July 27, 2017

اسد عمر‎

ایئر کنڈیشنڈ ماحول، نفاست سے سجا ہوا پر وقار دفتر، ملٹی نیشنل کارپوریٹ کلچر اور صدر کرسی پر براجمان 8کروڑ روپے سالانہ تخو اہ لینے والے سی ای او کی دھیمی آواز میں مدلل گفتگو، یہ منظر کئی برس قبل اینگرو کارپوریشن کے دفتر میں اسد عمر سے پہلی ملاقات کا تھا، تب شاید اسد عمر خود بھی حیران ہوتے اگر ان سے کوچہ سیاست میں آکر اپنا قومی کردار ادا کرنے کی بات کی جاتی۔آج دھوپ ، دھول مٹی میں سیاسی قافلوں کی قیادت کرنے والے اسد عمر ایک مثال بن چکے ہیںملک کیلئے قربانی اوراسٹیٹس کو سے نجات دلانے کی جدوجہد کی۔ جس کی انہوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے،۔ 8کروڑ روپے کی تنخواہ اور ایک آرام دہ زندگی کو ایک مقصد کیلئے قربان کرنے کی ہمت کتنے لوگ کرتے ہیں ۔آج کی گفتگو ایک سیاستدان اسد عمر سے ہے ان سے ملکی مستقبل اور تحریک انصاف کی آئندہ پالیسی پر جو گفتگو ہوئی ، قارئین کی نذر ہے۔

کارپوریٹ ورلڈ سے سیاست کے کوچہ میں آنے کا تجربہ کیسا رہا اور اس فیصلہ کی کیا وجوہات تھیں ؟

ملک کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور ہر باشعور پاکستانی ان حالات پر تشویش کا شکار ہے۔ میرا بھی یہ ہی معاملہ رہا، اینگرو جیسے مستحکم ادارے میں ٹاپ لیول مینجمنٹ پر کام کرتے ہوئے مجھےسیاسی حکمرانوں اور سرکاری اداروں کے رویوں اور طریقہ کار کا بخوبی اندازہ تھا اور ہمیں نظر آرہا تھا کہ ملک اس طرح نہیں چل سکتے اور اس صورتحال کا حتمی نتیجہ تباہی ہوگا۔ دوسری طرف عمران خان نے ایک نئی طرز کی سیاست کی داغ بیل ڈالی وہ اہل لوگوں کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دے رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اچھے لوگ آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالیں ۔ عمران کی روز اول سے ایک ساکھ ہے اور اس کے بدترین مخالف بھی اسے کرپٹ نہیں کہ سکتے، شاید یہ وجہ تھی کہ میں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا یہ یقینی ہے کہ اگر عمران خان نہ ہوتا تو میں یہ فیصلہ نہ کرتا۔ ایک پر آسائش و سہل زندگی چھوڑکر سیاست میں آنا یقینا ایک آسان فیصلہ نہیں تھا، فیملی لائف بہت ڈسٹرب ہوجاتی ہے، ان کیلئے وقت بہت کم ہو جاتا ہے مگر جب ملک اور قوم کے حوالے سے بات ہو تو باقی چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں ۔ عمران خان کی اس جدوجہد کو میں ملک و قوم کی تعمیر کیلئے اسی وجہ سے بنیادی قرار دیتا ہوں کہ جب مجھ جیسا آدمی اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس جدوجہد میں شامل ہوگیا توعمومی سطح پر اس کے وسیع اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عمران خان آج ملک کے نوجوانوں کیلئے رول ماڈل بن چکے ہیں وہ کرپشن کے خلاف جدوجہد کا استعارہ ہیں اور یہ کس قدر خوش آئند چیز ہے کہ ہمارے ملک کا نوجوان کرپشن کے اتنا خلاف ہے کہ طاقتور حلقوں کے خلاف عمران خان کی قیادت میںمتحد ہوچکا ہے۔ یہ ملک کے روشن مستقبل کیلئے سب سے اہم کامیابی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ آپ زندگی کے کسی موڑ پر سیاست میںآئیںگے ؟

بالکل بھی نہیں، یہ کبھی میری پلاننگ کا حصہ نہیں تھا ، میں نے سوچ رکھا تھا کہ جلد ریٹائرمنٹ لے کر فلاحی کاموں کی طرف آئوں گا بالخصوص ایجوکیشن کے شعبہ میں کام کرنا چاہتا تھا اور باقی فارغ وقت زندگی انجوائے کرنے اور کرکٹ دیکھنے میں گزارنے کا ارادہ تھا۔ میرے خاندان میں کوئی سیاست میں نہیں آیامگر جیسا کہ میں نے ملک کی صورتحال، اسے چلانے کا اندازدیکھا تب عمران خان کی تحریک نے مجھ سے یہ فیصلہ کرایا۔

پی ٹی آئی میں آپ صف اول کے لیڈر ہیں ، پارٹی میں آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

میں پی ٹی آئی میں مختلف پوزیشنز پر بیک وقت کام کررہاہوں ،میں قومی اسمبلی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کا رکن ہوں، پھر میں اپنے کارپوریٹ ورلڈ کے تجربہ کو استعمال کرتے ہوئے کے پی کے حکومت کی مدد کر رہا ہوں تا کہ نظام حکومت شفاف اور سہل بنایا جا سکے۔کراچی ایڈوائزری کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے پارٹی کی حکمت عملی کی تیاری اور اس پر عمل درآمدکی ذمہ داری بھی انجام دے رہا ہوں۔ اس کے علاوہ مرکزی لیڈر کی حیثیت سے مختلف ذمہ داریاں دیکھتا ہوں۔

آپ نے عمران خان کو کیسا لیڈر پایا؟

عمران خان ایک سی ای او قطعی نہیں ہے بلکہ رہنما ہے جو عوام کو شعور دینے کا مشن چلا رہاہے ، وہ فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کی ساکھ پارٹی کی ساکھ ہے، پاکستان میں سیاسی رہنماکرپشن کےباعث ڈرپوک ہیں اور تمام پاورز اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ۔ عمران کے ساتھ ایسا مسئلہ نہیں وہ لوگوں کو ٹاسک واختیار دیتے ہیں اور سب لوگوں کی رائے سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ پی ٹی آئی میں ون مین شو نہیں پایا جاتا، عمران مشورہ کھلے دل سے قبول کرتے ہیں خواہ وہ ان کو پسند نہ آئے لیکن درست ہونے کی صورت تسلیم کرتے ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی تبدیلی یا انقلاب آرہا ہے؟ اگر ہاں تو کیسے؟

تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے ، منزل نہیں،عمران خان پہلے ہی پاکستانی سیاست کا رخ بدل چکے ہیں، پاکستان میں کب اس بات کوکب اہمیت دی جاتی تھی کہ سیاستدان اور حکمران پیسہ بناتے ہیںجبکہ سب اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے۔اب وہ وقت ہے کہ عدلیہ میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کا اب تک کا سخت ترین احتساب ہو رہا ہے،، اس کا کریڈٹ آپ کس کو دیں گے۔ ان معاملات کے دوررس نتائج آنے والے برسوں میں سامنے آئیں گے۔ پاکستانی سیاست کا رخ تبدیل ہو رہا ہے اور اب لوگ ان حکمرانوں کی حقیقت سے بحوبی واقف ہو چکے ہیں ،وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہر کسی کا احتساب ہوگا خواہ وہ امیر ہو یا غریب،جو کہ پاکستانی عوام کی ہمیشہ سے خواہش تھی،یہ ہی انقلاب ہے۔ دوسری بات کہ اب اداروں پر سخت چیک ہے ۔ سپریم کورٹ آج ایف بی آر، ایس ای سی پی ، آئی بی اور نیب جیسے اداروں کے کردار اور کاردکردگی پر سوال کر رہی ہے اور یقینی بنا رہی ہے کہ ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام و ملک کیلئے کام کریں نہ کہ مخصوص افراد یا خاندانوں کیلئے ، یہ ایک تبدیلی اور نئی صورتحال ہےجس کی جنگ فی الحال جاری ہے جو عوام جیتنے کے قریب ہیں۔یہاں میں خیبر پختونخواہ کی مثال دوں گا جہاں اختیارات کونچلی سطح پر گائوں  دیہات تک پہنچا دیا گیا ہے ، پولیس کو سیاسی دبائو سے مکمل آزاد کردیا گیا ہے، ٹیچرز کی تقرری این ٹی ایس سسٹم کے کے تحت میرٹ پر کی جا رہی ہے،  معلومات تک رسائی کے قانون کو بہتر بنا کر عوام کی اقتدار میں شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔  وہاں ہم نے یہ کام نہیں کیا جو ملک میں عام طور پر حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے کہ سڑک کا یا پل کا افتتاح ہو گیا ، تصویریں چھپ گئیں اور معاملہ ختم ، لوگوں کو کچھ نہیں ملتا،  ھقیقی معنوں میں سوسائٹی کو کچھ نہیں ملتا۔ صحت کے شعبہ کو بہتر بنانے کیلئے  بیوروکریٹس یا سیاست دانوں کی بجائے اسپتالوں کو اختیار ات دے کر خود مختار بنایا ہے،  ہمارے تمام اقدامات کی بنیاد تین ستونوں پر ہے  اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، اداروں کو مضبوط بنانا اور ہر معاملے میں شفافیت کو یقینی بنانا۔  خیبر پختونخواہ میں ہم تمام اقدامات انہی بنیادوں پر کر رہے ہیں تاکہ مستقل بنیادوں پر مسائل کو حل کیا جائے نہ کہ وقتی نتائج حاصل کئے جائیں اور یہ پالیسی مثبت نتائج دے رہی ہے۔

پانامہ پیپرز پر جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے بعد کی صورتحال کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟ ملکی سیاست پر اس رپورٹ کے کیا اثرات ہوں گے؟

پاکستانی عوام کو جیت مبارک ہو، پاکستان کانیا اور روشن دور شروع ہو رہا ہے، جے آئی ٹی نے توقع سے بڑھ کر کام کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہو گا مگر یہ طے ہے کہ اب چیزیں آگے کی طرف ہی بڑھیں گی ، واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، آج سپریمکورٹ جانے کا تحریک انصاف کا فیصلہ درست ثابت ہو گیا ہے، آئینی طور پر یہ کام پارلیمنٹ بھی کرسکتی تھی مگر وہاں اسٹیٹس کو  کا غلبہ ہے جن کیلئے یہ ممکن ہی نہیں تھا، ابھی آپ نے تبدیلی کی بات کی تی تو یہ پاکستان میں ایک تاریخی موڑ ہے، سپریم کورٹ کے پہلے فیصلہ سے ہمیں کچھ مایوسی ہوئی تی مگر عدلیہ اپنے فیصلہ کو بہتر سمجھتی ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد نواز شریف کے پاس استعفی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا بصورت دیگر سپریم کورٹ ان کو نا اہل کرسکتی ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم استعفی دیں گے اور کیا مسلم لیگ اپنا دور حکومت پورا کر پائے گی؟

وزیر اعظم کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ مستعفی ہوں ،وہ آسانی سے نہیں ہوں گے بلکہ ایک بھرپور قانونی جنگ لڑنے کی کوشش کریں گے حالانکہ اب اس کیس میں کہنے کیلئے کچھ بچا نہیں ہے، حکومتی دور پورا کرنے کا فیصلہ مسلم لیگ کو کرنا ہے کیونکہ الزام وزیراعظم پر ہے ن لیگ پر نہیں اب وہ ان ہائوس چینج کے ذریعے اپنا دور حکومت پورا کرتے ہیں یا نواز شریف اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن میں جاتے ہیں یہ فیصلہ ن لیگ کا ہوگا اور یہ ایک اہم فیصلہ ہوگا کیونکہ اس کے ن لیگ پر خاصے اثرات آئیں گے اور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو سکتی ہے جس کی ابتدا ہوچکی ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا نوجواں ووٹر دوسری سیاسی میں تقسیم ہو گیا ہے یا ایسا نہیں ہے؟

تمام سروے اور ریسرچ رپورٹس بتاتی ہیں کہ نوجوان ووٹرز کی اکثریت تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے ہیں  کیونکہ عمران خان نے نوجوانوں کو ایک سمت دی ہے انہوں نے نوجوانو ںکو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا سیکھایا،  قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا سیکھایایہ ایک بنیادی فرق ہے جو عنران خان اور تحریک انصاف نے ڈالا، آج پاکستان کا نوجوان تحریک انصاف کو ملک کیلئے نجات دہندہ قرار دیتا ہے تو اس کی وجہ پارٹی کی حقیقت پر مبنی پالیسیز ہیں۔

آپ نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں؟

خود پر اور ملک پر یقین کریں، ملک میں بہت سی مشکلات ہیں مگر مواقع بھی کم نہیں خصوصا ترقی پسند وژن رکھنے والے محنت سے نہ گھبرانے والے اور خواب دیکھنے اور ان خوابوں کوحقیقت  کا روپ دینے کا حوصلہ رکھنے والوں کیلئے بہت مواقع ہیں، یہ ملک اور اس کا مستقبل آپ نوجوانوں کا ہے اسد عمر یا عمران خان کا نہیں ، آپ خود پر اعتماد کریں اور اس ملک کی باگ ڈور سنبھالیں۔