August 21, 2018

عالمی اسٹیبلشمنٹ امریکہ اور بالخصوص اسرائیل پاکستان کا روشن مستقبل دیکھ کر برف کی طرح پگلنا شروع ہوگئے

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان اب عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے صرف نکلا نہیں بلکہ بہت دور جا چکا ہے دور تو چلو نکل گیا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اب عالمی اسٹیبلشمنٹ امریکہ اور بالخصوص اسرائیل پاکستان کا روشن مستقبل دیکھ کر برف کی طرح پگلنا شروع ہوگئے.
امریکہ اسرائیل کا فرنٹ مین ہے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں اسرائیل امریکہ سے اپنی ساری پالیسیز چلواتا ہے جس میں امریکی ماہرین اور امریکہ بھی برابر کا کردار ادا کرتا ہے مالی تعاون کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ جو اسرائیل کے مفاد میں ہو. اسرائیل جو بظاہر تو صرف ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن دنیا کی معیشت پر اسرائیل کا مکمل قبضہ ہے عالمی مالیاتی ادارے اسرائیل ہی کے زیر سایہ ہیں اور اس معیشت کا مین اڈہ امریکہ میں ہے یعنی امریکہ سے اسرائیل کی ساری معیشت کو کنٹرول کیا جاتا ہے سارا نظام ولڈ بینک کے تحت چلایا جاتا ہے سپر پاور ہونے کی ناطے ہی اسرائیل نے امریکہ کو اپنا فرنٹ مین بنایا ہے میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں

اسرائیل کی مثال اس گولی کی سی ہے( چھوٹا سا ملک ہے)جو بندوق سے نکل کر سینہ تو چیر دیتی ہے اب اگر آپ کے پاس بندوق ہے لیکن گولی نہیں تو بندوق کا کیا مطلب….؟؟ گولی ہوگی تو اپنا دفاع کرو ے یہی حال امریکہ کا ہے( رقبے کے لحاظ سے بڑا اور سپر پاور بھی مطلب گولی کے لیے بندوق) امریکہ میں موجود ساری سرمایاکاری اسرائیل کی ہے جس دن اسرائیل امریکہ سے اپنی سرمایہ کاری نکال کر لے گیا اس دن امریکہ خالی بندوق کے بٹ اپنے سر پر مار مار کر خود ہی تباہ ہوجائے گا پھر سویت یونین جیسی طاقت کی تباہی دنیا بھول جائے گی.

ہم سے براہراست جنگ شروع کرنا اب امریکہ کے بس میں نہیں امریکہ کی نبض پر ہماری مضبوط گرفت ہے مثال کے طور ہر اگر امریکہ پاکستان پر براہراست چڑھائی کرتا ہے تو پاکستان کا پہلا نشانہ اسرائیل ہوگا دوسرے لفظوں میں امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اسرائیل آسانی سے پاکستان کے نشانے پر ہے یوں سمجھ لیں اسرائیل کی مثال اس طوطے کی ہے جس میں امریکہ کی جان ہے ظاہر ہے جب تک امریکہ اسرائیل کو ہم سے محفوظ نہیں کر لیتا تب تک امریکہ خود پاکستان پر براہراست چڑھائی کا سوچ بھی نہیں سکتا جیسے میں نے اوپر لکھا کے اسرائیل کی ساری سرمایہ کاری امریکہ میں ہے اور امریکہ کی ڈوریں اسرائیل سے ہلائی جاتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کر امریکی معیشت بہت جلد کریش ہونے والی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بیک وقت مختلف ملکوں میں جنگ ہے ان ملکوں میں ٹانگیں پھنسانے سے امریکہ کی معیشت بہت تیزی سے گر رہی ہے ابامہ کے آخری وقت تک افغانستان میں امریکی فوجی کاروائی کا ماہانہ خرچہ 800 ملین ڈالر سے ایک بلین ڈالر تک ہوتا رہا اسی بات پر چند امریکی ماہر معاشیات بھی مسٹر ابامہ سے سخت ناراض تھے.

امریکہ کی معیشت پر چند ہاتھوں نے ایسی کاری ضربیں لگائی ہیں جن کی مثال شائد دنیا کی تاریخ میں بھی نہ ملے میں آپ کو آگے چل کر بتاتا ہوں اس سے پہلے چند دوسری ضروری باتیں ہیں.

آج تک امریکہ نے دنیا کے مختلف بدمعاشوں کو سبز باغ دیکھا کر ذاتی مفادات کی خاطر اپنے اتحادی بنایا بظاہر یہ اتحاد انسانی فلاہو بہبود کے لیے تھا لیکن اس کی اندورنی کہانی اتنی تلخ ہے جو بیان تو ہو سکتی ہے لیکن بیان کرنے سے محسوس نہیں ہو سکتی ظلم و جبر کی یہ طویل داستان شائد وہ لوگ محسوس کرنے والے انداز میں ہی بیان کر سکتے ہیں جنہوں نے براہراست اس ظلم و جبر کو دیکھا اور گہرے زخم کھائے اس ظلم و جبر کے دوران ہی کچھ ہاتھوں نے امریکہ کو بھی تگنی کا ناچ نچایا ہے.

دراصل بات یہ ہے کہ امریکہ نے سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشی میدان میں اپنی برتری کا استعمال بلکل برعکس کیا ہے امریکہ نے ان چیزوں کا استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کرنے کے بجائے کمزور اقوام اور سوشلسٹ معاشیات رکھنے والے ملکوں کو مغلوب کرنے اور معاشی طور پر دنیا کو اپنا غلام بنانے کے لئے کیا امریکہ کا سارا فوکس ہمیشہ اسی بات پر رہا کہ کس طرح دنیا کو اپنا غلام بنایا جائے پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر صرف امریکہ کی برتری کی ہی علامات نہیں بلکہ بد ترین قسم کے ظلم و جبر اور استحصال سرمایہ دارانہ نظام کی بھی علامتیں تھیں لیکن مخالفین نے بھی اپنی ذہانیت اور منصوبہ بندی کا جو شاہکار پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے.

امریکی ساری دنیا کی تمام نقل و حرکت کی پل پل خبر رکھتے ہیں اور فوجی آپریشن ہو یا معاشی اور سفارتی امریکیوں کی منصوبہ بندی اور منصوبہ سازوں کی ذہانت کی کوئی مثال نہیں اب امریکہ پر حملوں کے ذریعے حملہ آوروں نے خود کو جدید دور کے ہر معیار پر خود کو علی الاعلان امریکہ پر برتر ثابت کردیا خود اب امریکیوں کے سامنے اس برتری کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں یہی وجہ ہے کہ سابق صدر کلنٹن نے اعتراف کیا تھا کہ اب دنیا میں کچھ لوگوں نے امریکہ کا نشانہ بنانا سیکھ لیا ہے اب امریکہ وہ نہیں رہ گیا جو پہلے تھا سیدھے لفظوں میں کلنٹن کا اشارہ پاکستان تھا.

سابق صدر کلنٹن کی بات کی اگر میں تشریع کروں تو مطلب صاف ظاہر ہے آج تک امریکہ نے سات سمندر پار سے عراق شام لیبیا اور افغانستان جیسے ملکوں کو طاقت کا استعمال کر کے مغلوب کیا یہ سمجھ کر کہ امریکہ خود دور ہونے کے ناطے ان ملکوں کے مغلوبیت کے نتیجے میں ری ایکشن سے بچ جائے گا جو صرف امریکہ کی سوچ ہی رہ گئی تھی بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اگر امریکہ عراق شام لیبیا اور افغانستان جیسے ملکوں کے ری ایکشن سے بچ گیا لیکن اسی دوران جن ہاتھوں نے امریکہ کو جو ری ایکشن دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے یاد رہے اسی ری ایکشن نے عراق شام لیبیا اور افغانستان کی کثر بھی نکال دی.  اب میں آپ کو بتاتا ہوں کے امریکہ کی معیشت کس طرح نیچے جارہی ہے پہلی بات میں نے اوپر بیان کر دی کہ بیک وقت مختلف ملکوں میں جنگ سے امریکہ کی معیشت کا نقصان ہوا ہے اس سے پہلے جب سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی اس دوران امریکہ نے پاکستان کو اپنا اتحادی بنا کر سویت یونین کے خلاف کھڑا کیا اصل میں تو پاکستان اکیلا ہی سویت یونین کو شکست دینے کے لیے کافی تھا سویت یونین کے خلاف معاشی طور پر اور اسلحہ دے کر پاکستان کی مدد کرنا کوئی امریکہ کا شوق نہیں تھا بلکہ پاکستان کی مدد سے سویت یونین کو مارنا اور بعد میں چور دروازے سے پاکستان پر چڑھائی کرنا امریکہ کا اصل مقصد تھا پشتو کی ایک مثال ہے جس کا میں اردو ترجمہ کرتا ہوں (کہ بلی اللہ کے لیے چوہا نہیں پکڑتی) اسی طرح امریکہ نے اللہ کے لیے سویت یونین کے خلاف ہماری مدد نہیں کی بلکہ اپنے مفاد کی غرض سے ہماری مدد کرنے آیا تھا اب یہ ہمارا ہی کمال تھا کہ پاکستان نے امریکہ کے مفاد ہوا میں اڑا دیے کچھ دن پہلے آپ نے باجوہ ڈاکٹرائین کا اختتام بھی دیکھ لیا جب امریکہ نے پاکستان کا ملڑی ٹریننگ پروگرام معطل کر دیا ساتھ ہی پاکستان کو یو ایس نیول وار کالج اور سائبر سیکورٹیز کے پروگرام سے بھی بر طرف کر دیا اس کے علاوہ امریکہ نے پاکستانی آرمی کے افسروں کی ٹریننگ اور ایجوکیشن پروگرامز بھی بند کر دیے.

امریکہ کو معاشی طور پر کسی نے کمزور کیا ہے تو وہ پاکستان ہے کہتے ہیں افغانستان میں ٹانگ اڑانے کے بعد امریکہ کی 200 سالہ تاریخ میں اگر کسی نے امریکہ کو معاشی طور پر بڑا جھٹکا دیا ہے تو وہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائر پرویز مشرف ہے کچھ ماہ پہلے ٹرمپ کا بیان بھی سامنے آیا تھا کہ پاکستان ہمیں بےوقوف بناتا رہا اس بیان کے پیچھے بہت بڑی کہانی ہے جس پر کسی دن تفصیل سے روشنی ڈالوں گا یہ تو رہا تاریخ کا حصہ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے وہ بھی ملاحظہ کیجیے.

اپ کو یاد ہوگا کچھ دن پہلے چائنہ اور امریکہ میں معاشی مذاہمت کا سامنا ہوا تھا چائنا کے ساتھ تجارتی محاذ پر امریکہ نے اعلان جنگ کیا اس سلسلے میں چائنہ سے امریکہ بھیجی جانے والی چینی مصنوعات پر امریکن صدر ٹرمپ نے 300 ارب ڈالرکے نئے ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا اس کے نتیجے میں چائنا بھی پیچھے نہیں ہٹا بلکہ ڈٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے چائنا میں آنے والی امریکی مصنوعات پر ایسے ہی ٹیکسوں کا اعلان کردیا ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ان اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی بلکہ دنیا بھر میں اشیاء وخدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یاد رکھیں جس معاشی جنگ کا آغاز امریکہ چائنہ کے خلاف شروع کر دی یہ جنگ امریکہ خود زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکتا کیوں کہ امریکہ پہلے ہی چائینہ کے 1200 ارب ڈالر کا مقروض ہے اس کے علاوہ اب امریکی کمپنیاں چائنا کو اپنا میٹیریل بھیج کر چائنا سے پروڈکشن کروا رہی ہیں جس سے امریکہ میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے مثال کے طور پر اگر امریکہ چائنا کو میٹیریل بھیج کر ایک چیز بنوا کر پھر اسے چائنا سے امریکہ ایمپورٹ کرے تو 100 ڈالر تک ہے اب وہی چیز اگر امریکہ میں بنوائی جائے تو 500 ڈالر تک تیار ہوگی اس لیے کر امریکہ کی نسبت چائنہ میں لیبر کا خرچہ 10 گناہ سے بھی زیادہ کم ہے

جیسے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پاکستان چائینہ روس نے مل کر اپنا الگ بلاک بنا لیا تھا اب لگ یوں رہا ہے جیسے ایران بھی آنے والے وقت میں اسی بلاک کا حصہ بننے جارہا ہے لیکن میرے خیال سے ایران کے لیے پاکستان کی شرائط بہت مضبوط ہوں گی اس وجہ سے کے ایران نے ہر فورم پر پاکستان کی مخالفت کی اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا پاکستان اب ایران کے بارے میں مسقبل کے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرے گا.

سی پیک گیم چینجر ہی نہیں بلکہ ورلڈ چینجر ہوگا یاد رہے اسی سی پیک کے لیے سویت یونین نے افغانستان کے راستے پاکستان کو فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا جسے اللہ کے حکم سے پاکستان نے تورخم باڈر بھی کراس نہیں کرنے دیا اب روس بندے کا پتر بن کر ہمارے سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں سپر پاور امریکہ نے بھی دہشت گردی کی آڑ میں افغانستان کے راستے پاکستان فتح کر کے چائنہ اور روس کو اپنی مٹھی میں رکھنا تھا یار رہے امریکہ نے اس پے پہلے بھی ویت نام کر راستے بلکل یہی کاروائی ڈال کر اپنا خواب پورا کرنے کی کوشش کی تھی.

سی پیک 2013 کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ نے امریکہ کی نیندیں اڑا دی ہیں یہ وہی بڑا منصوبہ ہے جس کا آغاز پاکستان سے ہوچکا ہے اصل میں اس منصوبے پر لاگت کا خرچہ 60 ارب ڈالر ہے مگر ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ اس منصوبے کی مجموعی مالیت 900ارب ڈالر ہے جس میں صرف 60ارب پاکستان میں لگائے جا رہے ہیں یہ بڑا منصوبہ دنیا کے 68 ممالک کو کنیکٹ کرے گا جن میں عالمی آبادی کا 65 فیصد حصہ شامل ہے دنیا کی تاریخ میں آج تک اتنا بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا معاشی طور پر دنیا میں اپنا لوہا منوانا چائنا کی کوشش ہے چین کا یہ بڑا منصوبہ پوری دنیا تک رسائی کا خواب ہے جو اکیسویں صدی میں دنیا کی تاریخ پلٹ دے گا.

اس بڑے منصوبے پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ اعتراض امریکہ
کو ہے اس کی وجہ یورپی یونین پر تجارتی لحاظ سے امریکی مارکیٹ کا مکمل قبضہ ہے اس منصوبے سے یورپی یونین پر امریکہ کی تجارتی گرفت ٹوٹنے کا بھی خطرہ ہے اس کے علاوہ دنیا بھر میں امریکہ کی تجارت اور کاروباری مفادات کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے.

یاد رکھیں کہ اس بڑے اور تاریخی منصوبے کی سب سے اچھی بات یہ ہے اسے چاہے ہم اپنی خوش قسمتی بھی سمجھیں کہ اس مرحلے ون بیلٹ یعنی ون روڈ پر چائنا کی دنیا بھر کے سفر کی پہلی منزل پاکستان ہے چائنا سے نکل کر یہ روڈ دنیا کے 68ممالک کو باہم ملانے کے سفر میں سب سے پہلے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔ اس منصوبے کےردعمل کے طورپر ساؤتھ ایشیا کے خطے میں تیزی سے جو تبدیلیاں آرہی ہیں ان کی وجہ بھی یہی ہے۔

آپ کی معلومات کے لیے ارض ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایرانی اور انڈین انٹیلیجنس کو یہی ٹاسک دیا گیا تھا کہ کسی طرح سی پیک کو ناکام بنانا ہے اسی سلسلے میں بلوچستان میں پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ہوتے رہے کلبھوشن کو بھی بلوچستان سے گرفتار کیا گیا جس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا انڈیا اور ایرن کے درمیان چابہار معاہدہ بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سی پیک کو ناکام بنانے میں انڈیااور ایران ایک نقطہ پر تھے پچھلے چند سالوں سےامریکہ کا پاکستان کو چھوڑ کر انڈیا کو اپنا حلیف بنانے کے فیصلے کے پیچھے بھی یہی سی پیک کا بڑا منصوبہ ہے.

اگلے چند سالوں میں بقول ماہرین چائینا 2030 تک سپر پاور بن سکتا ہے لیکن اب سپر پاور بننے کے لیے چائینا کو کسی قسم کے خطرناک جنگی ہتھیار بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ امریکہ اور چائنا میں چھڑی جانے والی جنگ ٹریڈ وار یعنی معاشی جنگ میں تبدیل ہونے جا رہی ہے اسی جنگ کی بنیاد سی پیک کی شکل میں پاکستان ہوگا یعنی امریکہ اور چائنا میں چھڑی جانے والی معاشی جنگ کا میدان پاکستان ہوگا پاکستان کے ذریعے ہی چائنا پوری دنیا تک اپنی پروڈکس سپلائی کرے گا ظاہر ہے اگر یہ سپلائی لائن پاکستان سے ہوگی تو اس میں پاکستان کا بھی فائدہ ہوگا اس سے پاکستانی معیشت بہت جلدی ترقی کی حدیں چھو لے گی.

سی پیک منصوبے سے امریکہ کی معیشت کو جو سب سے بڑا جھٹکا لگے گا وہ ہے ڈالر کا راج جو نہ صرف ختم ہونے جا رہا ہے بلکے ڈوبنے جارہا ہے کچھ دن پہلے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ سی پیک سے تجارت کے لیے پاکستان اور چائنا مل کر ایک الگ کرنسی کا انتخاب کریں گے اگر یہ ہوا تو پھر ڈالر صرف امریکہ کی چار دیواری تک ہی محدود رہ جائے گا اور اگر ڈالر امریکی چار دیواری تک محدود ہوا تو یہ امریکی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ہوگا اس کے بعد اسرائیل امریکہ کو خیر باد کہنے میں دیر نہیں کرے گا اور لوگ سویت یونین کی مثال بھول جائیں گے.

August 20, 2018

خطبہ حج،آج وہ مبارک دن ہے جب اللہ نےدین اسلام کومکمل کیا

جدت ویب ڈیسک ::مکہ المکرمہ: حج کا انتہائی اہم رکن خطبہ حج آج مسجد نمرہ سے ادا کیا جارہا ہے، ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آلِ شیخ یہ اہم اور مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ایسے کام نہ کریں جن کے کرنے سے ریاست نے منع کیا ہو۔ اس سعاد ت کو اردو میں پہنچانے کا خصوصی انتظام کیا ہے اور عربی میں براہ راست نشر ہونے والے خطبہ حج کو ڈاکٹر مفتی عمیر ترجمہ کررہے ہیں۔ ,مسجد نمرہ سےخطبہ حج ادا کرتے ہوئےڈاکٹرشیخ حسین بن عبدالعزیزآل الشیخ نے کہا کہ اےایمان والواللہ سےڈرتےرہےاوران کےحکم پرعمل کرو، اللہ سےڈرنےوالاحق اورسچائی کےراستےپررہتاہے۔ ان کا کہناتھا کہ جس نےتقویٰ کاراستہ اختیارکیاوہ کامیاب ہوگا۔
خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ حسین کا کہنا تھا کہ تمام انبیاکرام نےاپنی قوموں سےکہاکہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔تقویٰ اختیارکروتاکہ تم فلاح پاؤ،نمازقائم کرو اوراللہ کاذکرکرو۔اللہ وحدہ لاشریک ہےکسی اورکواپناخدامت بناؤ۔ انہوں نے کہا کہ لوگو!دنیاکی کامیابی صرف اللہ پریقین اورسچےراستےپرچلنےسےملتی ہے،اےایمان والوآپ پراللہ کاخاص فضل ہے۔
ایمان کے ارکان
خطبہ حج میں ایمان کے ارکان بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمان کی بنیادکچھ ارکان پرہےجس کی وضاحت بھی کی گئی ہے،ایمان کی بنیاداللہ پریقین ہے اوروہ وحدہ لاشریک ہیں،توحید اوررسالت کےبعدنمازاسلام کاسب سےبڑارکن ہے،نمازقائم کرناتقویٰ ہے،اللہ کی عبادت تمام مسلمانوں پرفرض ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ اللہ کےدین پرعمل کرنےوالوں کےاجرکوضائع نہیں کیاجاتا،متقی بننےکے لیے رمضان میں روزےفرض کیےگئے،حج بیت اللہ ان لوگوں پرفرض ہےجواستطاعت رکھتےہیں، جس شخص نےاللہ کی رضاکیلئےحج اداکیاوہ چہرہ آج بھی روشن ہے۔ خطبے میں بتایا گیا کہبےحیائی سےبچنےوالا،تقویٰ اختیارکرنےوالابےشک اجرحاصل کرے گا۔
امت کے لیے اخلاقیات کا درس
پیغمبراسلام ﷺ کے اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نبی کریمﷺکااخلاق سب سےکامل ہے،انسانیت پرفرض ہےاپنےاخلاق پرانحصارکریں،امت مسلمہ اپنی اخلاقیات کومدنظررکھتےہوئےآگےبڑھے۔ ا ن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھےمعاشرےکےوجودکیلئےاخلاقیات کادرس ضروری ہے،نبی کریمﷺکااخلاق ہمارےلیےمثال ہے،ہمیں عمل کرناچاہیے،نبی کریمﷺنےبتایاسب سےبہترین شخص وہ ہےجس کےاخلاق اچھےہوں۔
شیخ حسین نے کہا کہ اخلاق کی وجہ سےہی مسلمانوں کےدرمیان محبت پیداہوتی ہے،اسلام ہمیں حکم دیتاہےکسی پرظلم نہ کریں،شفقت سے پیش آئیں، امت مسلمہ قرآن وسنت پرعمل پیراہے اور اسلام کی اصل تصویراحسن اعمال ہے۔
اسلامی معاشرتی رویے کیسے ہوں؟
حج کے خطے کی ادائیگی کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوحکم دیاتقویٰ اختیارکرو،تمام انبیانےاپنی اقوام کوبھی تقویٰ اختیارکرنےکی ہدایت کی،اسلام ہمیں والدین کی عزت،بچوں پرشفقت کی ہدایت کرتاہے۔مومنو!تمہارارب تمہیں بڑی بشارت کی خوشخبری سناتاہے،اسلام محبت اورشفقت کادرس دیتاہے،بےحیائی سےروکتاہے،اللہ نےدھوکےسےمنع فرمایااورناپ تول درست کرنےکاحکم دیاہے۔معاشرتی رویوں سے متعلق اسلامی احکامات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ نےامانت میں خیانت نہ کرنےکاحکم فرمایاہے،اللہ نےقرآن پاک میں اخلاق رکھنےوالوں کی صفات کوبیان فرمایاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔اےمسلمانو! اللہ نےگناہوں سےتوبہ کےدروازےکھول دیئےہیں ،اےمسلمانوں آج توبہ کادن ہے۔آج وہ مبارک دن ہےجس میں اللہ نےدین اسلام کومکمل کیا، آج کے دن توبہ کرنےوالوں کےگناہوں کواللہ ثواب میں بدل دیتاہے۔
ریاست اور فرد
انہوں نے امتِ مسلمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اللہ نےجاسوسی،تجسس اورغیبت کرنےسےمنع فرمایاہے،اللہ نےجھگڑاکرنےوالوں کےدرمیان صلح کرانےکاحکم دیاہے اوراللہ تعالیٰ نےغداری کرنےوالوں کے خلاف بھی احکامات دیئےہیں۔
خطیبِ حج کا کہنا تھا کہ گزشتہ قوموں سےہمیں سبق حاصل کرناچاہیےکہ ظالموں کے ساتھ کیاہوا، مالی معاملات میں بھی اخلاق کی طرف توجہ دینےکی ضرورت ہے،نیکی کاحکم دیں اوربرائی سےروکیں اسی لیےہمیں بہترین امت کہاگیا،اللہ کےحکم اورنبی کریمﷺکی ہدایت پرعمل کرینگےتوہماری کامیابی ہوگی۔
خطبے میں انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ جس کام سے ریاست منع کرے وہ کام کرنا جرم ہے اور اس کا مرتکب سزا کا حقدار ہوگا، اس کے بعد خطبے کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے لیے مجموعی دعا کی گئی۔

مسجد نمرہ سے خطبہ حج ۔۔۔ براہ راست

براہ راست خطبۃ حج اردو ترجمہ کے ساتھ

Posted by ARY News Urdu on Monday, August 20, 2018

August 18, 2018

نو منتخب وزیراعظم عمران خان کا 100دن کا ایجنڈا، جانیے

جدت ویب ڈیسک ::نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات 2018 میں اپنی پارٹی کی کامیابی کی صورت میں حکومت کے پہلے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم، صحت، مکان، انصاف اور روزگار ایجنڈے پر سرفہرست ہوں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے اور ہماری حکومت کے ابتدائی 100 دن اس بات کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے۔
100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے،اس پلان میں سب سے اہم نکتہ مملکت پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا اور ملک میں مدینے کی ریاست کے نظریئے کا رائج کرنا تھا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم 2013 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے، جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس اب حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے اور ہم نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے’۔اب جب کہ تحریک انصاف ملک کی حکمران جماعت اور عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں، یہاں ان کی جانب سے دیئے گئے 100 روزہ ایجنڈے کے کچھ اہم نکات دیئے جارہے ہیں۔
پاکستان کو مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے
بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کیا جائے گا
اداروں میں میرٹ لایا جائے گا
فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا
جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بناکر محروم علاقوں میں اقتصادی پیکج دیا جائے گا
ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کی جائیں گی
خارجہ پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں گی
ملک بھرمیں درخت لگائے جائیں گے
کراچی میں قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا
اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا
ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا
بجلی اور گیس کی قیمت کو کم کیا جائے گا
وزیراعظم اسکیم کے تحت 50 لاکھ سستے گھر بنائے جائیں گے
4 نئے سیاحتی مقامات کا اعلان کیا جائے گا
اب قوم کو امید ہے کہ عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کر رکھا ہے، وہ آئندہ 100 روز میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور نظر آئے گی۔
دو روز قبل عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے ایک اہم اجلاس کے دوران پارٹی نے آئندہ 100 دنوں کے لیے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی تھی۔

August 17, 2018

وزیر اعظم عمران خان،کپتانی سے وزارت عظمیٰ تک، کامیابیوں کی حیران کن داستان

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک :: قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان کے انتخاب کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ، تحریک انصاف ک سربراہ عمران خان آئندہ پانچ سال کے لیے ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔آئیں، ملک کے منتخب وزیر اعظم کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں.

ذاتی زندگی

عمران خان 25 نومبر 1952 کو لاہورمیں پیدا ہوئے۔ تعلق نیازی قبیلے سے ہے۔ بچپن میانوالی میں گزرا۔  وہ ایچی سن کالج، لاہور میں زیر تعلیم رہے۔پھر برطانیہ کا رخ کیا۔ وہاں اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ انھیں کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جس میں صدراتی ایوارڈ بھی شامل ہے۔ انھوں نے تین شادیاں کیں۔ پہلی جمائما خان سے، دوسری ریحام خان سے۔ ابتدائی دونوں شادیاں طلاق پر منتج ہوئیں۔ انھوں نے تیسری شادی بشری بی بی سے کی۔عمران خان نے اپنے حالات زندگی کو کتابی شکل بھی دی، جو بیسٹ سیلر ثابت ہوئی۔ ان کی زندگی پر فلم اور ڈاکومینٹرزی بھی بنائی گئیں۔

کرکٹ‌ کے میدان اور شوکت خانم

یہ کرکٹ کا میدان تھا، جہاں بین الاقوامی شہرت نے قدم چومے۔انھوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریر کا آغاز 1969 میں کیا، 1971 میں انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔پاکستان کو 1992 کا عالمی جتوانا ان کا بڑا کارنامہ تھا۔ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے، جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت اور انگلینڈ کو ان کی سرزمین پر ہرایا۔کرکٹ کے بعد سماجی خدمات کے میدان میں نام کمایا۔ کینسر کے مریضوں کے لیے لاہور میں شوکت خانم میموریل اسپتال بنانا ایک ایسا کارنامہ ہے، جس نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔

سیاسی اننگز کا آغاز

انھوں نے 25 اپریل 1996کو تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی کوششوں میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔2002 کے الیکشن میں وہ صرف میانوالی سے جیت سکے۔ 2008 میں انھوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔2013 میں ان کی جماعت ایک بڑی قوت اختیار کر چکی تھی ۔اس الیکشن مہم کے دوران وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔انتخابات کے بعد پی ٹی آئی ن لیگ کے بعد مقبول ترین جماعت ٹھہری۔ اس نے خیبرپختون خواہ میں حکومت بنائی اور بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری۔انھوں نے کرپشن کے خلاف علم بلند کیا۔بعد ازاں انھوں نے دھرنوں اور احتجاج کا راستہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے منتخب حکومت کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔پی ٹی آئی ہی نے پاناما کیس کو ہائی لائٹ کیا، جس کی وجہ سے نواز شریف کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انتخابات 2018 میں‌ عمران خان کی قیادت میں‌پی ٹی آئی نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی، عمران خان اپنے پانچوں حلقوں‌ سے کامیابی حاصل کی.

August 17, 2018

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وزیراعظم کے عہدےپر رہنے والی شخصیات

جدت ویب ڈیسک ::اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وزیراعظم کو مملکت کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت حاصل ہے جو اپنی کابینہ کے ذریعے امور مملکت چلاتا ہے، اب تک 21 سربراہان اس عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ خان لیاقت علی خان ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سب سے زیادہ 3 مرتبہ اور بے نظیر بھٹو کو اس عہدے پر دو مرتبہ فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

1۔ لیاقت علی خان :
مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے خان لیاقت علی خان 14 اگست 1947 کو ملک کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے جو 4 سال 2 ماہ اور 2 روز تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔
16 اکتوبر 1951 کو ایک تقریب کے دوران انہیں گولی مار کر شہید کیا گیا جس کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے خواجہ ناظم الدین کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔
2۔ خواجہ ناظم الدین :
خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے دوسرے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف لیا اور وہ ایک سال اور 6 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔
مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے خواجہ ناظم الدین کی حکومت 17 اپریل 1953 کو اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد خان نے ختم کی۔
3۔ محمد علی بوگرا :
محمد علی بوگرا نے ملک کے تیسرے وزیراعظم کی حیثیت سے 17 اپریل 1953 کو عہدے کا حلف لیا اور 2 سال تین ماہ اور 26 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔
4۔ چوہدری محمد علی :
مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد علی 12 اگست 1955 کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور ایک سال ایک ماہ اس عہدے پر رہنے کے بعد انہی کی جماعت نے 12 ستمبر 1956 کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے فارغ ہوئے۔
5۔ حسین شہید سہروردی :
مسلسل 4 وزرائے اعظم مسلم لیگ سے منتخب ہوتے رہے لیکن ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی کا تعلق عوامی لیگ سے تھا۔
حسین شہید سہروردی نے 12 ستمبر 1956 کو وزارت عظمیٰ کا حلف لیا اور ایک سال، ایک ماہ اور 5 دن تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں ، انہوں نے پارٹی پر کنٹرول کم ہونے اور اتحادیوں کی حمایت چھوڑنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔
6۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر :
ابراہیم اسماعیل چندریگر نے 17 اکتوبر 1957 سے 16 دسمبر 1957 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر خدمات انجام دیں اور وہ تقریباً 55 روز تک ملک کے وزیراعظم رہے۔
مسلم لیگ کے ابراہیم اسماعیل چندریگر کو اکثریتی جماعت ریپبلکن پارٹی اور عوامی لیگ کی جانب سے عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا اور وہ ایک ماہ اور 29 تک وزیراعظم رہے۔
7۔ فیروز خان نون :
فیروز خان نون کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا اور انہوں نے 16 دسمبر 1957 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتویں وزیراعظم کی حیثیت سے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور وہ 9 ماہ اور 21 روز تک اس منصب پر فائز رہے۔
8۔ نورالامین :
نورالامین ملکی تاریخ کی کم ترین مدت تک وزیراعظم رہے، 1971 کی جنگ کے دوران انہیں صرف 13 روز تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہنے کا شرف حاصل ہوا، وہ 7 دسمبر 1971 سے 20 دسمبر 1971 تک وزیراعظم پاکستان رہے۔
9۔ ذوالفقار علی بھٹو :
پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور 5 جولائی 1977 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو مجموعی طور پر تین سال 10 ماہ اور 21 دن وزیراعظم پاکستان رہے جنہیں اس وقت کے آرمی چیف ضیاالحق نے مارشل لا لگا کر عہدے سے ہٹایا۔
10۔ محمد خان جونیجو :
1985 میں غیرجماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو آزاد حیثیت میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 24 مارچ 1985 کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور 29 مئی 1988 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
محمد خان جونیجو کو اس وقت کے صدر نے آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایا ، اس طرح وہ 3 سال 2 ماہ اور 5 دن تک وزیراعظم پاکستان رہے۔
11۔ بے نظیر بھٹو :
بے نظیر بھٹو 2 دسمبر 1988 کو پاکستان اور اسلامی ممالک کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں اور وہ 6 اگست 1990 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

بے نظیر بھٹو ایک سال 8 مہا اور 4 روز تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں۔
12۔ نواز شریف :
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990 کو وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے اور وہ 18 جولائی 1993 تک اس منصب پر فائز رہے، جن کی حکومت اس وقت کے صدر غلام اسحاق ڈار نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔
نواز شریف دو سال 7 ماہ اور 4 دن تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے، انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکومت بحالی کے حکم کے بعد انہوں نے ایک معاہدے کے تحت عہدے سے استعفیٰ دیا، اسی معاہدے کے تحت اس وقت کے صدر نے بھی اپنے عہدے سے استفعیٰ دیا۔
13۔ بے نظیر بھٹو :
بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 کو دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئیں اور اس مرتبہ بھی وہ اپنی 5 سالہ مدت پوری نہ کرسکیں اور صدر فاروق لغاری نے 5 نومبر 1996 میں ان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔بے نظیر بھٹو اس مرتبہ 3 سال اور 17 روز تک وزیراعظم پاکستان رہیں۔
14۔ نواز شریف :
نواز شریف 17 فروری 1997 کو دو تہائی اکثریت سے ملک 14ویں اور دوسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے لیکن اس مرتبہ بھی وہ اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔
نواز شریف اپنے دوسرے دور حکومت میں 2 سال 7 ماہ اور 25 روز تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔

15۔ میر ظفراللہ خان جمالی :

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے میر ظفراللہ جمالی ملک کے 15ویں وزیراعظم کی حیثیت سے منتخب ہوئے، انہوں نے 23 نومبر 2002 کو اپنے عہدے کا حلف لیا اور 26 جون 2004 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ظفراللہ جمالی ایک سال 7 ماہ اور 3 روز تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہے اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر عہدہ چھوڑا۔

16۔ چوہدری شجاعت حسین :

قومی اسمبلی نے 30 جون 2004 کو چوہدری شجاعت حسین کو ملک کے 16ویں وزیراعظم کی حیثیت سے انتخاب کیا، وہ 26 اگست 2004 تک اس عہدے پر فائز رہے، انہوں نے ایک ماہ اور 27 روز تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد استعفیٰ دیا۔
17۔ شوکت عزیز :
مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے شوکت عزیز نے 28 اگست 2004 کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا اور وہ 15 نومبر 2007 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
شوکت عزیز پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے پارلیمانی مدت ختم ہونے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہوئے، وہ 3 سال 2 ماہ اور 18 روز تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے۔
18۔ یوسف رضا گیلانی :
2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی نے 25 مارچ وزارت عظمیٰ کا حلف لیا اور 19 جون 2012 تک اس عہدے پر فائز رہے، انہیں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے جرم میں نااہل کیا اور اس طرح وہ 4 سال 2 ماہ اور 25 روز تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔
19۔ راجا پرویز اشرف :
پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے نااہل ہونے کے بعد راجا پرویز اشرف نے 22 جون 2012 کو 19ویں وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف لیا اور 9 ماہ اور 2 دن تک اس عہدے پر فائز رہے۔
راجا پریوز اشرف نے پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت مکمل ہونے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
20۔ نواز شریف :
2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد نواز شریف ملکی تاریخ میں تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے، وہ تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہنے والے واحد پاکستانی ہیں۔
نواز شریف نے 5 جون 2013 کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا اور 4 سال ایک ماہ اور 23 روز تک اس عہدے پر رہے، جنہیں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے پر نااہل کیا۔
21۔ شاہد خاقان عباسی :
مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی نے یکم اگست 2017 کو وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا اور 10 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔
شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کا دور حکومت مکمل ہونے کے بعد 31 مئی 2018 کو عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

August 16, 2018

بائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کا یوم وفات،خدمات پر بھرپور خراج تحسین

کراچی جدت ویب ڈیسک ::بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا مقام پاک و ہند میں اُردو سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اُردو تحریک کو بامِ عروج تک پہنچانے والوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے، اس کے علاوہ دنیا میں کسی بھی زبان میں اس زبان سے اس قدر محبت کرنے اور اس کے فروغ کے لئے آخری سانسوں تک جدوجہد کرنے والی اگر کوئی شخصیت ہے تو یہ منفرد اعزاز بھی بابائے اُردو مولوی عبدالحق ؒ کو حاصل ہے .
بابائے اُردومولوی عبدالحقؒ کو ابتدا ءہی میں ریاضی سے گہرا لگاؤ تھا جس نے اُنہیں غور و فکر اور مشاہدے کا عادی بنا دیا ۔اس کے علاوہ انہیں فارسی اور اُردو شاعری، نثرنگاری ،تاریخ ،فلسفہ اور مذہب کا مطالعہ کرنے کا بھی شوق تھا ان علوم اور ادب کے مطالعے نے مولوی عبدالحقؒ کے قلب و ذہن پر مثبت اثرات مرتب کئے انہیں اپنے اطراف سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی ۔غور و فکر ،مطالعے اور مشاہدے کا ذوق مزید گہرا ہوا ان کی فکر میں وسعت ،تخیل میں بلندی اور زبان و بیان کی باریکیاں واضح ہوئیں ۔بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کے بے شمار کارنامے ہیں طلبِ آگہی نے انہیں مزید متحرک اور مضطرب بنا دیا تھا۔ پہلی بار مولوی عبدالحقؒ کی کا وشوں سے دکنی زبان کے علمی اور ادبی شہ پارے سامنے آئے انہوں نے اپنی تحقیقی کاوشوں سے اس گوشہ ادب کی علمی اور لسانی اہمیت کو اُجاگر کیا۔قدیم دہلی کالج کے حوالے سے بھی بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ نے اپنی انتھک محنت اور خلوص سے ”مرحوم دہلی کالج“ لکھ کر اس ادارے کی ادبی اور تعلیمی کاوشوں کو نمایاں کیا۔فورٹ ولیم کالج کی طرز سے ذرا ہٹ کر دوبارہ دہلی کالج قائم کیا جس سے بلاشبہ اُردو میں بیشتر مغربی ادب اور علوم سے آگہی کا موقع میسر آیا ۔دہلی کالج نے اس دور کے طلبہ کی شخصیت اور ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ نے نہ صرف اُردو میں تنقید نگاری، مقدمہ نگاری اور معنویت عطا کی بلکہ اُردو میں پہلی بار حقیقی تبصرہ، جائزہ اور لسانی اکتساب صرف بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ کی مقدمہ نگاری میں میسر آیا انہوں نے اُردو میں تبصرہ نگاری کو ایک نیا رنگ اور ڈھنگ عطا کیا۔مولوی عبدالحق ؒ کی فکری، علمی، ادبی ، لسانی اور تعلیمی جدوجہد کے بارے میں جیسا کہ سب جانتے ہیں وہ سراپا اُردو اور اُردو ادب کی ایک نادر اور منفرد شخصیت تھے۔غالب کے خطوط کی ادب میں اپنی ایک اہمیت ہے ۔اس روایت کو آگے بڑھانے میں بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ نے زبان و بیان کا ایک نمونہ پیش کیا اور ان کے خطوط بھی اُردو ادب کا اہم اثاثہ بن گئے اس میدان میں بھی بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ نے اپنا الگ مقام بنایا ۔بابائے اُردو کی پوری زندگی اُردو کے فروغ کی جدوجہد میں گزری ،انجمن ترقی اُردو دارالترجمہ اور جامعہ عثمانیہ پر بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ کا بڑا قرض ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور یہاں انجمن ترقی اُردو کے دفتر کے قیام کے ساتھ ہی اُردو کے نفاذ اور اُردو یونیورسٹی کے قیام کی جدوجہد بھی شروع کردی ۔بابائے اُردو مولوی عبدالحق ؒ پاکستان کی تشکیل اور یکجہتی کو اُردو سے وابستہ دیکھتے تھے ۔بابائے اُردومولوی عبدالحق کی تحریک ایک بامقصد تحریک تھی خاص طور پر پاکستان میں اُردو کی اہمیت اور ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ایک سو سال قبل بابائے اُردو ڈاکٹرمولوی عبدالحقؒ نے جو نظریہ قائم کیا تھا وہ آج بھی سچ ثابت ہورہا ہے۔ اُردو ہمارے ملک کی یکجہتی کے لئے ضروری ہے ۔

زمانہ قدیم میں بھی بیشتر معاشرے ایک سے زیادہ زبانیں استعمال کرتے تھے ۔انگریزی آج ایک عالمی زبان ہے اور ہمیں عالمی رابطوں کے لئے انگریزی جاننا ضروری ہے مگر اُردو کو انگریزی کی اہمیت کے ساتھ پلڑے میں تولا جائے تو اُردو کا پلڑا انگریزی سے بہت بھاری ثابت ہوگا۔
اُردو ہماری قومی یکجہتی کی ضمانت ،قومی ترجمان ، سماجی ، معاشی ،تہذیبی اور مذہبی حلقوں کی بھی ترجمانی کرتی ہے ۔ہمارے ملک میں ہر قومی گوشے میں اُردو کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ اُردو مقامی زبانوں اور بولیوں کی سب سے بڑی معاون ہے وہ ان کی بھی ترجمانی کرتی ہے ۔ان تمام کاوشوں اور ملک میں اُردو کالج سےوفاقی جامعہ اُردو کے قیام اور انجمن ترقی اُردو کی شاندار ترقی کا سہرا بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کے سر جاتا ہے ان کی اُردو کے لئے خدمات ،کاوشوں اور مصائب کو برداشت کرنے کی تاریخ بہت طویل ہے ۔آج بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی57 ویں برسی ہے ۔ بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا لگایا گیا پودا” اُردو کالج“ ان کی وفات کے بعدمحترم جمیل الدین عالی مرحوم و دیگر کی شب و روز مخلصانہ انتھک عملی کاوشوں کی بدولت اُردو یونیورسٹی کے تناور درخت کا روپ دھار چکا ہے۔ اس کے علاوہ ”اُردو باغ“ کی عمارت بھی تعمیر ہوچکی ہے ۔علم کی ان درسگاہوں سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھا کر ملک و قوم کے مستقبل کو روشن بنانے میں مخلصی سے شب وروز مصروفِ عمل ہیں۔اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی جدوجہد سے سبق حاصل کر کے عمل کرنے اور قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کے مطابق پاکستان بھر میں اُردو کو قومی و سرکاری سطح پر رائج کرکے” قومی یکجہتی “کو مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین اور بابائے اُردوڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق

August 11, 2018

پاکستان میں نظر نہیں آئے گا،سال 2018 کا تیسرا اور آخری جزوی سورج گرہن ، احتیاطی تدابیر

کراچی : جدت ویب ڈیسک ::سال 2018 کا تیسرا اور آخری جزوی سورج گرہن آج ہوگا، پاکستان کے عوام سورج گرہن کے مناظر دیکھنے سے محروم رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال آج تیسری اور آخری بار سورج کو گرہن لگے گا، جو پاکستان میں نہیں نظر آئے گا جبکہ آسٹریلیا، انٹارکٹیکا، کینیڈا، شمال مشرقی ایشیا، شمالی یورپ، گرین لینڈ اور روس کے شمالی علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج ہونے والا سورج گرہن جزوی ہوگا، سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجکردو منٹ پر ہوگا، جس کا اختتام چار بجکر اکتیس منٹ پر ہوگا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق 2018 میں ایک بار بھی مکمل سورج گرہن نہیں دیکھا جا سکے گا جب کہ دو جولائی 2019 کو ہونے والا سورج گرہن مکمل ہوگا۔یاد رہے رواں برس کا پہلا جزوی سورج گرہن سولہ فروری جبکہ دوسرا تیرہ جولائی کو دیکھا گیا تھا۔
سورج گرہن کب ہوتا ہے؟
سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے لیکن چونکہ سورج کا فاصلہ زمین سے چاند کے فاصلے کے مقابلے میں چار سو گنا زیادہ ہے، اس لیے سورج چاند کے پیچھے مکمل یا جزوی طور پر چھپ جاتا ہے۔
صدی کے طویل ترین چاند گرہن کا آغاز
یاد رہے 27 جولائی 2018 کی شب کو اس صد ی کا طویل ترین چاند گرہن رونما ہوا ، جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ 43 منٹ تھا، چاند گرہن کا نظارہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال اگست میں امریکا میں سو سال بعد پہلا مکمل سورج گرہن ہوا تھا اور پورا سپر پاور اندھیرے میں ڈوب گیا، سورج گرہن دیکھنے کے لئے سیکڑوں مقامات پرخصوصی انتظامات کئے گئےتھے، ماہر نجوم نے اسے امریکہ کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔وہ افراد جو سورج گرہن کے دوران سیلفی لینا چاہتے ہیں وہ اس سے پرہیز کریں کیونکہ ماہرین امراض چشم کے مطابق سورج گرہن کے دوران سیلفی کھینچنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج کی بنفشی شعاعیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ آنکھ کی پتلی کو جلاسکتی ہیں جس کے سبب آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے یہاں تک کہ بینائی بھی جاسکتی ہے۔برطانوی کالج برائے امراض چشم کے ماہر ڈینیئل ہارڈی مین کا کہنا ہے کہ سیلفی لینے کے دوران خود کو کیمرے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں آنکھ کا براہ راست سورج سے رابطہ ہونے کا اندیشہ ہے جس کے اثرات انسانی آنکھ پر انتہائی مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔فرانسیسی ادارے کے مطابق کیمرے کے ذریعے سورج گرہن کو دیکھنے کی کوشش بھی انسانی آنکھ کے لئے ضرر رساں ہے۔
سورج گرہن براہ راست دیکھنے سے پرہیز
سورج گرہن براہِ راست دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ اس سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
سورج گرہن کے موقع پر لوگوں کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے اور روز دیا جاتا ہے کہ یہ منظر دیکھنے کے لیے خاص قسم کے چشمے، دوربینیں اور دوسرے آلات کا استعمال کریں۔ سیلفی لینے سے پرہیزوہ افراد جو سورج گرہن کے دوران سیلفی لینا چاہتے ہیں وہ اس سے پرہیز کریں کیونکہ ماہرین امراض چشم کے مطابق سورج گرہن کے دوران سیلفی کھینچنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

August 9, 2018

ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کی قبل از وقت پیش گوئی کرنے کے لیے سسٹم ایجاد

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان میں ٹیلنٹ کی کو ئی کمی نہیں،ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کی قبل از وقت پیش گوئی کرنے کے لیے سسٹم ایجاد، گزشتہ ایک دہائی سے ڈینگی کا موذی مرض ہر سال اپنی تباہ کاریوں سے ہمارے ہم وطنوں کو نشانہ بناتا رہا ہے، کریبیئن انسٹی ٹیوٹ فار میٹرولوجی اینڈ ہائیدرولوجی کے شماریاتی ماڈل کے ذریعے دو سے تین ماہ قبل پیشن گوئی کی جاسکتی ہے کہ کس علاقے میں ڈینگی کی وبا پھوٹے گی، اور پیشگی حفاظتی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حال ہی میں کریبیئن انسٹی ٹیوٹ فار میٹرولوجی اینڈ ہائیدرولوجی نے ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کی قبل از وقت پیش گوئی کرنے کے لیے ایک شماریاتی ماڈل بنایا ہے جس کی بنیاد پچھلے چند برسوں میں کسی مخصوص علاقے کے درجہ حرارت میں اضافے اور وہاں بارشوں کی سالانہ اوسط پر رکھی گئی ہے۔
اس ماڈل پر کام کرنے والے محققین نے برازیل اور اطراف کے ممالک کے لیے 1999ء سے 2016ء تک درجہ حرارت اور بارشوں کی اوسط کا ایک شماریاتی ڈیٹا تیار کرکے یہ پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 3 ماہ میں کن کن علاقوں میں ڈینگی کی وبا پھوٹ پڑنے کا امکان ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ان علاقوں کے لیے زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے جہاں مختصر یا طویل المدت خشک سالی کے بعد بارشوں کا آغاز ہوا ہو، جو عموماً کئی ماہ لگاتار جاری رہتی ہیں اور سیلاب کا سبب بنتی ہیں، کیوں کہ سیلاب کا پانی اترتے ہی یہ وبائی امراض بہت تیزی سے پھوٹ پڑتے ہیں۔
محققین کے مطابق یہ شماریاتی ماڈل کسی بھی ملک کی پبلک ہیلتھ پالیسی بنانے میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعے نہ صرف ڈینگی بلکہ دیگر وبائی امراض کے پھیلنے کے رسک کو کم کیا جاسکتا ہے۔
یہ ماڈل پاکستان میں ایک ہیلتھ پالیسی اور ڈیزاسٹر اسٹریٹجی بنانے میں بہت معاونت کرسکتا ہے جہاں لاہور و کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی نکاسی آب کا درست انتظام نہیں اور معمول سے تھوڑی زیادہ بارشیں ہوتے ہی پورے شہر دریا کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں جبکہ گنجان آبادی والے علاقوں میں کئی کئی روز بارش کا پانی کھڑا رہنے کے باعث مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔
اگر 1995ء یا اس کے بعد کسی بھی سال سے شماریاتی ڈیٹا تیار کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ابتداء میں ڈینگی کے زیادہ تر کیسز صوبہ بلوچستان میں سامنے آئے تھے جہاں وقتاً فوقتاً طویل یا مختصر المدت خشک سالی کے اوقات اب معمول بن چکے ہیں جبکہ 2018ء میں یہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں بارشوں کی قلت کے باعث خشک سالی جڑیں پکڑتی جارہی ہے۔
شماریاتی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ پیش گوئی کرنا آسان ہوگا کہ اگلے چند ماہ یا 2019ء میں کون سے صوبے یا مخصوص علاقوں کو ان وبائی امراض کے حملے کا سامنا رہے گا۔ اس ماڈل کی بنیاد پر ہر صوبے میں ایک ارلی وارننگ سسٹم بھی بنایا جاسکتا ہے جو ہر طرح کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور مقامی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہو تاکہ پانی کے ذخائر اور درجہ حرارت کے حوالے سے مسلسل معلومات ملتی رہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر 2 سے 3 ماہ پہلے وارننگ جاری کی جائے اور مقامی افراد کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنے اطراف میں صفائی وستھرائی کا بھرپور انتظام کرتے ہوئے باقاعدگی سے جراثیم کش سپرے کریں، پانی کے ذخائر کو آلودہ اور بدبودار ہونے سے بچایا جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش نسل کو روکا جا سکے۔
صحت سے متعلق پالیسی بنانا یقیناً حکومت کا کام ہے مگر جب تک مقامی آبادی ان پالیسیوں میں عمل درآمد میں حکومت کی معاونت نہیں کرے گی تب تک یونہی ہر برس ڈینگی، چکن گونیا اور زیکا وائرس سمیت دیگر وبائی امراض نئے مقامات پر حملے کرکے اسی طرح تباہی پھیلاتے رہیں گے
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2016ء میں 16 ہزار 580 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے، جن میں سے 257 کی صرف لاہور میں موت واقع ہوئی تھی۔ 2017ء میں یہ اعداد و شمار اچانک ہولناک شکل اختیار کرگئے اور پورے ملک سے 78 ہزار 820 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے صرف 17 ہزار 828 افراد کی لیبارٹری سے تصدیق ہوسکی، مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ برس زیادہ تر کیسز پنجاب کے بجائے خیبر پختونخوا سے سامنے آئے جن کی تعداد 68 ہزار 142 تھی۔

Image result for pakistan Dangi system

August 6, 2018

فخر پاکستان عمران خان کے بارے میں حیرت انگیز مضمون پڑھیے

جدت ویب ڈیسک ::عمران خان !اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیں۔ بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی 50 بڑی اور برطانیہ کی ٹاپ 10 اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے- 2005 میں یونیورسٹی کو چانسلر کی ضرورت تھی- پوری دنیا سے 100 سے زیادہ سکالرز اور بزنس مینیجرز کو بلایا گیا –جس میں زیادہ تعداد برطانیہ، امریکا اور جرمن سکالرز کی تھی –اس لسٹ میں پاکستان اور انڈیا میں سے صرف ایک بندے کو بلایا گیا – سلیکشن سے پہلے جرمن سائنٹسٹ کو چانسلر کی سیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا – مگر تمام کہانی اس وقت تبدیل ہوئی جب ٹیلنٹ ” لیڈرشپ ” ماڈرن اسٹڈیز ” پر بحث میں پاکستان نژاد نے دوسرے تمام امیدوار کو پیچھے چھوڑ دیا- اس ہال میں بریڈفورڈ کے تمام ڈائریکٹرز کھڑے ہو کر تالیاں مارنے اور داد دینے پر مجبور ہو گئے – تب جرمن سائنٹسٹ اس سکالر کے پاس آیا اور کہا اس پوسٹ پر تم مجھ سے زیادہ قابل بندے ہو-کابینہ کی اکثریت نے اس سکالر کو منتخب کر لیا – اور کہا، “بولو کتنی تنخواہ لو گے؟”اس نے تاریخی کلمات بولے: “میں یہاں بزنس کے لیے نہیں آیا – اور بولا تعلیم اور پیسے کا ایک دوسرے سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا- میں ایک ایسے ملک سے ہوں جہاں لوگوں کو تعلیم کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں- ہمارے پیسے والے لوگ دوسرے ممالک میں جا کے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں- جب کہ غریب لوگ اپنے دل میں حسرت لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں- یہ ہی وہ خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا فرق دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے- میری زندگی کی خواہش ہے میرے ملک کے وہ لوگ جو دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اچھی تعلیم حاصل کریں اور بریڈفورڈ جیسی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر سکیں- اس لیے میں بریڈفورڈ یونیورسٹی پھر ہی جوائن کر سکتا ہوں اگر آپ مجھے میرے ملک کے لیے یہ سہولت دیں”۔کابینہ کے تمام ارکان اس بات سے حیران رہ گئے – کابینہ کی اکثریت اس فیصلہ کے خلاف تھی اور کہا: “ایسا ممکن نہیں کہ ہم پاکستان میں اپنی ڈگری متعارف کروائیں”سکالر کہنے لگا، “پھر آپ پاکستان کا بندہ بریڈفورڈ کا چانسلر کیوں لگا رہے ہو؟”- بات یہاں آ کر رک گئی اور وہ سکالر اٹھ کے چلا گیا۔بعد میں کرس ٹیلر نے اپنی کابینہ کو کہا، “اس بندے کو ایسے مت جانے دو اس میں کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے- جو بندہ اپنے ملک کا وفادار ہو اور کچھ کرنے کا عزم ہو وہ کام بھی ہمیشہ اچھا کرتا ہے اور پیسے کا لالچ نہیں کرتا۔ آپ اس کی بات مان لیں-“کابینہ نے اس سکالر کو واپس بلایا اور کہا آپکی تمام باتیں منظور ہیں آپ پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں کیمپس بنا سکتے ہیں وہ اسکالر 9 سال تک بریڈفورڈ کا چانسلر رہا ہے- 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کے کوئی بندہ اتنے زیادہ عرصے کے لیے چانسلر بنا رہا اس دوران اس نے پاکستان میں نمل یونیورسٹی بنائی جس میں پڑھنے والے طالب علموں کو وہی ڈگری ملتی ہے جو برطانیہ میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کرنے والوں کواس کا نام عمران خان ہے اور وہ منافق خان، طالبان خان یہودی ایجنٹ اور غدار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے- مگر میں اپنی زندگی میں ایسا پہلا منافق بندہ دیکھ رہا ہوں جو پیسے کا لالچ نہیں کرتا اور ایسا پہلا غدار دیکھ رہا ہوں جو ملک کے باہر جا کے بھی پیسے پر اپنے ملک کو ترجیح دے۔ (ماخوذ)جن ذہنی غلاموں کو یہ بات جھوٹ لگے، لنک پیش ہے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا

http://www.bradford.ac.uk/about/chancellor/former-chancellors/imran-khan/