے مقابلے میں اب ہر کوئی خود کو زیادہ محفوظ سمجھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا سے اب کوئی جوہری خطرہ نہیں ہے، کم جونگ ان سے ملاقات دلچسپ اور انتہائی مثبت تجربہ رہا، شمالی کوریا کے پاس مستقبل کے لیے بہت صلاحیت ہے۔دوسری جانب شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا امریکی صدر سے کم جونگ ان کے فاتحانہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان یہ تاریخی ملاقات سنگاپور کے سیاحتی جزیرے سینٹوسا آئی لینڈ کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔مذاکرات کے آغاز میں ابتدائی طور پر دونوں سربراہان کے درمیان ایک علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں ان دونوں کے ہمراہ صرف ان کے ترجمان موجود تھے مذکورہ ملاقات 38 منٹ تک جاری رہی۔اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بہت اچھا محسوس کررہا ہوں ہماری بات چیت اچھی رہے گی، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ مذاکرات بہت زیادہ کامیاب رہیں گے اورمجھے کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے تعلقات بہترین ہوجائیں گے۔اس حوالے سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ اس مقام تک پہنچنا آسان نہیں تھا، ہمیں ماضی اپنی طرف کھینچ رہا تھا، اور روایتی طرزعمل نے ہمارے دیکھنے اور سننے کی حسوں پر قابو پایا ہوا تھا، لیکن ہم ان سب سے نکل کر آج یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ون آن ون اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے امریکی صدر نے ’جامع اور اہم دستاویز‘ قرار دیا۔

June 14, 2018

تیراکی کے لباس میں تصاویر پر روسی استانی کی نوکری چلی گئی

ماسکو جدت ویب ڈیسک روس کے سوشل میڈیا صارفین نے اس خاتون سکول ٹیچر کی حمایت میں مہم چلائی ہے جنھیں تیراکی کے لباس میں تصاویر سامنے آنے کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔26 سالہ وکٹوریہ پوپووا کی سوشل میڈیا پر تیراکی کے لباس میں تصاویر سامنے آنے کے بعد ہی انھیں نوکری سے برخاست کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق روس کے شہر اومکس کے سکول نمبر سات کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وکٹوریہ پوپووا نے اپنے سکول اور پیشے کو بدنام کیا ہے۔پوپووا کو برخاست کرنے کا فیصلہ انسٹا گرام پر ان کی تیراکی کے لباس میں تصاویر آنے کے بعد کیا گیا۔ اگرچہ بعد میں ان کی تصاویر کو حذف کر دیا گیا ،اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تقربیا تین ہزار افراد نے اساتذہ بھی لوگ ہیں کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنی تیراکی کے لباس میں تصاویر شیئر کیں۔آن لائن مہم کے دوران ایک خاتون نے سکول ٹیچر کی برخاستگی کو منافقت، احمقانہ حرکت اور پاگل پن کی شرمناک مثال قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اساتذہ ہیں لیکن ہم انسان بھی ہیں، چنانچہ ہمیں سکول سے باہر اور سوشل میڈیا پر مختلف نظر آنے کا حق ہے۔ایک شخص نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بالکل پاگل پن قرار دیا جبکہ ایک دوسرے شخص نے سکول ٹیچر کو برخاست کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب بیوقوف وجوہات کی بنا پر اپنے آپ کو بچانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔