April 24, 2019

11 ہزار پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں قید کاٹنے پر مجبور

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : پاکستان میں مزدور کی منتقلی کے لیے کمزور ضابطہ کار کے باعث ہزاروں پاکستانی خاص طور پر کم اجرت پر کام کرنے والے مزدور انسانی اسمگلنگ، جبری مزدوری، بیرون ملک حراست میں ناروا سلوک کا شکار ہیں اور یہاں تک کے ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ مےڈےا رپورٹ کے مطابق اس وجہ کے باعث تقریباً 11 ہزار پاکستانی، جس میں 3 ہزار 309 سعودی عرب میں ہیں، بیرون ملک جیلوں زندگی کاٹ رہے ہیں، اگرچہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فروری میں دورہ پاکستان کے دوران فوری طور پر 2 ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب تک ان میں سے صرف 200 ہی رہائی پاچکے ہیں۔اس بات کا اعتراف جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا، پاکستان اور بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کے لیے کام کرنے والی اس غیر سرکاری تنظیم âاین جی اوá جے پی پی کی رپورٹ کا عنوان ’‘ رکھا گیا۔اس رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب تک صرف 200 پاکستانی سعودی عرب میں جیلوں سے رہا ہوئے اور وطن واپس آئے، ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی ولی عہد سے باقی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں پوچھیں، جنہوں نے خود کو ’سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر‘ کہا تھا۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف سعودی جیل کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ وہ کچھ چار دہائیوں قبل ایک تارکین وطن ورکرز کے طور پر کچھ گھنٹوں کے لیے وہاں بند بھی رہیں تھے، لہٰذا انہیں قیدیوں کے مسائل کے بارے میں زیادہ معلوم ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بیرون ملک موجود پاکستانی نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ بھیجتے ہیں بلکہ یہ پاکستان میں ملازمتوں پر موجود دباؤ کو بھی کم کرتے ہیں، قانون بھرتی کے عمل میں استحصال کرنے والے ذیلی ایجنٹوں کے استعمال سے منع کرتا ہے لیکن یہ بے ایمان عناصر انسانی تجارت میں اضافہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی جانب سے صرف قوانین بنائے گئے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کا اختیار نہیں ہے۔سابق سینیٹر نے تارکین وطن ملازمین کو درپیش مسائل پر ایک جامع ڈیٹا بیس بنانے، قونصلر تحفظ پالیسی اور میزبان ممالک کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی اور متوفی کی حوالگی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا۔اس دوران پاکستان تحریک انصاف کی قانون ساز عندلیب عباس نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر کیے گئے اعلان کے بعد سے صرف 200 پاکستانی ہی واپس آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’میں اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہوں کہ تمام â2000á پاکستانی واپس آئیں گے، کچھ لاجسٹکل معاملات کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں واپس بھیجا جائے گا‘۔قبل ازیں جے پی پی کی نمائندہ سارہ بلال نے کہا کہ 11 ہزار پاکستانی غیر ملکی جیلوں میں تکلیف کا سامنا کررہے ہیں لیکن سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کے فقدان کی وجہ سے ان کی تکلیف کو کم نہیں کیا جاسکتا۔اس رپورٹ میں اہم معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جو پاکستان میں کم اجرت تارکین وطن مزدوروں کے لیے بھرتیوں کے نظام کو طے کرتی ہے، اس میں آزاد ویزا کا غیر قانونی استعمال، روانگی سے قبل بریفنگ میں کم حاضری اور غریب اور کمزور لوگوں کا استحصال کرنے والے ذیلی ایجنٹوں کا غیر قانونی استعمال شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی تارکین وطن ملازمین کی جانب سے مسلسل جرائم ان ملازمین کی بھرتیوں کے راستے میں خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ ان کی اہمیت بیرون ملک حفاظت سے منسلک ہوتی ہے۔رپورٹ میں بھرتیوں کے طریقہ کار میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس فرق کو غیرمصدقہ ادارے جو اوررسیز امپلائنمنٹ پروموٹرز âاو ای پیزá کے طور پر جانی جانے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ غیرقانونی طور پر کام کرتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں اور یہ بیرون ملک ملازمت کے لیے بھرتیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں رپورٹ میں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح مختلف حکمرانوں قید سے قبل، دوران اور بعد میں تارکین وطن ملازمین کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے اور اس میں ناکام رہے۔

April 23, 2019

سیلفی کا شوق کہیں جان نہ لےلے، یہ ایک جنون یا خطرہ؟

جدت ویب ڈیسک ::سیلفی کا شوق کہیں جان نہ لےلے،یہ بیماری اب عام ہو چکی ہے۔۔تحقیق کاروں کے مطابق سیلفی کے جنون کا نوجوان ذہنوں اور رویوں پر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے،پہلے میں ایک سیلفی لے لوں! کانوں میں پڑنے والا یہ جملہ اب عام ہو چکا ہے۔زیادہ تر نوجوان سوشل میڈیا کو اظہار رائے کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس اظہار کا سب سے بڑا حصہ ہے سیلفی، کچھ میں یہ سیلفی شوق سے بڑھ جاتی ہے اور پھر اسے سیلفی جنون کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا لیکن یہ جنون کسی خطرے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔جرنل آف ارلی اڈولینس میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وہ نوجوان جو آن لائن اپنی سیلفیاں زیادہ شیئر کرتے ہیں، وہ اپنے ظاہر کے بارے میں اپنی عمر سے پہلے باشعور ہو جاتے ہیں اور یہی شعور انہیں اپنے بارے میں منفی خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
امریکن یونی ورسٹی کی طالبہ الیسیا سیلومن نے نوجوانوں اور سیلفیوں کے درمیان تعلق پر اپنی تحقیق مکمل کی ہے۔الیسیا کے مطا بق نوجوان ہمیشہ اپنے بارے میں اچھا سننا چاہتے ہیں اس لیے وہ آن لائن تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے اپنی بہترین تصویر کا انتخاب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق میں سیلفی کو ان بچوں کے لیے خطرہ نہیں کہا گیا جو کبھی کبھار سیلفی کھینچ کر پوسٹ کر دیتے ہیں لیکن ہر وقت ایسا کرنے والے بچوں کے لیے ہر عمر میں یہ خطرے کی علامت ہے۔2015 کامن سینس میڈیا رپورٹ کے نوجوان لڑکیاں اپنے آن لائن تاثر کے لیے بہت پریشان رہتی ہیں، 35 فیصد لڑکیاں عام تصویروں میں خود کو ٹیگ کیے جانے کے خوف میں مبتلا رہتی ہیں اور 27 فیصد خود اپنی پوسٹ کی جانے والی تصویروں میں کیسے نظر آتی ہیں کہ بارے میں فکر مند رہتی ہیں۔مزید 22 فیصد اپنی تصویر نظر انداز ہونے پر بہت برا محسوس کرتی ہیں اور اپنی پسندیدہ تصویر پر مطلوبہ لائکس اور کمنٹس نہ ملنے کی صورت میں تو یہ پریشانی وہ اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔الیسیا نے کہا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی سیلفیز اور ان کے خود پر دھیان کے حوالے سے تعلق پر نظر رکھیں، یہ تعلق بڑے مسائل کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔اپنی تصویروں میں خود کو بہترین شکل و صورت اور جسمانی ساخت منوا لینے میں نوجوان اپنے خدو خال کے حوالے سے منفی رویوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہی رویے انہیں ذہنی دباؤ، تنہائی پسندی اور خود پسندی کا شکار کر دیتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا خود کوئی منفی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ والدین کو چاہیے کو وہ بچوں کے ہاتھ میں سوشل میڈیا کا کنٹرول مکمل طور پر نہ دے دیں اور نظر رکھیں کہ ان کے بچے اپنے آپ پر کتنی توجہ دے رہے ہیں اور اس دوران ان کا رویہ کیا ہے۔

April 13, 2019

جلیاں والا باغ سانحے کو 100 برس مکمل

جدت ویب ڈیسک ::برصغیر کی تحریکِ آزادی میں ایک اہم موڑثابت ہونے والے واقعے ’جلیاں والا باغ‘ کو 100 سال بیت گئے ہیں‘اس واقعے نے برصغیرمیں آزادی کی مہم کو مہمیزکیا تھا‘ سنہ 1997 میں بھارت کے دورے پرملکہ برطانیہ نے اس تاریخ کا افسوس ناک باب قراردیا تھا۔
معروف محقق عقیل عباس جعفری کے مطابق’’ اپریل 1919ءمیں جب رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تو پنجاب اس تحریک کا مرکز بن گیا۔ ان دنوں پنجاب کا گورنر سر مائیکل فرانسس او ڈائر تھا ‘جس نے پنجاب میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کرکے بریگیڈیئر جنرل ریگنالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر نامی ایک سخت گیر اور ظالم شخص کو بے پناہ اختیارات کے ساتھ ”نافرمان عوام“ کی سرکوبی کے لیے مامور کردیا‘‘۔دس اپریل 1919ءکو امرتسر کے ڈپٹی کمشنر نے رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریک چلانے میں دو سیاسی رہنماؤں ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو گرفتار کرلیا اور ان کی گرفتاری پر جب عوام نے جلوس نکالنا چاہا تو ان پر گولی چلا دی گئی۔جلیاں والا باغ میں تعمیر کردہ یاد گار
تیرہ اپریل 1919ءکو امرتسر کے عوام ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی اسیری کے خلاف جلیاں والا باغ میں جمع ہوئے۔ یہ باغ انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک درباری پنڈت جلانے بنوایا تھا اور اسی کے نام سے موسوم تھا۔ یہ باغ کوئی دو سو گز لمبا اور ایک سو گز چوڑا تھا۔ اس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار کے ساتھ ہی مکانات تھے، باغ سے باہر جانے کے چار پانچ راستے تھے مگر کوئی بھی چار پانچ فٹ سے زیادہ چوڑا نہ تھا۔جب اس جلسے کا علم جنرل ڈائر کو ہوا تو وہ مشین گنوں اور رائفلوں سے مسلح سپاہیوں کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچ گیا اور اس نے بغیرکسی انتباہ کے عوام پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔ یہ فائرنگ اس وقت تک جاری رہی جب تک اسلحہ ختم نہیں ہوگیا۔
انگریز مورخین کے مطابق اس سانحہ میں 379 افراد ہلاک اور 1203 زخمی ہوئے۔ سنگدلی کی انتہا یہ تھی کہ سانحہ کے فوراً بعد کرفیو نافذ کرکے زخمیوں کو مرہم پٹی کا انتظام بھی نہ کرنے دیا گیا۔اس سانحے نے پورے پنجاب میں آگ لگا دی جس پر قابو پانے کے لیے دو دن بعد پورے پنجاب میں مارشل لاءنافذ کردیا گیا۔
سنہ 1997 میں برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم نے بھارت کا دورہ کیا تو وہ جلیاں والا باغ بھی گئیں تھی‘ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں کچھ افسوس ناک واقعات بھی ہیں تاہم تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اس موقع پر بھارت میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کمار گجرال کہتے نظر آئے تھے کہ’’اس سانحے کے وقت ملکہ پیدا نہیں ہوئی تھیں لہذا انہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔
وہ کنواں جس میں سے سینکڑوں لاشیں نکالی گئی تھیں
اگرچہ ملکہ الزبتھ دوم نے اپنے 1961ء اور 1983ء کے دوروں میں اس قتلِ عام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر 13 اکتوبر، 1997ء کے سرکاری عشائیے میں انہوں نے یہ کہا:
بے شک ہمارے ماضی میں کئی مشکل دور آئے ہیں جن میں جلیاں والا باغ انتہائی تکلیف دہ مثال شامل ہے۔ میں وہاں کل جاؤں گی۔ مگر تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا، چاہے ہم کتنی کوشش کر لیں۔ اس کے اپنے دکھ اور خوشی کے لمحات ہیں۔ ہمیں رنج سے سیکھ کر اپنے لیے خوشیاں جمع کرنی چاہیئں۔
14 اکتوبر، 1997ء کو ملکہ الزبتھ دوم نے جلیاں والا باغ کا دورہ کیا اور نصف منٹ کی خاموشی اختیار کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس وقت ملکہ نے زعفرانی رنگ کا لباس زیبِ تن کیا تھا جو سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت کا حامل رنگ ہے۔ یادگار پر پہنچ کر انہوں نے اپنے جوتے اتارے اور پھول چڑھائے۔اگرچہ انڈین لوگوں نے پچھتاوے کے اظہار اور ملکہ کے رنج کو قبول تو کیا مگر بعض نقاد کہتے ہیں کہ یہ معافی نہیں تھی۔ تاہم اس وقت کے انڈین وزیرِ اعظم اندر کمار گجرال نے ملکہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو ملکہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔
ملکہ برطانیہ الزبتھ جلیاں والا باغ کے دورے پر
8 جولائی، 1920ء کو ونسٹن چرچل نے ایوانِ نمائندگان کو کرنل ڈائر کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ چرچل نے ہاؤس کو کرنل ڈائر کو زبردستی ریٹائر کرنے پر آمادہ کر لیا مگر چرچل چاہتے تھے کہ کرنل کو سزا بھی ملتی۔
فروری 2013ء کو ڈیوڈ کیمرون پہلے برطانوی وزیرِ اعظم تھے جنہوں نے اس جگہ کا دورہ کیا اور پھول چڑھائے اور امرتسر قتلِ عام کو ‘برطانوی تاریخ کا انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیا‘۔ تاہم کیمرون نے سرکاری طور پر معافی نہیں مانگی۔
دو روز قبل پاکستان کے وفاقی وزیراطلاعات نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں کہ سلطنت برطانیہ جلیاں والاباغ قتل عام اور قحط بنگال پرپاکستان، بھارت اوربنگلا دیش سے معافی مانگے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ برطانیہ کو کوہ نور ہیرا بھی لاہورمیوزیم کو واپس کرنا چاہیے، ساتھ ہی معافی مانگنی چاہیے۔

Image result for jallianwala bagh

Image result for jallianwala bagh

 

April 9, 2019

بڑھتی آبادیاں، تیرتے شہروں کا خواب جلد حقیقت کا روپ دھار لے گا، جانیے کیسے

نیویارک،جدت ویب ڈیسک :: اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم ہونے والے ادارے مستقبل قریب میں ایسے پروجیکٹ پر کام شروع کردیں گے جس کے تحت پانی پر تیرنے والے شہر(فلوٹنگ سیٹیز) بنائے جائیں گے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونائیڈ نیشنز ہیومن سیٹلمنٹ پروگرام UN-HABITAT، نجی کمپنی OCEAN IX اور دی ایکسپلوررز کلب کے ساتھ مل کر اس انقلابی منصوبے پر کام کریں گے۔ان اداروں کے مطابق خطرناک حد تک بڑھتی موسمیاتی تبدیلیاں اور بڑی تعداد میں آباد کاری کے پیش نظر تیرتے شہر ایک ممکنہ حل ہوسکتے ہیں۔دنیا کا پہلا تیرتا شہر اوشیئینکس سٹی چھ کونوں پر مشتمل پلیٹ فارمز پر مشتمل ہو گا جو سمندر کی تہہ سے منسلک ہو گا۔
ہر پلیٹ فارم پر تین سو افراد کے رہنے کی گنجائش ہو گی۔ جبکہ شہر کے نیچے لگے جال سمندر سے غذا حاصل کرنے کا ذریعہ ہوں گے۔
اوشیئینکس کے چیف ایگزیکٹیو کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر تیرتی عمارات کے لیے درکار ٹیکنالوجی پہلے سے ہی موجود ہے۔
زیر آب تعمیرات کا تجربہ کامیاب ہوچکا ہے تاہم سطح آب پر رہائشی بستی تاحال نہیں بنائی گئی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس سے ساحل سمندر پر واقع کئی بڑے شہر کا زیر آب آجانے کا خطرہ لاحق ہے۔تھائی لینڈ کا دارالحکومت بینکاک، ٹوکیو، لندن، جکارتہ، سڈنی اور شنگھائی کو بھی آئندہ دہائیوں میں اسی نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا ہوگا۔انسانی بستیوں کو درپیش اس خطرے کے پیشِ نظر ماہرین تعمیرات اور نقشہ ساز ایسے طرزِ رہائش متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے موحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پانی پر تیرنے والی بستیوں کے بعض پہلووں پر باریک بینی سے غور کرنا ہوگا بصورت دیگر کوئی بھی کمی مستقبل میں کسی بڑے حادثے کو جنم دے سکتی ہے۔

Image result for floating city

Related image

Image result for floating city

April 6, 2019

قدیمی مقبرے میں سے پچاس سے زائد حنوط شدہ لاشیں دریافت

جدت ویب ڈیسک ::مصر میں آثار قدیمہ کے حکام نے قدیم دور کے سات مقبرے دریافت کیے ہیں۔مصری حکام کے مطابق ہر مقبرے کی اندرونی دیوار سے پچاس سے زائد عورتوں ، مردوں اور بچوں کی حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں ۔
مصری آثار قدیمہ نے دریافت ہونے والے مقبرے کے باہردو حنوط شدہ لاشوں کو نمائش کے لئے پیش کیا ، جن میں ایک ممی عورت کی ہے جس کی عمر پینتیس سے پچاس برس کے درمیان ہے جبکہ دوسری ممی اس کے بچے کی ہے جس کی عمر بارہ سے چودہ برس ہے۔مقبرے کے اندر پائی جانے والی پینٹگز اور زیورات کے لئے استعمال ہونے والے آلات تقریباً اصل حالت میں محفوظ ہیں۔
یاد رہے دو ماہ قبل بھی مصری ماہرین آثارِ قدیمہ نے مصر کے ایک مقبرے میں سے چالیس حنوط شدہ لاشیں ملنے کا اعلان کیا تھا۔مصر کے ماہرِ آثارِ قدیمہ نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقبرے کو فرعونی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔رسمی نے بتایا کہ مقبرے میں سے جو حنوط شدہ نعشیں ملی ہیں، ان میں بائیس بالغ خواتین اور مردوں کی ہیں جبکہ بارہ بچوں اور چھ جانوروں کی نعشیں بھی ان میں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق فرعونی دور 323 قبل ازمسیح سے تیس قبل از مسیح تک کا ہے۔

April 4, 2019

پاکستان فضائی آلودگی سے زیادہ اموات کے شکار سرفہرست ممالک میں شامل

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان دنیا کے ان 5 سرفہرست ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں فضائی آلودگی کے باعث زیادہ اموات ہوتی ہیں ۔
امریکی ادارے ہیلتھ ایفیکٹ انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی اسٹیٹ آف گلوبل ایئررپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے بیس ماہ کے تناسب سے عمر میں کمی ہوگی جس کا جنوبی ایشیا پر گہرا اثر پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان فضائی آلودگی سے زیادہ اموات کے شکار سرفہرست ممالک میں شامل ہوگیا ہےرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کا پانچواں بڑا سبب ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایشیا میں آلودگی کے شکار سرفہرست پانچ ممالک میں چین، بھارت، پاکستان، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
چین کی جانب سے آلودگی کے خاتمے کے لیے بڑی اصلاحات متعارف کروائی گئیں لیکن یہاں دو ہزار سترہ میں آلودگی کے باعث 8 لاکھ 52 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق آلودگی کے باعث دو ہزار سترہ میں مجموعی طور پر چودہ کروڑ ستر لاکھ زندگیوں کا خاتمہ ہوا۔
مشرقی ایشیا میں بچوں کی عمریں آلودگی کے باعث تئیس ماہ مختصر ہوگی جس کے مقابلے میں ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک اور شمالی امریکا میں بیس ہفتے ہوگی۔ آلودگی کے اسباب میں گھروں میں کھانا پکانے کے لیے کوئلہ جلانا، لکڑی اور دیگر ذرائع کے استعمال کو بھی قرار دیا گیا ہے جو جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور افریقی ممالک میں عام ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تحقیق کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کے بڑھ جانے سے بچوں کی صحت اور نشونما متاثر ہورہی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے کئی بچے فوت بھی ہو جاتے ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات اور پالیسی کی تجویز دی۔
ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ 2016 میں چھ لاکھ بچوں کی اموات سانس کی بیماریوں کی وجہ سے ہوئی، ان اموات کی وجہ ماحولیاتی آلودگی۔
اس رپورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے بچوں کے زیادہ متاثر ہونے کی وجہ ان کا زیادہ تیزی سے سانس لینا بتایا گیا۔
اس کے علاوہ حاملہ خواتین بھی بہت بری طرح ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پیدائش کے بعد بچوں میں اس کے اثرات رہ جاتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی افزائش متاثر ہوتی ہے اور وہ دمہ اور کینسر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

April 2, 2019

نفع یا نقصان؟ فاسٹ فوڈ کا بڑھتا رجحان

جدت ویب ڈیسک ::صحت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا نہایت ہی اہم تحفہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ چند منٹوں کے آرام اور لذت کی خاطر صحت کے ساتھ سمجھوتا نہ کیا جائے اور تمام نقصانات جاننے کے باوجود ایسی چیزوں کا انتخاب کرنا عقلمندی نہیں۔روٹی، کپڑا اور مکان، رہنے کو ایک چھت، ڈھانپنے کے لئے ایک جوڑی کپڑا اور پیٹ بھرنے کے لئے دو روٹی، انسان کی بنیادی ضرورت میں شمار ہوتی ہے۔ بدلتے دور کے ساتھ انسان کی ضروریات بھی سادہ سے پیچیدہ ہوتی جارہی ہیں۔ پہلے کے دور کا انسان دو وقت کی سادہ روٹی میں خوش رہتا تھا اور آج کے نوجوان سادہ خوراک کے اوپر فاسٹ فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔
غذا انسانی جسم کے لئے بہت اہم ہے۔ بہتر زندگی گزارنے کے لئے دن رات محنت مزدوری کے بعد اپنے جسم کو چلتا پھرتا رکھنے کے لئے غذایت اور انرجی کی ضروریات ہوتی ہیں ، ایسے میں ضروری ہے کہ انسان غذایت سے بھر خوارک کا انتخاب کرے ، طاقت کا حصول چاک و چوبند رکھنے کے لئے اہم ہے کہ پروٹین، آئرن اور نمکیات سے بھر پور خوارک کو اپنی زندگی میں شامل کیا جائے جو کہ فاسٹ فوڈ سے حاصل کرپانا، ناممکن ہے۔
ضروری ہے کہ کھانے کے معاملے میں میانہ روی اختیار کی جائے اور جسم کی ضرورت سے زیادہ کھانا نہ کھایا جائے۔ آج کل نو جوانوں میں فاسٹ فوڈ کا رجحان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ نہ صرف بچے، بڑے بھی فاسٹ فوڈ کے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں۔ فاسٹ فوڈ جو پہلے امیروں کی غذا کے طور پر جانی جاتی تھی آج کے دور میں ہر طبقے کے لوگوں میں عام ہوچکی ہے۔اکثر لوگ اس بات سے کہ فاسٹ فوڈ انسانی صحت کو کس حد تک متاثر کرتا ہے باخبر ہونے کے باجود اپنی صحت کی فکر نہ کرتے ہوئے اپنی سہولیات ، ذائقے اور قیمت کی وجہ سے سے اس کا انتخاب کرنا پسند کرتے ہیں۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیقات کے مطابق یہ ثابت کیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ میں استعال کیا گیا کیمیکل انسانی خون میں با آسانی شامل ہوجاتا ہے اور اس کی بدولت کولسٹرول کا خون میں اضافہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ہارمونز میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ فاست فوڈ بچوں کی ذہنی نشونما کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پہلے کے زمانے کے لوگوں اور آج کے نوجوانوں کی صحت کے درمیان ایک بہت بڑے فرق کی بنیادی وجہ ان کی غذا کا انتخاب بھی ہے۔ پہلے کے زمانے میں سبزیوں اور سادہ غذا کے انتخاب کی وجہ سے انسان طاقتور اور جاندار پایا جاتا تھا جبکہ آج کے دور میں فاسٹ فوڈ کے استعمال کی بدولت انسان کمزور اور کھوکلا پایا جاتا ہے۔ فاست فوڈ تیزی سے انسانی جسم کو کمزور کرتا چلا جارہا ہے۔ غذا انسان کے جسم کے ساتھ ہی اس کی روز مرہ کے امورزندگی پر اپنا اثر چھوڑنی والی نہایت ہی اہم چیز ہے۔
فاسٹ فوڈ میں ضرورت سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں جو انسانوں میں مٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فاسٹ فوڈ کے استعمال کرنے والوں میں باقی لوگوں کے بمقابل زیادہ موٹاپا پایا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ سابت ہوتا ہے ،سائنسدانوں اور تحقیقات کے مطابق فاست فوڈ انسانوں میں ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ فاسٹ فوڈ کھانے والوں میں بہ مقابل دوسروں سے زیادہ ڈپریشن پایا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ کھانے والوں میں ڈپریشن کے واقعات میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فاسٹ فوڈجلدی نہ ہضم ہونے والی غذا ہے اس لئے اس کا استعمال کرنے والوں کا ہاضمہ دھیما پڑ جاتا ہے اور ان لوگوں میں دل کے امراض بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔
برگر، چیز پیٹز اور بہت سی ایسی چیزیں فاسٹ فوڈ کی فہرست میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی تیاریوں کے دوران ان میں ایسے اجزا کا استعمال کیا جاتا جو کہ بہت سے بیماریوں کی جڑ بنتے ہیں اور صحت کے لئے نہایت ہی مضر سابت ہوتے ہیں جس کے نتائج ہمیں سالوں بعد دکھائی دیتے ہیں۔ کینسر، شوگر کولسٹرول جیسی بیماریوں کا بھی ان میں شمار کیا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ صرف اور صرف کاروبار چمکانے کا ذریعہ ہے ۔ فاسٹ فوڈ ہمارے دماغ پر اثر کرکے بھوک لگنے کی قوت کو بھی متاثر کردیتا ہے۔

March 30, 2019

عالمی سمندروں کے درجہ حرارت بڑھنے کے نئے ریکارڈ قائم، اقوامِ متحدہ کا انتباہ

جنیوا جدت ویب ڈیسک :اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ عالمی سمندروں کے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس سے عالمی تپش اور سمندروں میں رہنے والی حیات کو درپیش خطرات کے متعلق ماہرین کی تشویش بڑھی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ، ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن âڈبلیوایم اوá نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہٹ کر بھی دیگر کئی عوامل پر تفصیلی بحث کی ہے۔ ڈبلیو ایم او کے مطابق 2018 میں سمندروں کی سطح سے 700 میٹر گہرائی تک درجہ حرارت میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں 1955 تک کا جائزہ لیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گیوٹریس نے اس رپورٹ کو ’ تمام حکومتوں، شہروں اور کاروباری حلقوں کے لیے بیداری کی صدا قرار دیتے ہوئے کچھ کرنے پر زور دیا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی âکلائمٹ چینجá کا عمل ہمارے اقدامات سے بھی کئی گنا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے اس سال 23 ستمبر کو ہونے والی عالمی آب و ہوا کانفرنس کو عالمی لیڈروں کے لیے حتمی اور فیصلہ کن موقع قرار دیا ہے تاکہ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس اجلاس میں تقریروں کی بجائے ٹھوس اقدامات اور حکمتِ عملی کے ساتھ شریک ہوں۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اگلے عشرے تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 45 فیصد اور 2050 تک مکمل کمی لائی جاسکے۔دنیا بھر میں رکازی âفاسلá ایندھن سے خارج ہونے والی حرارت اور گیسوں کی 93 فیصد مقدار سمندروں میں جذب ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانیوں کی گرمی کو گلوبل وارمنگ کی ایک مؤثر نشانی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ تاہم تمام سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافے کی شرح یکساں نہیں ہے۔ جنوبی نصف کرے کے سمندر زیادہ تیزی سے گرم ہورہے ہیں اور وہاں گرمی انتہائی گہرائی تک پہنچ رہی ہے۔بعض ماڈل بتاتے ہیں کہ عالمی سمندروں میں 2000 میٹر تک کی گہرائی میں بڑھنے والا درجہ حرارت صدی کے اختتام تک اوسط0.8 فیصد تک بڑے گا۔ یہ اضافہ سمندری حیات اور مرجانی چٹانوں پر کسی قیامت سے کم نہ ہوگا۔ دوسری جانب سمندروں کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔

March 29, 2019

دنیا کا پہلا عظیم و شان “قرآن پارک” آج عوام کے لئے کھول دیا

دبئی :جدت ویب ڈیسک :: دنیا کا پہلا عظیم و شان “قرآن پارک ” آج عوام کے لئے کھول دیا جائے گا، اس پارک میں قرآن کریم ميں بیان کئے گئے درختوں اور پودوں کو لگایا گیا ہے جبکہ قرآن پاک کے کرشمے اور واقعات سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔
تٍفصیلات کے مطابق دبئی کے الخوانیج کے علاقے میں “قرآن پارک” کے نام سے دنیا کا پہلا عظیم و شان پارک تعمیرکیا گیا ہے، جس میں قرآن کریم میں بیان کئے گئے معجزات اور تمام درختوں اور پودوں سے متعلق اگاہ کیا گیا ہے۔اس پارک میں نہ صرف قرآن کریم ميں بیان کئے گئے درختوں اور پودوں کو لگایا ہے بلکہ ایک ایئرکنڈیشنڈ غار بھی ہے، جس میں قرآن پاک کے کرشمے اور دیگر بیان کئے گئے واقعات سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔خیال رہے یہ پارک اپنی نوعیت کا پہلا پارک ہے، جس میں قرآن کے تقریباً تمام معجزات کے نمونے پیش کئے گئے ہیں جبکہ 158 ایکٹر وسیع رقبے پر مشتمل یہ پارک 7.4 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔قرآن میں 54 درختوں اور پودوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں انار، زیتون، تربوز، کیلے، گندم ، پیاز ، املی، انگور، نیاز بو ،کددو اور دیگر شامل ہیں۔
گذشتہ روز دبئی میونسپلٹی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا قرآن پارک 29 مارچ کو عوام کے لئے کھول دیا جائے گا تاکہ قرآن کریم اور سنت میں بیان کردہ پارک کی بہت ساری سہولیات کا لطف اٹھاسکیں۔