September 24, 2020

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی میں مزید ایک کشمیری نوجوان شہید

سرینگر: جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فورسز نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا جب کہ سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع بڈگام، گاندربل، کپواڑا، بارہ مولہ، باندی پورہ، اننت ناگ، شوپیاں، کلگام، کشتوار، راجوڑی، پونچھ اور سمیر سمیت دیگر اضلاع میں بھی قابض افواج کی جانب سے سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے لیکر اب تک قابض بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور 5 کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں جب کہ گزشتہ ماہ بھارتی افواج کی ریاستی دہشتگردی میں 20 کشمیری شہید ہوئے تھے۔

September 23, 2020

آئندہ ماہ لیبر قوانین میں ترمیم کی ایک بڑی خوش خبری دیں گے۔سعودی نائب وزیر برائے انسانی وسائل

اسلام آباد: سعودی نائب وزیر برائے انسانی وسائل نے کہا ہے کہ اقاموں کی میعاد بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا اور آئندہ ماہ لیبر قوانین میں ترمیم کی ایک بڑی خوش خبری دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب جانے والے مسافروں کو ٹکٹ کے حصول میں مشکلات، محدود پروازوں کی وجہ سے نشستوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں اضافے کے سلسلے میں زلفی بخاری نے سعودی نائب وزیر برائے انسانی وسائل سے ویڈیو لنک رابطہ کیا۔

معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے سعودی نائب وزیر سے ویزے کی میعاد کی تاریخ 30 اکتوبر 2020 تک بڑھانے اور ایئر لائنز کو مزید فلائٹس کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پروازوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ ہوا، کارکنوں کا بہت دباؤ ہے جو واپس سعودی عرب جانا چاہتے ہیں، لیکن پروازوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ورکرز پھنس چکے ہیں، اس لیے سعودی ایئر کیریئر اور پی آئی اے کو پروازیں بڑھانے دیں۔

زلفی بخاری نے درخواست کی کہ اقامے کی مدت میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع کی جائے، جس پر سعودی نائب وزیر عبداللہ بن نصیر نے وزارتی اجلاس میں پروازوں اور اقاموں کا معاملہ اٹھانے کا وعدہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ وزارت تجارت، داخلہ اور انسانی وسائل کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاؤں گا، 25 فی صد نشستیں خالی چھوڑنے کی وجہ سے پروازوں پر بوجھ ہے، جلد تمام نشستوں پر مسافروں کو آنے کی اجازت ہوگی۔

سعودی نائب وزیر نے کہا ریکارڈ کا جائزہ لے کر اقاموں کی میعاد بڑھانے کا فیصلہ کریں گے، آئندہ ماہ لیبر لا میں ترمیم کی ایک بڑی خوش خبری بھی دیں گے۔

September 23, 2020

بڑی خوشخبری ۔عمرہ کے حوالے سے سعودی عرب کا بڑا اعلان

ویب  ڈیسک  ::سعودی عرب نے عمرہ اور زیارات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقامی لوگ4اکتوبرسےعمرہ ادا کرسکیں گے۔
عمرہ مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اندرون مملکت سے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو عمرہ اور زیارت کی اجازت ہوگی۔سعودی حکومت نےکوروناکےباعث عمرہ کی ادائیگی معطل کردی تھی لیکن اب سعودی وزارت داخلہ نے عمرہ کی ادائیگی کے پہلےمرحلےکےآغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ کورونا وائرس کی تازہ صورتحال کے پیش نظر سعودی قیادت نے عمرہ اور زیارت کی اجازت دی ہے۔
شاہی فرمان کے مطابق دیگرممالک کے مسلمان یکم نومبرسےعمرہ ادا کرسکیں گے۔ پہلے مرحلے میں4 اکتوبر سے6ہزار سعودی شہریوں اور وہاں مقیم افراد کوعمرے کی اجازت ہوگی۔روزانہ چھ ہزارعمرہ زائرین کو مسجد الحرام جانے کا موقع دیا جائے گا۔ اس موقع پر حفظان صحت کی تدابیر کی پابندی کرائی جائے گی۔
دوسرے مرحلے میں سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو عمرہ، زیارت اور نمازوں کی اجازت ہوگی۔ روزانہ 15 ہزارعمرہ زائر اور چالیس ہزار افراد مسجد الحرام میں نماز ادا کرسکیں گے۔ مسجد نبوی کی گنجائش کے 75 فیصد تک نمازیوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔
تیسرے مرحلے کی شروعات یکم نومبر 2020 پندرہ ربیع الاول سے ہوگی۔ اس دوران سعودی شہریوں اور مملکت کے اندر اور باہر سے غیرملکیوں کو عمرہ، زیارت اور نمازوں کی اجازت دی جائے گی۔
اس مرحلے میں روزانہ 20 ہزار زائر عمرہ کرسکیں گے اور 60 ہزار کو مسجد الحرام میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع مہیا ہوگا۔
چوتھے مرحلے میں عمرہ اور زیارات کو مکمل کھول دیا جائے گا۔ یہ اجازت اس وقت دی جائے گی جب متعلقہ حکام وبا کے خطرات ختم ہوجانے کا فیصلہ کرلیں گے۔
عمرہ اور زیارت اجازت ایسے ممالک کے باشندوں کو دی جائے گی جن کے متعلق سعودی وزارت صحت یہ فیصلہ دے گی کہ وہاں کورونا کی وبا کے حوالے سے صحت کے لیے خطرات ختم ہوگئے ہیں۔
September 18, 2020

ترک صدر پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کیخلاف سازش کررہے ہیں، انڈین میڈیا

 

استنبول: ایک اور بھارتی بھونڈا مذاق ،کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے پر بھارتی میڈیا نے پاکستان اور ترک صدر کے خلاف پراپیگنڈا مہم شروع کردی ہے جس میں صدر طیب اردوان کی ایما پر ترکی میڈیا میں پاکستانی اور کشمیری صحافیوں کو شامل کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں بھارت کے ایک بڑے میڈیا گروپ زی نیوز نے پراپیگنڈے سے بھرپور ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 15 اگست کو ترکی خبررساں ادارے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی کشمیر کے حریت پسند رہنما کی بیٹی کا مضمون بھارت کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔
بھارتی نیوز چینل نے خارجہ امور کے ماہرین کے حوالے سے یہ الزام بھی لگایا کہ صدر طیب اردوان ترکی میں اسلام پسند حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے ترکی میڈیا میں اسلامی شدت پسندوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔اس رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ بھارت کو بدنام کرنے کے لیے پاکستان خاص طور پر ترک میڈیا میں صدر اردوان کی حمایت سے ایسے تربیت یافہ پاکستانی صحافیوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے جو بالخصوص کشمیر سے متعلق ایسی رپورٹ کرتے ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر بھارت کا تاثر خراب ہو۔
اس حوالے سے ترکی کے نیوز چینل سے وابستہ صحافی حسن عبداللہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھارتی میڈیا کے دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ادارے میں 100 سے زائد غیر ملکی صحافی کام کرتے ہیں جن میں پاکستانی اور بھارتی صحافیوں کی تعداد برابر ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں کام کرنے والے کئی بھارتی صحافی اس بات کا اعتراف کرتےہیں کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامی ہیں۔ لیکن ان صحافیوں کی سیاسی وابستگی کی بنا پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا جب کہ بھارت کو ترکی میڈیا میں اسلام پسندوں کے کام کرنے پر بہت اعتراض ہے اور گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی سوشل میڈیا پر صدراردوان کے خلاف پراپیگنڈا جاری ہے۔
واضح رہے اس سے قبل بھی بھارت کے حکومتی وسفارتی اور میڈیا کے حلقوں کی جانب سے ترکی کی جانب سے کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی تائید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بالخصوس گزشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی بھارتی اقدام کی ترک صدر کی جانب سے دو ٹوک مذمت پر بھارتی میڈیا میں ان کے خلاف منفی خبریں اور تنقیدی مضامین شائع کیے گئے۔

September 18, 2020

برطانوی حکومت کا دوبارہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کرنے پر غور۔کرونا وائرس کی نئی لہر برقرار

لندن: کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، برطانوی حکومت نے کورونا کیسز کی دوسری لہر کے پیش نظر دوبارہ ملک گیر لاک ڈاؤن پر غور شروع کردیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکرٹری صحت میٹ ہینکوک نے میڈیا بریفنگ کے دوران برطانیہ میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کا امکان ظاہر کیا۔
برطانوی سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ کورونا کے بڑھتے کیسز کے خلاف آخری آپشن کے طور پر ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا جاسکتا ہے۔
تاہم سیکرٹری صحت نے اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ اب ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران برطانیہ کو کس طرح بند کیا جائے گا۔واضح رہے کہ برطانیہ میں اس وقت کورونا کیسز کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار سے زائد ہے اور 41 ہزار سے زائد افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے جو ضروری ہوا حکومت وہ کرے گی اور وائرس پر قابو پانے کے لیے پہلی لائن یہ ہے کہ ہر شہری سماجی فاصلے کی پالیسی پر عمل کرے۔
سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ ملک کا کنٹیکٹ ٹریسنگ سسٹم اچھے طریقے سے کام کررہا ہے، وائرس کی روک تھام کے لیے دوسری لائن مقامی لاک ڈاؤنز ہیں جب کہ آخری لائن ملک گیر ایکشن ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے لیکن اس عالمگیر وبا کی انتہائی مشکل صورتحال میں عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے جو ضروری ہوگا ہم وہی کریں گے۔
میٹ ہینکوک نے مزید کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن ایسی چیز نہیں جسے ہم اپنی حکمت عملی سے نکال دیں لیکن یہ ایسا بھی نہیں کہ ہم اسے دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ یہ دفاع کی آخری لائن ہے کیونکہ اس وقت ملک کو ایک بار پھر متحدہ ہونے اور اس سنجیدہ چیلنج کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ وائرس پھیل رہا ہے۔
برطانوی سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے نہ صرف کیس بڑھ رہے ہیں بلکہ اسپتال میں لوگوں کے مرنے کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، اس لیے ملک گیر لاک ڈاؤن آخری لائن ہے مگر ہم قومی سطح کے لاک ڈاؤن کو نظر انداز کرکے مقامی ایکشن چاہتے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ملک میں کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے شمال مشرقی علاقوں میں نئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جب کہ برطانیہ کی 65 ملین کی آبادی میں اب بھی 11 ملین سے زائد افراد مقامی طور پر نافذ کی گئی پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں جن میں برمنگھم، مانچسٹر، شمال مشرق، لانرکشرے اور لیسٹر کے علاقے کے شہری شامل ہیں۔

Could there be a second lockdown? If restrictions in Scotland could tighten again as coronavirus cases continue to rise | The Scotsman

Will UK Have a Second Lockdown? Matt Hancock Refuses to Rule It Out - Bloomberg

September 17, 2020

چین سرحد پرپنجابی گانے بجا کرہمارے فوجیوں کی توجہ ہٹارہا ہے، بھارتی میڈیا

لداخ ویب ڈیسک ::: لداخ میں جاری کشیدگی میں ایک دل چسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ چین بھارت کے فوجیوں کی توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پر لاؤڈ اسپیکر میں پنجابی گانے بجارہا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پینگانگ جھیل کے نزدیک علاقے میں چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگا دیے ہیں اور بھارتی فوجیوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ان پر بلند آواز میں پنجابی گانے چلائے جاتے ہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوج نے خاص طور پر ایل اے سی کی اس چوکی پر پنجابی گانے بجانا شروع کیے ہیں جہاں بھارت نے مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ مئی سے دونوں ممالک کے مابین لداخ کے علاقے میں انتہائی کشیدہ صورتحال پائی جاتی ہے جس کے دوران بھارت کے 20 فوجی بھی مارے جاچکے ہیں۔