May 2, 2020

صحتیابی کے بعد بھی کورونا وائرس پھیپھڑوں میں رہنے کا انکشاف

نیویارک جدت ویب ڈیسک : سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کی گہرائی میں یہ وائرس موجود ہوسکتا ہے۔جریدے جرنل سیل ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر اسی وجہ سے کچھ مریضوں میں صحتیابی کے بعد اس وائرس کی دوبارہ تشخیص ہوتی ہے۔چین کی آرمی میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلی بار پھیپھڑوں میں اس وائرس کے ذرات موجود رہنے کے شواہد ملتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مریض میں، جس کے 3 مسلسل ٹیسٹ نیگیٹو آئے تھے۔تحقیق کے نتائج ایک 78 سالہ مریضہ کے پوسٹمارٹم سے مرتب کیے گئے جو کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں اور ان کا علاج ہوا۔علاج کے بعد وہ صحتیاب ہوگئیں اور 3 بار ٹیسٹوں میں نیگیٹو نتائج سامنے آئے تھے مگر ایک دن بعد اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کی موت واقع ہوگئی۔موت کے بعد پوسٹمارٹم میں اہم اعضا جیسے دل، جگر اور جلد پر وائرس کے آثار نہیں ملے مگر اس کی کچھ اقسام پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کی گئیں۔یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا اور چین میں اس وائرس سے صحتیاب ہونے والے متعدد افراد کے دوبارہ ٹیسٹوں میں اس کی تصدیق ہوگئی تھی۔درحقیقت کچھ افراد میں تو ابتدائی نیگیٹو ٹیسٹ کے 2 ماہ بعد وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔وائرس کے شکار افراد میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہونے پر کافی کام کیا جارہا ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لاک ڈاؤن کے بعد ممالک کو کھولنے کی کنجی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود نہیں کہ ایک بار وائرس کا شکار ہونے کے بعد متاثرہ فرد دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتا۔اس چینی تحقیق میں شامل ٹم کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے بارے میں فوری طور پر جاننے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل مارچ میں امریکا کے جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے ایک مریض کے پھیپھڑوں کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر شیئر کی گئی تھی جس میں پھیپھڑوں کے صحت مند ٹشوز کو نیلے جبکہ وائرس سے متاثر ٹشوز کو زرد رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ہسپتال کے چھاتی کی سرجری کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر کیتھ مورٹمین نے بتایا پھیپھڑوں کے وائرس سے متاثرہ اور صحت مند ٹشوز کا امتزاج چونکا دینے والا ہے، درحقیقت اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھنے کے لیے نام کے ساتھ طبی ڈگری کی ضرورت نہیں کہ پھیپھڑوں کو ہونے والا نقصان کسی ایک حصے تک محدود نہیں، درحقیقت دونوں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔اس سے قبل مارچ کے وسط میں ہاکنگ کانگ میں طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ ہاسپٹل اتھارٹی نے یہ نتیجہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے ابتدائی مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد نکالا۔ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ 12 میں سے 2 سے تین مریضوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش میں تبدیلیاں آئیں۔ہسپتال کے انفیکشیز ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان افراد کا سانس کچھ تیز چلنے پر پھول جاتا ہے ، مرض سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرض کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے مگر 9 مریضوں کے پھیپھڑوں کے اسکین میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا، جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے مزید ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا ان کے پھیپھڑوں کے افعال اب کس حد تک کام کررہے ہیں جبکہ پھیپھڑوں کی مضبوطی کے لیے فزیوتھراپی کا انتظام بھی کیا جائیگا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت یاب مریض مختلف ورزشوں جیسے سوئمنگ سے اپنے پھیپھڑوں کو بتدریج مکمل صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔بعد ازاں چین میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر مرض کی شدت زیادہ ہو تو مریضوں کے پھیپھڑوں میں عموماً سیال جمنے لگتا ہے جو نمونیا کے کیسز سے ملتا جلتا نظر آتا ہے اور اسے سی ٹی اسکین کے ذریعے پکڑا جاسکتا ہے، جس میں پھیپھڑوں پر سفید نشان نظر آتے ہیں، جسے ڈاکٹر گرائونڈ گلاس کہتے ہیں۔ووہان (چین کا وہ شہر جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا)کے ٹونگ جی ہاسپٹل کی تحقیق میں سیکڑوں مریضوں کے سینے کے سی ٹی اسکینز کا جائزہ لیا گیا۔جریدے جرنل ریڈیولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق تجزیے سے گرائونڈ گلاس انفیکشن کے بارے میں علم ہوا، یعنی پھیپھڑوں میں ہوا کی گزرگاہیں سیال بھر گئیں جبکہ پھیپھڑوں کے ننھے خانوں (جو آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ مالیکیولز کا تبادلہ دوران خون سے کرتے ہیں)، کو نقصان پہنچتا ہے۔یہ گرائونڈ گلاس سی ٹی اسکین میں دھندلے قطرے کی شکل میں نظر آتے ہیں، جو مرض بدتر ہونے پر شکل بدلتا ہے، جیسا آپ نیچے سی ٹی اسکین میں چھوٹے زرد تیروں میں دیکھ سکتے ہیں۔یہ سیال صرف کورونا وائرس کے لیے مخصوص نہیں بلکہ متعدد اقسام کے انفیکشنز اور پھیپھڑوں کے امراض میں بھی دریافت ہوتا ہے، مگر کووڈ 19 میں اس کی ساخت اور تقسیم مخصوص ہوتی ہے۔اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور دریافت کیا کہ ان کے سینے کا سی ٹی اسکین لیب ٹیسٹ کے مقابلے میں کووڈ 19 کی تشخیص کا موثر ترین ذریعہ ہے۔کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیاں نمونیا کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں سانس لینے میں مشکل، جسم میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور کھانسی جیسی شکایات ہوتی ہیں، بتدریج پھیپھڑے دوران خون سے مناسب مقدار میں آکسیجن جذب کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

April 20, 2020

سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے، امریکی ماہرین

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی ماہرین کے مطابق سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سورج کی تپش کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو سکے گا جبکہ امریکی محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر مطبوعہ معلومات پر بات نہیں کر سکتے۔ جس سے لوگ غلط اور غیر حقیقی نقطہ نظر قائم کریں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بھی کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں ہے۔واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اب تک کورونا کی وجہ سے 40 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 7 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد چوبیس لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور چھ لاکھ پندرہ ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔گزشتہ روز امریکی صدر نے امریکہ کی تین ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) لاک ڈاؤن میں نرمی کو بھی خطرناک قرار دے رہا۔

April 16, 2020

کررونا وائرس کیسے اور کہاں ،کب بنا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے تحقیق شروع کردی

دنیا کے 190 کے قریب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وبا کورونا وائرس سے 16 اپریل کی صبح تک 20 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد متاثر جب کہ ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے مگر بدقسمتی سے اب تک دنیا کی بہت بڑی آبادی اس وبا کے حوالے سے مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
مذکورہ وبا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک اس کے حوالے سے سازشی اور جھوٹی تھیوریز سامنے آتی رہی ہیں جب کہ امریکا اور چین کی حکومتیں بھی اس وبا کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگاتی رہی ہیں۔
جہاں امریکا نے کورونا وائرس کو چینی وبا قرار دیا، وہیں چین نے بھی امریکا پر الزام لگایا کہ دراصل امریکی فوج ہی ابتدائی طور پر کورونا کو ان کے شہر ووہان لے آئی تھی مگر ایسے الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا اور یہ سب صرف بیانات اور میڈیا کی خبروں کی زینت تک محدود رہے۔
ماضی میں جہاں کچھ تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا کا وائرس چین کے شہر ووہان کی گوشت مارکیٹ سے شروع ہوا اور اس حوالے سے دو مختلف تحقیقات میں 2 مختلف دعوے کیے گئے تھے۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس 2 اقسام کے سانپوں یعنی چینی کوبرا اور کرایت سے شروع ہوا ہوگا اور پھر اسی مارکیٹ کا دورہ کرنے والے انسانوں میں یہ وائرس سانپوں کے ذریعے داخل ہوا ہوگا یا انہوں نے ان کا گوشت کھایا ہوگا۔
اس کے بعد سامنے آنے والی ایک اور تحقیق میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس چمگادڑ سے شروع ہوا ہوگا تاہم دوسری تحقیق کے ماہرین بھی اس بات پر متفق نظر آئے کہ کورونا شروع ووہان کی گوشت مارکیٹ سے ہی ہوا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔
مگر مذکورہ تحقیقات کے باوجود دنیا کے عام لوگ، بعض ماہرین اور سیاستدان بھی اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے، جس وجہ سے اب تک کورونا وائرس کے حوالے سے لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔
اگرچہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کو 11 مارچ 2020 کو عالمی وبا قرار دیا گیا، تاہم اس باوجود تاحال اس وبا کے حوالے سے کئی ممالک کے حکمران اور ماہرین مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور ایسے حکمرانوں اور ماہرین میں امریکی حکام بھی شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے چینی وائرس قرار دیتے رہے اور اس وبا کے حوالے سے چین کے خلاف ٹوئٹس بھی کرتے رہے۔
امریکا کی جانب سے کورونا کو مسلسل چینی یا ووہان قرار دیے جانے کے بعد چین نے بھی بھی دعویٰ کیا کہ دراصل مذکورہ وائرس کو امریکی فوج ہی چین کے شہر ووہان لائی تھی۔
چین نے امریکی سینیٹ کے ایک اجلاس کی کارروائی کی ویڈیو کو بنیاد بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مذکورہ وائرس کو امریکی فوج چین کے شہر ’ووہان‘ لے کر آئی تھی۔
اس سے قبل چینی حکومت امریکا پر کورونا سے متعلق افواہیں اور خوف پھیلانے جیسے الزامات لگاتی آئی تھی۔
امریکا اور چین کی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے سیاستدان، مذہبی رہنما، ماہرین اور عام افراد کی رائے بھی کورونا سے متعلق متفرق دکھائی دی، جس وجہ سے بھی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا حکومتیں کے لیے مشکل بنتا گیا۔
یہی نہیں بلکہ کورونا وائرس کے حوالے سے اور بھی کئی دیگر سازشی نظریات سامنے آئے جس وجہ سے بھی دنیا کی بہت بڑی آبادی پریشانی کا شکار رہی۔
امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ نے تین دن قبل ہی اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ کورونا وائرس شروع ہونے سے 2 سال قبل ہی امریکی سائسندانوں اور ماہرین نے ووہان کی مذکورہ گوشت مارکیٹ اور ووہان کے بائیوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا تھا اور اس دورے کے دوران ماہرین کی جانب سے دیکھی گئی چیزوں کا تفصیلی احوال انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کو بھجوایا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق چین میں امریکی سفارتخانے کے تعاون سے امریکی ماہرین نے نہ صرف ووہان کی گوشت مارکیٹ کا دورہ کیا تھا بلکہ انہوں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی (ڈبلیو آئی وی) کا دورہ بھی کیا تھا جو کہ بائیوٹیکنالوجی کا ایک اہم ادارہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ماہرین کی جانب سے دورے کے بعد چین میں موجود امریکی سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کو مراسلے بھیجے تھے جس میں سفارتخانے نے ووہان میں وائرس جیسے امکانات کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور گوشت مارکیٹ سمیت بائیوٹیکنالوجی ادارے میں ہونے والی تحقیقات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان مراسلوں میں واضح طور پر نہیں لکھا گیا تھا کہ وہاں پر کسی وائرس کی تیاری کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اگرچہ 2018 میں ہی امریکی ماہرین نے ووہان میں وائرس کے شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم متعدد امریکی اداروں کے ماہرین نے دسمبر 2019 میں ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا جانے والا وائرس نہیں کہا۔
واشنگٹن پوسٹ کی طرح برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی مارچ میں اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ نام نہاد ماہرین کے کچھ گروپس ایسے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار ہوا، تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ وائرس چین نہیں بلکہ مغربی دنیا میں تیار ہوا، جسے بعد ازاں چین بھجوایا گیا۔
رائٹرز نے اپنی رپوٹ میں بتایا تھا کہ ایک گروپ کے دعوے کے مطابق معروف فلاحی ادارے بل اینڈ ملنڈا گیٹس نے انگلینڈ کے پربرائٹ انسٹی ٹیوٹ کو ایسے ہی کسی وائرس کے تیار کرنے کے لیے امداد فراہم کی تھی اور پھر انگلینڈ کے ادارے نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیا۔
رپورٹ میں ایک گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگرچہ اس دعوے کو کئی ماہرین، امریکی و برطانوی ادارے افواہ قرار دیتے ہیں، تاہم اس دعوے کے مطابق انگلینڈ کے ادارے نے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد کے تحت نہ صرف کورونا وائرس کو تیار کیا بلکہ اسے رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں اسی وائرس کو دوسرے ممالک کے اداروں کے ساتھ مل کر چینی شہر ووہان منتقل کیا گیا، تاہم اس دعوے پر بھی کسی مستند ادارے کو یقین نہیں اور کئی ماہرین ایسے دعووں کو سازشی تھیوری قرار دیتے ہیں۔
ایسے ہی متضاد دعووں کے بعد حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اشارہ دیا کہ امریکی حکومت کورونا وائرس کے لیبارٹری میں ممکنہ تیاری کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے محض 2 دن بعد اب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا؟۔
سی این این نے رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور نیشنل سیکیورٹی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی گوشت مارکیٹ سے نہیں پھیلا بلکہ اسے ممکنہ طور پر کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگرچہ امریکی حکومت کے زیادہ تر عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا تاہم پھر بھی اب حکومت اور خفیہ ادارے مل کر اس بات کی کھوج لگائیں گے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کی جانب سے کورونا کی ممکنہ طور پر لیبارٹری میں تیاری کی تحقیقات کے معاملے نے اس وقت تقویت پکڑی جب کہ امریکی صدر کے انتہائی قریبی اور ان کی پارٹی کے کچھ ارکان کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے امریکی صدر پر تنقید بے جا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت سے منسلک خفیہ ادارے کے عہدیدار نے بتایا کہ خفیہ ادارے کے ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا اور اسے اتفاقی طور پر انسانوں میں منتقل ہونے کے لیے چھوڑا گیا۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ خفیہ اداروں کے ماہرین اس تھیوری پر یقین نہیں رکھتے کہ کورونا کو لیبارٹری میں ہی تیار کیا گیا، تاہم خفیہ ایجنسی کے ماہرین یہ بات جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہیں لیبارٹری میں کام کرنے والے کسی شخص سے تو کوئی متاثر نہیں ہوا اور وہیں سے اس وبا کی شروعات ہوئی ہو۔
اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں ذرائع سے بتایا کہ امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ماہرین کو شک ہے کہ چین نے امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں۔
فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک ملی کے حوالے سے بتایا کہ کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مذکورہ معاملے کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں نہیں پتہ کہ سچائی کیا ہے لیکن ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ بھی کیا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے چینی حکومت دنیا سے شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کے حوالے سے بھی بدنیت ہے اور دیکھا گیا ہے کہ چینی حکومت شفاف انداز میں ڈیٹا کا تبادلہ نہیں کر رہی۔

April 12, 2020

چیونٹی پر تحقیق کے حیران کن نتائج ۔ سائنسی ماہرین

ویب ڈیسک  ::برلن: فرانس کے سائنسی ماہرین نے چیونٹی پر تحقیق کی جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔

غیرملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹولوس کے ماہرین نے چیونٹی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ مطالعے کے دوران چیونٹی کی ویڈیوز ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹی وہ کیڑا ہے جو معصوم ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو اپنی معصومیت سے پاگل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی خطروں سے نہ صرف سیکھتی ہیں بلکہ وہ کوئی بھی خطرناک کام کرنے سے گریز کرتی ہیں، جیسے وہ اگر ایک جگہ سے گزریں اور انہیں خطرہ محسوس ہو تو دوبارہ یہاں کا رخ نہیں کرتیں۔

ماہرین نے چیوٹی کو بہترین راستہ تلاش کرنے والا کیڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے پنجوں اور ڈنک کی مدد سے راستہ تلاش کرتی ہیں اور جاتے وقت واپسی کی نشانی بھی لگا کر جاتی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی کی ذہانت بھی کمال ہے وہ ہر چیز کو یاد رکھتی ہیں اور اسی کی مدد سے اپنے دیگر ساتھیوں کی بھی مدد کرتی ہیں، وہ اگر ایک راستے پر چل رہی ہوں تو خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے تبدیل کرلیتی ہیں

جرمنی کے تحقیقی ماہرین نے دنیا کی تیز رفتار چیونٹی تلاش کرلی جو ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کے ماہرین تیز رفتاری سے چلنے والے حشرات الارض اور کیڑے مکوڑوں کی تلاش میں تھے، اسی دوران انہیں صحرا میں سلور چیونٹی نظر آئی۔

ماہرین کے مطابق گاٹاگلیپس بمبی سینا نامی اس چیونٹی کا کوئی مدمقابل نہیں کیونکہ یہ ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق چیونٹی ایک سیکنڈ میں تقریباً 34 انچ آگے بھاگتی ہے، یہ بظاہر معمولی فاصلہ ہے مگر بمبی سینا کے لحاظ سے زیادہ ہے کیونکہ یہ  جسم سے 108 گناہ دور  کی مسافت بنتی ہے۔

ماہرین نے اس حوالے سے تقابلی رپورٹ بھی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر یوسین بولٹ اسی تناسب سے دوڑے تو وہ 60 منٹ میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق سلور چیونٹی کروڑوں سالوں سے صحرا میں موجود ہے اور اس نے یہیں برق رفتاری سے دوڑنا سیکھا۔

ماہرین کے مطابق ریگستان میں گرمی کی شدت کے باوجود گلیپس کو سورج کی تپش متاثر نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ وہ دن میں بھی دوڑتی نظر آتی ہے، لمبی ٹانگوں کی بدولت چیونٹی کا جسم گرم ریت پر نہیں لگتا اور قدرتی طور پر اس میں ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو گرمی برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ چیونٹیاں دن میں گھر سے نکلتے وقت چھوٹا راستہ اختیار کرتی ہیں تاکہ جلدی واپسی ہو، وہ سارا دن بل سے باہر آنا جانا لگاتی ہیں اور رات میں بالکل نظر نہیں آتیں۔

New research solves enigma in ant communication | School of Life ...

 

April 11, 2020

امریکا میں قیامت ڈھانے والے کورونا کی ابتدا ء یورپ میں ہوئی، تحقیق

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا الزام صد ڈونلڈ ٹرمپ چین پر عائد کرتے رہے ہیں تاہم نئی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ کورونا کی جو قسم نیویارک سمیت امریکا کی مشرقی ریاستوں پر قیامت ڈھارہی ہے اس کی ابتدا چین نہیں یورپ میں ہوئی۔امریکی اخبارکے مطابق نیویارک اور نیوجرسی سمیت ایسٹ کوسٹ سے تعلق رکھنے والی امریکا کی مختلف ریاستوں میں بیمار افراد کے جسم میں موجود وائرس کا تعلق اس چین سے نہیں جہاں اس بیماری کا آغاز ہوا تھا۔یہ بات نیویارک میں بیمار افراد سے حاصل کورونا وائرس کے جینیاتی مواد کے تجزیے سے سامنے آئی ۔تحقیق کے لیے نمونے وسطِ مارچ سے لینا شروع کیے گئے تھے اور ان کے تجزیے سے واضح ہوا کہ زیادہ تر کیسز کا تعلق یورپ میں اس بیماری کا شکار افراد میں موجود وائرس کی نئی قسم سے ہے۔کیمبرج یونیورسٹی نے ایک علیحدہ تحقیق کی ہے جس کے مطابق کورونا وائرس کی تین اقسام دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں کو بیمار کر رہی ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان تین اقسام میں سے اے اور سی قسم یورپ اور امریکا کو متاثر کیے ہوئے ہے جبکہ مشرقی ایشیا میں لوگوں کی اکثریت وائرس کی بی قسم کا شکار ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اس وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 2 ہزار 876 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتیں 18 ہزار 747 ہو چکی ہیں۔کورونا کے امریکا میں 4 لاکھ 56 ہزار 815 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 10 ہزار 917 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 27 ہزار 314 کورونا مریض اب تک صحت یاب ہوئے ہیں۔

March 31, 2020

کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے،کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔ ماہرین

ویب ڈیسک :: انٹرنیٹ پر ان دنوں کورونا وائرس کے بارے میں ڈھیروں معلومات شیئر کی جارہی ہے جس میں متعدد مشورے اور نسخے بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔

تو آخر غلط معلومات کو پھیلنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟

ٹھہریے اور غور کیجیے

معلومات کو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک جلد از جلد پہنچانے اور ان کی مدد کرنے کی بے چینی قدرتی ہے۔

جب آپ کے پاس ای میل، واٹس ایپ، فیس بک یا ٹوئٹر پر کوئی پیغام آتا ہے تو آپ اسے اسی وقت فارورڈ کرنے یا آگے بھیجنے کی طلب محسوس کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے کہ اس پیغام کو اپنے پاس ہی رکھ کر سوچنا اور اگر اس میں کوئی غیر یقینی بات لگے تو اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں اور تجزیہ کریں۔

ذریعہ کیا ہے؟

کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ یہ پیغام کہاں سے آ رہا ہے؟

اگر پیغام بھیجنے والا کسی دوست کا دوست ہے یا کسی رشتہ دار کا جاننے والا ہے تو فوری طور پر معلومات کے درست ہونے پر یقین کر لینا ٹھیک نہیں۔

کہنے کا مطلب ہے کہ اگر آپ پیغام بھیجنے والے کو بہت نزدیک سے نہیں جانتے تو اعتبار مت کیجیے۔ کئی بار بہت تعلیم یافتہ افراد بھی غلط معلومات کو آگے بڑھانے یا وائرل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

کئی بار اس میں سے کچھ معلومات صحیح ہوتی ہیں اور کچھ غلط۔ مثال کے طور پر ہاتھ دھونے سے وائرس کے پھیلاوٴ میں کمی آتی ہے، یہ بات صحیح ہے لیکن مرض کی تشخیص کے لیے سوشل میڈیا پر بتائے جانے والے متعدد طریقے غلط ہیں۔

برطانیہ کے فیکٹ چیک ادارے فُل فیکٹ کی ڈپٹی ایڈیٹر کلیری ملنے نے بتایا ’صحت کے عوامی ادروں کی جاب سے جاری کردہ معلومات سب سے زیادہ بھروسے کے لائق ہوتی ہیں۔’

ایسا نہیں ہے کہ ماہرین کو سب کچھ پتا ہے لیکن کسی دور دراز رشتہ دار یا کسی دوست کے دوست سے ملنے والی معلومات سے بہتر وہ ہے جو کوئی ماہر دے رہا ہو۔

کیا پیغام ’فیک’ یا جعلی ہو سکتا ہے؟

بظاہر کوئی بھی چیز دھوکا دے سکتی ہے۔ کسی معتبر ادارے کے اکاوٴنٹ کی نقل کرنا ممکن ہے۔

مثال کے طور پر بی بی سی نیوز یا حکومتی اداروں کے اکاوٴنٹس۔ کئی بار سکرین شاٹس دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ معلومات واقعی کسی معتبر ادارے سے آ رہی ہے لیکن جعلی سکرین شاٹس بنانا بھی ممکن ہے۔

Getty Images

ایسی صورت میں تصدیق شدہ اکاوٴنٹس اور ویب سائٹس پر معلومات حاصل کریں۔ اگر کسی پیغام سے متعلق معلومات آسانی سے حاصل نہ ہو سکے تو اس کی صداقت پر شک کرنا ضروری ہے۔

اگر کوئی ویڈیو، پوسٹ یا لنک گڑبڑ لگے تو ممکن ہے کہ وہ اصل میں ’فیک نیوز’ کا باعث ہو۔

کلیری کے بقول اگر کسی پیغام میں مختلف قسم کے فونٹ استعمال ہوئے ہوں تو وہ پیغام ممکنہ طور پر جعلی ہو سکتا ہے۔

صداقت پر شک ہو تو شیئر نہ کریں

کبھی بھی کسی پیغام کو یہ سوچ کر آگے نہ بھیجیں کہ وہ ممکنہ طور پر سچ ہو سکتا ہے۔ مشکوک پیغام کو آگے بھیج کر کے آپ فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اگر آپ پوسٹ کو ایسی جگہ شیئر کر رہے ہیں جہاں طبی کارکنان اور ڈاکٹرز جیسے ماہرین موجود ہوں تو اس میں بری بات نہیں لیکن یہ یقینی بنائیں کہ آپ اپنے پوسٹ میں واضح کر دیں کہ آپ کو معلومات کے بارے میں کیا خدشات ہیں۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ جو تصویر یا پیغام شیئر کر ہے ہیں اسے بعد میں کسی اور جگہ کسی اور طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام معلومات کو انفرادی طور پر پرکھیں

واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ وائس نوٹ میں جس خاتون کی آواز سنائی دے رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص کے دوست کا مشورہ شیئر کر رہی ہیں جو ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ یہ پیغام بی بی سی کو دنیا بھر سے بھیجا گیا ہے۔

اس پیغام میں دیے جانے والے مشوروں میں کچھ صحیح اور کچھ ایسے ہیں جنھیں درست ثابت کرنے کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

جذباتی پیغاموں سے خبردار رہیں

بیشتر مواد ہمیں بے چین، افسردہ، خوش کرنے یا غصہ دلانے والا ہوتا ہے۔ ایسا مواد بہت آسانی سے وائرل ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر غلط معلومات یا ’مس انفارمیشن’ سے نمٹنے میں صحافیوں کی مدد کرنے والے برطانوی ادارے فرسٹ ڈرافٹ سے وابستہ کلیری وارڈل نے بتایا ’غلط معلومات کو پھیلانے میں خوف سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے۔’

فوری طور پر اقدامات کی ضرورت کا احساس بے چینی بڑھاتا ہے۔

انھوں نے بتایا ’لوگ اپنے قریبی افراد کے تحفظ کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔ جب وہ وائرس سے نمٹنے کے طریقے جیسا کوئی پیغام دیکھتے ہیں، یا ایسا کوئی پیغام جو صحت یاب کرنے والی کسی چیز کے استعمال کا مشورہ دیتا ہو تو وہ فوری طور پر اس سے اپنے قریبی افراد کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔’

جانبداری کے بارے میں سوچیں

کسی پیغام کو شیئر کرنے سے پہلے سوچیے کہ آپ اسے کیوں شیئر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ اس پر متفق ہیں یا اس لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ وہ سچ ہے؟

برطانوی تھنک ٹینک ڈیموس کے سینٹر فاردا اینالیسس آف سوشل میڈیا کے ریسرچ ڈائریکٹر کارل ملر کہتے ہیں کہ ہم ایسے پیغام زیادہ آسانی سے شیئر کر دیتے ہیں جو ہمارے اپنے خیالات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں ہمیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

March 9, 2020

مذہبی عقیدے سے سائنسی حقیقت تک۔تلسی کا پودا مقدس اور بابرکت کیوں مانا جاتا ہے ؟

ویب ڈیسک ::مذہبی عقیدے سے سائنسی حقیقت تک۔تلسی کا پودا مقدس اور بابرکت کیوں مانا جاتا ہے ؟ کارخانۂ قدرت کے خوش رنگ، خوش بُو دار، عجیب الخلقت نباتاتی اجسام جہاں صحت اور علاج میں مفید اور مددگار ہیں، وہیں انسانوں کے مختلف گروہوں کے نزدیک ان کی کوئی مذہبی اور روحانی حیثیت بھی ہوسکتی ہے۔دنیا کے بعض پودے اور جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جن کو مقدس اور بابرکت مانا جاتا ہے اور وہ جادوئی خاصیت کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔ تلسی انہی میں‌ سے ایک ہے۔
تلسی کا شمار عام نباتات میں کیا جاتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں Basil کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں کی طرح برصغیر میں بھی تلسی ایک مشہور اور معروف پودا ہے۔
اس خطے میں‌ بسنے والے ہندو اسے مقدس اور بابرکت مانتے ہیں۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ایک دیوی نے تلسی کا روپ دھار لیا تھا اور اسی لیے یہ مقدس پودا ہے۔ ہندو مت میں تلسی کی پوجا کی جاتی ہے۔
مذہبی عقائد اور روحانی تصورات کو چھوڑ کر طبّی سائنس کی دنیا میں چلیں تو تلسی انسانوں کے لیے نہایت مفید اور ہماری صحت اور علاج میں سود مند بتایا جاتا ہے۔ طبی محققین کی مختلف رپورٹوں میں تلسی کے حیرت انگیز طبی فوائد سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس میں وٹامن، معدنیات، کیلشیم، کینسر کے خلاف مددگار اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش سے بچانے میں مدد دینے والے اجزا موجود ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ تلسی کے پتے جینیاتی نقائص کو دور کرکے ہمارے ڈی این اے کو صحت مند حالت میں برقرار رکھتے ہیں۔ اسی طرح اس پودے میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہیں جو دل کے لیے فائدہ مند ہیں، تلسی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے بعض اجزا جراثیم کُش صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

Image result for tulsi plant benefits

February 28, 2020

ایسی کون سی وہ عام غذا ئیں جو بانجھ پن کا امکان بڑھاسکتی ہیں

ویب ڈیسک ::ایسی کون سی وہ عام غذا ئیں جو بانجھ پن کا امکان بڑھاسکتی ہیں…………… دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر یہ ممکنہ طور پر ایک عام غذا کا استعمال ہوسکتا ہے۔
کم از کم امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا۔ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا، فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد اسپرم کاؤنٹ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ۔
محققین کا کہنا تھا کہ غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسائیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپریم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوان تھے اور ان کا انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کی۔
ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گزشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا، ، جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا، یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ۔
ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپریم کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی، اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، سبزیاں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے غرض جنک فوڈ کا کم از کم استعمال کریں۔
تولیدی صحت سے ہٹ کر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر سنگین امراض سے بچنے کے لیے اچھی غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

February 7, 2020

روزی گیبریئیل کی نئی ویڈیو وائرل ، ویڈیو میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کرکے مداحوں کو رلادیا

کینیڈا: جدت ویب ڈیسک ::کینیڈا سے تعلق رکھنے والی روزی کی جاری کردہ ویڈیو کا عنوان  پاکستان نے کس طرح میری زندگی بدل دی‘ ہے جس میں روزی اپنی پرانی ویڈیو میں کسی مرض کی شدت سے روتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں اور ایک معجزے کا انتظار کرتی ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو میں وہ پاکستان جانے کی تیاری کرتی نظر آتی ہیں۔ ویڈیو کے درمیان وہ پاکستانیوں کی محبت، مہمان نوازی اور گوادر سے گلگت تک کے خوبصورت مقامات دکھاتی ہیں۔گزشتہ سال اپنی ہیوی بائیک پر پورے پاکستان کا سفر کرنے اور دینِ اسلام کی حقانیت قبول کرنے والی مہم جو خاتون روزی گیبریئیل کی نئی ویڈیو وائرل ہوگئی، ویڈیو میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کرکے مداحوں کو رلادیا ہے تو دوسری جانب انہیں مسکرانے کا موقع بھی فراہم کیا۔
۔ویڈیو کی سب سے اہم بات روزی کا لکھا وہ نوٹ ہے جس میں وہ شروع میں اپنے رونے کی وجہ بتاتی ہیں۔ روزی نے کہا کہ میں زندگی کے نشیبی حصے میں تھی۔ ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور خودکشی کے خیالات میں گھری ہوئی تھی۔
روزی نے بتایا کہ ’مجھے 20 برس سے لائم بیماری تھی اور پیدائشی طور پر مجھے شریانوں کا مرض لاحق رہا، میرے 9 آپریشن ہوئے، پھرمیرا ایک ناکارہ گردہ بھی نکالا گیا جس کے بعد میں مایوس ہوگئی لیکن میرے ایک دوست کی موت نے مجھے جگادیا، میں نے کہا کہ مجھے بستر پر نہیں مرنا اور زندگی مختصر ہے۔
روزی کے مطابق اس کے بعد میں نے موٹر سائیکل پر دنیا کے سفر کا ارادہ کیا ورنہ گھر پر دھیرے دھیرے موت کے منہ میں جانا پڑتا لیکن اس سفر میں گرتی ہوئی صحت کے خیال سے پریشان رہی تاہم سب کچھ ٹھیک ہوگیا اور میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح میں لوگوں کو ترغیب دے سکتی ہوں، میں نے یہ سوچا نہیں تھا کہ زندگی کے اتنے مختلف پہلو میرے سامنے آئیں گے‘۔
روزی کی یہ ویڈیو چار لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھی اور 8700 سے زائد لوگوں نے اپنے کمنٹس لکھے جس میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ کمنٹس میں سب نے کہا ہے کہ اس ویڈیو نے انہیں رلادیا اور دوسری جانب جینے کی امید دی اور خود پاکستان کا روشن پہلو اجاگر کرنے پر بھی لوگوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں لیکن پاکستانی عوام نے مجھے بے انتہا محبت دی اور قبولیت بخشی۔ ایک جگہ وہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ (پاکستان کے لوگ) دنیا میں سب سے خوبصورت اور حیرت انگیز ہیں، یہ مسلمان ہیں، آپ میں سے کتنوں نے انہیں دیکھا اور جانا ہے، یہ آپ کو دیکھ کر اپنے گھر بلاتے ہیں اور اپنے گھر کی ہر شے آپ کو دے دیتے ہیں۔
روزی نے مزید کہا کہ ’ اے دنیا والو! جاگ جاؤ، آپ ان پاکستانیوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، اور میں خدا سے امید رکھتی ہوں کہ میرا جو تجربہ آپ دیکھ رہے ہیں وہ آپ کا ذہن بدل دے، اگرآپ ہر شخص سے یکساں سلوک کریں تو دنیا سے امتیازات ختم ہوجائیں گے، دنیا کو چاہیے کہ وہ حقیقی حسن دیکھے اور انسانیت سے اصل رشتے کو میرے تجربے سے پہچانے۔ یہی زندگی ہے‘۔
اس کے بعد ویڈیو میں روزی کے ہاتھوں میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ دیکھا جاسکتا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ یہ محض پاکستان کا ایک سفر نہیں تھا بلکہ میری روح کی تسخیر تھی، میری تکلیف دہ زندگی ختم ہوئی اور مجھے سکون مل گیا، میں نے اپنے سفر میں سچ کو پہچانا ہے، پاکستانیوں کی رحم دلی نے میرے دماغ کو سکون پہنچایا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا منظر بھی شیئر کیا ہے۔