March 31, 2020

کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے،کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔ ماہرین

ویب ڈیسک :: انٹرنیٹ پر ان دنوں کورونا وائرس کے بارے میں ڈھیروں معلومات شیئر کی جارہی ہے جس میں متعدد مشورے اور نسخے بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے پرہیز کریں۔

تو آخر غلط معلومات کو پھیلنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟

ٹھہریے اور غور کیجیے

معلومات کو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک جلد از جلد پہنچانے اور ان کی مدد کرنے کی بے چینی قدرتی ہے۔

جب آپ کے پاس ای میل، واٹس ایپ، فیس بک یا ٹوئٹر پر کوئی پیغام آتا ہے تو آپ اسے اسی وقت فارورڈ کرنے یا آگے بھیجنے کی طلب محسوس کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے کہ اس پیغام کو اپنے پاس ہی رکھ کر سوچنا اور اگر اس میں کوئی غیر یقینی بات لگے تو اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں اور تجزیہ کریں۔

ذریعہ کیا ہے؟

کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ یہ پیغام کہاں سے آ رہا ہے؟

اگر پیغام بھیجنے والا کسی دوست کا دوست ہے یا کسی رشتہ دار کا جاننے والا ہے تو فوری طور پر معلومات کے درست ہونے پر یقین کر لینا ٹھیک نہیں۔

کہنے کا مطلب ہے کہ اگر آپ پیغام بھیجنے والے کو بہت نزدیک سے نہیں جانتے تو اعتبار مت کیجیے۔ کئی بار بہت تعلیم یافتہ افراد بھی غلط معلومات کو آگے بڑھانے یا وائرل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

کئی بار اس میں سے کچھ معلومات صحیح ہوتی ہیں اور کچھ غلط۔ مثال کے طور پر ہاتھ دھونے سے وائرس کے پھیلاوٴ میں کمی آتی ہے، یہ بات صحیح ہے لیکن مرض کی تشخیص کے لیے سوشل میڈیا پر بتائے جانے والے متعدد طریقے غلط ہیں۔

برطانیہ کے فیکٹ چیک ادارے فُل فیکٹ کی ڈپٹی ایڈیٹر کلیری ملنے نے بتایا ’صحت کے عوامی ادروں کی جاب سے جاری کردہ معلومات سب سے زیادہ بھروسے کے لائق ہوتی ہیں۔’

ایسا نہیں ہے کہ ماہرین کو سب کچھ پتا ہے لیکن کسی دور دراز رشتہ دار یا کسی دوست کے دوست سے ملنے والی معلومات سے بہتر وہ ہے جو کوئی ماہر دے رہا ہو۔

کیا پیغام ’فیک’ یا جعلی ہو سکتا ہے؟

بظاہر کوئی بھی چیز دھوکا دے سکتی ہے۔ کسی معتبر ادارے کے اکاوٴنٹ کی نقل کرنا ممکن ہے۔

مثال کے طور پر بی بی سی نیوز یا حکومتی اداروں کے اکاوٴنٹس۔ کئی بار سکرین شاٹس دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ معلومات واقعی کسی معتبر ادارے سے آ رہی ہے لیکن جعلی سکرین شاٹس بنانا بھی ممکن ہے۔

Getty Images

ایسی صورت میں تصدیق شدہ اکاوٴنٹس اور ویب سائٹس پر معلومات حاصل کریں۔ اگر کسی پیغام سے متعلق معلومات آسانی سے حاصل نہ ہو سکے تو اس کی صداقت پر شک کرنا ضروری ہے۔

اگر کوئی ویڈیو، پوسٹ یا لنک گڑبڑ لگے تو ممکن ہے کہ وہ اصل میں ’فیک نیوز’ کا باعث ہو۔

کلیری کے بقول اگر کسی پیغام میں مختلف قسم کے فونٹ استعمال ہوئے ہوں تو وہ پیغام ممکنہ طور پر جعلی ہو سکتا ہے۔

صداقت پر شک ہو تو شیئر نہ کریں

کبھی بھی کسی پیغام کو یہ سوچ کر آگے نہ بھیجیں کہ وہ ممکنہ طور پر سچ ہو سکتا ہے۔ مشکوک پیغام کو آگے بھیج کر کے آپ فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اگر آپ پوسٹ کو ایسی جگہ شیئر کر رہے ہیں جہاں طبی کارکنان اور ڈاکٹرز جیسے ماہرین موجود ہوں تو اس میں بری بات نہیں لیکن یہ یقینی بنائیں کہ آپ اپنے پوسٹ میں واضح کر دیں کہ آپ کو معلومات کے بارے میں کیا خدشات ہیں۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ جو تصویر یا پیغام شیئر کر ہے ہیں اسے بعد میں کسی اور جگہ کسی اور طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام معلومات کو انفرادی طور پر پرکھیں

واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ وائس نوٹ میں جس خاتون کی آواز سنائی دے رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص کے دوست کا مشورہ شیئر کر رہی ہیں جو ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ یہ پیغام بی بی سی کو دنیا بھر سے بھیجا گیا ہے۔

اس پیغام میں دیے جانے والے مشوروں میں کچھ صحیح اور کچھ ایسے ہیں جنھیں درست ثابت کرنے کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

جذباتی پیغاموں سے خبردار رہیں

بیشتر مواد ہمیں بے چین، افسردہ، خوش کرنے یا غصہ دلانے والا ہوتا ہے۔ ایسا مواد بہت آسانی سے وائرل ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر غلط معلومات یا ’مس انفارمیشن’ سے نمٹنے میں صحافیوں کی مدد کرنے والے برطانوی ادارے فرسٹ ڈرافٹ سے وابستہ کلیری وارڈل نے بتایا ’غلط معلومات کو پھیلانے میں خوف سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے۔’

فوری طور پر اقدامات کی ضرورت کا احساس بے چینی بڑھاتا ہے۔

انھوں نے بتایا ’لوگ اپنے قریبی افراد کے تحفظ کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔ جب وہ وائرس سے نمٹنے کے طریقے جیسا کوئی پیغام دیکھتے ہیں، یا ایسا کوئی پیغام جو صحت یاب کرنے والی کسی چیز کے استعمال کا مشورہ دیتا ہو تو وہ فوری طور پر اس سے اپنے قریبی افراد کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔’

جانبداری کے بارے میں سوچیں

کسی پیغام کو شیئر کرنے سے پہلے سوچیے کہ آپ اسے کیوں شیئر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ اس پر متفق ہیں یا اس لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ وہ سچ ہے؟

برطانوی تھنک ٹینک ڈیموس کے سینٹر فاردا اینالیسس آف سوشل میڈیا کے ریسرچ ڈائریکٹر کارل ملر کہتے ہیں کہ ہم ایسے پیغام زیادہ آسانی سے شیئر کر دیتے ہیں جو ہمارے اپنے خیالات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں ہمیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

March 9, 2020

مذہبی عقیدے سے سائنسی حقیقت تک۔تلسی کا پودا مقدس اور بابرکت کیوں مانا جاتا ہے ؟

ویب ڈیسک ::مذہبی عقیدے سے سائنسی حقیقت تک۔تلسی کا پودا مقدس اور بابرکت کیوں مانا جاتا ہے ؟ کارخانۂ قدرت کے خوش رنگ، خوش بُو دار، عجیب الخلقت نباتاتی اجسام جہاں صحت اور علاج میں مفید اور مددگار ہیں، وہیں انسانوں کے مختلف گروہوں کے نزدیک ان کی کوئی مذہبی اور روحانی حیثیت بھی ہوسکتی ہے۔دنیا کے بعض پودے اور جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جن کو مقدس اور بابرکت مانا جاتا ہے اور وہ جادوئی خاصیت کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔ تلسی انہی میں‌ سے ایک ہے۔
تلسی کا شمار عام نباتات میں کیا جاتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں Basil کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں کی طرح برصغیر میں بھی تلسی ایک مشہور اور معروف پودا ہے۔
اس خطے میں‌ بسنے والے ہندو اسے مقدس اور بابرکت مانتے ہیں۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ایک دیوی نے تلسی کا روپ دھار لیا تھا اور اسی لیے یہ مقدس پودا ہے۔ ہندو مت میں تلسی کی پوجا کی جاتی ہے۔
مذہبی عقائد اور روحانی تصورات کو چھوڑ کر طبّی سائنس کی دنیا میں چلیں تو تلسی انسانوں کے لیے نہایت مفید اور ہماری صحت اور علاج میں سود مند بتایا جاتا ہے۔ طبی محققین کی مختلف رپورٹوں میں تلسی کے حیرت انگیز طبی فوائد سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس میں وٹامن، معدنیات، کیلشیم، کینسر کے خلاف مددگار اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش سے بچانے میں مدد دینے والے اجزا موجود ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ تلسی کے پتے جینیاتی نقائص کو دور کرکے ہمارے ڈی این اے کو صحت مند حالت میں برقرار رکھتے ہیں۔ اسی طرح اس پودے میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہیں جو دل کے لیے فائدہ مند ہیں، تلسی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے بعض اجزا جراثیم کُش صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

Image result for tulsi plant benefits

February 28, 2020

ایسی کون سی وہ عام غذا ئیں جو بانجھ پن کا امکان بڑھاسکتی ہیں

ویب ڈیسک ::ایسی کون سی وہ عام غذا ئیں جو بانجھ پن کا امکان بڑھاسکتی ہیں…………… دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر یہ ممکنہ طور پر ایک عام غذا کا استعمال ہوسکتا ہے۔
کم از کم امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا۔ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا، فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد اسپرم کاؤنٹ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ۔
محققین کا کہنا تھا کہ غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسائیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپریم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوان تھے اور ان کا انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کی۔
ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گزشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا، ، جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا، یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ۔
ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپریم کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی، اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، سبزیاں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے غرض جنک فوڈ کا کم از کم استعمال کریں۔
تولیدی صحت سے ہٹ کر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر سنگین امراض سے بچنے کے لیے اچھی غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

Image result for family doctor   junk food benifts and side efects

February 7, 2020

روزی گیبریئیل کی نئی ویڈیو وائرل ، ویڈیو میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کرکے مداحوں کو رلادیا

کینیڈا: جدت ویب ڈیسک ::کینیڈا سے تعلق رکھنے والی روزی کی جاری کردہ ویڈیو کا عنوان  پاکستان نے کس طرح میری زندگی بدل دی‘ ہے جس میں روزی اپنی پرانی ویڈیو میں کسی مرض کی شدت سے روتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں اور ایک معجزے کا انتظار کرتی ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو میں وہ پاکستان جانے کی تیاری کرتی نظر آتی ہیں۔ ویڈیو کے درمیان وہ پاکستانیوں کی محبت، مہمان نوازی اور گوادر سے گلگت تک کے خوبصورت مقامات دکھاتی ہیں۔گزشتہ سال اپنی ہیوی بائیک پر پورے پاکستان کا سفر کرنے اور دینِ اسلام کی حقانیت قبول کرنے والی مہم جو خاتون روزی گیبریئیل کی نئی ویڈیو وائرل ہوگئی، ویڈیو میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کرکے مداحوں کو رلادیا ہے تو دوسری جانب انہیں مسکرانے کا موقع بھی فراہم کیا۔
۔ویڈیو کی سب سے اہم بات روزی کا لکھا وہ نوٹ ہے جس میں وہ شروع میں اپنے رونے کی وجہ بتاتی ہیں۔ روزی نے کہا کہ میں زندگی کے نشیبی حصے میں تھی۔ ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور خودکشی کے خیالات میں گھری ہوئی تھی۔
روزی نے بتایا کہ ’مجھے 20 برس سے لائم بیماری تھی اور پیدائشی طور پر مجھے شریانوں کا مرض لاحق رہا، میرے 9 آپریشن ہوئے، پھرمیرا ایک ناکارہ گردہ بھی نکالا گیا جس کے بعد میں مایوس ہوگئی لیکن میرے ایک دوست کی موت نے مجھے جگادیا، میں نے کہا کہ مجھے بستر پر نہیں مرنا اور زندگی مختصر ہے۔
روزی کے مطابق اس کے بعد میں نے موٹر سائیکل پر دنیا کے سفر کا ارادہ کیا ورنہ گھر پر دھیرے دھیرے موت کے منہ میں جانا پڑتا لیکن اس سفر میں گرتی ہوئی صحت کے خیال سے پریشان رہی تاہم سب کچھ ٹھیک ہوگیا اور میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح میں لوگوں کو ترغیب دے سکتی ہوں، میں نے یہ سوچا نہیں تھا کہ زندگی کے اتنے مختلف پہلو میرے سامنے آئیں گے‘۔
روزی کی یہ ویڈیو چار لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھی اور 8700 سے زائد لوگوں نے اپنے کمنٹس لکھے جس میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ کمنٹس میں سب نے کہا ہے کہ اس ویڈیو نے انہیں رلادیا اور دوسری جانب جینے کی امید دی اور خود پاکستان کا روشن پہلو اجاگر کرنے پر بھی لوگوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں لیکن پاکستانی عوام نے مجھے بے انتہا محبت دی اور قبولیت بخشی۔ ایک جگہ وہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ (پاکستان کے لوگ) دنیا میں سب سے خوبصورت اور حیرت انگیز ہیں، یہ مسلمان ہیں، آپ میں سے کتنوں نے انہیں دیکھا اور جانا ہے، یہ آپ کو دیکھ کر اپنے گھر بلاتے ہیں اور اپنے گھر کی ہر شے آپ کو دے دیتے ہیں۔
روزی نے مزید کہا کہ ’ اے دنیا والو! جاگ جاؤ، آپ ان پاکستانیوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، اور میں خدا سے امید رکھتی ہوں کہ میرا جو تجربہ آپ دیکھ رہے ہیں وہ آپ کا ذہن بدل دے، اگرآپ ہر شخص سے یکساں سلوک کریں تو دنیا سے امتیازات ختم ہوجائیں گے، دنیا کو چاہیے کہ وہ حقیقی حسن دیکھے اور انسانیت سے اصل رشتے کو میرے تجربے سے پہچانے۔ یہی زندگی ہے‘۔
اس کے بعد ویڈیو میں روزی کے ہاتھوں میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ دیکھا جاسکتا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ یہ محض پاکستان کا ایک سفر نہیں تھا بلکہ میری روح کی تسخیر تھی، میری تکلیف دہ زندگی ختم ہوئی اور مجھے سکون مل گیا، میں نے اپنے سفر میں سچ کو پہچانا ہے، پاکستانیوں کی رحم دلی نے میرے دماغ کو سکون پہنچایا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا منظر بھی شیئر کیا ہے۔

January 22, 2020

پاکستان کے پہلے خواجہ سرا نے عالمی اعزاز تک رسائی حاصل کر لی

جدت ویب ڈیسک ::تفصیلات کے مطابق پاکستان کا پہلا خواجہ سرا عالمی ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے، خواجہ سرا نایاب علی کو عالمی ایوارڈ دی گالاز 8 فروری کو دیا جائے گا۔
دی گالاز ایوارڈ کی تقریب آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں آٹھ فروری کو منعقد ہوگی، جس میں خواجہ سرا نایاب علی کو ایوارڈ سونپا جائے گا، نایاب علی پاکستان کے پہلے خواجہ سرا ہیں جنھیں اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس ایوارڈ کے لیے نامزد خواجہ سرا نایاب علی ایک تعلیم یافتہ شہری ہیں اور ماسٹر ڈگری حاصل کر چکے ہیں، میٹرک کا امتحان اے پلس گریڈ کے ساتھ دیا، این ٹی ایس ٹیسٹ میں کام یاب نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری نہ ہو سکی، نایاب علی نے مذہبی تعلیم بھی حاصل کی۔
ایوارڈ کے لیے نامزدگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نایاب علی نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کردار پر انھیں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اس ایوارڈ کے لیے منتخب ہونا ایک بڑا اعزاز ہے۔
مذکورہ ایوارڈ کے لیے رواں برس پوری دنیا سے چار لوگوں کو نامزد کیا ہے جن کا تعلق برازیل، قازقستان، کرغزستان اور پاکستان سے ہے۔ خیال رہے کہ نایاب علی پر نامعلوم افراد نے تیزاب بھی پھینکا تھا، تاہم اس افسوس ناک واقعے میں ان کا چہرہ بچ گیا تھا، ٹھوڑی اور گردن متاثر ہو گئے تھے۔

Image result for khusra nayab ali world award the galas

January 17, 2020

ایک مچھلی جس نے پاکستانی ماہی گیروں کو راتوں رات لکھ پتی بنا دیا

جدت ویب ڈیسک ::سمندر کو ماہی گیر ’بادشاہ‘ بھی کہتے ہیں بقول ان کے کہ یہ بادشاہ کے انداز میں نوازتا ہے جس سے انسان کی قسمت ہی بدل جاتی ہے۔
حال ہی میں کراچی سے تھوڑا دور بحیرہ عرب میں شکار کے دوران ماہی گیروں کے جال میں دو ایسی نایاب مچھلیاں آگئیں جنھوں نے انھیں لکھ پتی بنا دیا۔
ان ماہی گیروں کی موبائل پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو کے مطابق جیسے ہی جال کھنچتا ہے تو سندھی زبان میں ایک بزرگ ماہی گیر کی آواز آتی ہے کہ سوّا ہے سوّا۔
جیسے جیسے جال اوپر آتا ہے تو دوسری آواز آتی ہے کہ ‘ایک نہیں، دو ہیں دو۔’ مچھلیوں سے بھرا یہ جال اوپر کشتی پر پہنچتا ہے تو خوشی کے مارے ایک ماہی گیر کی چیخ نکل جاتی ہے، برف اٹھانے والی قینچی سے ان مچھلیوں کو دوسری مچھلیوں سے الگ کردیا جاتا ہے جبکہ ایک ماہی گیر خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔
ابراہیم حیدری کی جیٹی پر یہ دونوں مچھلیاں دس دس لاکھ روپے سے زائد قیمت میں فروخت ہوئیں اور فروخت کے تقریباً دو ماہ کے بعد ان مچھلیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا اور اس کے بعد میڈیا پر وائرل ہوئی۔
سوّا مچھلی کیا ہے اور قیمتی کیوں ہے؟
ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے معاون محمد معظم کے مطابق سوّا کروکر نسل سے تعلق رکھتی ہے، اس کو سندھی میں سوّا اور بلوچی میں کر کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ارگائیروسومس جیپونیکس ہے۔
اس کا سائز ڈیڑھ میٹر تک ہوسکتا ہے جبکہ وزن 30 سے 40 کلو بھی ہوسکتا ہے، یہ پورا سال ہی پکڑی جاتی ہے لیکن نومبر سے مارچ تک اس کی دستیابی آسان ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بریڈنگ سیزن ہے۔

ایک چینی ماہی گیر یلو کروکر مچھلی اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے

چین، گولڈ فش،

کراچی فشریز میں تازہ پکڑی گئی مچھلیاں نیلامی کے لیے رکھی ہیں

January 8, 2020

پاکستان 2020 میں‌ سفر کیلئے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں شامل

جدت ویب ڈیسک ::واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی جریدے فوربز نے رواں برس سیاحت کیلئے بہترین ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کے معروف کاروباری جریدے فوربز نے 2020 میں سیاحت کے لیے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں وطن عزیز پاکستان کا نام بھی شامل کرلیا۔
ایک رپورٹ میں امریکی جریدے کا کہنا تھا کہ بند ممالک اب کھل رہے ہیں اور لوگوں کو ان ممالک میں رسائی دی جارہی ہے۔
فوربز کی فہرست میں ارمینیا، چاڈ، ایریٹریا، گوئےٹیمالا، مونگولیا اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔
معروف ٹریول ایجنسی وائلڈ فرنٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی جانب سفر کرنے کی لوگوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے بالخصوص برطانوی شہزادہ اور شہزادی کے حالیہ دورے کے بعد اس میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔
وائلڈ فرنٹیئر کے بانی جونی بیل بی نے بتایا کہ پاکستان ایڈونچر کے لیے سب سے بہترین مقام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں قدیم سندھی تہذیب موجود ہیں جو 4 ہزار سال پرانی ہیں اور لاہور جیسے خوبصورت شہر ہیں جہاں قلعے، مساجد اور دیگر مقامات ہیں جبکہ سب سے اہم یہاں کے نظارے ہیں جو شمالی علاقوں کے ہیں، 3 بڑے پہاڑی سلسلے یہاں آپس میں ٹکراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹریکنگ، پہاڑوں پر بائیکس چلانا، رافٹنگ یا صرف ثقافتی سیاحت کے لیے بہترین مقام ہے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کے انفراسٹرکچر میں بہت بہتری آئی ہے، نئی سڑکیں، نئے ٹنلز کی وجہ سے سفر کا وقت بھی کم ہوگیا ہے جبکہ خطے میں نئے پرتعیش ہوٹل بھی کھل رہے ہیں۔

Image result for Pakistan tops list of best 2020 holiday destinations forbiz

December 25, 2019

بابا وانگا کی 2020ء کے بارے میں خوفناک پیشگوئیاں

جدت ویب ڈیسک ::باباوانگا کے نام سے مشہور بلغاریہ کی معروف نابینا خاتون کی موت کو 23 سال گزر چکے اور ہر سال کے متعلق ان کی درجنوں پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔
برطانوی جریدے “دی سن” کے مطابق اب ان کی 2020ء کے متعلق بھی تہلکہ خیز پیش گوئیاں سامنے آگئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم پیش گوئی یہ ہے کہ 2020ء میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہو گا۔
بابا وانگا کی پیش گوئی کے مطابق روسی صدر پر روس کے اندر کا کوئی شخص یا گروہ ہی قاتلانہ حملہ کرے گا جبکہ امریکی صدر کو برین ٹیومر لاحق ہو گا اور وہ بہرے ہو جائیں گے۔
بابا وانگا نے 2020ء کے لیے ایشیاء کے متعلق ایک خوفناک پیش گوئی کی تھی، جس کے مطابق اس سال ایشیاء میں تباہ کن زلزلے اور سونامی آئیں گے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیل جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے روس میں ایک بڑے شہاب ثاقب کے گرنے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
یورپ کے متعلق بابا وانگا نے پیش گوئی کر رکھی ہے کہ مسلمان شدت پسند یورپ میں حاوی آجائیں گے اور اس براعظم سے آبادی ہی ختم ہو جائے گی۔ یہ شدت پسند یورپی باشندوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کریں گے جس سے اس براعظم کی آبادی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

Related image

December 24, 2019

موت سے چند گھنٹے پہلے ظاہر ہونے والی سائنسی نشانیاں کیا ہیں- جانیے

جدت ویب ڈیسک ::انسانی جسم لافانی نہیں ہے یہ زمین پر ایک مُدت سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا، عام طور پر جسم زمین پر کئی رنگ بدلتا ہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا یہ تمام علامات جسم کی پل پل موت کی طرف بڑھنے کی خبر ہے۔
یہاں ہم جسم پر ظاہر ہونے والی چند اُن علامات کا ذکر کریں گے جو جسم کے Expire ہونے سے کُچھ گھنٹے پہلے ظاہر ہوتی ہیں، یہ علامات نشانیاں ہیں جسم کے لیے بھی اور اُس جسم کی روح سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی کہ وقت بہت قریب آگیا ہے، ایسے موقع پر محبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ جسم کو تنگ نہ کریں اور اُسے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف نہ پہنچاہیں تاکہ روح کے جسم سے جُدا ہونے کا یہ عمل آسان ہوجائے۔
موت سے چند گھنٹے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں ذیل میں درج ہیں۔
٭ بھوک اور پیاس کا مٹ جانا
جب جسم Expire ہونے کے بلکل قریب چلا جاتا ہے تو انسانی حاجات جیسے بھوک اور پیاس کی ضرورت محسوس ہونی بند ہو جاتی ہے اور لاغر جسم مزید توانائی حاصل کرنے کے لیے خوراک کی درخواست بند کر دیتا ہے۔

٭ دیگر انسانی حاجات ختم ہو جاتی ہیں

موت سے چند گھنٹے پہلے انسانی جسم پاخانہ اور پیشاب کی حاجت محسوس کرنا بھی بند کر دیتا ہے یہ گویا نشانی ہے روح کے جسم کو چھوڑنے سے پہلے کی۔موت سے کُچھ گھنٹے پہلے جسم درد سے کراہتا ہے اور اُس پر خوف کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جس میں کپکپی وغیرہ طاری ہوسکتی ہے۔

٭ دل کی دھڑکن

ساری زندگی خون کو پمپ کرنے والے دل کی دھڑکنیں موت سے کُچھ دیر پہلے بے ترتیب ہوجاتی ہے اور نبض کو ہاتھ سے محسوس کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہ اشارہ ہے کہ اعضا اپنا وقت پُورا کر چکے ہیں اور عنقریب بجھنے والے ہیں۔

٭ جسم کا درجہ حرارت
جسم کا وقت جب ختم ہونے والا ہوتا ہے تو آنکھوں میں آنسو چمکتے ہیں، اور جسم کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور دوبارہ بحال نہیں ہوتا ایسے موقع پر اُسے شدید پسینہ بھی آسکتا ہے۔
٭ محسوسات کم ہوجانا
روح جب جسم کو چھوڑنے کے لیے بلکل تیار ہو یعنی موت سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے تو ہاتھوں پاؤں گھٹنوں کی جلد پر محسوسات ختم ہو جاتی ہیں اور ان کا رنگ بدلنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ نیلا یا ارغوانی رنگ اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔
٭ سانس کی بے ترتیبی
یہ نشانی واضح نشانی ہے جس میں سانس اُکھڑنا شروع ہوتا ہے اور بے ترتیب ہوتا چلا جاتا ہے اور دھیرے دھیرے بُجھ جاتا ہے۔
٭ سکرات کی حالت
میڈیکل سائنس اس حالت کو نہیں مانتی مگر میٹافزکس کے سمجھنے والےجانتے ہیں کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب رخصت ہونے والا لینے آنے والوں کو محسوس کرنے لگتا ہے اور دیکھنے لگتا ہے ایسے موقع پر اُس کے مُنہ سے کُچھ ایسے الفاظ نکلتے ہیں جنہیں سُن کر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسے Illusion ہو رہی ہے۔
نوٹ: ایسے موقع پر وہ لوگ جو کمزور دل ہیں یا اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے مریض کے قریب نہ رہیں اور اُس کے قریب بلکل مت روئیں کیونکہ جسم کی سماعت کی حس کام کر رہی ہوتی ہے اور محبت کرنے والوں کو تکلیف میں دیکھنا بھی ایک تکلیف ہے اس لیے رخصت ہونے والی روح کے جسم کو اس تکلیف میں مبتلا نہ کریں اور اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور ایسے موقع پر Expire ہونے والے جسم کو سخت ہاتھ مت لگائیں اور نرم ہاتھوں سے اُس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیریں اور بار بار اُس کی جگہ تبدیل نہ کریں اور جتنا ممکن ہو اُس کے لیے سکون فراہم کریں تاکہ اُس پر یہ عمل آسان ہو سکے۔