October 31, 2017

ایک پاکستانی ارب پتی بزنس مین کیسے بنا ؟؟

جدت ویب ڈیسک:دنیا میں امیر ترین مانے جانے والے بیشتر افراد کا تعلق امریکہ سے ہے اور پوری دنیا میں اس وقت سینکڑوں افراد اس فہرست میں شامل ہیں۔دنیا کا مشہور و معروف میگزین Forbesاپنے ٹائٹل پر انہی افراد کو شائع کرتا ہے جو ایک خاص معیارکے اثاثہ جات رکھتے ہوں اور یہ بات بھی مشہور ہے کوئی فرد اس وقت تک ارب پتی تصور نہیں کیا جاتا جب تک وہ اس میگزین کے ٹائٹل کی زینت نہ بنے۔ اس میگزین کے جنوری 2017کو شائع ہونے والے شمارہ میں دنیا کے 400امیر ترین افراد کی لسٹ بھی شائع کی گئی جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت بھی موجود تھی جس کی زندگی واقعی امتحانات اور معرکوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے وہ مقام حاصل کیا جس کا تصور بھی ناممکن ہے اور جس کو سننے کے بعد ہر محب وطن کو ان پر رشک ہوگا۔ اس شخصیت کو آج دنیا شاہد خان کے نام سے جانتی ہے اسی میگزین کی رپورٹ میں انہیں امریکہ میں 84ویں جبکہ پاکستان کے پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر ان کی ریکنگ 360ہے۔ شاہد خان نے 1950میں لاہور کے ایک متوسط طبقہ کے گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کے آبا و اجداد فن تعمیر کے شعبہ سے منسلک تھے ۔ شاہد خان انتہائی کم عمری میں اسٹڈی ویزہ پر امریکہ چلے گئے اور دیار غیر میں شروع کے ایام بڑی ہی کسمپری میں گزارے،سب سے پہلی جاب ایک چھوٹے سے ہوٹل میں لگی جس کی اجرت انہیں 1.2ڈالر ملتی تھی جو 120پاکستانی روپے بنتے ہیں جہاں یہ ڈش واش کیا کرتے تھے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہاں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا ملازم اور کہاں امریکی ریاست کا ملٹی بلینر… یہ سفر کس قدر کٹھن،دشوار اور مشکل رہا ہوگا۔ انہوں نے یہ نام شہرت اور دولت کیسے کمائی اس کو جان کر جہاں ایک طرف آپ کا سر فخر سے بلند ہوگا تو وہیں آپ میں ایک نیا حوصلہ اور جذبہ اور کچھ کرنے کی لگن پیدا ہوگی۔شاہد خان نے 1967میں انتہائی کم عمری میں امریکہ کیلئے رخت سفر باندھا جب یہ محض 16سال کے تھے۔ ان کی والدہ شعبہ تدریس سے وابستہ تھیں اورریاضی پڑھاتی تھیں۔ ابتدائی ایام انتہائی پریشان کن تھے۔ شاہد خان کے مطابق جب وہ امریکہ آئے تو ان کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو وہ چند ڈالرز کی نوکری کرتے اور آئندہ کی زندگی انہی چند ڈالرز کی نذر کردیتے جبکہ دوسرا آپشن یہ تھا کہ اپنی تعلیم جاری رکھتے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کوئی باعزت شعبہ حاصل کرتے۔ یہاں آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ امریکہ میں غیر مقامی طلبہ کے لئے تعلیم شروع سے ہی انتہائی مہنگی رہی ہے مگر ان تمام ترحالات کے باجود انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی،ان کے سامنے دو انتہائی دشوار گزار مرحلے تھے یعنی ایک جانب تو اجرت انتہائی کم جبکہ دوسری جانب تعلیم انتہائی مہنگی،مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور یونیورسٹی آف ریلینوائس کالج آف انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا اور یہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ FLAX N GATE نامی ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی یہاں گاڑیوں کے اسپئر پارٹس تیار کئے جاتے تھے۔ شاہدخان نے 1971ء میں گریجویشن مکمل کی تو اس کمپنی میں ان کی ترقی ہوگئی اور یہ ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز ہوگئے،نوکری کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ پک اپ ٹرکس کیلئے کسی کمپنی نے آج تک ون پیس بمپر تیار نہیں کیا اور سفر کے دوران دیگر کمپنیوں کےدو تین ٹکڑوں پر مشتمل یہ بمپر کھل کر ناکارہ ہوجاتے، لہٰذا انہوں نے کمپنی سے استعفیٰ دیا اور اسمال بزنس کارپوریشن سے پچاس ہزار ڈالر لون لے کر 1978میں اپنا کاروبار شروع کیا اور ون پیس بمپر بنانے لگے۔ ان کا آئیڈیا کامیاب ہوا اور ان کی کمپنی کے تیار شدہ بمپر بہت جلد مشہور ہوگئے اور یہ مقبولیت اس درجہ پر تھی کہ انہوں نے محض دو سالوں میں جس کمپنی میں دوران طالب علمی ملازمت کیا کرتے تھے وہ خرید لی،جی ہاں FLAX N GATEنامی کمپنی انہوں نے 1980میں خرید لی اور امریکہ کی تین بڑی آٹو موبائل کمپنیوں کے آرڈر تیار کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہرت مزید بڑھی اور دنیا کی مشہور و معروف کمپنی TOYOTAنے1984 میں ان کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرلیااور 1987تک ٹویوٹا پک اپس کیلئے ون پیس میں بمپر بنانے والی ان کی واحد کمپنی تھی جبکہ 1999 میں انہیں ٹویوٹا کی تمام گاڑیوں کے بمپر بنانے کا آرڈر مل گیا۔یہ واقعی ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور وہ امریکی صنعتکاروں کی فہرست میں اوپر آتے چلے گئے۔ 2011کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی کمپنی میں 12ہزار سے زائد ملازمین برسرروزگار تھے جبکہ مینوفیکچر نگ پلانٹس کی تعداد 48تھی-2011 میں ہی انہوں نےامریکہ کا ایک بہت بڑا JAGUARS فٹبال کلب 76کروڑ ڈالر میں خرید لیاجوکہ امریکی کی قومی فٹبال لیگ ہے۔Forbesمیگزین نے 2012ستمبر کے شمارہ کے ٹائٹل پر انہیں شائع کیا اور انہیں دنیا کے ارب پتیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نےلندن کےایک بڑافٹ بال کلب2013کو 200ملین یورو کی خطیر رقم سے خریدا ۔ 66سالہ شاہد خان فلوریڈا میں رہائش پذیر ہیں ان کا نک نیم شاد خان ہے۔تعلیمBsمیکینکل انجینئرنگ جبکہ کل اثاثہ جات 8.6ارب امریکن ڈالرز ہیں جن کی مالیت 9کھرب 21ارب روپے بنتی ہے جبکہ اس میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔شاہد خان کے حالات زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات کیسے ہی ہوں مناسب سمت کا تعین کرنے کے بعد انتہائی لگن او ر محنت سے اس پر چلنے سے بالآخر کامیابی ہمارے قدم ضرور چومتی ہے ۔ امید ہے آپ کو رپورٹ پسند آئی ہوگی،مزید دلچسپی اور معلوماتی رپورٹس کیلئے ہماری سائٹ کو سبسکرائب کریں اور اچھی اچھی پوسٹیں اپنے دوستوں سے بھی شیئر کیجئے۔

October 28, 2017

ایک ان پڑھ کیسے میڈیکل کی دنیا کا استاد مان لیا گیا

جدت ریسرچ ڈیسک:دنیا حیران تھی کہ ایک ان پڑھ انسان کو جس نے کبھی اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی اسے میڈیکل کی دنیا کی سب سے بڑی ڈگری سے کس طرح نواز دیا گیا…اور وہ بھی کسی معمولی یونیورسٹی سے نہیں بلکہ دنیا کی جانی مانی یونیورسٹی جہاں سب سے پہلے دل کی سرجری(بائی پاس آپریشن)کی گئی اس نے ایک سیاہ فام کو”ماسٹرآف میڈیسن“کی اعزازی ڈگری سے نوازا تھاجو نہ صرف دنیا بھر بلکہ میڈیکل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ہر ہر شخص کو حیران کرنے کیلئے کافی تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ دنیا کے پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ جو کہ دنیا کے مشہور سرجن مانے جاتے ہیں یورسٹی نے آڈیٹویم میں آئے اور ایک عجیب و غریب اعلان کیا،اعلان کیا تھا!!…ہم آج ایک ایسی شخصیت کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دینے جارہے ہیں جس نے کئی سرجن پیدا کئے اور یہ کوئی عام استاد نہیں بلکہ ایک ماہر اور حیران کن سرجن ہیں جس نے پوری میڈیکل سائنس اور ماہر اساتذہ کو متاثر کیا ہے اور جب انہوں نے اعزاز پانے والی شخصیت کا نام”ہیملٹن“پکارا تو وہاں پر موجود ہر ایک شخص چاہے وہ اساتذہ تھے یہ طلباء سب نے کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیاایسا استقبال شاید ہی یونیورسٹی کے کسی اور استاد کیا گیا ہوگا۔  ایک واقعی ایک دلچسپ اور سب آموز واقعہ ہے جو کہ بہت پرانا بھی نہیں بلکہ ابھی ہمارے دور ہی کی بات ہے ہیملٹن کا تعلق سنیٹانی سے ہے جو کہ کیپ ٹائون سائوتھ افریقہ کے کا ایک دور دراز علاقہ ہے ۔ اس کا تعلق ایک چرواہے خاندان سے تھا جو کہ بچپن میں سارا سارا دن پہاڑوں پر ننگے پیر بکریاں چراتا اور بکری کی کھال کی اس کا پوشاک تھی۔ اس کے والد کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور اسے مجبوراً بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹائون محنت مزدوری اور پیسے کمانے کی غرض سے آنا پڑا۔ ان دنوںآج دنیائے سائنس میں ممتاز حیثیت رکھنے والی کیپ ٹائون کی یونیورسٹی کی تعمیر کا کام شروع تھا لہٰذا وہ مزدوری کی غرض سے یونیورسٹی میں بھرتی ہوا اور محنت مزدوری کرنے لگا اور جو پیسے وہ کماتا وہ گھر بھیج دیتا ۔ اپنا گزر بسر چنے کھا کر کرتا اور رہنے کیلئے یونیورسٹی کے گرائونڈ میں سو جاتا۔ اس نے برسوں اسی طرح گزار دیئے اور جب تعمیر کا کام ختم ہوا تو اس کی محنت اور لگن دیکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے اسے بطور مالی رکھ لیا ۔ لیکن اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا جب اسے یہ ملازمت اختیار کئے تین سال ہوئے تھے کہ وہ اچانک مالی سے اتنے بڑے رتبے پر فائز ہوگیا۔ جی ہاں!آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ ایک روز وہ اپنے کام (گھاس کی کٹائی)میں مصروف تھا۔ پروفیسر رابرٹ جوئز ایک تحقیق کی غرض سے زرافہ کا آپریشن کررہے تھے انہوں نے آپریشن ٹیبل پر اے لٹا رکھا تھا لیکن بیہوشی کے باوجود زرافہ آپریشن کے دوران گردن ہلانے لگا جس کے باعث انہیں محسوس ہوا کہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے کہ جو اس کی گردن مضبوطی سے تھامے۔ پروفیسر ایسے شخص کی کھوج میں آپریشن تھیٹر سے باہر آیا اور اس کی نظر مضبوط بدن کے مالک ہیملٹن پر پڑی،ڈاکٹر رابرٹ نے انہیں آواز دی اور اپنے ساتھ آپریشن تھیٹر میں لے گئے جہاں انہیں گردن پکڑ نے کا کہا اور وہ خاموشی سے گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ آٹھ سے دس گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے کئی وقفے کئے مگر وہ گردن تھامے کھڑا رہا اور آپریشن کے اختتام پر پھر جاکر اپنے کام میں لگ گیا۔ اس دن کے بعد سے یہ کام بھی س کے معمول کا حصہ بن گیا وہ روز آٹھ سے دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں گزارتا اور مختلف جانوروں کو پکڑ کر رکھتا اور ڈاکٹر اپنی تحقیق میں مصروف رہتے۔ وہ کئی مہینے تک ایسے ہی ڈیوٹی سرانجام دیتا رہا۔ پروفیسر رابرٹ کو ان کی مستقل مزاجی نے بڑا متاثر کیااور انہوں نے اسے ”لیب اسسٹنٹ“بنادیا۔ وہ روز یونیورسٹی آتااور سیدھے آپریشن تھیٹر پہنچ جاتا اور وہاں محققین کی مدد میںلگ جاتا ۔  1958ء میں ڈاکٹر برنارڈ اس یونیورسٹی سے منسلک ہوئے اور یہ ہیملٹن کی زندگی میں ایک اہم موڑ لے کر آئے ،انہوں نے یونیورسٹی میں دل کی سرجری اورمنتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ وہ ہیملٹن ان کے ساتھ بطور اسسٹنٹ بن گئے۔ اور کئی سال کے تجربے کے بعد وہ ایڈیشنل سرجن بن گئے،اب ڈاکٹر ز آپریشن کرتے اور ٹانکے لگانے کی ذمہ داری ان کی ہوتی وہ انتہائی مہارت اور صفائی سے ٹانکے لگاتے، ان کے ہاتھ میں کافی صفائی اور پھرتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک دن میں پچاس پچاس مریضوں کو ٹانگے لگادیتے۔ ان کے ذوق و شوق اور لگن کی بدولت انہیں انسانی جسم کا وہ علم حاصل ہوچکا تھا کہ وہ جونئر ڈاکٹرز کو سمجھانے لگے اور انہیں یونیورسٹی میں ایک اہم مقام حاصل ہوگیا،گوکہ وہ میڈیکل کی پیچیدہ اصلاحات سے ناواقف تھے لیکن اس کے باوجود 1970میں جگرکی منتقلی پر تحقیق کے دوران انہوں نے ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس سے جگر کی منتقلی انتہائی آسان ہوگئی اور اس سے بڑے بڑے سرجن ناواقف تھے۔ آج اگر دنیا میں کوئی مریض جگر کی پیوند کاری کے بعد آنکھ کھولتا ہے تو اس کا سہرا مسٹر ہیملٹن کو جاتا ہے۔ ہیملٹن نے یہ مقام اپنی مستقل مزاجی،دوسروں سے ہمدردی اور اخلاص کی بدولت ایک ایسا مقام حاصل کیا جو آج تک میڈیکل سائنس کی دنیا میں کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوا۔ 50سال کی ملازمت میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی بلکہ وہ رات کے پچھلے پہر 3بجے اٹھتا اور طویل فاصلہ پیدل طے کرکے یونیورسٹی پہنچتا۔ وقت کا ایسا پابند تھا کہ لوگ اس کے اوقاتِ کار سے اپنی گھڑیاں ملاتے ۔ کبھی اوقاتِ کار کی طوالت اور سہولتوں کی کمی کا شکوہ نہیں کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی مراعات اور تنخواہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے کئی گنا زیادہ ہوگئیں۔ وہ میڈیکل سائنس کی تاریخ کا پہلا ان پڑھ استاد ہے جس کے 30ہزار سے زائد شاگرد آج پوری دنیا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہیملٹن کا انتقال 2005ء میں ہوا انہیں وہیں یونیورسٹی کے احاطے میں دفن کیا گیا ہے اور یونیورسٹی سے پاس آئوٹ ہونے والے طلبہ پر لازم ہے کہ وہ ڈگری کے حصول سے قبل ان کی قبر پر جاکر تصویر بنوائیں تو ہی انہیں ڈگری جاری کی جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں ان نے اس قدر بلند مرتبہ کیسے پایا…اگر پہلے دن آپریشن تھیٹر بلائے جانے پر وہ انکار کردیتا اور یہ عذر ظاہر کردیتا کہ یہ کام میرا نہیں میں تو مالی ہوں تو شاید مرتے دم تک مالی ہی رہتا۔ اس کی ایک ہاں اور چند گھنٹوں کی اضافی مشقت اور جستجو اور لگن نے اس پر ایسی کامیابی کے دروازے کھولے کہ وہ ان پڑھ ہونے کے باوجود استادوں کا استاد بن گیا اور مرنے کے بعد بھی آج اس کا نام اور اس کا کام زندہ ہے۔ ہم میں سے بیشتر کا المیہ یہی ہے کہ زندگی بھر نوکری تلاش کرتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر جاب”نوکری“کا کوئی نہ کوئی معیار طے ہوتاہے اور اس کیلئے مخصوص افراد ہی درکار ہوتے ہیں کہیں کہیں صرف ایک ہی درکا ہوتا ہے جبکہ کام کرنے کیلئے محض لگن،جستجو اور خلوص چاہئے ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نوکری کے عوض آپ کو محض تنخواہ ہی ملتی ہے جبکہ کام کی صورت میں آپ کو وہ مقام ملتا ہے جس کے آگے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی کچھ نہیں ہوتی ۔ امید ہے آپ کو تحریر پسند آئی ہوگی، اپنے دوستوں سے ضرور شیئر کریں اور مزید دلچسپ خبروں کیلئے ہمارے پیج کو Subscribeکیجئے

October 6, 2017

دُنیا کا سب سے مہنگا زہر کہا ں سے ملتاہے؟جانیے اس رپورٹ میں

جدت ویب ڈیسک : بچھو کا زہر دنیا میں سب سے مہنگا ہے۔ڈیتھ اسٹاکر کہلانے والے اس خطرناک ترین بچھو کا تعلق بچھوؤں کے خاندان ’’بوتھائی ڈی‘‘ سے ہے جبکہ اسے اسرائیلی اور فلسطینی بچھو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے خطرناک بچھو ہے جسے لیوریئس کوانکوسٹیریئس کا نام اس کی دم پر موجود 5 حصوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ اس کا رنگ پیلا ہوتا ہے اور یہ 30 سے 77 ملی میٹر تک لمبا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ بچھو شمالی افریقا اور وسطی ایشیا کے ریگستانوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ بچھو اپنے قیمتی زہر کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس کے ایک لیٹر زہر کی قیمت تقریباً 10.5 ملین ڈالر (1 ارب 10 کروڑ 63 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ یعنی اس کا صرف ایک گیلن تقریباً 5 ارب 15 کروڑ روپے کا ہوتا ہے۔تاہم خطرناک ہونے کے ساتھ اس بچھو کا زہر بہت کارآمد بھی ہےدنیا کا سب سے مہنگا زہر بچھوؤں کی ایک قسم ’’لیوریئس کوانکوسٹیریئس‘‘ میں پایا جاتا ہے جسے جان لینے والا بچھو بھی کہتے ہیں۔ اگرایک بار کوئی اس بچھو کے زہر کا نشانہ بن گیا تو اسے بچانا نہایت مشکل ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل گریوٹز کے مطابق اس زہر کا استعمال بہت سی طبی تحقیقات اور علاج میں کیا جا رہا ہے۔ اس زہر میں کچھ ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو درد کش ادویہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ 2013 میں شائع ہونے والی فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بچھو کا زہر کینسر والے خلیوں کو بننے سے روکتا ہے۔سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زہر جسمانی اعضا کی محفوظ منتقلی میں بھی معاون ہوتا ہے۔ کئی بار جسم میں اعضا کی پیوند کاری پر انسانی جسم انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس زہر میں تبدیلی کر کے، بہت ہی معمولی مقدار میں جسم کے اندر داخل کیا جائے گا جس کے بعد یہ سیدھا مدافعتی نظام پر عمل کرے گا اور مصنوعی اعضا مسترد ہونے کا امکان کم ہوجائے گا۔اس کے علاوہ یہ زہر ہڈیوں کی بیماریوں میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی جسم میں ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اس طرح کام نہیں کر پاتیں جیسے ایک نوجوان کے جسم میں ہڈیاں کام کرتی ہیں۔ لہٰذا اس زہر کو استعمال کرکے ہڈیوں کے کمزور ہونے کا عمل سست رفتار بنایا جاسکتا ہے۔ 2011 میں کیوبا کے ایک 71 سالہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ لیوریئس کوانکوسٹیریئس قسم کے کچھ بچھوؤں سے انہوں نے خود کو کٹوایا تھا۔ جیسے ہی بچھوؤں کا زہر اس کے جسم میں داخل ہوا، اس کے سارے درد غائب ہوگئے۔ان بچھوؤں کا زہر نکالنے کےلیے لیبارٹری میں انہیں کرنٹ دیاجاتا ہے جس کے باعث بچھوؤں کا زہر ان کے ڈنک میں آجاتا ہے جسے ایک بوتل میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ تاہم یہ عمل بہت پیچیدہ ہے اور ایک وقت میں ایک بچھو کے ڈنک سے صرف ایک بوند زہر نکلتا ہے۔ اس صورت میں ایک لیٹر زہر نکالنے کےلیے تقریباً 1000 سے زائد بچھو درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان بچھوؤں کے ایک لیٹر زہر کی قیمت 110 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔واضح رہے کہ اس زہر کا اثر براہ داست دماغ پر ہوتا ہے اور اسی خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس زہر پر مزید تحقیق جاری ہے۔ دماغ اور اعصاب پر اثر کرنے والے زہروں کو ’’نیورو ٹاکسنز‘‘ کہا جاتا ہے جو ہلاکت خیز ہونے کے ساتھ ساتھ علاج میں مفید بھی ثابت رہتے ہیں، بشرطیکہ انہیں احتیاط سے اور بہت ہی کم مقدار میں استعمال کیا جائے۔

October 3, 2017

چونکا دینے والی عجیب و غریب قسم کی منشیات پوری دنیا میں تیزی سے پھیل کرلوگوں کو آدم خوربنا رہی ہے،جانیے

جدت ویب ڈیسک :ایک عجیب غریب قسم کی منشیات پوری دنیا میں تییزی سے پھیل کر لوگوں کو آدَم خور بنا رہی ہے جس نے کچھ عرصے میں ہمارے ہوش ہوس کو چونکا دیا ہے . لوگوں کے آدَم خور بننے کی باتیں اب کوئی ناقص افسانہ نہیں رہی . یہ سب حیقیقت اختیار کرتا جا رہا ہےزومبی ڈرگ اِس بات کا عبرت ناک نشان ہے کہ لوگ ‘Say no to drugs’ کے نعرے کیوں لگاتے ہیں اور اِس سے مکمل پرہیز کے بارے میں کیوں کہا جاتا ہے . مونشیات کا عادی ہونا ویسی ہی انسان کو مفلوج کر دیتا مگر اِس سے تو انسان تباہی کے دھانے پہ کھڑے ہیں . ” فلاکا ” چین میں تیار ہونے والی ایسی منشیات ہیں جو پوری دنیا میں کثیر تعداد میں فروخت ہو رہی ہے . یہ ایک سخت مادا بیلوار ہے جو عموما سفید یا پنک رنگ میں اور بدبو دَر ہوتا ہے . اِس کے اثرات نے پوری دنیا کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے . مختلف دنیا بھر میں موصول ہونی والی ویڈیوز میں لوگوں پر اثرات دیکھ کر انسان خوف زدہ ہو جاتا ہے . لوگ اِس نشے کو لے کر عجیب غریب حارکتیں کرنے لگتے ہیں .یہ منشیات لوگوں پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟۔۔۔۔۔منشیات تو پہلے ہی انسان کے لیے زہر ہوتی ہیں لیکن زومبی ڈرگ(منشیات) تو ہلاکت خیز ہے . دنیا بھر سے لوگ اِس عجیب نشے کے بارے میں تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں اور ہر کوئی اِس کے پیچھے پاگل نظر عطا ہے . چونکی پاکستان میں بھی مانشیاات کی خرید فروخت بہت زیادہ ہوتی ہے تو ایسا ممکن ہے کے ہمیں خبر ہونے سے پہلے یہ نشہ پاکستان میں بھی داخل ہو جائے یہ نشہ کرتے ہی انسان کے دِل کی دھڑکنیں بہت تیز ہو جاتی ہیں . احساسات بہت تیز ہو جانے کے ساتھ ساتھ وہ دیماجی طور پر سن ہو جاتے ہیں . وہ اپنے پس ہونے والے واقیاات کو سن سکتے ہیں دیکھ سکتی ہیں لیکن دماغ بند ہو جاتا ہے . اِس نشے سے مستقل طور پر دماغی توازن خراب بھی ہو سکتا ہے . یہ نشہ انسان کے اندر موڈ پر اثر کرنے والے نیورونس پر حملہ کر کے ان کو مفلوج کر دیتا ہے . مزید یہ دِل کے دوڑے (heart-attack) کا سبب بھی بن سکتا ہے یا یہ لوگوں کو آدَم خور بنا دیتا ہے .ویڈیو یہاں دیکھیں:

Posted by Humberto Pecina on Friday, September 29, 2017

September 29, 2017

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج سیاحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے

کراچی جدت ویب ڈیسک :سیاحت کا عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد سے 1970 سے ہر سال 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش، آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے، سیاحوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اور جدید سہولیات پیدا کرنے، سیاحوں کے تحفظ ، نئے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی سمیت دیگر متعلقہ امور کو فروغ دینا ہے۔پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ملک ہے۔ا گر یہاں سیاحت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو صرف سیاحت ہماری معیشت میں ایک بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کے باوجود اب بھی پاکستان کے شمالی علاقوں میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد جاری ہے جو پاکستان کے سحر انگیز اور دیو مالائی قدرتی حسن کا ثبوت ہےکے ٹو پہاڑ، چترال کا علاقہ، گورکھ ہل، ہنگول پارک،کھیوڑہ کی نمک کانیں ، مری ایوبیہ، کاغان ناران ،،جھیل سیف الملوک ،ٹھنڈیانی، ہڑپہ ، دیوسائی، صحرائے تھر،موہنجوداڑو، کے علاوہ اور بے شمار ایسے علاقے ہیں جن کو دیکھ کے بندہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے

September 28, 2017

یونیسکوکی حیرت انگیز رپورٹ بچے سکولوں میں تو ہیں لیکن کچھ نہیں سیکھ رہےکیوں؟

جدت ویب ڈیسک :اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے چھ بچے اور 20 برس سے کم عمر کے نوجوان سیکھنے کے عمل میں مہارت کی بنیادی سطح تک پہنچنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو’’حیرت انگیز‘‘ قرار دیا ہے جو سیکھنے کے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔تعلیم کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کی توجہ زیادہ تر خصوصاً افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے کے غریب ممالک یا پھر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں تک رسائی نہ ہونے پر رہی ہے۔لیکن یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تازہ تحقیق نے سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے 60 کروڑ سے زیادہ بچوں میں ریاضی اور مطالعے کی بنیادی مہارت نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں 88 فیصد بچے اور نوجوان بالغ ہونے تک مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں 81 فیصد افراد خواندگی کی مناسب سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے عزائم آبادی کو خواندہ بنائے اور شمار کیے بغیر پورے نہیں ہو پائیں گے۔شمالی امریکہ اور یورپ میں صرف 14 فیصد جوان افراد اپنی تعلیم اس انتہائی نچلی سطح پر چھوڑتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سکول جانے والے صرف 10 فیصد بچے ایسے ترقی یافتہ خطوں میں رہتے ہیں۔یونیسکو انسٹیٹیوٹ آف سٹیٹسٹکس کی ڈائریکٹر سلویا مونٹویا کہتی ہیں ‘ان میں سے زیادہ تر بچے اپنی کمیونٹیز اور حکومت کی نظروں سے پوشیدہ یا کہیں الگ نہیں ہوتے بلکہ وہ کمرہ جماعت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے اس پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک ویک اپ کال ہے۔سکولنگ ود آؤٹ لرننگ’ کا مسئلہ عالمی بینک نے بھی رواں ہفتے جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں اٹھایا ہے۔اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے تھے جو انھیں کم تنخواہوں والی اور غیر محفوظ نوکریوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔عالمی بینک کے صدر جم یونگ کِم نے رپورٹ کو متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں ناکامیاںاقتصادی اور اخلاقی بحران کی نشاندہی ہیں۔تحقیق کاروں نے کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا اور نکاراگوا کے طالبعلموں کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ وہ آسان جمع تفریق نہیں کر سکتے اور سادہ جملے بھی نہیں پڑھ سکتے۔ان کے مطابق جاپان کے پرائمری سکولوں میں شاگردوں کی بنیادی مہارت 99 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن مالی میں یہ شرح صرف سات فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق ممالک کے اندر بھی وسیع پیمانے پر خلیج موجود ہے۔ کیمرون میں پرائمری سکول کے اختتام پر صرف پانچ فیصد غریب لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں امیر گھروں کی 76 فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔عالمی بینک کی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایسی خراب کارکرگی کا سبب ہیں۔ اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں طالب علم ایسی حالت میں سکول آتے ہیں جس میں سیکھا نہیں جا سکتا۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کئی طلبا خوراک کی کمی کا شکار اور بیمار ہوتے ہیں۔ محرومیاں اور ان کی گھریلو زندگی میں غربت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے بغیر ہی سکول آنا شروع کر دیا ہے۔ تدریس کے معیار کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ بہت سے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے چند ممالک میں اساتذہ کا غیر حاضر رہنا بھی ایک مسئلہ تھا جو کہ اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے منسلک ہے۔عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ پال رومر کا کہنا ہے کہ ایمانداری سے اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے بچوں کے سکول میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قابل قدر انداز میں سیکھ بھی رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تسلیم کیا جائے کہ ‘تعلیم کے بارے میں حقائق نے تکلیف دہ سچ سے پردہ اٹھایا ہے۔رپورٹ میں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی کمی اور طلبا کی کامیابیوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ایسے وقت میں جب مغربی ممالک میں بہت زیادہ جانچ پڑتال کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے، عالمی بینک کہتا ہے کہ غریب ممالک میں ‘سیکھنے کے بارے میں پیمائش بہت کم ہے، بہت زیادہ نہیںلیکن تحقیق کاروں نے ان ممالک کی بھی نشاندہی کی ہے جنھوں نے پیش رفت کی ہے۔ ان ممالک میں جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں تعلیم پر خرچ کرنے کے بین الاقوامی سطح پر وعدے کیے گئے ہیں۔فرانس کے صدر امینول میخواں کا کہنا تھا کہ ‘میں نے طے کرلیا ہے کہ تعلیم کو فرانس کی ترقی اور خارجہ پالیسی میں سب سے پہلی ترجیح رکھوں گا۔برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے تعلیم کے سفیر گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم پر عالمی شراکت داری چاہتے ہیں جو تعلیمی منصوبوں پر امداد کو سہل بنائے۔ اس کے لیے سنہ 2020 تک دو ارب ڈالر ہونے چاہییں۔یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے انسانی امداد کے بجٹ کا آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہوگا۔ایجوکیشن ابوو آل فاؤنڈیشن، یونیسیف اور دیگر فلاحی اداروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شام میں ایسے بچوں کی تعلیم پر اضافی چھ کروڑ ڈالر خرچکریں گے جنھوں نے لڑائی کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا ہے۔گورڈن براون کا کہنا ہے کہ’ہمارے تعلیمی اہداف کے لیے فنڈنگ کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت ایک بچے کو ڈیسک پر بٹھانے کے، اس سے مواقع اور امید کے دروازے کھلیں گے

 

 

September 27, 2017

مستقبل میں پلاسٹک کی بوتلوں سے کیا بنایا جائے گا،جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک :دراصل پلاسٹک ایک ایسا مادہ ہے جسے ختم ہونے یا زمین کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ماحول، صفائی اور جنگلی حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سڑکیں عام سڑکوں کے مقابلے میں بارش اور ہیٹ ویو کے موقع پر زیادہ پائیدار ثابت ہوسکتی ہیں جب شدید گرمی کے موسم میں تارکول سے بنی سڑکیں پگھلنے لگتی ہیں۔بھارت میں اب تک اس مٹیریل سے 21 ہزار میل کی سڑکیں بنائی جا چکی ہیں اور سڑکوں کی تعمیر کے معاملے میں اب یہ بھارتی حکومت کی پہلی ترجیح بن چکی ہےپلاسٹک ہمارے کرہ ارض کو جس قدر نقصان پہنچا رہا ہے بدقسمتی سے اسی قدر پلاسٹک بنایا بھی جارہا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارے شہر اور سمندر پلاسٹک کے کچرے سے آلودہ ترین ہوچکے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 26 کروڑ 90 لاکھ ٹن پلاسٹک کی اشیا بنائی جاتی ہیں جو عموماً ایک بار استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر سے استعمال شدہ پلاسٹک کو ختم کرنے کے منصوبوں کے بارے میں سوچا جارہا ہے اور اس ضمن میں بھارت ایک نئے منصوبے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔بھارت میں ضائع شدہ پلاسٹک سے سڑکیں بنائی جارہی ہیں۔اس منصوبے کے تحت کچرا اٹھانے والوں کو پلاسٹک جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے جس سے شہروں کی صفائی میں مدد مل رہی ہے۔ اس کے بعد اس پلاسٹک کو پگھلا دیا جاتا ہے۔بعد ازاں اسے تعمیراتی کمپنیوں کو فراہم کردیا جاتا ہے جہاں پر اس میں مختلف اشیا بشمول تارکول کی آمیزش کر کے ایک نئی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔

September 27, 2017

رواں برس کے اگلےتین ماہ میں موسم سرما کی معمول کی بارشوں میں کمی کاخدشہ، پانی کی قلت کاامکان

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک :: پاکستانی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس کے اگلے 3 ماہ میں موسم سرما کی معمول کی بارشوں میں کمی کا خدشہ ہے جس کے باعث رواں برس پاکستان میں پانی کی قلت واقع ہوسکتی ہے۔اس بارے میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ اکتوبر تا دسمبر ہونے والی موسم سرما کی بارشیں رواں برس نہیں ہوں گی، تاہم وہ اتنی نہیں ہوسکیں گی کہ وہ ملک کے اہم ذرائع آب کو بھر سکیں۔۔ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ رواں برس پاکستان میں موسم کے پیٹرن میں نہایت غیر معمولی رد و بدل دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں برس مون سون کا آغاز جون سے ہی ہوگیا اور موسلا دھار بارشیں شروع ہوگئیں جبکہ ہر سال بارشوں کا آغاز جولائی سے ہوتا ہےانہوں نے مون سون کے آخری سائیکل کے بارے میں بتایا کہ جب یہ پاکستان میں داخل ہوا اس وقت بہت کمزور ہوچکا تھا، بصورت دیگر یہ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی تباہی مچا سکتا تھا جیسی تباہی اس نے بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں مچائی ڈاکٹر غلام رسول نے یہ بھی بتایا کہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں تاحال ہیٹ ویو کی صورتحال ہے جبکہ صوبہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت تاحال 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ان کے مطابق ستمبر کے آغاز سے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں معمولی بارشیں ہوں گی جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان کے علاقوں میں معمول سے بھی کم بارشیں ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں 22 اور 23 ستمبر کو بارشوں کا امکان ہے تاہم ان کے علاوہ ملک کا دیگر حصہ خشک اور گرم رہے گا۔محکمہ موسمیات نے اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پانی کی دستیابی و فراہمی کے نظام میں خاص احتیاط کریں تاکہ ممکنہ قلت آب سے بچا جا سکے۔

 

 

 

 

September 26, 2017

ماہرین نے ایسا خوفناک اعلان کر دیاہےکہ سن کر پاکستانیوں کے ہوش اڑجائیں گے۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ

کراچی جدت ویب ڈیسک :بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے اس لئے روز بروز تنگ کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے ،پاکستانی دریاؤں پر سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر پاکستان کو بے آب و گیاہ، چٹیل میدان بنانے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے اور اب اس حوالے سےماہرین نے ایسا خوفناک اعلان کر دیا ہے کہ سن کر پاکستانیوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”2025ءتک پاکستان کے پانی کے ذخائرانتہائی معمولی رہ جائیں گے اور اسے بدترین خشک سالی کا سامنا ہوگا۔ یہ ہولناک پیش گوئی پاکستان کونسل آف ریسرچ فار واٹر ریسورسز نے اپنی نئی رپورٹ میں کی ہے۔کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پانی کی انتہائی کمی کی لائن کو 1990ءمیں ہی چھو چکا ہے اور اب 2025ءمیں یہاں پانی نایاب ہو جائے گا ۔اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان پانی کے استعمال کے حوالے سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن پانی کے صرف ایک ذریعے دریائے سندھ اور بارش پر انحصار کرتا ہے۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کی اکثریت کو پانی دستیاب نہیں اور وہ اس کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔واٹراینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیئرمین شمس الملک کا کہنا ہے کہ ”پاکستان میں پانی کے حوالے سے کوئی پالیسی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ جو لوگ پالیسی بنانے کے ذمہ دار ہیں وہ پانی پر پالیسی کی بات آئے تو اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے، پاکستان اللہ کے نام اور کلمہ کی بنیاد پر بناہے اسلیئے یہ ہندو مافیا پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے