November 15, 2017

دل ٹوٹنے کے بارے میں تحقیق سامنے آگئی‘مگر کیا۔۔۔جانئے

لندن جدت ویب ڈیسک برطانوی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ محبت میں ناکامی یا کسی اور شدید صدمے سے دل کو عین وہی نقصان پہنچتا ہے جیسا کسی ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف ابرڈین کے ماہرین نے جذباتی صدمے کا شکار لوگوں کے حوالے سے ایک سروے کیا، جس میں ’بروکن ہارٹ سنڈروم‘ جسے ٹاکوٹسوبو بھی کہاجاتا ہے کا شکار مریضوں کا دو سال تک جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے کئی مریضوں کو ڈاکٹر تندرست قرار دیتے رہے لیکن وہ چلتے ہوئے تھک جاتے تھے اور گھبراہٹ محسوس کررہے تھے ۔ اسی جائزے کی روشنی میں تحقیقی رپورٹ تیار کی گئی جسے کیلیفورنیا میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ ’بروکن ہارٹ سنڈروم‘ کسی نفسیاتی صدمے سے دوچار ہونے کے بعد لاحق ہوتا ہے اور اسے ٹاکوٹسوبو بھی کہا جاتا ہے ۔ دل ٹوٹ جانے سے دل کو واقعی عمر بھر تک نقصان پہنچتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق نفسیاتی عارضے کے بعد اس کے شکار ہونے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔ عام طور پر اس کیفیت میں انسان شدید صدمے اور تناؤ میں ہوتا ہے اور اس کا اثر دل پر یوں پڑتا ہے کہ دل کے عضلات کمزور ہوجاتے ہیں۔ اب تک ڈاکٹر یہی سمجھتے رہے تھے کہ یہ نقصان عارضی ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن درحقیقت اس کے اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں۔

November 15, 2017

خوبصورت خواتین کے شوہر جلدی مرجاتے ہے‘مگر کیوں۔۔۔جانئے

اسپین جدت ویب ڈیسک ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو حضرات خوبصورت خواتین سے شادی کرتے ہیں ان کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور وہ جلدی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ایسے حضرات جو اپنے لیے خوبصورت جیون ساتھی کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اب وہ اپنی اس سوچ کو بدل دیں کیوں کہ ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کی بیویاں زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں ان کی زندگی بھی کم ہوتی ہے ۔عرب نیوز کے مطابق اسپین کی ویلینسیا یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب بھی آدمی کسی خوبصورت خاتون سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے جسم میں موجود ایک ہارمون ’کورٹیسول‘ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے باعث بلڈ پریشر اور شوگر میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بیوی کی خوبصورتی شوہروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مرد کئی قسم کے نفسیاتی اور جسمانی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

November 15, 2017

جنرل حمید گل پاک فوج اور آئی ایس کا درخشاں ستارہ ،تاریخی احوال جانئے

جدت ویب ڈیسک :جنرل حمید گل پاک فوج اور آئی ایس کا درخشاں ستارہ ،ان کی زندگی وطن عزیز کیلئے بے پناہ قربانیوں اور کارناموں سے عبارت ہے 1936کو سرگودھا میں جنرل حمید گل نے آنکھ کھولی ان کا آبائی تعلق سوات سے تھا۔ تعلیم کی ابتداء لاہورسے کی،پاکستان آرمی میں کمیشن 1956میں حاصل کیا۔ ان کی بطور سپاہی زندگی بےپناہ کارناموں سے بھری پڑی ہے۔بھارت کے خلاف 1965 کی جنگ میں چونڈہ سیکٹر میں انہوں نے ٹینک رجمنٹ کی تاریخی کمانڈ سنبھالی جو کہ جنگی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سےخوفناک جنگوں میں سے ایک تھی۔جسے بیٹل آف کرسک کے بعد(جو کہ جنگ عظیم میں جرمنی اور روس کے درمیان لڑی گئی جنگ تھی)سب سے بڑی جنگ سمجھا جاتا ہے۔ اس جنگ میں دونوں ملکوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تاہم پاکستان اپنی سرحدوں کی دفاع میں کامیاب رہا۔1978کو حمید گل کو اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی اور چند سال بعد ہی انہیں پاکستان ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جیسی اہم ذمہ داری دیدی گئی ۔ 1989 کو جنرل حمید گل کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔80کی دہائی پاکستان کے دفاعی لحاظ سے کافی حساس ثابت ہوئی کیونکہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے دشمنوں کی چالوں کا سامنا تھا۔اسی نازک صورتحال کو ماہرانہ انداز سے سنبھالتے ہوئے اس عظیم جنرنیل نے مشہور زمانہ”دشمن کا دشمن دوست“کے فارمولے پر عمل کیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر اس وقت کی سپر پاور روس کو منہ توڑ جواب دیا۔ روس نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے مغربی سرحدوںسے پاکستان میں کارروائیاں شروع کر دیں اور روس کی آشیر باد سے افغانستان کے جنگی جہازوں نے نہ صرف کئی بار پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بلکہ شہری علاقوں پر کئی بار بمباری بھی کی جو کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جاں نثاروں کو کسی صورت منظور نہ تھی اور اس سے پہلے کہ روس افغانستان کے ساتھ ملک کر اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہوتا پاکستان نے اس کی روک تھام کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ پاکستان نے افغان مجاہدین کی ایک کمزور مزاحمتی تحریک کو منظم کرنا شروع کیا اور روس اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ان افغان مجاہدین نے مسلح جہاد کا اعلان کردیا۔ یادرہے کہ اس تمام تر کی منصوبہ بندی میں جنرل حمید گل کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ جب جنرل اختر عبدالرحمٰن آئی ایس آئی کی سبراہی کررہے تھے تو ان کے ساتھ کے چند نامور جرنیلوں جن میں جنرل عبدالرحمٰن،جنرل آصف نواز جنجوعہ اور جنرل حمید گل نے روس کو ٹکڑے کرنے کا پلان بنایا۔ عینی شاہدین اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ روس بالکل اسی طرح ٹوٹا جس طرح منصوبے کے وقت نقشے پر لکریں کھینچی گئیں۔ واضح رہے کہ آج بھی وہ نقشہ پاکستان آرمی نے اپنے نئے آنے والے افسران کی تربیت کے لئے سنبھال کر رکھا ہے جو آج بھی ان کا مورال بلند کرنے کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔ اس تمام تر کارروائی میں پاک فوج کے جوان بھی ان مجاہدین کے شانہ بشانہ روس کے خلاف لڑے، پاک آرمی ہیلی کاپٹرتوپوں کے ذریعے رات بھر افغانستان سے روسی افواج پر بمباری کرتے اور صبح صادق سے پہلے واپس پاکستان آجاتے ۔ تاریخ میں یہ بھی اپنی نوعیت کی پہلی ایسی جنگ تھی جو تھی تو روس اور پاکستان کی جنگ مگر لڑی گئی افغانستان کی سرزمین پر اور دنیا آج بھی نہیں بھلا سکتی کہ کس طرح پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتو ر دشمن کوہی نہیں بلکہ اس کے ہاتھوں کٹھ پتلی حکومت کو بھی نیست و نابود کردیا۔ اسی کا اثر تھا کہ دوسری جانب سے راجیو گاندھی کی حکومت جو پاکستان پر حملے کیلئے پر تول رہی تھی اس کی بھی ہمت جواب دے گئی ۔ وطن عزیز میں سب سے بڑی جنگی مشقیں ضرب مؤمن بھی جنرل حمید گل کی سربراہی میں شروع ہوئیں اور کامیاب رہیں ۔غرض یہ کہ ان کی زندگی اور کامیابیوں اور وطن عزیز کیلئے قربانیوں کا چند الفاظ، چند مضامین یا چند کتابوں میں احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ان طالبان کی سپورٹ کی تھی جو آج کل ہیں تو اس بارے میں مطلع کرنا ضروری ہے کہ یہ وہ طالبان نہیں جنہوں نے روس کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا بلکہ ان میں سے بہت بڑی تعداد تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔

 

November 13, 2017

دلہن نے ایسا کیا کردیا کہ 8 شادیاں کرنیوالے مزید شادیوں سے توبہ کرلی؟؟؟ #Bride #8Marriage #London

لندن جدت ویب ڈیسک 79 سالہ رون شیپرڈ نامی برطانوی شخص نے 8شادیاں کیں اور برطانیہ میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے کا ’اعزاز‘ اس وقت اسی کے پاس ہے جسے اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔ اب وہ 9ویں شادی کرنے جا رہا تھا لیکن شادی سے چند دن قبل اس کی دلہن نے اس کے ساتھ ایسا کام کر دیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے شادی سے توبہ کر لے گا۔ رون شیپرڈ نے اپنی آٹھویں بیوی وینگ کو طلاق دینے کے چند ہفتوں بعد ہی فلپائن کی28سالہ کرسٹل لالیک سے تعلقات استوار کر لیے۔ان کی ملاقات انٹرنیٹ پر ہوئی اور رون اس سے ملنے فلپائن گیا اوراس کے ویزے کا انتظام کرکے اسے اپنے ساتھ برطانیہ لے آیا۔برطانوی قصبے یوویل کے رون شیپرڈ نے چند روز قبل کرسٹل کو شادی کی پیشکش کی جو اس نے قبول کر لی لیکن شادی کے چند دن قبل کرسٹل کسی اور شخص کے لیے رون کو چھوڑ کر چلی گئی۔رون کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ روز جب میں کرسٹل کے کمرے میں گیا تو وہ موجود نہیں تھی،الماریاں کھلی تھیں اور اس کا تمام سامان بھی غائب تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس کے کسی اور شخص کے ساتھ بھی تعلقات تھے اور وہ اس کے لیے مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ ہم نے کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں کیا تھا کیونکہ کرسٹل نے مجھے کہا تھا کہ وہ راسخ العقیدہ مسیحی ہے اور شادی سے پہلے جسمانی تعلق کو معیوب سمجھتی ہے۔وہ غیرقانونی طور پر برطانیہ میں رہ رہی تھی اور میں نے اس کے لیے بہت کچھ کیا لیکن اس نے مجھے ایسا دکھ دیا ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔ مجھے اس سے سچی محبت ہو گئی تھی اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ یہ محبت آخری ہو گی۔“اور اپنی زندگی میں پھر کبھی شادی کا سوچوں کا بھی نہیں۔

November 13, 2017

”یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے(مسلمانوں کے) دوست نہیں ہوسکتے“القرآن

جدت ویب ڈیسک :اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 25نومبر کو امریکہ سمیت جمعہ المبارک کو بطور سیاہ دن منایا جارہا ہے،گرینڈ سیل لگائی جائیں گی تاکہ لوگ خریداری کرسکیں۔ جس میں خریداروں کو 70سے90فیصد تک رعایتی نرخوں پر چیزیں دستیاب ہوں گی۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ امریکہ میں ہر سال نومبر کے مہینے کے آخرمیں جمعرات کو بطور تھینکس گیونگ ڈے منایا جاتا ہے اور اس کے اگلے روز یعنی جمعہ کو بلیک فرائیڈےکے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ 1961میں فلاڈیلفیا میں کرسمس کی تیاریوں کے حوالے سے لگائی گئی سیل میں لوگوں کا بہت بڑا اژدھام امڈ آیا جس کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور بد ترین ٹریفک جام ہوگیا جس کے بعد اسے بطور بلیک فرائیڈے منایا جانے لگا۔ اس سے قبل بھی ہمارے معاشرے میں بڑے خوبصورت انداز میں مدر اور فادر ڈیز کو داخل کیا گیا اور اسی طرح ایک سازش کے تحت ویلنٹائن ڈے کو بھی ہمارے معاشرے میں فروغ دیا گیا اور اب ہم بلیک فرائیڈے یعنی سیاہ جمعہ منانے جارہے ہیں۔ آپ سوچیں جس دن کو سید الرسل نبی کریمﷺ نے سید الایام یعنی دنوں کا سردار قرار دیا ہے اسے ہم بطور سیاہ دن منانے جارہے ہیں، جس جمعہ کے لئے کہا گیا کہ اس میں کثرت سے درود پڑھو،یہ دعائوں کی قبولیت کا دن ہے۔ یہ تو تھیں جمعہ کے روز کی فضيلت اور بلیک فرائیڈے کا تاریخی پس منظر اب جانتے ہیں اس بارے میں ہمارا دین کیا کہتا ہے سب سے پہلے رجوع کرتے ہیں قرآن پاک سے جس میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو، پھر جب نماز پوری ہوجائے زمین میں پھیل جائو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو اور جب وہ کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تمہیں کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دیجئے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کھیل تماشے اور تجارت سے بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب رزق دینے والوں سے بہترین ہے۔
سورہ جمعہ:9تا11
اور جمعہ کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
ہم با اعتبار امت سب امتوں کے بعد آئے ہیں لیکن قیامت کے دن حساب و کتاب اور جنت میں جانے کے لحاظ سے سب سے آگے ہوں گے، ہاں یہود و نصاریٰ کو ہم سے پہلے کتاب ضرور دی گئی تھی پس جمعہ کے دن عبادت کرنا ان پر فرض کیا گیا تھا مگر انہوں نے اختلاف کیا پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت کردی، پس سب لوگ اس بات میں ہم سے پیچھے ہیں، یہود کا دن کل(ہفتہ)اور نصاریٰ کا دن پرسوں(اتوار)ہے۔
یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور یہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتادیا ہے کہ
”یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے“
ہمارے آقاﷺ نے بھی فرمادیا ہے کہ  ”جس نے یہود و نصاریٰ کی تقلید کی وہ ہم میں سے نہیں اور روز قیامت وہ انہی میں اٹھایا جائے گا“
اس حوالے سے معروف قانون دان ثمینہ رضوان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ کفار مسلمانوں کو سیل اور ڈسکائونٹ کے نام پر خرید و فروخت میں مصروف کرکے مسلمانوں کےلئے اس دن کی اہمیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اللہ پاک کے حکم سے روگردانی کریں۔
ہم مسلمان جمعہ کو بطور بلیک فرائیڈے منانے کی بجائے کسی اچھے نام سے اور مخصوص وقت میں یعنی نماز جمعہ کے بعد اپنی عبادت کے بعد خاص سیل اور ڈسکائونٹ دے کر تجارت شروع کرسکتے ہیں اور بلیک فرائیڈے کی بجائے اسٹار ڈے، اسپیشل ڈے، روشن دن کے نام سے بھی اسے موسوم کرسکتے ہیں –

November 9, 2017

کس شہر میں کتنے مسافر؟؟ایک دلچسپ معلوماتی رپورٹ

کراچی جدت ریسرچ ڈیسک:سفر…انسانی زندگی کا اہم پہلو ہے،ہر انسان کا کم و بیش اس سے واستہ پڑتاہے…سفر سے مراد ہے کہ وہ جگہ جہاں آپ نے سکونت اختیار کر رکھی ہو وہاں سے کسی دوسرے مقام پر جانا، سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں، کچھ تو روز مرہ کی بنیاد پر یعنی تعلیم کے حصول کی غرض سے گھر سے نکلنا،دفتر کام کی غرض سے جانا وغیرہ وغیرہ اور کچھ کئی دنوں پر بھی مشتمل ہوتے ہیں کاروبار کی غرض سے بیرونی ملک جانا، سیر و سایاحت کی غرض سے ملک و بیرون ملک سفر کرنا ان کے لئے سواریاں بھی مختلف استعمال کی جاتی ہیں، بعض صورتوں میں آپ اپنی ذاتی سواری گاڑی وغیرہ کے ذریعے فاصلہ طے کرکے دوسرے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جبکہ بعض صورتوں میں آپ ریل اور ہوائی جہاز پر بھی سفر کرتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں یورو مونیٹر انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ جاری کی جو 2016ء کے دوران مخلتف ممالک کے مختلف شہروں میں بذریعہ جہاز آنے والے مسافروں کی تعداد پر مشتمل ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال کس ملک میں کتنے سیاح و دیگر مسافر آئے۔ سب سے کم درجہ یعنی 10ویں نمبر پر ملائیشیا کے شہر کوالا لمپور کو رکھا گیا ہے جہاں 12.3ملین یعنی ایک کروڑ تئیس لاکھ مسافر آئے جبکہ اس فہرست میں چائنا کے شہر شینزہن ہے جہاں آنے والے مسافروں کی تعداد 12.6ملین یعنی ایک کروڑ چھبیس لاکھ تھی، نیو یارک امریکہ آنے والے مسافروں کی تعداد 12.7ملین رہی جبکہ پیرس فرانس کا سفر کرنے والوں کی تعداد14.9ملین تھی اسی طرح دبئی متحدہ عرب امارات کا سفر 14.9ملین مسافروں نے کیا جبکہ چین ہی کے شہر مکائو آنے والے مسافروں کی تعداد 15.4ملین تھی سنگا پور اس دوڑ میں چوتھے نمبر پر رہا جہاں آنے والے مسافروں کی تعداد 16.6ملین تھی اور لندن کا سفر کرنے والے مسافر 19.2ملین کی تعداد میں تھے، تھائی لینڈ کےشہر بنکاک کا سفر 21.3ملین یعنی دو کروڑ تیرہ لاکھ مسافروں نے کیا اور یہ شہر اس فہرست میں دوسرے پر نمبر رہا جبکہ پہلے نمبر پر ہانک کانگ رہا جہاں 2016ء میں سیر و سیاحت کی غرض سے آنے والے مسافروں کی تعداد دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ یعنی 26.6ملین رہی جو کہ دو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ بنتی ہے۔ امید ہے آپ کو رپورٹ پسند آئی ہوگی، اپنے دوستوں سے بھی شیئر کیجئے اور مزید اچھی اچھی پوسٹیں دیکھنے کیلئے ہمارے پیج کا وزٹ کیجئے۔

 

November 9, 2017

کراچی ائیرپورٹ سکول سات سال سے بجلی سے محروم انتظامیہ کہاں؟جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک ِ: سروےآصف خان ۔ایئرپورٹ کے عقب واقع گورنمینٹ گرلز پرائمری ماڈل اسکول سات سال سے بجلی سے محروم اسکول کی عمارت انتہائی  مخدوش بچوں کے لیئے پینے کا پانی تک موجود نہیں اسکول کو کربلا بنادیاگیا ہے اسکول کی پرنسپل کی تحریری شکایت کے باوجود متعلقہ ادارے کی چشم پوشی تصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے عقب میں واقع سرکاری اسکول گورنیمنٹ گرلز پرائمری ماڈل اسکول بھٹائی آباد قوم کی بہین بٹیاں بغیر بجلی پانی کے تعلم حاصل کررہی ہے اسکول کے بیت الخلا استمعال کے قابل نہیں اسکول کی عمارت انتیائی مغدوش ہوچکی ہے ۔جدت سروے ٹیم جب اسکول پنچہی تو اسکول تو عین اسکول کے مین گیٹ پر کچرا موجود تھا اسکول کسی بھنسیوں کے باڑے کا منظر پش کر رہاتھا۔اسکول کی چاردیواری جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی کلاس کے کمروں کا پلستر اکھڑ چکاتھا جو خدانخواستہ کسی سانحہ کا باعث بن سکتاہے کمروں میں پنھکے کے کنکشن تو موجود تھے لیکن لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے پنکھے موجود نہیں تھے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کسطرح سے سندھ حکومت بنت حواکی بٹیوں کو تعلم کے زیورسے روشناس کر وارہی ہے ۔اسکول کی پرنسیپل نے روزنامہ جدت کو بتایا انھوں نے متعلقہ اداروں میں متعدد بار درخوستیں دے چکے ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے اسکول کی عمارت انتیائی مخدوش ہوچی ہے کلاس رومز کے دروازے ٹوٹ چکے ہے اسکول کے عملے کے رکن علی نے بتایا اسکول میں پینے کے پانی کے لیئے بنائی گئی ٹینکی سے ٹونٹیاں غائب ہے ٹینکی انتیائی مخداش ہوچکی ہے بیت الخلا میں گندگی اور غلاظت کے وجہ سے شدید تعفن ہے جہاں کھڑاہونا تک محال ہے علاقہ مکینوں نے روزنامہ جدت کو بتایا بھٹائی آباد بھی کراچی کا حصہ ہے لیکن بھٹائی آباد کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیاجارہاہے بٹھائی آباد کی آبادی اکثریت سندھی بولنے والے اور پشتو بولنے والوں پر مشتمل ہے بٹھائی آباد کی عوام کو تعلم سے محروم کیاجارہاہے اسکول کھنڈر بن چکاہے علاقہ مکینوں نے وزیراعلی سندھ وزیر تعلم سے درخواست کی کہ بٹھائی آبادکی عوام بھی تعیلم کے زیور سے زیور روشناس کیاجائیں۔

November 8, 2017

بیوی اگر شوہر کی طرف دیکھ کر مسکرائے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے اگر نہیں پتا تو ۔۔۔۔

جدت ویب ڈیسک بیوی کی مسکراہٹ بے معنی نہیں ہوتی۔ شوہر کو بیوی کے خوشگوار موڈ کے پیچھے اصل وجوہات کو جاننا ہوگا تاکہ بیوی کے بتائے بغیر بات کی تہہ تک پہنچ سکے۔ویسے اس مسکراہٹ کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خوشخبری ہو تو وہ سنانے سے پہلے بیوی مسکراتی ہے۔ اگر پہلی تاریخ پاس ہو تو شابنگ کے لیے ایکسائیٹڈ ہوتی ہے اور مسکرا کر جیب خرچ کا پیغام سنا دیتی ہے۔ بیوی کی مسکراہٹ بے سبب نہیں ہوتی۔ویسے شوہر حضرات کو اس بات کا پتا ہونا چاہئے کہ مسکراہٹ کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ بیگمات کی عادت ہوتی ہے منہ سے کچھ بتانے کی بجائے مسکرا کر پیغام دیتی ہیں۔کہ بوجھو تو جانیں۔ مرد کو اب پہیلی سلجھانی ہوتی ہے کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا راز ہے۔ کئی بار ایسا راز بھی ہوتا ہے جو شوہر کے پاءوں کے نیچے سے زمین کھسکانے جیسا ہوتا ہے جیسے کہ ساس اچانک آجائے جس سے شوہر کی نہ بنتی ہو۔ بیگم مسکرا کر بتائے کہ میری امی ایک ماہ کے لیے ہمارے ہاں رہنے کے لیے آرہی ہے تو شوہر کا منہ ایسے ہو جاتا ہے جیسے چھوٹے بچے کا چوسنی چوستے ہوئے منہ بنتا ہے۔ مگر اسے بھی کھسیانی مسکراہٹ دکھانی پڑتی ہے تاکہ بیوی یہ ناسمجھے کہ میرے رشتے داروں کے آنے سے ناخوش ہیں ،ورنہ پھر آپ کےر شتے داروں کی خیر نہیں ہے۔ دونوں طرف شجرہ نسب کھل جاتا ہے۔ دادے پردادے۔ تک زد میں آجاتے ہیں۔ بیوی ویسے مسکراتی ہی اچھی لگتی ہے۔ اگر خرچے والی بات نہ ہو۔ کئی بار بیگم بلاوجہ مسکرا رہی ہوتی ہے۔کوئی پرانی بات یاد کرکے ، یا میکے کو یاد کرکے ، یا اپنے بچپن کے دن یاد کرکے ، شوہر کو اس موقع پر بیوی کا ساتھ دینا چاہئے اس سے پوچھنا چاہئے کہ کیا یاد آرہا ہے تاکہ وہ اپنے بچپن کے حسین پل آپ کے ساتھ شئیر کرسکے۔۔۔ مسکراہٹ مسکراہٹ ہوتی ہے جیسے ڈگڑی دگڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کئی بار مسکراہٹ طنرئیہ بھی ہوتے ہے جب شوہر ویلا اور نکھٹو ہو۔ او ر بڑی بڑی ڈینگے مارتا ہو تو بیوی طنز سے مسکراتی ہے۔ بہر حال طنزیہ مسکراہٹ فورا پہچانی جاتی ہے۔ یہ واحد مسکراہٹ ہے جس کا شوہر کو فورا پتا چل جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کہانی کیا ہے۔ ہ مسکراہٹ کءبار اس وجہ سے بھی ہوتی ہے بیوی چاہتی ہے۔گزشتہ حسین پل یاد کریں، کچھ خوبصورت باتیں کریں، شوہر پوچھے تو وہ ماضی کی حسین باتیں شئیر کرے۔۔۔۔۔ بیوی کی مسکراہٹ پر نظر رکھیں ، کیونکہ یہ بہت خوبصورت انمول لمحات ہوتے ہیں، بیوی شوہرکے سامنے کبھی کبھی ہی مسکراتی ہے ، خاص کر جب شادی پرانی ہوجائے تو بیوی کو عید کے عید ہی مسکراتے دیکھا جاتا ہے۔ا س لیے ان لمحات کو اور خوبصورت بنائیں۔بیوی مسکراتی ہی اچھی لگتی ہے۔ بیوی کا موڈ خوشگوار ہو تو شوہر کو اطمینان ہوتا ہے۔کہ آج کسی بات پر بحث کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اگر اس مسکراہٹ کو ہی نظر انداز کردیا جائے تو بہت شدید قسم کی بحث چھڑ سکتی ہے کہ آپ کو تو میری پرواہ ہی نہیں ، اپنی دنیا میں ہی مست رہتے ہیں۔