December 29, 2020

سماجی دوری میں مدد فراہم کرنے والا انوکھا سویٹر

ویب ڈیسک ::سماجی دوری میں مدد فراہم کرنے والا انوکھا سویٹر،غیرمعمولی حالات بے نظیر سویٹر کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہ ایک کمپنی سمپلی سیف کا نعرہ ہے جس نے ایسا سویٹر تیار کیا ہے جو لوگوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سماجی دوری کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کووڈ 19 کے عہد کا یہ منفرد سویٹر اس وقت ایک الارم بجانے لگتا ہے جب دیگر افراد آپ سے 6 فٹ سے کم دوری پر آجاتے ہیں۔ ویسے تو یہ کمپنی ہوم سیکیورٹی سسٹمز تیار کرتی ہے تاہم اس کی جانب سے اس سویٹر کا عملی پروٹوٹائپ تیار کیا گیا ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری ویڈیو کے مطابق ‘اپنے خاندان کو یاد دلائیں کہ آپ ان کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں، مگر یہ مسرت 6 فٹ کے فاصلے سے ہونی چاہیے’۔
ویڈیو میں ایک شخص کو ماسک اور سویٹر پہنے دکھایا گیا ہے اور جب دیگر افراد اس کی جانب بڑھتے ہیں تو ایل ای ڈی لائٹس جگمگانے اور الارم بجنے لگتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ سوشل ڈسٹن سویٹر لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لیے ابھی وبا کا خاتمہ نہیں ہوا اور احتیاط ضروری ہے۔ اس میں ایسے موشن سنسرز دیئے گئے ہیں جو دیگر افراد کی قربت کا تعین کرتے ہیں۔بیان میں بتایا گیا کہ سویٹر میں 4 لو ریزولوشن تھرمل کیمروں کو مانیٹرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ایک سادہ الگورتھم کے ذریعے وہ ارگرد کے درجہ حرارت کا تجزیہ کرتے ہیں اور قریب موجود کسی گرم جسم کو تلاش کرتے ہیں۔ویسے اس نے واضح کیا ہے کہ یہ وائرس سے فول پروف تحفظ فراہم نہیں کرتا بلکہ یہ نئے سال کی تعطیلات کے موقع پر ایک تفریحی بات چیت کے لیے تیار کیا گیا۔
ویسے تو یہ پروٹوٹائپ ہے مگر کمپنی کی جانب سے لوگوں کو مفت ایسے سویٹرز دیئے جارہے ہیں جن میں ٹیکنالوجی اور سنسرز موجود نہیں، بلکہ لوگوں کو اپنی مرضی سے انہیں اپ گریڈ کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔
یعنی وہ کمپنی کی ویب سائٹ پر جاکر اپ گریڈ کرنے کی ہدایات پڑھ کر ا میں الارم، لائٹ اور سنسرز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

Social Distancing Sweater offers playful way to protect yourself during  holiday celebrations - dlmag

December 22, 2020

سورج کے قریبی ستارے سے آنے والے عجیب سگنل کی دریافت

ویب ڈیسک ::ماہرین فلکیات کو زمین کے قریب سے ایک عجیب خلائی سگنل ملا ہے، جو سورج کے قریب ترین ستارے پروکسیما سنچوری کی سمت سے آرہا ہے۔
انگیجیٹ کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی پارکیز ٹیلی اسکوپ کے ماہرین فلکیات نے پروکسیما سنچوری کے اسٹار سسٹم سے عججیب ریڈیو سگنل کو دریافت کیا تھا۔
یہ سگنل 982 میگا ہرٹز بینڈد پر تھا جو انسانی ساختہ اسپیس کرافٹ میں استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قدرتی عمل سے ایسا ممکن ہے۔
پروکسیما سنچوری میں ایک زندگی کے لیے موزوں ماحول والا ایک سیارہ تو ہے مگر اس عجیب سگنل کو خلائی زندگی کی علامت فی الحال سمجھا نہیں جاسکتا۔
اس سگنل کا مشاہدہ اپریل اور مئی 2019 میں ہوا تھا اور اس کے بعد سے اسے دیکھا نہیں گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس کی محتاط تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں اور غیرممولی سگنلز کی مکمل وضاحت ممکن نہیں۔اس اسٹار سسٹم کا یہ سیارہ زمین سے ‘محض’ 4.2 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
ماہرین کے خیال میں ان سگنلز کی ممکنہ وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ کسی نامعلوم زمینی ساختہ شے کی وجہ سے ہوسکتے ہیں یا کوئی قدرتی مظہر اس کے پیچھے ہوسکتا ہے۔
خلائی زندگی پر تحقیق کرنے والے ادارے بریک تھرو لیسن پراجیکٹ کی ٹیم میں شامل صوفیہ شیخ نے کہا کہ یہ سگنل ادارے کے زمینی انٹرفیرنس اور قدرتی مظہر کے لیے بیشتر فلٹرز سے نہیں گزرے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا موازنہ 1977 کے واؤ سگنل سے کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ کیا ہے کہ تو کچھ عرصے میں معلوم ہوسکتا ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ خلائی زندگی سے اس کا تعلق نہیں ہوگا، مگر پھر بھی یہ جواب خلائی جواب بہت کارآمد ثابت ہوگا۔

Strange radio signal fired from nearby star is 'serious candidate' for proof of alien life, scientists say

Strange radio signal fired from nearby star is 'serious candidate' for proof of alien life, scientists say

Alien hunters detect mysterious radio signal from Proxima Centauri

December 22, 2020

خون جمانے والی ٹھنڈ میں گلگت بلتستان کا ’میفنگ‘ تہوار

پاکستان کے دیگر صوبوں اور خطوں کی طرح گلگت بلتستان کی بھی اپنی ثقافت اور روایات ہیں، جن کے مطابق وہاں نہ صرف گرمیوں بلکہ خون جما دینے والی سردیوں میں بھی جشن کے تہوار منائے جاتے ہیں۔
ایسے ہی تہواروں میں ’میفنگ‘ نامی تہوار بھی شامل ہے، جسے ہر سال 21 اور 22 دسمبر کی درمیان شب منایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’میفنگ‘ تہوار کو سال کی سب سے لمبی ترین رات کو منایا جاتا ہے اور مقامی افراد کے مطابق یہی رات سال کی سرد ترین رات بھی ہوتی ہے۔
’میفنگ‘ کے تہوار کو خاص طور پر بلتستان ڈویژن میں منایا جاتا ہے اور مقامی لوگ اس تہوار کو ’لوسار‘ بھی کہتے ہیں، جس کی معنی نئے سال کا جشن ہے۔
’میفنگ‘ لفظ بھی بلتی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی روشنی یا آگ پھیلانا ہے اور چوں کہ اس فیسٹیول کے دوران ہر کوئی شام ڈھلے آگ کے شعلے ساتھ لے کر پہاڑوں پر رقص کرتا اور نعرے لگاتا ہے، اس لیے اسے میفنگ کا تہوار ہی کہا جاتا ہے۔
اس سال بھی 21 دسمبر کی شام ڈھلتے ہی بلتستان ڈویژن کے تمام دیہات، قصبوں اور شہروں میں لوگوں نے یہ جشن منایا اور ہر سال کی طرح خون جما دینے والی سردیوں میں خوشیاں منا کر جانے والے سال کو الوداع اور نئے سال کو خوش آمدید کہا۔اس جشن کو بلتستان کے لوگ نئے سال کا آغاز بھی مانتے ہیں اور اس جشن کو کئی نسلوں سے منایا جا رہا ہے۔ اس جشن کے حوالے سے دیومالائی قصے بھی مشہور ہیں اور ہر مقامی شخص اپنی اپنی معلومات کے مطابق اس تہوار کی تعریف کرتا ہے۔
یہ تہوار ایسے موقع پر منایا جاتا ہے جب کہ بلتستان ڈویژن میں پارہ منفی 16 سے 20 سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

Centuries old Mayfang (Light and Fire) Festival at Gilgit Baltistan

Centuries old Mayfang (Light and Fire) Festival at Gilgit Baltistan

December 17, 2020

جرمنی کا اعلیٰ‌ ترین سائنسی ایوارڈ‌، پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے نام کرلیا

برلن: ویب ڈیسک ::جرمنی نے پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر کو سائنسی تحقیق کے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نواز دیا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی مشہور زمانہ تحقیقی سوسائٹی ماکس پلانک سے منسلک پاکستانی نژاد آصفہ اختر نے 2021ء کا لائبنٹس ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ڈاکٹر آصفہ اختر کا شمار دنیا کے اُن دس سائنسدانوں کی فہرست میں شامل ہے جنہیں 2021 میں منعقد ہونے والی ورچوئل تقریب میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس کو جرمنی میں سائنسی تحقیق کے اعلیٰ ترین ایوارڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر آصفہ اختر کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے جرمنی کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے امیونولوجی اینڈ ایپی جینیٹکس میں خدمات انجام دیں اور اب وہ اس ادارے کی ڈائریکٹر بھی بن چکی ہیں۔انہیں جدید ترین تحقیق کی وجہ سے غیر معمولی شہرت حاصل ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر آصفہ کو ایپی جینیٹکس، جین ریگولیشن اور بنیادی حیاتیاتی سیل پر نت نئے تجربات کرنے اور ان کی مدد سے انتہائی اہمیت کی حامل نئی معلومات منظر عام پر لانے جیسی گراں قدر خدمات پر ایوارڈ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔انہیں ایوارڈ کے ساتھ ڈھائی لاکھ یورو کی خطیر انعامی رقم سے بھی نوازا جائے گا۔میکس پلانک سوسائٹی کے شعبہ حیاتیات اور میڈیسن شیشن کی نائب صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والی ڈاکٹر آصفہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایوارڈ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میں اس کامیابی پر اپنے سابقہ لیب اور موجودی اراکین و ٹیم ممبران کی مشکور ہوں کیونکہ اُن کی انتھک محنت اور جدوجہد کی وجہ سے ایوارڈ کا حصول ممکن ہوا‘۔

Image may contain: 1 person, text that says "German Missions in Pakistan #EUEAAING CELEBRATING EDUCATIONI DR. ASIFA AKHTAR, AMAX PLANCK SCIENTIST, TO RECEIVE GERMANY'S MOST PRESTIGIOUS RESEARCH FUNDING AWARD"

December 10, 2020

دنیا کی نایاب ترین وہیلز بلوچستان کے سمندر میں

کراچی: ماہی گیروں نے دنیا کی نادر و نایاب نسل کی وہیل کے جوڑے کو بلوچستان کے ساحلی مقام پر اٹکھیلیاں کرتے دیکھا اور اس دلفریب منظر کو موبائل کیمرے کی مدد سے عکس بند کرلیا۔
کھلے سمندر میں مچھلی کے شکار پر جانے والے ماہی گیروں نے پسنی کے قریب ہیمپ بیک نسل کے دنیا میں نادر و نایاب تصور کیے جانے والے وہیل کے جوڑے کو لہروں کے دوش پر فضا میں اچھلتے اور اٹکھیلیاں کرتے دیکھا جس کے بعد بلوچستان کے مقامی ماہی گیروں نے اپنے موبائل کیمرے میں اس دلفریب منظر کو محفوظ کرلیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف(پاکستان)کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر محمد معظم خان کے مطابق عریبین ہیمپ بیک نسل کی وہیل مختلف وجوہات کے مطابق انتہائی کم رہ گئیں ہیں، اس حوالے سے تحقیق کے بعد مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق اب اس نسل کی وہیل دنیا بھر میں صرف 100 کے لگ بھگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عریبین ہیمپ بیک وہیل گرم پانیوں میں رہتی ہے، پاکستان کے علاوہ وہیل کی یہ نسل انڈیا، سری لنکا، اومان، یمن اور ایران کے سمندروں میں پائی جاتی ہے۔محمد معظم خان کے مطابق معدومیت سے دوچار عریبین ہیمپ بیک وہیل کا پاکستانی سمندر میں دیکھا جانا انتہائی خوش آئند ہے، یہ دنیا کی واحد وہیل ہے جو کھانے کی تلاش اور افزائش نسل کے لیے بحیرہ عرب کا رخ کرتی ہیں۔

After Astola Island, Indus River Canyon becomes Pakistan's second Marine Protected Area - Daily Times

Astola Island declared Pakistan's first Marine Protected Area - Arabian Sea Whale Network

Rare humpback whale sighted off Balochistan coast

November 27, 2020

خطرے کی گھنٹی بج گئی،پاکستانی ’چرنا جزیرے‘ کی مرجانی چٹانوں کی’ بلیچنگ‘ کا انکشاف

کراچی: خطرے کی گھنٹی بج گئی،پاکستانی ’چرنا جزیرے‘ کے اطراف مرجانی چٹانوں کی’ بلیچنگ‘ کا انکشاف ۔ بحیرہ عرب میں چرنا جزیرے کے قریب مونگے اور مرجان کی طویل چٹانیں (کورال ریفس) ہیں  ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پریس بیان کے مطابق پاکستان میں پہلی بار جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اکتوبر 2020 کے آخری ہفتے میں چرنا جزیرے کے شمال مشرقی حصے کے آس پاس ایک غوطہ خور مہم پر جزیرے پر مونگے کی چٹانوں کا خطرناک حد تک سفید ہونے کا پتہ چلا ۔لیکن اب انہیں
شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ عمل کورل بلیچنگ کہلاتا ہے جو کئی سمندری جانوروں کی نرسری کو بری طرح متاثر کررہا ہے کیونکہ ابھی یہ چٹانیں بڑی تیزی سے سفید ہورہی ہیں۔ چرنا جزیرے کے شمال مشرقی سمت میں ان چٹانوں کے سفید بڑےحصےدیکھے گئے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے غوطہ خوروں نے یہ عمل دیکھا ہے اور اس کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں کے باعث سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ بھی ان کورل ریفس کے سفید ہونے کی وجہ ہوسکتا ہے۔چرنا جزیرے کے اطراف تھرمل پاور پلانٹ ،آئل ریفائنری ، پیٹرولیم اور آئل مصنوعات کی ہینڈلنگ کے لئے سنگل پوائنٹ موری بھی موجود ہے۔سمندری آلودگی،صنعتی سرگرمیاں اور سمندر میں چھوڑے جانے والے جال چرنا آئی لینڈ کے حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہیں۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ چرنا آئی لینڈ کے اطراف مائع پیٹرولیم گیس کا ٹرمینل بنانے کا منصوبہ بھی ہے۔
پاکستان میں مونگے کی چٹانیں چرنا، اور بلوچستان کے استولا،اورماڑہ،گوداراور جیوانی کےچند مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔ سمندری حدت،انسانی کثافت اور دیگر اثرات کی وجہ سے کورل ریفس بے رنگ اور سفید ہوکر مر جاتے ہیں۔ اس کا نقصان براہِ راست سمندری پودوں اور قیمتی جنگلی حیات کو ہوتا ہے کیونکہ یہاں کئی جانداراپنا مسکن بناتے ہیں اور ان کے بچے بھی یہی پروان چڑھتے ہیں بلیچنگ کا عمل ان بے زبان جانوروں کو بے گھر اور ختم کرسکتا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ چرنا اور اس کے اطراف کو ’آبی تحفظ گاہ‘ یعنی مرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے۔ اس طرح یہاں کے قدرتی ماحول اور انتہائی قیمتی حیات کو بچانے میں بہت مدد مل سکے گی۔اس علاقے میں آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو تیرتے کچرے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کا خیال ہے کہ چرنا جزیرے کے آس پاس پانیوں میں ماہی گیروں کی لانچوں سے دانستہ اور نادانستہ طور پر پھینکے جانے والے جال بھی ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج ہے۔ کئی برس سے سمندر کی تہہ میں موجود یہ جال مونگے کی چٹانی سلسلے پر شدید اثر ڈالتے ہیں اور مچھلی اور دیگر آبی حیات کوالجھاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اموات واقع ہوتی ہے۔ جزیرے چرنا کے شمال میں بڑے پیمانے پرنقصان دہ جالوں کی اطلاع ملی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان نے متعلقہ سرکاری محکموں ، سیاحوں ، مقامی برادریوں اور پاکستان کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی لحاظ سے اہم سمندری علاقے کے تحفظ میں مدد کریں
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پریس بیان کے مطابق پاکستان میں پہلی بار جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اکتوبر 2020 کے آخری ہفتے میں چرنا جزیرے کے شمال مشرقی حصے کے آس پاس ایک غوطہ خور مہم پر جزیرے پر مونگے کی چٹانوں کا خطرناک حد تک سفید ہونے کا پتہ چلا۔
کچھ علاقوں میں سفیدی کے بڑے بڑے ٹکڑےنظر آئے جبکہ کچھ دیگر حصوں میں بھی یہ اثرات محدود شکل میں دیکھے گئے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اس سفیدی کو پاکستان میں ساحلی حیات تنوع کے لیےسنگین خطرہ سمجھتا ہے۔مونگے بھی زندہ اجسام کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ سمندری جانور ہیں جو صاف پانی کے نچلی سطح پر رہتے ہیں اوران کا تعلق جیلی فش اور بغیر خون آبی حیات سے بتایا جاتا ہے۔ جو دنیا کے کچھ علاقوں میں چٹانیں تشکیل دیتے ہیں جبکہ انتہائی متنوع ماحولیاتی نظام میں ان چٹانوں کو سمندر کا بارانی جنگل کہا جاتا ہے۔
سال 2000 کی دہائی میں ، ڈارون انیشی ایٹوو پروجیکٹ کے تحت پاکستان کے ساحل پر مونگے کی چٹانوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان،میرین بیالوجی سینٹر آف ایکسی لینس ، اور میرین ریفرنس اینڈ ریسورس سینٹر ، جامعہ کراچی شامل تھے۔ بعدازاں، ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کے پاکستان وٹیلینڈز پروگرام کے تحت مونگے پر مزید مطالعات کی گئیں،مجموعی طور پر ، پاکستان کے ساحلی پانیوں سے 55 زندہ مونگوں کی آبادیوں کو ریکارڈ کیا گیا جو محدود علاقوں تک تھی۔
منفی ماحولیاتی حالات جیسے غیر معمولی طور پر گرم یا ٹھنڈا درجہ حرارت، پانی کی آلودگی ، تیزروشنی ، اور یہاں تک کہ کچھ جراثیمی امراض بھی مونگے کی چٹانوں کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں مرجان اپنے ٹشوز میں رہنے والے جزو zooxanthellae کو باہر نکال دیتے ہیں جس کی وجہ مرجان مکمل طور پر سفید ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو مرجانی یا مونگے کی بلیچنگ کہا جاتا ہے اور یہ مرجان کی موت کا باعث بنتا ہے۔
ٹیکنیکل ایڈوائزر (میرین فشریز) ، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ، محمد معظم خان کے مطابق ، پاکستان میں مونگے کی چٹانوں کے سفید پڑنے میں بہت سے ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں،جن میں صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ چرنا جزیرے کے قرب وجوار کے علاقے تھرمل پاور پلانٹ ، آئل ریفائنری اور سنگل پوائنٹ مورنگ (ایس پی ایم) موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوئلہ سے چلنے والے ایک اور پلانٹ کی تعمیر کے لئے سائٹ پر اضافی انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ان سرگرمیوں کے مجموعی اثرات مونگے کی چٹانوں پر اثر انداز ہورہے ہو،چرنا جزیرے میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹرمینل قائم کرنے کے لئے جگہ جگہ منصوبے ہیں جو اس علاقے میں ضرورت سے زیادہ کھدائی کا سبب بن سکتے ہیں۔
محمد معظم خان نے کہا ، ‘اگر اس طرح کے ترقیاتی سرگرمیاں چرنا جزیرے میں تسلسل سے جاری رکھی گئیں، تو پھر وہ نہ صرف مونگوں پر اثرانداز ہوں گے بلکہ اس علاقے سے بیشتر بھرپور آبی تنوع کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کےریجنل ہیڈ برائے سندھ،بلوچستان ڈاکٹر طاہر رشید نے کہا کہ جزیرہ چرنا کے بھرپور قدیم ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ہدف صرف چرنا جزیرے کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا (ایم پی اے) قرار دے کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے کیونکہ فیصلہ حکومت بلوچستان کے پاس زیر التوا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب چرنا جزیرے کو ایم پی اے قرار دے دیا گیا تو صنعتی سرگرمیوں پر قابو پالیا جائے گا اور سیاحت کو ہموار کیا جاسکے گا۔اس اقدام سے علاقے میں ماہی گیروں کے انتظام کا بھی سبب بنے گا ، جو متنوع مچھلیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور ماضی کی روایتی ماہی گیری کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے علاقے میں مونگوں کی چٹانوں کو بے رنگ ہونے پر اپیل کی ہے کہ مزید بگاڑ سے قبل ضروری ہے کہ مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔ پچھلے کچھ برسوں کے دوران چرنا جزیرہ تفریحی سرگرمیوں کا محور بن چکا ہے اور اسکوبا ڈائیونگ کے لیے ایک اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ بیشتر غوطہ خور ماحولیاتی طور پر باشعور ہیں اور وہ مونگے کی چٹانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے ،تاہم کچھ شوقیہ غوطہ خوروں نے انہیں روندنے اور متاثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اس کے علاوہ متعدد ماہی گیر بھی مونگے کی چٹانوں کو اکھاڑنے اورکراچی کے ایکوریم کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔

November 10, 2020

ہیوی گاڑیوں نے 100موٹرسائیکل سوار کچل دیئے

ویب ڈیسک :: ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں، خصوصاً بڑی گاڑیوں کی تیز رفتاری یا موٹر سائیکل سواروں کی بے احتیاطی بھی اس کا پیش خیمہ ہے۔
اس حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران شہر قائد کی سڑکوں پر سو موٹر سائیکل سواروں کے علاوہ دیگر افراد حادثات کے باعث لقمہ اجل بن گئے۔
جاں بحق ہونے والے یہ افراد وہ ہیں جو صرف ہیوی گاڑیوں ٹرک ٹرالر بسوں اور دیگر بڑی گاڑیوں کے نیچے آکر موت کے منہ میں چلے گئے، چھوٹی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات اس کے علاوہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کی مختلف شاہراہوں پر چلنے والی ہیوی گاڑیوں ڈمپرز، ٹریلرز، واٹرٹینکرز کی غیرذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے باعث 5ماہ میں100موٹرسائیکل سوار کچلے گئے۔
رپورٹ کے مطابق5ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر122افراد جاں بحق ہوئے جون تا ستمبر بچوں سمیت79 موٹرسائیکل سوار کچلے گئے جبکہ اکتوبر2020میں ہیوی گاڑیوں نے21موٹرسائیکل سوار کچل دیا، کراچی میں روڈ سیفٹی ایکشن پلان پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ہے

November 5, 2020

کیا آپ آسمان میں شادی کرنا چاہتے ہیں؟

ویب ڈیسک َ::کرورنا وائرس ختم ہونے کا نام  ہی نہیں لے رہا اس وبا ء نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا  ہے معمولات زندگی بھی شدید متاثر ہیں کورونا وائرس کے نتیجے میں 2020 میں متعدد جوڑوں کو اپنی شادی کے منصوبے ترک کرنا پڑے یا بہت سادہ انداز میں ہوئی۔ایئر چارٹر سروس نامی کمپنی کی جانب سے نجی طیاروں میں شادی کی چھوٹی تقریبات کی بکنگ شروع کی جارہی ہے، جو انہیں ہنی مون پر بھی لے جائے گا۔

اب بھی بیشتر ممالک میں شادیوں کی تقریبات میں زیادہ افراد کو شرکت کی اجازت نہیں جبکہ سماجی دوری کے اقدامات نے روایتی شادیوں کو اب بہت سادہ بنادیا ہے۔

مگر اب ایک کمپنی جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کو شادی ہال کے ایک منفرد متبادل کی پیشکش کر رہی ہے اور وہ ہے ایک پرائیویٹ طیارہ۔

جی ہاں اب فضا میں شادی کی تقریب کا انعقاد کیا جاسکتا ہے، بس بینک بیلنس بہت زیادہ ہونا چاہیے۔

ایئر چارٹر سروس نامی کمپنی کی جانب سے نجی طیاروں میں شادی کی چھوٹی تقریبات کی بکنگ شروع کی جارہی ہے، جو انہیں ہنی مون پر بھی لے جائے گا۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ‘بدقسمتی سے متعدد جوڑوں کو کووڈ 19 کے باعث شادی کے منصوبوں سے دستبردار ہونا پڑا’۔

بیان کے مطابق اس نئی سروس کے ذریعے ہم لوگوں کو ایک حل فراہم کرنے کے ساتھ منفرد انداز سے شادی کی تقریب کے انعقاد کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

کمپنی کی جانب سے صرف 2 افراد یا چند لوگوں پر مشتمل تقریب کے پیکجز کی پیشکش کی جائے گی، جس میں کھانا بھی شامل ہوگا، جبکہ 2 گھنٹے کی پرواز بھی پیکج کا حصہ ہوگی۔

بیان میں کہا گیا کہ پرواز کا روٹ پہلے سے طے شدہ ہوگا، تاکہ طیارہ تقریب کے دوران منزل کی جانب سفر کرسکے۔

بیان کے مطابق اگرچہ 2020 غیریقینی صورتحال کا سال ہے، مگر ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ نوبیاہتا جوڑے ایک زبردست انداز سے شادی کے بندھن میں بندھ سکیں، یعنی آسمان میں شادی۔

16 افراد پر مشتمل تقریب کے لیے 28 ہزار ڈالرز (44 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) خرچ کرنا ہوں گے، جبکہ 2 افراد کی تقریب 18 ہزار ڈالرز (28 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں منعقد ہوسکے گی۔

جوڑوں کے پاس آپشن ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے فضائی منزل کا تعین کرسکیں۔

 

— شٹر اسٹاک فوٹو

 

October 28, 2020

ہونٹوں پر مہندی لگانے کا فیشن اِن۔ کیاآپ تیار ہیں ؟ویڈیو دیکھیئے

شکاگو: ویب ڈیسک :: ہونٹوں پر مہندی لگانے کا فیشن اِن۔ کیاآپ تیار ہیں ؟ویڈیو دیکھیئے۔

نوٹ: میک اپ کے استعمال کے لیے نت نئے طریقے سامنے آرہے ہیں جن پر عمل کرکے بعض اوقات پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، آپ’حنا لپ اسٹین‘ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟جلدی امراض میں مبتلا خواتین اس طریقے پر عمل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
امریکا میں بیوٹی بلاگر نے ہونٹوں پر لپ اسٹک کی بجائے ’مہندی‘ لگا کر دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔تفصیلات کے مطابق دور جدید میں خاتون کے سجنے سنورنے کے لیے میک اپ کے نت نئے طریقے متعارف کروائے جارہے ہیں، جس کے لیے خواتین بیوٹی سیلون کا رخ کرتی ہیں لیکن امریکی بیوٹی بلاگر نے گھر میں ہونٹوں پر مہندی لگانے کا نیا فیشن متعارف کروادیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
امریکی ریاست شکاگو کی ماڈل برائنا کرسچنسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹک ٹاک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ مہندی کو لپ اسٹک کے طور پر استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ٹویٹر پر شیئر کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ برائنا نے مہندی ایک پیالے میں ڈالی اور اسے اپنے ہونٹوں پر لگانے کے لیے ایک چھوٹے برش کا استعمال کیا، آخر میں ہونٹوں پر مہندی کا رنگ نارنجی آیا، ماڈل نے اسے ’حنا لپ اسٹین‘ کا نام دیا۔سوشل میڈیا صارفین نے امریکی بیوٹی بلاگر کے اس اقدام پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ناقابل یقین قرار دیا، ایک صارف کا کہنا تھا کہ مہندی میں مختلف طرح کے کیمیکلز ہوتے ہیں لہٰذا ہونٹوں پر مہندی لگانے کا مشورہ بالکل نہیں دیا جاسکتا۔برائنا کی ایک اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’لپ کلر‘ الرجی کا باعث بنتے ہیں، بیوٹی بلاگر کا کہنا تھا کہ ہونٹوں پر ’ہینا لپ اسٹین‘ لگانے سے الرجی کے خاتمے میں صرف دو دن لگے۔