September 16, 2017

صفر کا استعمال سب سے پہلے کب ہوا دلچسپ معلومات

لندن جدت ویب ڈیسک آکسفورڈ یونیورسٹی میں تیسری صدی کی ایک دستی تحریر میں صفر کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے تحقیق کے مطابق تحریر موجود نقاط کو ’صفر‘ کا پہلا استعمال قراردیا گیا ہے۔اس نسخے سے ہی محققین کو اس بات کا علم ہوا کہ صفر کا ہندسہ ان کےے اندازے سے بھی 500 سال پہلے سے استعمال کیا گیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق بوڈلیان لائبریری کے سائنسدانوں نے کاربن ڈیٹنگ کےذریعے قدیم بھارتی خطِ طومار سے اس بات کا اندازہ لگایا۔جو کہ برچ کی چھال پر موجود ہے جو پشاور کےقریبی علاقے بخشالی سے 1881میں دریافت ہوا اور اسی حوالے سے اسے بخشالی مسودہ کہا جاتا ہے۔جبکہ یہ مسودہ آکسفورڈ کی بوڈلیان لائبریری میں 1902 سے موجود ہے۔ ریاضی کے پروفیسر مرکس دو ساؤتے کے مطابق اس تحقیق کو ریاضی کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ان کے مطابق تیسری صدی میں ہی بھارت کے ریاضی دانوں کے ہاں یہ خیال پایا جاتا تھا جو آگے چل کر جدید دنیا کےلیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔اگرچہ بخشالی مسودے میں قدیم ترین ریاضی تحریر کا تصور پایا جاتا ہے تاہم اس کی عمر کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔بخشالی مسودے سے پہلے بھی بھارتی گوالیار مندر کی دیوار پر کندہ تحریر میں صفر ہندسہ کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ نویں صدی میں درج کئے گئے۔ قدیم تہذیبوں سمیت مایا میں بھی صفر کا استعمال ملتا ہے پہلے یہ نقطہ کے طور پر استعمال ہوتاتھا جو بعد میں صفر کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔لائبریرین رچرڈ اوونڈین یہتحقیق برصغیر کی زرخیز اور دیرینہ سائنسی روایت کی گواہی دیتے ہیں‘ ۔

September 16, 2017

میانمار طاقتور ملکوں کے ہتھیاروں کی منڈی !!

میانمارجدت ویب ڈیسک پوری دنیا میں ہر جگہ مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے مشاہدے میں ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کے دعویدار ہی سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویدار تنظیمیں بھی خاموش تماشائی نظر آتی ہیں۔وہ کشمیر میں بھارتی افواج کی زیادتیاں ہوں فلسطین اور شام میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ہوںیا میانمار میں جاری حالیہ پر تشدد اور دل کو لرزادینے والے حالات ہوں،ان مظالم کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور گرد و پیش کے طاقتور ممالک جو پوری دنیا میں خود کو سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والے ممالک کہتے ہیں کیوں خاموش ہیں! اور ان کی اس خاموشی پیچھے کونسے عوامل کار فرما ہیں اس کا اندازہ عرب چینل الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک نقشہ کی مدد سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ میانمار دراصل گرد و پیش کی طاقتور ریاستوں کے ہتھیاروں کی منڈی ہےجن میں چین،روس،انڈیا،جرمنی،شمارلی کوریا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں،یہ ممالک میانمار میں اپنے ہتھیار فروخت کرتے ہیں ۔

 

نقشہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کونسا ملک کونسے ہتھیار کتنی تعداد میں میانمار کو فروخت کرچکا ہے ۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ سب سے پہلے فوجی گاڑیاں ٹینک وغیرہ میں چائنا 696کی تعداد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے،اسرائیل 120کی تعداد کے ساتھ دوسرے،یوکرائن 50کی تعداد کے ساتھ تیسرے جبکہ انڈیا 20کی تعداد کے ساتھ چوتھےنمبر پر ہے۔ اسی طرح ایئر کرافٹ جنگی جہازوں میں بھی چائنا 120کی تعدادکے ساتھ پہلی پوزیشن پر جبکہ روس 64کے ساتھ دوسری پوزیشن پر،پولینڈ 35کی تعدادکے ساتھ تیسری،جرمنی 20کی تعداد کے ساتھ چوتھی،سابقہ یوگوسلاویہ 12کی تعداد کے ساتھ پانچویں،انڈیا 9کی تعداد کے ساتھ چھٹی،سوئیڈزر لینڈ 3کی تعداد کے ساتھی ساتویں اور ڈنمارک ایک کے ساتھ آٹھویں پوزیشن پر ہے۔ اسی طرح سمندری جنگی جہازوں میں بھی چائنا 21کے ساتھ اوّل،انڈیا اور سابقہ یوگوسلاویہ 3،3کی تعداد کے ساتھ دوم نمبر پر ہے۔ میزائلوں میں روس کو چین پر 1,029کے مقابلے میں 2,971کی تعداد سے سبقت حاصل ہے جبکہ بیلاروس120اوربلغاریہ 100یوکرائن کی تعدادہ 10ہے،اسی طرح ایئر کرافٹ گنز میں چائنا 125سربیا 120روس 100اسرائیل 21شمالی کوریا 16جبکہ انڈیا 10میانمار کو فروخت کرچکا ہے۔ نقشہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلغاریہ پولینڈ، جرمنی اوربیلاروس کی جانب سے یہ خرید و فروخت یورپی یونین کی جانب سے میانمار پر جنگی ہتھیاروں کی پابندی سے پہلے کی گئی یا صرف غیر جنگی طیارے اور آلات فروخت کئےگئے۔ جن کی نشاندہی ستارہ لگاکر کی گئی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیشتر ممالک نے میانمار کو ہتھیاروں کی فروخت یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں کے باوجود کی، جن میں یورپی یونین کا ممبرملک سربیا بھی شامل ہے۔

September 15, 2017

حوثی باغیوں کی تاریخ ؟

صنعاءجدت ویب ڈیسک حوثی قبائل کے نام سے تقریباً اب ہر کوئی واقف ہوچکا ہے سب سے پہلے 2004ء میں ان کی جانب سے یمن میں مسلح بغاوت کی گئی اور پھر 2009ء مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا، یہ کون لوگ ہیں،کہاں سے آئے ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے اور ان کے عزائم کیا ہیں اور ان سے سعودی حکومت کو کیا خدشات لاحق ہیں اس بارے میں کم ہی لوگوں کو علم ہوگا۔زیر نظر رپورٹ میں مختصراً ان باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور ماہرین کی رائےاور تجزیہ کاروں کے خیالات بھی نذر قارئین ہے۔
یمن میں آبا د حوثی قبائل کئی سو سال تک یمن پر حاکم زیدی اہل تشیع کی ایک شاخ ہے۔ 2004ء میں شیعہ رہنما بدر الدین نے تمام حوثی قبائل کو متحد کرکے حکومت کے خلاف اپنی مسلح جدوجہد کی شروعات کی۔ اس وقت کے صدر عبداللہ صالح کی فوجوں نے ان باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا اور بدر الحوثی مارا گیا اس کے بعد قیادت عبدالمالک الحوثی کو منتقل ہوگئی۔ 2004ء میں انہوں نےصدا صوبے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کرلیا تھا جبکہ صوبہ ہجا،امران، الجواف اور جیزان میں جنگ شروع کردی تھی جس پر سعودی فوج نے یمن میں داخل ہوکر حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر اور یمنی افواج کی مدد کی،یمنی حکومت کے مطابق شیعہ ہونے کی وجہ سے ایران حکومت ان باغیوں کی مدد کرتی ہے اور انہیں اسلحہ و دیگر اشیاء فراہم کرتی رہتی ہے۔
2009ء میں جب حوثیوں کی تخریب کاری دوبارہ شروع ہوئی تو یمن کی حکومت نے صدا صوبے میں ایک مرتبہ پھر حوثیوں کیخلاف آپریشن شروع کیا اس بار بھی سعودی حکومت نے اس میں بھرپور حصہ لیا، 20جنوری 2015کو حوثیوں نے یمن کے دارلحکومت صنعاء پر دھاوا بولا اور اپنا تسلط قائم کرلیا، صدارتی محل بھی ان کے قبضے میں آگیا، عبوری حکومت کے سربرا ہ عبدالربومنصور ہادی اسوقت اس صدارتی محل میں ہی تھے کہ اس پر شدید گولہ باری کی گئی ، صدر ہادی وہاں فرار ہو کر عدن چلے گئے اورعدن ہی کو عارضی دارلحکومت قراردیدیا اس کے بعد حوثی باغیوں نے کئی دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیااس کے بعد جب حوثی باغیوں نے سعودی سرحد یمنی صوبے محراب کی طرف قدم بڑھائے تو سعودی حکومت بھی ان کے خلاف معرکہ آراء ہوئی اور باغیوں پر شدید بمباری شروع کر دی ،واضح ہو کہ محراب صوبہ سعودی سرحد کے قریب واقع ہےاور یہاں تیل کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں اور یمن کا سارا تیل اسی صوبے سے نکلتا ہے جس کی بدولت یمنی معیشت کا پھیہ چلتا ہے، اس صوبے میں سنی قبائل کا مکمل کنٹرول ہے اور یہ کئی ماہ سے حوثی باغیوں کیخلاف لڑائی کی تیار ی کر رہے ہیں ۔ تجزیہ کاروںنے عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلےکا حل نہ کیا گیا تو شدید خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔ اس وقت یمن کے کچھ صوبے شیعہ زیدیوں اور حوثیوں کے قبضہ میں ہیں جبکہ کچھ صوبے سنی قبائل کے قبضے میں ہیں جبکہ چند صوبوں میں داعش اور القاعدہ کی موجودگی کے بھی شواہد پائے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا اس بارے میں خیال ہے کہ سعودی حکومت کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگر یمن میں بھی شیعہ حوثی اقتدار میں آ گئے تو اس کی سرحد پر واقع تین ممالک عراق، یمن اور لبنان اہل تشیع کے کنٹرول میں چلے جائیں گے جس سے ان کے تیل کے ذخائر سے مالا مال صوبے الناصریہ میں موجود اہل تشیعہ کی اکثریت کی بغاوت پر آمادگی کا بھی خدشہ ہے۔

September 11, 2017

گیارہ ستمبر کو 16 سال ہوگئے آج کے روز ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ ہوا

جدت ریسرچ ڈیسک 9/11  ایک ایسا دن ہے جیسے دنیا پوری دنیا ایک خوفناک حادثے کے باعث جانتی ہےجو 2000ء کو امریکہ پر دہشت گردی کے حملے کا دن ہے۔ دہشت گردوں نے نیوز یارک سے چار مسافر بردار طیارے ہوائی اڈے سے اغوا کئے  تھےجن میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیئے گئے  اس کے علاوہتیسرا طیارہ پینٹا گون) محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر ( پر گرایا گیا، جس سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ جبکہ چوتھاطیارہ وائٹ ہاؤس کی طرف جاتے ہوئے پنسلوانیا میں لڑاکا طیاروں کا نشانہ بنا او ر اسے مار گرایا گیا۔ القاعدہ کی قیادت  جو افغانستان میں مقیم تھی نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جس کی بنیاد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔جس کے بعد سانحے کے رد عمل میں پوری دنیا میں بے گناہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑدیئے گئے۔ امریکی مسلمانوں پر بھی زمین تنگ کر دی گئی۔ ان حملوں کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کا جو تاثر خراب ہوا اس کو ابھی تک بحال نہیں کیا جا سکاجبکہ اس حوالے سے امریکی میں کئی ماہرین کی جانب سے اس حادثے کو مشکوک قرار دیا جاچکا ہے۔

September 11, 2017

کامران ٹیسوری جو بات کررہے ہیں کراچی کا ہر شہری وہ سوال کررہا ہے ، فاروق ستار

کراچی جدت ویب ڈیسک ایم کیوایم پاکستان کا اجلاس، ڈاکٹر فاروق ستار کا میئر کراچی کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی تبدیلی کا عندیہ، میئر کراچی وفنڈ کے استعمال کے حوالے سے اجلاس کے شرکائ کو مطمئن نہ کرسکے۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستارکی زیر صدارت ایم کیوایم پاکستان کا اجلاس بہادرآباد میں واقع عارضی مرکز میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر اپنی کارکردگی رپورٹ پیش نہ کرسکے۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے رہنمائ نے میئر سے سوال کیا کہ 5ارب روپے کے فنڈز کہاں خرچ کئے ہیں جواب دیں جس پر وسیم اختر اور کامران ٹیسوری میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر مداخلت کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے وسیم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کامران ٹیسوری ہی نہیںپورا کراچی پوچھ رہاہے کہ پیسے کہاں گئے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کرپشن کی بہت شکایات آرہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ میئر،ڈپٹی میئرریحان ہاشمی اور چیئرمین وائس چیئرمین شاکر علی کو تبدیل کرنا پارٹی کا اختیار ہے۔ ڈپٹی میئر ارشد وہرہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ مذکورہ اجلاس میئر کراچی سمیت چیئرمین سینٹرل ریحان ہاشمی اور وائس چیئرمین شاکر علی کے خلاف کرپشن کی بے پناہ شکایات کے نتیجہ میں بلایا گیا ۔

August 17, 2017

اقوام متحدہ کے دفتر،غیر ملکی سفارتخانوں کو سنگین خطرات لاحق

کراچی سے البرٹ عروج بھٹی کی رپورٹ٭صوبائی حکومت کی چشم پوشی کے باعث کے ایم سی محکمہ لینڈ کے بدعنوان افسران نے کلفٹن کے حساس ترین علاقے میں تجاوزات قائم کروا کر سیکڑوں انسانی جانیں اور پوری دنیا میں ملک کا وقار دائو پر لگا دیا۔ بڑے پیمانے پر علاقے میں قائم چھپرا اور تخت ہوٹلوں اور دیگر تجاوزات پر مشکوک افراد نے ڈیرے ڈال لیے ۔ اس ضمن میں کلفٹن بلاک 4 میں واقع چیپل بیچ آرکیڈون، چیپل بیچ آرکیڈٹو، چیپل بیچ آرکیڈ تھری، پرائم بیچ اپارٹمنٹس، سی کیسل اپارٹمنٹس ون، سی کیسل اپارٹمنٹس ٹو، سمرینہ اپارٹمنٹس، ہوریزن وسٹا اور چیپل اوسٹیس کے مکینوں نے ’’جدت‘‘ کو بتایا کہ کے ایم سی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران نے علاقے میں چھپرا ہوٹل، تخت ہوٹل، چائے خانے اور بڑے پیمانے پرتجاوزات قائم کروا کر لاکھوں روپے بھتہ وصولی کررہے ہیں اور ان تجاوزات ،تختہ ہوٹلوں میں رات گئے تک اوباش اور جرائم پیشہ افراد موجود ہوتے ہیں اور باہم گفت و شنید کے دوران فحش گالیاں دیتے اور کئی بار آپس میں گالم گلوچ اور غل غپاڑہ کرتے ہیں ان منفی عناصر کے باعث کلفٹن کے اس پوش علاقے رہائشی ماحول برباد ہو کر رہ گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کلفٹن کے اسی بلاک 4 میں برطانیہ، انڈونیشیا، چین، کویت اور اقوام متحدہ کے سفارت خانے اور اہم دفاتر بینکس کے علاوہ پاکستان کا سب سے بڑا شاپنگ مال بھی واقع ہے ۔ رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ متعدد سفارت خانوں کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں لیکن وزیر بلدیات اور کے ایم سی لینڈ کے افسران نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے علاقے میں زبردست خوف و ہراس پایا جا تا ہے ۔ یاد رہے کہ علاقے کے عوام گزشتہ کئی سالوں سے اعلیٰ افسران کو درخواستیں دے کر تحفظ فراہم کرنے اور ان تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ کے ایم سی محکمہ انسداد تجاوزات کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر جدت کو بتایا کہ تجاوزات ایک اعلیٰ متعلقہ سیاسی شخصیت کے کہنے پر قائم کی گئی اس لئے کے ایم سی ان کے خلاف کارروائی سے معذور ہے ۔ علاقے کے عوام نے وزیر اعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ، گورنر سندھ محمدزبیر، وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ،آئی جی سندھ سے کلفٹن کے حساس ترین بلاک 4 سے تجاوزات کا فوری خاتمہ کروانے اور علاقے کی سیکورٹی بڑھانے کی اپیل کی ہے ۔

 

August 2, 2017

سائٹ لمیٹڈکرپشن کا گڑھ‘ ایم ڈی مجتبیٰ جویو تباہی میں پیش پیش

جعلی ڈگریوں پر بھرتی افسران نے ادارے کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچادیا‘ بارش انتظامیہ کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ریٹائرڈ افسران بھی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف‘ خلاف ضابطہ تقرریوں نے ادارے کا نقشہ بگاڑدیا

کراچی _رپورٹ ٭سید زید _ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریئے کے تحت وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ اسکی بنیاد بنا اور ہم نے ایک آزاد وطن حاصل کرلیا ۔ بانیان پاکستان نے اس مملکت خداداد کے حصول کیلئے کیا قربانیاں دیں وہ مقدار راشن کی طرح عیاں ہیں ، اپنے وجود سے آج تک مملکت خداداد آزادی کے ان ثمرات سے محروم ہے جو اسے حاصل ہونے چاہیے تھے ۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والی ریاستیں آج ہم سے ترقی اور خوش حالی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہیں اور ہم آزادی کے 70 سال بعد بھی خوشحالی اور ترقی سے بہت دور ہیں۔ مہذب معاشروں میں میرٹ کی بنیاد بناکرا ٓگے بڑھاجاتا ہے اور جس معاشرے میں       ‘RIGHT MAN RIGHT PLACE’ کے فارمولے ایمانداری کے ساتھ عمل درآمد ہو ۔ وہ معاشرہ، وہ قوم ترقی کی دوڑ میں نہ صرف آگے نکل جاتی ہے بلکہ اقوام عالم میں اسے عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ کسی بھی معاشرے ، قوم اور ملک کی ترقی میں کلیدی کردار اداروں کا ہوتا ہے اور کامیاب ترقی کرتے ہوئے ادارے ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنتے ہیں اگر ان اداروں میں کرپشن ، بدترین اقربا پروری ، میرٹ کا فقدان سرائیت کرجائے تو پھر اس ادارے کی تبای سالوں، مہینوں کی بات نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ کام دنوں میں ہوتا ہے اور کرپشن کا شکار ادارہ زمین بوس ہوجاتا ہے اور اسکا سب سے زیادہ اثر ملک اور قوم کو ہوتا ہے ۔ کرپشن اور کرپٹ بدعنوان عناصر کسی بھی معاشرے، قوم کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ عناصر اپنی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اور بدعنوانی کی وہ تاریخ رقم کرتے ہیں کہ تاریخ میں زندہ رہ جاتے ہیں ۔ مملکت خداداد پاکستان کا باب الاسلام سندھ اور سندھ کا تجارتی مرکز کراچی بھی ان شیروں میں شامل ہے جسے میگا سٹی کہا جاتا ہے اور منی پاکستان ہے ۔ منی پاکستان میں کام کرنے والے بہت سے اداروں کی طرح ایک ادارہ ’’سائٹ لمیٹڈ‘‘ بھی ہے جس کا کام بزنس کمیونٹی اور سائٹ ایریا کو جدید ، خوبصورت سہولتوں سے آراستہ ، ماڈل سائٹ ایریا بنانا شامل ہے ۔ مگر اسے بدقسمتی کہیں ، قسمت کا لکھا کہیں یا کچھ اور ۔ آج یہ ادارہ بھی کرپٹ عناصر اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ، ذاتی پسند کی بنیاد پر نااہل اور کرپٹ ترین عناصر ادارے پر ایک بوجھ بن چکے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کرپشن کی دلیل میں دھنستے جارہے ہیں۔ ناجائز طریقوں سے دولت کا حصول انکا ’’موٹو‘‘ بن چکا ہے ، سائٹ لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر مجتبیٰ جویو عرف ٹپی ۔ سائٹ لمیٹڈ کو تباہی کے دہانے لانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، سائٹ لمیٹڈ میں نا اہل افسران کی بھرمار ہے اور یہ نا اہل افسران ایم ڈی مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر وہ ناجائز کام کررہے ہیں جس سے ان کے ساتھ ساتھ مینجنگ ڈائریکٹر کو بھی مالی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ ادارے میں جعلی ڈگریوں کے حامل افسران بھی موجود ہیں انہی میں ایک نام ایاز حسین عابدی کا ہے ۔ ڈائریکٹر فنانس سائٹ لمیٹڈ ایاز حسین عابدی سندھ گورنمنٹ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ایمپلائی تھے اور ڈپوٹیشن پر سائٹ اسمال انڈسٹریز میں آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس کی پرسنل فائل پر اپائمنٹ لیٹر _âتقررنامہ_á بھی موجود نہیں ہے اور ڈائریکٹر فنانس تقررنامے کے بغیر ہی اس کلیدی عہدے پر فائز ہوکر اہل لوگوں کا حق ماررہے ہیں۔ جو سائٹ لمیٹڈ میں ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدے پر تعینات ہیں جعلی ڈگری کے حامل یہ ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدے پر تعینات ہیں جعلی ڈگری کے حامل یہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کی ڈگری HSC سے تصدیق شدہ بھی نہیں اور انکا کیس اس وقت ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ انکوائری تھری(3) کے پاس ہے اس کیس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پرسنل اسسٹنٹ _â پی اے_á کو فون کرکے متعدد بار درخواست کرچکے ہیں کہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کے اس کیس کی فائل کو دبادیا جائے۔ مگر تعینات ہونے والے نئے ڈائریکٹر نے ایاز حسین عابدی کے کیس کی انکوائری دوبارہ اوپن کردی ہے ۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایاز حسین عابدی کو اس کیس میں کئی بار طلب کیا گیا ہے مگر سائٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانس تا حال پیش ہونے سے کترارہے ہیں۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سائٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کا تقرر سائٹ رولز کے خلاف ہے اور انکی اس عہدے پر تقرری قواعد و ضوابط کے منافی ہے ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایاز حسین عابدی استعفیٰ دینے کے باوجود انکو اس عہدے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے اور وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس اہم ترین سیٹ پر براجمان ہیں اور براجمان کیوں نہ ہو جب انہی سائٹ لمیٹڈ کےایم ڈی مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کی بھرپور سرپرستی معاونت اور تعاون حاصل ہے ۔ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی سائٹ لمیٹڈ کے ٹھیکیداروں کی زیادہ تر فائلیں جن میں لیز ، پلاٹ ٹرانسفر فائل و دیگر فائلوں کے حوالے سے ٹھیکیداروں کے چیک کلیئر کرواتے ہیں اور ان تمام فائلوں کی مد میں ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ کو فی فائل 50 ہزار روپے رشوت دی جاتی ہے ۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں ایم ڈی سائٹ سرفہرست ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی نے سائٹ لمیٹڈ کے سابق ڈائریکٹر نذر محمد بوزدار سے بھی سائٹ لمیٹڈ میں اپنی تقرری کے لئے درخواست کی تھی مگر نذر محمد بوزدار نے ایاز حسین عابدی کی یہ درخواست رد کردی تھی اور انہیں ادارے میں کام کرنے سے روک دیا تھا۔ ڈائریکٹر فنانس سائٹ لمیٹڈ ایاز حسین عابدی کس قدر کرپٹ افسر ہیں اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ جب 2009 میں انکو 6ماہ کے لئے سائٹ لمیٹڈ میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے کی ذمہ داریاں دی گئیں تو اس دور میں انہوں نے سائٹ اسمال انڈسٹریز کے فیکس ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم 40 کروڑ روپے کا چونا لگایا تھا۔ سائٹ لمیٹڈ جیسے اہم ادارے کی یہ تباہی کرپشن اور کرپٹ عناصر کی مرہون منت ہے ۔ حالیہ دنوں میں شہر کراچی میں ہونے والی بارشوں کے بعد سائٹ کا علاقہ کسی تالاب کا منظر پیش کررہا تھا۔ سائٹ لمیٹڈ کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی بیرون ملک سیر سپاٹوں میں مصروف تھے ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں تھا کہ بزنس کمیونٹی اور شہری کس قدر اذیت کا شکار ہیں سیوریج کے گندے پانی سے آمد و رفت میں مشکلات روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں اہم شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مگر ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ دفتر آتے ہیں چند ’’مخصوص فائلوں‘‘ پر سائن کرتے ہیں جیب بھرتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں انکا یہ سلسلہ معمول بن چکا ہے ادارے میں کون کیا کرہا ہے یہ ان کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اپنے معاملات بہتر کرنے اور کرپٹ عناصر کو شیلٹر فراہم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ کا ایک اور کارنامہ بھی ہے ۔ انہوں نے غلام رسول شاہ ریٹائرڈ شخص کو اپنا پرسنل سیکریٹری بنارکھا ہے جس سراسر قواعد کے خلاف ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو بہت سے ایسے مزید شواہد سامنے آسکتے ہیں ۔جس کے باعث ادارہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ۔ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے سائٹ سپرہائی وے فیز 1 اور فیز 2کی غیر قانونی پوزیشن دی ۔ جس سے سائٹ لمیٹڈ کو کروڑوں کا نقصان جبکہ انکو ذاتی حیثیت میں مالی فوائد حاصل ہوئے

August 2, 2017

نیشنل بینک میں کرپشن کا نوٹس ‘ حساس اداروں کی تحقیقات

اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا
اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار پر ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب ، تحقیقات کا دائرہ علی رضا کے دور تک پھیلادیا گیا
کراچی_اسٹاف رپورٹر_ نیشنل بینک میں کرپشن کے خوفناک انکشافات کا اعلی سطح پر سخت نوٹس لیتے ہوئے حساس اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اقبال اشرف کی موجودہ صورتحال میں بیرون ملک فرار پر بھی ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں ۔ اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے حوالے سے روزنامہ جدت کی رپورٹ پر نیشنل بنک کی اعلی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ، ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ سابق صدور بالخصوص علی رضا کے دور تک پھیلا یا جا رہا ہے جب اچیومنٹ ایوارڈ کے نام پر لیبر ویلفیئر فنڈ میں بھاری خرد برد کرتے ہوئے منظور نظر اعلی افسران میں کروڑوں روپے بانٹے گئے۔ زاہد محمود چوہدری کی تعیناتی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جنہیں خلاف قوائد عہدے بانٹے گئے۔ موجودہ صدر نیشنل بنک سعید احمد اس وقت تحقیقی اداروں کی توجہ کا مرکز ہیں جنہیں بنکنگ کا کوئی تجربہ نہ ہونے، برطانوی شہریت رکھنے اور سعودی عرب میں فراڈ کے جرم میں سزا کاٹنے اور لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کے بعد رہائی حاصل کرنے کے باوجود محض وزیر خزانہ اسحق ڈار کا سمدھی اور وزیر اعظم کا کلاس فیلو ہونے کے سبب نیشنل بنک کا صدر تعینات کردیا گیا۔ واضح رہے کہ نیشنل بنک میں قومی سلامتی کے اداروں سمیت تمام سرکاری ملازمین کے اکائونٹس اورحساس تفصیلات ہوتی ہیں جو غلط ہاتھوں میں جانے سے قومی سلامتی کا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ حساس اداروں نے سابق صدر اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے سے تفصیلات طلب کر لی ہیں اور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان کی فوری روانگی کا پانامہ کیس سے ممکنہ طور پر کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے جلد اہم انکشافات متوقع ہیں۔

August 2, 2017

کراچی کی تباہی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اہم کردار

سندھ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی نے اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دےکر شہر کا حلیہ بگاڑ دیا‘ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کی کاردکردگی پرسوالیہ نشان
کراچی زلزلہ کی فالٹ لائن پر ہونے کے سبب انگریز نے بھی دومنزلہ سے اونچی عمارت نہیں بنائی‘ سندھ حکومت کاغیرقانونی تعمیرات کیخلاف اقدام سے گریز
کراچی _رپورٹ ٭قمرالرحمن خان_سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے قوائدو قوانین کی خلاف ورزیوں اور اندھا دھند بلند و بالا عمارتوں کے اجازت ناموں کا اجرا حکومت سندھ کیلئے شرمندگی و مشکلات کا سبب بن رہا ہے جبکہ ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کے اعلی افسران کی کاردکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے ، سپریم کورٹ نے کثیر المنزعمارتوں کی عمارات سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اپنی آبزوریشن میں قرار دیا ہے کہ پورے شہر میں کاغذوں کی طرح اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دے کر شہر کا ستیا ناس کر دیا ہے ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران آنکھیں بند کر کے کمائی کر رہے ہیں،جنہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت بھی کوئی اقدام کرنے کو تیار نہیں ، پہلے غربیوں کو آگے رکھ کر قبضہ کیا جاتا ہے اور پھر بلند وبالا عمارتیں قائم کر دی جاتی ہیں ۔ واضح رہے کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بلند عمارتوں پر پابندی لگادی تھی، یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کراچی چونکہ زلزلہ کی مین فالٹ لائن پر آباد ہے اس لئے انگریز کے دور میں بھی شہر میں دومنزلہ سے زیادہ اقونچی عمارتیں تعمیر نہیں کی گئیں۔ فاضل عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عمارتوں سے متعلق پالیسی پر چیف سیکرٹری سندھ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران و دیگر مدعلیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل بنچ نے کراچی رجسٹری میںلیاری میں ایو کیو ٹرسٹ کی عمارت پر قبضہ اور تعمیرات کی اجازت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گراونڈ پلس ون سے اوپر تعمیرات کی ہیں آپ کے خلاف فوجدار ی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے ٹھیکیدار نے جواب دیا کہ اس عمارت پر پہلے گینگ وار نے قبضہ کیا ہوا تھا آپریشن کے بعد گینگ وار والے چلے گئے تھے اس عمارت کا ایک ٹھیکیدار کو گینگ وار والوں نے مار دیا تھا دوسرا بھاگ گیا تھا میں نے تزئین و آرائش کا کام کیا تھاجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت اتھارٹی اور پولیس کا کام تھا کہ وہ روکتے لیکن انہوں نے پیسے کھا لیے اگر پیسے کھائے ہیں تو واپس کرنے ہوں گئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ لیاری کا مسئلہ نہیں ہے بلوچ کالونی ،گلشن اقبال ،دہلی کالونی خالد بن ولید روڈ سمیت دیگر جگہوں پر چلے جائیں تو پتہ چلے گا کہ کاغذوں کی طرح عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں پھر غیر قانونی طریقے سے بلند و بالا تعمیرات کی اجازت دی گئی پورے شہر کا ستیاناس کر دیا گیا ہے جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے یہاں پر تعمیرات ہو رہی ہے اس موقع پر عدالت میں موجود تمام سرکاری افسران خاموش ہو گئے