October 16, 2018

بلوچستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیوں ضروری ہے؟

جدت ویب ڈیسک ::بلوچستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیوں ضروری ہے؟ پانی کی کمی سے نمٹنے کیلئے ایک ہی حل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو 3 لاکھ 71 ہزار 190 اسکوائر کلومیٹر پر واقع ہے۔ بلوچستان کے کُل 32 اضلاع ہیں جن میں سے جھل مگسی، نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور اور سبی کا کچھ حصہ چھوڑ کر باقی بلوچستان کا اسٹرکچر پہاڑی اور نیم پہاڑی ہے۔
گزشتہ 140 برس میں یہاں 34 بار خشک سالی کے سائیکلز آچکے ہیں اور اس سال بھی بارشیں نہ ہونے کے باعث بلوچستان 35ویں خشک سالی کے دور سے گزر رہا ہے۔
2018 کے ریکارڈ کے مطابق مئی سے اگست تک بلوچستان میں معمول سے کم 45 اعشاریہ 7 فیصد بارشیں ہوئیں۔ریتیلے نظاروں اور مٹیالے پہاڑوں کا حسن تو بے مثال ہے تاہم پانی کی کمی نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور مال مویشیوں کو بھی پریشان حال کر دیا ہے۔
مگر سخت موسموں سے مقابلہ کرنے والے سخت جان مقامی افراد نے حالات سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ہے اور مقامی آبادی نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے ساتھ مل کر پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر کام شروع کردیا ہے جس کی ایک مثال ضلع پشین کلی زرغون میں بننے والا ڈیلے ایکشن ڈیم ہے۔
آغا محمد، جو یونین کونسل خوشاب ضلع پشین کی مقامی معاون تنظیم کے صدر بھی ہیں، اس منصوبے کے حوالے سے بہت پُر امید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیلے ایکشن ڈیم بنانے پر کُل 21 لاکھ روپے کی لاگت آرہی ہے اور تین ماہ میں اسٹرکچر تیار ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں کمیونٹی کا شئیر بھی ہے اور لیبر بھی ہے، اس لیے یہ سستا بن رہا ہے اور اس ایک چھوٹے ڈیم سے 4 سے 5 گاؤں کو فائدہ ہوگا۔موسمیاتی تبدیلیوں اور درختوں کی کٹائی سے بلوچستان کے موسموں کا پیٹرن بھی بدل گیا ہے۔ پہلے پہل زیارت اور کوئٹہ میں 17 سے 18 فٹ برف باری ہو جاتی تھی مگر اب کبھی برف پڑ بھی جائے تو ایک سے ڈیڑھ فٹ سے ذیادہ نہیں ہوتی۔ گزشتہ 40 سال سے سبی کا علاقہ بلوچستان کا گرم ترین ضلع ہوتا تھا اور اب پچھلے 2 سے 3 سال میں تربت سب سے گرم علاقہ بن گیا ہے، جہاں درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ زیارت میں 2 برس میں واٹر ٹیبل 200 فٹ نیچے آگیا ہے۔ اس کے علاوہ نوشکی، وارشک، آواران، خاران، تربت اور پنجگور میں بھی خشک سالی تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے جبکہ مون سون زون میں واقع ہونے کے باوجود لورالائی کا واٹر ٹیبل نیچے آ رہا ہے۔
اس حوالے سے ماحولیاتی پروٹیکشن ایجنسی ای پی اے بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل طارق زہری کہتے ہیں کہ جو پانی ہمارے پاس آ رہا ہے، ذخائر نہ ہونے کے باعث اس کا 80 فیصد ضائع ہو رہا ہے، ہم ضائع ہونے والا 30 سے 40 فیصد پانی صرف 200 ارب روپے میں محفوظ کر سکتے ہیں اور اس سے پانی کا گرنے والا واٹر لیول اوپر آ جائے گا۔
پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک سال میں تین سال کا کام کرنا ہوگا
وہ مزید کہتے ہیں کہ آنے والے 5 برسوں میں تمام صوبے اور فیڈریشن اپنے کُل بجٹ کا کم از کم ایک تہائی پانی پر خرچ کریں تو پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، ہم کم وقت میں زیادہ وسائل استعمال کر بیٹھے ہیں اس لیے ہمیں ایک سال میں 3 سال کا کام کرنا ہے۔
ملک میں بڑے ڈیموں کی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ لیکن چھوٹے ڈیم اور پانی کے ذخائر بلوچستان کی ضرورت ہیں تاکہ ابر رحمت برسنے کی صورت میں بارش کا پانی بچا کر مقامی لوگوں کی زندگی کو سہل بنایا جاسکے ۔ بلوچستان 3 لاکھ 71 ہزار 190 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہےبلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں ایسے قدرتی لینڈ اسکیپ موجود ہیں جس میں پانی کے چھوٹے چھوٹے اسٹرکچر بنا کر واٹر ٹیبل اوپر لانے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے بلوچستان کا آبپاشی کا مقامی ذریعہ کاریز، جو خشک ہونے لگا ہے، وہ بھی دوبارہ چل پڑے گا۔

October 12, 2018

پاکستان انجینئرنگ کونسل 500 ارب میں ڈیم بنا سکتی ہے،چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی

جدت ویب ڈیسک ::چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم بنانے کے لئے چیف جسٹس نے احسن اقدام اٹھایا، پاکستان انجینئرنگ کونسل فنڈ ریزنگ میں حصہ ڈالے گی، ڈیم بنانے کیلئے پبلک ڈویلپمنٹ کمپنی بنائی جائے جو اس میں انوسٹ کرے اسے منافع میں سے حصہ دیں۔انکا کہنا تھا کہ ہم تین روزہ کانفرنس کررہے ہیں جس میں پوری دنیا سے ہائیڈل پاور کی کمپنیوں کو مدعو کررہے ہیں، کمپنیوں سے کہیں گے اس منصوبے میں انوسٹ کریں،جبکہ ہم پاکستان انجینئرنگ فاؤنڈیشن بنانے کا بھی اعلان کرتے ہیں۔چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشہ ڈیم کا بننا پاکستان کیلئے لائف لائن ہے ، یہ ڈیم چاروں صوبوں کو پینے کیلئے پانی فراہم کرے گا ۔ ڈیم کیلئے 700 ارب درکار ہیں مگر پاکستان انجینئرنگ کونسل 500 ارب میں ڈیم بنا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیم بنانے کےلئے سات ارب چاہیں مگر پی ای سی اس کو پانچ سو ارب میں بناسکتی ہے، انکا کہنا تھا کہ اتھوپیا جیسا ملک ڈیم بنا سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں، جبکہ پچھلی حکومتوں نے شکوہ کرکے کہا کہ ہماری تجاویز کو لے کر نہیں چلیں۔
انہوں نے کہا کہ تین اکتوبر کو سپریم کورٹ نے انجینئرز کیلئے اہم فیصلہ دیا، پروفیشنل انجینئرز کی جگہ نان انجینئرز کو بٹھایا گیا ہے، جبکہ گریڈ 21 اور 22 میں کوئی انجینئر نہیں، پالیسی سازی کے تمام فیصلے گریڈ 21 اور 22 کے آفیسرز بٹھائے گئے ہیں، وہ لوگ یہ کام کر رہے ہیں جن کو اس کا علم ہی نہیںانہوں نے مزید کہا کہ پروفیشنل انجینئرز کی جگہ تعینات نان انجینئرز کو فوری ہٹایا جائے جبکہ گریڈ 20 پر چالیس فیصد پوسٹیں پروفیشنل انجینئرز کی بنتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ نان انجینئرز کی تعیناتی کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ 1.5 ٹریلین تک پہنچ گیا، پانچ ٹیکنیکل وزارتوں پر انجینئرز کو موقع دیا جائے کیونکہ پچھلی حکومت نے این ایچ اے ایکٹ کوتبدیل کیا، تقسیم کار کمپنیوں میں 32 ہزار پوسٹیں خالی ہیں۔

October 11, 2018

پرندے خمار میں مبتلا،نشہ آور بیریاں کھا کر شرابی ہونے لگے

منی سوٹا:جدت ویب ڈیسک :: امریکی ریاست مِنی سوٹا کے گلبرٹ سٹی میں آج کل چھوٹے پرندے گھروں کی کھڑکیوں سے اندر آرہے ہیں، ٹریفک کے درمیان خلل ڈال رہے ہیں اور ان کی پرواز بھی عجیب وغریب ہورہی ہے۔
اس کے بعد پولیس نے ماہرین کی مدد سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اطراف میں موجود ایسی بیریوں کے درخت عام ہیں جن کے پھلوں کا رس خمیر سے بھرپور ہے اور پرندوں کو خمار میں مبتلا کررہا ہے۔ اس طرح پرندوں کی اکثریت نشے کی وجہ سے اپنے حواس کھو رہی ہے۔
گلبرٹ کے درختوں میں جنگلی بیریوں کے درخت عام ہیں اور اس بار وقت سے قبل ان میں خمیر جمع ہوگیا ہے۔ بڑی تعداد میں پرندے ان بیریوں کو کھاتے یا ان کا رس پیتے ہیں۔ جس طرح عمررسیدہ افراد کے مقابلے میں کم عمر افراد پی کر زیادہ بہک جاتے ہیں اسی طرح بالغ اور عمررسیدہ پرندوں کے مقابلے میں کم عمر پرندے زیادہ بہکتے ہیں۔
بیریوں کے رس میں ایتھانول بڑی مقدار میں دیکھا گیا ہےجو پرندوں کے جسم میں جاکر انہیں خمار آلود کررہا ہے۔ یہ پرندے نقل مکانی کرتے ہیں اور بہت زیادہ کھاتے ہیں تاکہ اس کی چربی گھر واپسی کی طویل پرواز کے کام آسکے تاہم ہوش کھونے والے یہ پرندے کاروں سے بھی ٹکرا رہے ہیں۔
۔ایک مقامی فرد نے بتایا کہ ہفتے میں سات پرندے اس کی کار سے ٹکرا چکے ہیں۔ دوسری جانب ایسا ہی مسئلہ کینیڈا میں بھی ہرسال پیش آتا ہے جہاں اوریگون میں ایک تنظیم ان شرابی پرندوں کو قید کرکے اس وقت تک دیکھ بھال کرتی ہے جب تک وہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوجاتے۔ماہرین نے کہا ہے کہ پرندوں کے اس فعل پر بار بار پولیس بلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ کچھ دیر میں وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ مقامی آبادی نے انہیں ’اینگری برڈز‘ کہنا شروع کردیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ایک نوٹی فکیشن بھی جاری کیا ہے جس میں پرندوں کی اس کیفیت کی وجہ بیان کی گئی ہے

October 9, 2018

صرف 12 سال رہ گئے ہیں!ماحولیاتی تبدیلیوں سے عالمی تباہی روکنے میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ

پیرس جدت ویب ڈیسک ::: اقوامِ متحدہ سے وابستہ دنیا کے ممتاز ترین ماحولیاتی اور آب و ہوا کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر اگلے 12 برسوں میں ہم نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو محدود کرنے سمیت دیگر اہم اقدامات نہ کئے تو اس کے بعد سیلاب، طوفان، موسمیاتی شدت، خشک سالی، فصلوں کی تباہی کا عمل تیز ہوسکتا ہے جس کے پورے سیارے پر غیرمعمولی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کے تحت بین الحکومتی پینل برائے تبدیلی آب و ہوا (آئی پی سی سی) نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ ہمارے سیارے کے اوسط درجہ حرارت میں ایک درجے سینٹی گریڈ کا اضافہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اب اگر اس درجہ حرارت میں 1.5 اضافہ روکنا ہے تو آج سے ہی جرأت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورتِ دیگر اس نصف درجہ حرارت میں اضافے سے خشک سالی، قحط، شدید گرمی، موسمی شدت، جنگلات کی آگ، سیلاب اور طوفان جیسی آفات میں اضافے سے کروڑوں افراد متاثر ہوں گے کیونکہ زمین کا انتہائی نازک اور حساس نظام اس گرمی پر بھی کئی طرح سے متاثر ہوگا۔
واضح رہے کہ جب اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے بعد سے ہونے والا اوسط درجہ حرارت میں اضافہ۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے لیکن جرمن واچ کے مطابق یہ دنیا کے اُن سات ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے شدید متاثر ہوں گے۔آئی پی سی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں پیرس معاہدے پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس معاہدے کے بعد سائنس اور سیاست کی نہ رکنے والی بحث شروع ہوگئی تھی اور زمین پر گرمی بڑھانے والی گرین ہاؤس گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سب سے بڑے مخرج امریکا نے اس سے جان چھڑانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا، پیرس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہیں رہا۔
پیرس معاہدہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کے استعمال میں کمی کے علاوہ منصوبہ بندی، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، زراعت، شہریات اور دیگر اہم اصلاحات پر بھی زور دیتا ہے۔ لیکن اب پوری دنیا آب و ہوا میں تبدیلی کے ہولناک اثرات دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہم ریکارڈ گرمی کے سال و ماہ نوٹ کرچکے ہیں۔ اس سال دنیا کے بڑے سمندروں میں ہولناک سیلاب بھی ہمارے سامنے ہیں۔
رپورٹ کے اجراء کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں کہا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سردمہری پر سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی مسئلہ ہے جس کا عالمی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک کی جانب سے سست روی پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ ناسا کے ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انیسویں صدی کے بعد سے اب تک عالمی درجہ حرارت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جسے ایک درجے سمجھنا بہتر ہوگا۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کی بقا و سلامتی کےلیے سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے تحت جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کرہ ارض کو موسمیاتی تباہی سے بچانے کے لیے وقت کم رہ گیا ہے۔ فوٹو: فائل

Image result for UN world environment

October 3, 2018

پاکستانی گلوکار و اداکار فخر عالم ‘مشن پرواز کے لیے تیار، وہ خود جہاز اڑا کر پوری دنیا کا چکر لگائیں گے

کراچی جدت ویب ڈیسک ::حال ہی میں فخر عالم نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ 3 برس کی محنت کے بعد وہ اپنے خواب ‘مشن پرواز’ کے تحت پوری دنیا کا چکر لگانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘جہاز کا واحد پائلٹ میں ہوں لیکن میرے ساتھ ایک سرٹیفائیڈ فلائٹ میکینک انجینئر بھی ہوگا، تاکہ اگر جہاز میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ فوری طور پر ٹھیک ہوسکے’۔
فخر عالم نے جہاز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ‘یہ پیلاٹس پی سی 12 ٹربو سنگل انجن جہاز ہے، جس کا شمار لائٹ ایئر کرافٹ کیٹگری میں ہوتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ سوئس میڈ جہاز ہے، جو 300 نوٹ کی رفتاری کے اوپر کروز کرتا ہے اور اس کی رینج 1800 میل ہے’۔
فخر عالم کا کہنا تھا کہ ‘یہ بہترین جہاز ہے، میں نے اس سے قبل یہ جہاز کبھی نہیں اڑایا’۔اس پرواز مشن میں دنیا کے 32 اسٹاپس شامل ہیں اور یہ 28 دن پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا، ‘اگر میں اس میں کامیاب ہوا تو میں دنیا کی تاریخ میں ایسا کرنے والا سب سے پہلا پاکستانی بن جاؤں گا,،گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم کا کہنا تھا کہ ‘مشن پرواز میرے بچپن کا خواب ہے، جو اب خواب حقیقت بننے جارہا ہے’۔انہوں نے بتایا کہ ‘میں سنگل انجن جہاز کی پائلٹنگ کرتے ہوئے پوری دنیا کا چکر لگاؤں گا اور اگر میں کامیاب ہوا تو میں یہ کام کرنے والا دنیا کا پہلا پاکستانی بن جاؤں گا’۔
فخر عالم نے بتایا کہ ‘میرا مشن 6 اکتوبر کی صبح 7 بجے امریکا کی ریاست فلوریڈا کے شہر واٹرز سے شروع ہورہا ہے، جس کا بنیادی مقصد پوری دنیا کا چکر لگانا ہے’۔انہوں نے بتایا کہ ‘اس مشن کو پورا کرنے کے لیے چند اصول ہیں، یعنی جس ایئرپورٹ سے سفر شروع ہوگا، وہیں سفر کا اختتام کرنا ہوگا’۔فخر عالم کے مطابق مشن پرواز کو پورا کرنے کے لیے 26 ہزار ناٹیکل میل کا سفر طے کرنا پڑے گا، سارے ٹائم زون میڈیم سے گزرنا ہوگا اور پورے سفر میں ایک ہی جہاز کا استعمال کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے فخر عالم کا کہنا تھا، ‘اس حوالے سے ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ مشن 28 دن کا ہی ہو، کیونکہ فلائٹ موسم سے متاثر ہوجاتی ہے اور میرا تجربہ ابھی صرف 100 دن کا ہے تو میں محتاط ہوکر سب دیکھوں گا اور کہیں بھی کسی بھی قسم کا کوئی خدشہ لاحق ہوا، تو میں انتظار کروں گا’واضح رہے کہ فخر عالم نے 2015 میں پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا تھا۔

September 27, 2018

چالیس سال قبل مارے گئے شخص کی لاش ایسے طریقے سےملی کہ کبھی کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا

جدت ویب ڈیسک ::ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ لاش احمت ہرگون نامی شخص کی ہے جو تقریباً نصف صدی قبل یونانی قبرصیوں اور ترک قبرصیوں کے درمیان ہونے والی جنگ کا حصہ تھا۔ احمت کو دشمن کے فوجیوں نے دو ساتھیوں سمیت بم سے مار ڈالا تھا مگر کسی کو اُس جگہ کے بارے میں معلوم نا ہو سکا جہاں اسے قتل کیا گیا۔کچھ عرصہ قبل ایک ماہر نباتات احمت کے آبائی علاقے میں درختوں پر تحقیق کر رہا تھا اور اس پہاڑی علاقے میں ایک جگہ انجیر کا درخت دیکھ کر اسے بہت حیرانی ہوئی۔ اُس علاقے میں کہیں بھی اور انجیر کا درخت نہیں تھا، تو پھر یہ واحد درخت وہاں کیونکر موجود تھا، یہ دیکھ کر تحقیق کار کو تحقیق کی جستجو ہوئی اور اُس نے اپنا کام شروع کردیا۔ جب کھدائی شروع ہوئی تو یہ دیکھ کر معاملہ حیرت سے بھی آگے نکل گیا کہ اس درخت کی جڑوں میں ایک انسانی پنجر موجود تھا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے مزید ماہرین کو بلایا گیا اور تب معلوم ہوا کہ یہ درخت دراصل اسی پنجر میں سے اُگا تھا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس شخص نے انجیر کا پھل کھایا تھا اور اُس کے پیٹ میں موجود بیج سے یہ درخت اُگا تھا۔ جب پنجر کا ڈی این اے کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ چالیس سال قبل لاپتہ ہونے والا احمت ہرگون ہے۔ مزید کھدائی سے اُس کے دو ساتھیوں کے پنجر بھی مل گئے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کبھی سنی تھی ایسی بات آپ نے، اور اسے قدرت کے حیرتناک کرشمے کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے؟قدرت کے کام بہت نرالے ہیں، ایسے حیرتناک کہ انسان کی محدوعقل ان کو دیکھ کر سوائے حیرت کے کچھ نہیں کر سکتی۔ قبرص میں منظر عام پر آنے والے اس عجیب و غریب معاملے کو ہی دیکھ لیجئے۔ چالیس سال قبل مارے گئے ایک شخص کی لاش آج تک کسی کو نا مل سکی تھی، مگر آخر ملی ہی تو ایسے طریقے سے کہ جس کے متعلق کبھی کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا۔

Image result for 40 years old dead body in found qabras

September 26, 2018

حجر اسود کی واپسی ایک تاریخی واقعہ..!

جدت ویب ڈیسک ::حجر اسود کی واپسی ایک تاریخی واقعہ..!7 ذی الحجہ 317 ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کرلیا، خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال کو حج بیت اللہ نہ ہو سکا، کوئی بھی شخص عرفات نہ جاسکا- اناللہ واناالیہ راجعون

یہ اسلام میں پہلا ایسا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہو گیا، اسی ابوطاہر قرمطی نے حجر اسود کو بیت اللہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا- پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر کے ساتھ معاہدہ کر فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دیے اور حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا- یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ بائیس سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا، جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلہ میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث عبداللہ کو حجر أسود کی وصولی کے لئے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا-  یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جہاں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا جائے گا- اب انہوں نے ایک پتھر جو خوشبودار ہیں، خوبصورت غلاف سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں-

محدث عبد اللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر اس میں یہ نشانیاں پائی جائیں تو یہ حجر اسود ہوگا ورنہ نہیں!
ایک تو یہ کہ یہ ڈوبتا نہیں ہے، دوسری یہ کہ آگ سے بھی گرم نہیں ہوتا-
اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا گیا توسخت گرم ہوگیا یہاں تک کہ پھٹ گیا- محدث عبداللہ نے فرمایا یہ ہمارا حجر اسود نہیں پھر دوسرا پتھر لایا گیا اس کے ساتھ بھی یہی عمل ہوا اور وہ پانی میں ڈوب گیا اور آگ پر گرم ہوگیا فرمایا کہ ہم اصل حجر اسود ہی لیں گے- پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا پھر پانی میں ڈالا گیا تو وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محد ث عبداللہ نے فرمایا :
” یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے-” اس وقت ابو طاہر قرامطی نے تعجب کیا اور پوچھا کہ یہ باتیں آپ کو کہاں سے ملی ہیں…؟
تو محد ث عبداللہ نے فرمایا :
یہ باتیں ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہیں کہ حجر اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ سے گرم نہیں ہوگا-
ابو طاہر نے کہا کہ یہ دین روایات سے بڑا مضبوط ہے- جب حجر اسود مسلمانوں کو مل گیا تو اسے ایک کمزور اونٹنی کے اوپر لادا گیا جس نے تیز رفتاری کے ساتھ اسےخانہ کعبہ پہنچایا، اس اونٹنی میں زبردست قوت آگئی اس لئے کہ حجراسود اپنے مرکز (بیت اللہ) کی طرف جا رہا تھا لیکن جب اسے خانہ کعبہ سے نکالا گیا تھا اور بحرین لے جارہے تھے تو جس اونٹ پر لادا جاتا وہ مرجاتا حتی کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ اس کے نیچے مرگئے-
(تاریخ مکہ للطبری)

بشکریہ : مولانا یاسر حبیب صاحب.