August 2, 2017

نیشنل بینک میں کرپشن کا نوٹس ‘ حساس اداروں کی تحقیقات

اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا
اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار پر ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب ، تحقیقات کا دائرہ علی رضا کے دور تک پھیلادیا گیا
کراچی_اسٹاف رپورٹر_ نیشنل بینک میں کرپشن کے خوفناک انکشافات کا اعلی سطح پر سخت نوٹس لیتے ہوئے حساس اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اقبال اشرف کی موجودہ صورتحال میں بیرون ملک فرار پر بھی ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں ۔ اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے حوالے سے روزنامہ جدت کی رپورٹ پر نیشنل بنک کی اعلی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ، ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ سابق صدور بالخصوص علی رضا کے دور تک پھیلا یا جا رہا ہے جب اچیومنٹ ایوارڈ کے نام پر لیبر ویلفیئر فنڈ میں بھاری خرد برد کرتے ہوئے منظور نظر اعلی افسران میں کروڑوں روپے بانٹے گئے۔ زاہد محمود چوہدری کی تعیناتی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جنہیں خلاف قوائد عہدے بانٹے گئے۔ موجودہ صدر نیشنل بنک سعید احمد اس وقت تحقیقی اداروں کی توجہ کا مرکز ہیں جنہیں بنکنگ کا کوئی تجربہ نہ ہونے، برطانوی شہریت رکھنے اور سعودی عرب میں فراڈ کے جرم میں سزا کاٹنے اور لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کے بعد رہائی حاصل کرنے کے باوجود محض وزیر خزانہ اسحق ڈار کا سمدھی اور وزیر اعظم کا کلاس فیلو ہونے کے سبب نیشنل بنک کا صدر تعینات کردیا گیا۔ واضح رہے کہ نیشنل بنک میں قومی سلامتی کے اداروں سمیت تمام سرکاری ملازمین کے اکائونٹس اورحساس تفصیلات ہوتی ہیں جو غلط ہاتھوں میں جانے سے قومی سلامتی کا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ حساس اداروں نے سابق صدر اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے سے تفصیلات طلب کر لی ہیں اور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان کی فوری روانگی کا پانامہ کیس سے ممکنہ طور پر کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے جلد اہم انکشافات متوقع ہیں۔

August 2, 2017

کراچی کی تباہی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اہم کردار

سندھ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی نے اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دےکر شہر کا حلیہ بگاڑ دیا‘ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کی کاردکردگی پرسوالیہ نشان
کراچی زلزلہ کی فالٹ لائن پر ہونے کے سبب انگریز نے بھی دومنزلہ سے اونچی عمارت نہیں بنائی‘ سندھ حکومت کاغیرقانونی تعمیرات کیخلاف اقدام سے گریز
کراچی _رپورٹ ٭قمرالرحمن خان_سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے قوائدو قوانین کی خلاف ورزیوں اور اندھا دھند بلند و بالا عمارتوں کے اجازت ناموں کا اجرا حکومت سندھ کیلئے شرمندگی و مشکلات کا سبب بن رہا ہے جبکہ ڈی جی آغا مقصود عباس اور ادارے کے اعلی افسران کی کاردکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے ، سپریم کورٹ نے کثیر المنزعمارتوں کی عمارات سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اپنی آبزوریشن میں قرار دیا ہے کہ پورے شہر میں کاغذوں کی طرح اندھادھندعمارتیں بنانے کی اجازت دے کر شہر کا ستیا ناس کر دیا ہے ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران آنکھیں بند کر کے کمائی کر رہے ہیں،جنہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت بھی کوئی اقدام کرنے کو تیار نہیں ، پہلے غربیوں کو آگے رکھ کر قبضہ کیا جاتا ہے اور پھر بلند وبالا عمارتیں قائم کر دی جاتی ہیں ۔ واضح رہے کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بلند عمارتوں پر پابندی لگادی تھی، یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کراچی چونکہ زلزلہ کی مین فالٹ لائن پر آباد ہے اس لئے انگریز کے دور میں بھی شہر میں دومنزلہ سے زیادہ اقونچی عمارتیں تعمیر نہیں کی گئیں۔ فاضل عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عمارتوں سے متعلق پالیسی پر چیف سیکرٹری سندھ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران و دیگر مدعلیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل بنچ نے کراچی رجسٹری میںلیاری میں ایو کیو ٹرسٹ کی عمارت پر قبضہ اور تعمیرات کی اجازت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گراونڈ پلس ون سے اوپر تعمیرات کی ہیں آپ کے خلاف فوجدار ی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے ٹھیکیدار نے جواب دیا کہ اس عمارت پر پہلے گینگ وار نے قبضہ کیا ہوا تھا آپریشن کے بعد گینگ وار والے چلے گئے تھے اس عمارت کا ایک ٹھیکیدار کو گینگ وار والوں نے مار دیا تھا دوسرا بھاگ گیا تھا میں نے تزئین و آرائش کا کام کیا تھاجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت اتھارٹی اور پولیس کا کام تھا کہ وہ روکتے لیکن انہوں نے پیسے کھا لیے اگر پیسے کھائے ہیں تو واپس کرنے ہوں گئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ لیاری کا مسئلہ نہیں ہے بلوچ کالونی ،گلشن اقبال ،دہلی کالونی خالد بن ولید روڈ سمیت دیگر جگہوں پر چلے جائیں تو پتہ چلے گا کہ کاغذوں کی طرح عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں پھر غیر قانونی طریقے سے بلند و بالا تعمیرات کی اجازت دی گئی پورے شہر کا ستیاناس کر دیا گیا ہے جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے یہاں پر تعمیرات ہو رہی ہے اس موقع پر عدالت میں موجود تمام سرکاری افسران خاموش ہو گئے