April 3, 2020

دنیا بھر میں کرونا وبا کے مریض 10 لاکھ، ہلاکتوں کی تعداد 53 ہزار تک جا پہنچی

برسلز/انقرہ/تہران:جدت ویب ڈیسک :عالمی وبا کرونا وائرس سے دنیا بھر میں 10 لاکھ سے زائد افراد بیمار ہوگئے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 53 ہزار سے بڑھ گئی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانس میں گزشتہ روز کرونا وائرس سے مزید 1355 اور اسپین میں 961 اموات کا اعلان کیا گیا جس کے بعد دنیا بھر میں چوبیس گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار ہوگئی۔ عالمگیر وبا کی زد میں آنے والے مریضوں کی تعداد دس لاکھ اور اموات کی تعداد 52 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔امریکا میں روزانہ بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔ مزید 25 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور 700 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس وقت ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 5800 سے زیادہ ہے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق اٹلی میں گزشتہ روز 760 اموات ہوئیں۔ اٹلی میں کل ہلاکتیں 13915 اور اسپین میں 10348 ہوگئی ہیں۔ اٹلی میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار اور اسپین میں ایک لاکھ 12 ہزار ہوچکی ہے۔برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 569، بیلجیم میں 183، جرمنی میں 176، نیدرلینڈز میں 166 اور ایران میں 124 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 5387، ایران میں 3160، برطانیہ میں 2921، نیدرلینڈز میں 1339، جرمنی میں 1107 اور بیلجیم میں 1011 تک پہنچ گئی ہے۔کئی دوسرے ملکوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں ترکی میں 79، سویڈن میں 69، برازیل میں 57، سوئزرلینڈ میں 48 اور کینیڈا میں 47 اموات شامل ہیں۔ جرمنی میں مریضوں کی تعداد 84 ہزار، فرانس میں 59 ہزار، ایران میں 50 ہزار اور برطانیہ میں 33 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ سوئزرلینڈ اور ترکی میں تعداد 18 ہزار، بیلجیم میں 15 ہزار، نیدرلینڈز میں 14 ہزار اور کینیڈا اور آسٹریا میں 11 ہزار ہے۔چینی حکام کے مطابق ان کے ملک میں گزشتہ روز 6 ہلاکتیں ہوئیں اور 35 نئے کیس سامنے آئے۔ اس طرح کل ہلاکتیں 3318 اور مجموعی کیسز 81589 ہیں جو اب چار ملکوں سے کم ہیں۔دنیا بھر میں کرونا وائرس کے 10 لاکھ سے زیادہ متاثرین میں 2 لاکھ 10 ہزار ایسے لوگ شامل ہیں جو مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔ 52 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔ باقی 7 لاکھ 44 ہزار افراد اب بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں جن میں سے 37 ہزار کی حالت تشویش ناک ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دوسری جانب اس خطرناک بیماری سے دنیا بھر میں 2 لاکھ 8 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئیں جبکہ سب سے زیادہ مریض امریکا میں ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

April 2, 2020

مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں میں تاحکم ثانی 24گھنٹے کے لیے کرفیو نافذ

ریاض: سعودی عرب نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں میں تاحکم ثانی 24گھنٹے کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔
سعودی عرب میں اب تک 1700 افراد متاثر اور 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کرفیو کے دوران کچھ اہم افراد کو گھروں سے نکلنے اور گھانے پینے کی اشیا اور ادویہ خریدنے کی اجازت ہو گی۔
سعودی عرب میں جمعرات سے کرفیو نافذ ہو چکا ہے اور اگلا حکم آنے تک کرفیو نافذ رہے گا۔خبر رساں ادارے العریبیہ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں شہروں کے مکین کرفیو کے دوران میں اپنے گھروں اور اقامت گاہوں ہی میں رہیں گے اور صرف صبح 6 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک سوداسلف، خوراک کی اشیاء اور ادویہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں مگر انہیں اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے بھی اپنے اپنے علاقوں تک محدود رہنا چاہیے۔اعلامیے میں کہا گیاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان دونوں شہروں میں گاڑی میں صرف ایک شخص کو سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔

3کروڑ آبادی کے حامل ملک سعودی عرب میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چند انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں جہاں بین الاقوامی فلائٹس کی بندش، عوامی مقامات کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ عمرے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

April 2, 2020

اٹلی میں نرسوں کو کرونا وائرس لگنے کا کوئی خطرہ نہیں

روم: اٹلی کے ایک اسپتال میں ایسی نرسوں نے کام شروع کر دیا ہے جنھیں کرونا وائرس لگنے کا کوئی خوف نہیں، یہ نرسیں بلا خوف و خطر کو وِڈ نائنٹین میں مبتلا مریضوں کے علاج میں ڈاکٹرز کی مدد کر رہی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا کے مریضوں کا علاج اب روبوٹ کریں گے، ڈاکٹروں کو مریض کے قریب جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، اٹلی کے علاقے لمبارڈی کے شہر وریز کے سرکولو اسپتال میں کرونا مریضوں کے علاج کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ نرسیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
یہ نرسیں نہ صرف مریض کا طبی معائنہ کریں گی بلکہ اسے دوا بھی کھلائیں گی، اور اس کا پورا طبی ڈیٹا بھی محفوظ کرتی جائیں گی، اس طرح طبی عملہ بھی وائرس کی منتقلی سے محفوظ رہے گا۔
مذکورہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسسکو دنتالی کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ نرسیں بچوں کے قد جتنی ہیں، ان کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں، جب یہ پہیوں پر مریضوں کے کمرے میں جاتی ہیں تو ڈاکٹر ان مریضوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کی حالت زیادہ تشویش ناک ہوتی ہے۔

Tommy the robot nurse helps keep Italy doctors safe from ...
ان روبوٹس کے چہرے ٹچ اسکرین پر مبنی ہیں جس پر مریض ڈاکٹرز کے لیے اپنا پیغام ریکارڈ کرا سکتے ہیں، ان میں سے ایک روبوٹ کو ٹومی کا نام دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اٹلی میں 4 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز کرونا مریضوں کے علاج کے دوران وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں 66 ڈاکٹرز اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اب تک اٹلی میں وائرس سے ……………..13,155.   افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔Tommy the robot nurse helps keep Italy doctors safe from ...

April 2, 2020

آسٹریلیا بھی کرونا کی وبا کو روکنے کی عالمی دوڑ میں شامل, کرونا وائرس ویکسین کی جانچ کا عمل شروع ہو گیا

میلبورن:ویب ڈیسک :: آسٹریلیا نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ایک مؤثر ویکسین کی کلینکل ٹیسٹنگ سے قبل کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی قومی سائنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے کووِڈ نائنٹین کے لیے مؤثر ویکسین کی جانچ کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا ہے، اور اس طرح آسٹریلیا بھی کرونا کی وبا کو روکنے کی عالمی دوڑ میں شامل ہو گیا۔
کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن (CSIRO) کے مطابق 2 مؤثر ویکسینز کی یہ پری کلینکل ٹیسٹنگ فیرٹس (بڑی قسم کا ایک نیولا) پر کی جا رہی ہے، اس جانچ کے پہلے مرحلے میں تین ماہ لگیں گے، ریسرچ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر راب گرینفل کا کہنا تھا کہ نتائج نکلنے کے بعد بھی کوئی بھی ویکسین اگلے سال کے اخیر سے پہلے عوام کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے گی۔
انھوں نے اسکائپ پر دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہم بدستور 18 ماہ کے عرصے کے لیے پرامید ہیں کہ اس عرصے میں ویکسین عام صارفین کے لیے فراہم کر سکیں، ہمیں بہت سارے تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے، ہمارے سائنس دان قابل ذکر رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ وہ پری کلینکل ٹیسٹنگ کے مرحلے تک 8 ہفتوں میں پہنچے ہیں، جس تک پہنچنے کے لیے عموماً 2 سال لگتے ہیں۔
راب گرینفل کا کہنا تھا کہ انسانوں پر ایک یا دونوں ویکسینز کی جانچ کا آغاز رواں ماہ کے آخر میں یا اگلے ماہ کے شروع میں ہونے کی توقع ہے۔ ریسرچ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جو جانچ کی جا رہی ہے اس میں ویکسین کے استعمال کا طریقہ کار بھی شامل ہے، یہ دیکھا جائے گا کہ بازو کے مسل میں اور ناک میں اسپرے کے طور پر اس کی افادیت کتنی ہوگی۔

Australian researchers race to find coronavirus vaccine

April 1, 2020

شام، حمص کے الشعیرات فوجی اڈے پر اسرائیلی طیاروں کی بم باری

دمشق جدت ویب ڈیسک :شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہاہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے حمص میں قائم شامی فوج کے الشعیرات فوجی اڈے پر 8میزائل گرائے۔ دوسری طرف شامی فوج نے جوابی کارروائی کے طورپر اسرائیلی طیاروں پر فائرنگ کی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیرین آبزر ویٹری نے بتایاکہ شام پر حملے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے لبنان کی فضاء استعمال کی۔قبل ازیں چھ فروری کو اسرائیل نے شام میں الکسوہ شہر میں قائم شامی فوج کے بریگیڈ 91 اور المزہ عسکری ہوائی اڈے پر بریگیڈ ہیڈ کواٹر 75 میں قائم ایک ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا جس میں متعدد شامی فوجی اور ایرانی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔انسانی حقوق گروپ کے مطابق حمص میں قائم الشعیرات فوجی اڈے پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ فوجی اڈے پر قائم ملٹری تنصیبات سے آگ اور دھوئیں کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے ۔سیرین آبزر ویٹری کا کہنا تھاکہ شامی ڈیفنس فورس نے متعدد میزائل فضاء ہی میں تباہ کیے مگر بعض اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔