October 11, 2019

ماہرین نےگایوں پر سفید دھاریوں سے کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم کر دئیے

ٹوکیو: جدت ویب ڈیسک ::جاپان میں جانوروں کے ماہرین نے ایک ڈیری فارم پر گایوں کو کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچانے کےلیے ان پر سفید پٹیاں بنا دیں۔ حیرت انگیز طور پر، صرف ان سفید پٹیوں کی وجہ سے گایوں پر کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم رہ گئے اور زہریلی حشرات کش دواؤں کا استعمال بھی آدھا رہ گیا۔
اس طرح ماحول کو پہنچنے والے نقصان میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ حشرات کش دواؤں کی خریداری پر خرچ ہونے والی رقم بھی کم رہ گئی جس سے ڈیری فارم کا منافع بھی بڑھ گیا۔
یہ دلچسپ تجربہ توموکی کوجیما کی قیادت میں کیا گیا جو ایچی ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، جاپان میں شعبہ مویشی بانی سے وابستہ ہیں۔ ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیبرے کے جسم پر سفید دھاریاں انہیں خوب صورت بنانے کے علاوہ حملہ آور کیڑے مکوڑوں سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ ان دھاریوں سے بہت کم حرارت خارج ہوتی ہے۔ ’’ہم نے سوچا کہ اگر قدرتی ماحول میں یہ تدبیر کارآمد ہے تو کیوں نہ اسے ڈیری فارم میں پالتو گایوں پر آزما کر دیکھا جائے،‘‘ انہوں نے بتایا۔
واضح رہے کہ جاپان میں ایک خاص قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں جو جانوروں پر حملے کردیتی ہیں۔ ویسے تو یہ پورا سال ہی جانوروں کےلیے اذیت بنی رہتی ہیں لیکن موسمِ برسات اور اس کے بعد والے تین مہینے ایسے ہوتے ہیں جب ان مکھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ پورا عرصہ مویشیوں اور فارم مالکان کےلیے شدید مصیبت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اس دوران حملہ آور مکھیوں کو مارنے کےلیے بار بار زہریلی حشرات کش دواؤں کا اسپرے کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسپرے مہنگا ہونے کے علاوہ ماحول کےلیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔
یہ تمام نکات سامنے رکھتے ہوئے اس تجربے کےلیے انہوں نے ایچی پریفیکچر کے ایک ڈیری فارم سے رابطہ جہاں سیاہ رنگت والی جاپانی گائیں موجود تھیں۔ فارم کی کچھ گایوں پر ایک بےضرر مادّے سے تیار کیے گئے سفید رنگ کی دھاریاں بنا دی گئیں جبکہ کچھ کو یونہی رہنے دیا گیا۔ علاوہ ازیں، تیسرے یعنی ’’کنٹرول گروپ‘‘ میں شامل تمام گایوں کے پورے جسم پر سفید رنگ کردیا گیا۔
یہ تمام گائیں اگرچہ ایک ہی چھت تلے بندھی تھیں لیکن احتیاط کی غرض سے انہیں علیحدہ علیحدہ حصوں میں رکھا گیا۔
کئی دنوں تک ان پر روزانہ چوبیس گھنٹے نظر رکھی گئی اور گایوں پر حملہ آور کیڑوں کے نشانات سے لے کر (کیڑوں کو بھگانے کےلیے) ان کی مخصوص حرکات بھی نوٹ کی جاتی رہیں۔ مطالعے کے اختتام پر ہونے والے دلچسپ انکشافات ہوئے۔
مثلاً وہ گائیں جن کا پورا جسم سفید کردیا گیا تھا، ان پر کیڑے مکوڑوں نے سب سے زیادہ حملے کیے جن کی وجہ سے وہ دوسری گایوں سے زیادہ بے چین بھی رہیں۔ ان کے برعکس وہ گائیں جن پر زیبرے جیسی سفید دھاریاں بنائی گئی تھیں، ان پر کیڑوں نے معمول سے 50 فیصد کم حملے کیے جبکہ ان میں کیڑے بھگانے والی مخصوص جسمانی حرکات بھی معمول سے نصف رہ گئیں۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں توموکی کوجیما کا خیال ہے کہ کالی سفید پٹیوں کی وجہ سے گائے کے جسم سے نکلنے والی گرمی کا انداز بھی بدل جاتا ہے جو حملہ آور کیڑے مکوڑوں کو دھوکا دیتا ہے؛ اور یوں وہ گائے کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ ابھی اس خیال کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
پاکستان میں اگرچہ سیاہ رنگت والی گائیں تو عام نہیں پائی جاتیں لیکن گہرے بھورے اور کالے رنگ کی بھینسیں ضرور بکثرت ملتی ہیں۔ اس لیے یہ تجربہ پاکستان میں بھی کرلیا جائے تو شاید ملتے جلتے نتائج برآمد ہوں۔
اس دلچسپ تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس وَن‘‘ نامی تحقیقی جریدے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

Related image

Image result for cow zebra hybrid

Image result for cow zebra hybrid

October 9, 2019

یہ ظرف اور مروت کیا ہوتی ہے؟ اچھوتی اور سبق آموز تحریر

مجھے میرے ہاسٹل کے ساتھ کر کے اک چھوٹا سالڑکا جوکہ چوتھی جماعت میں تھا اکثر آتے جاتے ٹکر جاتا تھا اک دفعہ اس نے کسی ٹاک شو میں ٹی وی پہ دو لفظ سن لیے “ظرف”____ “مروت”__اب اسکا مطلب پوچھنے کے لیے اسنے ٹیوشن کے بعد سڑک پہ ہی دھر لیا مجھے _
بھائ
یہ ظرف اور مروت کیا ہوتی ہے؟ ؟
ظرف __ شاید دل کی وسعت مطلب بڑا یا چھوٹا ہونا __
مروت __ فیلگنز یا احساس .!
اسنے اپنی ناک اور اوپری ہونٹ کھینچ کے پوچھا
اچھا! !
تو یہ کیسے ہوتی ہے؟؟
اب اس بچے کے ایسے برجستہ سوال پہ میں نے اسکے تھپکی دی سر کے نیچے اور آگے نکل پڑا___!
مگر وہ دوسرا سوال ہوبہو میرے دماغ میں اٹک کے گیا اتنا برجستہ تھا کہ مجھے معنی تو معلوم ہے مگر مثال کہاں سے ملے جو اتنی ہی بڑی ہو کہ جو اس لفظ کا ویسا ہی احاطہ کر لائے جیسا اسکا حق بنتا ہے ______!!
مگر!
جو اَماں ملی تو کہاں ملی!
مدینہ کی مسجد ہے! پوری ذمہ داری کے ساتھ سورج جلجلا رہا تھا اک لمبے گول دائرے میں رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے صحن صحابہ کرام ؓسے کچھا کچھ بھرا پڑا تھا ____!
سامنے
مسجد کا دروازہ کھلا پڑا تھا جس سے سامنے گہری ریت سے اٹی خشک ریتلی سڑک نظر آرہی تھی ___
اچانک اک عورت بال کھلے ہوئے ننگے پیر مٹی سے اٹی ہوئی گزری __ ٹھٹھک کے رکی ___ رخ دروازے کو کرکے پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا __
ادھر آؤ ___!
رسول اللہ ﷺسامنے بیٹھے تھے __ !
جھٹکے سے اٹھے اسقدر جلدی میں اٹھے کے ننگے پاؤں ہی دروازے سے باہر رکھ دیے ___!
ایک پہر گزرا ،دوسرا پھر تیسرا
وہ عورت اپنے ہی حواس می‍ں ہنوذ باتیں کرتی رہی آپ سنتے رہے سنتے رہے! وہ ہاتھ ہلاتی فضا می‍ں اشارے کرتی آپ مسکرا کے سر ہلا دیتے__!
اس کشمکش میں اصحاب پریشان بیٹھے تھے!
اچانک وہ عورت دوبارہ آنے کا کہ کر چلی گئی!
آپ ﷺ سر ہلا کر واپس مسجد میں داخل ہوئے _
پورا جسم سخت گرمی ریت کی جلن کے درحق پسینے میں ڈوب گیا تھا بالوں سے پانی ٹپکنے لگا تھا”
جناب ِ عمر ؓسے رہا نا گیا!
کہا
یا نبیِ برحق!!
وہ عورت تو پاگل بد حواس تھی وہ تو پاگل دیوانی عورت ہے آپ کیوں اسکی عبث بات اتنی دیر کھڑے سنتے رہے؟ ؟؟
بولے! !
عمر!!!
اس عورت کی پورے مدینہ میں کوئی نہیں سنتا
کیا میں محمد ﷺ بھی اسکی نہ سنوں؟
ظرف!
(نہیں یہاں مثال لفظ کے مطلب سے بھی بڑی نکلی)
حاتم تائ کی بیٹی گرفتا کر کے لائی گئی!
سرکار ﷺ کندھے پہ سیاہ چادر لٹکا کے بیٹھے تھے
جوں احاطے میں داخل ہوئی!
کسی نے کہا
دختر ِ حاتم طائی! !
جھٹ سے اٹھے!
کندھے کی چادر گھسیٹ کے کھینچی!
مٹی پہ بچھا کے انہیں بیٹھنے کا کہا!
بولی
“میں حاتم کی بیٹی ہوں!
دور ہٹ گئے!
کسی نے کہا
عیسائی کی بیٹی ہے!!اتنی تعظیم؟
بولے!
سخی کی بیٹی ہے! مجھے سخی کی بیٹی سے حیا آتی ہے ____!!
اُس مقام پہ کہ جہاں گردنیں اترتی ہوں عزتیں اچھلتی ہوں وہاں اک بے دیار عورت کو اتنی تعظیم ملی کے الٹے پاؤں واپس دوڑی اپنے بھائ عدی بن حاتم کو پکڑ کر ساتھ لائی کہا ___ کلمہ پڑھوائیے! ! مسلمان ہوئے!
مروت ! احساس
(یہاں بھی یہ لفظ مثال کے درحق ہیچ)
کسی کا کردار کسی لفظ کے مفہوم سے بھی آگے نکل گیا ہوا ہو __ ایسا میں نے زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا نہ اب دیکھ پاؤں گا____ صلو علیہ وآلہ ِ
#Copied

October 8, 2019

مولانا فضل الرحمن کا ملین مارچ ، اربوں روپے کہاں سے آئے؟ لوگ سوچنے پر مجبور

لاہور: مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ملین مارچ کا اعلان کیا ہے اور اس بات کا عزم کا اظہار کیا ہےکہ اس مارچ میں لگ بھگ 15 لاکھ لوگ شرکت کریں‌گے ، مولانا فضل الرحمن ایک ملین یعنی 10 لاکھ لوگوں کو جمع کرتے ہیں‌ تو پھر ان کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے،
مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کی اندر کی کہانی پاکستان کے معروف اینکر ، صحافی کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں افشاں کردی ہے، مبشر لقمان نے یوٹیوب پر سیر حاصل، حقائق پر مبنی اور مدلل گفتگو کرے مولانا کے لئے کئی سوالات چھوڑ دیئے ہیں جن کے جوابات شاید وہ زندگی بھر نہ دے سکیں
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھاناپینا، آمدورفت کے لیے ہزاروں گاڑیوں کا استعمال اورپھر دس لاکھ لوگوں کو قضائے حاجت کے لیے ٹائلٹس کی فراہمی بنیادی مسائل اور جزیات میں سے ہیں‌،
معروف اینکر مبشر لقمان نے بڑی ہی تفصیل سے اور دلیل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک ایک آدمی کے ایک وقت کے کھانے پر کم از کم 60 روپے خرچ آئیں‌تو ایک وقت کے کھانے پر 60 ملین یعنی پاکستانی 6 کروڑ روپے خرچ آئیں‌گے ، یہ ایک وقت کاکھانا ہے جب دن میں‌تین مرتبہ کھانا کھائیں‌گے تو پھر کم از کم اس کی لاگت 180 ملین روپے یعنی ایک دن 18 کروڑ روپے خرچ آئیں‌گے
مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ایک مہینے کا پروگرام پہلے مرحلے میں تشکیل دیا ہے، اور ایک مہینے کے کھانے پر جو کم از کم خرچ ہوگا اس کی کل لاگت 5 ارب اور 40 کروڑ بنتی ہے ،مبشر لقمان نے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ملین مارچ کے شرکاء کو یقینا پانی کی بھی ضرورت ہوگی ، اس کے علاوہ کھاناپکانے کےلیے ایندھن ، گیس، اور گیس سلینڈر ، چولہوں‌کی بھی ضرورت ہوتی ہے، پھر ان سارے معاملات کو انجام تک پہنچانے کے لیے مزدوروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، چلو وہ سب فی الحال حساب میں نہیں‌لاتے مگر یہ تو حقیقت ہے کہ ایک گیس سلینڈر کی قیمت 6 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے اور پھر دس لاکھ لوگوں کے لیے کم از کم 50 ہزار سلینڈر کی ضرورت ہوگی جن کی کم از کم قیمت 30 کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا
گیس چولہے کتنی تعداد میں منگوائے جائیں گے ان کی تعداد بھی ہزاروں میں‌ہے ، یقینا ان کی تیاری کےلیے مولانا فضل الرحمن نے آرڈر دے رکھے ہوں‌گے اور اس کی صیح تعداد مولانا صاحب ہی بہتر جانتے ہیں‌
سنیئر اینکر مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی اندورنی کہانی بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ مولانا کا یہ دعویٰ ہےکہ وہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو اسلام آباد لے کر جائیں گے ، جس کے لیے ٹرانسپورٹرز سے بات چیت چل رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق 25 ہزار بسوں‌سے بات چیت چل رہی ہے کہ وہ اسلام آباد تک چھوڑنے اور پھر لینے کے لیے جائیں گے ، یہ تو وہ ٹرانسپورٹیشن ہے جو عام شرکاء کے لیے ہے مگر قائدین جمعیت کے لیے پرتعیش گاڑیاں بھی منگوائی جارہی ہیں‌جن کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ان کی قیمت کون اداکرے گا
مبشر لقمان نے بڑے ہی معاشی ماہر کی طرح ان گاڑیوں‌پرہونے والے اخرات کا تخمینہ لگایاہے جس کےمطابق اسلام آباد جانے کے لیے یک طرفہ ایک بس کم از کم 15 ہزارروپے کرایہ مانگ رہے ہیں‌ اور اگر کم از کم کرائے اور گاڑیوں کی تعداد کے حساب سے تخمیہ لگایا جائے تو یہ کل قیمت 37کروڑ 50لاکھ بنتی ہے،اور جب یہی مظاہرین واپس اپنے گھروں‌کو لوٹیں‌گے تو یہ کل رقم 75کروڑ تک جا پہنچتی ہے،
بڑے ہی خوبصورت انداز سے نقشہ کھینچتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ یہ طئے ہے کہ ایک ملین یعنی دس لوگوں کو اسلام آباد بلاتےہیں‌تو یقیقنا تین وقت کھانا کھانے کےبعد قضائے حاجت ، وضو اور طہارت کے لیے کم از کم 2 لاکھ طہارت خانوں کی ضرورت ہے اس کے بغیر گزارہ نہیں‌ہوسکتا ، ایک طہارت خانے پر کم از کم خرچ 20 ہزارروپے آئے گا ، یو دولاکھ طہارت خانوں پر کل آنے والی لاگت کا تخمیینہ 4 ارب روپے بنتاہے ، مبشر لقمان یہ سارے اعدادوشمار بیان کرکے بڑی حیرانگی سے پوچھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انتی خطیر رقم کہاں سے مل رہی ہے یہ ہے اصل سوال جو قوم ضرور پوچھے گی
مبشر لقمان نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توقع یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں‌شرکت کرنے والے شرکاء روزانہ کم از کم 2 لاکھ کلوگرام فضلہ پاخانے کی شکل میں اسلام آباد میں‌ پیدا کریں‌گے یا اور عارضی طہارت خانوں میں بہائیں گے ، جبکہ جس جگہ یہ مارچ ہوگا وہاں تو کوئی سیوریج سسٹم نہیں‌ہے،تو پھر یہ گندگی کے ڈھیر جب اسلام آباد کی مضافات میں لگیں‌گے تو پھر کیا بیتے گی راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں پر اور ماحول پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کے بارے میں تو اب کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے

سنیئر اینکر نے بڑے مناست انداز میں تصویر کھینچتے ہوئے منظر بیان کیا ہے اور اس مارچ کے دیگر لوازمات پر بھی روشنی ڈالی ہے، مبشر لقمان حقائق کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ اس مارچ کے شرکاء کے لیے روشنیوں کا بھی اہتمام کرنا ہے ، جس کے لیے بڑی بڑی لائٹیں‌اور جنریٹرز کی بھی ضرورت پڑے گی ،مولانا فضل الرحمن کے لیے تیار خصوصی کنٹینر کو تو خصوصی طور پر ان لوازمات کی ضرورت ہوگی ، اب اس کے بعد اس صورت حال یعنی بجلی ، لائیٹوں ، روشنیوں اور جنریٹرز پر کروڑوں روپے خرچ آئیں‌گے وہ کون ادا کرے گا
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے محتاط تخمینے لگا کر جو حقائق قوم کے سامنے پیش کیئے وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں‌مبشر لقمان نے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مولانا کے اس مارچ پر مجموعی طور پر 10 ارب روپے خرچ آئیں‌گے ، ان اعدادوشمار کے بعد اب ہر ذی شعور یہ تو ضرور سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر اتنی خطیر رقم مولانا کو کون دے رہا ہے ، آخر کوئی تو ہےجو مولانافضل الرحمن کو سپورٹ کررہاہے ، قوم ضرور پوچھے گی کی اتنی خطیر رقم کی منی ٹریل دی جائے ، قوم حساب مانگے گی اور ادارے حساب کتاب لگا کر حقیقت قوم کے سامنے رکھیں‌گے پھر سب حقیقتیں کھل جائیں‌گی کہ پاکستان میں‌ آزادی مارچ کے نام پر مذہبی انتہا پسندوں‌ کو اربوں روپے جہاں جہاں سے آتی ہیں‌

October 2, 2019

کشمیر میں بھارتی اقدامات،چین سے جڑے لداخ میں بھی نئی کشیدگی،رپورٹ پڑھیے

جدت ویب ڈیسک ::بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں نئی دہلی حکومت کے تقریباﹰ دو ماہ قبل کیے گئے اقدامات کے بعد اب اس متنازعہ خطے کے ایک حصے لداخ میں بھی نئی کشیدگی اور سماجی تناؤ پیدا ہو چکے ہیں، جس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں لہہ سے بدھ دو اکتوبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق لداخ چین کے ساتھ سرحد سے جڑا ہوا ریاست جموں کشمیر کا ایک ایسا انتہائی خوبصورت لیکن دور دراز حصہ ہے، جہاں پانچ اگست کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے جموں کشمیر کی بھارتی آئین کے مطابق خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے لے کر اب تک کافی زیادہ تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
مودی حکومت کے اعلان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین متنازعہ اس ریاست کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ حصے جموں کشمیر اور لداخ کہلائیں گے اور دونوں ہی بھارت کے یونین علاقے ہوں گے۔
لیکن کشمیر ہی کے ایک حصے سے متعلق بھارت کا چین کے ساتھ تنازعہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جموں کشمیر کے چین کے ساتھ سرحد پر واقع حصے لداخ میں نئے کھچاؤ کا پیدا ہونا سیاسی اور جغرافیائی طور پر ایک یقینی سی بات تھی۔
لہہ اور کارگل پر مشتمل لداخ
اس بارے میں اے پی نے اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں لکھا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے شمال مشرق میں واقع لداخ کا علاقہ مزید دو حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سے ایک لہہ کہلاتا ہے اور دوسرا کارگل۔ ضلع لہہ کی آبادی میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے جبکہ کارگل کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے۔ لداخ جموں کشمیر کا وہی علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھارتی اور چینی دستوں کے مابین وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس علاقے میں نئی کشیدگی کا سبب نئی دہلی کے پانچ اگست کے فیصلے کے ساتھ کیا جانے والا وہ اعلان بھی ہے، جس پر مودی حکومت کے پروگرام کے مطابق 31 اکتوبر کو عمل درآمد ہو جائے گا۔
تب لداخ کا یہ علاقہ جموں کشیر سے کاٹ کر عملاﹰ علیحدہ کر دیا جائے گا اور ایک یونین علاقے کے طور پر براہ راست نئی دہلی کے انتظام میں آ جائے گا۔
مسلم اور بودھ آبادیوں کے مابین کھچاؤ
اس پیش رفت کے باعث لداخ میں نئی کشیدگی کا سبب اس خطے کی بودھ او مسلمان آبادی میں پائے جانے والے خدشات بھی ہیں۔
لداخ میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے مابین ثقافتی اور سیاسی اختلافات تو ہمیشہ ہی سے تھے لیکن یہ تناؤ تشدد کی وجہ نہیں بنا تھا۔
اب لیکن لہہ اور کارگل کی ایک دوسرے سے مختلف ان اکثریتی آبادیوں کو یہ خوف بھی لاحق ہو چکا ہے کہ یکم نومبر کا دن ان کے لیے کون کون سی عملی تبدیلیاں اور ان دیکھے حقائق اپنے ساتھ لائے گا۔
لداخ سے متعلق نئی دہلی حکومت کے پانچ اگست کے اعلان پر اس خطے کی بودھ آبادی نے خوشی کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس کا روایتی طور پر یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس خطے میں زیادہ تر ملازمتیں اور مالی وسائل مسلم آبادی کے حصے میں ہی آتے ہیں۔ پھر لداخ کے ان بودھ باشندوں کے لیے یہ بات بھی تشویش کا باعث بن گئی کہ ان کے اکثریتی علاقے لہہ کی منفرد ثقافتی اور سماجی حیثیت بھی اس وقت خطرے میں پڑ جائے گی، جب عام بھارتی شہری، جن کی بہت بڑی اکثریت ہندو ہے، لہہ میں املاک خریدنے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کے حقدار ہو جائیں گے۔
اسی علاقے سے متعلق تنازعے کے باعث 1962ء میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی جنگ بھی ہوئی تھی
لداخ کے اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سیاچن گلیشیئر کا مشہور اور اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم علاقہ بھی اس خطے میں ہے، جسے عسکری ماہرین ‘دنیا کا بلند ترین میدان جنگ‘ بھی کہتے ہیں۔
اس گلیشیئر اور اس سے ملحقہ علاقے میں بھارت اور اس کے حریف ہمسایہ ملک پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
دنیا کا یہ بلند ترین میدان جنگ سطح سمندر سے 6,700 میٹر یا 22,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور نئی دہلی اور اسلام آباد میں ملکی حکومتوں کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں ان ممالک کے جتنے بھی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ان میں انتہائی شدید نوعیت کے موسمی حالات کے باعث ہونے والی ہلاکتیں مسلح فوجی جھڑپوں میں ہونے والے جانی نقصانات سے زیادہ تھیں  @dw_urdu

Image result for ladakh

Ladakh welcomes new status

Image result for ladakh

Image result for ladakh

·
October 1, 2019

کچرا کچرا کراچی کے لیے سنگاپور بہترین مثال،جانیے کیسے؟

جدت ویب ڈیسک ::کراچی کے کچرے نے نہ صرف شہریوں بلکہ ارباب اختیار کو بھی پریشان کر رکھا ہے کہ روزانہ پیدا ہونے والے لاکھوں ٹن کچرے کو کیسے اور کہاں ٹھکانے لگایا جائے۔  نہ صرف کراچی بلکہ کچرے سے پریشان دنیا کے ہر شہر کو اس معاملے میں سنگاپور کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے۔براعظم ایشیا کا سب سے جدید، ترقی یافتہ اور خوبصورت ترین ملک سنگاپور نہایت چھوٹا سا ملک ہے اور یہاں کچرے کے بڑے بڑے ڈمپنگ پوائنٹس بنانے کی قطعی جگہ نہیں۔ سنگاپور کی صفائی ستھرائی مغربی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے، آئیں دیکھتے ہیں کہ سنگاپور اپنے کچرے کو کس طرح ٹھکانے لگاتا ہے۔

Image result for karachi kachra

Image result for karachi kachra vs singapore

سنگاپور میں روزانہ کی بنیاد پر ہر جگہ سے کچرا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ پورے ملک سے اکٹھا کیا جانے والا کچرا ایک بڑی سی عمارت میں لایا جاتا ہے۔  اس عمارت میں اس کچرے کو جلایا جاتا ہے، یہاں جلنے والی آگ سال کے 365 دن جلتی رہتی ہے، 1000 ڈگری سیلسیئس پر جلنے والی یہ آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔ کچرے جلانے کے اس عمل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، یہ عمارت سنگاپور میں توانائی پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس عمارت سے نکلنے والا دھواں ماحول کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔

دراصل اس عمارت میں صرف مزدور یا کاریگر موجود نہیں ہوتے جو آگ جلا کر کچرا اس میں پھینک دیں، یہاں سائنسدان اور اپنے شعبے کے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں سے نکلنے والا دھواں صاف ستھرا ہو۔  زہریلے دھوئیں کو صاف یا فلٹر کرنے کا عمل جدید سائنسی بنیادوں پر استوار اور نہایت پیچیدہ ہے، اور اس مشکل عمل کے بعد اس عمارت کی چمنیوں سے خارج سے ہونے والی ہوا بالکل صاف ستھری ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 90 فیصد کچرا جل کر غائب ہوجاتا ہے، صرف 10 فیصد راکھ کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے۔ اس راکھ کو دور دراز واقع انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے ایک جزیرے پر لے جایا جاتا ہے اور پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ پانی سمندر اور دریاؤں سے بالکل الگ تھلگ ہے لہٰذا اس میں ڈالی جانے والی راکھ یہیں رہتی ہے۔  سنگاپور کی اس حکمت عملی سے وہ پلاسٹک جسے غائب ہونے میں 500 برس لگتے ہیں، 1 دن میں غائب ہوجاتا ہے۔ اور یہ سارا عمل اس قدر صاف ستھرا ہے کہ سنگاپور کا قدرتی ماحول اور حسن برقرار ہے، جنگلی و آبی حیات اور نباتات تیزی سے نشونما پا رہے ہیں اور جنگل سرسبز ہیں۔

September 30, 2019

لوبان کی طلسماتی دنیا ’ہر مرض کی دوا‘

جدت ویب ڈیسک ::لوبان کی طلسماتی دنیا ’ہر مرض کی دوا‘ ۔ایک مسافر کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں مسقط کے مطرہ بازار کی پرپیچ گلیوں سے گزر رہا تھا تو پورا بازار لوبان کے خوشبودار دھویں سے اٹا ہوا تھا۔ یہ بھینی بھینی خوشبو عمان کے شہروں اور ثقافت میں پھیلی ہوئی ہے اور میں بھی ہوا میں تیرتی اس نمایاں مٹی کی مہک والی خوشبو سے دور نہیں رہ سکا۔
میں دکانوں کے باہر رکھے سونے اور چاندی کے ملمع شدہ عود دانوں سے اٹھنے والی دلفریب خوشبو کی جانب کھنچا چلا گیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی دکانیں مصالحہ جات، گوند اور کھجوروں کے ڈھیروں سے سجی ہوئی تھیں۔
اس بازار میں خواتین سیاہ عبایا پہنے رنگ برنگے ریشمی حجاب اور شالیں اوڑھے جبکہ مرد ٹخنوں تک ثوب یا لمبے سفید چوغے اور خوبصورت کڑھائی والی کوما ٹوپیاں پہنے لوبان کے ٹکڑے خرید رہے تھے۔
یہ مسقط تھا جو بائبل (انجیل) کی مکمل جادوئی اور حیرت انگیز تصاویر جیسا تھا۔
یقیناً مطرہ بازار دنیا کی ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں سے میں ایک ہی جگہ سے سونا، خوشبودار گوند اور لوبان خرید سکتا تھا، وہ تین تحائف جو پیغمبر عیسیٰ کو بچپن میں مسیحی روایت کے مطابق پیش کیے گئے تھے۔ یہ دو ہزار سال قبل قیمتی تحائف تھے کیونکہ اس وقت لوبان کی قیمت سونے کے برابر لگائی جاتی تھی۔
خوشبو اور علاج کے طور پر چھ ہزار سال سے استعمال کیا جانے والا لوبان (قدیم فرانسیسی زبان ‘فرانک اینسینس’ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ‘خالص خوشبو’) جو ایک بوسویلیا جینس کے درختوں سے کاٹا ہوا خوشبو دار گوند ہے، جو خصوصی طور پر حبس زدہ آب و ہوا والے علاقے میں اگتا ہے جو ہارن آف افریقہ (مشرقی افریقائی علاقوں) سے انڈیا اور جنوبی چین تک واقع ہے۔
دنیا میں زیادہ تر یہ صومالیہ، اریٹیریا اور یمن جیسے ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شورش نے ان ممالک میں لوبان کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن پرامن عمان دنیا کا بہترین اور انتہائی مہنگا لوبان پیدا کرتا ہے جسے قدیم مصری باشندے ‘خداؤں کا پسینہ’ کہتے تھے۔
بوسویلیا سیکرا کا درخت عمان کے جنوبی صوبے ظفار کے ناسازگار علاقے میں پایا جاتا ہے۔ لوبان کے گوند کی قیمت کا تعین اس کے رنگ، اس کے سائز اور اس میں موجود تیل کی مقدار سے ہوتا ہے۔
ان میں سے سب سے قیمتی قسم کو ہوجاری کہا جاتا ہے جو ظفار پہاڑوں کی خشک اور حبس زدہ آب و ہوا میں پایا جاتا ہے اور اس کی کاشت موسم گرما میں مون سون کی آمد سے پہلے کر لی جاتی ہیں کیونکہ اس کے بعد جزیرہ نما عرب پر کہرا چھا جاتا ہے۔
آج اس خطے میں پائے جانے والے لوبان کے درخت اور چوتھی صدی قبل مسیح کے قافلوں کے بہت سے راستے اور بندرگاہیں عمان میں عالمی ثقافتی ورثہ کا حصہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق ’کئی صدیوں سے اس خطے میں پروان چڑھنے والی عطر اور خوشبو کی تجارت قدیم اور قرون وسطی کی دنیا کی ایک سب سے اہم تجارتی سرگرمی تھی۔‘
یہاں سے ہزاروں اونٹوں اور غلاموں پر مشتمل قافلے لوبان لے کر صحرائے عرب کے پار دو ہزار کلومیٹر طویل سفر کے لیے نکلتے تھے جن کی منزل مصر، بابل، قدیم یونان اور سلطنت روم ہوتی تھی جبکہ خوشبودار گوند سے لدے بحری جہاز چین تک سفر کرتے تھے۔ قدیم روم کے ایک عالم پلینی دی ایلڈر (23-79 AD) نے لکھا تھا کہ اس تجارت نے جنوبی عرب کے باشندوں کو ’روئے زمین پر امیر ترین لوگ‘ بنا دیا تھا۔
لوبان اپنے دور کی ایسپرین، پینسیلین اور ویاگرا بھی تھا، اس کو بواسیر سے لے کر ماہواری کی تکلیف اور میلانوما یعنی رسولی تک ہر چیز کا موثر علاج سمجھا جاتا تھا۔
یونانی فوج کے معالج پیڈینیئس ڈیوسورسائڈس نے لوبان کو ایک عجیب و غریب دوا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چپچپی گوند ‘السر کے کھوکھلے پن کو بھر سکتی ہے’ یا ‘خونی زخموں کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہے۔‘
طبی علم کے بارے میں قدیم مصر کی سب سے اہم دستاویز، ایبیرز پیپیرس میں لوبان کو دیگر بیماریوں مثلاً دمہ، خون بہنے، گلے میں انفیکشن اور الٹی کا علاج قرار دیا ہے۔
مصری اسے خوشبو، کیڑے مکوڑے بھگانے اور مردوں کو دفنانے، لاشوں کے گلنے سڑنے سے اٹھنے والے تعفن کو ختم کرنے میں استعمال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر درآمد کرتے تھے۔
یہاں تک کہ جب سنہ 1922 میں بادشاہ توت عن خآمون کی قبر کشائی کی گئی تھی تو اس میں بھی لوبان سے بنا مرہم پایا گیا تھا۔.وبان کو قدیم دور میں پاکیزگی کی علامت کے طور پر جلایا جاتا تھا اور تصور کیا جاتا تھا کہ اس عمل سے الوہیت حاصل ہوتی ہے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اس کا دھواں براہ راست جنت کو جاتا ہے۔ قدیم دنیا کے بہت سے مندروں میں اسے خاص اہمیت حاصل تھی۔
میرے مقامی گائیڈ امور بن حماد الحسنی نے مجھے بتایا کہ ’ہم سانپوں کو بھگانے کے لیے لوبان کو جلاتے ہیں‘۔ میرا گائیڈ مجھے شمالی عمان کے الداخلیہ کے علاقہ میں موجود سترہویں صدی کے نجوہ قلعہ بھی لے کر گیا۔
یہ قلعہ متعدد تجارتی راستوں کے سنگم پر واقعہ ہونے کے وجہ سے خاص سٹریٹجک حیثیت کا حامل رہا ہے اور اسے ایک دور میں ‘اسلام کا موتی’ بھی کہا جاتا تھا۔
اس قلعہ کی ایک دکان میں سیلز گرل میثا الزھرا نصر الحسنی نے بتایا کہ ہم اسے جنوں اور بدروحوں کو بھگانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس دکان پر لوبان سے بنے تیل، پرفیومز اور لوشن موجود تھے۔ حماد الحسنی کے سونے کے کام والے چوغے کو بھی لبان کے عطر میں بھگویا گیا تھا۔
عمان میں قیام کے دوران میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ کس طرح لوبان آج بھی عمانی ثقافت کا لازمی جز ہے۔
نزوا شہر میں میں نے عمانیوں کو کھانے والی لوبان کے گوند کو اپنی سانسوں کو تازہ کرنے کے لیے چباتے دیکھا تھا۔
ایک دکاندار نے مجھے بتایا کہ ’حاملہ خواتین بھی اس کو چباتی ہیں کیونکہ حاملہ مائيں یہ سمجھتی ہیں کہ ’اس کی خصوصیات ذہین بچے کی پیدائش کو یقینی بنائے گی۔‘
یہ صحت مند نظام ہاضمہ اور جلد کے لیے ادویات کے طور پر اور چائے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عمانی اس کی خوشبو کا استعمال اپنے گھروں سے مچھروں کو بھگانے کے لیے کرتے ہیں اور کھانے کے بعد بخور جلانے والے کے قریب سے گزرنا مہمان نوازی کا علامت سمجھا جاتا ہے۔ لوبان کے استعمال کو عمانی معاشرے میں احترام اور امارت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
تریگوے ہیرس کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے ظفار میں عطر بنانے اور لوبان کی گوند کی صفائی کی ڈسٹلری کی مالکن ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’عمانی قسم کھاتے ہیں کہ جبل سمھان یا حاسک سے حاصل کیے جانے والے سفید لبان کے ’قطرے‘ ہترین ہوتے ہیں۔ یہ سب سے خالص اور مہک والے ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا پسندیدہ لوبان کالا لوبان ہے جو سلالہ کے مغرب میں الفضایہ کے پہاڑوں سے آتا ہے۔ انھوں نے مجھے تانبے سے بنے پرانے مشکوں سے بھرا ایک کمرہ دکھایا جس میں وہ بڑی
احتیاط سے نازک گوند سے تیل نکالتی تھیں۔مختلف علاقوں کی مٹی، آب و ہوا اور اس کی کٹائی کے اوقات مختلف رنگوں کی گوند پیدا کرتے ہیں اور عام طور پر گوند جتنی سفید ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی بھی ہوتی ہے۔
گرمیوں میں ہیرس لوبان کا مربع بھی بناتی ہیں جسے وہ مسقط کے بازار میں کرائے پر لیے گیے ٹھیلے پر فروخت کرتی ہیں اور مقامی افراد یہ ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے ہیں۔
ہیرس پہلی بار سنہ 2006 میں عمان آئی تھیں تاکہ وہ نیویارک میں خوشبودار تیل کی دکان کھولنے کے لیے یہاں سے سامان لے جا سکیں۔ ’لیکن عمان میں بھی مجھے صرف صومالیہ کا تیل ملا تھا نہ کہ اعلی معیار کا عمانی تیل۔ کیونکہ اس وقت اسے کوئی کشید نہیں رہا تھا۔’
وہ عمان کی سب سے بڑی پرفیوم کمپنی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’ حتی کہ اماگیو بھی نہیں۔‘ یہ کمپنی مہنگے لوبان کے عطر اور پرفیومز بنانے کے لیے مشہور ہے۔
سنہ 2011 میں وہ ظفار کے دارالحکومت صلالہ منتقل ہو گئی تھی اور انھوں نے وہاں خشبوؤں کی ایک دکان بنا لی تھی۔ آج وہ مسقط میں مقیم ہیں اور بین الاقوامی پرفیومز بنانے والے چھوٹے اداروں اور تیل خریدنے والی کمپنیوں کو اپنی اشیا بیچتی ہیں۔
وہ روزانہ دو سے تین کلو تک بوسویلیا سیکرا کا جوہر تیار کرتی ہے جس کی قیمت 555 پاؤنڈ فی کلو ہے۔
بظاہر تمام عمانی لبان بوسیلیا سیکرا کے درختوں سے کاشت کیا جاتا ہے جو ظفار کے صحرا میں جنگلی جھاڑیوں کی طرح اگتے ہیں اور ان کی ملکیت مقامی قبائل کے پاس ہے۔ اس کی کاشت ہر برس اپریل میں شروع ہوتی ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گوند کا بہاؤ زیادہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔
مزدور پیڑ کے تنے میں جگہ جگہ کاٹ دیتے ہیں تاکہ اس جگہ سے دودھیا رس نکل کر نیچے آئے جس طرح موم بتی سے موم نیچے آتا ہے۔ اس رس کو دس دنوں تک گوند بننے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب پیڑ کے تنے سے پیڑ کے ‘آنسو’ پوچھ لیے جاتے ہیں تو پھر کسان اسی جگہ پھر سے کاٹ دیتے ہیں۔ اور وہ کئی بار ایسا ہی کرتے ہیں اور جاڑے سے قبل وہ آخری فصل نکالتے ہیں جو کہ سب سے زیادہ قیمتی گوند ہوتا ہے۔
لوبان کو ماحول کو عطر بیز بنانے، تقدس پیدا کرنے اور مہمانوازی کے لیے جلایا جاتا ہے
پانچ سال تک کاٹتے رہنے کے بعد اس پیڑ کو پانچ سال تک پھر نہیں چھوا جاتا ہے یعنی وہاں سے پھر رس کشید نہیں کیا جاتا ہے۔
بہر حال دور حاضر میں عمان کے نادر بوسویلیا سیکرا درختوں کو عالمی سطح پر اس کی مانگ میں اضافے سے خطرہ لاحق ہے۔ ماہر نباتات اور ‘بوسویلیا: خوشبو کے مقدس درخت’ نامی کتاب کے مصنف جوشوا اسلامہ کا کہنا ہے کہ ‘ بین الاقوامی بازار میں خوشبودار تیلوں اور کلیت والی دواؤں میں خوشبودار لوبان میں لوگوں کی تازہ دلچسپیوں نے بوسویلیا کے قدرتی زخائر پر اثرات مرتب کیے ہیں۔’
بوسویلیا سیکرا کو بین الاقوامی سطح پر تقریبا معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پودوں کی سرخ فہرست میں شامل کیاگیا ہے جبکہ نیچر میگزن میں شائع ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیڑ اس قدر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں کہ آنے والے 20 سالوں میں لوبان کی پیداوار 50 فیصد ہی رہ جائے گی۔
ایک دوسری رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ایک پیڑ سے دس کلو گرام اوسطا خوشبودار گوند حاصل کرنے میں کافی کمی آئی ہے اور اب یہ کم ہو کر 3۔3 کلوگرام فی پیڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں ظفار کے سمہان پہاڑی کے قدرتی زخائر میں بوسویلیا سیکرا کے درخت کی آبادی 85 فیصد کم ہو گئی ہے،۔
سائنسدانوں نے قحط سالی، حد سے زیادہ چراگاہ کے طور پر استعمال، کیڑوں کے حملے اور مسلح صومالی سمگلروں کی غیر قانونی کشید کو رس کی کمی کا سبب بتایا ہے۔ اور اسی سب عمان کے سطان نے حالیہ برسوں کے دوران اس وادی کی حفاظت کے لیے مسلح گارڈز تعینات کیا ہے۔
تاہم عمان کی ماحولیاتی سوسائٹی کے پروجیکٹ منیجر ڈاکٹر محسن الامری کا کہنا ہے کہ ناقابل عمل کٹائی اس پودے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا: ‘کم تجربہ کار جزوقتی مزدور رس نکالنے کے روایتی طریقے کو نظر انداز کرتے ہوئے درختوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔’
ان کے مطابق چھوٹے اور غیر تیار پیڑ سے بھی رس نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ عالمی بازار میں مانگ میں اضافے کو پورا کرنے کے لیے تیار پیڑ سے بھی ضرورت سے زیادہ رس نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بوسویلیا کی قلمیں کم ہی تعداد میں نوخیز پودوں اور بڑے درختوں میں بدل پاتی ہیں۔
میں عمان کے لوگوں کو لوبان کی ڈلیوں کی جانچ کرتے اور رنگ اور مقام کی بنیاد پر اس کی قیمت طے کرتے دیکھ کر کبھی ان چیزوں کو نہیں جان سکتا تھا۔
اس بازار کی پرپیچ گلیوں نےمجھے مسقط کے بندرگاہ مطرہ کورنش پرومینیڈ تک پہنچایا تھا جو کہ بحیرہ عرب کے ساحل کے ساتھ تھا۔ یہان مطرہ کی جامع مسجد کے فیروزی گنبد و مینار نمایاں تھے۔ روایتی بادبانوں والی عربی کشتی جلی ہوئی حنا کے رنگ کے پہاڑوں کے درمیان خیلج میں ایک کے بعد ایک نظر آ رہی تھی۔ موذن نمازیوں کو بلا رہے تھے اور وہاں کی فضا عمان کی مخصوص خوشبو سے معطر تھی۔
بشکریہ بی بی سی

Related image

Image result for loban tree benefits

Image result for loban tree benefits

لوبان کے ٹکڑے

September 13, 2019

کائنات میں زندگی کی تلاش ماہرین فلکیات نے سیارے پر پانی دریافت کرلیا

لندن: جدت ویب ڈیسک :::ماہرین فلکیات نے پہلی بار ایک ایسے سیارے پر پانی تلاش کرلیا ہے جہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ماہرین فلکیات نے پہلی بار ایک ایسے سیارے پر پانی تلاش کیا ہے جہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے، زندگی کے لیے موزوں سمجھا جانے والا یہ سیارہ خلا میں بہت دور ایک ستارے کے گرد اتنے فاصلے پر گردش کررہا ہے کہ اس پر زندگی ممکن بنانے والے حالات موجود ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق (کے ٹو اٹھارہ بی) نامی یہ سیارہ اس دریافت کے بعد کائنات میں زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں اہم امیدوار بن گیا ہے۔
اب اگلا مرحلہ یہ ثابت کرنے کا ہے کہ اس سیارے کی فضا میں ایسی گیسیں موجود ہیں، جو وہاں زندگی ممکن بناپائیں، اس کے لیے نئے اور مزید طاقتور ٹیلی اسکوپ چاہیے ہوں گے اور ایسا کرنے میں دس سال لگ سکتے ہیں۔اس مشن کے رہنما سائنس دان یونیورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر گیووانا ٹینیٹی نے پانی کی اس دریافت کو ’ہوش اڑا دینے والی دریافت‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہم نے ایک ایسے سیارے پر پانی کے آثار دیکھے ہیں جو اپنے ستارے سے اتنے فاصلے پر گردش کررہا ہے کہ وہاں زندگی ممکن ہوسکتی ہے۔
زمین سے 111 نوری سال یعنی 650 ملین میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں خلائی گاڑی کے ٹو اٹھارہ بی یونیورسٹی کالج کی ڈاکٹر انگو والڈمان کے مطابق سیارہ بھیجنا ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر انگو والڈمان کے مطابق اس صورت حال میں وہاں زندگی کی موجودگی کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ہمیں خلا میں دیکھنے والی ٹیلی اسکوپ کے ان نئے ماڈلز کا انتظار کرنا ہوگا جو 2020 کی دہائی میں تیار ہوں گے۔

Image result for water discovered on planet

Image result for water discovered on planet

Image result for water discovered on planet

September 7, 2019

مرغے نے عدالت سے بانگ دینے کا مقدمہ جیت لیا

جدت ویب ڈیسک ::فرانس کی علاقائی عدالت نے ایک کیس میں مرغے کو بانگ دینے کی اجازت دے دی جس پر پڑوسیوں کی نیند میں خلل ڈالنے کا الزام تھا۔
فرانسیسی جزیرے اولیراں میں موریس نامی مرغے پر ایک معمر جوڑے نے مقدمہ کیا تھا کہ اس کی بانگ صبح کی نیند میں خلل کا سبب بنتی ہے لہذا اسے چپ کرایا جائے۔
مقدمہ ایک معمر جوڑے نے دائر کیا تھا جو چھٹیاں گزارنے کی غرض سے وہاں اپنے گھرمیں قیام پذیز تھا
مرغے کا مقدمہ لڑنے والی خاتون وکیل نے کہا کہ 40 ہمسائیوں میں سے صرف دو افراد کو بانگ سے مسئلہ ہے۔
فیصلہ حق میں آنے کے بعد مرغے کی مالکن نے کہا کہ موریس نے آج پورے فرانس کا مقدمہ جیتا ہے۔
مرغے کی مالکن کورین فیسو موریس نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ موریس کی بانگ روکنے کے لیے انہوں نے متعدد بار ایک تاریک ڈربے میں بند کیا تاکہ اس تک سورج کی روشنی نہ پہنچ سکے۔
اپنی نوعیت کے انوکھے مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے آئے ایک دیہاتی نے کہا کہ یہ درحقیقت شہری اور دیہاتی عوام کے درمیان فرق کا نتیجہ ہے، ہم شہر جا کر مطالبہ نہیں کرتے کہ یہاں گاڑیوں کا شور اور عوام کی بھیڑ کیوں ہے۔
دوماہ قبل کیس کی پہلی سماعت پر مدعی اور ملزم تو جج کے سامنے حاضر نہیں ہو سکے لیکن موریس کے ساتھی ایک مرغی اور ایک مرغا عدالت کے احاطے میں گھومتے پائے گئے تھے۔

Related image

Image result for rooster in court

Image result for rooster in court

September 2, 2019

سال میں ایک دن کیلئےنمودار ہونے والے جزیرے پر دلچسپ کرکٹ میلہ

جدت ویب ڈیسک ::انگلینڈ میں سمندر کے جنوبی ساحل کےقریب ایک دن کے لئے نمودار ہونے والے جزیرے پر اس بار بھی کرکٹ کا میلہ سجایا گیا۔ لوگ کشتیوں میں جزیرے تک پہنچے اور اس روایتی میچ کوگہری دلچسپی سے دیکھا۔اس بار آئی لینڈ سیلنگ کلب کی ٹیم نے فتح کا تاج اپنے سر سجایا۔
قابل غور اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر کے بیچ میں ہر سال ایک جزیرہ صرف ایک گھنٹے کے لیے نمودار ہوتا ہے جسے بریمبل بنک کہا جاتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس جزیرے پر ہرسال ایک تاریخی میچ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دو ٹیمیں رائیل سدرن کلب اورآئی لینڈ سیلنگ کلب مدمقابل ہوتی ہیں۔
ان میچز کا سلسلہ1950 سے جاری ہے، اس میچ کو دیکھنے کے لیے لوگ کشتیوں پر سوار ہوکر جاتے ہیں اور اس میچ سےخوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔
حیران کُن بات یہ ہے کہ یہ جزیرہ مختلف تاریخوں پر نمودار ہوتا ہے، اس لیے میچ کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی جاتی۔
پچھلے سال یہ جزیرہ 15 جولائی کو نمودار ہوا اورمیچ کاا نعقاد کیا گیا جب کےاس سال یہ یکم ستمبر کو نمودار ہوا جہاں روایتی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا گیا۔  میچ شروع ہونے سے قبل مذہبی پیشوا میچ کو شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور میچ شروع ہوجاتا ہے۔
اس سال آئی لینڈ سیلنگ کلب کی ٹیم میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ شائقین کی خاصی بڑی تعداد اپنی اپنی کشتیوں پر میچ کو دیکھنے کے لیےآئی اور کھلاڑیوں کو بھر پورداد دی۔

Image result for Annual Bramble Bank cricket match in middle of SolentBramble Bank