January 17, 2020

ایک مچھلی جس نے پاکستانی ماہی گیروں کو راتوں رات لکھ پتی بنا دیا

جدت ویب ڈیسک ::سمندر کو ماہی گیر ’بادشاہ‘ بھی کہتے ہیں بقول ان کے کہ یہ بادشاہ کے انداز میں نوازتا ہے جس سے انسان کی قسمت ہی بدل جاتی ہے۔
حال ہی میں کراچی سے تھوڑا دور بحیرہ عرب میں شکار کے دوران ماہی گیروں کے جال میں دو ایسی نایاب مچھلیاں آگئیں جنھوں نے انھیں لکھ پتی بنا دیا۔
ان ماہی گیروں کی موبائل پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو کے مطابق جیسے ہی جال کھنچتا ہے تو سندھی زبان میں ایک بزرگ ماہی گیر کی آواز آتی ہے کہ سوّا ہے سوّا۔
جیسے جیسے جال اوپر آتا ہے تو دوسری آواز آتی ہے کہ ‘ایک نہیں، دو ہیں دو۔’ مچھلیوں سے بھرا یہ جال اوپر کشتی پر پہنچتا ہے تو خوشی کے مارے ایک ماہی گیر کی چیخ نکل جاتی ہے، برف اٹھانے والی قینچی سے ان مچھلیوں کو دوسری مچھلیوں سے الگ کردیا جاتا ہے جبکہ ایک ماہی گیر خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔
ابراہیم حیدری کی جیٹی پر یہ دونوں مچھلیاں دس دس لاکھ روپے سے زائد قیمت میں فروخت ہوئیں اور فروخت کے تقریباً دو ماہ کے بعد ان مچھلیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا اور اس کے بعد میڈیا پر وائرل ہوئی۔
سوّا مچھلی کیا ہے اور قیمتی کیوں ہے؟
ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے معاون محمد معظم کے مطابق سوّا کروکر نسل سے تعلق رکھتی ہے، اس کو سندھی میں سوّا اور بلوچی میں کر کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ارگائیروسومس جیپونیکس ہے۔
اس کا سائز ڈیڑھ میٹر تک ہوسکتا ہے جبکہ وزن 30 سے 40 کلو بھی ہوسکتا ہے، یہ پورا سال ہی پکڑی جاتی ہے لیکن نومبر سے مارچ تک اس کی دستیابی آسان ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بریڈنگ سیزن ہے۔

ایک چینی ماہی گیر یلو کروکر مچھلی اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے

چین، گولڈ فش،

کراچی فشریز میں تازہ پکڑی گئی مچھلیاں نیلامی کے لیے رکھی ہیں

January 8, 2020

پاکستان 2020 میں‌ سفر کیلئے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں شامل

جدت ویب ڈیسک ::واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی جریدے فوربز نے رواں برس سیاحت کیلئے بہترین ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کے معروف کاروباری جریدے فوربز نے 2020 میں سیاحت کے لیے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں وطن عزیز پاکستان کا نام بھی شامل کرلیا۔
ایک رپورٹ میں امریکی جریدے کا کہنا تھا کہ بند ممالک اب کھل رہے ہیں اور لوگوں کو ان ممالک میں رسائی دی جارہی ہے۔
فوربز کی فہرست میں ارمینیا، چاڈ، ایریٹریا، گوئےٹیمالا، مونگولیا اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔
معروف ٹریول ایجنسی وائلڈ فرنٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی جانب سفر کرنے کی لوگوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے بالخصوص برطانوی شہزادہ اور شہزادی کے حالیہ دورے کے بعد اس میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔
وائلڈ فرنٹیئر کے بانی جونی بیل بی نے بتایا کہ پاکستان ایڈونچر کے لیے سب سے بہترین مقام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں قدیم سندھی تہذیب موجود ہیں جو 4 ہزار سال پرانی ہیں اور لاہور جیسے خوبصورت شہر ہیں جہاں قلعے، مساجد اور دیگر مقامات ہیں جبکہ سب سے اہم یہاں کے نظارے ہیں جو شمالی علاقوں کے ہیں، 3 بڑے پہاڑی سلسلے یہاں آپس میں ٹکراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹریکنگ، پہاڑوں پر بائیکس چلانا، رافٹنگ یا صرف ثقافتی سیاحت کے لیے بہترین مقام ہے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کے انفراسٹرکچر میں بہت بہتری آئی ہے، نئی سڑکیں، نئے ٹنلز کی وجہ سے سفر کا وقت بھی کم ہوگیا ہے جبکہ خطے میں نئے پرتعیش ہوٹل بھی کھل رہے ہیں۔

Image result for Pakistan tops list of best 2020 holiday destinations forbiz

December 25, 2019

بابا وانگا کی 2020ء کے بارے میں خوفناک پیشگوئیاں

جدت ویب ڈیسک ::باباوانگا کے نام سے مشہور بلغاریہ کی معروف نابینا خاتون کی موت کو 23 سال گزر چکے اور ہر سال کے متعلق ان کی درجنوں پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔
برطانوی جریدے “دی سن” کے مطابق اب ان کی 2020ء کے متعلق بھی تہلکہ خیز پیش گوئیاں سامنے آگئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم پیش گوئی یہ ہے کہ 2020ء میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہو گا۔
بابا وانگا کی پیش گوئی کے مطابق روسی صدر پر روس کے اندر کا کوئی شخص یا گروہ ہی قاتلانہ حملہ کرے گا جبکہ امریکی صدر کو برین ٹیومر لاحق ہو گا اور وہ بہرے ہو جائیں گے۔
بابا وانگا نے 2020ء کے لیے ایشیاء کے متعلق ایک خوفناک پیش گوئی کی تھی، جس کے مطابق اس سال ایشیاء میں تباہ کن زلزلے اور سونامی آئیں گے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیل جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے روس میں ایک بڑے شہاب ثاقب کے گرنے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
یورپ کے متعلق بابا وانگا نے پیش گوئی کر رکھی ہے کہ مسلمان شدت پسند یورپ میں حاوی آجائیں گے اور اس براعظم سے آبادی ہی ختم ہو جائے گی۔ یہ شدت پسند یورپی باشندوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کریں گے جس سے اس براعظم کی آبادی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

Related image

December 24, 2019

موت سے چند گھنٹے پہلے ظاہر ہونے والی سائنسی نشانیاں کیا ہیں- جانیے

جدت ویب ڈیسک ::انسانی جسم لافانی نہیں ہے یہ زمین پر ایک مُدت سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا، عام طور پر جسم زمین پر کئی رنگ بدلتا ہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا یہ تمام علامات جسم کی پل پل موت کی طرف بڑھنے کی خبر ہے۔
یہاں ہم جسم پر ظاہر ہونے والی چند اُن علامات کا ذکر کریں گے جو جسم کے Expire ہونے سے کُچھ گھنٹے پہلے ظاہر ہوتی ہیں، یہ علامات نشانیاں ہیں جسم کے لیے بھی اور اُس جسم کی روح سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی کہ وقت بہت قریب آگیا ہے، ایسے موقع پر محبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ جسم کو تنگ نہ کریں اور اُسے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف نہ پہنچاہیں تاکہ روح کے جسم سے جُدا ہونے کا یہ عمل آسان ہوجائے۔
موت سے چند گھنٹے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں ذیل میں درج ہیں۔
٭ بھوک اور پیاس کا مٹ جانا
جب جسم Expire ہونے کے بلکل قریب چلا جاتا ہے تو انسانی حاجات جیسے بھوک اور پیاس کی ضرورت محسوس ہونی بند ہو جاتی ہے اور لاغر جسم مزید توانائی حاصل کرنے کے لیے خوراک کی درخواست بند کر دیتا ہے۔

٭ دیگر انسانی حاجات ختم ہو جاتی ہیں

موت سے چند گھنٹے پہلے انسانی جسم پاخانہ اور پیشاب کی حاجت محسوس کرنا بھی بند کر دیتا ہے یہ گویا نشانی ہے روح کے جسم کو چھوڑنے سے پہلے کی۔موت سے کُچھ گھنٹے پہلے جسم درد سے کراہتا ہے اور اُس پر خوف کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جس میں کپکپی وغیرہ طاری ہوسکتی ہے۔

٭ دل کی دھڑکن

ساری زندگی خون کو پمپ کرنے والے دل کی دھڑکنیں موت سے کُچھ دیر پہلے بے ترتیب ہوجاتی ہے اور نبض کو ہاتھ سے محسوس کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہ اشارہ ہے کہ اعضا اپنا وقت پُورا کر چکے ہیں اور عنقریب بجھنے والے ہیں۔

٭ جسم کا درجہ حرارت
جسم کا وقت جب ختم ہونے والا ہوتا ہے تو آنکھوں میں آنسو چمکتے ہیں، اور جسم کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور دوبارہ بحال نہیں ہوتا ایسے موقع پر اُسے شدید پسینہ بھی آسکتا ہے۔
٭ محسوسات کم ہوجانا
روح جب جسم کو چھوڑنے کے لیے بلکل تیار ہو یعنی موت سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے تو ہاتھوں پاؤں گھٹنوں کی جلد پر محسوسات ختم ہو جاتی ہیں اور ان کا رنگ بدلنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ نیلا یا ارغوانی رنگ اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔
٭ سانس کی بے ترتیبی
یہ نشانی واضح نشانی ہے جس میں سانس اُکھڑنا شروع ہوتا ہے اور بے ترتیب ہوتا چلا جاتا ہے اور دھیرے دھیرے بُجھ جاتا ہے۔
٭ سکرات کی حالت
میڈیکل سائنس اس حالت کو نہیں مانتی مگر میٹافزکس کے سمجھنے والےجانتے ہیں کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب رخصت ہونے والا لینے آنے والوں کو محسوس کرنے لگتا ہے اور دیکھنے لگتا ہے ایسے موقع پر اُس کے مُنہ سے کُچھ ایسے الفاظ نکلتے ہیں جنہیں سُن کر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسے Illusion ہو رہی ہے۔
نوٹ: ایسے موقع پر وہ لوگ جو کمزور دل ہیں یا اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے مریض کے قریب نہ رہیں اور اُس کے قریب بلکل مت روئیں کیونکہ جسم کی سماعت کی حس کام کر رہی ہوتی ہے اور محبت کرنے والوں کو تکلیف میں دیکھنا بھی ایک تکلیف ہے اس لیے رخصت ہونے والی روح کے جسم کو اس تکلیف میں مبتلا نہ کریں اور اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور ایسے موقع پر Expire ہونے والے جسم کو سخت ہاتھ مت لگائیں اور نرم ہاتھوں سے اُس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیریں اور بار بار اُس کی جگہ تبدیل نہ کریں اور جتنا ممکن ہو اُس کے لیے سکون فراہم کریں تاکہ اُس پر یہ عمل آسان ہو سکے۔

December 19, 2019

دنیا کا عمر رسیدہ جوڑا گینز بُک آف ورلڈ‌ ریکارڈ‌ میں شامل

جدت ویب ڈیسک ::واشنگٹن : 8 عشروں قبل شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑے کو گینز بُک آف ورلڈ نے جب دونوں سے ان کی طویل العمری کا راز پوچھا گیا تو انہوں نے زندگی میں اعتدال کو اس کی وجہ قرار دیا جبکہ جان اب بھی ورزش کرتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی کی سماعت اور صحت بہترین ہے۔سب سے زیادہ عمر رسیدہ شادی شدہ جوڑا قرار دیتے ہوئے سند سے نواز دیا۔
تفصیلات کے مطابق جان اور شارلوٹ کو دنیا کے معمر ترین جوڑے کا اعزاز خود گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دیا ہے، شارلوٹ کی عمر 105 اور جان کی عمر 106 برس ہے اور دونوں کی شادی کو 80 برس بیت چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں کی داستانِ محبت 1934ء میں شعبہ حیوانیات کی کلاس میں شروع ہوئی جب جان ہینڈرسن کی عمر 21 برس تھی اور وہ 20 سالہ شارلوٹ کرٹس کے قریب ہی بیٹھے تھے۔ جیسے ہی جان کی نظر شارلوٹ پر گئی وہ شرمیلی لڑکی جان کو بھاگئی۔
اس کے بعد یہ جوڑا شادی کے بندھن میں بندھ گیا اور اب 22 دسمبر کو ان کی شادی کی 80 ویں سالگرہ ہے جس پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے انہیں سب سے عمررسیدہ شادی شدہ جوڑا قرار دیا ہوئے سند عطا کی ہے۔
اپنی جوانی میں جان اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی آف ٹیکساس آگئے تھے اس وقت یہاں کی آبادی 50 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 20 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ شارلوٹ 1914ء میں آئیووا میں پیدا ہوئی تھیں اور انہوں نے بھی ٹیکساس یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ محبت کے بعد بھی دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں 5 برس لگا دیئے، اس وقت امریکا میں معاشی بحران تھا جس میں شارلوٹ تدریس سے وابستہ ہوئیں اور جان باسکٹ بال کے کوچ بنے تھے، اس طرح کچھ رقم جمع ہوئی اور 22 دسمبر 1939ء کو دونوں کی شادی ہوگئی جس کی تقریب بہت سادہ تھی۔
شادی کے بعد جب جان نے ایک آئل کمپنی میں ملازمت اختیار کی تو ان کے گھر میں خوشحالی آگئی اور اس کے بعد جان 1972ء میں اس کمپنی سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔
جان کے مطابق ٹی وی کی ایجاد ان کے سامنے ہوئی کیونکہ اس سے قبل ریڈیو کا راج تھا، 1950ء میں ٹی وی منظرِ عام پر آیا اور جان اسے اپنی زندگی کی بہترین ایجاد قرار دیتے ہیں۔

November 23, 2019

سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی۔ناروے میں قرآن پاک جلانے کی کوشش کرنیوالے پر مسلمان نوجوان کا حملہ، یہ واقعہ دراصل کیا تھا؟

لاہور۔جدت ویب ڈیسک ) ناروے میں ایک مسلم نوجوان نے قرآن پاک جلانے کی مذموم کوشش ناکام بنا دی تاہم اسے پولیس نے حراست میں لے لیا، دراصل اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن مجید کی بے حرمتی کررہے تھے ۔
نجی ویب سائٹ ’پاکستان 24‘ کیلئے محمد الیاس نے لکھا کہ ”گزشتہ ہفتے کو ناروے کے جنوبی شہر کرسٹینڈ سینڈ میں قران جلانے کی مذموم کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد جذباتی نعرے اور مختلف پوسٹیں بھی سوشل میڈیا پر دیکھی گئیں، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے اور صرف قران مجید کی بے حرمتی تک محدودنہیں، اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
کرسٹینڈ سینڈ کی آبادی تقریباً اسی ہزار ہے جس میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ واحد جامع مسجد کے علاوہ شہر کے اطراف میں کچھ مصلے بھی ہیں۔ مسلمانوں میں تیس سے زیادہ نیشنیلیٹیز کے لوگ آباد ہیں، جن میں زیادہ تعداد صومالیہ، شام، فلسطین و عراق کے مہاجرین کی ہے۔ مسلمانوں میں نوجوانوں کی قابل ذکر تعداد ہے اور ان میں سے بہت سے نوجوان یہاں کی معاشرت میں رنگے ہوئے ہیں۔ قانون کے مطابق آپ کو مذہبی آزادی ہے اور پورے ناروے میں تبلیغی جماعتیں سفر کرتی ہیں، ان کے اجتماعات ہوتے ہیں، اور یورپ کے گنے چنے ملکوں میں سے ناروے ایسا ملک ہے جو تبلیغی جماعتوں کو بلا حجت ویزے جاری کرتا ہے۔ شہر کی انتظامیہ، سیاست دانوں کی بڑی تعداد، سٹی کونسل میئر، پولیس اور باقی ادارے مسلمانوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں اور ان کی ضروریات کو قانون کے مطابق پورا کرتے ہیں، مسلمانوں کو کبھی ان سے کسی بھی معاملے میں شکایت نہیں ہوئی، بلکہ جب مسلمانوں کو بڑی جگہ پر مسجد کی ضرورت پڑی تو سٹی کونسل میں دائیں بازوں کی مخالفت کے باوجود ووٹنگ کروا کے ہمارے لئے نئی مسجد کی منظوری دلوائی گئی۔
کرسٹینڈ سینڈ میں ہی مقیم محمد الیاس نے مزید لکھا کہ ایک ستاسی سالہ ملحد آرنے تھومیر نے یورپ کے باقی ملکوں کی دیکھا دیکھی کچھ سال پہلے اسلام کے خلاف ایک تنظیم بنائی، جس کا نام سیان (Stop Islmisation in norway۔ SIAN) رکھا۔ متشدد خیالات کے یہ لوگ اسلام کے خلاف مختلف فورمز میں کافی ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، اور مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کرتے ہیں جس میں اسلام کو جبر و طاقت کے زور پر پھیلایا ہوا مذہب اورمسلمانوں کوبطور دہشت گرد ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کو معاشرے میں بہت زیادہ پذیرایی حاصل نہیں لہذا ان کے کسی مظاہرے میں قابل ذکر لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن میڈیا ایسے لوگوں کو چٹخارے لگا کر پیش کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو کچھ حد تک کوریج مل جاتی ہے۔ ناروے میں مذہبی و اظہاررائے کی آزادی ہے، قانون تب حرکت میں آئے گا جب کوئی شخص نفرت، دہشت اور نسل پرستانہ تقریر کرے، اس کے علاوہ آزادی اظہار رائے کے نام پر جو مرضی کہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے آرنے تھومیر نے جب مظاہرے کا اعلان کیا تو ایک صحافی نے اس مظاہرے کا عنوان دریافت کرنے کی غرض سے انٹرویو کیا، جس میں آرنے تھومیر نے اعلان کیا کہ قران کو جلائیں گے(نعوذباللہ)۔ اس بات نے شہر کے سکون میں ایک ارتعاش پیدا کردی اور فورا مسلم لیڈرز اور مسجد کمیٹی کے لوگ ایکٹو ہوگئے کہ ایسی کسی بھی انہونی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے شہر کے میئر، پولیس اور لوکل گورنمنٹ سے منسلک لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں پوری سٹی کونسل نے یک زبان کہا کہ ہم اس مظاہرے کے سخت خلاف ہیں اور ایسی کسی بھی حرکت کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حتی کہ مسلمان مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ قران کریم کو جلانے والی کسے عمل کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ اسی میٹینگ کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ قانون کے مطابق ہم مظاہرے کو نہیں روک سکتے جب تک وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے جو قابل گرفت ہو، لیکن چونکہ سیان کا یہ اعلان نفرت پھیلانے کے زمرے میں آتا تھا تو پولیس کمشنر نے کچھ پیرامیٹرز طے کروائے جس میں سیان تنظیم کو یہ کہا گیا کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن آپ قرآن کریم کو نہیں جلا سکتے اور ایسا کرنے پر قانون کی گرفت میں ہونگے۔
رپورٹ کے مطابق سیان تنظیم کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد پیش کرے کیونکہ ان کا رویہ پرتشدد اور مجموعی طرز عمل ہمارے معاشرے سے مطاقت نہیں رکھتا۔ان کایہ بھی مطالبہ رہا کہ مسلمانوں کو ناروے سے باہر نکالا جائے۔ لہذا یہ ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد صرف اشتعال انگیزی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا۔ شہرکے پڑھے لکھے لوگ ڈائیلاگ اور کانفرنسز میں بہت جاتے ہیں اور شہر کے سب آڈیٹوریمز میں کوئی نہ کوئی کانفرنس یا مکالمہ چل رہا ہوتا ہے۔ آرنے تھومیر نے پہلے پہل تو کوشش کی کہ اپنی نفرت انگیزباتوں کو ڈائیلاگ کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جس میں وہ نبیﷺ کی ذات اقدس پر بھی رکیک حملے کرتا تھا لیکن اس کی باتوں کومدلل انداز میں رد کیا گیا،جس کو پبلک نے پسند کیا اور اس کا بہت مثبت اثر ہوا۔ اسی وجہ سے مسجد میں ہر ہفتے دو ہفتے میں ایک نارویجین اسلام قبول کرتا ہے۔ آرنے تھومیر کی بے بنیاد باتوں اور نفرت پر مبنی تقریروں کی وجہ سے لوکل ادبی کونسل اور یہاں کے چرچ نے پابندی لگا دی کہ اس کو کسی تقریب میں نہیں بلانا تاکہ یہ اسلام سے متعلق اپنی نفرت کو پھیلانے کے لئے ہمارا فورم استعمال نہ کر سکے۔
لوکل انتظامیہ اور ادبی حلقوں سے کٹنے کے بعد اس تنظیم کے پاس صرف ایک ہی آپشن رہ گیا کہ وہ پبلک مقامات پر نفرت انگیزمظاہرے کرے۔ یہ اپنے مظاہرے میں باقاعدہ کیمرے اور میڈیا کے لوگوں کو ایڈجسٹ کرتے کہ اگر کوئی مشتعل شخص ان کو زدکوب کرے تو اس کی تصاویر و ویڈیو کو وائرل کروا کر لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ لوگ ہمارے معاشرے کی روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، مسلمان اکابر جن میں سب سے زیادہ متحرک جامع مسجد کمیٹی کے صدر اکمل علی کہتے تھے کہ اس کی کسی بھی غیر قانونی حرکت پر قانون خود اس کو قابو کر لے گا۔ لہذامسلمان اس کی کسی اشتعال انگیزی پر برانگیختہ نہ ہوں اور اس کے کسی مقصد کو کامیاب نہ کریں۔
محمد الیاس کے مطابق اس مظاہرے سے پہلے مسجد کی طرف سے اعلانات ہوئے کہ اگرآرنے تھومیر نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی تو اس کو ایسی کسی حرکت سے روکنے کے لئے پولیس موجود ہوگی لہذا انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اشتعال میں آ کر کوئی فرد اپنے طورپرکوئی کاروائی نہ کرے۔ ہفتے کے دن سیان کے مظاہرے میں صرف آٹھ لوگ تھے، جبکہ چار سو سے زیادہ لوگ، جن میں نارویجنز کی قابل ذکر تعداد بھی شامل تھی، اس کے مظاہرے کے خلاف موجود تھی۔ پولیس نے رکاوٹیں لگا کر راستہ بند رکھا ہوا تھا کہ لڑائی کی صورت نہ بن سکے۔ آرنے تھومیر نے تقریر کے دوران قرآن کریم کا ایک نسخہ باربی کیو گرل کے اوپر رکھا ہوا تھا، جو پولیس نے فوراً لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس دوران سیان تنظیم کے دوسرے سرکردہ رکن لارس تھورسن نے اپنی جیب سے قران کریم کے دوسرے نسخہ کو نکال کر آگ لگانے کی کوشش کی جسے پولیس نے بجھانے کی کوشش کی لیکن اسی دوران عمر دھابہ جس کو بڑی تعداد عمر الیاس لکھ رہی ہے، نے رکاوٹ عبور کی اوراور لارس تھورسن کو مارنے کی کوشش کی، لارس کو فورا سول پولیس نے اس حرکت پر گرفتار کر لیااور ہنگامہ مچ گیا، اس دھکم پیل میں مسلمان نوجوانوں نے پولیس کو بھی دھکے اور ٹھڈے مارے، کہ وہ لارس تک پہنچ سکیں۔آج ان نوجوانوں کی ویڈیو اور تصاویر پورے ناروے اور دنیامیں وائرل ہیں۔
واقعے کے بعد مسجد کمیٹی نے بہترین وکیل کا بندوبست کر لیا ہے جو لارس تھورسن کو قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔اس اندوہناک واقعے کے بعد پولیس، چرچ، انتظامیہ اور سیاست دان بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں ساتھ متفق ہیں لیکن ان سب کی سپورٹ صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حاصل ہے لیکن اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر اس مسئلے کو خود حل کرے گے تو جو حاصل وصول ہے وہ بھی جائے گا۔ اس واقعے کے بعد مقامی چرچ کے پادری، دیگر مذاہب کے سرکردہ لوگ اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے یکجہتی کے اظہار کے لئے گزشتہ روز جمعہ کی نماز کے دوران برستی بارش میں مسجد کے باہر حلقہ بنایا اور مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلوایا۔

Hateful conduct against Muslims has carried out in Norway

Hateful conduct against Muslims has carried out in #Norway ?It hurts billions of Muslims around the globleWe PAKISTANIS 🇵🇰 strongly condemn this act of religious discrimination#Stop_Islamophobiaجب قرآن شریف کے نسخے جلائے گئے تو ایک غیرت مند مسلمان گھائل شیر کی طرح جھپٹ پڑا

Posted by Andaz-e-Jahan on Friday, November 22, 2019

November 15, 2019

پاکستان میں غربت میں کمی

جدت ویب ڈیسک ::دنیا کے 114 ممالک میں انتہائی غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے پاکستان 14ویں نمبر پر ہے۔ 2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن 15؍ ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

2001ء میں پاکستان کی 28؍ عشاریہ 6؍ فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، پاکستان میں پندرہ برس کے عرصے میں سالانہ ایک عشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی اور یوں 4؍ کروڑ 41؍ لاکھ افراد میں سے 3؍ کروڑ 38؍ لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے اور 2015ء میں انتہائی غریب صرف 76؍ لاکھ پاکستانی رہ گئے تھے۔ بھارت اور چین میں بھی غربت کی شرح کم ہوئی ہے ۔

عالمی بینک کے ایک مضمون کے مطابق اس کا ایک ہدف انتہائی غربت کو کم کرنا بھی ہے ، ورلڈ بینک کی 2011میںانتہائی غربت کی تعریف کے مطابق یومیہ 295؍ روپے ( ایک عشاریہ 90ڈالر) سے کم آمدنی والے افراد انتہائی غربت کے زمرے میں آتے ہیں۔ 1990ء کے بعد سے دنیا نے انتہائی غربت کو کم کرنے میں حیرت انگیز پیشرفت دیکھی ہے۔

دنیا کے 114؍ ممالک میں گزشتہ پندرہ برس یعنی 2000ء سے 2015ء کے درمیان انتہائی غربت کم کرنے میں سر فہرست 15؍ ممالک نے اقدامات کیے اور کامیابی حاصل کی، ان میں پاکستان کے علاوہ تنزانیہ، تاجکستان، چاڈ، کانگو، کرغزستان، چین، بھارت، مولدوا، برکینا فاسو، کانگو، انڈونیشیا، ویت نام، ایتھوپیا اور نیمیبیا شامل ہیں۔ 2000ء میں پاکستان میں4کروڑ14لاکھ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزارتے تھے جبکہ پندرہ برس بعد انتہائی غربت کی سطح پر صرف76لاکھ افراد ہیں، پندرہ برس کے دوران تین کروڑ38لاکھ افراد انتہائی غربت کے دائرے سے نکل گئے۔ بھارت نے 2004ء سے2011ء کے درمیان سالانہ2عشاریہ4فی صد کمی کی۔

November 9, 2019

کرتارپور راہداری سے متعلق چند اہم حقائق

جدت ویب ڈیسک ::کرتارپور راہداری سے متعلق چند اہم حقائق مندرجہ ذیل ہیں

کرتارپور کہاں واقع ہے؟

کرتارپور ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے پر واقع ہے اور بھارتی سرحد سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کیا کرتارپور راہداری 1947 سے بند ہے؟

سکھ حضرات 1950 اور 60 کی دہائی میں کرتارپور آیا کرتے تھے لیکن 1965 کی جنگ کے دوران دریائے راوی پر بنا پل ٹوٹ گیا جس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

بھارت کرتارپور کو اپنا حصہ بنانا چاہتا تھا

بھارت پاکستان کو کئی مرتبہ زمین کے بدلے زمین کے اصول کے تحت یہ خطہ بھارت کو دے دینے کی پیشکش کر چکا ہے۔

کرتارپور راہداری پر سمجھوتہ نواز شریف اور واجپائی کے درمیان ہوا

کرتارپور کوریڈور (یعنی ایک ایسا رستہ جس پر سکھ حضرات بغیر ویزا کے کرتارپور کا دورہ کر سکیں) پر پہلی بار نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان 1998 میں سمجھوتہ ہوا تھا۔ لیکن کارگل جنگ کے بعد یہ منصوبہ کہیں گم ہو گیا۔

مشرف نے گورودوارہ کھول دیا، مگر راستہ لمبا کر دیا

مشرف حکومت کے دوران اس گورودوارے کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور بھارتی یاتریوں کے لئے اسے 2004 میں کھول دیا گیا لیکن اس کے لئے انہیں براستہ لاہور آنا ہوتا تھا اور 4 کلومیٹر کا رستہ 170 کلومیٹر میں بدل جاتا تھا۔

سدھو کی خواہش پر آرمی چیف کا فیصلہ

سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے اگست 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کی تھی کہ وہ کرتارپور راہداری کو کھول دیں۔ آرمی چیف نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے گرو نانک کی 550ویں سالگرہ پر اسے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس راہداری پر تعمیراتی کام دونوں اطراف کے پنجاب میں نومبر 2018 میں شروع ہوا اور گذشتہ ماہ مکمّل ہو گیا۔

کرتارپور راہداری اور دیوارِ برلن

وزیر اعظم مودی نے کرتارپور راہداری کے کھلنے کو دیوارِ برلن کے گرنے سے تشبیہہ دی ہے، جو کہ یقیناً حقیقت سے کچھ زیادہ ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ راہداری پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی طرف ایک اچھا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

Image result for dewaar barlan

 

November 8, 2019

متنازعہ نقشہ: بھارت کا کشمیر کے بعد نیپال کے علاقے پر بھی وار

رپورٹ ::برصغیرِ پاک و ہند میں برطانوی فوج نے جہاں صدیوں پرانی سلطنتیں اور ریاستوں کا خاتمہ کرکے فتح کا علم بلند کیا وہیں کچھ اقوام ایسی بھی تھیں جنھیں شکست دینا ان کے بس سے باہر تھا۔ ان اقوام میں سے ایک قوم نیپال کی تھی۔ انگریز فوج نے متعدد بار چھوٹی بڑی کوششیں کیں مگر نیپال فتح کرنے میں ناکام رہی۔ نومبر 1814 میں شروع ہونے والی اینگلو نیپالی جنگ دو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کو گورکھا وار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انگریز فوج کی سر توڑ کوششوں کے باوجود فتح ان کا مقدر نہ بن سکی اور بالآخر 4 مارچ 1816 کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے نیپال کے بادشاہ اور برطانوی فوج کے آفیسر لفٹیننٹ کرنل براڈشا کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
معاہدے کے تحت برطانوی فوج بنگال کے مختص کردہ چند علاقوں کے علاوہ باقی کسی جگہ حکومت قائم نہیں کر سکتی تھی۔ انگلستان کی حکومت نے گورکھا قوم کی شجاعت سے متاثر ہوکر انھیں برطانوی آرمی میں بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گورکھا کے نوجوان ڈیڑھ سو سال تک برطانوی آرمی کا حصہ بنتے رہے اور پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تاہم برطانوی فوج نے نیپال کے گورکھا پلاٹون میں سے اکثریت کو اپنے ملک میں شہریت دے رکھی ہے۔

گورکھا جنگ کے اختتام کے دو سو تین سال بعد ایک بار پھر نیپال کی سرحدوں میں کسی غیر ملک نے قابض ہونے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ زبردستی قبضہ کرلیا گیا ہے، تو بجا ہوگا۔ حال ہی میں بھارت نے اپنی ریاست کا متنازعہ نقشہ جاری کر دیا ہے جس میں جہاں ایک جانب کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، وہیں دوسری جانب نیپال کے سرحدی علاقے کالاپانی کو ہندوستان کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کالا پانی بھارتی ریاست اتھرکنڈ کا حصہ ہے جب کہ نیپالی حکومت کے بقول کالا پانی صدیوں سے نیپال کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔

کالا پانی کا مذکورہ حصہ کم و بیش 6 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ پرادیب گیاوالی کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارت کے نئے نقشے میں کالا پانی کی شمولیت کو نیپال نے مسترد کر دیا ہے۔ نیپال نے ہفتے کے روز جاری متنازعہ بھارتی نقشے پر تشویش کا اظہار کر کے بھارت سے اس سلسلے میں بات چیت کی پیش کش کی ہے۔

جمعرات کی شام بھارت کے دفترِ خارجہ سے بھی اسی سلسلے میں ایک بیان جاری ہوا جس کے مطابق بھارت نے نیپال کے کسی علاقے کو ہندوستان میں شامل نہیں کیا تاہم جو علاقے بھارت کے نقشے میں شامل کیے گئے ہیں ان کی ملکیت کا حق ہند وستان کے پاس ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے نیپال کو معاملے پر خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
نیپال پر بھارت کے مسلط ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی ضروریات کا بڑا انحصار بھارت پر ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات سے لے کر اشیائے خورد و نوش تک بھارت کے زمینی راستے سے نیپال پہنچا دیا جاتا ہے۔ نیپال معاشی لحاظ سے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے اور اسی کم زوری کا بھارت بے دریغ فائدہ اٹھا رہا ہے۔دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی فوج تعداد میں بہت قلیل اور کم زور ہے۔ ان کے پاس نہ جدید ہتھیار ہیں اور نہ ہی بھارت سے لڑنے کی صلاحیت۔ نیپالی حکومت چار و ناچار بھارتی احکامات کو بجا لانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔

تیسری وجہ ہندو مذہب ہے۔ نیپال میں ہندو مذہب کے پیروکاروں کی تعداد 80 فی صد سے زائد ہے۔ ہندو رسومات اور عقائد یکساں ہونے کی وجہ سے نیپال میں بھارت کو کسی حد تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کھٹمنڈو کے سینماؤں میں بالی ووڈ کی کسی فلم کے ریلیز ہونے کے دن عوام کا سمندر امڈ آتا ہے۔ نیپالی زبان ہندی سے مختلف ہونے کے باوجود نیپال میں بھارتی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں۔ نیپال کے ایف ایم چینلز پر نیپالی سے زیادہ ہندی گانے چلائے جاتے ہیں اور نیپالیوں کا ہیرو بھی شارخ خان، عامر خان یا سلمان خان ہی ہوتے ہیں۔

تاہم اب بھارت اور نیپال کے تعلقات میں تلخیوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیپال اب بھارتی ظلم کے آگے ڈٹ جانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ نیپالی عوام میں حالیہ بھارتی نقشے کے جاری ہونے کے بعد مودی حکومت کے خلاف نفرت کی لہر بھی چل پڑی ہے۔ انند نیپال سے میرے ایک دوست ہیں اور جرمنی میں زیرِ تعلیم ہیں؛ حالیہ بھارتی اقدام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی تو ان کے الفاظ یوں تھے، ”میں شرمندہ ہوں کہ بھارت کے نئے نقشے میں نیپال کے 6 ہزار ایکڑ زمین پر محیط علاقے کو انڈیا کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور نیپال میں کوئی اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ میں نے اب بھارت سے شدید نفرت کرنا شروع کر دیا ہے۔“

انند کی بات درست ہے، نیپال فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بھارت کو ”منہ توڑ“ جواب دے سکے۔ تاہم نیپال آیندہ کے خطرات کو بھانپتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ حال ہی میں چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے دورۂ نیپال کے بعد اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کے آٖغاز کا عندیہ دیا تھا، اس تناظر میں نیپال پاکستان کی طرح چین کے ساتھ بھی روابط بڑھا سکتا ہے اور شاید بھارت اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہا۔

مودی حکومت نے متنازعہ نقشہ جاری کر کے پاکستان اور چین کے بعد نیپال کو بھی اپنی دشمنی پر اکسایا ہے اور بھارت کے اس امر سے خطے کے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ شمال میں چین، مغرب میں پاکستان اور مشرق میں نیپال، بھارت کے ظالمانہ رویے سے ناخوش اور بے زار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کے خلاف ان ممالک کا مؤقف کس قدر مضبوطی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان نقشے کے معاملے کو سختی کے ساتھ رد کر چکا ہے۔

Image result for kala pani nepal

Image result for kala pani nepal

Image result for kala pani nepal