February 15, 2019

مٹی کے برتنوں کی روایت،دم توڑتی صنعت ،ہنرمندپریشان

جدت ویب ڈیسک ::فیشن اور خوبصورت برتنوں کے شوق نے مٹی کے برتنوں کی روایت کو ختم کر دیا ہے۔
زمانہ چاہے کوئی بھی ہو برتن ہر دور میں انسان کی ضرورت رہے ہیں۔ روئے زمین پر اپنی آمد کے ساتھ ہی انسان نے جن چیزوں کی ضرورت محسوس کی ان میں برتن بھی شامل تھے جسے پورا کرنےکیلئے کوزہ گری کا فن سیکھنے کا عمل شروع ہوا ۔مٹی کو دھونا اور گوندھنا اور پھر سانچے میں ڈھالنا ۔ اسکے بعد اسے بھٹی میں پکانا یہ سب اتنا اآسان نہیں بلکہ بے پناہ مہارت اور محنت طلب کام ہے۔قدیم روایت کے امین کوزہ گری کے ماہر بابا محمد قاسم کہتے ہیں کبھی یہ شعبہ معروف صنعت کا درجہ رکھتا تھا مگراب مٹی کے برتنوں کے استعمال کم ہوتا جارہا ہے۔مٹی کو دلکش برتنوں کی شکل دہنے والے دیگر ہنر مند کہتے ہیں کہ وہ یہ فن نئی نسل میں منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔دم توڑتی اس صنعت کے ختم ہونے پر نہ صرف ہنرمند بلکہ شہری بھی افسوس کرتے ہیں۔ مٹی کے برتن نہ صرف کمہاروں کی مہارت کا نمونہ ہوتے ہیں بلکہ قدیم روایتوں کے امین بھی ہیں۔

اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی
ہاتھ گھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے

February 14, 2019

صدیاں گزر گئیں مگر شوخ رنگ کے بان سے بنائی گئی چارپایاں آج بھی گھروں کی اہم ضرورت ہیں

جدت ویب ڈیسک ::فرنیچر کے نئے فیشن آئے اور چلے گئے مگرسالہا سال سے جاری چارپائی کا استعمال آج بھی معدوم نہیں ہوا۔ جدید دور میں دیگر آسائشیں اپنی جگہ شہریوں کی اکثریت چارپائی خریدنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بدلتے رجحانات میں بھی بان سے بنی چارپائی کی اہمیت تاحال اپنی جگہ برقرار ہے۔
چارپائی کی فروخت سے ابھی بھی بہت سے افراد کا روزگار وابستہ ہیں جو اس محنت طلب کام کو دلجوئی سے کرتے ہیں۔صدیاں گزر گئیں مگر شوخ رنگ کے بان سے بنائی گئی چارپایاں آج بھی گھروں کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈجکوٹ روڈ فیصل آباد پر ایسی درجنوں دکانیں موجود ہیں جہاں مختلف اقسام کی چارپائیاں فروخت کیلئے تیار کی جاتی ہیں۔ اور اس کاروبار سے سیکڑوں لوگوں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ پلاسٹک ، سوتی اور پٹے سمیت دیگر اقسام کے بان سے بنی چاپائی کی بہت مانگ ہے لیکن گاہک تیار چارپائی پسند کرے یا آرڈر پر تیار کروائے یہ اسکا انتخاب ہے۔ اس سے پہلے کہ مہنگائی چارپائی کی قیمت بڑھا دے شہری ضرورت کے مطابق پہلے ہی خریداری میں مصروف ہیں۔

Related image

Image result for charpai design in pakistan

February 14, 2019

پاکستانی ٹرک آرٹ کا عالمی میڈیا بھی معترف ہوگیا

جدت ویب ڈیسک ::ٹرک آرٹ پاکستان کا ایک نایاب فن ہے جو بین الاقوامی سطح پر خاصا معروف ہے۔ پاکستانی سڑکوں پر سفرکرتے یہ رنگ برنگےٹرک جہاں جائیں سب کی نظریں ان پر ہی ٹھہرجائیں۔پاکستان کا یہ ٹرک آرٹ نہ صرف دنیا بھرمیں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے بلکہ پاکستان کی مثبت اور پر امن تصویر بھی پیش کرتا ہے جسے نیشنل لیول پر سراہنے کیساتھ ساتھ آرٹس اینڈ کلچر کے شعبے میں بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
شاندار مصوری کا نمونہ پیش کرتے یہ ٹرک خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ کہیں نفیس اور انتہائی دیدہ زیب پھول، تو کہیں ایسی خوبصورت تصاویر جو دیکھنے والوں کو داد دینے پر مجبور کر دے۔ اسی لیے تو ٹرک آرٹ کا عالمی میڈیا بھی معترف ہے۔ان ٹرکوں کو رنگوں سے بھرنے کے پیچھےمتعدد افراد کی ان تھک محنت شامل ہوتی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنےوالےانتالیس سالہ حیدر علی اور ان کے دیگر ساتھی بھی ان ہی افراد میں شامل ہیں جنہیں اس کام سےمحبت ہے اور وہ اسے بچپن سے ہی کرتے آرہے ہیں۔

February 13, 2019

پاکستان کے ہیرو پاک فضائیہ کے ونگ کمانڈر طارق حبیب خان انتقال کر گئے

راولپنڈی،جدت ویب ڈیسک :: 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں شان دار کارنامے دکھا نے والے پاک فضائیہ کے مایہ ناز ہوا باز وِنگ کمانڈر (ریٹائرڈ) طارق حبیب خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق وِنگ کمانڈر طارق حبیب خان کو آج مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ چکلالہ میں پاک فضائیہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
طارق حبیب خان ایک غیر معمولی فائٹر پائلٹ اور ایک محبِ وطن پاکستانی تھے۔پاک فضائیہ کے سربراہ، ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے عظیم جنگی ہیرو کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے طارق حبیب خان کی بہادری اور جرأت کے اعتراف میں انھیں ستارۂ جرأت سے نوازا تھا۔
ائیر چیف نے پاک فضائیہ کے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر معمولی فائٹر پائلٹ اور ایک محبِ وطن پاکستانی تھے جن کی مادرِ وطن کی خاطر سر انجام دی گئی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مایہ ناز ہوا باز کی نمازِ جنازہ پی اے ایف بیس نور خان میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں جنگی ہیروز، اعلیٰ سول و ملٹری شخصیات اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ہوا باز طارق حبیب خان کے کارناموں میں وہ کارنامہ بھی شامل ہے جب پاک فضائیہ کے جہاز دشمن کے ہوائی اڈے پر حملہ کر رہے تھے تو اس پاکستانی جنگی ہیرو نے بھارتی فضائیہ کے چار ہنٹرز کو مصروف رکھا تاکہ پاکستانی جہاز اپنا مشن کام یابی سے پورا کر سکیں۔مشن پورا ہونے کے بعد پاک فضائیہ کے یہ مایہ ناز پائلٹ اپنے خراب طیارے کو بھارتی فضائیہ سے بچاتے ہوئے سلامتی کے ساتھ بیس لوٹے۔
ریٹائرڈ ونگ کمانڈر طارق حبیب نے دشمن کے خلاف آپریشنز میں تین کینبراز اور ایک سی 119 زمین پر جب کہ ایک ہنٹر فضا میں تباہ کیا۔
فلائٹ لیفٹننٹ محمد طارق حبیب خان ان پائلٹس میں سے ایک تھے جنھوں نے مغربی بنگال میں قائم دشمن کے فضائی اڈے کالا کنڈا پر حملہ کیا تھا، انھوں نے دو پاک بھارت جنگوں میں متعدد مشن پورے کیے اور اپنی جان کی بالکل پروا نہیں کی۔

February 7, 2019

دلشاد پری تیسری بار نمایاں پوزیشن لینے والی خاتون پولیس افسر بن گئیں

چترال جدت ویب ڈیسک :: ملک کے دور دراز اور پسماندہ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی دلشاد پری تیسری بار نمایاں پوزیشن لینے والی خاتون پولیس افسر بن گئیں۔  تفصیلات کے مطابق دلشاد پری کا تعلق چترال کے علاقے بونی کے ایک دور دراز گاؤں پیرانٹگ سے ہے، وہ کے پی پولیس میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔دلشاد پری نے پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں پی اسٹنٹ سب انسپکٹر کورس میں صوبے بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، اس سے پہلے بھی وہ دو بار نمایاں پوزیشنز حاصل کرچکی ہیں۔  دلشاد پری نے سوات طالبان کے دور میں پولیس میں آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا گاؤں سطح سمندر سے 9500 فٹ بلند ہے اور وہ اپنے گاؤں کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے گاؤں سے باہر جاکر تعلیم حاصل کی ہے۔اس وقت دلشاد پری کے پی پولیس، چترال میں بطور اسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ وہ مالاکنڈ ڈویژن سے پہلی خاتون پولیس افیسر ہیں ، جو کہ بطور اے آئی ایس آئی پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں۔ حالیہ کامیابی کے بعد جلد ہی دلشاد کو سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی جائے گی۔
دلشاد اپنے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں اور ساتھ ہی وہ چاہتی ہیں کہ ان کے علاقے سے اور بھی خواتین آگے آئیں اور اپنی پسند کے شعبہ جات میں ترقی کرکے اپنےعلاقے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
خاتون پولیس اہلکار نے نہ صرف پولیس کی تربیتیں نمایاں پوزیشنز کے ساتھ مکمل کی ہیں بلکہ انہوں نے ایل ایل بی اور بی- ایڈ کی ڈگریاں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ فزیکل ایجوکیشن میں بھی ڈپلومہ حاصل کررکھا ہے۔

 

 

February 4, 2019

آئیےجانتے ہیں، کس طرح کے لباس پہننے والے کس طرح کی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں؟

جدت ویب ڈیسک ::لباس آپکی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے،۔ کسی شخص کا بات کرنے کا انداز، مختلف مواقعوں پر اس کا رویہ اور ردعمل کسی شخصیت کے بارے میں بہت سے راز کھول دیتا ہے۔اسی طرح لوگوں کا لباس بھی ان کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ کوئی شخص عموماً کس طرح کا لباس اور کس طرح کے رنگ پہنتا ہے، یہ اس کی فطرت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ہر انسان کی فطرت کے بارے میں اس کی چھوٹی چھوٹی عادات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
آئیں دیکھتے ہیں کہ کس طرح کے لباس پہننے والے کس طرح کی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔
سادہ لباس
بالکل سادہ لباس پہننے والے افراد سادگی پسند ہوتے ہیں، ایسے افراد کے لیے لباس ایک نہایت غیر اہم معاملہ ہوتا ہے۔ یہ بڑے مقاصد پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی پرواز تخیل بلند ہوتی ہے۔
ڈیزائنر لباس
ایسے افراد جو ہر موقع پر اس بات پر فکر مند ہوتے ہیں کہ سر سے پاؤں تک انہیں ڈیزائنر کی تیار کردہ اشیا پہننی ہیں تو ایسے افراد احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور لباس کے ذریعے اسے چھپانا چاہتے ہیں۔
ایسے افراد دکھاوے کے شوقین ہوتے ہیں جبکہ ان کی ذہنی سطح نہایت محدود ہوتی ہے۔ یہ صرف ظاہری اشیا سے دوسرے افراد کو پرکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔
ڈھیلے ڈھالے لباس
ڈھیلے ڈھالے لباس پہننا پسند کرنے والے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لچکدار طبیعت کے حامل ہوتے ہیں جبکہ ان کے ذہن کا کینوس بہت وسیع ہوتا ہے۔یہ تبدیلیوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور کسی بھی معاملے پر تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
چست لباس
چست اور تنگ لباس پہننے والے افراد کسی حد تک تنگ نظر ہوتے ہیں اور مخصوص وضع کردہ اصولوں کے تحت چلنا پسند کرتے ہیں۔
لباس کیسا بھی ہو، مجموعی طور پر کسی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے اور پہلی نظر میں اچھا یا برا تاثر قائم کرسکتا ہے۔ آپ چاہے کیسا بھی لباس پسند کرتے ہوں، اگر اسے نفاست سے پہنا گیا ہو تو یہ آپ کی شخصیت کو مثبت انداز میں پیش کرسکتا ہے۔
شوخ رنگ
اگر کوئی شخص شوخ رنگ پہننے کا عادی ہے جیسے زرد، سرخ، نارنجی تو ایسا شخص نہایت متاثر کن شخصیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ ایسے افراد دوستانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور مثبت انداز میں سوچتے ہیں۔
سیاہ اور سرمئی رنگ
سیاہ، سرمئی اور گہرے نیلے رنگ کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد نہایت رکھ رکھاؤ کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد نہایت نفاست پسند اور تہذیب یافتہ ہوتے ہیں۔ایسے افراد اپنی زندگی کو بھی نہایت منظم انداز میں گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔
پرنٹس
اپنے لباس میں مختلف پرنٹس پسند کرنے والے افراد بے باک ہوتے ہیں۔ یہ افراد صاف گو اور بے خوف ہوتے ہیں اور کسی قسم کی لگی لپٹی نہیں رکھے۔
ایسے افراد تخلیقی ذہن کے بھی مالک ہوتے ہیں۔
لکھائی والے لباس
ایسے افراد جو اس طرح کے لباس پہننا پسند کرتے ہوں جن پر کچھ لکھا ہو، ایسے افراد توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے لباس پر ایسے جملوں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے ان کا پیغام دوسرے لوگوں تک پہنچے۔
ایسے لوگ بے پرواہ طبیعت کے بھی حامل ہوتے ہیں اور دیگر افراد کی پسند ناپسند کا خیال کیے بغیر اپنے خیالات کا دوسروں سے اظہار کرتے ہیں۔

Image result for mans and womens dress

Image result for mans and womens dress

February 2, 2019

بائیو میٹرک سگنیچر کو ”وائس پرنٹ“امریکا بھر کی جیلوں میں قید افراد کا بائیو میٹرک ڈیٹا بیس تیار

جدت ویب ڈیسک ::رپورٹ کے مطابق وائس پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی گرانٹ سے ڈویلپ کیا گیاہے۔ اس کا مقصد دہشت گردوں اور مشکوک مجرموں کی شناخت ہے۔ اس کے بعد اس ٹیکنالوجی کی مدد سے قیدیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق قیدیوں کی آواز کی ریکارڈنگ ان کی مرضی کے بغیر کی جا رہی ہے۔ ایک قیدی کے مطابق انتظامیہ نے اسے کاغذ پر لکھے چند فقرے پڑھنے کا کہا، جنہیں ریکارڈ کیا جانا تھا۔ریکارڈنگ سے انکار کی صورت میں قیدی سے فون کی سہولت واپس لینے اور اس کے خاندان سے رابطہ نہ کرانے کی دھمکی دی گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ وائس پرنٹ قیدیوں کے جیل سے چھوٹ جانے پر بھی ایجنسیوں کے پاس محفوظ ہوتے ہیں اوران کی مدد سے کسی بھی قیدی کو جیل سے چھوٹنے کے بعد بھی آواز سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکا بھر کی جیلوں میں قید افراد کا بائیو میٹرک ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیٹا بیس میں آواز کی ریکارڈنگ بھی شامل ہے۔ نیویارک کی جیلوں کے حوالے سے دستیاب کاغذات کےمطالعےاور ٹیکساس، فلوریڈا، آرکنساس اور ایریزونا کے جیل حکام کے بیانات سے پتا چلا ہے کہ جیل حکام آواز سے شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے آواز کی مدد سے قابل شناخت بائیومیٹرک سگنیچر تیار کیے جا رہے ہیں۔
ان بائیو میٹرک سگنیچر کو ”وائس پرنٹ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ سسٹم انتظامیہ کو مشکوک فون کالز سے بھی آگاہ کر سکتا ہے، جس سے انتظامیہ بات چیت کا مزید جائزہ لے سکتی ہے۔
جیل حکام کے مطابق یہ سسٹم جیل میں سیکورٹی کو بہتر بنانے اور دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیل انتظامیہ اس سسٹم سے فون کال ٹریک کرکے اور مخصوص قیدی کی پچھلی ریکارڈنگ سے ملا کر سیکورٹی کو بہتر بنائے گی۔

January 28, 2019

امریکی شہری نے وکی پیڈیا پر رضاکارانہ طور پر 35 ہزار مضامین لکھنے اور 30 لاکھ مضامین کی ایڈیٹنگ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔

کیلیفورنیا:جدت ویب ڈیسک ::امریکی شہری نے وکی پیڈیا پر رضاکارانہ طور پر 35 ہزار مضامین لکھنے اور 30 لاکھ مضامین کی ایڈیٹنگ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔  امریکی شہری نے وکی پیڈیا پر رضاکارانہ طور پر 35 ہزار مضامین لکھنے اور 30 لاکھ مضامین کی ایڈیٹنگ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔مفت تعلیم اور مفت معلومات تک رسائی اسٹیون کا مشن ہے اور وہ روزانہ کتابیں، رسالے اور دیگر جرائد چھان کر تین گھنٹے لکھنے اور ادارت میں گزارتے ہیں۔ دن میں وہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ادارے میں ریکارڈ کیپر کی ملازمت کرہے ہیں۔فی سیکنڈ وکی پیڈیا پر 6 ہزار افراد آتے ہیں اور اپنی معلومات حاصل کرتے ہیں جس کے سب سے بڑے رضاکار ایڈیٹر اسٹیون پروئیٹ ہی ہیں۔
وکی پیڈیا نامی آن لائن انسائیکلو پیڈیا سے تو ہم بخوبی واقف ہیں جس پر دنیا بھر سے آن لائن رضاکار لکھنے، تدوین اور ادارت (ایڈیٹنگ) کا کام کرتے ہیں۔ وکی پیڈیا آن لائن معلومات اور مضامین کا سب سے بڑا ذخیرہ بن چکا ہے جہاں انگریزی سمیت دنیا کی دیگر زبانوں میں ہزارہا موضوعات پر معلوماتی مضامین کا انبار موجود ہے۔
اس ویب سائٹ پر اس وقت انگریزی میں 60 لاکھ کے قریب مضامین موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی مضامین کی ادارت اسٹیون پروئیٹ نے کی ہے جن کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہے جب کہ اسٹیون اب تک 35 ہزار سے زائد مضامین بھی لکھ چکے ہیں۔
اس ضمن میں اسٹیون کا کردار بہت نمایاں ہے اور انہوں نے برق رفتاری سے وکی پیڈیا پر کام کیا جس کے اعتراف میں مشہور جریدے ٹائم میگزین نے انہیں انٹرنیٹ کے بااثرترین افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔جب انہوں نے وکی پیڈیا پر رضاکارانہ طور پر اپنے جنونی کام کا آغاز کیا تو خود ان کے والدین نے اسے احمق قرار دیا کیونکہ اس عظیم کام کے بدلے انہیں ایک ڈالر بھی نہیں مل سکا اور وہ لکھنے اور ادارت کا سارا کام رضا کارانہ طور پر کرتے ہیں۔جب ٹائم میگزین نے انہیں جے کے رولنگ، صدر ٹرمپ، کم کرڈاشیئن سمیت انٹرنیٹ کی بااثر شخصیات میں شامل کیا تو خود اس کے والدین بھی حیران رہ گئے۔

Image result for wikipedia 35000

اسٹیون پروئیٹ نے وکی پیڈیا پر 35 ہزار اصل مضامین اور 30 لاکھ مضامین کی ادارت کرکے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے (فوٹو: بشکریہ وکی پیڈیا)

January 22, 2019

یہ پاکستانی سمندر میں بگولہ نظر آنے کا دوسرا ریکارڈ ہے۔ترجمان ڈبلیو ڈبلیو ایف

کراچی،جدت ویب ڈسیک ::: گھوڑہ باڑی ساحل کے قریب گذشتہ روز آبی بگولہ نظر آیا، جو پاکستانی سمندر میں ریکارڈ کیا جانے والا دوسرا بگولہ ہے۔واضح رہے کہ سمندر کی سطح سے بادلوں تک آبی بخارات کی ایک لہر کو آبی بگولہ کہتے ہیں، جو مخصوص بادلوں کی موجودگی اور خاص قسم کے درجہ حرارت کی موجودگی میں وجود میں آتا ہے۔۔۔۔ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے ترجمان کے مطابق یہ سمندری بگولہ گھوڑہ باڑی ساحل سے 57 کلومیٹر دور سمندر میں 21 جنوری کو نظر آیا۔ترجمان ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ پاکستانی سمندر میں بگولہ نظر آنے کا دوسرا ریکارڈ ہے۔
ترجمان کے مطابق اس سمندری بگولے کو ماہی گیر کیپٹن سعید زمان نے ریکارڈ کیا۔پاکستانی سمندر میں پہلا بگولہ 28 فروری 2016 کو رپورٹ ہوا تھا، جسے پسنی کے قریب شکار پر جانے والے ماہی گیر مہر گل نے اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کیا تھا۔