April 24, 2019

11 ہزار پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں قید کاٹنے پر مجبور

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : پاکستان میں مزدور کی منتقلی کے لیے کمزور ضابطہ کار کے باعث ہزاروں پاکستانی خاص طور پر کم اجرت پر کام کرنے والے مزدور انسانی اسمگلنگ، جبری مزدوری، بیرون ملک حراست میں ناروا سلوک کا شکار ہیں اور یہاں تک کے ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ مےڈےا رپورٹ کے مطابق اس وجہ کے باعث تقریباً 11 ہزار پاکستانی، جس میں 3 ہزار 309 سعودی عرب میں ہیں، بیرون ملک جیلوں زندگی کاٹ رہے ہیں، اگرچہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فروری میں دورہ پاکستان کے دوران فوری طور پر 2 ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب تک ان میں سے صرف 200 ہی رہائی پاچکے ہیں۔اس بات کا اعتراف جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا، پاکستان اور بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کے لیے کام کرنے والی اس غیر سرکاری تنظیم âاین جی اوá جے پی پی کی رپورٹ کا عنوان ’‘ رکھا گیا۔اس رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب تک صرف 200 پاکستانی سعودی عرب میں جیلوں سے رہا ہوئے اور وطن واپس آئے، ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی ولی عہد سے باقی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں پوچھیں، جنہوں نے خود کو ’سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر‘ کہا تھا۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف سعودی جیل کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ وہ کچھ چار دہائیوں قبل ایک تارکین وطن ورکرز کے طور پر کچھ گھنٹوں کے لیے وہاں بند بھی رہیں تھے، لہٰذا انہیں قیدیوں کے مسائل کے بارے میں زیادہ معلوم ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بیرون ملک موجود پاکستانی نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ بھیجتے ہیں بلکہ یہ پاکستان میں ملازمتوں پر موجود دباؤ کو بھی کم کرتے ہیں، قانون بھرتی کے عمل میں استحصال کرنے والے ذیلی ایجنٹوں کے استعمال سے منع کرتا ہے لیکن یہ بے ایمان عناصر انسانی تجارت میں اضافہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی جانب سے صرف قوانین بنائے گئے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کا اختیار نہیں ہے۔سابق سینیٹر نے تارکین وطن ملازمین کو درپیش مسائل پر ایک جامع ڈیٹا بیس بنانے، قونصلر تحفظ پالیسی اور میزبان ممالک کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی اور متوفی کی حوالگی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا۔اس دوران پاکستان تحریک انصاف کی قانون ساز عندلیب عباس نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر کیے گئے اعلان کے بعد سے صرف 200 پاکستانی ہی واپس آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’میں اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہوں کہ تمام â2000á پاکستانی واپس آئیں گے، کچھ لاجسٹکل معاملات کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں واپس بھیجا جائے گا‘۔قبل ازیں جے پی پی کی نمائندہ سارہ بلال نے کہا کہ 11 ہزار پاکستانی غیر ملکی جیلوں میں تکلیف کا سامنا کررہے ہیں لیکن سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کے فقدان کی وجہ سے ان کی تکلیف کو کم نہیں کیا جاسکتا۔اس رپورٹ میں اہم معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جو پاکستان میں کم اجرت تارکین وطن مزدوروں کے لیے بھرتیوں کے نظام کو طے کرتی ہے، اس میں آزاد ویزا کا غیر قانونی استعمال، روانگی سے قبل بریفنگ میں کم حاضری اور غریب اور کمزور لوگوں کا استحصال کرنے والے ذیلی ایجنٹوں کا غیر قانونی استعمال شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی تارکین وطن ملازمین کی جانب سے مسلسل جرائم ان ملازمین کی بھرتیوں کے راستے میں خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ ان کی اہمیت بیرون ملک حفاظت سے منسلک ہوتی ہے۔رپورٹ میں بھرتیوں کے طریقہ کار میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس فرق کو غیرمصدقہ ادارے جو اوررسیز امپلائنمنٹ پروموٹرز âاو ای پیزá کے طور پر جانی جانے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ غیرقانونی طور پر کام کرتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں اور یہ بیرون ملک ملازمت کے لیے بھرتیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں رپورٹ میں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح مختلف حکمرانوں قید سے قبل، دوران اور بعد میں تارکین وطن ملازمین کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے اور اس میں ناکام رہے۔

April 24, 2019

جیسنڈا آرڈرن کو خراج تحسین آرٹسٹ نے حجاب میں‌ ملبوس 25 میٹر لمبی تصویر بنادی

جدت ویب ڈیسک ::سڈنی/ولنگٹن : معروف آسٹریلوی مصّور نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسندا آرڈرن کی حجاب میں ملبوس 25 میٹر لمبی تصویر بنادی جس نے مسلمانوں کے دلوں کو چھو لیا۔
کینبرا : نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کے بعد ملک کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن نے جس انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا اس پر پوری دنیا نے ان کی تحسین کی۔ اب آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں ایک آرٹسٹ نے جیسنڈا ارڈرن کی ایک 25 میٹر اونچی تصویر بنائی ہے جس نے مسلمانوں کے دل موہ لیے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یہ وہی تصویر ہے جس میں جیسنڈا ارڈرن نے سانحے میں شہید ہونے والے ایک شخص کی رشتہ دار خاتون کو گلے لگایا ہوا ہے اور وزیراعظم کے چہرے پر کرب و الم کے تاثرات نمایاں ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس تصویر کے نیچے لفظ ’سلام‘ لکھا گیا ہے۔ یہ تصویر معروف آرٹسٹ لوریٹا لیزیو نے بنائی ہے جو دیواروں پر پینٹنگز بنانے کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف ہے اور اب تک درجنوں ممالک میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکا ہے۔لوریٹا نے جب اس تصویر کو بنانے کے لیے چندے کی اپیل کی تو صرف ایک دن میں ہی لوگوں نے اسے 11 ہزار آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 11لاکھ روپے) چندہ دے دیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن کی یہی تصویر دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ پر بھی روشنیوں کی شکل میں آویزاں کی جا چکی ہے۔

Image result for new zealand pm huge painting by painter