August 29, 2020

سرائے عالمگیر کے رنگا رنگ موڑھے کیسے بنتے ہیں؟

چاچا سراج دین کے مطابق ‘ان موڑھوں اور سجاوٹی اشیاء کے ان کے کاروبار کا سفر فیروز پور انڈیا سے شروع ہوتا ہے اور قصور کے راستے 55 سال قبل سرائے عالمگیر پہنچتا ہے۔’ اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے بعد پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان سمجھے جانے والے رنگارنگ موڑھے اور دلکش خوبصورت دھاگوں اور شیشوں سے مزین مختلف سجاوٹی اشیاء کی دکانیں نظر آئیں گی۔
یہ دکانیں ایک زمانے میں بہت بڑی تعداد میں تھیں۔ اب اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگئی ہے لیکن وہ سرائے عالمگیر کی مستقل پہچان بن چکی ہیں۔
سرائے عالمگیر پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر کا مرکزی قصبہ ہے۔ جو دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 575 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ شہر کے مشرق میں نہر اپر جہلم ہے
مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرنے جی ٹی روڈ اور دریائے جہلم پر واقع سٹریٹجک محل وقوع اور کشمیر سے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سرائے قائم کی تھی اور اسی کی نسبت سے اس کا نام بھی سرائے عالمگیر پڑگیا۔
یہ تو سرائے عالمگیر کا تعارف اور تاریخ ہے لیکن اس شہر کے بیچوں بیچ گزرتے جی ٹی روڈ پر واقع روائتی موڑھوں کی دکانیں بھی اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔
موڑھوں کی ایک دکان کے مالک چاچا سراج دین کے مطابق ‘ان موڑھوں اور سجاوٹی اشیاء کے ان کے کاروبار کا سفر فیروز پور انڈیا سے شروع ہوتا ہے اور قصور کے راستے 55 سال قبل سرائے عالمگیر پہنچتا ہے۔
چاچا سراج دین نے بتایا کہ سرائے عالمگیر سے جہلم جانے والے پرانے راستے جس کے ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے پر جائیں تو وہاں ان کے کاروبار سے متعلق خام مال تیار کرتے بچے بوڑھے اور جوان ملیں گے۔ ان سب کے آباو اجداد انڈیا سے ہجرت کرکے قصور آئے تھے لیکن وہاں مزدوری نہ ہونے کے باعث یہاں آگئے کیوں کہ دریائے جہلم کے ساتھ  بیلے اور جنگل میں سے سر اور کانا اور مسجدوں کی صفیں تیار کرنے کے لیے ڈب آسانی سے بلا روک ٹوک کاٹنے کو مل جاتا ہے۔
دکان کے پچھلے حصے میں کاریگر امداد علی موڑھے بنانے میں مصروف تھے۔ انھوں نے اپنا تعلق بھی قصور سے بتایا اور کہا کہ وہ عرصہ 18 سال سے موڑھے بنا رہے ہیں ویسے تو کبھی انھوں نے گنتی نہیں رکھی تاہم اس عرصے میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دکان کے مالک میٹریل یعنی کانا (بانس سے ملتا جلتا پودا جو سائز میں بہت پتلا اور چھوٹا ہوتا ہے)، سر (اسی پودے سے بننے والے تنکے) اور دیگر میٹریل مزدوروں سے خریدتے ہیں۔ مزدور یہ سب جنگل سے کاٹ کر لاتے ہیں اس کی صفائی کرتے ہیں اور پھرفروخت کرتے ہیں۔
موڑھا تیار کرنے کے لیے سائز کے لحاظ سے کٹائی کرتے ہیں اور پھر اسے ڈوری سے ایک ایک کانا جوڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔ ایک موڑھا تیار کرنے میں کم از کم چار گھنٹے لگتے ہیں جس کے بعد ریکسین یا کپڑا لگانے والے کا کام شروع ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو روپے مزدوری لیتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ‘ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈیرے دار شخص کو دس موڑھے بنا کر دیے تو دس سال بعد وہ واپس آیا اور میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دس سال پہلے والے موڑھے ابھی تک اسی حالت میں ہیں۔ اب نئے بنا کر دو ہمیں بہت پسند ہیں۔ میں
اسی دکان میں موجود ایک اور کاریگر محمد بلال نے فینسی شیشے، شو پیس، مہندی والی ٹوکریاں اور ہاتھ کے پنکھے بنانے کے بارے میں بتایا۔
 سرائے عالمگیر سے گزرنے والی ریلوے لائن کے سامنے خالی جگہ اور گھروں کے سامنے موڑھوں اور ان روائتی چیزوں میں استمال ہونے والی اشیا ’ کانوں، سر‘ اور ’ڈب‘ کے ڈھیر لگے پڑے رہتے ہیں۔
بارشوں کے موسم میں یہاں کام میں تعطل آ جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ پورا سال ہر گھر کے کم و بیش تمام افراد یہ اشیا بنانے کے کام میں جتے رہتے ہیں۔ کچھ ’کانوں‘ (بانس نما پودے) کی چھلائی کرتے ہیں، کچھ مسجدوں کی صفیں بناتے ہیں تو کوئی چیکیں (برآمدوں اور دالانوں کے باہر لگایا جانے والا پردہ)  بناتے ہیں۔ یہ چیزیں تیار کرکے وہ جی ٹی روڈ پر دکانداروں کو تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔
یہاں موجود ایک بزرگ محمد اکبر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ‘ہم انڈیا میں فروزپور رہتے تھے۔ تقسیم کے بعد قصور آئے اور گنڈا سنگھ بارڈر سے ڈب وغیرہ کاٹ کر صفیں اور پھوہڑ بناتے تھے۔ 65 کی جنگ کی وجہ سے قصور چھوڑنا پڑا اور سرائے عالمگیر آکر ڈیرے ڈالے۔
 ان کا کہنا تھا کہ بھٹو دور میں انہیں یہاں گھر بنانے کے لیے  پانچ پانچ مرلے زمین الاٹ ہوئی تھی جس کے بعد وہ یہاں مستقل طور پر مقیم ہوگئے)
‘ہم گھر کے سارے افراد یہی کام کرتے ہیں۔ بڑے کانے اور ڈب کاٹ کر لاتے ہیں۔ چھوٹے صفائی کرتے ہیں۔ پھوہڑ بناتے ہیں، چیکیں بناتے ہیں اور سرکیاں تیار کرتے ہیں۔ آٹھ سال کی عمر کے بچے سے لے کر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سب یہی کام کرتے ہیں۔ اب چونکہ صفوں کا
کام ختم ہوتا جا رہا ہے تو ساتھ میں مستریوں کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑ جاتی ہے۔’
PatioStack Bamboo Outdoor Sitting Chair Furniture Set for Garden / Terrace / Lawn and Living Room [ 2 Chair, Size :18*18*36 ]: Amazon.in: Home & Kitchen
تاہم زمانے کی بدلتی روایات اور ضروریات کے تحت محمد اکبر کو اپنا ہنر ڈوبتا نظر آ رہا ہے۔
۔’ہماری ساری عمر یہی کام کرتے گزر گئی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ موڑھوں کی جگہ پلاسٹک کی کرسیوں نے لے لی ہے جبکہ صفوں کی جگہ کارپٹ اور چٹائیاں آگئی ہیں۔  وسائل اور علم کی کمی کے باعث ہم اپنے روائتی کام کو زیادہ جدت بھی نہیں دے سکے۔ اس لیے ہمیں مستقبل قریب میں یہ کام معدوم ہوتا نظر آتا ہے۔Natural Geo Moray Decorative Handwoven Jute Accent Stool – Natural Geo Home Furnishings
July 30, 2020

سوئزرلینڈ کی کمپنی نے کورونا کش جینز تیار کرلی ،ڈینم99.99 کامیابی سے کورونا وائرس کو تلف کرسکتا ہے

جنیوا: ویب ڈیسک ::دعوے کے مطابق وائروبلاک این پی جے 03 پر وائرس پہنچتے ہی صرف چند منٹوں میں ہلاک ہوجاتا ہے ، ساتھ ہی یہ بہت سے جراثیم اور بیکٹیریا مارنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس طرح یہ لباس وائرس کو ختم کرکے اس کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکتا ہے۔کورونا وائرس کی تباہ کاریاں ایک طرف تو دوسری جانب کمپنیاں اس سے لڑنے کے نت نئے طریقوں پر کام کررہی ہیں۔ اب سوئزرلینڈ کی ایک فرم نے کورونا وائرس کا تدارک کرنے والی جینز بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈینم99.99 کامیابی سے کورونا وائرس کو تلف کرسکتا ہے۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا لباس دھونے کے بعد بھی اس کی وائرس کش صلاحیت برقرار رہے گی۔ کمپنی کے مطابق ڈینم کی تیاری کے وقت اس میں جو کیمیائی عمل کیا گیا ہے وہ کپڑے کو 30 منٹ دھونے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے جس کا عملی تجربہ کیا گیا ہے۔
ہائی کیو نامی سوئس کمپنی نے اس ڈینم کو وائروبلاک این پی جے 03 کا نام دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اگرچہ لباس پر کورونا وائرس زندہ رہ سکتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے مطابق نئی ڈینم کو کئی تجربات سے گزارا گیا ہے اور اس میں کورونا جراثیم ختم کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔
سب سے پہلے اسے ایک قسم کے کورونا وائرس 229 ای کو پوشاک پر آزمایا گیا ۔ کورونا کش بنانے کے لیے انہوں نے چاندی کے نمک اور ہوا بھرنے والی ایک ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔ حال ہی میں اس کمپنی نے کووڈ 19 کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کو بھی کپڑے پر آزمایا اور لباس نے وائرس کا قلع قمع کردیا۔
دعوے کے مطابق وائروبلاک این پی جے 03 پر وائرس پہنچتے ہی صرف چند منٹوں میں ہلاک ہوجاتا ہے ، ساتھ ہی یہ بہت سے جراثیم اور بیکٹیریا مارنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس طرح یہ لباس وائرس کو ختم کرکے اس کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکتا ہے۔
اس لباس پر ڈوہرٹی انسٹی ٹیوٹ میں کئی تجربات کئے گئے ہیں لیکن جب کورونا وائرس کی ایک کالونی اس پر ڈالی گئی تو ان کی 99 فیصد مقدار ختم ہونے میں کل 30 منٹ لگے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈینم نصف گھنٹے میں کورونا وائرس کو تلف کرسکتی ہے۔ہائی کیو کمپنی کے سی ای او کارلو سینٹونز نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے کورونا وائرس سے بچاؤ کا لباس کامیابی سے تیار کیا ہے جس سے عالمی سطح پر اس وائرس سے بچنے میں بہت مدد ملے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وائرس تلف کرنے والی یہ وائروبلاک ٹیکنالوجی ہر قسم کے کپڑوں پر استعمال کی جاسکتی ہے۔ ان میں بیڈ شیٹ کا کپڑا، ماسک، تولیے اور مزدوروں کا لباس بھی شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سب سے زیادہ ان ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے مفید ہے اور انہیں وائرس کا نوالہ بننے سے بچاسکتی ہے۔ اسی بنا پر کئی اداروں نے وائروبلاک ٹیکنالوجی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

HeiQ Viroblock NPJ03 antiviral textile technology tested effective ...

July 28, 2020

کیا آپ جانتے ہیں “الخالد” ٹینک اسلامی دنیا کے کس عظیم اور نڈر سپاہی سے موسوم ہے؟

ویب ڈیسک ؛؛“الخالد”( ٹی 90 ٹینک) اسلامی دنیا کے عظیم سپہ سالار اور جرنیل حضرت خالد بن ولیدؓ سے موسوم ہے جسے پاکستان میں ٹیکسلا کی ہیوی ری بلڈ فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا۔

چین کے اشتراک سے تیار کردہ اس ٹینک کو پاکستانی انجینئروں نے ڈیزائن کیا تھا۔ آئیے ہم اس ٹینک کے بارے میں‌ آپ کو چند اہم اور بنیادی باتیں بتاتے ہیں۔اس ٹینک کی تقریبِ رونمائی ہوئی تو معلوم ہوا کہ الخالد کا وزن 48 ٹن اور اس میں 12 سو ہارس پاور کا انجن لگا ہوا ہے۔الخالد میں لگی ہوئی توپ دو کلو میٹر کے فاصلے پر حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو نشانہ بناسکتی ہے۔

اس ٹینک میں‌ طیارہ شکن توپ بھی نصب ہے۔ الخالد کے 65 فی صد پرزے ملک میں تیار کیے گئے تھے اور ٹینک پر 15 لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔ ٹینک کی تیاری کے منصوبے کی تکمیل میں تین سال لگے۔جنگ کے میدان میں‌ جہاں ہمارے شیر دل جوان ہر محاذ پر پیش قدمی کرتے ہیں، وہیں جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل مختلف ہتھیار اور مشینیں بھی ان کی مدد گار ہوتی ہیں اور الخالد ٹینک انہی میں سے ایک ہے۔

Al-Khalid tank - Wikipedia

May 2, 2020

صحتیابی کے بعد بھی کورونا وائرس پھیپھڑوں میں رہنے کا انکشاف

نیویارک جدت ویب ڈیسک : سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کی گہرائی میں یہ وائرس موجود ہوسکتا ہے۔جریدے جرنل سیل ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر اسی وجہ سے کچھ مریضوں میں صحتیابی کے بعد اس وائرس کی دوبارہ تشخیص ہوتی ہے۔چین کی آرمی میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلی بار پھیپھڑوں میں اس وائرس کے ذرات موجود رہنے کے شواہد ملتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مریض میں، جس کے 3 مسلسل ٹیسٹ نیگیٹو آئے تھے۔تحقیق کے نتائج ایک 78 سالہ مریضہ کے پوسٹمارٹم سے مرتب کیے گئے جو کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں اور ان کا علاج ہوا۔علاج کے بعد وہ صحتیاب ہوگئیں اور 3 بار ٹیسٹوں میں نیگیٹو نتائج سامنے آئے تھے مگر ایک دن بعد اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کی موت واقع ہوگئی۔موت کے بعد پوسٹمارٹم میں اہم اعضا جیسے دل، جگر اور جلد پر وائرس کے آثار نہیں ملے مگر اس کی کچھ اقسام پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کی گئیں۔یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا اور چین میں اس وائرس سے صحتیاب ہونے والے متعدد افراد کے دوبارہ ٹیسٹوں میں اس کی تصدیق ہوگئی تھی۔درحقیقت کچھ افراد میں تو ابتدائی نیگیٹو ٹیسٹ کے 2 ماہ بعد وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔وائرس کے شکار افراد میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہونے پر کافی کام کیا جارہا ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لاک ڈاؤن کے بعد ممالک کو کھولنے کی کنجی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود نہیں کہ ایک بار وائرس کا شکار ہونے کے بعد متاثرہ فرد دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتا۔اس چینی تحقیق میں شامل ٹم کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے بارے میں فوری طور پر جاننے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل مارچ میں امریکا کے جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے ایک مریض کے پھیپھڑوں کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر شیئر کی گئی تھی جس میں پھیپھڑوں کے صحت مند ٹشوز کو نیلے جبکہ وائرس سے متاثر ٹشوز کو زرد رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ہسپتال کے چھاتی کی سرجری کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر کیتھ مورٹمین نے بتایا پھیپھڑوں کے وائرس سے متاثرہ اور صحت مند ٹشوز کا امتزاج چونکا دینے والا ہے، درحقیقت اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھنے کے لیے نام کے ساتھ طبی ڈگری کی ضرورت نہیں کہ پھیپھڑوں کو ہونے والا نقصان کسی ایک حصے تک محدود نہیں، درحقیقت دونوں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔اس سے قبل مارچ کے وسط میں ہاکنگ کانگ میں طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ ہاسپٹل اتھارٹی نے یہ نتیجہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے ابتدائی مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد نکالا۔ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ 12 میں سے 2 سے تین مریضوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش میں تبدیلیاں آئیں۔ہسپتال کے انفیکشیز ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان افراد کا سانس کچھ تیز چلنے پر پھول جاتا ہے ، مرض سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرض کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے مگر 9 مریضوں کے پھیپھڑوں کے اسکین میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا، جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے مزید ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا ان کے پھیپھڑوں کے افعال اب کس حد تک کام کررہے ہیں جبکہ پھیپھڑوں کی مضبوطی کے لیے فزیوتھراپی کا انتظام بھی کیا جائیگا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت یاب مریض مختلف ورزشوں جیسے سوئمنگ سے اپنے پھیپھڑوں کو بتدریج مکمل صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔بعد ازاں چین میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر مرض کی شدت زیادہ ہو تو مریضوں کے پھیپھڑوں میں عموماً سیال جمنے لگتا ہے جو نمونیا کے کیسز سے ملتا جلتا نظر آتا ہے اور اسے سی ٹی اسکین کے ذریعے پکڑا جاسکتا ہے، جس میں پھیپھڑوں پر سفید نشان نظر آتے ہیں، جسے ڈاکٹر گرائونڈ گلاس کہتے ہیں۔ووہان (چین کا وہ شہر جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا)کے ٹونگ جی ہاسپٹل کی تحقیق میں سیکڑوں مریضوں کے سینے کے سی ٹی اسکینز کا جائزہ لیا گیا۔جریدے جرنل ریڈیولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق تجزیے سے گرائونڈ گلاس انفیکشن کے بارے میں علم ہوا، یعنی پھیپھڑوں میں ہوا کی گزرگاہیں سیال بھر گئیں جبکہ پھیپھڑوں کے ننھے خانوں (جو آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ مالیکیولز کا تبادلہ دوران خون سے کرتے ہیں)، کو نقصان پہنچتا ہے۔یہ گرائونڈ گلاس سی ٹی اسکین میں دھندلے قطرے کی شکل میں نظر آتے ہیں، جو مرض بدتر ہونے پر شکل بدلتا ہے، جیسا آپ نیچے سی ٹی اسکین میں چھوٹے زرد تیروں میں دیکھ سکتے ہیں۔یہ سیال صرف کورونا وائرس کے لیے مخصوص نہیں بلکہ متعدد اقسام کے انفیکشنز اور پھیپھڑوں کے امراض میں بھی دریافت ہوتا ہے، مگر کووڈ 19 میں اس کی ساخت اور تقسیم مخصوص ہوتی ہے۔اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور دریافت کیا کہ ان کے سینے کا سی ٹی اسکین لیب ٹیسٹ کے مقابلے میں کووڈ 19 کی تشخیص کا موثر ترین ذریعہ ہے۔کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیاں نمونیا کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں سانس لینے میں مشکل، جسم میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور کھانسی جیسی شکایات ہوتی ہیں، بتدریج پھیپھڑے دوران خون سے مناسب مقدار میں آکسیجن جذب کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

April 20, 2020

سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے، امریکی ماہرین

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی ماہرین کے مطابق سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سورج کی تپش کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو سکے گا جبکہ امریکی محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر مطبوعہ معلومات پر بات نہیں کر سکتے۔ جس سے لوگ غلط اور غیر حقیقی نقطہ نظر قائم کریں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بھی کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں ہے۔واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اب تک کورونا کی وجہ سے 40 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 7 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد چوبیس لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور چھ لاکھ پندرہ ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔گزشتہ روز امریکی صدر نے امریکہ کی تین ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) لاک ڈاؤن میں نرمی کو بھی خطرناک قرار دے رہا۔

April 16, 2020

کررونا وائرس کیسے اور کہاں ،کب بنا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے تحقیق شروع کردی

دنیا کے 190 کے قریب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وبا کورونا وائرس سے 16 اپریل کی صبح تک 20 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد متاثر جب کہ ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے مگر بدقسمتی سے اب تک دنیا کی بہت بڑی آبادی اس وبا کے حوالے سے مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
مذکورہ وبا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک اس کے حوالے سے سازشی اور جھوٹی تھیوریز سامنے آتی رہی ہیں جب کہ امریکا اور چین کی حکومتیں بھی اس وبا کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگاتی رہی ہیں۔
جہاں امریکا نے کورونا وائرس کو چینی وبا قرار دیا، وہیں چین نے بھی امریکا پر الزام لگایا کہ دراصل امریکی فوج ہی ابتدائی طور پر کورونا کو ان کے شہر ووہان لے آئی تھی مگر ایسے الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا اور یہ سب صرف بیانات اور میڈیا کی خبروں کی زینت تک محدود رہے۔
ماضی میں جہاں کچھ تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا کا وائرس چین کے شہر ووہان کی گوشت مارکیٹ سے شروع ہوا اور اس حوالے سے دو مختلف تحقیقات میں 2 مختلف دعوے کیے گئے تھے۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس 2 اقسام کے سانپوں یعنی چینی کوبرا اور کرایت سے شروع ہوا ہوگا اور پھر اسی مارکیٹ کا دورہ کرنے والے انسانوں میں یہ وائرس سانپوں کے ذریعے داخل ہوا ہوگا یا انہوں نے ان کا گوشت کھایا ہوگا۔
اس کے بعد سامنے آنے والی ایک اور تحقیق میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس چمگادڑ سے شروع ہوا ہوگا تاہم دوسری تحقیق کے ماہرین بھی اس بات پر متفق نظر آئے کہ کورونا شروع ووہان کی گوشت مارکیٹ سے ہی ہوا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔
مگر مذکورہ تحقیقات کے باوجود دنیا کے عام لوگ، بعض ماہرین اور سیاستدان بھی اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے، جس وجہ سے اب تک کورونا وائرس کے حوالے سے لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔
اگرچہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کو 11 مارچ 2020 کو عالمی وبا قرار دیا گیا، تاہم اس باوجود تاحال اس وبا کے حوالے سے کئی ممالک کے حکمران اور ماہرین مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور ایسے حکمرانوں اور ماہرین میں امریکی حکام بھی شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے چینی وائرس قرار دیتے رہے اور اس وبا کے حوالے سے چین کے خلاف ٹوئٹس بھی کرتے رہے۔
امریکا کی جانب سے کورونا کو مسلسل چینی یا ووہان قرار دیے جانے کے بعد چین نے بھی بھی دعویٰ کیا کہ دراصل مذکورہ وائرس کو امریکی فوج ہی چین کے شہر ووہان لائی تھی۔
چین نے امریکی سینیٹ کے ایک اجلاس کی کارروائی کی ویڈیو کو بنیاد بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مذکورہ وائرس کو امریکی فوج چین کے شہر ’ووہان‘ لے کر آئی تھی۔
اس سے قبل چینی حکومت امریکا پر کورونا سے متعلق افواہیں اور خوف پھیلانے جیسے الزامات لگاتی آئی تھی۔
امریکا اور چین کی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے سیاستدان، مذہبی رہنما، ماہرین اور عام افراد کی رائے بھی کورونا سے متعلق متفرق دکھائی دی، جس وجہ سے بھی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا حکومتیں کے لیے مشکل بنتا گیا۔
یہی نہیں بلکہ کورونا وائرس کے حوالے سے اور بھی کئی دیگر سازشی نظریات سامنے آئے جس وجہ سے بھی دنیا کی بہت بڑی آبادی پریشانی کا شکار رہی۔
امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ نے تین دن قبل ہی اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ کورونا وائرس شروع ہونے سے 2 سال قبل ہی امریکی سائسندانوں اور ماہرین نے ووہان کی مذکورہ گوشت مارکیٹ اور ووہان کے بائیوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا تھا اور اس دورے کے دوران ماہرین کی جانب سے دیکھی گئی چیزوں کا تفصیلی احوال انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کو بھجوایا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق چین میں امریکی سفارتخانے کے تعاون سے امریکی ماہرین نے نہ صرف ووہان کی گوشت مارکیٹ کا دورہ کیا تھا بلکہ انہوں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی (ڈبلیو آئی وی) کا دورہ بھی کیا تھا جو کہ بائیوٹیکنالوجی کا ایک اہم ادارہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ماہرین کی جانب سے دورے کے بعد چین میں موجود امریکی سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کو مراسلے بھیجے تھے جس میں سفارتخانے نے ووہان میں وائرس جیسے امکانات کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور گوشت مارکیٹ سمیت بائیوٹیکنالوجی ادارے میں ہونے والی تحقیقات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان مراسلوں میں واضح طور پر نہیں لکھا گیا تھا کہ وہاں پر کسی وائرس کی تیاری کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اگرچہ 2018 میں ہی امریکی ماہرین نے ووہان میں وائرس کے شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم متعدد امریکی اداروں کے ماہرین نے دسمبر 2019 میں ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا جانے والا وائرس نہیں کہا۔
واشنگٹن پوسٹ کی طرح برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی مارچ میں اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ نام نہاد ماہرین کے کچھ گروپس ایسے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار ہوا، تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ وائرس چین نہیں بلکہ مغربی دنیا میں تیار ہوا، جسے بعد ازاں چین بھجوایا گیا۔
رائٹرز نے اپنی رپوٹ میں بتایا تھا کہ ایک گروپ کے دعوے کے مطابق معروف فلاحی ادارے بل اینڈ ملنڈا گیٹس نے انگلینڈ کے پربرائٹ انسٹی ٹیوٹ کو ایسے ہی کسی وائرس کے تیار کرنے کے لیے امداد فراہم کی تھی اور پھر انگلینڈ کے ادارے نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیا۔
رپورٹ میں ایک گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگرچہ اس دعوے کو کئی ماہرین، امریکی و برطانوی ادارے افواہ قرار دیتے ہیں، تاہم اس دعوے کے مطابق انگلینڈ کے ادارے نے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد کے تحت نہ صرف کورونا وائرس کو تیار کیا بلکہ اسے رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں اسی وائرس کو دوسرے ممالک کے اداروں کے ساتھ مل کر چینی شہر ووہان منتقل کیا گیا، تاہم اس دعوے پر بھی کسی مستند ادارے کو یقین نہیں اور کئی ماہرین ایسے دعووں کو سازشی تھیوری قرار دیتے ہیں۔
ایسے ہی متضاد دعووں کے بعد حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اشارہ دیا کہ امریکی حکومت کورونا وائرس کے لیبارٹری میں ممکنہ تیاری کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے محض 2 دن بعد اب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا؟۔
سی این این نے رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور نیشنل سیکیورٹی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی گوشت مارکیٹ سے نہیں پھیلا بلکہ اسے ممکنہ طور پر کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگرچہ امریکی حکومت کے زیادہ تر عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا تاہم پھر بھی اب حکومت اور خفیہ ادارے مل کر اس بات کی کھوج لگائیں گے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کی جانب سے کورونا کی ممکنہ طور پر لیبارٹری میں تیاری کی تحقیقات کے معاملے نے اس وقت تقویت پکڑی جب کہ امریکی صدر کے انتہائی قریبی اور ان کی پارٹی کے کچھ ارکان کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے امریکی صدر پر تنقید بے جا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت سے منسلک خفیہ ادارے کے عہدیدار نے بتایا کہ خفیہ ادارے کے ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا اور اسے اتفاقی طور پر انسانوں میں منتقل ہونے کے لیے چھوڑا گیا۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ خفیہ اداروں کے ماہرین اس تھیوری پر یقین نہیں رکھتے کہ کورونا کو لیبارٹری میں ہی تیار کیا گیا، تاہم خفیہ ایجنسی کے ماہرین یہ بات جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہیں لیبارٹری میں کام کرنے والے کسی شخص سے تو کوئی متاثر نہیں ہوا اور وہیں سے اس وبا کی شروعات ہوئی ہو۔
اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں ذرائع سے بتایا کہ امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ماہرین کو شک ہے کہ چین نے امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں۔
فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک ملی کے حوالے سے بتایا کہ کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مذکورہ معاملے کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں نہیں پتہ کہ سچائی کیا ہے لیکن ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ بھی کیا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے چینی حکومت دنیا سے شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کے حوالے سے بھی بدنیت ہے اور دیکھا گیا ہے کہ چینی حکومت شفاف انداز میں ڈیٹا کا تبادلہ نہیں کر رہی۔

April 12, 2020

چیونٹی پر تحقیق کے حیران کن نتائج ۔ سائنسی ماہرین

ویب ڈیسک  ::برلن: فرانس کے سائنسی ماہرین نے چیونٹی پر تحقیق کی جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔

غیرملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹولوس کے ماہرین نے چیونٹی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ مطالعے کے دوران چیونٹی کی ویڈیوز ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹی وہ کیڑا ہے جو معصوم ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو اپنی معصومیت سے پاگل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی خطروں سے نہ صرف سیکھتی ہیں بلکہ وہ کوئی بھی خطرناک کام کرنے سے گریز کرتی ہیں، جیسے وہ اگر ایک جگہ سے گزریں اور انہیں خطرہ محسوس ہو تو دوبارہ یہاں کا رخ نہیں کرتیں۔

ماہرین نے چیوٹی کو بہترین راستہ تلاش کرنے والا کیڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے پنجوں اور ڈنک کی مدد سے راستہ تلاش کرتی ہیں اور جاتے وقت واپسی کی نشانی بھی لگا کر جاتی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی کی ذہانت بھی کمال ہے وہ ہر چیز کو یاد رکھتی ہیں اور اسی کی مدد سے اپنے دیگر ساتھیوں کی بھی مدد کرتی ہیں، وہ اگر ایک راستے پر چل رہی ہوں تو خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے تبدیل کرلیتی ہیں

جرمنی کے تحقیقی ماہرین نے دنیا کی تیز رفتار چیونٹی تلاش کرلی جو ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کے ماہرین تیز رفتاری سے چلنے والے حشرات الارض اور کیڑے مکوڑوں کی تلاش میں تھے، اسی دوران انہیں صحرا میں سلور چیونٹی نظر آئی۔

ماہرین کے مطابق گاٹاگلیپس بمبی سینا نامی اس چیونٹی کا کوئی مدمقابل نہیں کیونکہ یہ ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق چیونٹی ایک سیکنڈ میں تقریباً 34 انچ آگے بھاگتی ہے، یہ بظاہر معمولی فاصلہ ہے مگر بمبی سینا کے لحاظ سے زیادہ ہے کیونکہ یہ  جسم سے 108 گناہ دور  کی مسافت بنتی ہے۔

ماہرین نے اس حوالے سے تقابلی رپورٹ بھی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر یوسین بولٹ اسی تناسب سے دوڑے تو وہ 60 منٹ میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق سلور چیونٹی کروڑوں سالوں سے صحرا میں موجود ہے اور اس نے یہیں برق رفتاری سے دوڑنا سیکھا۔

ماہرین کے مطابق ریگستان میں گرمی کی شدت کے باوجود گلیپس کو سورج کی تپش متاثر نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ وہ دن میں بھی دوڑتی نظر آتی ہے، لمبی ٹانگوں کی بدولت چیونٹی کا جسم گرم ریت پر نہیں لگتا اور قدرتی طور پر اس میں ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو گرمی برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ چیونٹیاں دن میں گھر سے نکلتے وقت چھوٹا راستہ اختیار کرتی ہیں تاکہ جلدی واپسی ہو، وہ سارا دن بل سے باہر آنا جانا لگاتی ہیں اور رات میں بالکل نظر نہیں آتیں۔

New research solves enigma in ant communication | School of Life ...

 

April 11, 2020

امریکا میں قیامت ڈھانے والے کورونا کی ابتدا ء یورپ میں ہوئی، تحقیق

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا الزام صد ڈونلڈ ٹرمپ چین پر عائد کرتے رہے ہیں تاہم نئی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ کورونا کی جو قسم نیویارک سمیت امریکا کی مشرقی ریاستوں پر قیامت ڈھارہی ہے اس کی ابتدا چین نہیں یورپ میں ہوئی۔امریکی اخبارکے مطابق نیویارک اور نیوجرسی سمیت ایسٹ کوسٹ سے تعلق رکھنے والی امریکا کی مختلف ریاستوں میں بیمار افراد کے جسم میں موجود وائرس کا تعلق اس چین سے نہیں جہاں اس بیماری کا آغاز ہوا تھا۔یہ بات نیویارک میں بیمار افراد سے حاصل کورونا وائرس کے جینیاتی مواد کے تجزیے سے سامنے آئی ۔تحقیق کے لیے نمونے وسطِ مارچ سے لینا شروع کیے گئے تھے اور ان کے تجزیے سے واضح ہوا کہ زیادہ تر کیسز کا تعلق یورپ میں اس بیماری کا شکار افراد میں موجود وائرس کی نئی قسم سے ہے۔کیمبرج یونیورسٹی نے ایک علیحدہ تحقیق کی ہے جس کے مطابق کورونا وائرس کی تین اقسام دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں کو بیمار کر رہی ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان تین اقسام میں سے اے اور سی قسم یورپ اور امریکا کو متاثر کیے ہوئے ہے جبکہ مشرقی ایشیا میں لوگوں کی اکثریت وائرس کی بی قسم کا شکار ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اس وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 2 ہزار 876 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتیں 18 ہزار 747 ہو چکی ہیں۔کورونا کے امریکا میں 4 لاکھ 56 ہزار 815 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 10 ہزار 917 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 27 ہزار 314 کورونا مریض اب تک صحت یاب ہوئے ہیں۔

March 31, 2020

کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے،کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔ ماہرین

ویب ڈیسک :: انٹرنیٹ پر ان دنوں کورونا وائرس کے بارے میں ڈھیروں معلومات شیئر کی جارہی ہے جس میں متعدد مشورے اور نسخے بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔

تو آخر غلط معلومات کو پھیلنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟

ٹھہریے اور غور کیجیے

معلومات کو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک جلد از جلد پہنچانے اور ان کی مدد کرنے کی بے چینی قدرتی ہے۔

جب آپ کے پاس ای میل، واٹس ایپ، فیس بک یا ٹوئٹر پر کوئی پیغام آتا ہے تو آپ اسے اسی وقت فارورڈ کرنے یا آگے بھیجنے کی طلب محسوس کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے کہ اس پیغام کو اپنے پاس ہی رکھ کر سوچنا اور اگر اس میں کوئی غیر یقینی بات لگے تو اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں اور تجزیہ کریں۔

ذریعہ کیا ہے؟

کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ یہ پیغام کہاں سے آ رہا ہے؟

اگر پیغام بھیجنے والا کسی دوست کا دوست ہے یا کسی رشتہ دار کا جاننے والا ہے تو فوری طور پر معلومات کے درست ہونے پر یقین کر لینا ٹھیک نہیں۔

کہنے کا مطلب ہے کہ اگر آپ پیغام بھیجنے والے کو بہت نزدیک سے نہیں جانتے تو اعتبار مت کیجیے۔ کئی بار بہت تعلیم یافتہ افراد بھی غلط معلومات کو آگے بڑھانے یا وائرل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

کئی بار اس میں سے کچھ معلومات صحیح ہوتی ہیں اور کچھ غلط۔ مثال کے طور پر ہاتھ دھونے سے وائرس کے پھیلاوٴ میں کمی آتی ہے، یہ بات صحیح ہے لیکن مرض کی تشخیص کے لیے سوشل میڈیا پر بتائے جانے والے متعدد طریقے غلط ہیں۔

برطانیہ کے فیکٹ چیک ادارے فُل فیکٹ کی ڈپٹی ایڈیٹر کلیری ملنے نے بتایا ’صحت کے عوامی ادروں کی جاب سے جاری کردہ معلومات سب سے زیادہ بھروسے کے لائق ہوتی ہیں۔’

ایسا نہیں ہے کہ ماہرین کو سب کچھ پتا ہے لیکن کسی دور دراز رشتہ دار یا کسی دوست کے دوست سے ملنے والی معلومات سے بہتر وہ ہے جو کوئی ماہر دے رہا ہو۔

کیا پیغام ’فیک’ یا جعلی ہو سکتا ہے؟

بظاہر کوئی بھی چیز دھوکا دے سکتی ہے۔ کسی معتبر ادارے کے اکاوٴنٹ کی نقل کرنا ممکن ہے۔

مثال کے طور پر بی بی سی نیوز یا حکومتی اداروں کے اکاوٴنٹس۔ کئی بار سکرین شاٹس دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ معلومات واقعی کسی معتبر ادارے سے آ رہی ہے لیکن جعلی سکرین شاٹس بنانا بھی ممکن ہے۔

Getty Images

ایسی صورت میں تصدیق شدہ اکاوٴنٹس اور ویب سائٹس پر معلومات حاصل کریں۔ اگر کسی پیغام سے متعلق معلومات آسانی سے حاصل نہ ہو سکے تو اس کی صداقت پر شک کرنا ضروری ہے۔

اگر کوئی ویڈیو، پوسٹ یا لنک گڑبڑ لگے تو ممکن ہے کہ وہ اصل میں ’فیک نیوز’ کا باعث ہو۔

کلیری کے بقول اگر کسی پیغام میں مختلف قسم کے فونٹ استعمال ہوئے ہوں تو وہ پیغام ممکنہ طور پر جعلی ہو سکتا ہے۔

صداقت پر شک ہو تو شیئر نہ کریں

کبھی بھی کسی پیغام کو یہ سوچ کر آگے نہ بھیجیں کہ وہ ممکنہ طور پر سچ ہو سکتا ہے۔ مشکوک پیغام کو آگے بھیج کر کے آپ فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اگر آپ پوسٹ کو ایسی جگہ شیئر کر رہے ہیں جہاں طبی کارکنان اور ڈاکٹرز جیسے ماہرین موجود ہوں تو اس میں بری بات نہیں لیکن یہ یقینی بنائیں کہ آپ اپنے پوسٹ میں واضح کر دیں کہ آپ کو معلومات کے بارے میں کیا خدشات ہیں۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ جو تصویر یا پیغام شیئر کر ہے ہیں اسے بعد میں کسی اور جگہ کسی اور طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام معلومات کو انفرادی طور پر پرکھیں

واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ وائس نوٹ میں جس خاتون کی آواز سنائی دے رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص کے دوست کا مشورہ شیئر کر رہی ہیں جو ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ یہ پیغام بی بی سی کو دنیا بھر سے بھیجا گیا ہے۔

اس پیغام میں دیے جانے والے مشوروں میں کچھ صحیح اور کچھ ایسے ہیں جنھیں درست ثابت کرنے کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

جذباتی پیغاموں سے خبردار رہیں

بیشتر مواد ہمیں بے چین، افسردہ، خوش کرنے یا غصہ دلانے والا ہوتا ہے۔ ایسا مواد بہت آسانی سے وائرل ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر غلط معلومات یا ’مس انفارمیشن’ سے نمٹنے میں صحافیوں کی مدد کرنے والے برطانوی ادارے فرسٹ ڈرافٹ سے وابستہ کلیری وارڈل نے بتایا ’غلط معلومات کو پھیلانے میں خوف سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے۔’

فوری طور پر اقدامات کی ضرورت کا احساس بے چینی بڑھاتا ہے۔

انھوں نے بتایا ’لوگ اپنے قریبی افراد کے تحفظ کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔ جب وہ وائرس سے نمٹنے کے طریقے جیسا کوئی پیغام دیکھتے ہیں، یا ایسا کوئی پیغام جو صحت یاب کرنے والی کسی چیز کے استعمال کا مشورہ دیتا ہو تو وہ فوری طور پر اس سے اپنے قریبی افراد کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔’

جانبداری کے بارے میں سوچیں

کسی پیغام کو شیئر کرنے سے پہلے سوچیے کہ آپ اسے کیوں شیئر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ اس پر متفق ہیں یا اس لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ وہ سچ ہے؟

برطانوی تھنک ٹینک ڈیموس کے سینٹر فاردا اینالیسس آف سوشل میڈیا کے ریسرچ ڈائریکٹر کارل ملر کہتے ہیں کہ ہم ایسے پیغام زیادہ آسانی سے شیئر کر دیتے ہیں جو ہمارے اپنے خیالات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں ہمیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔