May 22, 2018

شادی کی تقریب میں شہزادہ ولیم کے ساتھ خالی نشست کس کی تھی؟ شہزادہ ہیری یقینی طور پر اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو رہے تھے

جدت ویب ڈیسک ::شہزادی ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری اور امریکی اداکاری میگھن مارکلے کی شادی 19 مئی بروز ہفتے کو ہوئی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا عہد کیا۔ ۔ شادی کی تقریب میں شہزادہ ہیری کو آبدیدہ ہوتے اور آنسو بہاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، شہزادہ ہیری یقینی طور پر اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو رہے تھے اور ایسے میں اپنے بھائی کے ساتھ اپنی مرحومہ والدہ کے احترام میں ایک نشست خالی چھوڑنا یقیناً قابل تعریف ہے جس نے سوشل میڈیا صارفین کی آنکھوں کو بھی نم کر دیا۔
شادی کی تقریب معروف اور تاریخی ونڈسر کاسل میں منعقد کی گئی جس میں 600 افراد نے شرکت کی ۔شاہی شادی کی اس تقریب کو دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا۔ ونڈ سر کاسل جہاں مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وہیں شہزادہ ولیم کے ساتھ ایک کُرسی خالی دکھائی دی، شاہی شادی کی اس تقریب میں شہزادہ ولیم کے ساتھ موجود ایک خالی نشست نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔
اور سب کے ذہن میں یہی سوال اُبھرا کہ آخر یہ خالی نشست کس کی تھی۔ شاہی خاندان کے قریبی لوگوں اور کچھ رپورٹرز کا کہنا ہےکہ یہ نشست شہزادہ ہیری کی والدہ شہزادی ڈیانا سپنسر کے احترام میں خالی چھوڑی گئی تھیاس تصویر کو سوشل میڈیا پر ہزاروں مرتبہ شئیر کرکے شہزادہ ہیری کی اپنی والدہ شہزادی ڈیانا سپنسر کے لیے محبت اور احترام کو خوب سراہا گیا۔ شہزادہ ہیری نے شادی کی تقریب میں میگھن مارکلے کے لیے پھولوں کا گلدستہ بھی تیار کروایا جس میں انہوں نے اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کے پسندیدہ پھول بھی شامل کیے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری نے اپنی والدہ کی جیولری کلیکشن میں سے ہیرے کی انگوٹھی بھی میگھن مارکلے کو تحفے میں دی۔سوشل میڈیا پر یہ شاہی شادی ٹاپ ٹرینڈ رہی ۔ سوشل میڈیا صارفین نے طلاق یافتہ ، ذات سے باہر ، اور ایک اداکارہ سے شادی کرنے پر شہزادہ ہیری کو خوب سراہا۔ بالخصوص پاکستان میں اس شادی کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے رشتہ کروانے والی خواتین سمیت دیگر خواتین کو بھی ایک سبق دیا گیا کہ شہزادہ ہیری نے شاہی خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود ایک طلاق یافتہ اور عمر میں بڑی خاتون سے شادی کی ،کیونکہ طلاق یافتہ ہونا میگھن مارکلے کی غلطی نہیں ہے، ہیری نے میگھن کی سیرت سے پیار کیا اور انہیں اپنی شہزادی بنا لیا جو کہ قابل ستائش ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی شادی کی خوب دھوم مچی اور لوگوں نے اس نئے جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا

May 22, 2018

متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا،جانیے

دبئی ،جدت ویب ڈیسک ::متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے،جس کے بعد اب سرمایہ کاروں پروفیشنلز اور ان کے اہلخانہ کو 10 سالہ رہائشی ویزا مل سکے گا۔ملک میں کمپنیوں کی فارن آنر شپ سسٹم میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس سے عالمی سرمایہ کاروں کی طرف سے 100 فیصد مل سکے گا۔تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں اور پروفیشنلز اور ان کے اہلخانہ کیلئے 10 سالہ رہائشی ویزا کا اعلان کیا ہے ،ڈبلیو اے ایم کے مطابق کابینہ نے قومی معیشت میں صلاحیتوں کو راغب کرنے کیلئے ویزا سسٹم کا اعلان کیا ہے۔اجلاس میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زید النہیان ،نائب وزیر اور وزیر صدارتی امور شیخ منصور بن زید النہیان دیگر وزرا کے ساتھ موجود تھے۔ملک میں کمپنیوں کے فارن اونر شپ سسٹم میں تبدیلی کا بھی اعلان کیاگیا ،جس کے مطابق سال کے آخر میں گلوبل انوسٹرز کی جانب سے 100 فیصد حصول ہوسکے گا۔شیخ محمد بن راشد المختوم نے معیشت کت وزیر کو ہدایت دی کہ قرارداد پر عملدرآمد اور اسے جمع کرانے کیلئے رواں سال کے تیسرے کوارٹر میں کیا جائے۔قانون کے مطابق غیر ملکی عموماً کسی اماراتی فرم سے 49 فیصد سے زائد نہیں لے سکیں گے علاوہ یہ کہ وہ خصوصی فری زون میں شامل ہو۔
نئے ویزا سسٹم سے سرمایہ کاروں اور صلاحیت کاروں کو 10 سالہ رہائش مل سکے گی جس میں بالخصوص میڈیکل ،سائنٹیفک ،ریسرچ اور ٹیکنیکل فیلڈ ز کے ساتھ ساتھ تمام سائنسدانوں متحدہ عرب امارات میں پڑھنے والے طالبعلموں اور موجدوں کو پانچ سالہ رہائش مل سکے گی ،،متحدہ عرب امارات کے میڈیا کے مطابق 10 سالہ ویزا خصوصی طلبا کیلئے ہے۔۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ،وزیرا عظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم کی سربراہی میں کابینہ نے ابوظہبی میں صدارتی محل میں فیصلے کی منظوری دی۔

May 21, 2018

روہنگیا مسلمان محفوظ زون خالی کریں، ورنہ مقدمے کیلئے تیار ہوجائیں:میانمار سیکیورٹی فورسز

رنگو ن جدت ویب ڈیسک :میانمار سیکیورٹی فورسز نے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ساحلی پٹی âبفرزونá پر پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کو فوراً جگہ خالی کرنے کا حکم دے دیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق پناہ گزینوں نے بتایا کہ میانمار فوج نے دوبارہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات شروع کردیئے ہیں۔واضح رہے کہ میانمار فوج کے قتل و غارت سے بچ کر 6 ہزار پناہ گزین بنگہ دیش اور میانمار کی درمیان ساحلی پٹی پر آباد ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ تقریباً 7 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار فوج کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے بنگہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ چند ہزار کی تعداد نے دونوں ممالک کی سرحدوں کے درمیان بفرزون میں رہنے پر اکتفا کیا۔اس سے قبل فروری میں میانمار نے آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بفرزون میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش جانے پر مجبور نہیں کرے گا۔اس ضمن میں میانمار فوج نے اپنے چند اہلکاروں کو مذکورہ جگہ سے واپس بلایا تھا تاہم رواں ہفتے دوبارہ لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کا سسلسلہ شروع ہو گیا۔روہنگیا کمیٹی کے رہنما نے بتایا کہ ‘میانمار فوج کے اعلانات سے بفرزون میں مقیم پناہ گزینوں میں سخت تشویش پھیل گئی ہے’۔محمد عارف نامی شخص نے بتایا کہ ‘میانمار فوجیوں نے گزشتہ روز متعدد مرتبہ اعلان کیا اور اگلی صبح بھی اسی پیغام کو دوہرایا جس کی وجہ سے کیمپ میں افراتفریح پھیل گئی ہے اور لوگ بہت پریشان ہیں’۔میانمار فوجی کی جانب سے جاری اعلانات میں کہا جا رہا ہے کہ ‘میانمار کا یہ علاقہ فورا خالی کردو ورنہ مقدمے کا سامنے کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ’۔کمیپ میں رہائش پذیر دل محمد نے کہا کہ ‘ہم میانمار کے شہری ہیں، وہ ہمارے آباو اجداد کی زمین ہے اور ہمیں یہاں رہنے کا پورا حق ہے اور کیوں دوسری جگہ جائیں’۔اعلانات میں روہنگیا مسلمانوں کو ‘بنگالی’ کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے، میانمار کی قوم پرست بدھسٹ اکثریت روہنگیا کو ‘بنگالی’ قرار دیتے ہوئے انہیں بنگہ دیش کا شہری تصور کرتے ہیں۔

May 21, 2018

کشمیر کا مسئلہ اقتصادی پیکیج کا نہیں بلکہ ایک کروڑ 40 لاکھ لوگوں کے بنیادی حق کا مسئلہ ہے‘ سید علی گیلانی

سرےنگر جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمےر مےں کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چےئرمےن سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے آج تک دنیا میں کسی قوم کو اقتصادی ترقی اور مراعات کے عوض غلام نہیں بنایا جاسکا ہے اور جو لوگ ایسا سوچتے ہیں وہ یا تو تاریخ سے نابلد ہےں یا احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ سےد علی گےلانی نے سرےنگر مےں جاری اےک بےان مےں کہا کہ جموںو کشمیر کا مسئلہ اقتصادی پیکیج کا نہیں بلکہ ایک کروڑ 40 لاکھ لوگوں کے پیدائشی اور بنیادی حق، حق خودارادےت کا مسئلہ ہے جس کا وعدہ بھارت کے حکمرانوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے ساتھ کیا ہے۔انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بیان پر کہ ہر مسئلے کا حل اقتصادی ترقی ہے ، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت ہماری سڑکوں پر سونا چاندی بچھا دے اور ہیرے جواہرات کے محل تیار کرے ، جموںو کشمیر کے عوام تب بھی بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہابھارتی وزیر اعظم نے حقائق سے چشم پوشی کرکے تاریخ کو جھٹلانے کی ناکام کوشش کی ہے کےونکہ جتنی اقتصادی ترقی انگریزوں اور مغلوں کے دور میں ہوئی ہے، بھارت ستر سال بعد بھی آج انہی اقتصادی اور تعمیری شاہ کاروں کی وجہ سے جانا اور پہچاناجاتا ہے، اس کے باوجو د بھارت مےں انگرےزوں کے خلاف آزادی کی تحرےک چلی۔ حریت چیئرمین نے کہا کروڑوں روپے کے منصوبے شروع کرکے ہم پر احسان جتایا جارہا ہے اورغاصب طاقتوں کے مقامی حاشیہ بردار پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ ہم ان بندگانِ شکم سیاستدانوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ڈرامے بھارت یہاں گزشتہ سات دہائیوں سے دہرارہا ہے اور ایسی مکارانہ چالوں سے حقائق تبدیل نہیں ہوا کرتے۔

May 21, 2018

مقبوضہ کشمیر: آزادی پسند رہنمائوں کی برسیوں کے موقع پر مکمل ہڑتال:سرینگر میں کرفیو

سرینگر جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمیر میں ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر آج مکمل ہڑتال ہے جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے مزار شہدائ عید گاہ سرینگر کی طرف مارچ کوناکام بنانے کیلئے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ہڑتال اور مارچ کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے شہید رہنمائوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دی ہے۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔ کشمیر یونیورسٹی اوراسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ نے آج منعقد ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کردیئے ہیں۔بارہمولہ سے بانہال تک ریل سروس بھی معطل ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو مارچ سے روکنے کیلئے سرینگر شہر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہے اورکرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں۔ عوامی مجلس عمل کے دفتر کی طرف جانیوالے تمام راستیں بند ہیں جبکہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی مقامات کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجاز ت نہیں ہے ۔ بھارتی فورسز کی گاڑیاں شہر میںگشت کر رہی ہیں جبکہ جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ خار دار تاریںبچھا دی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک،محمد اشرف صحرائی اور دیگرکو گھروں یا جیلوں میں نظر بند رکھا۔

May 20, 2018

جموں وکشمیر کو جنگ کے میدان میں تبدیل کردیا گیا ہے ‘یاسین ملک

سرینگر جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمےر مےں جموںوکشمےر لبرےشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ ایک طرف کشمیریوں کو قتل اور زخمی کرنے، بینائی سے محروم کرنے اور سیاسی سرگرمےوں پر پابندی عائد کرکے جےلوں مےں ڈالنے کا عمل جاری ہے اور دوسری طرف ان مظالم پرپردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کیلئے بھارتی وزیراعظم کے دورئہ کشمیر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔کشمےرمےڈےا سروس کے مطابق محمد ےاسےن ملک نے سرےنگر مےں جاری اےک بےان مےں کہا کہ جموں وکشمیر کو جنگ کے میدان میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں روزانہ معصوم بچوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال کرکے وادی کشمےر میںقبرستان کی خاموشی بپا کی جارہی ہے۔یاسین ملک نے مثالی ہڑتال اور احتجاج پر کشمیریوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پرامن احتجاج کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز اورپولیس کے اقدامات ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہیں جو کشمیرمیں جاری جدوجہد آزادی کو عوامی تحریک نہیں مانتے۔ بھاتی فورسز نے گزشتہ روز لالچوک کی طرف مارچ کرنے پرجموں وکشمےر لبریشن فرنٹ کے متعدد رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کرلےا جن مےںمحمد صدیق شاہ، شیخ عبدالرشید، بشیر احمد کشمیری ،غلام محمد ڈار ، شیخ محمد اسلم، محمد حنیف ڈار، امتیاز احمد ڈار، فیاض احمد لون، امتیاز احمد گنائی،بشارت احمد بٹ اور دےگر شامل ہےں۔ محمد ےاسےن ملک نے پارٹی رہنما شہےد اشفاق مجےد وانی کو شاند ار خراج عقےدت پےش کےا ہے جو 1990ئ مےں 3رمضان المبارک کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہےد ہوئے تھے۔

May 20, 2018

یورپی ممالک کی ایران کو ’امریکا کے بغیر‘ جوہری معاہدے کی یقین دہانی

تہران جدت ویب ڈیسک :یورپی یونین کے ادارہ برائے توانائی اور ماحولیات کے سربراہ نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باوجود یورپی ممالک اس معاہدے کو جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں۔گزشتہ روز کمشنر برائے توانائی یورپین،ماحولیات میگل اریاس کینیٹ نے ایرانی دارالحکومت تہران کا دورہ کیا اور ایرانی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کیا،اپنے دورے پر انہوں نے ایرانی حکام سے کہا کہ 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین ایرانی تیل کی درآمد کنندہ ہے،اور ہمیں امید ہے کہ ایران کےساتھ تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ایرانی دوستوں کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ اگر وہ اس معاہدے کو پورا کریں گے تو یورپی ممالک بھی اپنے وعدے پورے کریں گے۔دوسری جانب اس موقع پر ایرانی نیوکلیئر چیف علی اکبر صلاحی نے کہا کہ ہم اپنے تجارتی لین دین کو بڑھانے کی کوشش کریں گے جو ایرانی معیشت کیلئے اہم ثابت ہوتا رہا ہے،تہران، یورپی ممالک کی جانب سے 2015 میں ہونےوالے معاہدے کو جاری رکھنے سے متعلق پْر امید ہے۔علی اکبر صلاحی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یورپی ممالک کی کوششیں رنگ لائیں گی تاہم امریکا کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ عالمی معاہدوں میں ایک قابلِ اعتماد ملک نہیں۔انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ تہران کو اس کی خواہش کے مطابق گارنٹی دینے میں پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس معاہدے کو ایران کو اپنے جوہری پروگرام روکنے کے لیے اہم قرار دیا تھا لیکن انہوں نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام کو ختم کرے۔اگر یورپی ممالک اس معاہدے کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر وہ 20 فیصد یورینیم کی افزائش کو دوبارہ شروع کردے گا۔یورپی ممالک کے پاس اپنے وعدے کا پاس رکھنے کے لیے صرف چند ہفتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگئے تو پھر ایران اپنے انتہائی آپشن کی جانب چلا جائےگا۔واضح رہے کہ اس معاہدے میں ایران نے اپنے اوپر مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 مئی کو ایرانی معاہدے سے انخلا کے اعلان کے بعد یورپی ممالک نے کہا تھا کہ ایرانی تیل اور سرمایہ کاری کو جاری رکھیں گے۔