August 2, 2017

کراچی کی تباہی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اہم کردار

سندھ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی نے اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دےکر شہر کا حلیہ بگاڑ دیا‘ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کی کاردکردگی پرسوالیہ نشان
کراچی زلزلہ کی فالٹ لائن پر ہونے کے سبب انگریز نے بھی دومنزلہ سے اونچی عمارت نہیں بنائی‘ سندھ حکومت کاغیرقانونی تعمیرات کیخلاف اقدام سے گریز
کراچی _رپورٹ ٭قمرالرحمن خان_سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے قوائدو قوانین کی خلاف ورزیوں اور اندھا دھند بلند و بالا عمارتوں کے اجازت ناموں کا اجرا حکومت سندھ کیلئے شرمندگی و مشکلات کا سبب بن رہا ہے جبکہ ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کے اعلی افسران کی کاردکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے ، سپریم کورٹ نے کثیر المنزعمارتوں کی عمارات سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اپنی آبزوریشن میں قرار دیا ہے کہ پورے شہر میں کاغذوں کی طرح اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دے کر شہر کا ستیا ناس کر دیا ہے ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران آنکھیں بند کر کے کمائی کر رہے ہیں،جنہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت بھی کوئی اقدام کرنے کو تیار نہیں ، پہلے غربیوں کو آگے رکھ کر قبضہ کیا جاتا ہے اور پھر بلند وبالا عمارتیں قائم کر دی جاتی ہیں ۔ واضح رہے کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بلند عمارتوں پر پابندی لگادی تھی، یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کراچی چونکہ زلزلہ کی مین فالٹ لائن پر آباد ہے اس لئے انگریز کے دور میں بھی شہر میں دومنزلہ سے زیادہ اقونچی عمارتیں تعمیر نہیں کی گئیں۔ فاضل عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عمارتوں سے متعلق پالیسی پر چیف سیکرٹری سندھ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران و دیگر مدعلیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل بنچ نے کراچی رجسٹری میںلیاری میں ایو کیو ٹرسٹ کی عمارت پر قبضہ اور تعمیرات کی اجازت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گراونڈ پلس ون سے اوپر تعمیرات کی ہیں آپ کے خلاف فوجدار ی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے ٹھیکیدار نے جواب دیا کہ اس عمارت پر پہلے گینگ وار نے قبضہ کیا ہوا تھا آپریشن کے بعد گینگ وار والے چلے گئے تھے اس عمارت کا ایک ٹھیکیدار کو گینگ وار والوں نے مار دیا تھا دوسرا بھاگ گیا تھا میں نے تزئین و آرائش کا کام کیا تھاجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت اتھارٹی اور پولیس کا کام تھا کہ وہ روکتے لیکن انہوں نے پیسے کھا لیے اگر پیسے کھائے ہیں تو واپس کرنے ہوں گئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ لیاری کا مسئلہ نہیں ہے بلوچ کالونی ،گلشن اقبال ،دہلی کالونی خالد بن ولید روڈ سمیت دیگر جگہوں پر چلے جائیں تو پتہ چلے گا کہ کاغذوں کی طرح عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں پھر غیر قانونی طریقے سے بلند و بالا تعمیرات کی اجازت دی گئی پورے شہر کا ستیاناس کر دیا گیا ہے جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے یہاں پر تعمیرات ہو رہی ہے اس موقع پر عدالت میں موجود تمام سرکاری افسران خاموش ہو گئے