February 19, 2019

مقبوضہ کشمیر میں حالات کشیدہ: میرواعظ کی سیکیورٹی ذمہ داری نوجوانوں نے سنبھال لی

سری نگر جدت ویب ڈیسک :پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جب کہ کشمیری نوجوانوں نے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر 6 رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی تھی جس کے بعد کشمیری نوجوانوں نے میر واعظ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔میر واعظ عمر فاروق سمیت جن دیگر حریت رہنماؤں کی سیکیورٹی کٹھ پتلی انتظامیہ نے واپس لی ان میں عبدالغنی بٹ، بلال لون، ہاشم قریشی، فضل الحق قریشی اور شبیر شاہ شامل ہیں۔بھارتی فورسز کے محاصروں اور ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے پیش نظر وادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جب کہ جموں میں ہندو انتہا پسندوں سے خوفزدہ 6 ہزار کشمیری مسجدوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ضلع پلوامہ میں گزشتہ روز محاصرے کے دوران قابض فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 4 ہوگئی، ضلع بھر میں کرفیو کا سماں ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

February 19, 2019

بھارتی دھمکیوں کے بعد پاکستان کا اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی جانب سے دھمکیوں اور غیر ضروری اقدامات کے بعد پاکستان نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوئٹرس کو فوری اقدام کے لیے خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت تحقیقات کے بغیر پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، داخلی مقاصد کے تحت پاکستان دشمن بیانات سے بھارت خطے کا ماحول کشیدہ بنارہا ہے۔وزیر خارجہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی سنگین غلطی ہوگی۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے مطابق حملہ آور کشمیری تھا لیکن پھر بھی الزام پاکستان پر دھر دیا گیا، کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی فوری مداخلت ضروری ہے اور یہ خط فوری طور پر سلامتی کونسل کے ارکان کو پہنچایا جائے۔یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں قابض بھارتی سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر کار بم دھماکے میں 44 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد بھارت نے تحقیقات کیے بغیر حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے پاکستان کو حاصل موسٹ فیور نیشن کا اسٹیٹس واپس لے لیا اور اندرون ملک پی ایس ایل میچ دکھانے پر بھی پابندی لگادی۔

February 19, 2019

پاکستان کو دھمکیاں لگانے والے خود کو سنبھالیں،بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ریہرسل کرتے ہوئے آپس میں ٹکرا کر تباہ

جدت ویب ڈیسک ::بھارتی فضایہ کے دو طیارے ریہرسل کرتے ہوئے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو گئے،خبر سُن کر سوشل میڈیا صارفین نے بھارت کا تمسخر اُڑانا شروع کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فضائیہ کےطیارےبنگلوروکےہوائی اڈےپرگرکرتباہ ہوئے، حادثےسے قبل دونوں طیاروں سے پائلٹ باہرنکلنے میں کامیاب رہے،خبر سُن کر سوشل میڈیا صارفین نے بھارت کا تمسخر اُڑانا شروع کر دیا ہے، ائیر شو تو دور بھارتی فضائیہ کے طیارے ریہرسل کے دوران ہی گر کر تباہ ہو گئے جو بھارت کے لیے شرم کا مقام ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے والے بھارت سے اپنے دو طیارے تک سنبھالے نہیں گئے،بھارت کو چاہئیے کہ ہوش کے ناخن لے، اپنی قابلیت اور صلاحیت پر ایک نظر ڈالے اور اس کے بعد ہی پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے. ذرائع کاکہناتھاکہدونوں طیارے انڈین ائیر فورس کے بنگلور میں واقع ایک فوجی اڈے کے قریب گرے ، بھارت میں رواں سال کے دوران ائیر فورس کے طیاروں کے حادثوں کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔

February 19, 2019

امریکی صدر کیخلاف 16 ریاستوں نے مقدمہ درج کرادیا

جدت ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں عدم استحکام لانے لگے ، امریکی کی 16 ریاتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیخلاف مقدمہ درج کرادیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کےملک میں ایمرجنسی نافذکرنےکےفیصلےکیخلاف سولہ ریاستیں اکٹھی ہوگئیں ، ریاستوں کی جانب سے امریکی صدر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی بھی قرار دیدیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا اور مقدمہ بھی درج ہو گیا۔ نیویارک اورکیلیفورنیاسمیت دیگر 14 ریاستوں کے اتحاد نےصدرڈونلڈ ٹرمپ کےملک میں ہنگامی حالت نافذکرنےپرہرجانےکادعوی بھی کیاہے۔مقدمہ دائرکرنیوالی ریاستوں نے ٹرمپ کےاس اقدام کوغیرقانونی قراردیاہے۔کیلیفورنیاکےاٹارنی جنرل کاکہناہےکہ وہ امریکی صدر کو صدارتی اختیارات کاناجائز استعمال روکنےکیلئے عدالت لےکرجائیں گے۔
ریاستوں کامشترکہ موقف ہےکہ وہ یہ مقدمہ درج کرکےاپنےشہریوں، نیچرل ریسورسز اور معاشی مفادات کو ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں سے بچانے کی کوشش کررہےہیں۔
ریاستوں کاموقف ہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ نےیہ قدم میکسیکو کیساتھ سرحدی دیوار کیلئےفنڈز کی حصولی کی بجائےاپنے اختیارات بڑھانے کے لیے اٹھایاہے۔

February 18, 2019

کشمیر: پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران مقابلہ، بھارتی میجر سمیت 5 ہلاک

پلوامہ جدت ویب ڈیسک :بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں جاری سرچ آپریشن کے دوران مسلح مقابلے میں ایک میجر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک اوردو شہریو ں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فورسز نے مسلح افراد کی موجودگی پر علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن رات سے جاری تھا اور اس دوران بھارتی فورسز نے نہ صرف علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا بلکہ گھر گھر تلاشی بھی جاری تھی کہ صبح فائرنگ کا آغاز ہوا۔بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک میجر سمیت 4 انڈین فوجی زخمی ہوئے تھے، جنہیں آرمی کے 92 بیس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ‘فائرنگ گزشتہ شب آپریشن کے ابتدائی آدھے گھنٹے میں شروع ہوئی اور پھر تھم گئی، ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں سرچنگ کا عمل جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں پیر کی صبح فائرنگ کا دوبارہ آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا، مقامی افراد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاقے میں فریقین کی جانب سے شدید فائرنگ کی جارہی ہے۔ادھر ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حالیہ حملے میں ہلاک ہونے والے پانچوں بھارتی فوجی ہیں، جن میں ایک میجر بھی شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مشترکہ آپریشن بھارتی فوج کے 55 آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے کیا۔رپورٹ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت میجر ڈی ایس ڈونڈیل، ہیڈ کانسٹیبل سیو رام، آجے کمار اور ہری سنگھ کے ناموں سے کی گئی جبکہ گلزار محمد نامی فوجی واقعے میں شدید زخمی ہوا تھا تاہم اس نے ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ دیا۔واقعے میں متاثرہ مکان کے 2 مالکان، جہاں مسلح افراد کی موجوگی کی اطلاع تھی، جاں بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے پلوامہ کے علاقے میں ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ایک کشمیری نوجوان کو قتل کردیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقتول کی شناخت مشتاق احمد کے نام سے ہوئی ہے۔گزشتہ روز بھارت کی وزارت داخلہ نے 5 کشمیری حریت رہنماؤں، جن میں میر واعظ عمر فاروق، عبدالغنی بھٹ، بلال لون، ہاشم قریشی، فضل الحق قریشی اور شبیر شاہ شامل ہیں، کی سیکیورٹی واپس لے لی تھی۔خیال رہے کہ 14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طور پر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔بعد ازاں پاکستان نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے عناصر کو پاکستان سے جوڑنے کے بھارتی الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

February 17, 2019

مسلمانوں کو انتقامی کارروائیوںکا نشانہ بنا نا ہندو انتہا پسندوں کا پرانہ وطیرہ ہے‘ یاسین ملک

سرےنگر جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمےر مےںجموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے جموں اور بھارت کے مختلف شہروں مےںمسلمان کشمیریوں پر حملوں کی شدےدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوںکو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا انتہا پسند ہندئووں کا پرانا وطیرہ ہے۔ کشمےرمےڈےا سروس کے مطابق محمد ےاسےن ملک نے سرےنگر مےں جاری اےک بےان مےں کہاکہ جموں میں مقامی مسلمانوں اور کشمیریوں پرانتہا پسند ہندئووں کے حملے اور قابض انتظامیہ کی طرف سے حملہ آوروںکو کھلی چھوٹ دےنامجرمانہ فعل ہے۔انہوں نے کہاکہ 1947ئ میں انہی فسطائی طاقتوں نے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہےد کرکے جموں میں آبادی کے تناسب کو تبدےل کردےاتھا۔یاسین ملک نے کہا کہ جو کچھ جموں میںہورہا ہے وہ بے شرمی کی انتہا تو ہے ہی لیکن قابض انتظامیہ کی حمایت اور مدد اسے مزےد قبےح بنارہی ہے جس نے ہندو بلوایئوںکو کشمیریوں اور مقامی مسلمانوں کی جانوں،گھروں،دکانوں اور گاڑیوں پر حملوں کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان اپنے جموی مسلمان بھائےوںاور دوسری اقلیتوں کے تحفظ کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھاتے رہیں گے اور ہم جموں میں فساد پر اتر آئے فسادیوں اورفسطائی قوتوں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ فی الفوراپنی کارروائےں روک دےں کیونکہ اس کے نتائج ان کےلئے بھی اچھے نہیںہونگے۔انہوںنے کہا کہ جموں میں ہونے والی غنڈہ گردی پر وہاں کی سول سوسائٹی،لبرل اور ذی شعور طبقے کی خاموشی انتہائی تکلیف دہ ہے جو دراصل مجرمانہ غفلت اور اس غنڈہ گردی کی درپردہ حمایت کے مترادف ہے۔محمد ےاسےن ملک نے بہار،یو پی،ہماچل پردیش،ہریانہ،اتراکھنڈ،دہلی اور بنگلور سمےت بھارت کی رےاستوں اور شہروں مےںکشمیرےوں پر حملوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کشمیری طالب علموں، تاجروں، سرکاری ملازمین اور دےگر کشمےرےوں پر ایسے حملے کوئی نئی بات نہیں لیکن پلوامہ حملے کی آڑ میں جس طرح سے ان حملوں کے پیچھے بھارتی حکمرانوں کا ہاتھ اور ساتھ نظر آرہا ہے وہ انتہائی سفاکانہ اور شرم ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے جائز حق ، حق خودارادیت کےلئے جدوجہدکررہے ہیں اور وہ بھارتی ظلم وجبر کے باوجوداپنے اس حق اور جائز جدوجہد سے دستبردار نہےں ہونگے۔ محمد ےاسےن ملک نے تہاڑ جےل مےں نظربند حرےت رہنما فاروق احمد ڈار کے والد گرمی غلام رسول ڈار کی وفات پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے۔درےں اثنائ ہائی کورٹ باراےسوسی اےشن نے جموں اور بھارت کے مختلف شہروں مےںکشمیری مسلمانوں پر حملوں کیخلاف سرےنگر مےں ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلکس کے باہر اےک زبردست احتجاجی مظاہرہ کےا جس مےں سےنکڑوں وکلائ شریک تھے۔باراےسوسی اےشن کے جنرل سےکرٹری محمد اشرف بٹ نے اےک بےان مےں قابض انتظامیہ پر زور دےا کہ وہ جموں اور بھارت مےں مقےم کشمےری مسلمانوںکے تحفظ کو ےقےنی بنائے۔ انہوں نے خبردار کےا کہ اگر کشمےرےوں کو ہراساں کرنے ، انہےں تشدداور تذلےل کا نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ روکا گےا تو اس کے سنگےن نتائج نکلےں گے۔