June 15, 2018

عطائیت کے حوالے سے عوام کی غلط فہمیاں ۔۔۔

کراچی جدت ویب ڈیسک ::تحریر: آصف خان)گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب پولیس کو ایک حکم دیا تھا کہ وہ صوبے بھر کے تمام عطائی ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کریں ۔ اس حکم کے ساتھ ہی پنجاب پولیس حرکت میں آتی ہے اور صوبہ بھر میں عطائی ڈاکٹرز پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر تی ہے میڈیا کے اعداد وشمار کے مطابق کافی گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں ۔ جب بھی ملک میں عطائیت کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے عموما عوامی اور میڈیاکی سطح پر تاثر دیاجاتاہے کہ ایم بی بی ایس صرف ڈاکٹرز ہے ان کے علاوہ تمام عطائی ہے جوکہ سراسر ایک غلط تاثر ہے میڈیا کے لوگوں کو بھی اپنا کونسپیٹ کلیئر کرنا ہوگا۔ اگر ہم عطائیت کی تعریف کو پریکھے تو پتہ چلے عطائی کی تعریف کچھ اسطرح سے ہے ” ہروہ شخص جوبغیر کسی مستند سرکاری ادارے کی ڈگری ، سرٹیفکیٹ یا سند کے علاج معالجے کی خدمات سرانجام دے رہا ہے تو اس کا شمار عطائی میں ہوگا”اس کے علاوہ ہر وہ شخص جو اپنے متعین کرد ہ اختیارات جو قانون کے مطابق اسے حاصل ہیں سے تجاوز کرے گا وہ بھی عطائیت کے زمرے میں ہی آئے گا۔ مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والے معالجین جو کسی مستند سند یا ڈگری کے حامل یافتہ ہیں اور اپنے شعبے میں اور جو ان کی بانڈری ہے یا جو ان کے حدود ہے علاج کے لیے ان میں رہ کر علاج کریں۔ وہ عطائیت کے زمرے میں نہیں آتے مثال کے طور پر ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر جیسے آپریشن کی اجازت نہیں ہے وہ جنرل پریکٹس تو کرسکتا ہے لیکن آپریشن نہیں اگر وہ آپریشن کرتا ہے تو وہ بھی عطائی ڈاکٹر کہلائے گا اس کے پاس ڈگری تو لیکن وہ اپنے حدود سے تجاویز کر رہاہے جو ایک عطائیت کا فعل ہے جو کہ ایک جرم کے زمرے میں آتے ہے اسی طرح بچیلر کی ڈگری رکھنے والے میل اور فیمیل نرس جو پاکستان نرسنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہو اسی طرح ڈی ایچ ایم ایس ڈپلومہ کے ہولڈر ہومیو ڈاکٹر حضرات ، نیشنل کونسل فار طب کے چار سالہ طبیب جنہوں نے فاضل طب والجراحت ایف ٹی جے کے ڈپلومے کر رکھے ہیں اگر کوئی نرس فرسٹ ایڈ سے ذیادہ علاج کریں کوئی ہومیو پیتھک ڈاکٹر انگریزی ادویات ،حکیم ، ہومیو پیتھک ادویات یا پھر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہومیو پیتھک و یونانی ادویات اپنے مریضوں کو استعمال کروائے یا تجویز کرے تو وہ بھی عطائی شمار ہو گا۔ مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ عموما ایم بی بی ایس ڈاکٹرز حضرات میں یونانی اور ہومیو پیتھک ادویات استعمال کروانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہےجوکہ غیر قانونی ہے ۔اسی طرح جن ڈاکٹر ز حضرات نے بغیر کسی مستند ڈگری کے اپنے سپیشلسٹ ہونے کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں کر رکھے ہوتے ہیں جن میں بچوں کے اسپشیلسٹ اسکن اسپشیلسٹ اور ایسے بے شمار ڈاکٹرز گاوں دیہات کے ساتھ شہر میں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں وہ بھی عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ بغیر فارماسسٹ ، ڈرگ سیل لائسنس ، کوالیفائیڈ سٹاف کے ادویات فروخت کرنے والے ڈاکٹر ز حضرات بھی ان اقدامات کے قانونا مجاز نہیں جبکہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کا سرکاری اسناد و ڈپلومہ جات کے ساتھ کوالیفائیڈ ہونا ضروری ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو یہ ہسپتال و ڈاکٹرز بھی اسی زمرے میں آئیں گے اور سربراہ ادارہ عطائیت کے فروغ کا باعث بن رہا ہوگا۔ اگر اس کی سادہ سی تشریح کر دیا جائے تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہدایات پر جو ہسپتال پورا نہیں اترتے ان کے پاس کوالیفائیڈ سٹاف و دیگر سہولیات نہیں وہ عطائیت کی نرسریاں کہلائیں گی۔ اسی طرح سرکاری فیکلٹیوں کے ڈگری اور ڈپلومہ ہولڈر ، ٹیکنیشنز جن میں ڈسپنسرز دو سالہ کورس کی حامل لیڈی ہیلتھ وزٹر ، لیبارٹری ، ایکسرے، ای سی جی ، ڈینٹل ٹیکنیشنز ، کوالیفائیڈکہلائیں گے ان کی تشریح بھی عطائیت کے تناظر میں نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہی ڈگری ہولڈر نرس اور ڈپلوما ہولڈر نرس اور ٹیکنیشنز بنیاد ی مراکز صحت ،رولر ڈسپنسریوں ، امن فاونڈشن کی ایمبونسز شہر کے بڑے بڑے اسپتالوں میں انتیائی نگہداشت کے وارڈوں میں مریضوں کی جان بچاتے نظر آتے ہے اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں 1122 ریسکیو سروسز ، تمام قسم کے ڈزاسڑ، جلسے جلوسوں ، رمضان بازاروں ، ہنگامی کیمپس میں بطور انچارج علاج معالجہ و ایمرجنسی کی سہولیات دیتے نظرآتے ہیں۔ اسی طرح صحت کی خدمات میں انجیکشن سے لے کر مرہم پٹی ، ادویات کی فراہمی و تجویز ، آپریشن تھیٹر چھوٹی موٹی ںسرجری تک میں یہی اسٹاف خدمات سرانجام دیتا ہے۔ان ہی ٹیکنیکل افراد کو سرکاری حکم ناموں کے تحت ایسی خدمات و سروسز فراہم کرنے کے اختیارات سونپے گئے ہیں ۔اعلی عدلیہ متعدد بار ان کو پریکٹس پرمٹ کے اجراءکے حکم نامے جاری کرچکے ہیں۔ ان تمام افراد کے لیے ہیلتھ کونسل تشکیل دے کر پرائیویٹ شعبہ میں فرسٹ ایڈ پریکٹس اور ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے متعلق قانون سازی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کی سروسز کو اگر سرکاری اور نیم سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے نکال دیا جائے تو ملک میں صحت عامہ اور علاج معالجے کی سہولیات ناپیدہو کر رہ جائیں ۔ بنیادی مراکز صحت کے نرسز ڈسپنسرز ،لیڈی ہیلتھ وزٹرز ہیلتھ ورکروں کو ٹریننگ فراہم کرتے ہیں اور ان کے لیے استاد کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومتی اداروں کی دہری پالیسی ہے کہ سالوں کی ٹریننگ و اسناد کے حامل سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے والے کوالیفائیڈ نرسز اور ٹیکنیشنز حضرات کو پرائیویٹ شعبہ میں آزادانہ فرسٹ ایڈ سہولیات فراہم کرنے پر پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گلی کوچوںمیں قائم ہیلتھ ہاؤسز جن کی انچارج ہیلتھ ورکرز ایل ایچ وی کو بنایا گیا ہے جن کی تعلیمی قابلیت اکثریت کی میٹرک بھی نہیں ہوتی ہے ان کو ہر قسم کی ادویات ، بلڈ پریشر سیٹ ، تھرما میٹر ، ویٹ مشین ، فراہم کی گئیں ہیں تاکہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر سکیں اس سلسلہ میں سرکاری سطح پر میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ان ہیلتھ ورکروں سے اپنا علاج معالجہ کروائیں

May 31, 2018

انٹرنیٹ پر مسلسل گیم کھیلتے رہنے کا ایک نیا مرض ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون ماہرین کے انکشاف ۔جانیے

واشنگٹن ،جدت ویب ڈیسک ::: اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ بچوں اور نوعمروں کے مزاج کو غیرفطری بنارہے ہیں کیونکہ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ کئی براعظموں کے لوگوں سے بات تو کررہے ہیں لیکن خود اپنے ساتھیوں سے دور ہورہے ہیں اور اس بنیاد پر ان کا بچپن شدید متاثر ہورہا ہے۔ امریکا میں کامن سینس میڈیا کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 72 فیصد نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیاں یہ سمجھتےہیں کہ حقیقی زندگی کے بجائے فون پر آئے ہوئے پیغام کا جواب دینا ضروری ہے جب کہ 59 فیصد والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے اسمارٹ فون کی شدید لت کے شکار ہوچکے ہیں۔ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اور فون پر انحصار بچوں کو ان کے معمولات سے دور کررہا ہے جن میں کھیلنا، وقت پر کھانا، دوستوں سے بات کرنا، اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھنا اور دیگر روزمرہ مصروفیات شامل ہیں۔ اس طرح ان کے رویّے میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں جو انہیں حقیقی زندگی سے دور کررہی ہیں۔ اسے ماہرین نے انٹرنیٹ کا پریشان کن استعمال یا پروبلیمٹک انٹرنیٹ یوز (پی آئی یو) کا نام دیا ہے۔اسی طرح انٹرنیٹ پر مسلسل گیم کھیلتے رہنے کا ایک نیا مرض سامنے آیا ہے جسے انٹرنیٹ گیمنگ ڈس آرڈر کا نام دیا گیا ہے اور لگ بھگ 10 فیصد امریکی بچے اس کا شکار ہورہے ہیں۔ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس نسل کے نوعمر بچے والدین کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریاں نباہنے میں بھی سستی دکھارہے ہیں جو ایک خطرناک امر اور ان کی عملی زندگی کے لیے مضر ہے۔ اس طرح ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو گھروں میں قید ہے اور باہر جانے سے گریز کرتی ہے۔2017 میں اس سے بھی پریشان کن سروے سے معلوم ہوا تھا کہ آٹھویں سے بارہویں جماعتوں کے طلبا و طالبات جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود رہتے ہیں ان میں ڈپریشن، تنہائی اور خودکشی تک کا رحجان دیکھا گیا ہے تاہم کئی بچے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ وہ اسمارٹ فون کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس رحجان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس میں اعتدال پر زور دیا ہے۔بچوں میں اسمارٹ فون کی عادت ان کے بچپن پر اثر انداز ہورہی ہےاسمارٹ فون بچوں کے بنیادی رویے کو تبدیل کررہے ہیں

May 28, 2018

تاریخی ایٹمی تجربات کی یاد میں آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے

جدت ویب ڈیسک ::اٹھائیس مئی 1998ء میں آج کے دن پاکستان کی طرف سے کیے گئے تاریخی ایٹمی تجربات کی یاد میں آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے۔ اس دن بھارت کے ایٹمی دھماکوں کاجواب پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پانچ ایٹمی دھماکےکر کے دیا تھا۔بیس سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ایٹمی دھماکے اس لیے کیے گئے کہ گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں تین بم دھماکے کرکے بھارت نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔بھارتی قیادت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک طرف بھارت دھمکیوں اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پرحملے کی تیاری کررہا تھاتو دوسری جانب مغربی ممالک پابندیوں کا ڈراوا دے کرپاکستان کو ایٹمی تجربے سے بازرکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔اس وقت کے امریکی صدربل کلنٹن نے بھی پانچ بار فون کرکے وزیراعظم نوازشریف کو ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا جبکہ اس کے بدلے کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی گئی۔ تاہم عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹھائیس مئی کے دن پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور چاغی کے پہاڑوں پر نعرہ تکبیر کی گونج میں ایٹمی تجربات کردئیے گئے۔

پسِ منظر
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر نے 1974 میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھ کرایٹمی پروگرام کے لیے کام کرنے کی پیشکش اور اسی سال کہوٹہ لیبارٹریز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا گیا۔ پاکستانی سائنسدانوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اورملک کو جدید ترین ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل کردیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وارہیڈزرکھتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباو کے باوجود تیزی سے جاری ہے اور پاکستان ہرسال اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کرلیتا ہے۔بھارت امریکہ ایٹمی معاہدے کے بعد پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا گیا ہے۔ ملک میں چین کے تعاون سے ایٹمی بجلی گھربھی بنائے جا رہے ہیں جبکہ خوشاب کے قریب پلوٹینیم تیارکرنیوالے دو نئے ایٹمی ری ایکٹرزبھی مکمل ہو چکے ہیں۔ خوشاب میں ہی ایک اور ایٹمی پلانٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جن سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی ملکی صلاحیت میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے۔ایک جانب تو یہ ایٹمی بم بھارت جیسے جنگ پسند ملک کے مدمقابل پاکستان کی پر وقار سالمیت کو یقینی بنائے ہوئے ہے لیکن اس مہنگے ترین ہتھیار کی تیاری اور اس کی حفاظت کی وجہ سے پاکستان معاشی ترقی کے وہ اہداف حاصل نہیں کرسکا جو اسے اب تک کرلینے چاہئے تھے بلکہ بعض میدانوں میں تو پاکستان جہاں تھا وہاں سے بھی پیچھے چلا گیا۔حکومت اورپوری قوم کا فرض ہے کہ ملکی سلامتی کی علامت اس ایٹمی پروگرام کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیاررہیں اور یہی آج کے دن یعنی یومِ تکبیرکا پیغام ہے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع دن سے ہی عالمی سازشوں اور شدید تنقید کا شکار ہے۔ پاکستانی کی ایٹمی طاقت کئی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے بعد باقاعدہ مخالفانہ مہم چلائی جاتی ہے۔

May 25, 2018

کراچی کی آگ سے کیلاشیوں کے ٹھنڈے رویوں تک 

کراچی: رپورٹ جمیلہ مانجوٹھی

 

ہزاروں خواہشیں ایسی کی ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے

 

انسانی سرشت اورفطرت میں شامل ہے کہ اس کے دل میں کسی نہ کسی کام کو کرنے کا ہدف یا ایسی جستجو سرابھارتی ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ مضطرب اور بے قرار رہتاہے اور اس کو انجام تک پہچانے کی حتی المقدور سعی کرتا ہے جس کے لئے وہ اپنی بساط اور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حتمی شکل دینے کے لئے سرگرداں رہتا ہے کوئی کوئی توپل کی آن میں اپنی منزل پالیتا ہے تو کسی کو سعی مسلسل اور کافی تگ ودو کے بعد اپنی منزل ملتی ہے اور بدقسمتی سے کبھی کبھی انسان کی اپنی زندگی کا سفر ختم ہوجاتا ہے وہ اپنی خواہش کو حاصل کئے بنا راہ عدم سدھارجاتا ہے اوپر تحریر کئے گئے دومصرعے بھی اسی بات کے غماز ہیں کہ انسانی زندگی خواہشات میں گھری ہے اور وہ اس کی تکمیل کے لئے دیوانہ واردوڑ رہا ہے اورخواہشات کی اقسام اگرمثبت اورتعمیری سمت میں ہو تورب العزت بھی ساتھ دیا کرتا ہے ۔

 

جی ہاں !…ماہ رواں میں کچھ اس طرح کامیرے ساتھ بھی رہا ہے اور میری ایک بڑی اور دیرینہ خواہش تکمیل پائی اورمیں نے وادی کیلاش کا تعمیری اورمطالعاتی دورہ کیا کیوں کہ وادی کیلاش جسے کافرستان بھی جاتا ہے جس کے بارے میں محض سنا اور اس طلسماتی وادی کو تصاویر میں دیکھ کر دل میں ہمیشہ یہی خواہش سرابھارتی رہی کہ کوئی موقع میسربر آئے اور میں بھی اپنی جاگتی آنکھوں سے اس حسین وادی کا نظارہ کرکے وہاں کے شب و روز اور معمولات زندگی کا نہ صرف مطالعہ کروں بلکہ خود کو کراچی جیسے بے ہنگم اور بے ترتیب اورجان لیوا مسائل سے جڑے شہر سے جزوقتی ہی سہی چھٹکارا حاصل کرکے خو د کو پرسکون مقام پر لے جائوں بالآخر پروردگار نے دل کی اس خواہش کوسنا اور جب پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کو مرتب کرنے والے منتظمین نے اس میں میرا بھی نام بھی شامل کیا تواس وقت میری خوشی دیدنی تھی خوشی سے سرشار میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری دلی خواہش کو حتمی شکل دینے کا سامان مہیا کیا۔

 

اس سفر کا آغاز بذریعہ ٹرین کراچی کینٹ سے شروع ہوا بعدازاں مختلف راستوں اور شہروں سے ہوتے ہوئے ہمیں اپنی منزل کیلاش پہنچنا تھا اس سلسلے کی پہلی منزل ہماری لاہور تھی اور اﷲ کا نام لے کر ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے جہاں پہنچ کروفد میں شامل دیگر شہروںکے اینکر پرسنز اور کالم نگاروں کے اعزاز میں AFOHS کلب کے صدر ڈاکٹرقیصر نے تقریباً ساٹھ افراد پر مشتمل لوگوں کے قیام و طعام کے بہترین انتظامات کئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے تعاون سے پانچ گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ اگلے روز اپنی اگلی منزل پنڈی کیلئے روانہ ہوا جہاں پاکستان ٹورازم لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر چوہدری عبدالغفور نے پہنچتے ہی والہانہ استقبال کیااور ہمیں چترال کے راستوں اورمیوزیم سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی ۔ ابھی یہ قافلہ چترال کے لئے روانہ ہی تھا کہ شام ہوگئی چوں کہ آگے پر خطر راستے ہونے کے سبب راستہ عبو ر کرنا قدر ے مشکل تھا اس لئے ایک رات ہمیں دِیر میں قیام کرناپڑا جہاں آئندہ منعقد ہونے والے انتخابات میں ایم پی اے کے امیدوار ملک طارق نے چترال روانگی سے قبل رہائش او طعام کا انتظام کیا ۔

 

کیلاش پہنچنے سے قبل میں کیلاش کی تاریخ کے بارے میں مختصراً تحریر کرنا چاہوں گی کہ کیلاش ،چترال سے 35کلو میٹر دور واقع ہے یہاں کے مقامی لوگوں کو کیلاشی یاکافر کہا جاتا ہے یہاں کے لوگوں کے اپنی تہذیب و ثقافت ہے یہاں تک کہ لباس میں بھی تین ہزارسا ل سے کوئی تبدیلی آنے نہیں دی۔کیلاشیوں کی اصل تاریخ بھی متنازع ہے ایک روایت کے مطابق جب 327قبل مسیح میں یونان کا سکندراعظم جب اس وادی سے گزرا تھا اس کے کچھ سپاہی اس علاقے میں رک گئے تھے ،مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی نسل سکندراعظم کے دلیر کمانڈر صیام کیشیکشا سے ہے ۔کیلاش جانے کے لئے پہلے چترال کے لئے روزانہ پی آئی اے کی تین پروازیں چلتی تھیں لیکن اب یہ سروس بند ہے لہٰذا ذریعہ زمینی راستہ ہے پشاور سے بھی چترال کے لئے کوسٹر سروس موجود ہے جبکہ راولپنڈی سے دیر پہنچ کر وہاں سے چترال جانے والی گاڑی مل جائے گی۔ راستے میں ساڑھے بارہ ہزارفٹ بلند درہ لواری ٹاپ آتا ہے روالپنڈی سے چترال کا سفر تقریباً پندرہ گھنٹے کا ہے پشاور سے چترال کا فاصلہ تقریباً 365کلو میٹر ہے جو بارہ گھنٹوں میںطے ہوتا ہے اور پنڈی سے چترال پہنچنے میں 24گھنٹے لگتے ہیں سفر پنڈ ی سے شروع کریں یا پشاور سے آپ اٹک مردان سے ہوتے ہوئے چک درّہ پہنچیں گے ۔یہاں سے سیدھا چلیں تو مینگورہ سوات آجائے گا اور یہاں سے دائیں چلیں تودو گھنٹے کے سفر کے بعد دِیر آجائے گا اس کے بعد لواری ٹاپ کی چڑھائی شروع ہوگی جو ساڑھے دس ہزارفٹ بلند ہے اس درے سے گزرتے ہوئے 22مو ڑ آتے ہیں خوب صورت وادیاں ، سبزہ زار ،وادیاں،آبشار اورمتعددگلیشیر راستے کی تکلیف کا احساس ختم کردیتے ہیں ۔کیلاشیوں کی خصوصیت پچھلے دوہزار سال سے اپنی روایت پر قائم رہنا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ انہوںنے اپنے لباس یا عقائدمیں تبدیلی کی تو ان پردیوتا کاعذاب نازل ہوگا۔کیلاشی سال میں تین میلے مناتے ہیں جن میں خواتین ڈھول کی تھاپ بانسری اورشہنائی کی دھن پررقص کرتی ہیں اور ایک دوسرے کے گھر پرتحائف بھیجے جاتے ہیں کیلاشی عقائدمیں رقص کو مذہبی عقائد میں شامل کیا جاتا ہے لہٰذا تینوں وادیوں میں باقاعدہ رقص گاہیںموجود ہیں جہاں پابندی کے ساتھ رقص کے اجتماعات ہوتے ہیں ۔کسی کیلاشی کے گھر اگر موت واقع ہوجائے تو یہ لوگ غم کے بجائے خوشی مناتے ہیں اور لاش کو کھلی جگہ رکھ کر رقص کرتے ہیں اور گیت گاتے ہیں کیوں کہ ان کا کہنا ہیکہ جب انسان کے دنیا میں آنے پر خوشی منائی جاتی ہے تو اسے دنیا سے بھی خوشی خوشی رخصت کیا جانا چاہئے اس موقع پر مزے مزے کے پکوان تیار کرکے پوری وادی کی دعوت کی جاتی ہے پھر مردے کو لکڑی کے تابوت میں رکھ کر قبرستان میں کھلے آسمان تلے رکھ دیتے تھے مگر اب کیلاشیوں نے مردوں کو دفنانا شروع کردیا ہے کیلاشیوں کی عبادت گاہ کو منوش کہتے ہیں جہاں عورتیں داخل نہیں ہو سکتیں ۔سورج اور چاند گرہن کو یہ لوگ دیوتا کاعذاب تصور کرتے ہیں اور اس عذا ب کو ٹالنے کے لئے وہ بکریوں کی قربانی دیتے ہیں کیلاش میں چلم جوشی کا تہوارموسم بہار کے آغاز کا جشن ہے یہ چار اور پانچ مئی کو مناتے ہیں اس میں کیلاشی لڑکیاں پھول چنتی ہیں اور ایک دوسرے کوتحفے میں دیتی ہیں ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے ہیں اور دودھ پنیر وغیرہ تحفے میں دیتے ہیں ۔
چائومائوس کیلاشیوں کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے اور دسمبر کے آخر میں منایا جاتا ہے یہ نئے سال کی آمد کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے اوریہ میلہ ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے۔

 

ملک طارق کی مہمان نواز ی کے بعد ہم اگلے روز چترال کے لئے روانہ ہوئے،چترال پہنچنے کے لئے ہمیں پاکستان کی سب سے لمبی لواری ٹنل جو کہ نو کلومیٹر لمبی ہے اس سے گزرنا پڑا یہ ٹنل بھی اپنی نوعیت کی منفرد ٹنل تصور کی جاتی ہے ۔ٹنل کے لئے اندر پاک فوج کا عملہ مختلف چیک پوسٹوں پر ہمیں چوکس نظر آیا جو ہر آنے جانے والی گاڑی کی مفصل چیکنگ کے بعد کلیئر ہونے کی صورت میں آگے جانے کی اجازت دی جارہی تھی۔ راستے میں بہترین موسم،ہلکی بارش اور ٹھنڈ نے موسم کو بہت خوش گوار بنا رکھا تھا ۔چترال کی حسین وادی میں جب داخل ہوئے تو وہاں کے ڈپٹی کمشنرچترال ارشاد سدھارنے ہمارابھر پوراستقبال کیااور وفد کے لئے گورنر کاٹیج میںرہائش کا انتظام کیا ۔جیسا کہ اوپرمیں نے کیلاش کی تاریخ میں یہاںکے ایک تہوار چلم جوشی کاذکر کیا یہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ وہی تہوارچلم جوشی اپنے روایتی انداز سے منایا جا رہا ہے یہاںایک بات اور بھی بتاتی چلوں کہ یہاں کی انتظامیہ کی جانب سے چلم جوشی کے اس تہوار کی میڈیا کو کورکرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سدھارکی کاوشوں اورآئی ایس پی آر کے تعاون سے پاکستان میڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ہمیں این او سی جاری کیا گیااورہمیںمیڈیا کوریج کی اجازت دے دی گئی ۔وادی کیلاش جتنی سننے میں حسین لگتی ہے اس سے کہیں زیادہ دیکھنے میں خوبصورت ہے ،وہاںکے لوگوںکے دل موسم سے بھی زیادہ نرم ہیں اور اسی طرح زبان میں بہت شیرینی اور مٹھاس پائی جاتی ہے اوروہاں کی لڑکیوں کی خوبصورتی کی نظیر کہیںنہیںملتی انتہائی خوب صورت اور دل کش کی آنکھوں میں بلا کی خوبصورتی پائی جاتی ہے یقینا جسے وہ ایک بار دیکھ لیں انہیں اپنا گرویدہ بناسکتی ہیں ۔چلم جوشی کے اس تہوار میں تین دن رقص کی محفلیں ہوتی ہیں جہاں پر لڑکیاں اور لڑکے اپنے لئے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیںاس دن وہ مخصوص لباس زیب تن کرتے ہیں لڑکیاں لمبی لمبی فراق جس میں رنگ برنگے دھاگوں اورموتیوں سے کام والے ملبوسات زیب تن کرتی ہیں جبکہ مردشلوارقمیص اور روایتی ٹوپی پہن کر محو رقص ہوتے ہیں تاہم جیون ساتھی کے چنائو سے متعلق یہ بھی سنا گیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کو پسند کرنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ بھگا کر اپنے گھر لے آتے ہیں جب لڑکی کے گھروالوںکو پتا چلتا ہے کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ کرگئی ہے تو اس لڑکی کے گھر والے اس لڑکے کے گھر جاتے ہیں اور لڑکی سے دریافت کرتے ہیں کہ اس کو زبردستی تو نہیں بھگایا گیا اگر لڑکی کہہ دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس لڑکے کے ساتھ بھاگی تو لڑکی کے گھروالے خوشی خوشی اس رشتے پر راضی ہو کرشادی کی تقریبات کی شروع کر دیتے ہیں اوراگرکوئی شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد کو پسند کرکے اس کے ساتھ بھاگ جائے تب بھی عورت کا شوہر خوشی خوشی اس سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اس کی شادی اس دوسرے شخص سے کرادی جاتی ہے۔
وادی کیلاش کے چار پانچ روزہ دورے کے دوران ہم نے نہ صرف یہاں کی تہذیب وتمدن اور ثقافت کا گہرامطالعہ کیا بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں کی مہمان نوازی سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے وادی کیلاش کی فضائوں میں ہم نے سکون پایا یہاں کی میں ہم نے ایک طلسماتی سحر بھی محسوس کیا جو انسان کو ذہنی طورپر معطر کرکے اسے شاداب رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔بالآخر نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں سفر کرنا پڑا اور ہم واپس کراچی کے لئے روانہ ہوگئے۔

 

May 22, 2018

کراچی پر گرمی کا غضب بے سبب نہیں،درخت کاٹ دیے گئے

کراچی جدت ویب ڈیسک :یہ شہر کراچی صرف بجلی اور پانی کا پیاسا نہیں، درختوں کی ٹھنڈی چھاواں بھی اس پرمہربان نہیں، یہ گرمی کے غضب کا بہت بڑا سبب ہے۔ کراچی والے پانی بجلی کے ساتھ ٹھنڈی چھاو¿ں سے بھی محروم ہیں ، کراچی میں درختوں کی کمی گرمی بڑھنے کا ایک سبب ہیں ، چند روز پہلے رات کی تاریکی میں درختوں کا قتل عام ہوا، بلدیہ جنوبی کے حدود کلفٹن روڈ پر متعدد درختوں کو کاٹ دیا گیا۔رات گئے بلدیہ جنوبی کے حدود کلفٹن روڈ پر درختوں کی کٹائی کی گئی جبکہ شہر میں زندہ درختوں کو کاٹنے پر پابندی بھی عائد ہے ، بلدیہ جنوبی کے مطابق ہمارے پاس درختوں کی کٹائی کا کورٹ آرڈر موجود ہے، آٹھ مردہ درختوں کے کاٹنے کا عدالتی حکم ملا ہے۔، فرئیر حال سے تین تلوار تک آٹھ مردہ درخت ہیں جبکہ عدالتی حکم ہے کہ آٹھ مردہ درختوں کو کاٹنے کے بعد اسی جگہ آٹھ نئے درخت لگانے ہونگے ، 23مئی 2018 تک نئے درخت لگانے کے بعد رپورٹ پیش کی جائے، خلاف ورزی کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔فروری میں کے ایم سی نے باغ ابن قاسم اور بیچ ویو پارک سے درخت اکھاڑے، جب ہرے بھرے درخت اکھاڑے جائیں گے پرندوں کے گھونسلے چھینے جائیں گے ٹھنڈی چھاو¿ں پر کلہاڑے چلائے جائیں گے تواس شہر کی راہوں پر سورج کا غضب تو ہوگا ہی موسم کا مزاج بھی برہم ہوگا۔کراچی کی چھاو¿ں لوٹ جائے تو موسم کا غضب ٹل جائے، گرمی کی لہریں شاداب فضاو¿ں میں بدل جائیں۔

May 10, 2018

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بیج والی پنسل متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا

جدت ویب ڈیسک ::میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی چئیرمینعمران خان نے یہ فیصلہ بلین ٹری سونامی مہم کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ اس مہم کے تحت کراچی میں بلین ٹری منصوبے کی تکمیل میں بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا جس کے لیے زیر تعلیم بچوں کے لیے یہ بیج والی پنسلیں متعارف کروائی جائیں گی۔سوشل میڈیا صارفین نے پی ٹی آئی کے اس اقدام کو خوب سراہا اور کہا کہ عمران خان نے کے پی کے میں بلین ٹری منصوبے کے آغاز کے بعد اب کراچی میں بھی قابل تعریف اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں اس منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بلین ٹری منصوبے کو عالمی منظر نامے پر پر خاصی توجہ اور پذیرائی ملی۔اس جدید نظریے کے تحت بچوں کی درخت لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پنسلوں کے ربڑ والے حصے پر ایک کیپسول ہو گا جس میں مختلف بیج موجود ہوں گے۔ ان پنسلوں کے ساتھ کھیرا، بھنڈی ، بینگن ، پالک اور ہرا دھنیا کے بیج موجود ہیں۔ ان پنسلوں کو ایم آئی ٹی کے طلبا نے ڈیزائن کیا ہے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی نے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے۔خیبر پختونخواہ کے بعد اب یہ منصوبہ کراچی میں بھی متعارف کروایاگیا ہے جس کے لیے پی ٹی آئی نے بچوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان پنسلوں کی تصاویر بھی موجود ہیں جبکہ ان پنسلوں کے پیچھے موجود کیپسول میں پڑے بیجوں کے استعمال سے متعلق بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ بچے بھی ان پنسلوں اور ان پنسلوں کے پیچھے موجود بیجوں کے استعمال کے حوالے سے کافی پُرجوش ہیں۔

May 7, 2018

ماہرین نے ایسا انکشاف کردیاکہ پڑھ کر آپکے ہوش اڑ جائیں. بجلی کے اسمارٹ میٹر آپکو کیسے دھوکا دے رہے ہیں؟

کراچی ،جدت ویب ڈیسک ::آج کل ہر شہری بجلی کی زائد بل کا رونا رو رہا ہے ،حال ہی میں اسمارٹ میٹرز پر ہونے والے تحقیق میں ماہرین نے ایسا انکشاف کیا ہے کہ پڑھ کر آپکے ہوش اڑ جائیں گیں. بجلی کے اسمارٹ میٹر آپکو کیسے دھوکا دے رہے ہیں؟ تمام تر تفصیلات اس پوسٹ میں پڑھیں.
پاکستان کی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بجلی کے پرانے میٹروں کی جگہ اب جدید اسمارٹ میٹر استعمال ہوتے ہیں. ان میٹرز کی خاص بات یہ ہیں کہ صارفین کو باآسانی پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے اس ماہ کتنے بجلی کی یونٹ استعمال کیے. لیکن حال ہی میں ہونے والی تحقیق نے ان اسمارٹ میٹرز کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.
ہالینڈ کی University of Twente اور Amsterdam University of Applied Sciences کی ایک ٹیم نے جب بجلی کے اسمارٹ میٹرز پر تحقیق کی تو انھیں پتا چلا کہ اسمارٹ میٹرز تمام گھریلو صارفین سے زیادہ بل وصول کر رہے ہیں! جی ہاں، آپ نے بلکل صحیح سنا…آپکے اور میرے گھر میں لگے بجلی کے اسمارٹ میٹرز ہمیں پچھلے کئیں سالوں سے دھوکہ دے کر ہم سے اضافی بل وصول کر رہے ہیں. اضافی یونٹ ریڈنگ شو کرواکر آپ سے ڈبل ٹرپل بل وصولی کے ساتھ ساتھ ان اسمارٹ میٹرز کے اور بھی نقصانات ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میٹرز میں پیدا ہونے والے وائرلیس سگنلز انسانی جسم میں کینسر کا سبب بن سکتے ہیں. اسکے علاوہ کافی دفاتر اور گھروں میں اسمارٹ میٹرز کی وجہ سے آگ بھی لگ چکی ہے. ریسیرچ میں مزید ایک ہم بات یہ بھی پتا چلی ہے کہ چور اسمارٹ میٹرز کے زریعے باآسانی پتا لگا سکتے ہیں کہ گھر پر کوئی شخص موجود بھی ہے یا نہیں. اسمارٹ میٹرز کو دیکھتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ گھر میں بجلی استعمال ہو رہی ہے یا نہیں … اگر بجلی استعمال ہو رہی ہو تو انکی بتی بلنک کرتی رہتی ہے اور اگر نہ استعمال ہو رہی ہو یا بہت کم استعمال ہو رہی ہو تو بتی بہت دیر بعد بلنک کرتی ہے جس سے چوروں کو پتا چل جاتا ہے کہ گھر پر کوئی فرد موجود ہے بھی یا نہیں. اس طرح چوروں کو واردات میں آسانی ہو جاتی ہے.
اس ریسیرچ کے بعد پتا چلا ہے کہ ہالینڈ جیسے جدید ترین اور چھوٹے ملک میں لگ بھگ 750,000 میٹر ایسے ہیں جو اضافی ریڈنگ شو کروارہے ہیں. جبکہ اگر پوری دنیا کے ملکوں کا حساب لگایا جائے تو یہ تعداد اربوں میں ہو گی۔   6 ماہ کی طویل ریسیرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر 9 میں سے 5 میٹرز ایسے ہیں جو آپکی استعمال شدہ بجلی زیادہ دکھا رہے ہیں یعنی جتنے بجلی کے یونٹ آپ نے استعمال کیے یہ اسمارٹ میٹرز اسکی کئیں گنا دگنی ریڈنگ شو کرواکے آپکے بجلی کے بلوں میں ڈبل ٹرپل اضافہ کر رہا ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میٹرز میں موجود سینسرز اس مسلے کا باعث بن رہے ہیں.

May 3, 2018

گنیز بک آف ورلڈ‌ ریکارڈ‌ میں نام درج امریکا میں پیدائشی طور پر بازوؤں سے محروم لڑکی پائلٹ بن گئی

واشنگٹن:جدت ویب ڈیسک ::غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایری زونا کی جیسیکا کا نام دنیا کی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں پہلی ہاتھوں سے محروم سرٹیفائیڈ خاتون پائلٹ کے نام سے درج ہوگیا ہے۔جیسکا نے حالیہ دنوں ہی ایتھوپیا کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے معذور لوگوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی فراہم کی تھی۔پائلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ جیسیکا تائی کوانڈو چیمپئن ہے، پیانو بجانے میں مہارت رکھتی اور ڈرائیونگ بھی کرتی ہے، ہاتھوں سے محروم لڑکی پیروں سے سب کام بخوبی انجام دیتی ہے۔جیسیکا کوس نے 2012 میں پیٹرک نامی شہری سے شادی کی جو ان کے تائی کوانڈو انسٹرکٹر بھی رہ چکے ہیں، جیسیکا نے تائی کوانڈو میں 2 بلیک بیلٹ بھی حاصل کررکھے ہیں۔پازوؤں سے محروم لڑکی جیسیکا امریکی ریاست ایری زونا کے شہر ٹسکن کی رہائشی ہے، 30 سالہ لڑکی جیسیکا دنیا گھوم چکی ہے اور موٹی ویشنل اسپیکر کے طور پر اپنی زندگی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرتی ہے کہ معذوری کو مجبوری نہیں بنایا چاہئے۔

May 1, 2018

ملک بھر میں آج شب برات عقیدت اور احترام سے منائی جائے گی ،شعبان کی عظمت بارے جانیے

جدت ویب ڈیسک ::ملک بھر میں آج شب برات ہے ، رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کی رات ہے ،’شعبان المعظم‘‘ اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے، یہ رحمت،مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے ’’رمضان المبارک‘‘ کا دیباچہ، سن ہجری کا اہم مرحلہ اور نہایت عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس سلسلے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’شعبان شھری‘‘(دیلمی) شعبان میرا مہینہ ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ماہِ رجب کے آغاز پر آپﷺ یہ دعا فرماتے تھے:’’اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان۔‘‘(ابن عساکر)’’اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لئے برکت پیدا فرما اور (خیروعافیت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی عظمت اور بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے، جس طرح مجھے تمام انبیاء پر عظمت اور فضیلت حاصل ہے۔ (ایضاً ص 362)۔ شعبان المعظم دراصل رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی پندرہویں شب ، شب برأت‘ شب قدر کی برکات اور اس کے انوار و تجلیات قبول کرنے کے لئے بندوں کو مستعد اور تیار کرتی ہیں۔ چنانچہ شب برأت توبہ و استغفار ، عبادت و مناجات کے ذریعے دل کی زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ رمضان المبارک اور شب قدر کے روحانی انوار دل کے ایک ایک رگ و ریشے میں پیوست ہو جائیں۔ شب برأت توبہ و استغفار اور عبادت و مناجات کے قیمتی لمحات اور وہ صبح صادق ہے جو آفتاب روحانیت (نیکیوں کے موسم بہار، رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے) کے طلوع ہونے کی خوش خبری دیتی ہے۔ روحانیت کا آفتاب نزول قرآن کا بابرکت مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے (رمضان کے علاوہ ) کسی اور مہینے میں رسول اللہ ﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔ (سنن بیہقی)۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کردوں؟ اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے ، اسے ملتا ہے، سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ ‘‘ (بیہقی/ شعب الایمان 3/83)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (مجمع الزوائد 8/65) حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلال اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تا وقت یہ کہ وہ توبہ کرکے، کینہ وری چھوڑ دیں۔
(مشکوٰۃ، ص 115)۔حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فہرست ملک الموت کو دے دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہےان کی روحوں کو قبض کرنا، (چنانچہ حال یہ ہوتا ہے کہ ) کوئی بندہ تو باغ میں پودا لگارہا ہوتا ہے، کوئی شادی بیاہ میں مصروف ہوتا ہے، کوئی مکان کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ ان کا نام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی/ ماثبت بالسنۃ ص 353) ۔یہ مقدس شب رحمت و مغفرت اور قدرو منزلت والی ہے، اس بابرکت رات کی مقدس گھڑیوں میں جو چودہ شعبان کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی اور پندرہ شعبان کی صبح صادق ہونے تک رہتی ہے۔ بارگاہ رب العزت کی رحمت و مغفرت کا ابر کرم خوب جم کر برستا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (ترمذی 1/156، مسند احمد 6-238)‘‘شب برأت کی عظمت و اہمیت اور فضیلت کے پیش نشر اس میں عبادت و مناجات ، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن کے لئے غسل کرلینا مستحب ہے۔ عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ جتنا سہولت اور آسانی سے ممکن ہو۔ اس مقدس رات کو نوافل اور ذکر و تلاوت میں گزاریں، منکرات سے دامن بچاتے ہوئے قبرستان جاکر زیارت قبور کرنا، صحت و عافیت، رحمت و بخشش اور جملہ مقاصد حسنہ کے لئےدعائوں کا اہتمام کیا جائے۔ پندرہویں شعبان کا روزہ رکھیں۔ جن گناہوں کی نحوست اور وبال اس مبارک رات کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کردیتی ہے۔ ان سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صدق دل سے توبہ کی جائے، شب بے داری کا تقاضا ہے کہ ان بابرکت اور قیمتی لمحات کو توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر اور دعائوں میں بسر کیا جائے۔
(بیہقی/شعب الایمان 3/381)۔جب کہ مختلف روایات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بے شمار بدنصیب افراد ایسے ہیں کہ وہ اس بابرکت رات کی عظمت و فضیلت اور قدرو منزلت سے دور رہتے اور اللہ عزوجل کی بخشش و رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہوتی۔ وہ بد نصیب افراد یہ ہیں۔ (1) مشرک (2)جادو گر (3)کاہن اور نجومی (4)ناجائز بغض اور کینہ رکھنے والا (5)جلاد (6)ظلم سے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا (7) جوا کھیلنے والا (8)گانے بجانے والا اور اس میں مصروف رہنے والا (9) ٹخنوں سے نیچے شلوار ، پاجامہ تہہ بند وغیرہ رکھنے والا (10) زانی مردوعورت (11)والدین کا نافرمان (12) شراب پینے والا اور اس کا عادی(13) رشتے داروں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ناحق قطع قمع کرنے والا۔
یہ وہ بد قسمت افراد ہیں جن کی اس بابرکت اور قدرو منزلت والی مقدس رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور وہ بدبختی ، بد اعمالی اور گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔ علماء و محدثین کے مطابق شب برأت کی فضیلت لیلۃ القدر کے بعد ہے، یعنی شب قدر سے کم ہے، تاہم اس کی فضیلت اور قدرو منزلت سے انکار کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں: ’’لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔‘‘ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : (اے عائشہؓ) کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی (پندرہویں شب) میں کیا ہوتا ہے؟انہوں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ (اس شب) کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں، ان سب کے متعلق لکھ دیا جاتا ہے اور جتنے اس سال فوت ہونے والے ہیں، ان تمام کے متعلق بھی لکھ دیا جاتا ہے، اس شب تمام بندوں کے (سارے سال کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔