October 2, 2019

کشمیر میں بھارتی اقدامات،چین سے جڑے لداخ میں بھی نئی کشیدگی،رپورٹ پڑھیے

جدت ویب ڈیسک ::بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں نئی دہلی حکومت کے تقریباﹰ دو ماہ قبل کیے گئے اقدامات کے بعد اب اس متنازعہ خطے کے ایک حصے لداخ میں بھی نئی کشیدگی اور سماجی تناؤ پیدا ہو چکے ہیں، جس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں لہہ سے بدھ دو اکتوبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق لداخ چین کے ساتھ سرحد سے جڑا ہوا ریاست جموں کشمیر کا ایک ایسا انتہائی خوبصورت لیکن دور دراز حصہ ہے، جہاں پانچ اگست کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے جموں کشمیر کی بھارتی آئین کے مطابق خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے لے کر اب تک کافی زیادہ تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
مودی حکومت کے اعلان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین متنازعہ اس ریاست کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ حصے جموں کشمیر اور لداخ کہلائیں گے اور دونوں ہی بھارت کے یونین علاقے ہوں گے۔
لیکن کشمیر ہی کے ایک حصے سے متعلق بھارت کا چین کے ساتھ تنازعہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جموں کشمیر کے چین کے ساتھ سرحد پر واقع حصے لداخ میں نئے کھچاؤ کا پیدا ہونا سیاسی اور جغرافیائی طور پر ایک یقینی سی بات تھی۔
لہہ اور کارگل پر مشتمل لداخ
اس بارے میں اے پی نے اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں لکھا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے شمال مشرق میں واقع لداخ کا علاقہ مزید دو حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سے ایک لہہ کہلاتا ہے اور دوسرا کارگل۔ ضلع لہہ کی آبادی میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے جبکہ کارگل کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے۔ لداخ جموں کشمیر کا وہی علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھارتی اور چینی دستوں کے مابین وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس علاقے میں نئی کشیدگی کا سبب نئی دہلی کے پانچ اگست کے فیصلے کے ساتھ کیا جانے والا وہ اعلان بھی ہے، جس پر مودی حکومت کے پروگرام کے مطابق 31 اکتوبر کو عمل درآمد ہو جائے گا۔
تب لداخ کا یہ علاقہ جموں کشیر سے کاٹ کر عملاﹰ علیحدہ کر دیا جائے گا اور ایک یونین علاقے کے طور پر براہ راست نئی دہلی کے انتظام میں آ جائے گا۔
مسلم اور بودھ آبادیوں کے مابین کھچاؤ
اس پیش رفت کے باعث لداخ میں نئی کشیدگی کا سبب اس خطے کی بودھ او مسلمان آبادی میں پائے جانے والے خدشات بھی ہیں۔
لداخ میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے مابین ثقافتی اور سیاسی اختلافات تو ہمیشہ ہی سے تھے لیکن یہ تناؤ تشدد کی وجہ نہیں بنا تھا۔
اب لیکن لہہ اور کارگل کی ایک دوسرے سے مختلف ان اکثریتی آبادیوں کو یہ خوف بھی لاحق ہو چکا ہے کہ یکم نومبر کا دن ان کے لیے کون کون سی عملی تبدیلیاں اور ان دیکھے حقائق اپنے ساتھ لائے گا۔
لداخ سے متعلق نئی دہلی حکومت کے پانچ اگست کے اعلان پر اس خطے کی بودھ آبادی نے خوشی کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس کا روایتی طور پر یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس خطے میں زیادہ تر ملازمتیں اور مالی وسائل مسلم آبادی کے حصے میں ہی آتے ہیں۔ پھر لداخ کے ان بودھ باشندوں کے لیے یہ بات بھی تشویش کا باعث بن گئی کہ ان کے اکثریتی علاقے لہہ کی منفرد ثقافتی اور سماجی حیثیت بھی اس وقت خطرے میں پڑ جائے گی، جب عام بھارتی شہری، جن کی بہت بڑی اکثریت ہندو ہے، لہہ میں املاک خریدنے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کے حقدار ہو جائیں گے۔
اسی علاقے سے متعلق تنازعے کے باعث 1962ء میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی جنگ بھی ہوئی تھی
لداخ کے اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سیاچن گلیشیئر کا مشہور اور اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم علاقہ بھی اس خطے میں ہے، جسے عسکری ماہرین ‘دنیا کا بلند ترین میدان جنگ‘ بھی کہتے ہیں۔
اس گلیشیئر اور اس سے ملحقہ علاقے میں بھارت اور اس کے حریف ہمسایہ ملک پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
دنیا کا یہ بلند ترین میدان جنگ سطح سمندر سے 6,700 میٹر یا 22,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور نئی دہلی اور اسلام آباد میں ملکی حکومتوں کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں ان ممالک کے جتنے بھی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ان میں انتہائی شدید نوعیت کے موسمی حالات کے باعث ہونے والی ہلاکتیں مسلح فوجی جھڑپوں میں ہونے والے جانی نقصانات سے زیادہ تھیں  @dw_urdu

Image result for ladakh

Ladakh welcomes new status

Image result for ladakh

Image result for ladakh

·
October 1, 2019

کچرا کچرا کراچی کے لیے سنگاپور بہترین مثال،جانیے کیسے؟

جدت ویب ڈیسک ::کراچی کے کچرے نے نہ صرف شہریوں بلکہ ارباب اختیار کو بھی پریشان کر رکھا ہے کہ روزانہ پیدا ہونے والے لاکھوں ٹن کچرے کو کیسے اور کہاں ٹھکانے لگایا جائے۔  نہ صرف کراچی بلکہ کچرے سے پریشان دنیا کے ہر شہر کو اس معاملے میں سنگاپور کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے۔براعظم ایشیا کا سب سے جدید، ترقی یافتہ اور خوبصورت ترین ملک سنگاپور نہایت چھوٹا سا ملک ہے اور یہاں کچرے کے بڑے بڑے ڈمپنگ پوائنٹس بنانے کی قطعی جگہ نہیں۔ سنگاپور کی صفائی ستھرائی مغربی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے، آئیں دیکھتے ہیں کہ سنگاپور اپنے کچرے کو کس طرح ٹھکانے لگاتا ہے۔

Image result for karachi kachra

Image result for karachi kachra vs singapore

سنگاپور میں روزانہ کی بنیاد پر ہر جگہ سے کچرا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ پورے ملک سے اکٹھا کیا جانے والا کچرا ایک بڑی سی عمارت میں لایا جاتا ہے۔  اس عمارت میں اس کچرے کو جلایا جاتا ہے، یہاں جلنے والی آگ سال کے 365 دن جلتی رہتی ہے، 1000 ڈگری سیلسیئس پر جلنے والی یہ آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔ کچرے جلانے کے اس عمل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، یہ عمارت سنگاپور میں توانائی پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس عمارت سے نکلنے والا دھواں ماحول کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔

دراصل اس عمارت میں صرف مزدور یا کاریگر موجود نہیں ہوتے جو آگ جلا کر کچرا اس میں پھینک دیں، یہاں سائنسدان اور اپنے شعبے کے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں سے نکلنے والا دھواں صاف ستھرا ہو۔  زہریلے دھوئیں کو صاف یا فلٹر کرنے کا عمل جدید سائنسی بنیادوں پر استوار اور نہایت پیچیدہ ہے، اور اس مشکل عمل کے بعد اس عمارت کی چمنیوں سے خارج سے ہونے والی ہوا بالکل صاف ستھری ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 90 فیصد کچرا جل کر غائب ہوجاتا ہے، صرف 10 فیصد راکھ کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے۔ اس راکھ کو دور دراز واقع انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے ایک جزیرے پر لے جایا جاتا ہے اور پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ پانی سمندر اور دریاؤں سے بالکل الگ تھلگ ہے لہٰذا اس میں ڈالی جانے والی راکھ یہیں رہتی ہے۔  سنگاپور کی اس حکمت عملی سے وہ پلاسٹک جسے غائب ہونے میں 500 برس لگتے ہیں، 1 دن میں غائب ہوجاتا ہے۔ اور یہ سارا عمل اس قدر صاف ستھرا ہے کہ سنگاپور کا قدرتی ماحول اور حسن برقرار ہے، جنگلی و آبی حیات اور نباتات تیزی سے نشونما پا رہے ہیں اور جنگل سرسبز ہیں۔

September 30, 2019

لوبان کی طلسماتی دنیا ’ہر مرض کی دوا‘

جدت ویب ڈیسک ::لوبان کی طلسماتی دنیا ’ہر مرض کی دوا‘ ۔ایک مسافر کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں مسقط کے مطرہ بازار کی پرپیچ گلیوں سے گزر رہا تھا تو پورا بازار لوبان کے خوشبودار دھویں سے اٹا ہوا تھا۔ یہ بھینی بھینی خوشبو عمان کے شہروں اور ثقافت میں پھیلی ہوئی ہے اور میں بھی ہوا میں تیرتی اس نمایاں مٹی کی مہک والی خوشبو سے دور نہیں رہ سکا۔
میں دکانوں کے باہر رکھے سونے اور چاندی کے ملمع شدہ عود دانوں سے اٹھنے والی دلفریب خوشبو کی جانب کھنچا چلا گیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی دکانیں مصالحہ جات، گوند اور کھجوروں کے ڈھیروں سے سجی ہوئی تھیں۔
اس بازار میں خواتین سیاہ عبایا پہنے رنگ برنگے ریشمی حجاب اور شالیں اوڑھے جبکہ مرد ٹخنوں تک ثوب یا لمبے سفید چوغے اور خوبصورت کڑھائی والی کوما ٹوپیاں پہنے لوبان کے ٹکڑے خرید رہے تھے۔
یہ مسقط تھا جو بائبل (انجیل) کی مکمل جادوئی اور حیرت انگیز تصاویر جیسا تھا۔
یقیناً مطرہ بازار دنیا کی ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں سے میں ایک ہی جگہ سے سونا، خوشبودار گوند اور لوبان خرید سکتا تھا، وہ تین تحائف جو پیغمبر عیسیٰ کو بچپن میں مسیحی روایت کے مطابق پیش کیے گئے تھے۔ یہ دو ہزار سال قبل قیمتی تحائف تھے کیونکہ اس وقت لوبان کی قیمت سونے کے برابر لگائی جاتی تھی۔
خوشبو اور علاج کے طور پر چھ ہزار سال سے استعمال کیا جانے والا لوبان (قدیم فرانسیسی زبان ‘فرانک اینسینس’ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ‘خالص خوشبو’) جو ایک بوسویلیا جینس کے درختوں سے کاٹا ہوا خوشبو دار گوند ہے، جو خصوصی طور پر حبس زدہ آب و ہوا والے علاقے میں اگتا ہے جو ہارن آف افریقہ (مشرقی افریقائی علاقوں) سے انڈیا اور جنوبی چین تک واقع ہے۔
دنیا میں زیادہ تر یہ صومالیہ، اریٹیریا اور یمن جیسے ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شورش نے ان ممالک میں لوبان کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن پرامن عمان دنیا کا بہترین اور انتہائی مہنگا لوبان پیدا کرتا ہے جسے قدیم مصری باشندے ‘خداؤں کا پسینہ’ کہتے تھے۔
بوسویلیا سیکرا کا درخت عمان کے جنوبی صوبے ظفار کے ناسازگار علاقے میں پایا جاتا ہے۔ لوبان کے گوند کی قیمت کا تعین اس کے رنگ، اس کے سائز اور اس میں موجود تیل کی مقدار سے ہوتا ہے۔
ان میں سے سب سے قیمتی قسم کو ہوجاری کہا جاتا ہے جو ظفار پہاڑوں کی خشک اور حبس زدہ آب و ہوا میں پایا جاتا ہے اور اس کی کاشت موسم گرما میں مون سون کی آمد سے پہلے کر لی جاتی ہیں کیونکہ اس کے بعد جزیرہ نما عرب پر کہرا چھا جاتا ہے۔
آج اس خطے میں پائے جانے والے لوبان کے درخت اور چوتھی صدی قبل مسیح کے قافلوں کے بہت سے راستے اور بندرگاہیں عمان میں عالمی ثقافتی ورثہ کا حصہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق ’کئی صدیوں سے اس خطے میں پروان چڑھنے والی عطر اور خوشبو کی تجارت قدیم اور قرون وسطی کی دنیا کی ایک سب سے اہم تجارتی سرگرمی تھی۔‘
یہاں سے ہزاروں اونٹوں اور غلاموں پر مشتمل قافلے لوبان لے کر صحرائے عرب کے پار دو ہزار کلومیٹر طویل سفر کے لیے نکلتے تھے جن کی منزل مصر، بابل، قدیم یونان اور سلطنت روم ہوتی تھی جبکہ خوشبودار گوند سے لدے بحری جہاز چین تک سفر کرتے تھے۔ قدیم روم کے ایک عالم پلینی دی ایلڈر (23-79 AD) نے لکھا تھا کہ اس تجارت نے جنوبی عرب کے باشندوں کو ’روئے زمین پر امیر ترین لوگ‘ بنا دیا تھا۔
لوبان اپنے دور کی ایسپرین، پینسیلین اور ویاگرا بھی تھا، اس کو بواسیر سے لے کر ماہواری کی تکلیف اور میلانوما یعنی رسولی تک ہر چیز کا موثر علاج سمجھا جاتا تھا۔
یونانی فوج کے معالج پیڈینیئس ڈیوسورسائڈس نے لوبان کو ایک عجیب و غریب دوا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چپچپی گوند ‘السر کے کھوکھلے پن کو بھر سکتی ہے’ یا ‘خونی زخموں کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہے۔‘
طبی علم کے بارے میں قدیم مصر کی سب سے اہم دستاویز، ایبیرز پیپیرس میں لوبان کو دیگر بیماریوں مثلاً دمہ، خون بہنے، گلے میں انفیکشن اور الٹی کا علاج قرار دیا ہے۔
مصری اسے خوشبو، کیڑے مکوڑے بھگانے اور مردوں کو دفنانے، لاشوں کے گلنے سڑنے سے اٹھنے والے تعفن کو ختم کرنے میں استعمال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر درآمد کرتے تھے۔
یہاں تک کہ جب سنہ 1922 میں بادشاہ توت عن خآمون کی قبر کشائی کی گئی تھی تو اس میں بھی لوبان سے بنا مرہم پایا گیا تھا۔.وبان کو قدیم دور میں پاکیزگی کی علامت کے طور پر جلایا جاتا تھا اور تصور کیا جاتا تھا کہ اس عمل سے الوہیت حاصل ہوتی ہے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اس کا دھواں براہ راست جنت کو جاتا ہے۔ قدیم دنیا کے بہت سے مندروں میں اسے خاص اہمیت حاصل تھی۔
میرے مقامی گائیڈ امور بن حماد الحسنی نے مجھے بتایا کہ ’ہم سانپوں کو بھگانے کے لیے لوبان کو جلاتے ہیں‘۔ میرا گائیڈ مجھے شمالی عمان کے الداخلیہ کے علاقہ میں موجود سترہویں صدی کے نجوہ قلعہ بھی لے کر گیا۔
یہ قلعہ متعدد تجارتی راستوں کے سنگم پر واقعہ ہونے کے وجہ سے خاص سٹریٹجک حیثیت کا حامل رہا ہے اور اسے ایک دور میں ‘اسلام کا موتی’ بھی کہا جاتا تھا۔
اس قلعہ کی ایک دکان میں سیلز گرل میثا الزھرا نصر الحسنی نے بتایا کہ ہم اسے جنوں اور بدروحوں کو بھگانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس دکان پر لوبان سے بنے تیل، پرفیومز اور لوشن موجود تھے۔ حماد الحسنی کے سونے کے کام والے چوغے کو بھی لبان کے عطر میں بھگویا گیا تھا۔
عمان میں قیام کے دوران میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ کس طرح لوبان آج بھی عمانی ثقافت کا لازمی جز ہے۔
نزوا شہر میں میں نے عمانیوں کو کھانے والی لوبان کے گوند کو اپنی سانسوں کو تازہ کرنے کے لیے چباتے دیکھا تھا۔
ایک دکاندار نے مجھے بتایا کہ ’حاملہ خواتین بھی اس کو چباتی ہیں کیونکہ حاملہ مائيں یہ سمجھتی ہیں کہ ’اس کی خصوصیات ذہین بچے کی پیدائش کو یقینی بنائے گی۔‘
یہ صحت مند نظام ہاضمہ اور جلد کے لیے ادویات کے طور پر اور چائے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عمانی اس کی خوشبو کا استعمال اپنے گھروں سے مچھروں کو بھگانے کے لیے کرتے ہیں اور کھانے کے بعد بخور جلانے والے کے قریب سے گزرنا مہمان نوازی کا علامت سمجھا جاتا ہے۔ لوبان کے استعمال کو عمانی معاشرے میں احترام اور امارت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
تریگوے ہیرس کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے ظفار میں عطر بنانے اور لوبان کی گوند کی صفائی کی ڈسٹلری کی مالکن ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’عمانی قسم کھاتے ہیں کہ جبل سمھان یا حاسک سے حاصل کیے جانے والے سفید لبان کے ’قطرے‘ ہترین ہوتے ہیں۔ یہ سب سے خالص اور مہک والے ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا پسندیدہ لوبان کالا لوبان ہے جو سلالہ کے مغرب میں الفضایہ کے پہاڑوں سے آتا ہے۔ انھوں نے مجھے تانبے سے بنے پرانے مشکوں سے بھرا ایک کمرہ دکھایا جس میں وہ بڑی
احتیاط سے نازک گوند سے تیل نکالتی تھیں۔مختلف علاقوں کی مٹی، آب و ہوا اور اس کی کٹائی کے اوقات مختلف رنگوں کی گوند پیدا کرتے ہیں اور عام طور پر گوند جتنی سفید ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی بھی ہوتی ہے۔
گرمیوں میں ہیرس لوبان کا مربع بھی بناتی ہیں جسے وہ مسقط کے بازار میں کرائے پر لیے گیے ٹھیلے پر فروخت کرتی ہیں اور مقامی افراد یہ ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے ہیں۔
ہیرس پہلی بار سنہ 2006 میں عمان آئی تھیں تاکہ وہ نیویارک میں خوشبودار تیل کی دکان کھولنے کے لیے یہاں سے سامان لے جا سکیں۔ ’لیکن عمان میں بھی مجھے صرف صومالیہ کا تیل ملا تھا نہ کہ اعلی معیار کا عمانی تیل۔ کیونکہ اس وقت اسے کوئی کشید نہیں رہا تھا۔’
وہ عمان کی سب سے بڑی پرفیوم کمپنی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’ حتی کہ اماگیو بھی نہیں۔‘ یہ کمپنی مہنگے لوبان کے عطر اور پرفیومز بنانے کے لیے مشہور ہے۔
سنہ 2011 میں وہ ظفار کے دارالحکومت صلالہ منتقل ہو گئی تھی اور انھوں نے وہاں خشبوؤں کی ایک دکان بنا لی تھی۔ آج وہ مسقط میں مقیم ہیں اور بین الاقوامی پرفیومز بنانے والے چھوٹے اداروں اور تیل خریدنے والی کمپنیوں کو اپنی اشیا بیچتی ہیں۔
وہ روزانہ دو سے تین کلو تک بوسویلیا سیکرا کا جوہر تیار کرتی ہے جس کی قیمت 555 پاؤنڈ فی کلو ہے۔
بظاہر تمام عمانی لبان بوسیلیا سیکرا کے درختوں سے کاشت کیا جاتا ہے جو ظفار کے صحرا میں جنگلی جھاڑیوں کی طرح اگتے ہیں اور ان کی ملکیت مقامی قبائل کے پاس ہے۔ اس کی کاشت ہر برس اپریل میں شروع ہوتی ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گوند کا بہاؤ زیادہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔
مزدور پیڑ کے تنے میں جگہ جگہ کاٹ دیتے ہیں تاکہ اس جگہ سے دودھیا رس نکل کر نیچے آئے جس طرح موم بتی سے موم نیچے آتا ہے۔ اس رس کو دس دنوں تک گوند بننے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب پیڑ کے تنے سے پیڑ کے ‘آنسو’ پوچھ لیے جاتے ہیں تو پھر کسان اسی جگہ پھر سے کاٹ دیتے ہیں۔ اور وہ کئی بار ایسا ہی کرتے ہیں اور جاڑے سے قبل وہ آخری فصل نکالتے ہیں جو کہ سب سے زیادہ قیمتی گوند ہوتا ہے۔
لوبان کو ماحول کو عطر بیز بنانے، تقدس پیدا کرنے اور مہمانوازی کے لیے جلایا جاتا ہے
پانچ سال تک کاٹتے رہنے کے بعد اس پیڑ کو پانچ سال تک پھر نہیں چھوا جاتا ہے یعنی وہاں سے پھر رس کشید نہیں کیا جاتا ہے۔
بہر حال دور حاضر میں عمان کے نادر بوسویلیا سیکرا درختوں کو عالمی سطح پر اس کی مانگ میں اضافے سے خطرہ لاحق ہے۔ ماہر نباتات اور ‘بوسویلیا: خوشبو کے مقدس درخت’ نامی کتاب کے مصنف جوشوا اسلامہ کا کہنا ہے کہ ‘ بین الاقوامی بازار میں خوشبودار تیلوں اور کلیت والی دواؤں میں خوشبودار لوبان میں لوگوں کی تازہ دلچسپیوں نے بوسویلیا کے قدرتی زخائر پر اثرات مرتب کیے ہیں۔’
بوسویلیا سیکرا کو بین الاقوامی سطح پر تقریبا معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پودوں کی سرخ فہرست میں شامل کیاگیا ہے جبکہ نیچر میگزن میں شائع ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیڑ اس قدر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں کہ آنے والے 20 سالوں میں لوبان کی پیداوار 50 فیصد ہی رہ جائے گی۔
ایک دوسری رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ایک پیڑ سے دس کلو گرام اوسطا خوشبودار گوند حاصل کرنے میں کافی کمی آئی ہے اور اب یہ کم ہو کر 3۔3 کلوگرام فی پیڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں ظفار کے سمہان پہاڑی کے قدرتی زخائر میں بوسویلیا سیکرا کے درخت کی آبادی 85 فیصد کم ہو گئی ہے،۔
سائنسدانوں نے قحط سالی، حد سے زیادہ چراگاہ کے طور پر استعمال، کیڑوں کے حملے اور مسلح صومالی سمگلروں کی غیر قانونی کشید کو رس کی کمی کا سبب بتایا ہے۔ اور اسی سب عمان کے سطان نے حالیہ برسوں کے دوران اس وادی کی حفاظت کے لیے مسلح گارڈز تعینات کیا ہے۔
تاہم عمان کی ماحولیاتی سوسائٹی کے پروجیکٹ منیجر ڈاکٹر محسن الامری کا کہنا ہے کہ ناقابل عمل کٹائی اس پودے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا: ‘کم تجربہ کار جزوقتی مزدور رس نکالنے کے روایتی طریقے کو نظر انداز کرتے ہوئے درختوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔’
ان کے مطابق چھوٹے اور غیر تیار پیڑ سے بھی رس نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ عالمی بازار میں مانگ میں اضافے کو پورا کرنے کے لیے تیار پیڑ سے بھی ضرورت سے زیادہ رس نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بوسویلیا کی قلمیں کم ہی تعداد میں نوخیز پودوں اور بڑے درختوں میں بدل پاتی ہیں۔
میں عمان کے لوگوں کو لوبان کی ڈلیوں کی جانچ کرتے اور رنگ اور مقام کی بنیاد پر اس کی قیمت طے کرتے دیکھ کر کبھی ان چیزوں کو نہیں جان سکتا تھا۔
اس بازار کی پرپیچ گلیوں نےمجھے مسقط کے بندرگاہ مطرہ کورنش پرومینیڈ تک پہنچایا تھا جو کہ بحیرہ عرب کے ساحل کے ساتھ تھا۔ یہان مطرہ کی جامع مسجد کے فیروزی گنبد و مینار نمایاں تھے۔ روایتی بادبانوں والی عربی کشتی جلی ہوئی حنا کے رنگ کے پہاڑوں کے درمیان خیلج میں ایک کے بعد ایک نظر آ رہی تھی۔ موذن نمازیوں کو بلا رہے تھے اور وہاں کی فضا عمان کی مخصوص خوشبو سے معطر تھی۔
بشکریہ بی بی سی

Related image

Image result for loban tree benefits

Image result for loban tree benefits

لوبان کے ٹکڑے

September 13, 2019

کائنات میں زندگی کی تلاش ماہرین فلکیات نے سیارے پر پانی دریافت کرلیا

لندن: جدت ویب ڈیسک :::ماہرین فلکیات نے پہلی بار ایک ایسے سیارے پر پانی تلاش کرلیا ہے جہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ماہرین فلکیات نے پہلی بار ایک ایسے سیارے پر پانی تلاش کیا ہے جہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے، زندگی کے لیے موزوں سمجھا جانے والا یہ سیارہ خلا میں بہت دور ایک ستارے کے گرد اتنے فاصلے پر گردش کررہا ہے کہ اس پر زندگی ممکن بنانے والے حالات موجود ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق (کے ٹو اٹھارہ بی) نامی یہ سیارہ اس دریافت کے بعد کائنات میں زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں اہم امیدوار بن گیا ہے۔
اب اگلا مرحلہ یہ ثابت کرنے کا ہے کہ اس سیارے کی فضا میں ایسی گیسیں موجود ہیں، جو وہاں زندگی ممکن بناپائیں، اس کے لیے نئے اور مزید طاقتور ٹیلی اسکوپ چاہیے ہوں گے اور ایسا کرنے میں دس سال لگ سکتے ہیں۔اس مشن کے رہنما سائنس دان یونیورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر گیووانا ٹینیٹی نے پانی کی اس دریافت کو ’ہوش اڑا دینے والی دریافت‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہم نے ایک ایسے سیارے پر پانی کے آثار دیکھے ہیں جو اپنے ستارے سے اتنے فاصلے پر گردش کررہا ہے کہ وہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے۔
زمین سے 111 نوری سال یعنی 650 ملین میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں خلائی گاڑی کے ٹو اٹھارہ بی یونیورسٹی کالج کی ڈاکٹر انگو والڈمان کے مطابق سیارہ بھیجنا ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر انگو والڈمان کے مطابق اس صورت حال میں وہاں زندگی کی موجودگی کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ہمیں خلا میں دیکھنے والی ٹیلی اسکوپ کے ان نئے ماڈلز کا انتظار کرنا ہوگا جو 2020 کی دہائی میں تیار ہوں گے۔

Image result for water discovered on planet

Image result for water discovered on planet

Image result for water discovered on planet

September 7, 2019

مرغے نے عدالت سے بانگ دینے کا مقدمہ جیت لیا

جدت ویب ڈیسک ::فرانس کی علاقائی عدالت نے ایک کیس میں مرغے کو بانگ دینے کی اجازت دے دی جس پر پڑوسیوں کی نیند میں خلل ڈالنے کا الزام تھا۔
فرانسیسی جزیرے اولیراں میں موریس نامی مرغے پر ایک معمر جوڑے نے مقدمہ کیا تھا کہ اس کی بانگ صبح کی نیند میں خلل کا سبب بنتی ہے لہذا اسے چپ کرایا جائے۔
مقدمہ ایک معمر جوڑے نے دائر کیا تھا جو چھٹیاں گزارنے کی غرض سے وہاں اپنے گھرمیں قیام پذیز تھا
مرغے کا مقدمہ لڑنے والی خاتون وکیل نے کہا کہ 40 ہمسائیوں میں سے صرف دو افراد کو بانگ سے مسئلہ ہے۔
فیصلہ حق میں آنے کے بعد مرغے کی مالکن نے کہا کہ موریس نے آج پورے فرانس کا مقدمہ جیتا ہے۔
مرغے کی مالکن کورین فیسو موریس نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ موریس کی بانگ روکنے کے لیے انہوں نے متعدد بار ایک تاریک ڈربے میں بند کیا تاکہ اس تک سورج کی روشنی نہ پہنچ سکے۔
اپنی نوعیت کے انوکھے مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے آئے ایک دیہاتی نے کہا کہ یہ درحقیقت شہری اور دیہاتی عوام کے درمیان فرق کا نتیجہ ہے، ہم شہر جا کر مطالبہ نہیں کرتے کہ یہاں گاڑیوں کا شور اور عوام کی بھیڑ کیوں ہے۔
دوماہ قبل کیس کی پہلی سماعت پر مدعی اور ملزم تو جج کے سامنے حاضر نہیں ہو سکے لیکن موریس کے ساتھی ایک مرغی اور ایک مرغا عدالت کے احاطے میں گھومتے پائے گئے تھے۔

Related image

Image result for rooster in court

Image result for rooster in court

September 2, 2019

سال میں ایک دن کیلئےنمودار ہونے والے جزیرے پر دلچسپ کرکٹ میلہ

جدت ویب ڈیسک ::انگلینڈ میں سمندر کے جنوبی ساحل کےقریب ایک دن کے لئے نمودار ہونے والے جزیرے پر اس بار بھی کرکٹ کا میلہ سجایا گیا۔ لوگ کشتیوں میں جزیرے تک پہنچے اور اس روایتی میچ کوگہری دلچسپی سے دیکھا۔اس بار آئی لینڈ سیلنگ کلب کی ٹیم نے فتح کا تاج اپنے سر سجایا۔
قابل غور اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر کے بیچ میں ہر سال ایک جزیرہ صرف ایک گھنٹے کے لیے نمودار ہوتا ہے جسے بریمبل بنک کہا جاتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس جزیرے پر ہرسال ایک تاریخی میچ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دو ٹیمیں رائیل سدرن کلب اورآئی لینڈ سیلنگ کلب مدمقابل ہوتی ہیں۔
ان میچز کا سلسلہ1950 سے جاری ہے، اس میچ کو دیکھنے کے لیے لوگ کشتیوں پر سوار ہوکر جاتے ہیں اور اس میچ سےخوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔
حیران کُن بات یہ ہے کہ یہ جزیرہ مختلف تاریخوں پر نمودار ہوتا ہے، اس لیے میچ کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی جاتی۔
پچھلے سال یہ جزیرہ 15 جولائی کو نمودار ہوا اورمیچ کاا نعقاد کیا گیا جب کےاس سال یہ یکم ستمبر کو نمودار ہوا جہاں روایتی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا گیا۔  میچ شروع ہونے سے قبل مذہبی پیشوا میچ کو شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور میچ شروع ہوجاتا ہے۔
اس سال آئی لینڈ سیلنگ کلب کی ٹیم میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ شائقین کی خاصی بڑی تعداد اپنی اپنی کشتیوں پر میچ کو دیکھنے کے لیےآئی اور کھلاڑیوں کو بھر پورداد دی۔

Image result for Annual Bramble Bank cricket match in middle of SolentBramble Bank

August 27, 2019

سوشل میڈیا کا محاذ…. پاکستان کے نام

جدت ویب ڈیسک ::ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا ثبوت انڈین میڈیا پر سنائی دینے والی چیخیں ہیں۔ کہیں وہ حمزہ علی عباسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ایک ایک ٹویٹ پر پورے پورے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ انڈیا کا ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل عطا حسنین بھی آئی ایس پی آر کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
جس طرح آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کو متحد کیا اور سوشل میڈیا پر انڈین پروپیگینڈے کا جواب دیااور ملک کے طول ارض کے تمام نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دشمن کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر صارفیںن صدر پاکستان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ٹویٹر اکاونٹ کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
انڈین یقینا آئے روز کشمیر کے متعلق ٹویٹر ٹرینڈ سے بہت پریشان ہیں۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی پاکستانی کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں تو کچھ انڈین ان کو مصروف کرنے کے لیے جواب میں موضوع سے ہٹ کر یو ٹیوب لنک شعیر کرتے ہیں اور بحث پر لے آتے ہیں تا کہ وہ ٹویٹر صارف ٹرینڈ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایسے ٹویٹر صارفین کے فالورز بہت کم ہوتے پیں یعنی وہ “را” کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں آتا تو گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح باقی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
چند روز پہلے انڈیا نے سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پروپیگینڈا کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جس میں انڈیا کی ٹی وی چینل اور ٹویٹر ٹرینڈ پیش پیش تھے۔
اس کا مقصد پاکستانی عوام کا مورال گرانا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کی مثبت چل رہی ہے اس کو گرایا جائے۔ مگر اس ٹرینڈ کے چلتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس پروپیگینڈے کو ناکام کر دیا گیا اور ہمارے ٹی وی چینل نے بھی بھر جواب دیا۔
یہاں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے سوشل میڈیا محاز سے کس قدر بوکھلایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی ہائبرڈ وار کو ہم سب پاکستانیو کو سمجھنا چاہئیے۔ اس محاز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ آپ کی ہر پوسٹ ، ہر ٹویٹ انڈیا کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ لہزا ہر محب وطن پاکستانی کو اس محاذ پر پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آنا چاہئیے۔
حکومت پاکستان نے کشمیر میڈیا سیل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو یقینا انڈیا کے لیے بہت بری خبر ہے۔
پاکستان کی ہائیبرڈ وار میں کامیابی اپنی جگہ مگر ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ بھی کافی حد تک جانب دار ثابت ہوئی ہے۔
ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اکاونٹ بند کئے گئے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کی ہامی بھری۔
یقینا اس محاز کو مزید موثر بنانے کے لیے پاکستان کو ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہئیے۔ اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بننا چاہئیے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔

August 26, 2019

 کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئی آپکو دیکھ رہا ہے

جدت ویب ڈیسک :  کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئی آپکو دیکھ رہا ہے سائنس کی ترقی کے باعث دنیا نے ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس نئی دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی طریقے سے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے یا اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلومات رکھتا ہے۔  انسانوں کو آپس میں جوڑے رکھنے کا ایک اہم ذریعہ انٹرنیٹ بھی ہے جو ناصرف ہمیں ان لوگوں کی معلومات فراہم کرتا ہے جنہیں ہم ذاتی طور پر نہیں جانتے بلکہ ہمیں ہمارے جاننے والوں سے بھی جوڑے رکھتا ہے۔ سائنس کا ایک کرشمہ یہ بھی ہے کہ آپ کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور آپ کی جاسوسی کی جارہی ہوتی ہے لیکن یہ جاسوسی کن کن طریقوں سے کی جاتی ہے یہ آج ہم آپ کو بتائیں گے۔

سیکیورٹی کیمرہ

بہت سی جگہوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کیمرے لگائے جاتے ہیں۔ بہت سے جرائم کی روک تھام اور مجرموں کی نشاندہی کے لیے سیکیورٹی کیمروں سے مدد لی جاتی ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان ہی سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے آپ کی جاسوسی بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ پارک اور گلیوں میں لگے کیمرے آپ کی تمام نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

موبائل فون

موبائل فون ایک نہایت کارآمد آلہ ہے اور آج کل کے دور میں یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ بنیادی ضرورت آپ کی جاسوسی کا بہترین ہتھیار بھی ہے۔ فون سگنل کے ذریعے آپ کس مقام پر موجود ہیں اس کا تعین کیا نہایت آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ

کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ نے روزمرہ زندگی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جتنی مرتبہ بھی آپ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کو سوائپ کرتے ہیں آپ ڈیجیٹل انداز میں اس جگہ اپنی موجودگی کا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ

بظاہر انٹرنیٹ کسی بھی شخص کی جاسوسی کرنے کے لیے سب سے آسان اور ہتھیار تصور کیا جاتا ہے۔ جب بھی آپ کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں تو آپ کا ڈیٹا آئی ایس پی کے  ذریعے ریکارڈ کر لیا جاتا ہے اور ویب سائٹ کے مالک ’کوکیز‘ کے ذریعے اس کو اسٹور کر سکتے ہیں۔

زیادہ تر یہ معلومات کچھ خاص اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں لیکن کبھی کبھی ہو بھی جاتی ہیں۔

گاڑیاں

جدید ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیوں میں جہازوں میں پائے جانے والے بلیک باکس کی طرز پر بلیک باکس پائے جاتے ہیں۔ یہ بلیک باکس آپ کے سفر سے متعلق تمام تفصیلات کو ریکارڈ رکھتے ہیں جیسا کہ آپ کی گاڑی کی رفتار کیا تھی، آپ کس مقام پر کتنی رفتار سے ڈرائیونگ کر رہے تھے اور ایکسیڈنٹ کے وقت آیا آپ نے بریک ماری تھی یا نہیں۔

گاڑیوں میں جی پی ایس بھی پایا جاتا ہے جس کے ذریعے آپ جہاں بھی جائیں اس کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا رہا ہوتا ہے۔

چہرے کی شناخت

ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ اب کوئی بھی ڈیوائس آپ کے چہرے کو پہچان کر اسے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ چہرے کے خدوخال محفوظ کرنے کے بعد یہ ڈیوائس آپ کی تمام تصویروں کی شناخت کر سکتی ہے۔ اگر ڈیوائس کی سرچ کرنے کی اہلیت اتنی زیادہ ہے تو سوچیں کہ سرچ انجن کی کتنی زیادہ ہو گی۔

تصویریں

کیمرہ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے آپ کی جاسوسی بہت آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ ہر کیمرے میں ایک ایسی چِپ پائی جاتی ہے جو کہ صارف کے میٹا ڈیٹا کو محفوظ رکھتی ہے۔ اس ڈیٹا میں دراصل یہ معلومات محفوظ ہوتی ہیں کہ کون سی تصویر کب اور کہاں کھینچی گئی ہے۔ لہٰذا جب بھی آپ کوئی تصویر اپ لوڈ کریں یا پرنٹ کریں تو میٹا ڈیٹا کے ذریعے جس مقام پر تصویر لی گئی تھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔

August 5, 2019

مجھے گولی لگ گئی ہے…ایک فوجی کی کہانی، جانیے

مجھے گولی لگ گئی ہے…!!!
وہ درد کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے بمشکل بولا.
او شِٹ, میں نے میگزین میں موجود چند راؤنڈ فائر کر کے اس کی طرف دیکھا, وہ اپنا بائیاں کاندھا دبائے ہوئے بیٹھا تھا, خوں اس کی انگلیوں کی درزوں سے ابل کر باہر آ رہا تھا.
ہاتھ ہٹاؤ…. میں شولڈر بیگ کندھے سے اتارتے ہوئے کہا.
لالا آپ مورچے پر رہو, ایسا نا ہو وہ اوپر چڑھ آئیں… وہ دانت بھینچ کر کراہتے ہوئے بمشکل بولا,
نہیں چڑھتے… میں نے فرسٹ ایڈ کِٹ بیگ سے نکالتے ہوئے جواب دیا.
میں نے نرمی سے اس کے ہاتھ زخم سے ہٹائے, اور لرز کر رہ گیا, گولی نے ہنسلی کی ہڈی بری طرح توڑ ڈالی تھی, اسے فرسٹ ایڈ کی نہیں آپریشن تھیٹر کی ضرورت تھی.
خیر اے, زخم زیادہ نہیں ہے… میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا, اور قینچی کے ساتھ اس کی شرٹ کاٹنے لگا, فائرنگ اچانک تیز ہو گئی تھی, گولیاں ان پتھروں سے ٹکرا رہی تھیں, جو ہم نے مورچے کے لیئے چُن رکھے تھے, زخم میری توقع سے زیاد خراب تھا, خون روکنا بہت ضروری تھا, جو بھل بھل بہہ رہا تھا.
کِٹ میں ہر قسم کا سامان موجود تھا, مگر ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اسے چاہیئے تھا, میں نے اینٹی بائیوٹک لوشن اچھی طرح زخم پر چھڑکا, ڈھیر سی کاٹن جمائی, اور پٹی لپیٹنے لگا.
راځی…. بہت قریب سے آواز آئی,
میں نے خون سے سَنے ہاتھوں کے ساتھ جیکٹ کی پاکٹ سے میگزین نکالا, سرعت کے ساتھ میگزین بدلا, اور جست لگا کر مورچے کی دیوار پر پہنچا, ایک شخص چند قدم کے فاصلے پر موجود تھا, میں نے اسے باڑھ پر رکھ لیا, وہ بری طرح چیختا ہوا نیچے گرا اور ڈھلان پر لڑھکتا ہوا اندھیرے میں غائب ہو گیا.
ایک بار پھر بہت سی گنیں گرجنے لگیں.
میں ناصر کے پاس بیٹھ گیا, پٹی سرخ ہو چکی تھی, یعنی خون کا اخراج اب بھی جاری تھا.
ناصر ایک بیس سالہ نوجوان تھا, بھوری آنکھیں, شہد رنگ بال, گوری رنگت اور دلنشین نین نقش,وہ بلا کا حاضر دماغ اور خوش اخلاق نوجوان تھا, وہ اٹک کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا تھا, اور دو ماہ قبل پاس آؤٹ ہوا تھا, اس کی پہلی پوسٹنگ ہی سوات میں ہوئی تھی, وہ سوات جو ان دِنوں میدانِ جنگ تھا, لالا آپ کو میرے گاؤں کا پتہ ہے؟… وہ بولا
آھو, تم نے بتایا تو تھا… میں نے بیگ سے مزید کاٹن اور پٹی نکالتے ہوئے کہا
لالا تم میرے گاؤں جانا
آھو تمہارے ساتھ ہی چلوں گا… میں نے کہا.
میں شائد نا جا سکوں… اس کی آواز بہت مدہم تھی.
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا, وہ نڈھال ہو رہا تھا, میں نے خطرے کی پرواہ کیئے بغیر ٹارچ جلا کر اس کا چہرہ دیکھا, وہ پیلا ہو رہا تھا, دھان پان سے لڑکے میں خون تھا ہی کتنا.
فائرنگ تھم گئی تھی, اکا دکا فائر ہو رہے تھے, شائد وہ اپنے ساتھی کی موت کے بعد کوئی نئی حکمتِ عملی بنا رہے تھے.
میں نے جلدی سے انجیکشن نکالا, سرنج میں بھرا اور ناصر کے بازو میں لگا دیا,
لالا وہ بھاگ گئے ہیں؟
آھو وہ حرام کے جنے بھاگ گئے ہیں, تو فکر نا کر ابھی کمک آ جائے گی, فیر ہم بیس کیمپ چلے جائیں گے, تو ٹھیک ہو جائے گا… میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا.
لالا تم میرے گاؤں ضرور جانا… وہ میری بات شائد سن ہی نہیں رہا تھا.
وہاں میری اماں ہے, اسے نظر نہیں آتا, پر وہ مجھے دور سے آتا دیکھ لیتی ہے, پتہ نہیں کیسے… وہ کمزور سی آواز میں ہنسا.
مجھے آہٹ سنائی دی میں پھُرتی سے مورچے کی دیوار کے پاس پہنچا, کوئی نہیں تھا…. مگر چھٹی حِس کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے,
لالا جاؤ گے نا… ناصر نیم غشی کی کیفیت میں بول رہا تھا.
اچانک مجھے ڈھلان پر موجود ایک درخت کے ساتھ سیاہ سی چیز ہلتی نظر آئی, وہ سر پر بندھی بڑی سے سیاہ پگڑی تھی, میں نے پورے سکون کے ساتھ نشانہ لیا اور فائر کر دیا, ایک کریہہ اوہ کی آواز بلند ہوئی اور کوئی چیز دھب سے زمین پر گری, ساتھ ہی ایک بار پھر فائرنگ شروع ہو گئی.
لالا اماں بلکل اکیلی ہوتی ہے, بابا چار سال پہلے فوت ہو گئے, ہماری ساری بکریاں وباء کا شکار ہو کر مر گئیں, مجھے فوجی بننے کا بہت شوق تھا… وہ ہانپنے لگا, وہ مر رہا تھا مگر میں اس خوبصورت جوان کے لیئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا.
اماں کہتی تھی فوجیوں کی مائیں بھی بہادر ہوتی ہیں…. وہ ایک بار پھر ہمت جمع کر کے بولا
اتنی بہادر کہ ساری زندگی کی کمائی وطن کے نام لگا دیتی ہیں….
بس اب چپ کر جا… میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا, جو اب سرد ہو رہا تھا.
لالا تم میرے گاؤں جانا, سب سے پہلے جانا
اس سے بھی پہلے کہ جب لوگ مجھے گاؤں لے کر جائیں… تم ان سے پہلے جانا…. سب سے پہلے… اس کے جملے بے ربط ہو رہے تھے.
ناصر…. میں نے اس کے دائیں کاندھے کو جھنجھوڑا.
اللہ کا واسطہ لالا…. میری… میری بات سن لو,,, اس کی آواز میں ایسا کرب تھا کہ میں تڑپ کر رہ گیا.
ہاں ہاں بول جانی, میں سن رہا… بول شہزادے
میں نے اس کا برفاب ماتھا چوما
لالا تم سب سے پہلے میرے گاؤں, میری اماں کے پاس جانا…. اور کچھ نا کرنا, بس میری ماں کے کانوں میں آہستہ سے کہنا کہ تیرا ناصر شھید ھو گیا…. بس
وہ بری طرح ہانپنے لگا, سانس اٹکنے لگی
کیوں شہزادے… ایسا کیوں؟ میں نے اس کا برف ہوتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر گرم کرنا چاہا.
لالا جب تم اسے بتاؤ گے نا, تو دیکھ لینا وہ اسی لمحے مر جائے گی, وہ مجھ سے پیار ہی اتنا کرتی ہے,
لالا میں چاہتا وہ مجھے مرا دیکھنے سے پہلے مر جائے, تم…. تم…. تم سب سے…سب سے پہلے گاؤں جانا لالا………….. 😢😢😢
#PakArmy 🇵🇰
.#منقول