June 7, 2019

– پھر کیا ہوا ؟؟جب آپریشن کے دوران مریض کے جسم کے اندر آگ بھڑک اٹھی

جدت ویب ڈیسک ::دُنیا میں بے شمار حادثے ہوتے رہتے ہیں حال ہی میں آسٹریلیا میں ایک شخص زندگی بچانے کے لیے ہونے والا آپریشن اس کی موت کا باعث بنتے بنتے رہ گیا، جس کی وجہ اچانک آگ بھڑک جانا تھا۔
اور یہ آگ کمرے میں نہیں بھڑکی تھی بلکہ مریض کے سینے کے اندر بھڑکنے لگی تھی۔ جی ہاں ایسا عجیب واقعہ آسٹریلیا میں پیش آیا جہاں 60 سالہ شخص دل کی شریانوں کے مسائل کے باعث اوپن ہارٹ سرجری کرانے کے لیے ہستپال میں داخل ہوا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایمرجنسی ہارٹ سرجری کے دوران وہ شخص ہلکا سا ترچھا ہوگیا، اور ایسا ہوتے ہی اس شخص کے کھلے ہوئے سینے (آپریشن کے لیے کیا جانے والا سوراخ) میں آگ بھڑک اٹھی۔
حیران کن طور پر ڈاکٹر ایمرجنسی کے اندر ایک اور ایمرجنسی پر گھبرائے نہیں بلکہ اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے اور آپریشن کو کسی پیچیدگی کے بغیر مکمل بھی کیا۔ اس عجیب کیس کی رپورٹ یورپین سوسائٹی آف Anesthesiology کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی۔
یہ واقعہ 2018 کا تھا اور ڈاکٹروں کے مطابق اس مریض کو شریان کی اندرونی دیوار میں سنگین مسئلے کا سامنا تھا اور زندگی بچانے کے لیے فوری سرجری کی ضرورت تھی، مگر اس شخص کو پھیپھڑوں کے مسائل کا بھی سامنا تھا جیسے ہوا سے بھرے چھوٹے چھوٹے آبلے بنے ہوئے تھے جس نے آپریشن کو غیرمتوقع طور پر پیچیدہ بنادیا۔
مریض کے دل تک پہنچنے کے لیے ڈاکٹروں نے سینے کو درمیان سے کاٹ کر کھول لیا مگر اس عمل کے دوران دائیں جانب کا پھیپھڑا ہڈی میں پھنس گیا اور جب ڈاکٹروں نے احتیاط سے دائیں پھیپھڑے کو ہڈی سے نکالا، تو ایک ایسا ہی آبلے پھوٹ گئے جس سے ہوا کا اخراج ہوا، جس پر مزید anesthesia مریض کے جسم میں داخل کیا گیا جبکہ وینٹی لیٹر سے ہوا کے بہاؤ کو 100 فیصد آکسیجن سے تبدیل کیا گیا۔
آپریشن کے دوران ایک ڈیوائس کو استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ٹشوز کو کاٹنے یا جلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ مریض کے سینے کے سوراخ کے قریب ایک خشک سرجیکل پیک بھی رکھا گیا تھا، یعنی وہ بنڈل جس میں سرجیکل آلات ہوتے ہیں۔تو جیسے ہی مریض کے اندر ہوا کو تبدیل کیا گیا، ڈیوائس سے ایک اسپارک خشک سرجیکل پیک میں ہوا اور چونکہ مریض کے سینے سے خالص آکسیجن والی ہوا نکل رہی تھی تو آگ بھڑک اٹھی۔خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے فوری طور پر آگ کو بجھا بھی دیا اور مریض کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا، جس کے بعد آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا گیا۔

Image result for australia fire on operation theatre

Image result for australia fire on operation theatre

May 30, 2019

سٹاک ایکسچینج۔۔۔۔۔کیا ھے؟؟

جدت ویب ڈیسک :: سٹاک ایکسچینج۔۔۔۔۔کیا ھے؟؟ایک گاؤں کے پاس ایک جنگل تھا جس میں بندر بہت تھے۔ایک کمپنی نے اپنا کیمپ لگایا اور سروے کیا کہ کتنے بندر ہیں جنگل میں۔ اِس کے بعد گاؤں میں اعلان کر دیا کہ کمپنی 300 روپے کا ایک بندر خریدے گی۔ گاؤں والوں نے سوچا مفت کا بندر ہے اور 300 ملیں گے۔گاؤں والوں نے بندر پکڑنا شروع کر دئیے۔
کمپنی نے 40% بندر خریدے اور اعلان کیا کہ اب بندر 400 میں خریدے گی۔ لوگوں نے اور محنت سے بندر پکڑنے شروع کر دئیے۔
کمپنی نے مزید 40% بندر خریدے۔
اب جنگل مین بندر بہت کم رہ گئے اور پکڑنا مشکل ہو گیا۔
کمپنی نے اعلان کروایا کہ اب بندر 1000 روپے کے حساب سے لے گی اور اپنا ایک ایجنٹ چھوڑ دیا جو لوگوں کو 300-400 میں خریدا ہُوا بندر 700 میں دینے لگا۔
لوگوں نے سوچا بندر پکڑنا اب مشکل ہے اس سے 700 میں لے کے کمپنی کو 1000 میں بیچ دیتے ہیں۔
کچھ دن کے بعد بندر بھی گاؤں والوں کے پاس تھے اور کمپنی اپنا کیمپ اٹھا کے غائب ہو چکی تھی۔
گاوں بھی وہیں ، بندر بھی وہیں اور کمپنی مالا مال..!!
یہ ہے سٹاک ایکسچینج۔۔۔۔۔

May 23, 2019

سترہ رمضان: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یوم وفات

ج ام المومنین صدیقہ عالم جناب عائشہ کا یوم وفات ہے۔ آپؓ نے 17 رمضان 58 ہجری، بروز منگل 66 سال کی عمر میں اس دار فانی سے پردہ فرمایا تھا۔
حضرت عائشہؓ پیغمبر اسلام ﷺ کی صغیر سن زوجہ تھیں اور آپ نے انہیں شرف زوج اپنے دوست اور صحابی حضرت ابو بکرؓ کے احترام میں عطا کیا تھا۔
ولادت
حضرت عائشہؓ کی تاریخ ولادت کے متعلق تاریخ و سیرت کی تمام کتابیں خاموش ہیں۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔
ان کا لقب صدیقہ تھا، ام المومنین ان کا خطاب تھا جبکہ نبی مکرم محمد ﷺ نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے اور کبھی کبھار حمیرا کے لقب سے بھی پکارتے تھے۔
کنیت
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے۔ چونکہ حضرت عائشہؓ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔
ایک دفعہ آنحضرت محمد ﷺ سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اورعورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھانجے عبد اللہ کے نام پر رکھ لو، چنانچہ اسی دن سے ام عبد اللہ کنیت قرار پائی۔
نکاح
ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ ہجرت سے 3 برس قبل حضور اکرم ﷺ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور 9 برس کی عمرمیں رخصتی ہوئی۔ ان کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا۔
وفات
سن 58 ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنینؓ اور رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔
ماہ رمضان کی 17 تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہؓ نے وفات پائی۔ آپؓ 18 سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں اور وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حضرت عائشہؓ اوراحادیث نبوی
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت و امانت میں امتیاز حاصل تھا۔ ان کا حافظہ بہت قوی تھا جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں۔
حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔ حضرت عائشہ نے 2 ہزار 2 سو 10 احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی۔
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے ام المومنین عائشہؓ سے زیادہ رسول اللہ محمد ﷺ سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو۔ صدیقہؓ سے 174 احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری و مسلم میں ہیں۔

May 22, 2019

کون کون سے ممالک متاثر ہونگے۔2100 تک سطح سمندر میں 6 فٹ اضافے کا امکان

جدت ویب ڈیسک :واشنگٹن : موسمیاتی تبدیلی متعلق حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں 2 میٹر یا ساڑھے 6 فٹ اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجےمیں لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔
حال ہی میں جاری کی گئی یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جانب سے سطح سمندر میں اضافے سے متعلق جاری کیے گئے اندازے سے دگنا ہے۔
خیال رہے کہ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں موجود برف کے ٹکڑے دنیا میں سمندر کی سطح کو کئی درجن میٹر تک بڑھاسکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی سمندر گرم ہونے سے پانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے۔تاہم کرہ ارض پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی شرح کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔
اقوام متحدہ کے انٹرگورمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج ( آئی پی سی سی) نے 2013 ففتھ ایسیسمنٹ رپورٹ میں کہا تھا کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی مقدار آر سی پی 8.5 میں ، 2100 تک ایک میٹر کا اضافہ ہوجائے گا۔
اس وقت سے لے کر اب تک اس پیش گوئی کو قدامت پرست مانا جاتا ہے ، کیونکہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ کرنے والی گرین ہاؤس گیس میں سالانہ بنیادوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی سیٹیلائٹس میں انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں موجود برف پوش علاقوں کے پگھلنے کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
رواں ہفتے دنیا کے نامور سائنسدانوں کے گروپ نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر صورتحال پر ماہرانہ فیصلہ جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ گیسز کے موجودہ خراج کی بنیاد پر 2100 تک سطح سمندر میں 2 میٹر کا اضافہ مناسب ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے فرانس، جرمنی ، اسپین اور برطانیہ کے رقبے کے برابر زمین کا نقصان ہوگا جس کے نتیجے میں 18 کروڑ افراد بے گھر ہوجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ سطح سمندر میں اس شدت کے اضافے کی وجہ سے انسانیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے’۔
2015 میں پیرس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منظور کیے گئے معاہدے میں عالمی درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ( 3.6 فارن ہائیٹ) تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
گزشتہ برس اکتوبر میں آئی پی سی سی نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کوئلے، آئل اور گیس کے استعمال میں فوری کمی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ فضا میں گرین ہاؤس گیسز کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کم کیا جاسکے۔پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز جرنل میں شائع کی گئی نئی تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ آئی پی سی سی کی جانب سے سطح سمندر میں اضافے کی پیش گئی کی توجہ ان امکانات پر مرکوز تھی کہ مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے۔تاہم رپورٹ میں سطح سمندر میں اضافے سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے تھے۔

Image result for sea level increase 2021

Image result for sea level increase 2021

May 20, 2019

خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔دُنیا کے کئی شہر دھنسنے لگے

جدت ویب ڈیسک :: دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر میں زیر زمین سے نکالے جانے والے ذخائر اور سطح سمندر میں اضافے نے دنیا کے کئی ساحلی شہروں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ شہر آہستہ آہستہ دھنسنا شروع ہوگئے ہیں۔
اس کی ایک وجہ بلند و بالا عمارات کی تعمیر بھی ہے جس کی ایک مثال تھائی لینڈ کا دارالحکومت بینکاک ہے۔ بینکاک اپنے اسکائی اسکریپرز کے بوجھ تلے دھنس رہا ہے اور صرف اگلے 15 برس میں یہ شہر زیر آب آسکتا ہے۔اس شہر میں کئی دہائیوں تک زمینی پانی یعنی گراؤنڈ واٹر نکالا گیا جس کے بعد زمین کی نیچے کی سطح کسی حد تک کھوکھلی اور غیر متوازن ہوگئی ہے۔
اور صرف بینکاک ہی اس خطرے کا شکار نہیں۔ دنیا کے 6 مزید بڑے شہر اسی خطرے سے دو چار ہیں۔
فلپائن کا دارالحکومت منیلا بھی اسی خطرے کا شکار ہے جس کی 1 کروڑ 30 لاکھ آبادی پینے اور زراعت کے لیے گراؤنڈ واٹر استعمال کرتی ہے۔ یہاں کی اہم زراعت چاول ہے جس کی فصل کے لیے بے تحاشہ پانی چاہیئے ہوتا ہے۔چین کا شہر شنگھائی دھنسنے کی وجہ سے 10 سال میں 2 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ یہاں پر بھی زمین کے دھنسنے کی وجہ گراؤنڈ واٹر کا نکالا جانا ہے جس کے استعمال کی اب سخت نگرانی کی جارہی ہے۔بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سطح سمندر سے نیچے واقع شہر ہے جو مون سون کی تیز بارشیں اور سائیکلون سے مستقل متاثر رہتا ہے۔ ڈھاکہ میں زمین کے نیچے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے یہ شہر ہر سال مزید 5 ملی میٹر نیچے دھنس رہا ہے۔ویتنام کا ہو چی من شہر دریا کے ڈیلٹا پر قائم ہے اور یہ بھی دھنس رہا ہے۔
امریکی شہر ہیوسٹن میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ نے اس شہر میں طوفانوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ سطح سمندر میں اضافے سے شہر کے ڈوبنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ نصف سے زیادہ سطح سمندر سے نیچے ہوچکا ہے جس کے باعث اب ملک کا دارالحکومت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ہر سال یہ شہر 25 سینٹی میٹر مزید نیچے چلا جاتا ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ 95 فیصد شہر سنہ 2050 تک زیر آب آسکتا ہے۔

Related image

Image result for world tallest building may be down in earth

May 16, 2019

.بھاری انعامی رقم ٹھکرا کر ’’حطیم‘‘ میں نوافل ادا کرنے والا خوش نصیب پاکستانی

جدت ویب ڈیسک :مکہ مکرمہ: مسجد الحرام میں صفائی ستھرائی کے کام پر مامور پاکستانی شہری کو بہترین کارکردگی پیش کرنے پر خادم الحرمین شریفین نے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تاہم اُس نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے ’’حطیم‘‘ میں نماز ادا کرنے کی خواہش پوری کرلی۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق خانہ کعبہ میں صفائی ستھرائی کا کام انجام دینے والے پاکستانی کو بہترین کارکردگی پیش کرنے پر مہینے کا بہترین ملازم قرار دیتے ہوئے اُسے انتظامیہ کی طرف سے بھاری رقم بطور انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری نے انعامی رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے انتظامیہ سے درخواست کی کہ اُسے پیسے دینے کے بجائےحجر اسماعیل ’’حطیم‘‘ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔
مسجد الحرام کی انتظامیہ نے پاکستانی شہری کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اُسے حطیم کے احاطے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نوافل ادائیگی کی تصاویر بھی تیزی سے وائرل ہوگئیں۔عرب میڈیا نے ذرائع سے موصل ہونے والی اطلاعات پر یہ بھی بتایا کہ مہینے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ملازم کو انتظامیہ کی جانب سے تین ہزار سے پانچ ہزار ریال انعام دیا جاتا ہے، مسجد الحرام میں سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی صفائی ستھرائی کا کام کررہے ہیں۔تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خانہ کعبہ کی انتظامیہ نے حطیم کے دروازے بند کررکھے تھے تاکہ پاکستانی شہری اور مسجد الحرام کی خدمت کرنے والا مزدور سکون و اطمینان کے ساتھ نوافل ادا کرسکے۔

Image may contain: indoor

May 15, 2019

دنیا کے 20 ممالک کی فہرست میں پاکستان ہائیڈرو پاور کی ترقی میں تیسرے درجے پر فائز ‘انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن (آئی ایچ اے)‘ کی رپورٹ

لاہور:جدت ویب ڈیسک :: پاکستان سال 2018 میں پانی سے بجلی بنانے (ہائیڈرو پاور) کی گنجائش کے اعتبار سے دنیا کے 20 ممالک کی فہرست میں 3 درجے پر رہا۔
پاکستان کو یہ درجہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی معروف ادارے ‘انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن (آئی ایچ اے)‘ نے اپنی رپورٹ میں دیا۔
مذکورہ رپورٹ حال ہی میں جاری کی گئی جس کا عنوان تھا ’2019: ہائیڈرو پاور اسٹیٹس رپورٹ-سیکٹر ٹرینڈز اینڈ انسائٹس‘۔
اس ادارے کا قیام یونیسکو کی رہنمائی میں 1995 میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد ہائیڈرو پاور میں اچھے اور نئے طریقہ کار کو فروغ دینا تھا، اور اب آئی ایچ اے چیمپیئن اس شعبے میں مسلسل بہتر اور پائیدار طریقہ کار پر گامزن ہیں۔
آئی ایچ اے کی رپورٹ کے مطابق نئی گنجائش کی تنصیب کے بعد پاکستان 2018 میں 2 ہزار 487 میگا واٹ بجلی نظام میں داخل کرنے میں کامیاب ہوا۔
فہرست میں پاکستان سے پہلے برازیل 3 ہزار 866 میگا واٹ ہائیڈل بجلی اور فہرست میں سب سے اوپر چین 8 ہزار 540 میگا واٹ بجلی کے ساتھ موجود ہے۔
جس کے بعد نئی ہائیڈرو گنجائش کے تحت ترکی ایک ہزار 85 میگا واٹ اور انگولا 668 میگا واٹ ہائیڈل بجلی کے ساتھ چوتھے اور پانچویں درجے پر رہے۔
فہرست میں پڑوسی ملک بھارت اپنے سسٹم میں 535 میگا واٹ بجلی کا اضافہ کرنے پر 8 ویں درجے پر رہا۔
20 ممالک کی اس فہرست میں تاجکستان 605 میگا واٹ بجلی کے ساتھ چھٹے درجے درجے پر رہا جس کے بعد ایکواڈور (556 میگا واٹ)، بھارت (535 میگا واٹ)، ناروے(419 میگا واٹ)، کینیڈا(401 میگا واٹ)، آسٹریا(385 میگا واٹ)، کمبوڈیا(300 میگا واٹ)، لاؤس(254 میگا واٹ)، زمبابوے(150 میگا واٹ)، امریکا(141 میگا واٹ)، ایران(140 میگا واٹ)، کانگو(121 میگا واٹ)، کولمبیا(111 میگا واٹ)، پیرو(111 میگا واٹ) اور چلی (110 میگا واٹ) شامل ہیں۔
جہاں تک پاکستان میں ہائیڈرو پاور کے حالیہ اضافے کا ذکر ہے، ملک میں ایک سال میں پانی سے پیدا ہونے والی مجموعی توانائی میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔
قبل ازیں واپڈا 1958 میں آغاز ہونے کے بعد سے 2017 تک صرف 6 ہزار 902 میگا واٹ پانی سے پیدا ہونے والی توانائی حاصل کرسکا تھا جبکہ ملک میں 60 ہزار میگا واٹ تک پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

May 11, 2019

اپنے محسن کو نہ بھولی۔۔ ہر سال ملنے آتی ہے

جدت ویب ڈیسک ::امریکی ریاست جارجیا میں ایک سیکیورٹی افسر ہر سال ایک ننھے سے مہمان کا استقبال کرتا ہے، یہ مہمان کوئی اور نہیں ننھا سا ہمنگ برڈ ہے جو ہر سال اپنے اس محسن سے ملنے آتا ہے۔
دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ ہمنگ برڈ جو نصف انسانی انگلی سے بھی چھوٹا ہے، ہر سال اپنے اس دوست سے ملنے کے لیے آتا ہے۔
مائیکل کارڈنز نامی یہ سیکیورٹی افسر بتاتا ہے کہ 4 سال قبل اپنے گارڈن میں اسے یہ پرندہ اس حالت میں ملا تھا کہ اس کے پر ٹوٹے ہوئے تھا، یہ زخمی تھا اور اڑ نہیں سکتا تھا۔
مائیکل نے اس پرندے کی دیکھ بھال کی اور اس کی غذا کا خیال رکھا، 8 ہفتوں بعد جب پرندے کے پر دوبارہ اگ آئے اور وہ اڑنے کے قابل ہوگیا تو وہ واپس اپنے گھر کی طرف لوٹ گیا۔
اس کے اگلے برس مائیکل نے دیکھا کہ وہ پرندہ پھر اس کی کھڑکی پر موجود تھا۔ یہ پرندہ اس علاقے سے دور جنوب کی طرف رہتا ہے اور مائیکل کے مطابق یہ خاصا لمبا سفر کر کے اس سے ملنے آیا تھا۔
اس کے بعد یہ ہر برس کا معمول بن گیا۔ ہر سال جب پرندے ہجرت کرنا شروع ہوتے ہیں تو یہ پرندہ اپنے دوسرے گھر جانے سے قبل اپنے محسن سے ملنے ضرور آتا ہے جس نے اس کی جان بچائی تھی۔
مائیکل کہتا ہے کہ اپنے اس دوست سے ملاقات کر کے اسے بے حد خوشی ملتی ہے اور اب وہ ہر سال شدت سے اس کا انتظار کرتا ہے۔

Related image