May 22, 2018

کراچی پر گرمی کا غضب بے سبب نہیں،درخت کاٹ دیے گئے

کراچی جدت ویب ڈیسک :یہ شہر کراچی صرف بجلی اور پانی کا پیاسا نہیں، درختوں کی ٹھنڈی چھاواں بھی اس پرمہربان نہیں، یہ گرمی کے غضب کا بہت بڑا سبب ہے۔ کراچی والے پانی بجلی کے ساتھ ٹھنڈی چھاو¿ں سے بھی محروم ہیں ، کراچی میں درختوں کی کمی گرمی بڑھنے کا ایک سبب ہیں ، چند روز پہلے رات کی تاریکی میں درختوں کا قتل عام ہوا، بلدیہ جنوبی کے حدود کلفٹن روڈ پر متعدد درختوں کو کاٹ دیا گیا۔رات گئے بلدیہ جنوبی کے حدود کلفٹن روڈ پر درختوں کی کٹائی کی گئی جبکہ شہر میں زندہ درختوں کو کاٹنے پر پابندی بھی عائد ہے ، بلدیہ جنوبی کے مطابق ہمارے پاس درختوں کی کٹائی کا کورٹ آرڈر موجود ہے، آٹھ مردہ درختوں کے کاٹنے کا عدالتی حکم ملا ہے۔، فرئیر حال سے تین تلوار تک آٹھ مردہ درخت ہیں جبکہ عدالتی حکم ہے کہ آٹھ مردہ درختوں کو کاٹنے کے بعد اسی جگہ آٹھ نئے درخت لگانے ہونگے ، 23مئی 2018 تک نئے درخت لگانے کے بعد رپورٹ پیش کی جائے، خلاف ورزی کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔فروری میں کے ایم سی نے باغ ابن قاسم اور بیچ ویو پارک سے درخت اکھاڑے، جب ہرے بھرے درخت اکھاڑے جائیں گے پرندوں کے گھونسلے چھینے جائیں گے ٹھنڈی چھاو¿ں پر کلہاڑے چلائے جائیں گے تواس شہر کی راہوں پر سورج کا غضب تو ہوگا ہی موسم کا مزاج بھی برہم ہوگا۔کراچی کی چھاو¿ں لوٹ جائے تو موسم کا غضب ٹل جائے، گرمی کی لہریں شاداب فضاو¿ں میں بدل جائیں۔

May 10, 2018

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بیج والی پنسل متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا

جدت ویب ڈیسک ::میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی چئیرمینعمران خان نے یہ فیصلہ بلین ٹری سونامی مہم کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ اس مہم کے تحت کراچی میں بلین ٹری منصوبے کی تکمیل میں بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا جس کے لیے زیر تعلیم بچوں کے لیے یہ بیج والی پنسلیں متعارف کروائی جائیں گی۔سوشل میڈیا صارفین نے پی ٹی آئی کے اس اقدام کو خوب سراہا اور کہا کہ عمران خان نے کے پی کے میں بلین ٹری منصوبے کے آغاز کے بعد اب کراچی میں بھی قابل تعریف اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں اس منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بلین ٹری منصوبے کو عالمی منظر نامے پر پر خاصی توجہ اور پذیرائی ملی۔اس جدید نظریے کے تحت بچوں کی درخت لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پنسلوں کے ربڑ والے حصے پر ایک کیپسول ہو گا جس میں مختلف بیج موجود ہوں گے۔ ان پنسلوں کے ساتھ کھیرا، بھنڈی ، بینگن ، پالک اور ہرا دھنیا کے بیج موجود ہیں۔ ان پنسلوں کو ایم آئی ٹی کے طلبا نے ڈیزائن کیا ہے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی نے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے۔خیبر پختونخواہ کے بعد اب یہ منصوبہ کراچی میں بھی متعارف کروایاگیا ہے جس کے لیے پی ٹی آئی نے بچوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان پنسلوں کی تصاویر بھی موجود ہیں جبکہ ان پنسلوں کے پیچھے موجود کیپسول میں پڑے بیجوں کے استعمال سے متعلق بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ بچے بھی ان پنسلوں اور ان پنسلوں کے پیچھے موجود بیجوں کے استعمال کے حوالے سے کافی پُرجوش ہیں۔

May 7, 2018

ماہرین نے ایسا انکشاف کردیاکہ پڑھ کر آپکے ہوش اڑ جائیں. بجلی کے اسمارٹ میٹر آپکو کیسے دھوکا دے رہے ہیں؟

کراچی ،جدت ویب ڈیسک ::آج کل ہر شہری بجلی کی زائد بل کا رونا رو رہا ہے ،حال ہی میں اسمارٹ میٹرز پر ہونے والے تحقیق میں ماہرین نے ایسا انکشاف کیا ہے کہ پڑھ کر آپکے ہوش اڑ جائیں گیں. بجلی کے اسمارٹ میٹر آپکو کیسے دھوکا دے رہے ہیں؟ تمام تر تفصیلات اس پوسٹ میں پڑھیں.
پاکستان کی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بجلی کے پرانے میٹروں کی جگہ اب جدید اسمارٹ میٹر استعمال ہوتے ہیں. ان میٹرز کی خاص بات یہ ہیں کہ صارفین کو باآسانی پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے اس ماہ کتنے بجلی کی یونٹ استعمال کیے. لیکن حال ہی میں ہونے والی تحقیق نے ان اسمارٹ میٹرز کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.
ہالینڈ کی University of Twente اور Amsterdam University of Applied Sciences کی ایک ٹیم نے جب بجلی کے اسمارٹ میٹرز پر تحقیق کی تو انھیں پتا چلا کہ اسمارٹ میٹرز تمام گھریلو صارفین سے زیادہ بل وصول کر رہے ہیں! جی ہاں، آپ نے بلکل صحیح سنا…آپکے اور میرے گھر میں لگے بجلی کے اسمارٹ میٹرز ہمیں پچھلے کئیں سالوں سے دھوکہ دے کر ہم سے اضافی بل وصول کر رہے ہیں. اضافی یونٹ ریڈنگ شو کرواکر آپ سے ڈبل ٹرپل بل وصولی کے ساتھ ساتھ ان اسمارٹ میٹرز کے اور بھی نقصانات ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میٹرز میں پیدا ہونے والے وائرلیس سگنلز انسانی جسم میں کینسر کا سبب بن سکتے ہیں. اسکے علاوہ کافی دفاتر اور گھروں میں اسمارٹ میٹرز کی وجہ سے آگ بھی لگ چکی ہے. ریسیرچ میں مزید ایک ہم بات یہ بھی پتا چلی ہے کہ چور اسمارٹ میٹرز کے زریعے باآسانی پتا لگا سکتے ہیں کہ گھر پر کوئی شخص موجود بھی ہے یا نہیں. اسمارٹ میٹرز کو دیکھتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ گھر میں بجلی استعمال ہو رہی ہے یا نہیں … اگر بجلی استعمال ہو رہی ہو تو انکی بتی بلنک کرتی رہتی ہے اور اگر نہ استعمال ہو رہی ہو یا بہت کم استعمال ہو رہی ہو تو بتی بہت دیر بعد بلنک کرتی ہے جس سے چوروں کو پتا چل جاتا ہے کہ گھر پر کوئی فرد موجود ہے بھی یا نہیں. اس طرح چوروں کو واردات میں آسانی ہو جاتی ہے.
اس ریسیرچ کے بعد پتا چلا ہے کہ ہالینڈ جیسے جدید ترین اور چھوٹے ملک میں لگ بھگ 750,000 میٹر ایسے ہیں جو اضافی ریڈنگ شو کروارہے ہیں. جبکہ اگر پوری دنیا کے ملکوں کا حساب لگایا جائے تو یہ تعداد اربوں میں ہو گی۔   6 ماہ کی طویل ریسیرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر 9 میں سے 5 میٹرز ایسے ہیں جو آپکی استعمال شدہ بجلی زیادہ دکھا رہے ہیں یعنی جتنے بجلی کے یونٹ آپ نے استعمال کیے یہ اسمارٹ میٹرز اسکی کئیں گنا دگنی ریڈنگ شو کرواکے آپکے بجلی کے بلوں میں ڈبل ٹرپل اضافہ کر رہا ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میٹرز میں موجود سینسرز اس مسلے کا باعث بن رہے ہیں.

May 3, 2018

گنیز بک آف ورلڈ‌ ریکارڈ‌ میں نام درج امریکا میں پیدائشی طور پر بازوؤں سے محروم لڑکی پائلٹ بن گئی

واشنگٹن:جدت ویب ڈیسک ::غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایری زونا کی جیسیکا کا نام دنیا کی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں پہلی ہاتھوں سے محروم سرٹیفائیڈ خاتون پائلٹ کے نام سے درج ہوگیا ہے۔جیسکا نے حالیہ دنوں ہی ایتھوپیا کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے معذور لوگوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی فراہم کی تھی۔پائلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ جیسیکا تائی کوانڈو چیمپئن ہے، پیانو بجانے میں مہارت رکھتی اور ڈرائیونگ بھی کرتی ہے، ہاتھوں سے محروم لڑکی پیروں سے سب کام بخوبی انجام دیتی ہے۔جیسیکا کوس نے 2012 میں پیٹرک نامی شہری سے شادی کی جو ان کے تائی کوانڈو انسٹرکٹر بھی رہ چکے ہیں، جیسیکا نے تائی کوانڈو میں 2 بلیک بیلٹ بھی حاصل کررکھے ہیں۔پازوؤں سے محروم لڑکی جیسیکا امریکی ریاست ایری زونا کے شہر ٹسکن کی رہائشی ہے، 30 سالہ لڑکی جیسیکا دنیا گھوم چکی ہے اور موٹی ویشنل اسپیکر کے طور پر اپنی زندگی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرتی ہے کہ معذوری کو مجبوری نہیں بنایا چاہئے۔

May 1, 2018

ملک بھر میں آج شب برات عقیدت اور احترام سے منائی جائے گی ،شعبان کی عظمت بارے جانیے

جدت ویب ڈیسک ::ملک بھر میں آج شب برات ہے ، رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کی رات ہے ،’شعبان المعظم‘‘ اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے، یہ رحمت،مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے ’’رمضان المبارک‘‘ کا دیباچہ، سن ہجری کا اہم مرحلہ اور نہایت عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس سلسلے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’شعبان شھری‘‘(دیلمی) شعبان میرا مہینہ ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ماہِ رجب کے آغاز پر آپﷺ یہ دعا فرماتے تھے:’’اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان۔‘‘(ابن عساکر)’’اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لئے برکت پیدا فرما اور (خیروعافیت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی عظمت اور بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے، جس طرح مجھے تمام انبیاء پر عظمت اور فضیلت حاصل ہے۔ (ایضاً ص 362)۔ شعبان المعظم دراصل رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی پندرہویں شب ، شب برأت‘ شب قدر کی برکات اور اس کے انوار و تجلیات قبول کرنے کے لئے بندوں کو مستعد اور تیار کرتی ہیں۔ چنانچہ شب برأت توبہ و استغفار ، عبادت و مناجات کے ذریعے دل کی زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ رمضان المبارک اور شب قدر کے روحانی انوار دل کے ایک ایک رگ و ریشے میں پیوست ہو جائیں۔ شب برأت توبہ و استغفار اور عبادت و مناجات کے قیمتی لمحات اور وہ صبح صادق ہے جو آفتاب روحانیت (نیکیوں کے موسم بہار، رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے) کے طلوع ہونے کی خوش خبری دیتی ہے۔ روحانیت کا آفتاب نزول قرآن کا بابرکت مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے (رمضان کے علاوہ ) کسی اور مہینے میں رسول اللہ ﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔ (سنن بیہقی)۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کردوں؟ اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے ، اسے ملتا ہے، سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ ‘‘ (بیہقی/ شعب الایمان 3/83)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (مجمع الزوائد 8/65) حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلال اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تا وقت یہ کہ وہ توبہ کرکے، کینہ وری چھوڑ دیں۔
(مشکوٰۃ، ص 115)۔حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فہرست ملک الموت کو دے دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہےان کی روحوں کو قبض کرنا، (چنانچہ حال یہ ہوتا ہے کہ ) کوئی بندہ تو باغ میں پودا لگارہا ہوتا ہے، کوئی شادی بیاہ میں مصروف ہوتا ہے، کوئی مکان کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ ان کا نام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی/ ماثبت بالسنۃ ص 353) ۔یہ مقدس شب رحمت و مغفرت اور قدرو منزلت والی ہے، اس بابرکت رات کی مقدس گھڑیوں میں جو چودہ شعبان کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی اور پندرہ شعبان کی صبح صادق ہونے تک رہتی ہے۔ بارگاہ رب العزت کی رحمت و مغفرت کا ابر کرم خوب جم کر برستا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (ترمذی 1/156، مسند احمد 6-238)‘‘شب برأت کی عظمت و اہمیت اور فضیلت کے پیش نشر اس میں عبادت و مناجات ، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن کے لئے غسل کرلینا مستحب ہے۔ عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ جتنا سہولت اور آسانی سے ممکن ہو۔ اس مقدس رات کو نوافل اور ذکر و تلاوت میں گزاریں، منکرات سے دامن بچاتے ہوئے قبرستان جاکر زیارت قبور کرنا، صحت و عافیت، رحمت و بخشش اور جملہ مقاصد حسنہ کے لئےدعائوں کا اہتمام کیا جائے۔ پندرہویں شعبان کا روزہ رکھیں۔ جن گناہوں کی نحوست اور وبال اس مبارک رات کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کردیتی ہے۔ ان سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صدق دل سے توبہ کی جائے، شب بے داری کا تقاضا ہے کہ ان بابرکت اور قیمتی لمحات کو توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر اور دعائوں میں بسر کیا جائے۔
(بیہقی/شعب الایمان 3/381)۔جب کہ مختلف روایات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بے شمار بدنصیب افراد ایسے ہیں کہ وہ اس بابرکت رات کی عظمت و فضیلت اور قدرو منزلت سے دور رہتے اور اللہ عزوجل کی بخشش و رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہوتی۔ وہ بد نصیب افراد یہ ہیں۔ (1) مشرک (2)جادو گر (3)کاہن اور نجومی (4)ناجائز بغض اور کینہ رکھنے والا (5)جلاد (6)ظلم سے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا (7) جوا کھیلنے والا (8)گانے بجانے والا اور اس میں مصروف رہنے والا (9) ٹخنوں سے نیچے شلوار ، پاجامہ تہہ بند وغیرہ رکھنے والا (10) زانی مردوعورت (11)والدین کا نافرمان (12) شراب پینے والا اور اس کا عادی(13) رشتے داروں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ناحق قطع قمع کرنے والا۔
یہ وہ بد قسمت افراد ہیں جن کی اس بابرکت اور قدرو منزلت والی مقدس رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور وہ بدبختی ، بد اعمالی اور گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔ علماء و محدثین کے مطابق شب برأت کی فضیلت لیلۃ القدر کے بعد ہے، یعنی شب قدر سے کم ہے، تاہم اس کی فضیلت اور قدرو منزلت سے انکار کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں: ’’لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔‘‘ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : (اے عائشہؓ) کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی (پندرہویں شب) میں کیا ہوتا ہے؟انہوں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ (اس شب) کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں، ان سب کے متعلق لکھ دیا جاتا ہے اور جتنے اس سال فوت ہونے والے ہیں، ان تمام کے متعلق بھی لکھ دیا جاتا ہے، اس شب تمام بندوں کے (سارے سال کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔

April 30, 2018

بس یہ دُعا پڑھیں ۔۔۔کبھی بھی رزق ختم نہیں ہوگا

کراچی جدت ویب ڈیسک ::اللہ تعالی کا انسان سے رزق کا وعدہ ہے،وہ کبھی بھی اپنے بندے کو بھوکا سونے نہیں دیتا،انسان کے اپنے گناہ ہی اسکے اپنے رزق میں کمی کا سبب بنتے ہیں ،تو اللہ سے معافی مانگیں اور توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھُلا رہتا ہے ، آج ایک بہت پیاری دعا حاضر خدمت ہے، رزق سے تنگ افراد نبی کریم ؐ کی بتائی یہ مختصر سی دعا صبح و شام 3 مرتبہ پڑھیں،اتنا رزق حاصل ہوگا کہ سات پشتیں بھی ختم نہیں کر سکیں گی۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ کمی پیشی معاف فرمائےیہ عمل کرنے سےپہلے آپ کسی عالم دین سے اس کی تصدیق بھی کر لیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص روزی سے تنگ ہو اور وہ چاہے کہ روزی مجھ کو آسانی سے میسر آئے تو لازم ہے کہ صبح و شام 3مرتبہ اس دعا کو پڑھے . اس عمل کا اثر یہ ہے کہ عمل کرنے والے کی سات نسلیں مخلوق خدا کی محتاج نہ ہو نگی اور اللہ پاک کی مدد شامل حال رہے گی .خلوص دل سے یہ دعا پڑھیں . :(دعا ذیل میں دی گئی تصویر پر موجود ہے )

 

April 21, 2018

کیا پاکستان سے پینے کا پانی ختم ہوجائے گا ؟ کب ،کتنے سال میں ،چونکا دینے والی رپورٹ

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان زیرِ زمین پانی استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں کی زیرِ زمین پانی کی کمی کا سبب بن رہی ہیں ان میں بنیادی مسئلہ حد سے زیادہ پانی پمپ کیا جانا ہے۔رپورٹ میں جن بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی گئ ہےاس کے علاوہ دریائے راوی میں پانی کی روانی میں کمی اور نکاسی کے پانی کی ذریعے صاف پانی میں آلودگی کی ملاوٹ اور زیرِ زمین ذخیرے کی بحالی نہ ہونا بڑی وجوہات ہیں۔پنجاب اریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر غلام ذاکر سیال کہتے ہیں کہ ‘ہمارا پانی کا بجٹ منفی میں ہے یعنی ہم جتنا پانی زمین سے نکال رہے ہیں اتنا واپس نہیں جا رہا۔’واسا کے 1100 سے زائد کیوسک پانی کے علاوہ نجی ہاؤسنگ سکیموں میں لگے ٹیوب ویل روزانہ 100 کیوسک اور صنعتیں 375 کیوسک پانی نکال رہی ہیں۔ اس طرح لاہور میں زمین سے نکالے جانے والا پانی روزانہ اوسط مقدار 1645 کیوسک سے زائد ہے۔زمین کے نیچے موجود پانی کا ذخیرہ جسے ایکوی فائیر بھی کہتے ہیں دراصل ایک پیالے کی مانند ہے۔ ہم جتنا پانی اس پیالے سے نکالتے ہیں، اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اتنا ہی پانی اس میں واپس بھی جائے لیکن لاہور میں ایسا نہیں ہو رہا۔
دس برس زیادہ دور نہیں؟
لاہور کے رہائشی ابھی سے ہی ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جو آنے والے وقت میں مزید گمبھیر ہو سکتے ہیں۔لاہور کا علاقہ جو عین دریائے راوی کے کنارے آباد ہے وہاں کی رہائشی نسرین اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ دیگر گھروں کی طرح انہوں نے بھی موٹر نصب کر رکھی ہے جس کی مدد سے وہ پانی بنیادی سپلائی لائن سے اپنے گھر تک پہنچاتی ہیں۔’اس کے باوجود بھی پانی کچن تک نہیں پہنچتا۔ یہاں سے بالٹیوں میں بھر کے گھر کے دوسرے حصوں تک لے کر جانا پڑتا ہے۔’ان کے پڑوسی ظفر اقبال کو پانی کے استعمال کے لیے باقاعدگی سے ایک معمول بنانا پڑا۔’صبح جب بچوں نے سکول جانا ہوتا ہے تو بس قطار میں لگ جاتے ہیں منہ ہاتھ دھونے کے لیے، ورنہ دیر ہوئی تو پانی گیا۔’ان کے گھر کے دوسری مالے تک پانی پہنچتا ہی نہیں۔ ‘جمعے کے روز تو پانی آتا ہی نہیں ہے۔ غالباٌ اس لیے کہ اس دن لوگ پانی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔’شاہدرہ ہی کی رہائشی شہناز کہتی ہیں کہ پانی جب آتا ہے تو بعض اوقات بہت گندہ ہوتا ہے۔ ‘بالٹیوں اور ٹبوں کے حساب سے ضائع کرنا پڑتا ہے تب جا کر کچھ صاف پانی ملتا ہے۔’ وہ کہتی ہیں کبھی تو پانی دو دو روز تک نہیں آتا اور پینے کے لیے انہیں فلٹریشن پلانٹ سےپانی بھروانا پڑتا ہے ورنہ سپلائی کا پانی ابال کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔غلام سرور نے  بتایا چند مخیر حضرات نے ان کے علاقے میں بورنگ کروا رکھی ہے۔ ‘لیکن 500 فٹ تک بورنگ کرنا پڑتی ہے تب جا کر پانی لیبارٹری سے پاس ہوتا ہے کہ یہ پینے کے قابل ہے۔’شہری روز مرہ کی زندگی کے لیے مضر صحت پانی استعمال کرنے کے لیے مجبور ہیںخدشہ یہ ہے کہ لاہور میں پینے کا صاف پانی محض اگلے دس برس میں ختم ہو سکتا ہےپانی گیا کدھر؟زیرِ زمین پانی لاہور کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔ پنجاب کے زراعت کے تحقیقاتی ادارے کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واسا نے 150 سے 200 میٹر کی گہرائی پر 480 ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں جو روزانہ 1170 کیوسک پینے کا پانی نکال رہے ہیں۔
پینے کا پانی کہاں سے ملتا ہے؟

پنجاب اریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اہلکار پانی کا معیار جانچ رہے ہیں
گو کہ لاہور میں زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ محدود نہیں ہے یعنی اس میں پانی مختلف جگہ سے بھی آتا رہتا ہے مگر اس کے باوجود یہاں پانی کی سطح 100 فٹ سے نیچے چلی گئی ہے اور آلودگی کی وجہ سے یہ پانی پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔غلام ذاکر سیال کہتے ہیں کہ ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 فٹ پر جا کر پانی تو مل جاتا ہے مگر یہ پانی صاف نہیں۔ اس لیے صاف پانی حاصل کرنے کے لیے مزید گہرائی میں جانا پڑتا ہے۔ کئی مقامات پر لاہور میں 600 سے 700 فٹ تک بورنگ کی جا رہی ہے تب جا کر صاف پانی ملتا ہے۔’ پانی کا زیرِ زمین ذخیرہ محض 1000 فٹ گہرا ہے یعنی اس سے نیچے پانی موجود نہیں ہے۔ تاہم جس قدر کھدائی بڑھائی جائے گی اتنا زیادہ پانی میں آرسینک یعنی سنکھیا ملنے کا خطرہ ہے۔سنکھیا وہ مضرِ صحت معدنیات ہے جو پتھروں کی تہہ پر پہلے سے موجود ہے۔ جب کھدائی کی جاتی ہے اور اس سے زیرِ زمین پانی میں حرکت پیدا ہوتی ہے جو سنکھیے کو پتھروں کی سطح سے پانی میں شامل کر دیتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 700 فٹ سے زیادہ گہرائی میں کھدائی کرنے کی صورت میں پانی آلودہ ہو گا اور پینے کے قابل نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ پینے کا صاف پانی لاہور کے پاس کم رہ گیا ہے۔غلام ذاکر سیال نے مزید کہا کہ زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کو بحال کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ دریائے راوی تھا مگر اس میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پانی بتدریج کم ہوا ہے۔’اس کے علاوہ تین بڑے نکاسی کے ڈرین دریا میں گرتے ہیں جن کے باعث پانی میں ہر قسم کی ٹھوس اور مایہ آلودگی شامل ہوتی ہے جو گھروں اور صنعتوں سے نکلتی ہے۔ جب یہ پانی زیرِ زمین جاتا ہے تو صاف پانی کی اوپری سطح کو آلودہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ پینے کے قابل نہیں رہتا۔’غلام ذاکر سیال کے مطابق جتنی آلودگی زیادہ ہوگی اتنی گہرائی میں پہنچے گی اور نتیجتاً بورنگ زیادہ گہری کرنی پڑے گی تا کہ صاف پانی تک پہنچا جا سکے۔کئی سالوں سے لاہور میں دریائے راوی میں پانی کی سطح کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی مقدار گھٹ رہی ہے
حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟

واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر زاہد عزیز نے بتایا کہ پانی کی کمی کے پیشِ نظر حکومت نے جو منصوبہ بندی کی ہے اس کے مطابق نہر پر پانی فلٹر کرنے کا پلانٹ لگایا جائے گا جس کے لیے فنڈز بھی منظور ہو چکے ہیں اور اس پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا۔’منصوبہ یہ ہے کہ ایسے ذرائع پیدا کیے جائیں جن سے زیرِ زمین پانی پر اکتفا کم کیا جا سکے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ لاہور کی ضرورت کا 1000 کیوسک پانی ان ذرائع سے حاصل کیا جائے۔ یہ سنہ 2035 تک ممکن ہو پائے گا تاہم ا س سے قبل مختلف مراحل میں منصوبہ جات مکمل کر لیے جائیں گے۔’دوسری جانب زاہد عزیز کا کہنا تھا کہ لاہور میں فی فرد پانی کی فراہمی موجودہ 70 گیلن روزانہ ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔’اب ہمارا ارادہ یہ ہے کہ گھروں میں میٹر لگائے جائیں اور اس کو 40 گیلن تک لایا جائے۔’
انھوں نے بتایا کہ اس وقت پانی کے سات لاکھ کنکشن ہیں جن میں پچاس ہزار پر میٹر لگائے جا چکے ہیں۔ اور ہدف ہے کہ آئندہ تین برس میں تمام کنکشنز پر میٹر نصب ہو جائیں۔’اس کے بعد ہم ایسا طریقہ کار اپنائیں گے کہ جس حساب سے لوگ پانی استعمال کریں اس حساب سے بل بھیجا جائے اور جو پانی کم استعمال کرے اس کو مراعات بھی دی جائیں۔’زاہد عزیز کا کہنا تھا کہ نہر منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ دوسرے حصے میں دریائے راوی پر ایک ڈیم تعمیر کیا جائے گا جس میں پانی لا کر چھوڑا جائے گا۔ ‘اس ڈیم سے ہم مزید 900 کیوسک پانی نکالیں گے جو ہماری روزانہ کی ضروریات کو پورا کرے گا۔’تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہو گی تاکہ پانی کے ذخیرے کو آئندہ نسلوں کے لیے بھی بچایا جاسکے 60 سے 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ ضروریاتِ زندگی کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتی ہے۔ تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ اور موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں سالانہ کمی کی وجہ سے پانی کا یہ ذخیرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ ماہرینِ آبپاشی اور زراعت کے مطابق پاکستان کے گنجان آباد اور زرعی پیداوار کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کو بھی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے مرکز اور ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر لاہور میں پینے کا صاف پانی محض اگلے دس برس میں ختم ہو سکتا ہے۔بلوچستان: گوادر میں پانی کی شدید قلت کھربوں روپے مالیت کا پانی ضائع دنیا کے بڑے شہر جو پانی کی کمی کا شکار ہیں کیا وسطی ایشیا میں پانی پر جنگ ہوگی؟ پنجاب اریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ یعنی زرعی استعمال کے پانی کے تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر غلام ذاکر سیال نے بتایا کہ اگر زیرِ زمین پانی کو بچانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دس برس میں لاہور شہر میں پینے کا صاف پانی ختم ہو سکتا ہے۔ ‘لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ اوسطاٌ اڑھائی فٹ نیچے جا رہی ہے۔ کئ مقامات پر پانی کی سطح 100 فٹ سے بھی نیچے جا چکی ہے جو کہ قدرتی حد سے کم ہے اور یہ پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔’ پینے کے قابل پانی حاصل کرنے کے لیے زمین میں پانچ سے سات سو فٹ تک بورنگ یا کھدائی کی جا رہی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی صرف 1000 فٹ تک موجود ہے۔ بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب میں پانی کے انتظامات کی ذمہ دار واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی یعنی واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر زاہد عزیز مانتے ہیں کہ زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ سکڑ رہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومت منصوبہ بندی کر چکی ہے۔ ’لاہور میں نہر پر پانی کو صاف کر کے استعمال کرنے کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا جو تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ اس سے روزانہ 100 کیوسک پانی نکالا جائے گا جبکہ ہمارا ہدف سنہ 2035 تک اس کو 1000 کیوسک تک لے کر جانا ہے۔‘ ان اقدامات کا مقصد زیرِ زمین پانی پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ زاہد عزیز کا ماننا ہے کہ اس کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

April 19, 2018

آج قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی دوسری زوجہ مریم جناح المعروف رتی جناح کی شادی کی سوویں سالگرہ ہے

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::آج پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی دوسری زوجہ مریم جناح المعروف رتی جناح کی شادی کی سوویں سالگرہ ہے‘ ۔قائد اعظم اور رتی جناح کی شادی 19 اپریل 1918 کو بمبئی میں ہوئی جس میں صرف قریبی احباب کو مدعو کیا گیا تھا۔ شادی کی انگوٹھی راجہ صاحب محمودآباد نے تحفے میں دی تھی,آپ بیماری کے سبب کم عمری میں انتقال کرگئی تھیں۔ پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والی رتن بائی 20 فروری 1900کو پیدا ہوئی تھیں اورقائداعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی تھیں۔ شادی سے ایک دن قبل انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔رتی جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔رتی جناح شاعری اورسیاست میں انتہائی شغف رکھتی تھیں اور ان کے انہی مشاغل کی وجہ سے ان کی ملاقات قائداعظم سے ہوئی۔برصغیر کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے قائداعظم کی سیاسی مصروفیات میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا اور اکثر انہی مصروفیات کی وجہ سے شہر سے باہر بھی رہا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میاں بیوی میں اختلافات رونما ہونے لگے اور ایک وقت وہ آیا جب رتی اپنا گھر چھوڑ کر ایک ہوٹل میں منتقل ہوگئیں۔ 1928ء میں وہ شدید بیمار پڑیں اور علاج کے لیے پیرس چلی گئیں۔قائد اعظم ایک انتہائی مضبوط اعصابی قوت کے مالک شخصیت تھے اورانہیں عوام میں صرف دو مواقع پرروتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک بارتب جب انہیں ان کی چہیتی زوجہ کی قبر پر مٹی ڈالنے کا کہا گیا‘ اور ایک باراگست 1947 میں کہ جب وہ آخری مرتبہ اپنی شریکِ حیات کی قبر پر تشریف لائے تھے۔اُن کی واحد اولاد‘ دینا جناح کی پیدائش 15 اگست 1919ء کو لندن میں ہوئی اور تقسیم کے وقت وہ ممبئی میں اپنے سسرال میں آباد تھیں، انہوں نے گزشتہ سال 2 نومبر 2017ء کو نیویارک میں وفات پائی ۔
قائداعظم کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ بھی ان کی تیمارداری کے لیے پیرس پہنچ گئے اور ایک ماہ تک ان کے ساتھ رہے۔ یوں ان دونوں کے تعلقات ایک مرتبہ پھر بحال ہوگئے۔ چند ماہ بعد رتی جناح وطن واپس آ گئیں مگر ان کی طبیعت نہ سنبھل سکی اور 20 فروری 1929ء کو ان کی 29 ویں سالگرہ کے دن ان کا انتقال ہوگیا۔

April 17, 2018

سگریٹ نوشی درمیانی عمر میں زیادہ خطرناک ہے، نئی تحقیق

کراچی جدت ویب ڈیسک :درمیانی عمر میں سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دل کی بیماریوں کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہدل کا فیل ہوجانا دائمی حالت ہے جس میں دل صحیح طرح خون کو پمپ نہیں کرتا۔امریکا کی یونیورسٹی آف مسی سپی میڈیکل سینٹر کے کارڈیالوجسٹ مائیکل ای ہال کا کہنا ہے کہ پہلے ہونے والی تحقیق میں سگریٹ نوشی اور شریانوں کے سخت ہونے پر توجہ مرکوز رہی لیکن دل پر اس کے انتہائی مضر اثرات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد جو روزانہ سگریٹ کا ایک پیکٹ یا اس سے زیادہ پی جاتے ہیں ، ان کے اسپتال میں داخل ہونے کے امکانات تین گنا زیادہ ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں میں دل کے مرکزی پمپنگ چیمبر کے درست کام نہ کرنے کی علامات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہارٹ فیل ہونے خطرات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔تحقیق میں افریقن۔امریکن خطے سے تعلق رکھنے والے 54سال کی عمر کے 4ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا۔