November 23, 2019

سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی۔ناروے میں قرآن پاک جلانے کی کوشش کرنیوالے پر مسلمان نوجوان کا حملہ، یہ واقعہ دراصل کیا تھا؟

لاہور۔جدت ویب ڈیسک ) ناروے میں ایک مسلم نوجوان نے قرآن پاک جلانے کی مذموم کوشش ناکام بنا دی تاہم اسے پولیس نے حراست میں لے لیا، دراصل اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن مجید کی بے حرمتی کررہے تھے ۔
نجی ویب سائٹ ’پاکستان 24‘ کیلئے محمد الیاس نے لکھا کہ ”گزشتہ ہفتے کو ناروے کے جنوبی شہر کرسٹینڈ سینڈ میں قران جلانے کی مذموم کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد جذباتی نعرے اور مختلف پوسٹیں بھی سوشل میڈیا پر دیکھی گئیں، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے اور صرف قران مجید کی بے حرمتی تک محدودنہیں، اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
کرسٹینڈ سینڈ کی آبادی تقریباً اسی ہزار ہے جس میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ واحد جامع مسجد کے علاوہ شہر کے اطراف میں کچھ مصلے بھی ہیں۔ مسلمانوں میں تیس سے زیادہ نیشنیلیٹیز کے لوگ آباد ہیں، جن میں زیادہ تعداد صومالیہ، شام، فلسطین و عراق کے مہاجرین کی ہے۔ مسلمانوں میں نوجوانوں کی قابل ذکر تعداد ہے اور ان میں سے بہت سے نوجوان یہاں کی معاشرت میں رنگے ہوئے ہیں۔ قانون کے مطابق آپ کو مذہبی آزادی ہے اور پورے ناروے میں تبلیغی جماعتیں سفر کرتی ہیں، ان کے اجتماعات ہوتے ہیں، اور یورپ کے گنے چنے ملکوں میں سے ناروے ایسا ملک ہے جو تبلیغی جماعتوں کو بلا حجت ویزے جاری کرتا ہے۔ شہر کی انتظامیہ، سیاست دانوں کی بڑی تعداد، سٹی کونسل میئر، پولیس اور باقی ادارے مسلمانوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں اور ان کی ضروریات کو قانون کے مطابق پورا کرتے ہیں، مسلمانوں کو کبھی ان سے کسی بھی معاملے میں شکایت نہیں ہوئی، بلکہ جب مسلمانوں کو بڑی جگہ پر مسجد کی ضرورت پڑی تو سٹی کونسل میں دائیں بازوں کی مخالفت کے باوجود ووٹنگ کروا کے ہمارے لئے نئی مسجد کی منظوری دلوائی گئی۔
کرسٹینڈ سینڈ میں ہی مقیم محمد الیاس نے مزید لکھا کہ ایک ستاسی سالہ ملحد آرنے تھومیر نے یورپ کے باقی ملکوں کی دیکھا دیکھی کچھ سال پہلے اسلام کے خلاف ایک تنظیم بنائی، جس کا نام سیان (Stop Islmisation in norway۔ SIAN) رکھا۔ متشدد خیالات کے یہ لوگ اسلام کے خلاف مختلف فورمز میں کافی ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، اور مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کرتے ہیں جس میں اسلام کو جبر و طاقت کے زور پر پھیلایا ہوا مذہب اورمسلمانوں کوبطور دہشت گرد ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کو معاشرے میں بہت زیادہ پذیرایی حاصل نہیں لہذا ان کے کسی مظاہرے میں قابل ذکر لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن میڈیا ایسے لوگوں کو چٹخارے لگا کر پیش کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو کچھ حد تک کوریج مل جاتی ہے۔ ناروے میں مذہبی و اظہاررائے کی آزادی ہے، قانون تب حرکت میں آئے گا جب کوئی شخص نفرت، دہشت اور نسل پرستانہ تقریر کرے، اس کے علاوہ آزادی اظہار رائے کے نام پر جو مرضی کہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے آرنے تھومیر نے جب مظاہرے کا اعلان کیا تو ایک صحافی نے اس مظاہرے کا عنوان دریافت کرنے کی غرض سے انٹرویو کیا، جس میں آرنے تھومیر نے اعلان کیا کہ قران کو جلائیں گے(نعوذباللہ)۔ اس بات نے شہر کے سکون میں ایک ارتعاش پیدا کردی اور فورا مسلم لیڈرز اور مسجد کمیٹی کے لوگ ایکٹو ہوگئے کہ ایسی کسی بھی انہونی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے شہر کے میئر، پولیس اور لوکل گورنمنٹ سے منسلک لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں پوری سٹی کونسل نے یک زبان کہا کہ ہم اس مظاہرے کے سخت خلاف ہیں اور ایسی کسی بھی حرکت کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حتی کہ مسلمان مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ قران کریم کو جلانے والی کسے عمل کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ اسی میٹینگ کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ قانون کے مطابق ہم مظاہرے کو نہیں روک سکتے جب تک وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے جو قابل گرفت ہو، لیکن چونکہ سیان کا یہ اعلان نفرت پھیلانے کے زمرے میں آتا تھا تو پولیس کمشنر نے کچھ پیرامیٹرز طے کروائے جس میں سیان تنظیم کو یہ کہا گیا کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن آپ قرآن کریم کو نہیں جلا سکتے اور ایسا کرنے پر قانون کی گرفت میں ہونگے۔
رپورٹ کے مطابق سیان تنظیم کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد پیش کرے کیونکہ ان کا رویہ پرتشدد اور مجموعی طرز عمل ہمارے معاشرے سے مطاقت نہیں رکھتا۔ان کایہ بھی مطالبہ رہا کہ مسلمانوں کو ناروے سے باہر نکالا جائے۔ لہذا یہ ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد صرف اشتعال انگیزی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا۔ شہرکے پڑھے لکھے لوگ ڈائیلاگ اور کانفرنسز میں بہت جاتے ہیں اور شہر کے سب آڈیٹوریمز میں کوئی نہ کوئی کانفرنس یا مکالمہ چل رہا ہوتا ہے۔ آرنے تھومیر نے پہلے پہل تو کوشش کی کہ اپنی نفرت انگیزباتوں کو ڈائیلاگ کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جس میں وہ نبیﷺ کی ذات اقدس پر بھی رکیک حملے کرتا تھا لیکن اس کی باتوں کومدلل انداز میں رد کیا گیا،جس کو پبلک نے پسند کیا اور اس کا بہت مثبت اثر ہوا۔ اسی وجہ سے مسجد میں ہر ہفتے دو ہفتے میں ایک نارویجین اسلام قبول کرتا ہے۔ آرنے تھومیر کی بے بنیاد باتوں اور نفرت پر مبنی تقریروں کی وجہ سے لوکل ادبی کونسل اور یہاں کے چرچ نے پابندی لگا دی کہ اس کو کسی تقریب میں نہیں بلانا تاکہ یہ اسلام سے متعلق اپنی نفرت کو پھیلانے کے لئے ہمارا فورم استعمال نہ کر سکے۔
لوکل انتظامیہ اور ادبی حلقوں سے کٹنے کے بعد اس تنظیم کے پاس صرف ایک ہی آپشن رہ گیا کہ وہ پبلک مقامات پر نفرت انگیزمظاہرے کرے۔ یہ اپنے مظاہرے میں باقاعدہ کیمرے اور میڈیا کے لوگوں کو ایڈجسٹ کرتے کہ اگر کوئی مشتعل شخص ان کو زدکوب کرے تو اس کی تصاویر و ویڈیو کو وائرل کروا کر لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ لوگ ہمارے معاشرے کی روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، مسلمان اکابر جن میں سب سے زیادہ متحرک جامع مسجد کمیٹی کے صدر اکمل علی کہتے تھے کہ اس کی کسی بھی غیر قانونی حرکت پر قانون خود اس کو قابو کر لے گا۔ لہذامسلمان اس کی کسی اشتعال انگیزی پر برانگیختہ نہ ہوں اور اس کے کسی مقصد کو کامیاب نہ کریں۔
محمد الیاس کے مطابق اس مظاہرے سے پہلے مسجد کی طرف سے اعلانات ہوئے کہ اگرآرنے تھومیر نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی تو اس کو ایسی کسی حرکت سے روکنے کے لئے پولیس موجود ہوگی لہذا انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اشتعال میں آ کر کوئی فرد اپنے طورپرکوئی کاروائی نہ کرے۔ ہفتے کے دن سیان کے مظاہرے میں صرف آٹھ لوگ تھے، جبکہ چار سو سے زیادہ لوگ، جن میں نارویجنز کی قابل ذکر تعداد بھی شامل تھی، اس کے مظاہرے کے خلاف موجود تھی۔ پولیس نے رکاوٹیں لگا کر راستہ بند رکھا ہوا تھا کہ لڑائی کی صورت نہ بن سکے۔ آرنے تھومیر نے تقریر کے دوران قرآن کریم کا ایک نسخہ باربی کیو گرل کے اوپر رکھا ہوا تھا، جو پولیس نے فوراً لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس دوران سیان تنظیم کے دوسرے سرکردہ رکن لارس تھورسن نے اپنی جیب سے قران کریم کے دوسرے نسخہ کو نکال کر آگ لگانے کی کوشش کی جسے پولیس نے بجھانے کی کوشش کی لیکن اسی دوران عمر دھابہ جس کو بڑی تعداد عمر الیاس لکھ رہی ہے، نے رکاوٹ عبور کی اوراور لارس تھورسن کو مارنے کی کوشش کی، لارس کو فورا سول پولیس نے اس حرکت پر گرفتار کر لیااور ہنگامہ مچ گیا، اس دھکم پیل میں مسلمان نوجوانوں نے پولیس کو بھی دھکے اور ٹھڈے مارے، کہ وہ لارس تک پہنچ سکیں۔آج ان نوجوانوں کی ویڈیو اور تصاویر پورے ناروے اور دنیامیں وائرل ہیں۔
واقعے کے بعد مسجد کمیٹی نے بہترین وکیل کا بندوبست کر لیا ہے جو لارس تھورسن کو قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔اس اندوہناک واقعے کے بعد پولیس، چرچ، انتظامیہ اور سیاست دان بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں ساتھ متفق ہیں لیکن ان سب کی سپورٹ صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حاصل ہے لیکن اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر اس مسئلے کو خود حل کرے گے تو جو حاصل وصول ہے وہ بھی جائے گا۔ اس واقعے کے بعد مقامی چرچ کے پادری، دیگر مذاہب کے سرکردہ لوگ اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے یکجہتی کے اظہار کے لئے گزشتہ روز جمعہ کی نماز کے دوران برستی بارش میں مسجد کے باہر حلقہ بنایا اور مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلوایا۔

Hateful conduct against Muslims has carried out in Norway

Hateful conduct against Muslims has carried out in #Norway ?It hurts billions of Muslims around the globleWe PAKISTANIS 🇵🇰 strongly condemn this act of religious discrimination#Stop_Islamophobiaجب قرآن شریف کے نسخے جلائے گئے تو ایک غیرت مند مسلمان گھائل شیر کی طرح جھپٹ پڑا

Posted by Andaz-e-Jahan on Friday, November 22, 2019

November 15, 2019

پاکستان میں غربت میں کمی

جدت ویب ڈیسک ::دنیا کے 114 ممالک میں انتہائی غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے پاکستان 14ویں نمبر پر ہے۔ 2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن 15؍ ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

2001ء میں پاکستان کی 28؍ عشاریہ 6؍ فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، پاکستان میں پندرہ برس کے عرصے میں سالانہ ایک عشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی اور یوں 4؍ کروڑ 41؍ لاکھ افراد میں سے 3؍ کروڑ 38؍ لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے اور 2015ء میں انتہائی غریب صرف 76؍ لاکھ پاکستانی رہ گئے تھے۔ بھارت اور چین میں بھی غربت کی شرح کم ہوئی ہے ۔

عالمی بینک کے ایک مضمون کے مطابق اس کا ایک ہدف انتہائی غربت کو کم کرنا بھی ہے ، ورلڈ بینک کی 2011میںانتہائی غربت کی تعریف کے مطابق یومیہ 295؍ روپے ( ایک عشاریہ 90ڈالر) سے کم آمدنی والے افراد انتہائی غربت کے زمرے میں آتے ہیں۔ 1990ء کے بعد سے دنیا نے انتہائی غربت کو کم کرنے میں حیرت انگیز پیشرفت دیکھی ہے۔

دنیا کے 114؍ ممالک میں گزشتہ پندرہ برس یعنی 2000ء سے 2015ء کے درمیان انتہائی غربت کم کرنے میں سر فہرست 15؍ ممالک نے اقدامات کیے اور کامیابی حاصل کی، ان میں پاکستان کے علاوہ تنزانیہ، تاجکستان، چاڈ، کانگو، کرغزستان، چین، بھارت، مولدوا، برکینا فاسو، کانگو، انڈونیشیا، ویت نام، ایتھوپیا اور نیمیبیا شامل ہیں۔ 2000ء میں پاکستان میں4کروڑ14لاکھ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزارتے تھے جبکہ پندرہ برس بعد انتہائی غربت کی سطح پر صرف76لاکھ افراد ہیں، پندرہ برس کے دوران تین کروڑ38لاکھ افراد انتہائی غربت کے دائرے سے نکل گئے۔ بھارت نے 2004ء سے2011ء کے درمیان سالانہ2عشاریہ4فی صد کمی کی۔

November 9, 2019

کرتارپور راہداری سے متعلق چند اہم حقائق

جدت ویب ڈیسک ::کرتارپور راہداری سے متعلق چند اہم حقائق مندرجہ ذیل ہیں

کرتارپور کہاں واقع ہے؟

کرتارپور ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے پر واقع ہے اور بھارتی سرحد سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کیا کرتارپور راہداری 1947 سے بند ہے؟

سکھ حضرات 1950 اور 60 کی دہائی میں کرتارپور آیا کرتے تھے لیکن 1965 کی جنگ کے دوران دریائے راوی پر بنا پل ٹوٹ گیا جس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

بھارت کرتارپور کو اپنا حصہ بنانا چاہتا تھا

بھارت پاکستان کو کئی مرتبہ زمین کے بدلے زمین کے اصول کے تحت یہ خطہ بھارت کو دے دینے کی پیشکش کر چکا ہے۔

کرتارپور راہداری پر سمجھوتہ نواز شریف اور واجپائی کے درمیان ہوا

کرتارپور کوریڈور (یعنی ایک ایسا رستہ جس پر سکھ حضرات بغیر ویزا کے کرتارپور کا دورہ کر سکیں) پر پہلی بار نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان 1998 میں سمجھوتہ ہوا تھا۔ لیکن کارگل جنگ کے بعد یہ منصوبہ کہیں گم ہو گیا۔

مشرف نے گورودوارہ کھول دیا، مگر راستہ لمبا کر دیا

مشرف حکومت کے دوران اس گورودوارے کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور بھارتی یاتریوں کے لئے اسے 2004 میں کھول دیا گیا لیکن اس کے لئے انہیں براستہ لاہور آنا ہوتا تھا اور 4 کلومیٹر کا رستہ 170 کلومیٹر میں بدل جاتا تھا۔

سدھو کی خواہش پر آرمی چیف کا فیصلہ

سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے اگست 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کی تھی کہ وہ کرتارپور راہداری کو کھول دیں۔ آرمی چیف نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے گرو نانک کی 550ویں سالگرہ پر اسے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس راہداری پر تعمیراتی کام دونوں اطراف کے پنجاب میں نومبر 2018 میں شروع ہوا اور گذشتہ ماہ مکمّل ہو گیا۔

کرتارپور راہداری اور دیوارِ برلن

وزیر اعظم مودی نے کرتارپور راہداری کے کھلنے کو دیوارِ برلن کے گرنے سے تشبیہہ دی ہے، جو کہ یقیناً حقیقت سے کچھ زیادہ ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ راہداری پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی طرف ایک اچھا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

Image result for dewaar barlan

 

November 8, 2019

متنازعہ نقشہ: بھارت کا کشمیر کے بعد نیپال کے علاقے پر بھی وار

رپورٹ ::برصغیرِ پاک و ہند میں برطانوی فوج نے جہاں صدیوں پرانی سلطنتیں اور ریاستوں کا خاتمہ کرکے فتح کا علم بلند کیا وہیں کچھ اقوام ایسی بھی تھیں جنھیں شکست دینا ان کے بس سے باہر تھا۔ ان اقوام میں سے ایک قوم نیپال کی تھی۔ انگریز فوج نے متعدد بار چھوٹی بڑی کوششیں کیں مگر نیپال فتح کرنے میں ناکام رہی۔ نومبر 1814 میں شروع ہونے والی اینگلو نیپالی جنگ دو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کو گورکھا وار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انگریز فوج کی سر توڑ کوششوں کے باوجود فتح ان کا مقدر نہ بن سکی اور بالآخر 4 مارچ 1816 کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے نیپال کے بادشاہ اور برطانوی فوج کے آفیسر لفٹیننٹ کرنل براڈشا کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
معاہدے کے تحت برطانوی فوج بنگال کے مختص کردہ چند علاقوں کے علاوہ باقی کسی جگہ حکومت قائم نہیں کر سکتی تھی۔ انگلستان کی حکومت نے گورکھا قوم کی شجاعت سے متاثر ہوکر انھیں برطانوی آرمی میں بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گورکھا کے نوجوان ڈیڑھ سو سال تک برطانوی آرمی کا حصہ بنتے رہے اور پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تاہم برطانوی فوج نے نیپال کے گورکھا پلاٹون میں سے اکثریت کو اپنے ملک میں شہریت دے رکھی ہے۔

گورکھا جنگ کے اختتام کے دو سو تین سال بعد ایک بار پھر نیپال کی سرحدوں میں کسی غیر ملک نے قابض ہونے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ زبردستی قبضہ کرلیا گیا ہے، تو بجا ہوگا۔ حال ہی میں بھارت نے اپنی ریاست کا متنازعہ نقشہ جاری کر دیا ہے جس میں جہاں ایک جانب کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، وہیں دوسری جانب نیپال کے سرحدی علاقے کالاپانی کو ہندوستان کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کالا پانی بھارتی ریاست اتھرکنڈ کا حصہ ہے جب کہ نیپالی حکومت کے بقول کالا پانی صدیوں سے نیپال کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔

کالا پانی کا مذکورہ حصہ کم و بیش 6 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ پرادیب گیاوالی کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارت کے نئے نقشے میں کالا پانی کی شمولیت کو نیپال نے مسترد کر دیا ہے۔ نیپال نے ہفتے کے روز جاری متنازعہ بھارتی نقشے پر تشویش کا اظہار کر کے بھارت سے اس سلسلے میں بات چیت کی پیش کش کی ہے۔

جمعرات کی شام بھارت کے دفترِ خارجہ سے بھی اسی سلسلے میں ایک بیان جاری ہوا جس کے مطابق بھارت نے نیپال کے کسی علاقے کو ہندوستان میں شامل نہیں کیا تاہم جو علاقے بھارت کے نقشے میں شامل کیے گئے ہیں ان کی ملکیت کا حق ہند وستان کے پاس ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے نیپال کو معاملے پر خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
نیپال پر بھارت کے مسلط ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی ضروریات کا بڑا انحصار بھارت پر ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات سے لے کر اشیائے خورد و نوش تک بھارت کے زمینی راستے سے نیپال پہنچا دیا جاتا ہے۔ نیپال معاشی لحاظ سے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے اور اسی کم زوری کا بھارت بے دریغ فائدہ اٹھا رہا ہے۔دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی فوج تعداد میں بہت قلیل اور کم زور ہے۔ ان کے پاس نہ جدید ہتھیار ہیں اور نہ ہی بھارت سے لڑنے کی صلاحیت۔ نیپالی حکومت چار و ناچار بھارتی احکامات کو بجا لانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔

تیسری وجہ ہندو مذہب ہے۔ نیپال میں ہندو مذہب کے پیروکاروں کی تعداد 80 فی صد سے زائد ہے۔ ہندو رسومات اور عقائد یکساں ہونے کی وجہ سے نیپال میں بھارت کو کسی حد تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کھٹمنڈو کے سینماؤں میں بالی ووڈ کی کسی فلم کے ریلیز ہونے کے دن عوام کا سمندر امڈ آتا ہے۔ نیپالی زبان ہندی سے مختلف ہونے کے باوجود نیپال میں بھارتی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں۔ نیپال کے ایف ایم چینلز پر نیپالی سے زیادہ ہندی گانے چلائے جاتے ہیں اور نیپالیوں کا ہیرو بھی شارخ خان، عامر خان یا سلمان خان ہی ہوتے ہیں۔

تاہم اب بھارت اور نیپال کے تعلقات میں تلخیوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیپال اب بھارتی ظلم کے آگے ڈٹ جانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ نیپالی عوام میں حالیہ بھارتی نقشے کے جاری ہونے کے بعد مودی حکومت کے خلاف نفرت کی لہر بھی چل پڑی ہے۔ انند نیپال سے میرے ایک دوست ہیں اور جرمنی میں زیرِ تعلیم ہیں؛ حالیہ بھارتی اقدام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی تو ان کے الفاظ یوں تھے، ”میں شرمندہ ہوں کہ بھارت کے نئے نقشے میں نیپال کے 6 ہزار ایکڑ زمین پر محیط علاقے کو انڈیا کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور نیپال میں کوئی اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ میں نے اب بھارت سے شدید نفرت کرنا شروع کر دیا ہے۔“

انند کی بات درست ہے، نیپال فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بھارت کو ”منہ توڑ“ جواب دے سکے۔ تاہم نیپال آیندہ کے خطرات کو بھانپتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ حال ہی میں چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے دورۂ نیپال کے بعد اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کے آٖغاز کا عندیہ دیا تھا، اس تناظر میں نیپال پاکستان کی طرح چین کے ساتھ بھی روابط بڑھا سکتا ہے اور شاید بھارت اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہا۔

مودی حکومت نے متنازعہ نقشہ جاری کر کے پاکستان اور چین کے بعد نیپال کو بھی اپنی دشمنی پر اکسایا ہے اور بھارت کے اس امر سے خطے کے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ شمال میں چین، مغرب میں پاکستان اور مشرق میں نیپال، بھارت کے ظالمانہ رویے سے ناخوش اور بے زار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کے خلاف ان ممالک کا مؤقف کس قدر مضبوطی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان نقشے کے معاملے کو سختی کے ساتھ رد کر چکا ہے۔

Image result for kala pani nepal

Image result for kala pani nepal

Image result for kala pani nepal

November 6, 2019

قاتل موسیقی۔وہ گیت جوموت ثابت ہوئے۔ کیوں؟جانیے

جدت ویب ڈیسک ::موسیقی روح کی غذا ہے۔ یہ انسان کے لیے شادمانی اور راحت و سرور کا سبب بنتی ہے، لیکن یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ ایسی موسیقی اور گیت بھی ہیں جن پر پرفارمنس کے نتیجے میں کئی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔ اسے بلاشبہ ہم قاتل موسیقی کہہ سکتے ہیں۔
یہ موسیقی ’نارکو کوریڈو‘ کہلاتی ہے جو میکسیکو اور قریبی ملکوں میں ڈرگ مافیا میں مقبول ہے۔ یہ دراصل ڈرگ لارڈز کے قصیدوں پر مبنی ہوتی ہے۔ منشیات اور جرائم کی دنیا میں سرگرم مختلف گروہ ایک دوسرے سے غیرقانونی کاروبار کے حوالے سے حسد اور رقابت کا شکار ہو کر اپنے مخالف گروہ کے سربراہ کی شکل و صورت کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اس کے لیے وہ شاعروں سے ایسے گانے لکھواتے ہیں جن میں مخالف کی برائیاں، اس کی شکل و صورت کا مذاق اڑایا گیا ہو اور اس کی موسیقی ترتیب دے کر کسی گلوکار سے اس پر پرفارم کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے کارندوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بھی گیت اور موسیقی تخلیق کروائی جاتی ہے۔
ڈرگ لارڈز ایسے گلوکاروں کو بھاری معاوضہ دیتے ہیں مگر جرائم پیشہ گروہوں کے لیے گانے والے کئی فن کاروں کو ان کی اس پرفارمنس کی وجہ سے موت کے منہ میں اتار دیا گیا۔ یہ مخالف ڈرگ لارڈ کے کارندوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
’’نارکو کوریڈو‘‘ موسیقی دراصل دو الفاظ نارکو اور کوریڈو کا مرکب ہے۔ نارکو، نارکوٹکس کا اختصار ہے جب کہ کوریڈو شاعری کی وہ قسم ہے جس میں حالات اور واقعات بیان کرتے ہوئے شخصیات کو گویا گھسیٹا جاتا ہے۔
کتنی عجیب اور حیرت انگیز بات ہے کہ موسیقی نے میکسیکو میں موسیقی بھی جرم کی دنیا میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کے ذریعے منشیات فروش تسکین حاصل کرتے ہیں۔ موسیقی کا یہ خونیں روپ 1970ء میں سامنے آیا تھا۔ نارکو کوریڈو سے مختلف میوزیکل بینڈ باقاعدہ وابستہ ہیں اور وہ یہ سب دولت کی ہوس اور دوسرے مفادات پورے کرنے کے لیے کرتے ہیں۔
یہ موسیقی اور گیت نگاری زیادہ تر حقیقی واقعات اور زندہ شخصیات کے لیے کی جاتی ہے۔

Related image

Image result for narcocorrido music

November 1, 2019

رشتے کیوں ٹوٹ جاتے ہیں ؟

جدت ویب ڈیسک ::کسی بھی شخص کی نظر میں ہر رشتے کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے، بالخصوص محبت ایک ایسا رشتہ ہے جس کو برقرار رکھنے کے لیے ہر کوئی کچھ بھی کرنے کو تیار ہے مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ رشتہ اچانک ختم کیوں ہوجا تاہے؟وہ غلطیاں جو رشتہ ختم ہونے کے بعد سمجھ آتی ہیں۔آئیں ہم ایسی باتوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی وجہ سے محبت کے رشتے میں نہ صرف دراڑ پڑ جاتی بلکہ یہ ختم بھی ہوجاتا ہے۔
نئے دوست کی تلاش
اگر آپ کے ساتھ کوئی مخلص شخص موجود ہے جو ہر اچھے برے میں کھڑا رہتا ہے تو ایسے میں نیا شخص تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پھر بھی اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ اس نتیجے میں پرانا رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہےیوں آپ ایک اچھے دوست سے محروم ہوجاتے ہیں۔
غلطی کا اعتراف اور اسے تسلیم کرنا
پہلی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کو اہمیت دیتے ہیں تو اس دوران وقت کی قلت یا کسی مصروفیت کے باعث سامنے والے کو نظر انداز کرتے ہیں مگر جب اس بات کا شکوہ ہوتا ہے تو غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے احسانات گنوائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی مواقع ایسے آتے ہیں جہاں آپ خود غلطی پر ہوتے ہیں مگر جب بات یاد کرائی جائے تو آپ خود کو پارسا ثابت کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ غلطی تسلیم کرنے سے رشتہ کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔
کوئی بھی رشتہ غرض کی وجہ سے نہ قائم کریں
عام طور پر لوگ رشتہ بناتے وقت جذباتی ہوتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس میں اپنے فوائد تلاش کرتے ہیں، ایسے رشتے چند سال تو جاری رہتے مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور جب آپ کسی اچھے شخص کو کھو دیتے ہیں تو آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہونے میں بہت دیر لگ جاتی ہے۔
رشتے صرف خوشی کا نام نہیں
کچھ لوگ خوشیاں تلاش کرنے کے لیے نئے رشتے بناتے ہیں اور ابتدائی ایام میں سنہرے خواب بھی دکھاتے ہیں جو حقائق کے بالکل منافی ہوتے ہیں مگر جیسے ہی چند سختیاں سامنے آتی ہیں تو اُن کے ہاتھ پیر پھول جاتے جس کی وجہ سے وہ رشتہ ختم کردیتے ہیں، مگر یہ بات بھی کسی کو کھو دینے کے بعد ہی سمجھ آتی ہے۔

October 15, 2019

دنیا کی منفرد معلق مسجد کی تعمیر جاری، کتنے افراد نماز ادا کر سکیں گے؟

جدت ویب ڈیسک ::سعودی عرب میں مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ سے کچھ فاصلے پر ایک بلند وبالا عمارت پر معلق مسجد تعمیر کی جا رہی ہے جو نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کی منفرد مسجد ہوگی، یہ مسجد مسجد حرام سے 161 میٹر بلند اور 400 مربع میٹر پرمحیط ہوگی جس میں 200 افراد نماز ادا کرسکیں گے۔ معلق مسجد کو براہ راست حرم مکی کے آڈیو اور ویڈیوسسٹم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، شاہ عبدالعزیز ہائی وے پر مسجد حرام سے کچھ فاصلے پردو جڑواں ٹاور بنائے گئے ہیں۔ ان دونوں کثیر منزلہ عمارتوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے ایک مسجد نما پل بنایا گیا ہے، اس کا ڈیزائن اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس پل کا 50 فی صد نماز اور باقی پچاس فی صد دیگر سروسز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔۔
مکہ میں منفرد معلق مسجد کی ذمہ دار تعمیراتی فرم کے ڈیزائن ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ اور مکہ چیمبر میں رئیل سٹیٹ کمیٹی کے چیئرمین انجینئرانس صیرفی نے بتایا کہ یہ منصوبہ فی الحال زیرتکمیل ہے جو چھ ماہ کے اندر مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ اس پل پر آب و ہوا اور قدرتی مناظر، خانہ کعبہ ، حرم مکی اور مکہ معظمہ کے ایک وسیع علاقے کو دیکھنے اور مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا

October 11, 2019

ماہرین نےگایوں پر سفید دھاریوں سے کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم کر دئیے

ٹوکیو: جدت ویب ڈیسک ::جاپان میں جانوروں کے ماہرین نے ایک ڈیری فارم پر گایوں کو کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچانے کےلیے ان پر سفید پٹیاں بنا دیں۔ حیرت انگیز طور پر، صرف ان سفید پٹیوں کی وجہ سے گایوں پر کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم رہ گئے اور زہریلی حشرات کش دواؤں کا استعمال بھی آدھا رہ گیا۔
اس طرح ماحول کو پہنچنے والے نقصان میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ حشرات کش دواؤں کی خریداری پر خرچ ہونے والی رقم بھی کم رہ گئی جس سے ڈیری فارم کا منافع بھی بڑھ گیا۔
یہ دلچسپ تجربہ توموکی کوجیما کی قیادت میں کیا گیا جو ایچی ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، جاپان میں شعبہ مویشی بانی سے وابستہ ہیں۔ ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیبرے کے جسم پر سفید دھاریاں انہیں خوب صورت بنانے کے علاوہ حملہ آور کیڑے مکوڑوں سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ ان دھاریوں سے بہت کم حرارت خارج ہوتی ہے۔ ’’ہم نے سوچا کہ اگر قدرتی ماحول میں یہ تدبیر کارآمد ہے تو کیوں نہ اسے ڈیری فارم میں پالتو گایوں پر آزما کر دیکھا جائے،‘‘ انہوں نے بتایا۔
واضح رہے کہ جاپان میں ایک خاص قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں جو جانوروں پر حملے کردیتی ہیں۔ ویسے تو یہ پورا سال ہی جانوروں کےلیے اذیت بنی رہتی ہیں لیکن موسمِ برسات اور اس کے بعد والے تین مہینے ایسے ہوتے ہیں جب ان مکھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ پورا عرصہ مویشیوں اور فارم مالکان کےلیے شدید مصیبت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اس دوران حملہ آور مکھیوں کو مارنے کےلیے بار بار زہریلی حشرات کش دواؤں کا اسپرے کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسپرے مہنگا ہونے کے علاوہ ماحول کےلیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔
یہ تمام نکات سامنے رکھتے ہوئے اس تجربے کےلیے انہوں نے ایچی پریفیکچر کے ایک ڈیری فارم سے رابطہ جہاں سیاہ رنگت والی جاپانی گائیں موجود تھیں۔ فارم کی کچھ گایوں پر ایک بےضرر مادّے سے تیار کیے گئے سفید رنگ کی دھاریاں بنا دی گئیں جبکہ کچھ کو یونہی رہنے دیا گیا۔ علاوہ ازیں، تیسرے یعنی ’’کنٹرول گروپ‘‘ میں شامل تمام گایوں کے پورے جسم پر سفید رنگ کردیا گیا۔
یہ تمام گائیں اگرچہ ایک ہی چھت تلے بندھی تھیں لیکن احتیاط کی غرض سے انہیں علیحدہ علیحدہ حصوں میں رکھا گیا۔
کئی دنوں تک ان پر روزانہ چوبیس گھنٹے نظر رکھی گئی اور گایوں پر حملہ آور کیڑوں کے نشانات سے لے کر (کیڑوں کو بھگانے کےلیے) ان کی مخصوص حرکات بھی نوٹ کی جاتی رہیں۔ مطالعے کے اختتام پر ہونے والے دلچسپ انکشافات ہوئے۔
مثلاً وہ گائیں جن کا پورا جسم سفید کردیا گیا تھا، ان پر کیڑے مکوڑوں نے سب سے زیادہ حملے کیے جن کی وجہ سے وہ دوسری گایوں سے زیادہ بے چین بھی رہیں۔ ان کے برعکس وہ گائیں جن پر زیبرے جیسی سفید دھاریاں بنائی گئی تھیں، ان پر کیڑوں نے معمول سے 50 فیصد کم حملے کیے جبکہ ان میں کیڑے بھگانے والی مخصوص جسمانی حرکات بھی معمول سے نصف رہ گئیں۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں توموکی کوجیما کا خیال ہے کہ کالی سفید پٹیوں کی وجہ سے گائے کے جسم سے نکلنے والی گرمی کا انداز بھی بدل جاتا ہے جو حملہ آور کیڑے مکوڑوں کو دھوکا دیتا ہے؛ اور یوں وہ گائے کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ ابھی اس خیال کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
پاکستان میں اگرچہ سیاہ رنگت والی گائیں تو عام نہیں پائی جاتیں لیکن گہرے بھورے اور کالے رنگ کی بھینسیں ضرور بکثرت ملتی ہیں۔ اس لیے یہ تجربہ پاکستان میں بھی کرلیا جائے تو شاید ملتے جلتے نتائج برآمد ہوں۔
اس دلچسپ تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس وَن‘‘ نامی تحقیقی جریدے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

Related image

Image result for cow zebra hybrid

Image result for cow zebra hybrid

October 9, 2019

یہ ظرف اور مروت کیا ہوتی ہے؟ اچھوتی اور سبق آموز تحریر

مجھے میرے ہاسٹل کے ساتھ کر کے اک چھوٹا سالڑکا جوکہ چوتھی جماعت میں تھا اکثر آتے جاتے ٹکر جاتا تھا اک دفعہ اس نے کسی ٹاک شو میں ٹی وی پہ دو لفظ سن لیے “ظرف”____ “مروت”__اب اسکا مطلب پوچھنے کے لیے اسنے ٹیوشن کے بعد سڑک پہ ہی دھر لیا مجھے _
بھائ
یہ ظرف اور مروت کیا ہوتی ہے؟ ؟
ظرف __ شاید دل کی وسعت مطلب بڑا یا چھوٹا ہونا __
مروت __ فیلگنز یا احساس .!
اسنے اپنی ناک اور اوپری ہونٹ کھینچ کے پوچھا
اچھا! !
تو یہ کیسے ہوتی ہے؟؟
اب اس بچے کے ایسے برجستہ سوال پہ میں نے اسکے تھپکی دی سر کے نیچے اور آگے نکل پڑا___!
مگر وہ دوسرا سوال ہوبہو میرے دماغ میں اٹک کے گیا اتنا برجستہ تھا کہ مجھے معنی تو معلوم ہے مگر مثال کہاں سے ملے جو اتنی ہی بڑی ہو کہ جو اس لفظ کا ویسا ہی احاطہ کر لائے جیسا اسکا حق بنتا ہے ______!!
مگر!
جو اَماں ملی تو کہاں ملی!
مدینہ کی مسجد ہے! پوری ذمہ داری کے ساتھ سورج جلجلا رہا تھا اک لمبے گول دائرے میں رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے صحن صحابہ کرام ؓسے کچھا کچھ بھرا پڑا تھا ____!
سامنے
مسجد کا دروازہ کھلا پڑا تھا جس سے سامنے گہری ریت سے اٹی خشک ریتلی سڑک نظر آرہی تھی ___
اچانک اک عورت بال کھلے ہوئے ننگے پیر مٹی سے اٹی ہوئی گزری __ ٹھٹھک کے رکی ___ رخ دروازے کو کرکے پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا __
ادھر آؤ ___!
رسول اللہ ﷺسامنے بیٹھے تھے __ !
جھٹکے سے اٹھے اسقدر جلدی میں اٹھے کے ننگے پاؤں ہی دروازے سے باہر رکھ دیے ___!
ایک پہر گزرا ،دوسرا پھر تیسرا
وہ عورت اپنے ہی حواس می‍ں ہنوذ باتیں کرتی رہی آپ سنتے رہے سنتے رہے! وہ ہاتھ ہلاتی فضا می‍ں اشارے کرتی آپ مسکرا کے سر ہلا دیتے__!
اس کشمکش میں اصحاب پریشان بیٹھے تھے!
اچانک وہ عورت دوبارہ آنے کا کہ کر چلی گئی!
آپ ﷺ سر ہلا کر واپس مسجد میں داخل ہوئے _
پورا جسم سخت گرمی ریت کی جلن کے درحق پسینے میں ڈوب گیا تھا بالوں سے پانی ٹپکنے لگا تھا”
جناب ِ عمر ؓسے رہا نا گیا!
کہا
یا نبیِ برحق!!
وہ عورت تو پاگل بد حواس تھی وہ تو پاگل دیوانی عورت ہے آپ کیوں اسکی عبث بات اتنی دیر کھڑے سنتے رہے؟ ؟؟
بولے! !
عمر!!!
اس عورت کی پورے مدینہ میں کوئی نہیں سنتا
کیا میں محمد ﷺ بھی اسکی نہ سنوں؟
ظرف!
(نہیں یہاں مثال لفظ کے مطلب سے بھی بڑی نکلی)
حاتم تائ کی بیٹی گرفتا کر کے لائی گئی!
سرکار ﷺ کندھے پہ سیاہ چادر لٹکا کے بیٹھے تھے
جوں احاطے میں داخل ہوئی!
کسی نے کہا
دختر ِ حاتم طائی! !
جھٹ سے اٹھے!
کندھے کی چادر گھسیٹ کے کھینچی!
مٹی پہ بچھا کے انہیں بیٹھنے کا کہا!
بولی
“میں حاتم کی بیٹی ہوں!
دور ہٹ گئے!
کسی نے کہا
عیسائی کی بیٹی ہے!!اتنی تعظیم؟
بولے!
سخی کی بیٹی ہے! مجھے سخی کی بیٹی سے حیا آتی ہے ____!!
اُس مقام پہ کہ جہاں گردنیں اترتی ہوں عزتیں اچھلتی ہوں وہاں اک بے دیار عورت کو اتنی تعظیم ملی کے الٹے پاؤں واپس دوڑی اپنے بھائ عدی بن حاتم کو پکڑ کر ساتھ لائی کہا ___ کلمہ پڑھوائیے! ! مسلمان ہوئے!
مروت ! احساس
(یہاں بھی یہ لفظ مثال کے درحق ہیچ)
کسی کا کردار کسی لفظ کے مفہوم سے بھی آگے نکل گیا ہوا ہو __ ایسا میں نے زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا نہ اب دیکھ پاؤں گا____ صلو علیہ وآلہ ِ
#Copied