January 9, 2018

ریحان مرچنٹ

ریحان مرچنٹ تشہیری دنیا کا وہ پارس ہے جس کو چھو لینے والا سونا بن جاتا ہے،ایسے جوہری خال خال ہی ملتے ہیں جو خام کو تراش کر عمدہ بنائیں اور ان سے کوئی فائدہ حاصل کئے بنا ہی دوسروں کی جھولی میں ڈال دیں،انہوں نے کار آمد اور تجربہ کار فنکاروں کی ایک بڑی جماعت پیدا کی جو آج تشہیری اداروں کو سیراب کررہی ہے۔تشہیری صنعت ہر کاروبار کی ماں تصور کی جاتی ہے ۔ ایسے ماحول میں ریحان علی مرچنٹ 27برس سے ذاتی سرمایہ کاری کے ذریعے تشہیری صنعت کو کارآمد افراد فراہم کر رہے ہیں۔ مرچنٹ نےجوش،جذبے، لگن اور شعور کے ساتھ تشہیری دنیا میں قدم رکھا تو انہیں یقین کامل تھا کہ ان کی شبانہ روز محنت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور رنگ لائے گی۔خوب سے خوب تر کی تلاش ان کا روزاوّل سے مطمع نظررہا۔تشہیری صنعت میں جمود کے خلاف نئےآئیڈیاز متعارف کرائےاور بین القوامی معیار کے مطابق کلائنٹس کو سروس فراہم کرکے انڈسٹری میں جدت پیدا کرنے کی خواہش ان سے ہمیشہ نئے جہانوں کی دریافت کراتی رہی۔ مرچنٹ کی طبیعت میں بے چینی و اضطراب انہیں ہر وقت نیا کچھ کرنے پر اکساتا ہے۔وہ ہمیشہ چیلنجزاور مشکل کام کےآرزومند رہے ہیں۔مرچنٹ نے روز اوّل سے اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی تربیت کی،ان کا اپنے ساتھیوں کو اختیارات دینے کا جرأت مندانہ اندازآج بھی وہیہے، اللہ تعالی اپنے بندوں سے خوش ہو کر ان کیلئے تمام راستے آسان کردیتا ہے۔ ریحان علی مرچنٹ کو بھی اللہ تعالی نے ایسے ساتھیوں سے نوازا کہ وہ 7برس تک امریکا میں مقیم رہے اور ادارہ کامیابی سے چلتا رہا، 21ویں صدی اپنے دامن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب سمیٹ کرلائی تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ انقلاب کیا رُ خ اختیار کرے گا مگر آج یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ہے جو دنیا کا مستقبل ہی نہیں حال بھی طے کر رہی ہے۔ ہر لمحہ جہدِ نو کی تلاش میں سرگرداں اور نئے ستاروں پر کمند ڈالنے والے ریحان علی مرچنٹ کیلئے گویا یہ انقلاب ایک نئی زندگی کی نوید ثابت ہوا۔ یکسانیت کا شکار ہونا جس شخص نے سیکھا ہی نہ ہو اس کیلئے ڈیجیٹل ورلڈ ایک ایسی دنیا ہے جس میں ہر لمحہ ایک نئی جیت کا امکان ہواور سکندر اعظم کی طرح فتح کے اس متلاشی کو جیسے زندگی کا ایک نیا مقصد مل گیا۔پاکستان جیسے ملک میں ایک بڑے ایڈورٹائزنگ گروپ کا سربراہ ہونا یقیناً کسی کیلئے بھی زندگی کا حاصل ہوسکتا ہے مگر ریحان علی مرچنٹ سے مل کر ایسا لگا کہ درحقیقت ان جیسی شخصیت کیلئے یہ کوئی ایسی اچیومنٹ نہیں جس کو وہ زندگی کا فخر قرار دے سکیں۔ ڈیجیٹل ورلڈ کی وسعت اور ریحان علی مرچنٹ کی شخصیت آپس میں اس قدر مربوط نظر آتی ہے کہ لگتا ہے گویا دونوں ایک دوسرے کیلئے ہی تخلیق ہوئے ہیں۔ وہ آج کل ڈیجیٹل ورلڈ کی کون سی دنیائیں دریافت کررہے ہیں یہ جاننے کیلئے ان سے ایک تفصیلی نشست کا اہتمام کیا گیا جو ان کی مصروفیات اور انٹرویوز سے دور رہنے کی عادت کے سبب کافی کوششوں کے بعد ممکن ہوسکی۔ اس نشست کا احوال نذرِ قارئین ہے۔
ریحان علی مرچنٹ کے کیریئر کے ابتدائی دور کا ذکر کیا جائے تو اس وقت انڈسٹری میںایک جمود طاری تھا ، کام ہو رہا تھا، اشتہار بن رہے تھے ،کمپینز چل رہی تھیں مگر کچھ نیا نہیں تھا، وہی سب کچھ رواں دواں تھا جو برسوں سے جاری تھا، پھر انڈسٹری میں ریسرچ کی بنیاد پر کام کا آغاز ہوااور یہ آئیڈیا لے کر آنے والے ریحان علی مرچنٹ  ہی تھے۔ اپنے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے ریحان بتاتے ہیں کہ جب میں نے تشہیری صنعت میں قدم رکھا تب یہاں ریسرچ وپلاننگ کا فقدان تھا ریسرچ کی روشنی میں میڈیا پلاننگ اور بائنگ پاکستان میں نیا آئیڈیا تھا اگرچہ پوری دنیا میں کر یٹو ا یجنسیاں ا لگ الگ اپنا کام کرتی تھیں ،ہم نے پاکستان میں میڈیا پلاننگ اور بائنگ کا آئیڈیا متعارف کرواتے ہوئےاس کام کی داغ بیل ڈالی اور پاکستان میں سروے کمپنیوں، اشتہارات ، پلاننگ اور بائنگ کو جدید سائنٹیفک خطوط پر استوار کرنے کی سعی کی جس کے بہترین نتائج سا منے آئے اور آج پاکستانی کلائنٹس میڈیابائنگ کی ا ہمیت اور افادیت کو سمجھ کر اپنے اداروں کو مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماراگروپ مکمل طور پر جدید خطوط پر ا ستوار منظم ادارہ ہے جو اپنے کلائنٹس کو بہترین ریسرچ کی روشنی میں بین الاقوا می معیار کی خدمات فراہم کررہا ہے۔ ریسرچ کے ذریعے ایسے چونکا د ینے والے نتائج سامنے آتے ہیں جن کی بدولت جاندار تشہیری تصو رات کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ہم نے ابتدا سے تمام تر تشہیری حکمت عملی کی بنیاد ریسرچ اور سروے پر رکھی۔اس سے مصنو عات کے خریداروں میں یقین اور اعتماد کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔ مرچنٹ نے کہا کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ اپنے کلائنٹس کو پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی سروس فراہم کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کا تجربہ ایک طویل عرصے پر محیط ہے،فن تشہیر کی بین الاقوامی سطح پر پلاننگ، بائنگ اور مختلف شعبہ جات پر عبور اور تنظیمی قابلیتوں اور رفقاء کار کی انتھک محنت کے سبب MHLموثر کارکردگی کا نشان بن چکا ہے۔
پاکستان ریحان علی مرچنٹ کی پہلی محبت ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوری دنیا گھومی اور بہت سا وقت بیرون ملک گزارا مگر جہاں بھی گیا اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کی ،وطن کی مٹی کی خوشبو ہمیشہ میرے ساتھ رہی، پاکستان ہی ہماری پہچان ہے اوراس کے مثبت امیج کیلئے کام کرنا ہم سب کا بنیادی فرض ہے۔ اس قوم کے معماروں اور نوجوانوں کیلئے مستقبل کی راہیں آسان کرنے کیلئے ہر ممکن کام کر رہا ہوں۔ پاکستان کی عزت سے ہی ہماری عزت ہے ، دولت کبھی معیار عزت نہیں ہوسکتی۔
ریحان علی مرچنٹ کی انفرادیت اپنے ادارے کو کاروباری سے زیادہ تربیتی مرکز بنانا ہے جہاں مختلف سطح پر تربیت کے ذریعے لوگوں کی صلاحیتیں بڑھا نے اور ابھارنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیںتاکہ وہ انڈسٹری کیلئےاپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کرسکیں۔ انہوں نے 27سالہ کیریئر میں اسی پالیسی کی بدولت تشہیری صنعت کو بیش بہا ہیرے دیئے جو آج نہ صرف ملکی تشہیری صنعت بلکہ بیرون ملک بھی ملٹی نیشنل اداروں میں میڈیا و ایڈورٹائزنگ کی مرکزی پوزیشنز پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس سوال پر کہ آپ جب لوگوں کو ٹرینڈ کرتے ہیں اور وہ جلد ہی دوسرے اداروں میں چلے جاتے ہیں تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک کامیابی کا بنیادی جزو ہی ایک اچھی ٹیم تیار کرنا اور ڈیٹا پر کام کرنا ہے،مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب رہا ہوں جو کامیابی سے ایجنسی چلا رہی ہے اور مجھے موقع ملا کہ میں نئی مارکیٹس دریافت کروں ، ڈیٹا پر کام کروں اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کی صلاحیتیں ابھارنے اور بڑھانے کی طرف توجہ دے سکوں۔ میں نے خود کو روزمرہ کے بزنس معاملات سے آگے بڑھا لیا ہے اورسات سال سے باہر ہوں۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوںجو آج بھی کمپنی کے چیک سائن کرتے ہیں جبکہمجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے آخری چیک کبسائن کیا تھا۔ پاکستان میں تشہیری صنعت کا فروغ ،تحقیق ، تخلیق اور معیار ہمارا مشن ہے۔چیلنجز کا آرزومند، مضطرب طبیعت ، نئی دنیائوں کی تلاش اور کچھ کرنے کیلگن میری پہچان رہی ہے۔ ہم لوگوں کوانٹری لیول سے ٹرینڈ کرتے ہیں جس کے بعد دیگر تربیتی مراحل آتے ہیںاور جہاں تک لوگوں کے سیکھ کر چلے جانے کا معاملہ ہے تو اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا،اس سے جانے والوں کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ سال دو سال میں سوائے بنیادی باتوں کے کوئی کچھ نہیں سیکھ پاتا۔ میں نے ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں 27 اورمیڈیا انڈسٹری میں 20سال گزاردیئے ہیں مگر آج بھی سیکھنے کے مرحلے میں ہوں۔ ہمارے یہاں جو لوگ اپنا تسلسل برقرار رکھتے ہیںوہ کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔میں محض اس وجہ سےانڈسٹری میں انویسٹ کرنا ختم نہیں کرسکتا کہ میں اکیلا ایسا کر رہا ہوں۔ میں نے ہمیشہپڑھے لکھے اور قابل افرادی قوت کی پائپ لائن تیار کی ہے اوررواں سال بھی ایک بڑی ٹیم تیاری کرنے کا ارادہ ہے۔ایڈ ایجنسی میں وہ لوگ ترقی کرتے ہیں جنہوں نے پانچ سال مستقبل مزاجی کے ساتھ کام کیا ہو۔مختلف ایجنسیوں میں سرکردہ حیثیت میں کام کرنے والے بیشتر افراد نے ہمارے ادارے سے ہی تشہیری صنعت کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کی اور آج دیگر تشہیری اداروں کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ FMCGاداروں کیلئے کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں ۔ گروپ ایم،یونی لیور،پیپسی، کوکا کولا،گوگل اور فیس بک سمیت بہت سی کمپنیوں کو ہمارا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ہم نے انہیں انتہائی تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کی۔تشہیری صنعت میں کام کرنے والی دیگر بڑی کمپنیوں کو بھی یہکام کرنا چاہئے تھا مگر وہ نہیں کررہی ہیں۔ ہم ایساآج سے نہیں 30 سال سے کررہے ہیں۔ایسی کئی مثالیں ہیں ، میں صرف ایک مثال دیتا ہوں ،گوگل پاکستان کی ٹیمصرف 6 لوگوں پر مشتمل ہے جن میں سے تین ہمارے گروپ کےتربیت یافتہ ہیں۔
دنیا تیزی سے سمٹتی جا رہی ہے، دیدہ ور لوگوں کو آنے والا کل آج ہی نظر آجاتا ہے،#AOTF “ایجنسی آف دی فیوچر” کا شہرہ آج تشہیری صنعت میں ہر جگہ پایا جاتا ہے مگر یہ ہے کیا ؟اس کے بارے میں تسلی بخش معلومات کا فقدان نظر آتا ہے۔ مرچنٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ہی اس حوالے سے فعال ترین پروفیشنل کی شناخت بنا چکے ہیں۔#AOTF کے بارے میں اپنی معلومات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کا بڑا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ ڈیجیٹل،ورچوئل،آرٹیفیشل انٹیلی جنس،آن لائن یہ بزنس ماڈل بننے جارہا ہے مگر یہ اتنا سادہ بھی نہیں کہ چند الفاظ میں سمٹ جائے ، اس کے لئے بہت پڑھنے، سیکھنے کی ضرورت ہے اور میں نے معلومات کوکبھی خود تک محدود نہیں رکھا کہ میری زندگی کا یہ اصول ہی نہیں ہے ، میری تیز ترین ٹیم سیکھ رہی ہے اور آئندہ دو برس میں آپ کو انڈسٹری میں بڑی بنیادی تبدیلیاں نظر آئیں گی ، آپ کو بہترین اور وقت کا ہم رکاب ہونا ہوگا ورنہ بڑے بڑے اداروں کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ #AOTF کے علاوہ ہمارے ہاں ایک اور بہت بڑا مینجمنٹ کا اصول ہے اور وہGo Failکہلاتا ہےجس کا اطلاق ہر کاروبار اور ہر شخص پر ہوتا ہےخواہ آپ ایڈمنسٹریشن میںکام کرتے ہوںیاآپریشنز وپلاننگ آپ کا شعبہ ہو۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ اب مستقبل ڈیجیٹل کا ہی ہے۔ ڈیجیٹل کا مطلب ہے کہ آپ اپنے موبائل فون پر انٹر نیٹ استعمال کرتے ہوئے مختلف سائٹس وزٹ کررہےہوتےہیں اور بہ یک وقت fhmpaksitan.com کی سائٹ پر جاتے ہیں پھر crickinfo.com کی سائٹ پر جاتے ہیں تو مجھے یہ پتا چل جائے گا کہ اس یوزر کو کرکٹ میںاور فیشن برانڈز میں بھی دلچسپی ہے۔ یوزر کی عمر، جنس اور دلچسپیاں معلوم ہوجاتی ہیں۔ اب اگر مجھے کوئی اس قسم کی اشتہاری مہم چلانی ہوگی جس کا تعلق کرکٹ یا فیشن برانڈز میں دلچسپی رکھنے والے لوگوںسےہے تو میں اس جگہ پر اشتہار لگائوں گا۔میرے پاس یہ ڈیٹا گوگل اورtelcoسے آرہا ہے۔پورے ملک میں ساڑھے چارکروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور یہ تمام لوگ اگر ہر روز دس ویب سائٹس پر بھی چلے جاتے ہیں تو یہ 45کروڑسائٹس اور کوکیز ہوئیں۔ ان کا پروسیس کسیسافٹ ویئر کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کیلئے کانفیڈنس لیول 80فیصد درست ہونا ضروری ہے کیونکہ اس سے کم میں کام ممکن نہیں اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ڈیٹا کو پرکھنےکی صلاحیت ہوگی۔ ہم نے اپنے ایک کلائنٹ کو ڈیجیٹل کمپین بنا کر دی مگر اس کی بائنگ ایجنسی اس کمپین کو ایگزیکیوٹ نہ کرسکی کیونکہ وہ ایڈ ورڈز میں ہی کام کر رہی تھی جبکہ ڈیجیٹل میں نتائج کیلئے یہ کافی نہیں۔اس کیلئےڈبل کلک بڈ منیجرDBMاہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں تین ایجنسیاں ڈبل کلک بڈ منیجرDBMاستعمال کر رہی ہیں جن میں سے ایک ہمارے پاس ہے۔ دیگر تمام ایجنسیاں ایڈورڈز میں کام کررہی ہیں۔ جو آڈینس میںDBMمیں ڈال کر حاصل کرسکتا ہوں وہ میں ایڈ ورڈز میں نہیں کرسکتا۔ ہم نےDBMمیں اپنی آڈینس بنائی ہے اور ہم وہ آڈینس حاصل کرتے ہیں جو ایڈورڈز میں نظر ہی نہیں آسکتی ہیں۔ہم بوب لیسرز کے ساتھ ایک ہیDSPپر آنے کا آپشن استعمال کرسکتے تھے لیکن ہم نے DMPحاصل کرنے کیلئےڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ کئے تاکہ کلائنٹس کو ان کی مرضی کے نتائج دے سکیں۔ ہم نے ہی پاکستان میںDBMکا سیٹ اپ کرایا ورنہ تو پاکستان میں سیٹ اپ ہی نہیں تھا، ابھی بھی سپورٹ نہیں ہورہا ہے کیونکہ ابھی تو DBM میں انوینٹری ہی نہیں ہے جو خریدی جائے۔ اس انوینٹری کو سیٹ اپ کرنے کیلئے گوگل نے تھرڈ پارٹی اپوائنٹ کی ہے اورہم اس تھرڈ پارٹی کو ویب سائٹس بھی بتا رہے ہیں۔ آپ جس فیوچر کی بات کررہے ہیں تو ابھی تو لوگوں یہ بھی نہیں پتا کہ وہ فیوچر کیا ہے؟ اور ہم اس فیوچر کو پاکستان کیلئےتعمیر کررہے ہیں۔ آج سے تین سال کے بعد جو لوگ ایجنسیز میں بیٹھیں گے اور DBMمیں جاکر کام کریں گے تو ان کو بہت ساری انوینٹری دستیاب ہوگی ان کو نہیں پتا ہوگا کہ یہ انوینٹری کہاں سے آئی ؟ اس کا فائدہ پوری انڈسٹری کو ہوگا اور مجھے اس کی بڑی خوشی ہوگی۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں دنیا کے ہر آن بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا ، ڈیجیٹل میڈیا بڑی تیزی سے تشہیری دنیا میں داخل ہورہا ہے۔ دوسرا ایشو یہ ہے کہ ابھی ویب سائٹس ہی دستیاب نہیں ہیں، اردومواد دستیاب نہیں ہے۔ میں چاہتا تھاکہ 100دنوں میں 100ویب سائٹس رجسٹرڈ ہوں تو کم از کم آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاسDBM پر 100ویب سائٹس ہیں لیکن ان 100سےکچھ نہیں ہونامجھے2020 تک دس ہزار ویب سائٹس چاہئیں تبکام کا مزا آئے گا۔اردو کا موادنہ ہونا ایک بڑا ایشو ہے انگریزی کی آڈینس محدود ہے،جب تک اردومواد نہیں ڈالیں گےتو اس ملک کی 70فیصد آڈینس کو تو سمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ دوسرا ویب سائٹس موبائل پر استعمال کے حساب سےاپ ڈیٹ کریں کیونکہ ہمارےملک کا 70فیصد انٹرنیٹ ٹریفک موبائل پر ہے۔ جب میرے پاس اتنا سارا ڈیٹاآجائے گاتو مجھے ایک آرٹیفیشل انٹیلی جنس پلیٹ فارم چاہئے جو آڈینس کو امپریشن ڈیلیور کرے۔ہم امریکا کی سطح کا کام کر رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ وہ کام کیا ہے جو کسی دوسرے نے نہیںکیا اور آج ہمیں یہ پتا ہے کل ایجنسی کا مستقبل کیا ہے۔ 2018اس سے کہیں مختلف ہوگا جو کچھ آپ نے 2017ء میں دیکھا تھا۔ اب کیسے مختلف ہوگا اور کتنا مختلف ہوگا؟میں اس کے اگلے مرحلے پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔
ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مرچنٹ نے بتایا کہ اس وقت ڈیجیٹل پر کام کرنے کا جو مزہ آرہا ہے،و ہ پی این جی،کوکا کولاوغیرہ پر نہیں آرہا۔ ہم برائٹو پینٹس کے لئےبہت زبردست اورمزے کی کمپین کررہے ہیں،اسٹائلو شوز،نیشنل فوڈ کے لئے یعنی ہم گرائونڈ بریکنگ چیزیں کررہے ہیں اور یہ وہ کلائنٹس ہیں جو کہتے ہیں کہ آئیں کچھ نیا کریں۔ بطور بزنس لیڈر اور بزنس منیجر ہمارا کام اتنا واضح ہونا چاہئے کہ پتا ہو کہ ہو کیا رہا ہے اور انہی خطوط پر کمپنی کو چلنا چاہئے۔ برائٹو کو ہم نے 2010کے کرکٹ میںچلایا تھا ان کا بزنس سات سالوںمیں کئی گنا ہوچکا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب اور انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالےسے سوال کے جواب میں انہوں نے گزشتہ 40برس کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ 1980سے 2000تک تقریباً بیس سال میں بہت بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کے حوالے سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں،موبائل فون آگیا،تیز رفتار جہاز بن گئے۔ 2000سے2017 تک کا دورانیہ اس ٹیکنالوجی کو ہر انڈسٹری کے لحاظ سے مربوط کرنے کا رہا اور یہ دور 2020 تک جاری رہے گا،یہ ساری تبدیلیاں مکمل ہوجانے کے بعد مشین کا کام شروع ہوجائے گا۔ پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن ، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسو سی ایشن کو اس وقت رہنما کردار ادا کرنا چاہیے ،ان آرگنائزیشنز کی قیادت ہر آن بدلتے تقاضوں کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگاہ ہے ،مرچنٹ نے زور دے کر کہا کہ ہم بدلتے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کریں ،ہمیں خود کو زمانے کا ہم رکاب بنانا ہوگابصورت دیگر اخبارات ہوں، الیکٹرانک میڈیا ہو یا دیگر ایڈورٹائزنگ کے شعبے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوں گے۔ حکومت کا بھی یہی رویہ ہےکہ وہ خود کوبدلتے وقت کے ساتھ بدلنا نہیں چاہتے جس کا سب سے زیادہ نقصان بھی خود حکومت کو ہی ہورہا ہے ۔
ڈیجیٹل کے موجودہ اور مستقبل قریب کے چیلنجز اور اردو مواد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انڈسٹری کہیں اور جارہی ہے، آپ کو ابھی اس کا اسکیل اس لئے نظر نہیں آرہا کہ دو سال کی کہانی ابھی باقی ہےاس کی بڑی سادہ وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ابھی بھی ڈیجیٹل کا مواد اردو میں دستیاب نہیں ہے۔ آپ اردو میں لے آئیں پھر نتائج دیکھیں۔ یوٹیوب کے ماہانہ وزیٹرز گوگل اور فیس بک سے اس لئے زیادہ ہیںکیونکہ یوٹیوب پر اردو کامواد دستیاب ہے۔ آپ اردو میں کوئی لفظ لکھتے ہیں وہ سرچ ہوجاتا ہے اور اس ویڈیو کے ٹیگز آجاتے ہیں جبکہ بڑے اردو اخبارات کی فائلز بھیPDFفارمیٹ میں ہیں،یہ ادارے اپنا اردوڈیٹا درست کرلیں تو ان کےپاس اتنا ٹریفک ہو کہ100فیصد منافع خودکماسکتے ہیں۔
ریحان علی مرچنٹ سےاس مختصر ملاقات نے سوچ کے ان گنت دریچے واکردیے اور یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر حکومت ، ایسو سی ایشنز اور انڈسٹری مشترکہ طور پر اس مشن کو اپنا لیں تو ہم کس قدر جلد اور تیزرفتاری سے ترقی کا ہدف حاصل کر سکتے ہیںساتھ ہی ریحان علی مرچنٹ کی شخصیت کا رتبہ و عزت دل میں کئی گنا بڑھ گئی کہ جس پودے کو سینچنےکی تمام تر محنت وہ تنہا کر رہے ہیں اس کا پھل پوری انڈسٹری کھائے گی جس کا لامحالہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔

October 30, 2017

ڈاکٹر ہما بقائی

خاتون سمجھدار،تعلیم یافتہ،دور اندیش،ذہین،وسیع القلب،وسیع النظراورمعاملہ فہم ہو تو دنیا جنت بن جاتی ہے،ایسی خاتون گاڑی کا دوسرا پہیہ نہیں،گاڑی کی ماہر ڈرائیور ہوتی ہے۔ وہ قدم اٹھاتی ہے تو خاندان چلتا ہے،رکتی ہے تو خاندان ٹھہر جاتا ہے، وہ ترقی کرتی ہے تو خاندان ہی نہیں معاشرہ ترقی کرتا ہے،وہ اپنے آپ کو منواتی،خود کو تسلیم کراتی،اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے،وہ باتیں کرتی ہے تو باتوں سے خوشبو آتی ہے،چلتی ہے تو زمین قدم چومتی ہے،اس کا ایک صرف ایک عمل اس کو بے پناہ احترام،محبت،پیار،عقید ت اور مرتبہ دے دیتا ہے اور وہ ہے اس کا جذبۂ قربانی۔ وہ اپنے گھر،اپنے خاندان،اپنے پیاروں،اپنے عزیزوں کیلئے اپنی خواہش،اپنی انا،اپنے خوابوں اور وقت کی قربانی دیتی ہے جو ایسی مقبول ہوتی ہے کہ تمام عمر خراج پاتی ہے اور پورا خاندان اس کی خواہشات کی تکمیل کرتا اور خوابوں کو تعبیر بخشتا ہے۔کیا چھوٹا،کیا بڑا،کیا شوہر اور کیا بچے سب اس کے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں، ایسی بلندی کے عرش بھی شرمائے،ہمالیہ جھک کر اس کے قدم چومے۔
یہ کوئی خیالی یا افسانوی یا فرضی خاتون نہیں،عملی خاتون ہیں،اپنے گھر کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے کر اپنا تن،من،خواہشات،خواب،آرزوتمنا سب کچھ اپنے گھر کے لئے تج دیا ۔
رانجھا،رانجھا کردی میں آپ ای رنجھا ہوئی  وہ ہیں اور ان کا گھر اپنی ساری محبت،الفت،پیار اپنے شوہر اور بچوں پر نچھاور کردیا، جب شوہر”تابعدار“اور بچے”سمجھدار“ہوگئے تو اپنی تعلیم کا سلسلہ وہاں سے پھر جوڑ لیا جہاں سے ٹوٹا تھا،ٹوٹا کیا تھا وقفہ آگیا تھا،گاڑی رُکی ڈرائیورنگ پھر سنبھالی اور تعلیم،میڈیا اور سماجی شعبے میں خود کو اسی طرح منوایا جیسے گھر میں منوایا تھا،گھر اور معاشرے کے مشکل میدان میں خود کو کامیاب کرنے اور منوانے والی خاتون ہیں پروفیسر ہما بقائی
ڈاکٹر ہمابقائی 10سال سےآئی بی اے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈائریکٹر پبلک افیئرز کمیونیکیشنز ہیں۔وہ انٹر نیشنل ریلیشنز میں 12سال تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھاتی رہی ہیں ۔اس کے علاوہ اور 15سال سے میڈیا پرسن ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی این آئی ایم ایس کے ایئر وار کالج میں بھی وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر شامل ہیں۔وہ کارپوریٹ ٹرینر کے طورپر بھی بے پناہ شہرت رکھتی ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی زمانہ طالب علمی ہی سے کچھ کر گذرنے کی جستجو رکھتی ہیں اور عملی زندگی میں آکر انھوں نے اپنی اس جستجو کو مختلف جہتیں دے کر تعلیم و تدریس، میڈیا اور خواتین کے حقوق ان میں شعور و بیداری لانے کی جدوجہد شروع کی، جو اب بھی جاری ہے۔ہمارے ہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ شادی ہوجانے کے بعد بیشتر باصلاحیت خواتین بھی گھربار کے معاملات میں الجھ کر ہمیشہ کے لیے اپنے درخشاں کیریئر سے دور ہوجاتی ہیں۔ اس طرح معاشرہ ایک کثیر الجہتی ٹیلنٹیڈ شخصیت سے محروم رہ جاتا ہے۔ڈاکٹر ہما بقائی نے بھی شادی کے بعد محدود عرصے کے لیے کیریئر سے بریک لے کر گھر اور بچوں کو سنبھالااور اس کے بعد ایک بار پھر انھوں نے اپنے کام کی جانب توجہ دی۔ ایسی خواتین اور ایسے عظیم کردار ہمارے معاشرے کے لیے نہ صرف رول ماڈل ہیںبلکہ خواتین اور بچیوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی کو ان کے کاموں اور کارناموں اعتراف میں کئی ایوارڈز اور اعزازات بھی ملے ہیں۔ وہ اب بھی اسی اسپرٹ سے اپنے مختلف شعبوں سے نبھارہی ہیں۔ہم نے ماہنامہ ’’انداز جہاں ‘‘ کے لیے گذشتہ دنوں ان کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کی، جس کے دوران انھوں نے تمام موضوعات پر کھل کر گفتگو کی، جس سے ان کی دانشمندی، علم و فضل اور چیزوں کو منفرد انداز سے دیکھنے کی صلاحیت آشکار ہوتی ہے۔ڈاکٹر ہمابقائی نے اپنی زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے بتایا:
’’ میں نے تعلیم کے بعد اپنا کیرئیر آٹھ سال کی تاخیر سے شروع کیاتھا۔یہ تاخیر میں نے شادی، گھر اور بچوں کو سمجھدار بنانے کے باعث کی تھی۔میں سمجھتی ہوں کہ میرے وہآٹھ سال قطعی ضایع نہیں گئے اور میں نے اس عرصے میں اپنے گھر اور بچوں کو جو ٹائم دیا، وہ آج میرے کام آرہاہے۔ اب میرے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔لیکن ان کی تعلیم و تربیت کے دوران بھی، میں گھر پر فارغ بیٹھی نہیں رہی۔۔۔ بلکہ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی تھی۔اب 22سال بعدجب میں مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا وہ وقت بہت اچھا لگتا ہے ۔اب میرا بیٹاجاب کررہا ہے، وہ شادی بھی کرچکا ہے اور میں خدا کے فضل و کرم سے دادی بھی بن چکی ہوں ‘‘۔
ڈاکٹر صاحبہ ! آج کل کی بچیوں کے حوالے سے بتائیں کہ وہ کس طرح تعلیم، گھر اور بیرونی معاملات کو دیکھتی ہیں؟
’’کراچی یونیورسٹی یا دیگر تعلیمی اداروں میں مڈل کلاس کی جو بچیاں آتی ہیں، ان کا مسئلہ پہلے تعلیم حاصل کرنا اور پھر کوئی مناسب ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔ایسی طالبات میں سےکبھی کبھی کوئی لڑکی ایک دم گھبرائی ہوئی میرے کمرے میں آتی اور ہانپتی ہوئی بتاتی تھی:’’ میڈم!میڈم! میری نا شادی کروارہے ہیں‘‘۔وہ یہ بات اس طرح بتاتی، جیسے خدانخواستہ اس پر کوئی ظلم ڈھایا جارہاہو۔ میں انہیں سمجھاتی تھی کہ گھبرائیں نہیں ،شادی کے بعد کیرئیر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصل زندگی شادی کے بعد ہی شروع ہوتی ہے‘‘۔
ڈاکٹر ہما بقائی نے ایک سوال کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی عمومی صورتحال کیا ہے؟کے جواب میں کہا:
’’ ہمارے ہاں عورتوں نے کام بہت کرلیا ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میںخواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لیے ہمیں پورا پورا حصہ دیا جائے تاکہ ہم خواتین بھی کوری ڈور آف پاورز چلنا پھرنا شروع کریں۔ہمیں اپنے فیصلے اب خود کرنا ہیں ۔میں یہاں سوال پوچھتی ہوں کہ کیا وہ مرد جو اپنی بیوی کو گھر میں بٹھانا چاہتا ہے، کیا وہ اپنی بیٹی کو بھی گھر بیٹھائے گا ،جس کے کیریئرپر اس نے لاکھوں روپے خرچ کرکے تعلیم اور دوسری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ تمام مسائل عورت کی تعلیم سے ختم ہوجاتے ہیں اور عورت کو ان پڑھ رکھنے سے ہی تمام مسائل جڑے ہوئے ہیں۔اگر معاشرے میں تعلیم، رواداری، تحمل اور ترقی لانی ہے تو عورت کو تعلیم یافتہ بنایئے اور اسے تمام فیصلہ سازیوں میں حصہ دیجئے۔یہاں میں بتادوں کہ مجھے مردوں سے کوئی بھی ناراضگی نہیں ہے ۔کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ معاشرے کی تنگ نظری سے ہمارے مرد بھی مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ عورتوں کو گھر تک محدود رکھیں ۔میںیہاں معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کی ایک نظم کا حوالہ دینا چاہتی ہوں،جس کا عنوان ’’ماں میں بچ گئی ‘‘ہے۔ ہمیں اپنی بچیوں کواس ’’ماں میں بچ گئی ‘‘کے سینڈروم سےنکالنا ہے ‘‘۔
آپ جوائنٹ فیملی سسٹم کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
’’ جوائنٹ فیملی سسٹم بہت غنیمت ہے ۔خاص طور پر باہر کام یا ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے یہ نظام ہمارے سماج کا بہت بڑا تحفہ ہےکیونکہ ایک خاتون جب اپنے دفتر جاتی ہے تو اس کے پیچھے اس کی ساس یا نندیں اور دیورانیاں اس کے بچوں کا خیال رکھتی ہیں، انہیں کھلاتی پلاتی ہیں۔وہ ملازمت پیشہ خاتون جب تھکی ہاری گھر آتی ہے تواسے بھی دو گھڑی آرام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ملازمت پیشہ خواتین کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جس بیٹے نے اپنی والدہ کو اپنے اسکول کی فیس دینے کے لئے لائن میں لگے دیکھا ہوگا یا جس بچے نے اپنی ماں کو بچوں کے لیے خریداری کرتے دیکھا ہوگا ،وہ گھر سے باہر نکلنے والی کسی بھی عورت کو کمتر سمجھے گا نہ اس کو کبھی غلط نظر سے دیکھے گا ۔اس تناظر میں، میں سمجھتی ہوں کہ جو مرد اپنی پڑھی لکھی خواتین کو گھر میں چھپا کر رکھتے ہیں ،وہ دراصل ان کی بے عزتی کرتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحبہ! یہ بتائیں کہ کراچی یونیورسٹی کا ماحول طالبات کے لیے کیساہے؟
’’میں کہتی ہوں کہ مڈل کلاس گھروں کی جو بچیاں پڑھنے کے لئے جامعہ کراچی اور دیگر ایسے اداروں میں آتی ہیں ، وہ اصل میں جہاد کررہی ہیں۔ کیوں کہ سب سے زیادہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کراچی یونیورسٹی میں ہوتے ہیں۔یہ واقعات کسی ایک دو بچیوں کے ساتھ نہیں بلکہ سیکڑوں لڑکیوں کے ساتھ ہوچکے ہیں اوراب بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن بہت کم بچیاں ایسی با ہمت ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو اپنے گھروالوں یا دوسروں تک پہنچاتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جامعات کے اندر طاقت ور لوگوں کا گٹھ جوڑ ہے جو لڑکیوں کو ہراساں کررہے ہیں اور ان کا استحصال بھی کررہے ہیں۔ اس کے لئے والدین، سوشل ورکرز،سول سوسائٹی اور میڈیا کو جہاد کرنا چاہئے ۔کیوں کہ جن بچیوں نے جائز شکایت بھی کی ہے توکیس الٹا ان کے گلے میں ڈال دیا گیا ۔متاثرہ بچیوں میں سے 80فیصد لڑکیاں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں اپنے گھر پر نہیں بتاتیں اور نتیجے میں سزا بھی ان کو ملتی ہے ۔‘‘
ڈاکٹر ہما بقائی نے ملک میں رائج دوہرے تعلیمی نظام کی مذمت کرتے ہوئے کہا :’’ ہمارے فیصلہ ساز آخرکس طرح ٹاٹ اسکول کے پڑھے ہوئے بچے اور گرامر اسکول کے طالب علم کا آپس میں ایک ہی معیار کا مقابلہ کروا تے ہیںاور اس مقابلے کے نتائج پر انھیں ملازمت دیتے ہیں؟ہمارا مطالبہ ہے کہ دیہی اور شہری طلبہ کے لیے مقابلے کے امتحانات، ان کی تعلیمی استعداد اور قابلیت کے مطابق الگ الگ منعقد کیے جائیں۔مجھے دکھ ہے کہ ہماری پاکستانی تعلیمی اسناد کی وقعت ، کاغذ کے اس ٹکڑے جتنی بھی نہیں ہے، جس پر وہ ڈگری چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ہم بحیثیت قوم اس غفلت کا نتیجہ بہت بری طرح بھگتیںگے۔ یہ ملک کی جنگ ہے جو ہمیں لڑنا ہے۔اور یہ بھی بتادوں کہ آج کل کی جنگیں روایتی نہیں ہوتیں۔یہ تعلیم ،معیشت،سیاست اور دانش کے میدان میں لڑی جارہی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں اصلی ایمرجنسی نافذ کریں اور خدا کے واسطے دشمن کے بچے کو پڑھانے کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں‘‘۔
اس کامطلب ہے کہ ہماری سرکاری جامعات کی صورتحال ٹھیک نہیں؟
’’میں نے خودتنگ آکر کراچی یونیورسٹی چھوڑی تھی۔ وہاں بہت بڑے مسائل ہیں، جنہیں حل ہونا چاہئے۔ پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں کا ماحول اگر اچھا ہوجائے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی کیوں کہ نجی تعلیمی ادارے کتنے طلبہ کو کھپا سکتے ہیں ؟اس طرح اگر سرکاری ادارے بھی مہنگی تعلیم بیچیں گے تو مڈل کلاس کے بچے محروم رہ جائیں گے۔ صحت اورپانی کی طرح تعلیم بھی انسانی ضرورت ہے، اس لئے تعلیم کو قابل فروخت چیز یعنی Comodify نہ بنایا جائے ‘‘۔
آپ چونکہ میڈیا پرسن بھی ہیں اور آجکل ہمارے ہاں میڈیا کا طوطی ہی بول رہا ہے۔اس حوالے سے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
’’ملک میں روایتی میڈیا نے قابل تعریف کردار ادا نہیں کیا ،اس لئے اب سوشل میڈیا بہت تیزی سے آگے آرہاہے۔نصف درجن سے زائد ایجوکیشنل گروپ میڈیا میں آگئے ہیں کیوں کہ وہ تعلیم سے کمائے ہوئے اربوں روپے کے منافع کو تحفظ دینا چاہتے ہیں ۔یہ میڈیا گروپ بزنس کے لحاظ سےنقصان میں جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں چلایا جارہاہے۔ حکومتی کنٹرول پی ٹی وی کی حد تک تھا، اب ہر چینل آزاد ہوچکا ہے ۔شام کو جب ہم پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا اینکر پرسن کون سی بات، کس وجہ سے کرے گا۔۔۔ اور کون کس کی زبان بول رہاہے؟ افسوناک صورتحال یہ ہے کہ میڈیا ریگیولیٹرز اور خود میڈیا اپنی تباہی آپ لارہاہے۔ لوگ اسے روکنے کے بجائے اس کا حصہ بن گئے ہیں۔ عوام اگر روکنے پر آئیں تو معاملہ بہتر کیا جاسکتا ہے یا پھر متبادل میڈیا کام کرسکتا ہے ۔سوشل میڈیا ہر کسی کو ایکسپوز کررہاہے۔جو خبر عام ہونے کا آج سے چند سال پہلے تصور بھی نہیں تھا ،وہ آج منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں کہ ہمارے لوگ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث مررہے ہیں ۔اگر گرمی ہو، تب بھی لوگ مرتے ہیں، سردی ہو ،تب بھی بیچارے مرجاتے ہیں اور جب بارش ہو ،تب بھی عام آدمی مرتا ہے۔ ان کے مقابلے میں ہمارے حکمران زکام کا علاج بھی لندن جاکر کراتے ہیں ۔میرا سوال ہے کہ حکمرانوں نے اپنے ملک میں ایک بھی اچھا اسپتال کیوں نہیں قائم کیا، جہاں ان کا اپنا علاج بھی ہوسکتاہو؟ ایسے ماحول میں عمران خان جیسے لوگوں سے کچھ امید نظر آتی ہے کیوں کہ انہوں نے جو نوجوانوں کی فورس جمع کی ہے ،وہ اگر پریشر گروپ کے طور پر کام کرے گی تو حکومت مجبور ہوکر عوامی بھلائی کی طرف متوجہ ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کو بھی سسٹم سے اچھے لوگ نہیں مل پائے۔ پیسے کی سیاست عمران کا بھی مسئلہ ہے لیکن انہوں نے کم سے کم ایسے سوالات اٹھا دیئے ہیں جو آسانی سے ختم نہیں ہوسکتے ۔نوجوان نسل کو سیاست میں اسٹیک ہولڈر کے طور پر شامل کیا جانا چاہئے‘‘۔
پہلے پڑھے لکھے لوگ سیاست میں آنے سے کتراتے تھے مگر اب پی ٹی آئی میں بیشتر پڑھے لکھے لوگ شامل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ اچھے اداروں کی پڑھی لکھی لڑکیاں بھی سیاست میں آرہی ہیں جو مفادات کی سیاست پر سوال اٹھا رہی ہیںمگربحیثیت قوم ہم گروی ہیں۔ میں ماہر معیشت نہیں ہوں لیکن مجھے پتہ ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیں جوقرضے دیئے ہیں ،ان کی قیمت ہم ادا کریں گے اور ہمارے پاس ملک کی سالمیت سمیت ادائیگی کے لئے بہت کچھ ہے۔ نیوکلیئر ویپنز بنانے کی قیمت تو ہمیں لازما ادا کرنا ہوگی۔ اس حوالے سے بھی ہماری نوجوان نسل ہماری آخری امید ہے لیکن افسوس کہ ہم ان میں سرمایہ کاری نہیں کررہے ہیں۔ہمیں مہنگی یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے ووکیشنل تعلیم کے ادارے قائم کرنا چاہئیں، جہاں غریب بچوں کو بھی ہنر سکھا کر پیٹ پالنے کے لائق بنایا جاسکے۔ میری زندگی کی بڑی خواہش ہے کہ اللہ مجھے تعلیم کے حوالے سے آزادی سے فیصلہ سازی کرنے کا موقع عطا کرے۔ یہ میرا خواب بھی میری خواہش بھی

August 17, 2017

محسن شیخانی

کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے بھی تیزی سے قائم ہوتی ہوئی کچی آبادیوں نے دنیا کے ایک سو بارہ ممالک سے زیادہ آبادی کے اس شہر کیلئے تباہ کن مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ حکومت سندھ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے کراچی میں روزانہ 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ افراد آکر بستے ہیںجس کی وجہ سے شہر میں پانی ودیگر مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ یہ اعتراف حقیقت حال سے آگاہی کی حد تک تو درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ حکومت اس صورتحال سے کس طرح ڈیل کر رہی ہے بظاہر کوئی ایسی پالیسیز نظر نہیں آتیں جن سے اس سنگین مسئلہ کی حکومتی توجہ ظاہر ہوتی ہو۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز آف پاکستان (آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی معروف بلڈر ابوبکر شیخانی کے صاحبزادے ہیں ، ان کا شمار ’’آباد‘‘ کی نوجوان قیادت میں کیا جاتا ہے اور انہوں نے بلڈرز ور ڈیویلپرز کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بہت جدوجہد کی ہے ۔ اس حوالے سے وہ اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ، انہوں نے تعمیراتی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بہت زیادہ کاوشیں کی ہیں۔ محسن شیخانی حنا ہاؤسنگ پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ہیں اور انہوں نے متعدد بہترین رہائشی پروجیکٹس تعمیر کیے ہیں۔ روزنامہ جدت نے محسن شیخانی سے پاکستان میں کنسٹرکشن انڈسٹری اور ہائوسنگ کے مسائل پر خصوصی بات چیت کی جس کا احوال قارئین کی نذر ہے ۔

 

سب سے پہلے تو آباد ایکسپو کیلئے انٹرنیشنل ایکسپو کا اعزاز حاصل ہو نے پر مبارکباد، اس نمائش کا آئیڈیا اور کامیابی کے پیچھے کیا سوچ رہی اور ایکسپو 2017کتنی کامیاب رہی؟
شکریہ، 2000 سے پہلے کی دنیا اور آج میں زمیں آسمان کا فرق ہے ، تب گرائونڈ پلس فور کی عمارت ہائی رائز سمجھی جاتی تھی، ملک کی سب سے اونچی عمارت22منزلہ حبیب بنک پلازہ تھا، اب 40اور50منزلہ عمارتیں عام بن رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی تبدیل ہو گئی ہے زمانہ کے ساتھ چلنے کیلئے اس ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ۔ بین الاقوامی تجربات و ٹیکنالوجی کا حصول، تعمیراتی صنعت کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور لوگوں کیلئے معیاری اور سستی رہائش پیش کرنا آباد ایکسپو کی بنیاد رہا اور ان نمائشوں کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی کا حصول آباد کی کامیابی ہے ۔ انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور معیاری رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ” آباد انٹرنیشنل ایکسپو 2017 ” کا انعقاد کیا گیا ہے ، 12 سے 14 اگست تک کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی ای نمائش میں 24ممالک سے 50 کمپنیاں شریک ہوئیں۔ تعمیرات کے اس عالمی میلے سے عالمی کمپنیوں کے ساتھ 5 سوارب روپے کے ایم او یو سائن ہوئے ۔جس کے نتیجے میں پاکستان کی تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا اور اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے تعمیراتی شعبے سے وابستہ 6لاکھ افراد اس چوتھی آباد ایکسپو2017میں شرکت کی ۔یکسپو کے دوران کراچی میں لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا افتتاح کیا گیاجس کے تحت 15 سے 21 لاکھ روپے میں معیاری گھر فراہم کیا جائے گا ۔کیونکہ اپنا گھر ہر شہری کا بنیاد ی حق ہے اور اپنا گھر رکھنے والے شہری ملک سے بھی محبت کرنے لگتے ہیں،اپنا گھر نہ ہونے سے ان میں مایوسی پائی جاتی ہے ،حکومت وقت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو رہائشی سہولت فراہم کرے ۔ ہر پاکستانی کو گھر فراہم کرنا آباد کا خواب ہے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آباد نے اسلام آباد میں لوکاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا اجرا کیا ہے جس کے تحت 15 سے 19 لاکھ روپے میں میں 5 مرلے پر مشتمل معیاری گھر فراہم کیا جائے گا۔چیئرمین آباد نے کہا کہ شہری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور شہروں کو ترقی دینے کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے ۔عوام کی بھرپور شرکت پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میںدو منزلہ سے زیادہ اونچی تعمیرات پر پابندی کو آباد کیسے دیکھتا ہے ؟
کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی کے باعث کراچی میں کم از کم 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری رک گئی ہے ۔ پاکستان میں 12 ملین گھروں کی قلت ہے جن کی تعمیر پر180 ارب ڈالر لگیں گے یعنی یہ کم از کم مزید 180 ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے ۔ ملکی معشیت کی ترقی کا بیشتر انحصار تعمیراتی شعبے پر ہوتا ہے ، 72ے زائد صنعتیں کنسٹرکشن انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ بیسیوں لاکھ لوگ ان صنعتوں سے وانستہ ہیں لہذا یہ صرف ایک انڈسٹری کا نہیں بلکہ ان لاکھوں لوگوں کے گھروں کے چولہوں کا مسئلہ ہے ۔ سپریم کورٹ یقینا اس نکتہ پر بھی غور کر رہی ہوگی کہ کھربوں روپے کے ڈیویلپمنٹ چارجز جو بلڈرز سے وصول کیے جاتے ہیں کہاں جاتے ہیں؟ ایک ہزار گز کے کمرشل پلاٹ کے ڈیویلپمنٹ چارجز 4کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں تو اگر حکومت اتنا پیسہ لے کر بھی پانی و دیگر یوٹیلیٹیز نہیں دے سکتی تو ذمہ دار اسے ہونا چاہیے نہ کہ انڈسٹری تباہ کر دی جائے ۔ آباد اور اس ک ممبر بلڈرز خود اس صورتحال سے پریشان ہیں یہ تو مارے بھی اور رونے بھی نہ دے والی سچویشن ہے ۔ مستحکم معیشت کے حامل ممالک میں گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو معیاری اور کم لاگت رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بلڈرز اور ڈیولپرز کو مراعاتی پیکج دیے جاتے ہیں۔لیکن یہ انتہائی افسوسنا ک امر ہے کہ پاکستان میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔پاکستان میں تعمیراتی صنعت کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ،،مراعاتی پیکج دینا تو دور کی بات تعمیراتی صنعت کی ترقی میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔SBCA, K-Electric اور KW&SB کے پالیسی ساز کون ہیں اور پالیسی سازی کیسے ہوتی ہے ، جب تک تعمیرات سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طویل المدتی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں مسائل حل نہیں ہوں گے ، ایڈہاک ازم نے سب کچھ تباہ کیا ہے ۔ پوش علاقوں پر عائد ٹیکسوں کا اطلاق پورے ملک پر کرکے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ تباہ کردی گئی،ایچ بی ایف سی کے قرضہ جات کو بھی سیاسی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، کم لاگت مکانات کیلئے زمین فراہم کی جائے ۔
پراپرٹی ویلیوایشن کے حوالے سے سرکاری پالیسیکس حد تک کامیاب رہی اور تعمیراتی صنعت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ؟
جائیداد کی فیئرمارکیٹ ویلیو کے حوالے سے نئے اقدامات عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائیداد کی فیئر مارکیٹ ویلیو اور حقیقی مارکیٹ ویلیو میں بہت زیادہ فرق تھا ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے اور یہ فرق گذشتہ 65 سال سے چلا آرہا ہے ۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ جائیداد کی خریدوفروخت حقیقی ویلیو کے مطابق ہونی چاہیے لیکن ان تمام اقدامات کو مرحلہ وار کرنے کی ضرورت ہے ایک دن میں آپ تمام چیزوں کو یکدم بدل نہیں سکتے ہیں ان میں بتدریج تبدیلی لائی جانی چاہیے ۔ حکومت نے دیکھا کہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ بہت اچھی جارہی ہے صرف ڈیفنس اور کلفٹن جیسے پوش رہائشی علاقوں کا تناسب صرف5 تا 7 فیصد ہے ۔ حکومت نے جو نئے ٹیکس مذکورہ پوش علاقوں پر عائد کئے انہی ٹیکسوں کا اطلاق پورے پاکستان پر بھی کردیا جس کی وجہ سے حکومت نے پورے ملک کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی ، پاکستان میں پیسہ اس لیے بھیج رہے ہیں تھے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے حالات بتدریج خراب ہوتے جارہے ہیں ، دہشتگردی کی وجہ سے بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی کی عزت و تکریم میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور آنے والے وقتوں میں انہیں اپنے ملک میں آنا پڑے گا جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم افراد پیسہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ جن ممالک میں پاکستانی کام کررہے ہیں وہاں کے سخت قوانین کی وجہ انہیں یکمشت پیسہ بھیجنے میں پہلے ہی شدید پریشانی کا سامنا ہے ، اگر ان کو ہم اپنے ملک میں بھی ڈرا دیں گے کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا تو وہ بھاگ جائیں گے اور یقیناًدوسرے آپشنز پر غور کریں گے ۔ بالعموم پاکستان اور بالخصوص کراچی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا برا حال تھا کیونکہ یہاں اغوائ
برائے تاوان، بھتہ اور امن و امان کے مسائل عروج پر تھے ۔ آج سے دو سال قبل آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کی وجہ سے ملک بھر میں اور خصوصاً کراچی میں امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے ، جس میں حکومت کی پالیسیوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ بلکہ یہ فوج اور رینجرز کی وجہ سے ممکن ہوا یہی وجہ تھی کہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں بھی بہتری آئی لوگوں نے سکون کا سانس لیا ، لیکن حکومت نے مذکورہ نئے ٹیکسوں کا اطلاق کر کے لوگوں کو دوبارہ پریشانی میں مبتلا کردیا۔ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان سے سرمائے کا انخلائ
ہوا جو لوگ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے بیرون ملک ریئل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرنی شروع کردی جس کی وجہ سے وہاں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار مستحکم ہوا اور جائیدادوں کی ویلیو میں بھی واضح اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ دبئی اور یوکے میں پراپرٹی پر ٹیکسوں کا اطلاق 2 تا 5 فیصد کے تناسب سے کیا جاتا ہے جو یہاں پر عائد کردہ ٹیکسوں سے بہت زیادہ کم ہے اس لیے لوگ یو کے ، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں جائیدادیں خریدتے ہیں۔
کم آمدنی والے طبقہ کیلئے آباد کے پاس کیا ہے ؟
آبادکم آمدنی والے طبقے کو رہائشی سہولت دینے کے لیے آباد گذشتہ 4 برسوں سے کم لاگت گھروں کے لیے جدوجہد کررہا ہے ،لیکن نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں آباد کی مدد کی۔ اسلام آباد میں لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا اجرا آباد کا نمایاں کارنامہ ہے جس کے تحت اپنا گھر نہ رکھنے والے اسلام آباد کے رہائشیوں کو 15 سے 19 لاکھ روپے میں 120 گز کا معیاری گھر فراہم کیا جائے گا۔آباد کراچی،پشاور اور لاہور میں بھی کم لاگت گھروں کے اسکیمیں شروع کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزارت ہائوسنگ اس سلسلے میں آباد کی کوئی مدد نہیں کررہی،آباد نے بارہا حکومت سے رعایتی اسکیموں کے لیے اراضی کے حصول ،انفرا اسٹرکچر کی فراہمی میں رعایت کی اپیلیں کی لیکن ان پر حکومت کی جانب سے کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب آباد نے سیلف سٹی طرز پر کا کا فیصلہ کیا ہے اور ان اسکیمزکے لیے آباد خود زمین خریدے گا۔
سیلف سٹی کی نوعیت اور خصوصیات کیا ہوں گی؟
جن یوٹیلیٹیز کی عدم فراہمی کے باعث ہمارا کسٹمر پریشان ہوتا ہے ان کیلئے اب ہم نے حکومت کی طرف نہ دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیلف سٹی میں پانی و بجلی کا بندوبست آباد اورپراجیکٹ بلڈرخود کرے گا ہم نے اس ضمن میں حکومت کو بہت سی تجاویز دیں مگر معاملات زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے لہذا ہم نے اب اپنے طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے جلد اچھی خبریں ملیں گی۔
عام آدمی کیلئے مکان بنانا آج کے دور میں انتہائی مشکل ہو گیا ہے ، ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے ؟
پالیسیوں میں عدم تسلسل نے ہر ادارے کا بیڑا غرق اور سرمایہ کاروں کا اعتماد تباہ کردیا ہے یہ صورتحال تب ہی بہتر ہوگی جب پالیسی سازوں کی ترجیح ملک اور یہاں کا غریب باشندہ ہوگا، رہائشی منصوبوں کو آسان قرضہ جات کی فراہمی کے لیے ہائوس بلڈنگ فنانس کمپنی کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید مالیاتی شعبے قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس تعمیراتی صنعت کو سہولتوں کی فراہمی مین مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ ہائوسنگ فنانس انتہائی کم شرح سود پر آسان طریقہ کار سے ملنا چاہیے کیونکہ اصل ضمانت تو مکان ہوتا ہے ۔ آپ اس سے اتنے کاغذ مانگتے ہیں ، بھاری انٹرسٹ ریٹ لگاتے ہیں پھر بھی 10میں سے 2کیس منظور کرتے ہیں تو یہ حوصلہ افزا صورتحال نہیں۔
کم آمدنی والے طبقہ کے لئے آباد حکومت سے کیا چاہتا ہے ؟
ہم چاہتے ہیں کہ لوکاسٹ ہائوسنگ کے سلسلے میں آباد کی مدد کی جائے ، آباد کو اسکیم کے لیے مفت اراضی،انفرا اسٹرکچر فراہم کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کااپنا گھر ہونے کا خواب پورا ہوسکے ۔ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے نجی شعبوں با لخصوص تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا تو کجا الٹا اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں،کثیر المنزلہ عمارتوں کو گیس کنکشنز پر پابندی ہٹانے میں ہمیں کئی برس لگ گئے ، کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے آئے روز کثیرالمنزلہ عمارتوں کو پانی کنکشنز پر پابندی کا اعلان اب تو معمول بن گیا ہے ،کراچی میں پانی بحران پر واٹر کمیشن کو جان بوجھ کر غلط استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں معزز سپریم کورٹ نے کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی لگادی ۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے بلڈرز کو کیا شکایات ہیں؟
وفاقی حکومت کے دہرے ویلیو ایشن کے نفاذ سے ملک کی تعمیراتی صنعت کو شدید نقصان ہورہا ہے ۔ اس دہرے نظام کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیوں میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث ڈیویلپرز کو 100 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے تعمیر کردہ رہائش منصوبے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگر ویلیو ایشن کے اس دہرے نظام کو مؤخر نہ کیا گیا تو ایسوسی ایشن کے ممبران اپنا کاروبار بند کردیں گے اور ایف بی آر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ دوسری جانب ایس بی سی اے انفراسٹرکچر کے نام پر گذشتہ 3 سالوں سے بیٹرمنٹ چارجز وصول کررہا ہے جس کی مالیت اب تک 6 ارب روپے ہوچکی ہے لیکن ان چارجز کو کہیں بھی انفراسٹرکچر کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ ڈیویلپرز اپنی رہائشی اسکیموں میں خود پیسے لگا کر یہ کام کررہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بیٹرمنٹ چارجز میں کئی گناہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے کئی تعمیراتی منصوبے التوائ
کا شکار ہوگئے ہیں۔ ڈی سی نظام میں بہتری لانے کے بعد اس کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے کراچی ، لاہور اور وفاقی چیمبر آف کامرس سے بھی رابطے کئے ہیں ۔ جب ویلیو ایشن کا یہ نیا نظام متعارف کروایا جارہا تھا ، ’’آباد‘‘ کے وفد نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی اور اس نظام کے نقائص کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا ، ہم نے پہلے بھی اس نظام کی مخالفت کی تھی اور اب بھی اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ایچ بی ایف سی کے قرضہ جات کو بھی سیاسی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو اس ادارے سے بلاامتیاز قرضے ملنے چاہئیں اور اس ادارے کو سیاست چمکانے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہماری انڈسٹری کے حوالے سے ہی ہے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے ۔ اپنے کاروبار کے حوالے سے ہمارا واسطہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے رہتا ہے ۔ ہمارا ان سے یہ اختلاف ہوتا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ وہ ایسی پالیسیاں متعارف کروائیں جن میں کرپشن کا عنصر غالب نہ ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ پورا پیٹ بھر کر کھارہے ہوں تو آپ ٹیکس دینے کے قابل ہونگے اور اگر آپ اپنا آدھا پیٹ بھر رہے ہوں تو پھر ٹیکس کیسے ادا کرسکتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت دراصل ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ہماری حکومت اس بات کو سمجھنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے بہتر مستقبل کیلئے تعمیراتی صنعت کو فری ہینڈ دیا جائے اس کے علاوہ کچی آبادیوں کو بڑھنے سے روکا جائے اور اس کی جگہ لوگوں کو فلیٹ اسکیم دی جائے اور اس حوالے سے باہمی مشاورت سے 50 تا 100 سال کا ماسٹر پلان مرتب کیا جائے ۔ کراچی ڈیویلپمٹ اتھارٹی نے ابتدائ
میں اچھی رہائشی اسکیمیں متعارف کروائیں یعنی ہر طبقے کے لیے رہائشی اسکیم متعارف کروائی اور بڑی منصوبہ بندی سے ان پر عملدرآمد کروایا جو ایک اچھی پیشرفت تھی اسی لیے آج سے 12 تا 18 سال قبل کچی آبادیوں کی تعداد صرف 17 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 50 فیصد ہوچکی ہے ان کچی آبادیوں کو سیاسی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں تحفط دیا جاتا ہے اور ملک میں دہشتگردی کی جڑیں انہیں کچی آبادیوں میں پنپتی ہیں جن ممالک میں کچی بستیاں 70فیصد سے بڑھ جائیں تو وہاں خانہ جنگی کی صورتحال ہوجاتی ہے اس خطرناک صورتحال کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ اگر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کچی آبادیوں کو رہائشی اسکیموں میں تبدیل کردیا جائے تو امن و امان کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پاکستان کے معاشی اقدامات تعریف کرتے ہیں اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اگر کوئی ملک آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے مطابق چلتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں اُس ملک کا مفاد ہو نہ ہو لیکن آئی ایم ایف کا مفاد بہرحال ہوتا ہے ۔ لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے ملک یا گھر کو اپنے حساب سے چلانا ہے کسی اور کے حساب سے نہیں چلانا ہے ۔ آئی ایم ایف ایک طرح کا فنانسر ہے وہ ہمیشہ چاہے گا کہ اس کا پیسہ کس طرح محفوظ رہے ، اس کو اس سے غرص نہیں ہے کہ قرض لینے والے ملک کے مفاد میں کیا ہے ۔ میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن چیزوں کو دکھایا جاتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے ۔ میرے خیال میں بہت زیادہ شرح سود پر قرضے حاصل کیے جارہے ہیں ، جو ملکی مفاد میں نہیں۔ اس وقت ہم اپنے ملک کے اثاثہ جات کی گارنٹیاں دے رہے ہیں اور اداروں کو گروی رکھتے جارہے ہیں۔ اس طرح سی پیک بھی قرضے لے کر تعمیر کی جارہی ہے جس کو ہم نے واپس کرنا ہے ۔ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے انہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ قرضوں کا تمام پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے ہی واپس کیا جاتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام معاشی و اقتصادی معاملات میں شفافیت اور وطن پرستی کا عنصر شامل ہونا چاہیے ۔

 

August 17, 2017

حنیف گوہر

آباد پاکستان کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر حالیہ دنوں ایف پی سی سی آئی میں آباد کی نمائندگی کررہے ہیں اور ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں‘ پچھلے سال آباد کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے ‘ انہوں نے اپنے دور میں آباد ایسوسی ایشن کی ترقی کے لئے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ محمد حنیف گوہر نے جدت کو اپنے دیے گئے انٹرویو میں بتایا کے آباد پاکستان میں جب بحیثیت چیئرمین منتخب ہوئے تو بے پناہ مسائل میں گھرا ہوا تھا‘ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی کی ضرورت تھی‘ مستعد طبیعت ہونے کے باعث سب سے پہلے آباد کے ضروری اور چیدہ چیدہ کاموں کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا‘ میرے دور میں ایکسپو آباد جو پاکستان کی کنسٹرکشن انڈسٹری کی سب سے بڑی نمائش ہے ‘ مجھ سے پہلے سالوں میں رہنے والے چیئرمین جنید تالو کی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے عدم توجہ کا شکار تھا‘ آباد ایسوسی ایشن کی جانب سے آباد ایکسپو میں تعطل پیدا ہوگیا۔
میں نے چیئرمین بنتے ہی اس تعطل کو نہ صرف ختم کیا بلکہ آباد پلیٹ فارم سے آباد ایکسپو نمائش کو کامیاب طریقے سے کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا‘ 2016کے آباد ایکسپو دھوم دھام سے منعقد کی گئی‘ اور آباد کے الائیڈ پینل کو یہ شرف ملا‘ اس دوران ہمارے چیف پیٹرن اور موجودہ چیئرمین محسن ابوبکر شیخانی نے بھی اپنی بھرپور کوششوں سے اس نمائش کو کامیاب کرنے میں میرا بھرپور ساتھ دیا‘ 2016کی نمائش میں بلڈرز برادری نے کامیاب نمائش کی‘ اعتراف میں مجھے بے حد عزت بخشی جس پر میں تمام بلڈرز اور الائیڈ انڈسٹریز سے متصل لوگوں کا اور الائیڈ پینل کا بے حد مشکور ہوں۔
محمد حنیف گوہر نے اپنے دور میں ہونے والے بڑے بڑے کارناموں کے بارے میں بتایا جہاں میں نے آباد ایکسپو ہی نہیں کرایا وہاں اس کے تعطل کو بھی توڑ دیا‘ جس کی بدولت آباد ایکسپو 2017کا انعقاد بخیرو خوبی انجام پارہا ہے ‘ میں نے کم لاگت کے گھروں کی اسکیم متعارف کرائی‘ ایمنسٹی اسکیم کو ایڈوائزری کمیٹی اور آباد میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی‘ کم لاگت اسکیم کو متعارف کرانے کے بعد ہمیں آباد ہائوس میں غریب اور متوسط طبقے کی جانب سے پچاس ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جو اس پروجیکٹ کی کامیابی کی دلیل ہے ‘ مستقبل قریب میں امید ہے کہ کم لاگت گھروں کی اسکیم سے متعلق پروجیکٹس کی انائوسمنٹ پر 5سے 10لاکھ درخواستیں موصول ہونے کی امید رکھتے ہیں‘ کم لاگت گھریلو اسکیم سے غریب اور متوسط طبقے با آسانی مستفید ہوسکیں گے ‘ بلکہ آباد کی جانب سے بھی ان کی بھرپور امداد کی جائے گی‘ اور ہر ممکن رعایت کو ممکن بنایا جائے گا‘ جب میں نے چیئرمین کی حیثیت سے آباد میں اپنے کام کا آغاز کیا تو بے پناہ مسائل کا سامنا تھا‘ خصوصی طور پر پروجیکٹس میں گیس کنکشنز اور بجلی کی پی ایم ٹیز کے مسائل زیادہ تھے ‘ اُس وقت میں نے اعلی حکام کے ساتھ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مذاکرات کے ساتھ بلڈرز کے پروجیکٹس میں گیس کنکشنز اور بجلی کی فرامی کو بحال کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کیا‘ جس سے بلڈرز کے اندر احساس محرومی نے دم توڑ دیا اور انہوں نے نئی جہت کے ساتھ اپنا کام شروع کیا‘ اس بنیاد پر بجلی اور گیسکی عدم فراہمی کی وجہ سے لاکھوں الاٹیز کے مسائل نے جنم لے لیا تھا‘ یہ مسئلہ حل ہونے تک ان الاٹیز کو گھروں کے قبضے مل گئے اور انہوں نے آباد کے الائیڈ پینل کا شکریہ ادا کیا‘ آباد بلڈنگ کا ڈھانچہ اگر آپ ماضی میں دیکھتے تو یہاں پر بے تحاشہ کام کروانے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی‘ میں نے آباد ہائوس کو نئے سرے سے جدید خطوط پر استوار کیا‘ آباد ہائوس کو میڈیا سیل کے قیام کا خواب بھی میرے دور میں شروع ہوا‘ اللہ کے فضل و کرم سے بلڈرز اور الائیڈ انڈسٹریز کے بے پناہ اعتماد کی وجہ سے میں نے دن رات انتھک محبت آباد کی ترقی اور کامرانی کے لئے کام کیا‘ کیونکہ میں خود ایک بلڈر ہوں اور گوہر بلڈر اینڈ ڈیولپرز کے نام سے اپنے پروجیکٹس بھی کئی سالوں سے بنا رہا ہوں‘ لہٰذا مجھے پتہ تھا کے ایک بلڈر کو کن مسائل کا سامنا کر پڑ سکتا ہے اور وہ کن مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے ‘ میں نے اولین بنیادوں پر چیئرمین آباد بننے کے بعد ان کے نہ صرف مسائل کو حل کیا بلکہ ان کے جائز اور حل طلب مسائل کو فی الفور حل کیا‘ ہم نے الائیڈ پینل کے پلیٹ فارم پر رہتے ہوئے پروگریسیو پینل کے حفیظ الرحمن بٹ اور بابر مرزا چغتائی کے پینل کو شکست دی‘ آباد کو پہلی مرتبہ انٹر نیشنل آئی ایس او سرٹیفائیڈ کروایا‘ آباد ہائوس کے اندر مسجد کے قیام ‘ آباد ہائوس میں گارڈن کی تزئین و آرائش کرائی‘ آباد نے 17بلڈرز کو نمائندگی دلائی‘ جو کئی سالوں سے نمائندگی کے حصول کے لئے پریشان تھے ‘ ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کو سرگرم کرنے میں بھی بے پناہ کاوش کی‘ کیونکہ میں ایف پی سی سی آئی میں بے حد سرگرم رہا اور آج بھی ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کی نمائندگی کررہا ہوں‘ حنیف گوہر کے مطابق چائنہ کٹنگ کی مخالفت سب سے پہلے انہوں نے بطور چیئرمین آباد کی اور آباد کے ممبران کو چائنہ کٹنگ سے دور رہنے کی ہدایت کی‘ جبکہ چائنہ کٹنگ کے عناصر کو بے نقاب کرنے میں حکومت کا بے حد ساتھ دیا‘ آج جب کہ چائنہ کٹنگ کا قلعہ قمع ہوچکا ہے اور کئی ملوث کردار سزا کے مرتکب ہوچکے ہیں‘ بلڈرز انڈسٹری میں سب سے زیادہ کڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دار اپنے آپ کو آباد کا ممبر بن جانے کے بعد بے حد محفوظ تصور کرتا ہے ‘ کیونکہ آباد پلیٹ فارم اپنے ہر ممبر کو آسانی فراہم کرتا ہے ‘ اور ان کے لئے دن رات کوشاں رہتا ہے ۔

 

August 17, 2017

بابر مرزا چغتائی

فرحان فیصل ۨ
کراچی سونے کی چڑیا، کراچی اے ٹی ایم، کراچی امیروں کی تجوری، کراچی غریبوں کی ماں، کراچی کو جس طرح تباہ کیا گیا اس کی مثال ایک ہونہاربہترین آئی کیو والے نوجوان کی ہیروئن کی لت کے ہاتھوں تباہی سے دی جا سکتی ہے۔رہبر و رہنما، سیاستدان و بیوروکریٹس، سادہ و ملبوس غرض ہر طاقتور کراچی سے اپنا قصاص لیتا رہا یہ جانے بغیر کہ یہ مفاد پرستوں کیلئے ایک بہترین کھیتی تیار ہو رہی ہے اور بعد میں یہ خدشہ سچ بھی ثابت ہوا ۔ہزاروں لوگوں کی خوں ریزی، خوف کا ماحول، لوٹ مار و بھتہ خوری اس کھیتی کو استعمال کر کے ہی کی گئی مگر کراچی پھر بھی غریبوں کی ماں رہا ،بدترین حالت کے باوجود کراچی کی جانب ملک بھر سے لوگوں کی آمد جاری رہی ، ایک کروڑ کا شہر گزرتے برسوں میں تین کروڑ سے تجاوز کرگیا، جب پورا شہر ہی مخصوص مفادات کے تحت چلایا جا رہا ہو تو کیسی پلاننگ اور منصوبہ بندی، نتیجہ بے ہنگم تعمیرات، انفرا اسٹرکچر تباہ،معمول کی دفتر و اسکول آمد ورفت بھی محال، ہنگامی حالات میں پورے سسٹم کا بیٹھ جانا ۔ اس صورتحال کا مطلب ایک مشکل زندگی ہے جو کراچی والے گزارتے ہیں۔ حکومت ہو یا بلڈرز کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ۔ بلڈرز کہتے ہیں کہ کھربوں روپے مختلف قسم کے آئوٹر اور انر ڈیویلپمنٹ چارجز دینے کے بعد بلڈر نے اپنے حصہ کا کام کر لیا اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پانی، بجلی، گیس ، سڑک سمیت تمام سہولیات دےکیونکہ ان چارجز کا مقصد یہی ہے، حکومت بلڈرز پر وائیلیشن اور چارجز دیر سے ادا کرنے کا الزام لگاتی ہے مگرحکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ حکومت کا کام جواز دینا نہیں مسئلہ حل کرنا ہوتا ہے۔ قصوروار جو بھی ہو اس کی حتمی سزا کراچی کے باسیوں کو مل رہی ہے اور کب تک ملے گی کوئی نہیں جانتا کیونکہ اس سے زیادہ اہم معاملات پائپ لائن میں ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگ آج بھی اس شہر کے مکینوں کےلئے سر تا پا جدوجہد بنے ہوئے ہیں، اس راہ پر خار میں ان کے پیر لہو بھی ہوئے ، دامن پر داغ بھی لگے ، عزت کو نشانہ بھی بنایا گیا مگر عزم مسلسل کامیابی کا سبب رہا ۔ یوں توبا بر مرزا چغتا ئی نامور بلڈر ہیں ، آباد کے 6برس چیئرمین رہے مگر خیالات کے باغی ہیں اپنی بلڈرز برادری کو بھی بہت سی خامیوں اور شہر کی موجودہ حالت کا ایک ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسی طرح برستے ہیں جیسے حکومت اور سرکاری اداروں پر۔ بابر مرزا چغتائی کنسٹرکشن انڈسٹری میں ترقی کا ایک استعارہ ہیں، آپ کی اس شعبے میں گرا ں قدر خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیںہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ افرادان کی خداداد صلاحیتوں ، لیاقت اور تجر بات سے بر سہابر س سے مستفید ہو رہے ہیں ۔بات جب بھی تعمیر اتی صنعت کی ہو گی تو یہ ممکن نہیں کہ اس میں با بر چغتا ئی کا ذکر نہ آئے اور یہ سلسلہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان سے ہونے والی نشست کا احوال قارئین کی نظر ہے۔
شہر کی موجودہ حالت پر آپ کی کیا رائے ہے اور اس کا بلڈر کس حدتک ذمہ دار ہے؟
جب کوئی عمارت بنتی ہے تو اس سے پہلے ایک طویل پروسیجر ہوتا ہے، نقشہ سے کنکشن تک بیسیوں مرحلے ہوتے ہیں، اجازت نامہ کے بغیر کوئی تعمیراتی کام شروع نہیں ہوتا۔جب یہ سارے مراحل طے ہو جاتے ہیں اربوں کھربوں روپے کے آئوٹر اور انر ڈیولپمنٹ چارجز حکومت ہم سے جمع کر لیتی ہے،واٹر، بجلی، گیس کے کنکشن چارجز ادا کردیے جاتے ہیں تب بلڈر ان معاملات سے آزاد ہو جاتا ہے کہ اس کا انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں یہ ہی کردار تھا۔ اگر نقشہ غلط تھا تو منظور کیوں کیا، آپ کا ماسٹر پلان کہاں ہے ؟اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیاگیا ہے۔ اگلے دس سال بیس سال کی منصوبہ بندی کہاں ہے؟ حکومت ہمارے ڈیولپمنٹ چارجز سے تنخواہیں اور اللے تللے کرتی ہے تو اس کا چیک بلڈر کے پاس کب ہے؟انفرا اسٹرکچر پر پیسہ نہیں لگتا۔ سب لوٹ مار چل رہی ہے ، بلڈر سرکاری اور غیر سرکاری پیسے بھرتے بھرتے پریشان ہو چکا ہے، اب بہت سے بلڈر دوسرے شہروں میں کام کر رہے ہیں۔
مگر بلڈر پر نقشہ و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام تو لگتا ہے ، کیا یہ بھی صحیح نہیں؟
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا نہیں ہوتا اور میں اسے بلڈرز کی زیادتی سمجھتا ہوں مگر اس کے ساتھ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ وائیلیشن کو روکنا کس کا کام ہے؟ 20 فیصد وا ئیلیشن کی گنجائش قانون میں موجود ہے اس سے زیادہ کی وائیلیشن کو لیگلائز کون کرتا ہے ۔ ادارے اگر خود کام نہ کریں اور اس کا الزام بلڈر کو دیں تو یہ کوئی جواز نہیں ہے ۔ میں بلڈرز پر بھی زور دیتا ہوں کہ کوالٹی کا کام کریںکیونکہ اس سے ہی ان کا نام اور ساکھ ہوگی۔
سپریم کورٹ نے واٹر کمیشن کی رپورٹ پر دو منزلہ سے زیادہ اونچی تعمیرات پر پابندی عائد کر رکھی ہے ، کنسٹرکشن انڈسٹری اس پابندی کو کیسے دیکھتی ہے؟
اس پابندی کا جواز قا بل فہم نہیں کیونکہ اگر پانی کی کمی ہے تو ہائی رائز بلڈنگز کا اس سے کیا تعلق، بلڈنگ کون سا پانی پیتی ہے، پانی تو انسان پیتے ہیں جو لوگ ہائی رائز میں نہیں رہتے تو وہ کہیں نہ کہیں تو رہتے ہیں تو پانی کا استعمال تو وہی ہے اور میں یہ بھی ماننے کو تیار نہیں کہ کراچی میں پانی کی کوئی کمی ہے ، یہ سارا کرپشن اور مس مینجمنٹ کا چکر ہے ، ہر علاقے میں ٹینکر مافیا کا راج ہے ، ان کو پانی کون دے رہا ہے؟ واٹر بورڈ کے افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے پانی کا مصنوعی بحران کھڑا کیا گیا ہے اگر درست مینجمنٹ ہوتو پورے شہر میں پانی کی فراہمی با آسانی ممکن ہو سکتی ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کی دکان بند ہو جائے گی اس لئے ایسا نہیں ہونے دیا جاتا، پانی نہیں ہے تو ٹینکر مافیا کو پانی کہاں سے ملتا ہے، اس میں واٹر بورڈ ، وزرا، حکومتی عہدیدار اور دیگر متعلقہ ادارے سب شامل ہیں ، 3کروڑ آبادی کے اس شہر میں روزانہ پانی کے نام پر یہ مافیا جو لوٹ مار کر رہی ہے اس کی مالیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ، یہ ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ لوٹ مار کا کلچر جب تک تبدیل نہیں ہو گا معاملات بہتری کی طرف مشکل جائیں گے۔واٹر بورڈ 70 برس میں پانی کی ڈسٹری بیوشن کا نظام نہیں بنا سکی۔ آپ K-4بھی لے آئیں تو گھروں تک پانی کیسے پہنچائیں گے، لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ پانی ضائع ہو رہا ہے چوری ہورہا ہے اس کا ذمہ دار بھی بلڈر ہوگیا ہے۔
KESCکی پرائیویٹائزیشن کے بعدK-Electric کے قیام سے سروس بہتر ہونے کی امید تھی ،کیا بلڈرزکی پریشانیاں کچھ کم ہوئیں ؟
قطعی نہیں ، K-Electric تو چند لوگوں کو نوازنے اور باقی قوم کو پریشان کرنے کا دھندا ہے، ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ کنکشن کے لئے ، پی ایم ٹی کے لئے بھاری فیسیں اور رشوت لی جاتی ہے اور پھر اس پی ایم ٹی سے مزید کنکشن بھی دیے جاتے ہیں ، یہ وہی مثال ہے کہ میں دو کلو دودھ لگائوں تو دودھ والا مجھے کہے کہ اس کو دودھ کا ڈبہ بھی خرید کر دوں ۔ پھر سیلف فنانس کے تحت کے الیکٹرک کے ٹھیکیداروں سے ہی آلات و دیگر اشیا خریدنی پڑتی ہیں جو ایک روپے کی چیز چار روپے کی دیتا ہے۔ اس ساری کارروائی کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ آباد ایک پلیٹ فارم ہے اپنی سی ساری کوشش کرتے ہیں مگر یہ مافیا بہت طاقتور ہے اور اربوں کھربوں کی لوٹ مار جاری ہے، یہ تو وزیر اعلی گورنر کی نہیں سنتے نہ میٹنگ پر آتے ہیں۔ جب تک طاقتور کو سزا نہیں ملے گی مایوسی پھیلتی رہے گی۔
شہر میں چائنہ کٹنگ کا بڑا شہرہ رہا ، بلڈرز اس کام میں کس حد ملوث رہے؟
میں چیلنج کرتا ہوں کہ پورے شہر میں ایک بھی پراجیکٹ دکھا دیں جو چائنہ کٹنگ کی زمین پر بنا ہو، یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ ایسی زمین کا نقشہ یا اپروول ہو ہی نہیں سکتا، چائنہ کٹنگ تو سرکاری سطح پر ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ شہر کے اندر بھی اور شہر کے باہر بھی ہزاروں ایکڑ کٹنگ کی نظر ہوگئی۔ اب کراچی سے حیدرآباد تک کوئی زمین نہیں بچی۔ اس میں سب ملوث ہیں۔ میں چائنہ کٹنگ کے خلاف کب سے بول رہا ہوں جو آواز بلند کرتا ہے اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تو ہر سطح پر ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔40برس تک اس شہر کی نمائندگی رکھنے والوں نے اس شہر کے ساتھ کیا کیا ، کون سا مسئلہ حل کیا، تعلیم، صحت یا اسمال انڈسٹریز کے لئے کیا کیا، نوجوانوں کو کیا ماحول دیا ، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں بنایا ۔ شہر کا وہ حال ہو گیا کہ پہلے بلڈر دبئی بھاگااب اسلام آباد و لاہور میں پراجیکٹس بنا رہا ہے۔
کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کے معاملات سے بلڈرز سب سے زیادہ پریشان رہتے ہیں ، آپ ان مسائل کا حل کن اقدامات کو سمجھتے ہیں؟
سندھ بلڈنگ کنٹرول ہو یا کے ڈی اے یا کوئی اور سرکاری ادارہ ، معاملات کرپشن کے گرد ہی گھومتے ہیں، بلڈرز کی فائل پر کاردکردگی اور نتائج بھی افسران کی مرضی پر منحصر ہوتے ہیں، جیسے ٹریفک والا گاڑی روک لے تو چالان کی کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ یا بنا ہی لیتا ہے اسی طرح نقشہ سے لے کر یوٹیلیٹی کنکشنز تک سارے مراحل مختلف مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں اگر مروجہ طریقہ کار کو مدنظر نہ رکھا جائے تو۔ کوئی بھی کاروباری شخص خواہ کسی بھی کاروبار سے اس کا تعلق ہو اپنی فائلیں غیر معینہ مدت تک رکنا برداشت نہیں کرسکتا اور یہ حقیقت ادارے بھی جانتے ہیںاور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اداروں میں نااہل افراد کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی نے پورا نظام تباہ کر دیا ہے۔ نیچے سے اوپر تک سب صرف پیسہ بنانے کیلئے بٹھائے گئے ہیں ۔ کبھی یہ سوچا گیا کہ گزشتہ 10برس میں اسکروٹنی فیس اور ڈیویلپمنٹ چارجز کتنے گنا بڑھ ا دیے گئے ہیں ۔ اس کا برہ راست اثر پراپرٹی کی قیمتوں پر پڑا ۔ بلڈرز پر وائیلیشن کا الزام لگانے والے یہ کب سوچیں گے کہ اس کو وائیلیشن پر مجبور کون کرتا ہے۔ اندھا دھند اور من چاہی رشوتیں وصول کرنے والے SBCA اور KDAکے افسران ہی بلڈر کو اس پر مجبور کرتے ہیں۔ جب کسی عمارت کو ڈیمولش ہوتے دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے یہ قومی سرمایہ ہوتا ہے جس آپ تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب بلڈنگ بن رہی ہوتی ہے تو SBCAکہاں ہوتی ہے۔ تب تو ان کے اہلکار افسران کے نام پر رشوت سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ انفرا اسٹرکچر پر پیسہ نہیں لگاتے، دیویلپمنٹ چارجز کی مد میں آنے والے کھربوں روپے کہاں جا رہے ہیں؟ ایک لاکھ اسکوائر فٹ کی اسکروٹنی فیس 50لاکھ تک پہنچا دی ہے جبکہ درجنوں مزید فیسز اور چارجز الگ ہیں۔ کوئی بلڈر اگر نقشہ کے بغیر بلڈنگ بنا تا ہے تو اس کو قصور وار کہا جا سکتا ہے مگر یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔ جب تک سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ختم کر کے اہل لوگوں کو میرٹ پر نہیں لائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے زیر اہتمام آباد ایکسپو ایک تسلسل سے منعقد کی جا رہی ہے، آپ اس ایونٹ کو کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے کس طرح فائدہ مند دیکھتے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ آباد ایکسپو سے بہت سارے فوائد حاصل ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی ہوں گے، نمائش میں غیر ملکی اداروں اور افراد سے پاکستا ن کا عالمی سطح پر ایک مثبت امیج ابھر ے گا ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں اس سے حکومتی سطح پر تعمیراتی سیکٹر کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور اس شعبے کی سرگرمیوں میں ندرت اور جدت آئے گی ۔چو نکہ تعمیراتی سیکٹر جسے ہم مد ر آف انڈسٹریز بھی کہتے ہیں یہ 60 سے زائد دیگر شعبوں کا احاطہ بھی کرتی ہے مثلا ً سنیٹری ، ٹائلز، سیمنٹ ،لکٹر ی کی صنعت ،کلر ، فرنیچر وغیرہ وغیر ہ جس کے ذریعے روزگار کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں۔ نمائش میں غیر ملکی ماہرین اور مقامی تعمیر ات کے مابین ملاقاتیں اور خیالات کے تبادلے سے ہم ایک دوسرے سے فائد ہ اٹھارہے ہیں جس کے نتیجے میں نت نئے تعمیراتی منصوبوں کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آباد یکسپو 2016ء کی طرح 2017 کا ایونٹ بھی بہت کامیاب رہے گااور اس سے تعمیر ات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری بھی پاکستا ن میں آئے گی۔ میں اس موقع پر ہر حکومت سے بھی بھر پور تعاون کی امید رکھتاہوں زراعت کے بعد تعمیراتی سیکٹر دوسرا اہم شعبہ ہے جو بے روزگار ی کی شرح کم کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکتا ہے ۔
کنسٹرکشن انڈسٹری کو صنعت کادرجہ دینے سے لے کر حکومتی پالیسیوں میں کس نوعیت کے اقدامات کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں؟
وفاقی اور صوبائی حکومت کی الگ الگ اور متضاد پالیساں اسے صنعت کا درجہ دینے میں خود سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔اسے تعمیراتی صنعت کا درجہ دینے کی کاغذی باتیں اور سہو لیات دینے کے محض دعوے کرنے اور وعدے سے کرنے سے کام نہیں چل سکتا۔ معاملہ یہ ہے کہ معاملات کو سرخ فیتے کی نذر کرنے والی بیور کریسی کا رویہ جب تک تبدیل نہیں ہوگا تب تک بات نہیں بنے گی ۔حکومتی پالیسوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہر سال تبدیل ہو جاتی ہیں جس سے غیر یقینی صورتحال کا پیدا ہونا ایک فطر ی عمل ہے یہ ایسی صورتحال ہے جس میں رہ کر کوئی بھی بلڈر غیر یقینی کا شکار رہتا ہے اور حکومتی پالیسی کے بارے میں اعتماد نہیں رکھ سکتا جس کی وجہ سے سرمایہ کا ری کرنے کا معاملہ رسک لینے والی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اداروں میں آج بھی سیاسی اثر ورسوخ جار ی ہے اورخوش آمد یوں کی بھر مار ہے۔ میر ٹ کو برقرار رکھنے کی روش تقریبا ختم ہو چکی ہے افسران کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح سیاسی فیکٹر سے ملتے ہیں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لئے بجلی گیس اور پانی کے کنکشن بنیادی لوازمات ہیں ان کے بغیر کوئی بھی منصو بہ مکمل نہیں ہو سکتا ۔ تو بنیادی بات یہ ہے کہ معاملات کو شفاف اور واضح کرنا ہوگا ورنہ یہ صورتحال بہت عرصہ نہیں چل سکتی۔
سندھ میں سالانہ قریبا 100پراجیکٹ لانچ ہوتے ہیں جن میں سے 85 کراچی میں ہوتے ہیں کیا یہ اس شہر کے انفرا اسٹرکچر اوروسائل کے ساتھ زیادتی نہیں؟
کراچی اور حیدرآباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کا شدید دبائو ہے ملک کے مختلف حصوں سے یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو یہاں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مکانا ت کی ضرورت ہے اور وہ کیسے پوری کی جائیگی، ٹیکسز کی بھر ماراور وسائل کی عدم فراہمی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک ممکن نظرنہیں آتا اور اس صوتحال کو حوصلہ افزاء قرار نہیں دے سکتے ۔ چھوٹے شہروں میں روزگار کے مواقع پیدا کر کے آبادی کے دبائو کو روکا جاسکتا ہے ۔ زراعت کو صنعت کی حیثیت دینا ہوگی، کراچی پاکستان کا حصہ ہے ، اس سے باہر نہیں ، یہاں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں، ہر صوبہ کے ارکان اسمبلی ، وزرا اور اعلی عہدیداروں کے گھر یہاں ہیں میں یہ کہتا ہوں کہ جب یہاں کے وسائل استعمال کرتے ہیں تو یہاں کیلئے آواز بھی اٹھائیں۔ میں کراچی سے نہیں ہوں مگر اب یہ میرا اور میرے بچوں کا شہر ہے اس لئے میں یہاں کی سہولتوں کیلئے آواز اٹھاتا ہوں اور ایسا کرتا رہوں گا۔
جائداد کی خرید و فروخت اور ان کے کمرشلائزڈ پر لاگو حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے دہرے ٹیکسز کا نظا م جو خصوصا ً آپ کے شعبہ تعمیرات کے حوالے سے ہے اسے آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
جہاں تک ٹیکسز کے موجودہ نظام کی بات ہے تو میں اسے ظالمانہ سمجھتا ہوں ۔اس نظام میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ یہ قابل عمل ہو سکے ۔یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ بھار ی قرضے معاف کروانے والے آج قوم سے ٹیکس وصولی کے قوانین بنا رہے ہوں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ60 کروڑ روپے کے بڑے قرضے معاف کروانے والوں پر نیب ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا جبکہ ایک کروڑ کے نادہند ہ کو پکڑ ا جاتا ہے لیکن 60کروڑکے قرضے معاف کروانے والوںکو کو ئی نہیں پوچھتا یہ صورتحال قطعی طورپر غیر منصفانہ اور قومی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ جہاں تک تعمیر اتی صنعت کی بات ہے صوبائی اور وفاقی ٹیکسز کے شکنجے میں جکڑ ی ہوئی تعمیراتی سمیت تعمیراتی صنعت سمیت ملکی معیشت کو تبا ہ کردے گی اور سچی بات تو یہ ہے کہ لو گ اس پالیسی سے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہے ہیں کسی بھی تعمیراتی شعبے کے ساڑھے بار ہ فیصد بلڈر ز جی ایس ٹی جمع کرواتے ہیں جو اپنے الا ٹیز سے نہیں لیتے اس کے بعد پلا ٹ کمر شل کرنے کی بھی فیس 60سے70فیصد چوڑائی والے پلاٹ پر 80لاکھ روپے فیس وصول کی جاتی ہے ان ادائیگیوں کے باوجود انفرسٹرکچرناپید ہو تا ہے اور انفراسٹرکچر کے بغیر یعنی بجلی پانی سڑک کے بغیر کوئی تعمیر اتی منصوبہ تیار رنہیں کیا جاسکتا جبکہ پرو جیکٹ کے لئے بجلی کی فراہمی کے لئے پی ایم ٹی نصب کر انا بھی بلڈر ز کی ذمہ د اری ہے ،اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والا دہر اٹیکس نظام سے تعمیراتی صنعت کا بھٹہ بیٹھ جائیگا۔ صوبائی ٹیکسز کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز موت سے ڈرا کر بخار دینے والی بات ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ارباب اختیار کی نظر میں تعمیرا تی صنعت اس وقت غریب کی گا ئے بن کر رہ گئی ہے جس کوچارے کا بند وبست تو بلڈرکرتا ہے اور اس کا دودھ ٹیکس کی صورت میں حکومت لے جاتی ہے یہ ہی وہ تکلیف دہ صورتحال ہے جس کے نتیجے میں کئی بلڈر ز بیرون ملک رخصت ہوگئے ہیں اورکئی پر تول رہے ہیں۔ ون کیٹیگری کے پلاٹ پر صوبا ئی حکومت 40ہزار روپے اسکو ائر فٹ جبکہ وفاقی حکومت ایک لاکھ روپے ٹیکس کی شکل میں لے رہی ہے ، پرو جیکٹ کے آغاز سے قبل 75روپے فی فٹ ایڈوانس ٹیکس کی شکل میں ادا کرنے کی شرط اہم ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس ریفنڈ ایبل نہیں ہے اب اگر کسی وجہ سے پرو جیکٹ ختم ہو جاتاہے یا تیار نہیں ہو پاتا تو آپ کا ایڈوانس ٹیکس ضائع ہوجا تا یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی بلڈروفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاگو کردہ دہرے بھاری ٹیکسز ادا کر کے بلڈر کوئی کمرشل پلاٹ خرید کر اپنے پر وجیکٹ کا آغاز کرکے ایڈوانس ٹیکس بھی ادا کردیتا ہے تو دوسرے دن ٹیکس ریکور ی ٹیم اس کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ بلڈر کو جکڑ دینے کا ایک منظم اور غیر منصفانہ منصوبہ ہے۔ پر وجیکٹ کی تعمیر کے لئے ہا ئوس پلاننگ فنانس کارپوریشن HBFکی اپنی پالیسی ہے وہ قرضے دینے یا نہ دینے کے معاملے میں آزاد ہیں جبکہ کمرشل بینک تعمیر اتی صنعت کے لئے قرضے نہیں دیتے اب آپ اندازہ لگا ئیں کہ ایسی صورتحال میں بلڈر کیا کرے؟وہ بند گلی میں کھڑ ا ہے پر فیشنلز اور بلڈرز پر اپرٹی کا دہر نظام تعمیرا تی صنعت کو بر باد کر کے رکھ دیگا ۔میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اور وفاقی حکومت دونوں ملکی اہم ترین تعمیراتی صنعت کو زیادہ سے زیادہ ترجیحات دیں کیونکہ تعمیراتی صنعت واحد شعبہ نہیں بلکہ اس سے وابستہ دیگر 62صنعتوں کا بھی مستقبل اس سے وابستہ ہے ۔اگر یہ صنعت تباہ ہوئی تودیگر الائڈ انڈسٹریز اور ان سے وابستہ صنعتکاروںکا انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔

July 27, 2017

طاہر اے خان

تخلیق کائنات قدرت کا عظیم شاہکار ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر، چار الہامی کتب، غوث، قطب، ولی اور پانچ وقت مؤذن کی صدا نظام حیات کی مربوط منظم ترتیب و تشہیر اطلاق و عمل کا بین ثبوت ہے، اگرچہ خالق حقیقی تشہیری ذرائع سے ماورا ہے تاہم خوشحال معاشرتی زندگی میں مصور اور تصویر کے باہمی تعلق کا ابلاغ وجود کائنات کے رنگوں کی تجسیم کا جزو لا ینفک ہے ۔ آج کی ایڈورٹائزنگ تخلیقی اور تحقیقی پہلوئوں کی عکاس اور تشہیری تخلیق کار الہامی پیغامات کے ابلاغ کے موذن ہیں ، اشتہاریات پاکستان کا 70سالہ پیشہ ورانہ سفر ایڈور ٹائزنگ کی تاریخ کا روشن باب اور معتبر حوالوں کی پہچان ہے، اشتہاریات پاکستان کے درخشاں سفر میں انٹرفلو گروپ کے سربراہ طاہر اے خان کا نام معتبر حوالوں کی پہچان ہے نت نئے آئیڈیاز کے متلاشی ، کچھ کر گزرنے کی جستجو سے مالا مال طاہر اے خان نے تشہیری دنیا میں قدم رکھا تو انہیں یقین کامل تھا کہ ان کی شبانہ روز محنت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور رنگ لائے گی۔

طاہر اے خان ہمیشہ چیلنجز کے آرزو مند رہے ، انہوں نے تشہیری دنیا میں پر خطر اور مشکل کاموں کا بیڑہ اٹھایا۔ پاکستان میں 24گھنٹے کی نشریات کے پہلے آزاد ٹی وی چینل این ٹی ایم کو کامیابی سے ہمکنار کرکے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کیلئے سیور ریفل ٹکٹ کے ذریعے ریکارڈ فنڈ اکٹھے کئے جس کے باعث کامیاب اولمپکس کاانعقاد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کا باعث بنا۔

طاہر اے خان کی طبیعت میں ٹھہرائونہیں ، تھکن کا احساس نہیں، نئے تجسس اور نئی تلاش ، انہیں ہر دم متحرک رکھتی ہے، ہر بات خود مختاری کے ساتھ بلا خوف اور بلا جھجھک اور اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں۔

طاہر اے خان نے کہا کہ انٹرفلو گروپ منظم اور سائنٹیفک منصوبہ بندی کا منفرد شاہکار ہے، ہمارے تخلیق کردہ کمرشل اور اشتہارات موثر پلاننگ اور ریسرچ کی روشنی میں مارکیٹ کے ہر آن بدلتے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر تخلیق کئے جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم موثر پلاننگ اور ریسرچ کے تحت حاصل شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں مصنوعات کی فروخت کیلئے موزوں میڈیا کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنے کلائنٹس کے منافع میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انٹر فلو گروپ کی تحقیق، تخلیق اپنے کلائنٹس کیلئے جاندار تشہیری تصورات کی بنیاد بنتی ہے۔

طاہر اے خان نے کہا کہ بنیا دی طور پر میر اتعلق شروع ہی سے مارکیٹنگ،کمیو نیکیشن اور ایڈور ٹائزنگ سے رہا ہے ۔میں نے جولائی 1983ء میں انٹر فلو کی بنیاد رکھی ۔ اس سے پہلے میں نے مختلف اشتہا ری کمپنیوں میں کام کیا لیکن اپنا ادارہ قائم کرنے کے ساتھ ہی ہم ان خصوصی عوامل کی تلاش میں سر گرداں ہو گئے جو کسی پروڈکشن،یا میڈیا بائنگ ہائوس اور اس سے متعلقہ اداروں کیلئے جزو لا ینفک ہو تے ہیں ہماری اسی شب وروز کی جہد مسلسل کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارا گروپ درجنوں کمپنیوں پر مشتمل ہے اور یہ کمپنیاںایڈور ٹائزنگ میڈیا اور مارکیٹنگ سے متعلق بہترین انداز میں بین الاقوامی معیار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔جہاں تک بیٹس (BATES)کی بات ہے تو یہ اس وقت ایشیا کا ابھرتا ہو ا ستارہ ہے جو باہمی تعاون کا تصور پیش کر رہا ہے ،جبکہ انٹر فلو پا کستان میںایڈور ٹائزنگ کی ایک بھر پور قوت کا نام ہے ۔ بیٹس اور انٹرفلو کے اشتراک کے نتیجے میں دونو ں ادارے کی مشترکہ کو ششوں سے پاکستان میں اشتہا رات کامعیا ر مزید بہتر اور بلند ہونا یقینی بات ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے اس کے نتیجے میں تحقیق وتخلیق کی جستجو کو ایک نئی مہمیز ملے گی اور تخلیق کی نئی راہیں کھلیں گی ۔یہ بات طے ہے کہ ایڈور ٹائزنگ کے شعبے میں حکمت عملی کو بڑی اہمیت حاصل ہے جبکہ تخلیق ہماری کو ششوں کے نتائج کا حرف آخر ہے ۔ یہ با ت سمجھنے کی ہے کہ ہمارے شعبے میں تخلیق سے مراد یہ ہے کہ جس کے ذریعے ہم یہ ثابت کریں کے کلائنٹس یا صارفین ہمارے شعبہ تخلیقات سے کیا توقعات رکھتے ہیں ۔ جہاں تک ہمارے گروپ کی وسعت کی بات ہے تو اس وقت ہمارے گروپ میںایک درجن سے زائد کمپنیاں کا م کررہی ہیں ۔ جن میں تین اشتہاری کمپنیاں ،مختلف بائنگ ہاوئسز، پروڈیکشن کمپنیاں اور مختلف اقسام کی ایکٹیویشن کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینما ایڈور ٹائزنگ،آئوٹ ڈوراورڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنیاں ہمارے گروپ کا حصہ ہیں۔

آپ لاہور یو نیور سٹی مینجمنٹ آف سائنس (LUMS) اور اقراء یو نیورسٹی کے بورڈ آف ایڈوائیزری میں شامل ہیں ،پاکستان میں اکیڈمک ایجو کیشن کے معیا ر کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟

طاہر اے خا ن کا کہنا تھا کہ میری نظرمیں پاکستان میں اکیڈمک ایجو کیشن کا معیار بہتری کی جانب گا مزن ہے ۔ پروفیسرطاہر کی قیادت میں ہائر ایجوکیشن نے نئے پرائیویٹ تعلیمی ادارے سے الحاق کرکے حبیب یو نیور سٹی اور کر اچی بزنس اسکول جیسے اعلیٰ معیار ی تعلیمی ادارے سے الحاق کر کے ایک بڑا اہم قدم اٹھا یااس کے نتیجے میں تدریس کے معیا ر نے ترقی کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں یہ تعلیمی ادارے ہماری آنے والی نسلوں کیلئے معیاری اور بہتر علمی پلیٹ فارم ثابت ہونگے۔

آپ نے پاکستان میں پہلے آزاد ٹی وی چینل کی بنیاد رکھی ، یہ پر خطر اور مشکل کام تھا،یہ تجربہ کیسا رہا؟

طاہر اے خان نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ جب میں نے پرائیویٹ چینل کا آغاز کیا تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج تھاکیو نکہ یہ پا کستان کا پہلا پرائیویٹ چینل تھا۔ جہاں تک پی ٹی وی کی بات ہے تو یہ ایک قومی چینل تھا اس نے اپنے عملے کی تربیت کیلئے بہت کچھ کیا تھا۔ اس کے لئے انتہائی مہنگے ہنر مند افراد کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں لیکن بحیثیت پہلے پرائیوٹ چینل ہمیںیہ سا رے انتظامات از سرے نو کرنے تھے۔ ہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ این ٹی ایم نے بہت سارے لوگوں کو اپنی صلا حیتیں منوانے اورکا م کرنے کے مواقع فراہم کئے۔ میں اسے خوش قسمتی سمجھتاہوں کہ ان حالات کے باوجودہم نے ’’چاند گرہن ‘‘ جیسی سیریل پیش کی اورانڈین کیبل آپریٹرز ہمارے ڈرامے انڈیا میں دکھانے کیلئے اپنی تمام ترصلاحیتیں بروئے کار لاتے تھے، اب جو ہمارے ملک میں پرائیویٹ چینلز کا طوفان آیا تو اس وقت ہمارے تربیت یا فتہ ہنر مند افرادکی بڑی تعداد مارکیٹ میں پہلے سے ہی مو جو د تھی۔

آج کل اشتہاری ایجنسیوں نے ڈیجیٹل اور ڈیجیٹل کریٹومیڈیا کے عنوان سے مختلف شعبے قائم کررکھے ہیں یہ با ت حیرت کی نہیں کہ دونوں شعبے ایک ہی مقصد کیلئے کا م کر ر ہے ہیں اس کا پس منظر کیا ہے؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ اس حوالے سے دو باتیںہیںپہلی بات تو یہ کہ ہر اشتہاری ایجنسی جو تخلیقی مشتملاتcreative content) ( پیش کر تی ہیں انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مہارت ہونی چاہیے ۔دوسری بات یہ کہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کی سمجھ ہونی چاہئے کیو نکہ ان کے بارے میں تصور یہی کیاجاتا ہے وہ تخلیقی کا م کرتی ہیں۔ خواہ ان کا تعلق ڈیجیٹل میڈیا سمیت اشتہار کی کسی بھی شکل میں ہو بہر حال کسی بھی کریٹو ایجنسی کا کام یہ ہے کہ وہ تخلیقی آئیڈیا ز کا حل بھی پیش کرے اسی طرح  وہ لو گ اسپیشلسٹ ہو تے ہیں آپ کے تخلیقی آئیڈیا ز کو عملی طور پیش کرنے کا گر جانتے ہیں اسی وجہ سے تو آپ ڈیجیٹل میڈیا کہلاتے ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل مر کز اس قسم کی سہولتیں فراہم کر تا ہے جب کہ انٹر فلو کے تخلیق کارتخلیقی حل پیش کرتے ہیں ڈیجیٹل مرکز اس تخلیق کو عملی شکل دیتا ہے اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ ہر اشتہاری ایجنسی ڈیجیٹل میڈیا کے طور پر کا م کرتی ہے، یہ دور ڈیجیٹل میڈیا کے سیلاب کا دور ہے اس لئے ہر ایجنسی اس دوڑ میں شریک ہو نا چاہتی ہے۔

آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے فروغ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟

طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ یہ با ت درست ہے کہ آج کل کلائنٹس ڈیجیٹل میڈیا کے لئے بھا ری بجٹ مختص کر رہے ہیں کلا ئنٹس اور اشتہاری ایجنسیاں دونوں کی سوچ یہی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا مطلوبہ تشہیری مقاصد کے حصول کا سب سے مو ثر ذریعہ ہے یہ بات بھی درست ہے کہ کلائنٹس اوراشتہاری ایجنسیاںٹی وی کمرشل اور پرنٹ میڈیا کے اشتہارات کے لئے باہمی طور پر ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیںلیکن میں سمجھتا ہوں کے ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے یہ صو رتحال صرف پا کستان ہی میں نہیںدنیا بھر میں ہے بر طانیہ میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر بھا ری سرمایہ کا ری کی گئی ہے جبکہ پا کستان میں ملٹی نیشنل کمپنیاں یہی کچھ کررہی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ پا کستان میں ڈیجیٹل میڈیا کا ایک بڑا سیلاب آنیوالا ہے لیکن یہ صورتحال ہماری اس سے واقفیت سے بھی مشروط ہے۔

عوامی خدمت کے حوالے سے آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیںہے ا س حوالے سے اپنے بارے میں کچھ ہمیں بھی بتائیں؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ ملک وقوم کے مفاد میں کی جانے والی ہر کوششوں میں شریک ہونے کی خواہش رکھتا ہوںاس کے لئے میں نہ صرف اپنی ذاتی حیثیت میں رہ کر کا م کرتاہوں بلکہ میرا دارہ اور میری اہلیہ بھی پیش پیش رہتی ہیں میں مختلف تعلیمی اداروں کے انتظامی بورڈ میں شامل ہوں اس کے علاوہ دیگر مثبت معاشرتی مقاصدمیں بھی حصہ لیتا ہوں اور اپنا زیادہ وقت ان ہی کا موں پر صرف کرتاہوںفاطمید فائونڈیشن کا پر انا ٹرسٹی ہوں اس ضمن میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ریٹائرڈ جنرل اور سابق گورنرسندھ معین الدین حیدر کی قیا دت میں فاطمید فائو نڈیشن بہت زیا دہ فعال رہا اس کے علا وہ ہماری دوسری آرگنائزیشن پا نی کے حوالے سے بہت کام کررہی ہے میری اہلیہ سیما طاہر اس کے لئے بہت زیادہ کا م کر رہی ہیں کیو نکہ ہم سمجھتے ہیںیہ ملک کا انتہائی اہم مسئلہ ہے، ہمارا پا کستان جہاں پہلے اضافی پانی ہواکرتا تھا آج قلت آب جیسی صورتحال سے دوچارہے جبکہ قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہو نے کے اندیشے بھی سر منڈلا رہے ہیں۔

بحیثیت منتظم اعلیٰ اپنے مینجمنٹ اسٹائل کے بارے میںطاہر اے خان کا کہنا تھا کہ میر اطریقہ کا ر یہ ہے کہ میں نے اپنے گروپ کی تمام کمپنیوں کو چیف ایگزیکٹوافسران کی سر براہی میں مکمل طور پر بااختیار کر رکھا ہے اور کمپنیوں کے تمام معاملات کے وہ ذمہ دار ہیں جہاں تک میری ذمہ داری کی بات ہے تو میں انہیں گائیڈ لا ئن دیتا ہوں اور جہاں رہنمائی کی ضرور ت پیش آتی ہے وہاں ان کی رہنمائی کر تا ہوں، سی ای اوز سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے منیجر ز کو فری ہینڈ دیںتاکہ فیصلہ سا زی کا مر حلہ تیز رفتار ،لچکدار اورحقائق پر مبنی ہو۔

آپ کس قسم کی علا قائی تر قی کو ضروری سمجھتے ہیں جس کا مثبت اثر ہماری تشہیری صنعت پر پڑے؟

طاہر اے خان نے کہا کہ اگر آپ ایشین اور سائوتھ ایشن ریجن کی بات کررہے ہیں تومیں یہ کہوں گا کہ دنیا کے اس حصے میں مارکیٹوں کی بھرمار ہے اوردنیا کے دیگر حصوں کی نسبتاً یہ مار کیٹیںبہت تیزی سے پھیلتی چلی جا ئیں گی۔جب مارکیٹیں تیزی سے بڑھیں گی توکمیو نیکشن بھی ہوگی اس کے لئے ہمیں بھی تیاری کر نے کی ضرورت ہوگی ،اپنے آپ کو موثر بنا نے کیلئے ہمیں کمیونیکیشن کی مہا رت میں اضافہ کرنا ہوگا میں یہ بھی سمجھتاہوں کہ اس صورتحال کے پیش نظر ہمیں آئندہ برسوں میں ایڈور ٹائز نگ کی مہا رت میں حددرجہ اضافہ کر نے کی ضرورت پیش آئے گی۔

اشتہارات کے شعبے میں بیرونی ممالک کی شرکت کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

طاہر اے خان نے کہا کہ کسی بھی مقامی صنعت میں غیر ملکی شمولیت انتہائی مفیدثابت ہو تی ہے اس سے مقامی صنعت کوما رکیٹنگ اور کمیونیکیشن کے جدید تقاضوں سے آگہی حاصل ہوتی ہے، میری نظر میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ عوام کو تر بیت کے مواقع حاصل ہو تے ہیں اور یہ مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کا ری کا در کھولنے کا مو جب ہو تی ہے ،اپنی شناخت یعنی برانڈ کے سا تھ کا م کرنے والی ایجنسیاں ایسی مارکیٹوں کے با رے میں جا ننا چاہتی ہیں جیسے پا کستان ،اگر آپ کو اس کا موقع ملتا ہے تویقینا آپ سرمایہ کا ری کی حوصلہ افزائی کریں گے اس لئے میں اسے پاکستانی ایڈورٹائزنگ صنعت کیلئے ایک مثبت آغاز تصور کر تا ہو ں جس کا مجموعی نتیجہ ہماری معیشت پر پڑے گا ۔

مائنڈ شیئر میں اپنے شیئر کے بارے میں کچھ بتا نا پسند کریں گے ؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ مائنڈشیئر اور انٹر فلو مشترکہ طور پر کا م کررہے ہیں اور ان کے شیئر برابر ہیں دونوں کمپنیاں ہی اپنے کا م میں بھر پور تجربہ رکھتی ہیں اور دونوں ہی کمپنیاں پروفیشنل بنیا دوں پر منظم ہیں اس کا ثبوت صنعت میں ہم پر کیا جانے والااعتماد ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کا سب سے بڑا میڈیا بائنگ اور پلاننگ ہا ئوس ہے۔

آپ نے تو زندگی میں کئی مہمات سر کیں یہ بتائیں اپنے تجا رتی اہداف کیسے حاصل کرتے ہیں ؟

اس پر طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ گروپ میں شامل تمام کمپنیاں سال کے آغاز میں اپنا سالانہ پلان مرتب کرتی ہیں، کمپنی کی مینجمنٹ کی جانب سے اس کی حتمی منظوری کے بعد انہیں اہداف حاصل کرنے کے لئے آزادانہ ماحول فراہم کردیا جاتاہے۔ تاہم کمپنی کی ضروریات جاننے اورکارکردگی کو جا نچنے کیلئے ہر تین ما ہ بعدجائزہ لیا جاتا ہے اس طرح گروپ ہر مرحلے پر کمپنیوں کی کا رکر دگی سے آگاہ رہتا ہے، بطور انٹر فلو گروپ ہم ان کمپنیوں کو ما نیٹر کرتے ہیں ہم ان کمپنیوں کو کا م کرنے کیلئے آزاد رکھتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا پا بند رکھتے ہیں کہ وہ سالانہ بزنس پلان کی حدود میں رہ کر کا م کریں جس کی منظوری دی گئی ہے ۔

کیا میڈیا بائنگ ہائو سز کی کا رکردگی عالمی معیار کے مطابق ہے ؟

طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ انٹر نیشنل اورہماری دیگر کمپنیوں کے آپر یشن کا طریقہ کاروہی ہے جو پوری دنیا میںرائج ہے ہم پاکستان میںبہتر طور پر اسی معیا ر کے مطابق بہترین اندا ز میں کا م کر ر ہے ہیں اسی طرح پاکستان میں قائم چند انٹر نیشنل کمپنیاں بھی ٹھیک ہمارے انداز میں ہی کام کررہی ہیں ایسے ہی جیسے دنیا بھر میں ہو رہاہے جس کی بنیا د پیشہ ورانہ اصول ،اعلیٰ تخلیقی صلا حیتیں اور دیانت داری ہے۔

آپ کی سحر انگیز شخصیت قوم کے معماروں کے لئے ایک ایسا چمکتا، دمکتا اور مہکتا سمندر ہے جس سے جتنی آگہی حاصل ہوگی اتنی ہی یہ خوشبو پھیلتی چلی جائے گی، قوم کے نام کیا پیغام دیں گے؟

طاہر اے خان نے کہا کہ پا کستان میں مواقع حاصل کرنے کے بے پناہ وسائل ہیںہم بحیثیت پا کستانی ترقی کی نئی منازل کے قریب کھڑے ہیں خصوصاً ملک میں امن وامان کی بہتر صورتحال نے ہر پا کستانی کو پر اُمید کردیا ہے ۔ ہمیں تابناک مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے خصو صاً اس ماحول میں ہمارے نوجوانوں کو ترقی کے بلند مقام پر پہنچنے میں کو ئی رکا وٹ نہیں،مملکت خدادادِ پاکستان میں ہمارے پا س بھر پور انسانی وسائل،ٹیلنٹ اور قابلیت مو جو د ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اور حکومت ایک وژن پر کام کریں اور وہ یہ ہے کہ ان وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرکے اقوام عالم میں پاکستان کو ایک مستحکم اور فلا حی ریا ست بنانے کے خواب کو پورا کرسکیں۔

July 27, 2017

شاہد آفریدی

مثبت سوچ اور صحت مند رویہ کا آئینہ دار، دنیائے کرکٹ کے بے تاج بادشاہ، حریف ٹیم کیلئے خوف اور دہشت کی علامت، خوش مزاج، ملنسار، درد مند انسان، حوصلہ و عزم مستقل کا احساس اور ایک انقلاب کا نام شاہد خان آفریدی ہے، شاہد خاند آفریدی کو پاک وطن کی مٹی اور سبز ہلالی پرچم سے والہانہ عشق ہے ان کے دل میں حب الوطنی کے چشمے پھوٹتے ہیں، ہاتھ میں اخوت کا پرچم، وسیع القلب ، ملک میں تنگ نظری، منافقت، تعض، جہالت اور ظلم و تشدد سے بیزار ہیں، بقول شاہد آفریدی مجھے ہر سمت سے والہانہ پیار اور بیش قیمت محبتیں ملی جو میرے لئے سرمایۂ حیات اور انمول خزانے سے کم نہیں ہیں۔

دنیائے کرکٹ میں بلند مقام اور عالمی شہرت رکھنے والے نوجوان شاہد آفریدی کو زیادہ تر لوگ ان کو کھیل کے حوالے سے ہی جانتے ہیں اورحریف ٹیم پر برتری حاصل کرنے کیلئے ان سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں خصوصاً پاک بھارت مقابلہ ہو  تو پاکستانی شائقین کی نظریں بوم بوم آفریدی پر ہی مرکوز ہوتی ہیں، پچھلے برس پاک بھارت ون ڈے میں آفریدی کے تین لگاتار چکھے کون بھول سکتا ہے جنہوں نے میچ کا پانسہ پلٹ کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کردیا  ایک موقع پر پاکستان کوچار گیندوں پر 10رنز درکار تھے، انڈین بائولر ایشونتھ کی گیند پر آفریدی نے گیند ہوا میں اچھالی تو شائقین پر سکتہ طاری ہوگیا تھا لیکن وہ چھکا تھا تین، بولوں پر6رنز کے جواب میں شائقین کے دل بیٹھے جارہے تھے لیکن آفریدی نے چھکا مار کر کھیل کا پانسہ پلٹ دیااس قومی ہیرو نے شدید دبائو کا بھرپورانداز میں مقابلہ کرکے ایسا کارنامہ انجام دیا جو قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔

شاہد آفریدی عالمی شہرت یافتہ کرکٹر ہونے کے ساتھ ایک مثبت طرز فکر رکھنے والا شخص ہے، عزت، شہرت اور دولت سے نوازے جانے والا شاہد آفریدی اپنی ذات میں بااخلاق ، صاف گو اور درد مند انسان ہے وہ اپنے مقام پر سہتے ہوئے اپنی بساط پر معاشرے کی اصلاح چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ جس قدر ممکن ہو اس کی بھلائی میں اپنا حصہ ڈالے، مذہبی احساسات اسے خیر کے کاموں کی جانب گامزن رکھتے ہیں اس مفصل انٹرویو میں ہم شاہد آفریدی کی کرکٹ کی زندگی کے علاوہ کئی پہلو دیکھنے کو سمجھنے کو ملتے ہیں۔

شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ تعلیم ہے جہاں تعلیم نہیں ہے وہاں سے ہی مختلف قسم کے مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ تعلیم کی بدولت ہی آدمی انسان بنتا ہے، میں بچوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے حد درجہ خوشی ہوتی ہے، میری خواہش تو یہ ہے کہ ملک بھر میں معیاری تعلیم عام ہو اس خواہش کے تحت میں نے شاہد آفریدی فائونڈیشن کے تحت اسکول قائم کیا لیکن یہ ابتداء ہے اس سلسلے میں اللہ نے چاہا تو بہت کچھ کروں گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کھیل کے بہتر مواقع بھی ملنے چاہئیں، آج کل ہمارے یہاں اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل ضروری ہے جس سے ایک صحت مند اور مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے، بس تعلیم تجارت بن گئی ہے میرا بس چلے تو میں کھیل کے میدان کے بغیر جو اسکول ہیں ان کو بند کردوں اور اسکول کیلئے میدان کو کمپلسری قرار دیدوں ، شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کے بزرگوں کا تعلق تیرہ میدان سے تھا لیکن وہاں حالات کی خرابی کی وجہ سے ہم کوہاٹ تنگی بان منتقل ہوگئے یہ کے پی کے میں پشاور سے کافی اندر گائوں ہے یہاں تعلیم کے علاوہ بنیادی صحت کے بہت زیادہ مسائل تھے اس کیلئے میں اور میرے ساتھ جاوید آفریدی نے اپنے پیسے سے اسپتال تعمیر کیا اس اسپتال میں ایک ڈینٹل کلینک بنانے کا پروگرام بھی ہے۔

والد صاحب کے نام پر زمین تھی وہاں یہ اسپتال بنایا ہے یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے دو سال کے اندر 80ہزار سے زائد افراد یہاں سے علراج کراچکے ہیں فی الحال یہاں پر 16بستر ہیں، یہاں ایکسرے، لیبارٹری، الٹراسائونڈ مشین موجود ہیں، مقصد لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے، یہاں سب سے پہلا ڈلیوری کیس میری کزن کا ہوا، اس اسپتال کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ شہر سے بھی لوگ یہاں آتے ہیں لیکن شہر سے ڈاکٹرز یہاں آنے کو تیار نہیں ہوتے اس لئے ہم نے ان کی رہائش کا بھی اسپتال میں بندوبست کیا ہے، ابھی اس اسپتال میں خواتین کیلئے ایک سینٹر قائم کیا ہے جہاں وہ دستکاری اور میک اپ وغیرہ سیکھتی ہیں اور سکھاتی ہیں اس پروجیکٹ کیلئے میں نے کسی سے چندہ نہیں لیا میں اور جاوید آفریدی نے اپنی مدد آپ کے تحت شاہد خان آفریدی فائونڈیشن کے نام سے کام کررہے ہیں، یہاں حالات کی خرابی کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا، یہاں اسکول، کالج اوریونیورسٹی بھی ہیں اس علاقے کی سڑک کی حالت خراب ہے پہلے بھی حکومتی لوگ آئے تھے دیکھ کر چلے گئے لیکن تاحال کام نہیں ہوا میرے خیال میں باتوں سے نہیں کام کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

پٹھانوں کے جو پہلے لیڈر تھے باچا خان وغیرہ ان لوگوں نے بہت کام کیا، انہوں نے قوم کو صحیح ڈائریکشن دیا ان کے بعد تو صرف سیاست ہورہی ہے،شاہد آفریدی نے کہا کہ پٹھان دلیر صفت، مہمان نوازلوگ ہیں اور بنیادی طور پر امن پسند قوم ہے ۔

دین اسلام کے حوالے سے شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ اسلام میرے لئے سب کچھ ہے کیونکہ دینی تعلیمات پر عمل کرکے ہی آپ اپنے اور پورے معاشرے کیلئے ایک مفید انسان بن سکتے ہیں اور اس پر عمل کئے بغیر کوئی شخص مکمل انسان نہیں بن سکتا، میری کوشش ہوتی ہے کہ پنجگانہ نبماز پڑھوں مگر چار ہی نماز پڑھ پاتا ہوں بد قسمتی سے ہمارے بعض علماء نے آسان اور عام فہم دین کو مشکل بنادیا، ایک سانحہ یہ بھی ہوا کہ ہمارے وہ بزرگ جو علاقے میں امن و امان اور انصاف قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے انہیں دھماکوں اور حملوں میں ماردیا گیامیں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ فوج کی کوششوں سے تیرہ کے حالات بہت بہتر ہوگئے ہیں اب وہاں بد امنی نہیں ہے لیکن دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کیلئے حصول معاش کے وسائل بہت کم ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگ وہ کام کرتے ہیں جو غلط ہے مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب آپ کو روزگار کے وسائل نہیں ملیں گے تو پھر آپ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں میں تو فوج سے ہی اپیل کروں گا کہ وہ تیرہ میں لوگوں کو حصول معاش کے وسائل کیلئے کام کرے بہر حال علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو جاا ہے جن کی کوششوں سے علاقے میں امن و امان کا مسئلہ حل ہوچکا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہم پیار محبت والے لوگ ہیں او رامن و آشتی کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کرکٹر نہ بنتے تو کیا بنتے کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ میں آرمی میں ہوتا مجھے اس کا بہت شوق تھا اگر ایک ڈیڑھ سال کے اندر کرکٹ میں مقام نہ بناپاتا تو پھر آرمی میں جاتا ، میرے چچا کرنل آفریدی ابھی ریٹائر ہوئے 19بلوچ رجمنٹ میں تھے، ایس ایس جی کمانڈوز میں جاتا ، اس وقت دنیا میں اس کے مقابلے میں کہیں کمانڈوز نہیں، جنرل راحیل شریف سے دو تین مرتبہ ملاقات کا موقع ملا، بھرپور پرسنالٹی کے مالک ہیں، پرویز مشرف سے بھی ملاقات ہوئی، دونوں میں ایک چیز قدر مشترک یہ دیکھیں کہ وہ ملک و قوم کیلئے کام کرنے والے لوگوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں، ان کی عزت افزائی کرتے ہیں، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بطور صدر پرویز مشرف نے جو تین چار سال گزار وہ بہت زبردست تھے وہ سیاستدان تو تھے نہیں اس لئے حقیقت میں سیاستدانوں نے ان کو استعمال کیا، راحیل شریف صاحب کو اللہ نے جو عزت دی ہے اگر وہ الیکشن بھی لڑیں تو عوام ان کو ووٹ  دیں گے مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ملک کو مختلف بحرانوں سے نکالنے کے جس مشن پر کام کررہے ہیں اسے کامیابی سے ہمکنار کرکے ہی چھوڑیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہوئے بغیر پاک بھارت مسائل حل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود نواز شریف، پرویز مشرف کے دور حکومت میں سرحد پر اکا دکا واقعات کے باوجود مجموعی طور پر دونوں ملکوں میں تعلقات کسی حد تک بہتر ہی رہے لیکن مودی کی حکومت کے آنے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات بری طرح خراب ہوئے، مودی کا اگر ماضی دیکھیں تو وہ پورے کا پورا مسلم دشمنی پر مبنی ہے ان حالات میں بھی میں نے کہا کہ پاکستان امن پسندوں کا ملک ہے جو حالات میں مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں اس کے انتہا پسندانہ اقدامات کی کیا ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود میں پڑھے لکھے بھارتیوں کی جانب سے جو کمنٹس آئے وہ میرے لئے افسوسناک تھا، بھارت میں مودی سرکار کے آنے سے دو طرفہ تعلقات بہت متاثر ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کراچی سیٹل ہونے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہمارے کافی رشتہ دار یہاں پہلے سے ہی موجود تھے پھر ہمارے نانا، دادا نے تین تین چار چار شادیاں کیں، سب کی اولادیں ہیں۔

آپ نے کتنی شادیاں کی ہیں کے جواب میں شاہد آفریدی نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ہی شادی کی، بزرگوں کے زمانے کی خواتین خاموش رہتی تھیں، ہمارے دور کی عورتیں اسٹار پلس والی ہیں جہاں تک دوسری شادی کی بات ہے تو اس میں اب آپ چاہ ہی سکتے ہیں اور سوچ ہی سکتے ہیں عمل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔80ء میں کراچی میں پلا بڑا، تعلیم بھی کراچی ہی میں حاصل کی، فیڈرل بی ایریا میں رہتا تھا وہاں اردو اسپیکنگ بہت زیادہ ہیں ہم پیار محبت سے رہتے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا، بہت سے لوگ میرے گھر آتے اور میرے والد سے دعائیں کراتے تھے، میں نے وہیں سے کھیل کا آغاز کیا، آج تک مجھے کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ پٹھان اپنے صوبہ سرحد میں جائو نہ کسی پٹھان کو یہ کہتے سنا کہ تم اردو اسپیکنگ ہو ہندوستان جائو، بیچ میں بعض عناصر ایسے ہوتے ہیں جو حالات خراب کرنا چاہتے ہیں حالات خراب کرنے کیلئے آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں لوگوں کو آپس میں لڑاسکتے ہیں اپنے مفاد کیلئے بیرونی اشارے پر بھی ایسا کیا جاسکتا ہے ، جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں وہاں برے لوگ بھی ہوتے ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں بعض لوگوں نے اپنے مقاصد کیلئے کراچی کے حالات کو خراب کیا۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کی بات ہے تو محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد پارٹی میں وہ رونق وہ بات نظر نہیں آتی، بی بی نے برے حالات کا بھرپور مقابلہ کیا، پاکستان آنے کا ان کا فیصلہ بھی بہت اہم تھا، بلاول بھٹو سے بھی ایک دو بار ملاقات ہوئی ہے وہ اچھا اور باصلاحیت نوجوان ہے مگر انسان کی اصل صلاحیتیں اس وقت سامنے آتی ہیں جب وہ ڈکٹیشن کے بجائے اپنی شخصی صلاحیتوں سے کام لے ابھی بلاول کے پاس کام کرنے کا موقع ہے، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی جگہ نئے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو لانے کا فیصلہ میرے خیال میں اچھا ہے اس عہدے کیلئے نئے خون کی ضرورت تھی۔

ہمارے یہاں ایک عجیب چلن یہ ہے کہ اگر آپ فوج کی تعریف کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم مارشل لاء کے حامی ہو اگر کسی سے پی پی یا پی ایم ایل یا کسی سیاسی جماعت کی بات کی جائے تو آپ پر اینٹی فوج کا الزام لگایا جاتا ہے میں سمجھتا ہوں خہ ہمارے سیاستدان حالات کو اس نہج پر کیوں پہنچا دیتے ہیں کہ ملک میں مارشل لاء کالگانا ناگزیر ہوجاتا ہے تو ان حالات کے ذمہ دار تو سیاستدان ہی ہوتے ہیں پچھلے الیکشن سے پہلے زرداری، پرویز مشرف اور نواز شریف کی حکومتوں کا موازنہ آپ کیسے کریں گے؟

الیکشن سے ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم نواز شریف کے گھر ان سے ملنے گیا تھا، ملاقات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ تم اپنے بلے پر شیر کا اسٹیکر لگالو، جنرل پرویز مشرف اور راحیل شریف سے ملاقات ہوئی ان کی شخصیت متاثر کن تھی، زرداری صاحب کا اپنا اسٹائل ہے مسکراتے ہوئے مصافحہ کرتے ہیں آگے بڑھ جاتے ہیں، بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی ہو ہمیں اس کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ملک کا سربراہ ہے اختلافات ہوسکتے ہیں یہ کوئی بات نہیںہے۔

عمران خان کی سیاست دو چیزوں پر ہے، عمران بھائی کی شخصیت کرپشن سے پاک ہے، انہوں نے اس بات کا ہمیشہ سے بڑا خیال رکھا بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ان کا وولٹ بھی کھلوالیں تو سو دو سو روپے ملیں گے، دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنا جانتا ہے، عمران بھائی کے پاس ایک اچھا موقع ہے عوام ان کے ساتھ ہیں جہاں تک ان کی پارٹی کے رہنمائوں کو پارٹی پالیسی کے مطابق کام کرنا چاہئے۔

یہ بات درست ہے کہ ہمارے بزرگ سیاستدانوں مثلاً باچا خان اور دیگر نے قوم کی صحیح رہنمائوں کی اس کے بعد تو پختونوں کے نام پر سیاست ہوتی رہی کس نے بھی اپنی قوم کیلئے کوئی صحیح گائڈ لائن نہیں دی، پختونوں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں مگر ان کے پاس کوئی رہنما نہیں جو ان کیلئے بہتر سمت کا تعین کرے۔

اگر آپ کو تحریک انصاف، پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ میں سے کسی جماعت کی جانب سے شمولیت کی دعوت ملی تو آپ کس کی طرف جائیں گے؟

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ فی الحال کرکٹ کی نیٹ پریکٹس کو ہی ترجیح دوں گا کیونکہ سیاست میں ابھی جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرا دل بھی سیاست کرنے کو بہت چاہتا ہے لیکن خاندان کے بزرگ منع کرتے ہیں بعض فیصلے آپ اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور بعض فیصلے صلاح و مشورے سے کئے جاتے ہیں، میرے سیاست میں آنے کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے بس یہ تو نہیں کہتا کہ سیاست میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا لیکن فی الحال ارادہ نہیں ویسے بھی دیکھا جائے تو اصل چیز خدمت ہی ہے اور میں خدمت کرنا چاہتا ہوں اسی مقصد کے تحت شاہد آفریدی فائونڈیشن کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبے میں کام کررہا ہوں، پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا دنیا بھر میں سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہی ہوتا ہے جو میں کررہاہوں۔

راحیل شریف نے شاہد آفریدی کرکٹ اسٹیڈیم کاا فتتاح کیا

آرمی چیف نے اسٹار کرکٹر کو گرم جوشی سے گلے لگایا، بیش قیمت گولڈ پسٹل تحفے میں دیدی

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے نام پر کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کیا اس موقع پر اسٹار کرکٹر بھی موجود تھے ، راحیل شریف نے شاہد آفریدی سے مصافحہ کیا اور گرم جوشی سے گلے لگایا ،جنرل راحیل شریف نے شاہد خان آفریدی کو بیش قیمت گولڈ پسٹل تحفے میں دی، کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کے بعد آرمی چیف نے قبائلی عمائدین سے خطاب کیا اور کہا کہ پاک فوج کے جوان بھارتی فوج کو سبق سکھا سکتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پاک آرمی دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے جس نے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کیلئے دفن کردیا ہے، انہوان نے کہا کہ اپنے دور میں پاک فوج کا مورال بلند کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان رشتہ برقرار رہے، انہوں نے قبائلی عمائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور قبائلی عمائدین نے ملک کر دہشت گردی کو ختم کیا، عوام کی حمایت سے انسداد دہشت گردی آپریشنز کا مرحلہ مؤثر اور منفرد انداز میں مکمل کرلیا ہے، استحکام اور آبادکاری آپریشن سے ترقی کو مزید تقویت ملے گی، انہوں نے کہا کہ وہ پاک آرمی کو خدا حافظ کہہ کر اختیارات سونپ دیئے مگر میرا جینا اور مرنا ملک کیلئے ہےاور میں نے اپنی زندگی شہداء کے لواحقین کیلئے وقف کردی ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر شاہد خان آفریدی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف میرے اور پورے پاکستان کے ہیرو ہیں اور میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

July 27, 2017

مریم مشتاق

’’میں نے بچپن سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ آرٹ یا مصوری کو بھی چلایا ۔ یوں سمجھ لیں کہ اتنا شوق پڑھائی کا نہ تھا ، جتنا مصوری کا رہا ۔بہت چھوٹی عمر سے آرٹ کی کلاسز بھی لیتی رہی ہوں ۔ گھر میں بھی اس شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر آرٹ این کرافٹ کی Hobbyمیں مصروف رہا کرتی تھی ۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں (Crafts)وغیرہ بنانا ، ڈیکوریٹ کرنا اور پینٹ کرنا مجھے اچھا لگتا تھا ۔ اس لیے جب موقعہ ملا توکراچی اسکول  آف آرٹ سے چار سالہ ڈپلومہ کیا اور اس کے بعد گرافک ڈیزائننگ کی جانب رخ کیا ہے ‘‘۔

یہ آپ کا ابتدائی شوق تھا ؟

’’مصوری ؟ نہیں۔۔۔ نہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر اسکلپچر کا شوق تھا بلکہ اسے آپ جنون کہہ سکتے ہیں۔ اس کی ابتدا میں نے پلاسٹک آف پیرس سے کی ، پھر جب ہاتھ کچھ بہتر ہوا تو فائبر پر کام کیا ۔ اس کے بعد دوسرے ہارڈ مٹیریل پر کام شروع کیا ۔ حتیٰ کہ لوہے، تانبے وغیرہ سے فن پارے تخلیق کرنے کے  لیے ویلڈنگ کا کام بھی کیا ۔ لوک ورثہ اسلام آباد میں کافی کام سیکھا اور کیا ہے ۔ وہاں سکھانے والے لوگ بے حد پروفیشنل ہیں، اس لیے کام سیکھنے اور کرنے کا بہت لطف آیا ۔ ساتھ ہی آرٹ سے متعلق مختلف ورکشاپس میں بھی شمولیت اختیار کی‘‘ ۔

تو اس طرح آپ مختلف میڈیمز میں کام کرتی آرہی ہیں ؟

’’جی ہاں ، آئل پینٹنگز کیں ، واٹر کلرمیں ہاتھ صاف کیا اور کچھ کام ایکر ملک میں بھی کیا ہے ‘‘۔

ان سب کو ایک ساتھ چلانا اور سنبھالنا مشکل نہیں ہوتا ؟

’’شروع شروع میں ہوتا ہے لیکن جب ہم زیادہ کام کرنے لگتے ہیں، عادی ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ آئل پینٹنگز کافی نازک اور پیچیدہ کام ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ،لیکن پریکٹس سے انسان پرفیکٹ ہو جاتا ہے ۔ میں یہاں خدانخواستہ اپنے پرفیکٹ ہونے کا دعویٰ قطعی نہیں کررہی  ہوں ، مگر یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مشق کرتے رہنے سے کوئی بھی آرٹ فارم آپ کے کنٹرول سے باہر نہیں جاتا ۔ مجھے ایبسٹریکٹ بھی بہت اٹریکٹ کرتا ہے ‘‘۔

مگر ہمارے ہاں تجریدی فن پارے کو سمجھنا کافی مشکل نہیںہے؟ ۔

’’جی ہاں ، بالکل مگر جو مصوری کے شائقین ہیں ، وہ اس سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں ‘‘۔

پینٹنگز میں کوئی خاص موضوع ہوتا ہے ؟جیسے لینڈ اسکیپ ، اسٹل لائف، بچے ، جانور یا بوڑھے لوگ وغیرہ؟

’’گھوڑے۔Horsesمجھے یہ جانور بہت Fascinateکرتا ہے ۔ اس کی اینا ٹومی ، اس کی فزیکل بیوٹی بہت اچھی لگتی ہے ۔ اس لیے میں Horsesکو بہت پینٹ کرتی رہتی ہوں ‘‘۔

ہمارے ایک مصور دوست مومن الرحیم بھی یہی کرتے ہیں ۔ کراچی میں ہوتے ہیں ۔ ان کابھی خاص موضوع بھی گھوڑے ، ان کی مومنٹ ، تحّرک اور دوڑا نہیں متاثر کرتی ہے ۔ افغان کھیل بزکشی کی بھی وہ شاندار پینٹنگز پیش کرچکے ہیں۔

’’ہاں نا۔۔۔ گھوڑے کو آپ دوڑتے ہوئے دیکھیں ، رکے ہوئے دیکھیں ۔۔۔ وہ آپ کو ہر پوز میں اٹریکٹ کرتا ہے ۔ اس کی باڈی کی بیوٹی، اس کی اسکن ، ایّال مجھے اچھی لگتی ہے ۔ horsesکو پینٹ کرنے کے دوران میں نے اس پر ریسرچ بھی کی ہے کہ ہم سے پہلے ماسٹرز (کلاسک مصوروں) نے اس کو کس طرح پینٹ کیا ہے ؟ اس کی باڈی کی بیوٹی کو انہوں نے کس طرح پیش کیا ہے ۔ پھر یہ بھی سرچ کیا کہ آج کل دنیا میں مصور اس موضوع پر کس طرح کام کررہے ہیں ؟ یہ سب دیکھ کر میں نے کوشش کی کہ میں اپنی راہ نکالوں ، کلرز، اسٹروکس، برتائو اور پیشکش میں اپنی انفرادیت دکھانے کی کوشش کروں تا کہ جو شائقین اس طرح کی پینٹنگز دیکھتے رہتے ہیں ، وہ بھی Appericiate کرسکیں کہ ہاں ، یہ کام پہلے دیکھے ہوئے کاموں سے کافی الگ دکھائی دیتا ہے ۔ یہی میری کامیابی ہوگی ‘‘۔

اسی ریفرنس میں آپ سے پوچھونگا کہ آپ کو اپنے سے پہلے والے آرٹسٹوں میں کس کا کام پسند آتا ہے ؟۔

’’مجھے اے کیو عارف کا کام بہت اچھا لگتا ہے ۔ ان کے ہاں رنگوں کا استعمال ، ان کا برتائو مجھے بہت بھاتا ہے ۔ میں بھی ان طرح کا کام کرنا چاہتی ہوں ۔ اس کے لیے میری کوشش ہوگی کہ میں خود کو مزید پالش کروں ۔۔۔ کچھ اور سیکھوں پھر کسی طرح اس طرف آئونگی ۔ اس کے لیے باہر جاکر بھی سیکھنا پڑا تو میں جائونگی کیونکہ جب تک آپ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے خود کو تکلیف نہ دیں ، سیکھنے کے عمل سے Proper نہ گزریں ، تب تک کامیابی کا حصول دشوار ہوتا ہے‘‘ ۔

آج سے پانچ سال بعدآپ خود کو As a Artistکہاں دیکھتی ہیں ؟

’’کم سے کم موجودہ پوزیشن پر تو نہیں ‘‘، ہنستے ہوئے مریم مشتاق بتاتی ہیں: ’’انشاء اللہ آج سے پانچ سال بعد میں خود ملکی سطح پر جانی پہچانی آرٹسٹ کے طور پر دیکھتی ہوں ۔اس کے علاوہ خطے کے دوسرے ملکوں، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں بھی میرا فن جانا پہچانا جائے ۔۔۔ یہ میری خواہش بھی ہے ، ارادہ بھی ۔۔۔ اور اس کے لیے میں کوشش بھی کررہی ہوں ‘‘۔

اب تک میڈیا کو آپ نے نظر انداز کیا ہے حالانکہ آپ کا کام دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کو تو میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہونا چاہیے تھا ؟

’’مجھے اسکرین پر آنا کبھی پسند نہیں رہا ۔ میں سمجھتی ہوں کہ میری شکل کے بجائے میرا کام اسکرین پر دکھایا جائے ۔ میں خود کو ڈسپلے کرنے کے برعکس Behind the screenرہنا پسند کرتی ہوں ۔ ابھی پچھلے دنوں چند فیملی فرینڈز جو الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں، ان کے اصرار پر میں نے کچھ ٹی وی پروگراموں میں بطور مہمان شرکت کی ہے ۔ وہ بھی ان کا کہنا تھا کہ جب فن کی دنیا میں موجود ہیں تو شائقین کو پتہ بھی چلنے دیں کہ مریم مشتاق ایک آرٹسٹ ہیں ، جن کا کام ہر طبقے میں سراہا جاتا ہے ‘‘۔

اس سے کیا Responseملا ؟

’’مجھے بہت اچھا  Responseملا ہے ۔ کافی اداروں کی جانب سے فن پارے خریدے جانے اور ڈسپلے کرنے کی Offersملی ہیں ۔ مجھے اچھا لگا ہے ۔ اس سے پہلے صادقین گیلری میں میرے فن پارے ڈسپلے رہے ہیں اور کئی نمائشوں میں بھی میری پینٹنگز کو نمایاں ڈسپلے ملا ہے ۔ میرا زیادہ تر کام Commisioned workہے ۔ یعنی فرمائش یا آرڈر پر کام کرکے دیتی ہوں ۔ اس کے لیے کافی کلائنٹس موجود ہیں ، جن کا کام مسلسل کرتے رہنا پڑتا ہے‘‘ ۔

اپنی آنے والی کسی ایگزیبیشن سے متعلق بتائیں ؟

’’اس ماہ دبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں میں میرے کام کی نمائش ہوئی ہے ۔ جہاں پینٹنگز ، مکس میڈیا اسکلپچرز لے کرگئی تھی ، اللہ پاک نے امید سے بڑھ کر عزّت بخشی ،اچھا دورہ رہا‘‘ ۔

یہ بتائیں کہ اس فیلڈ میں آنے کے لیے گھر سے کس نے سپورٹ کیا ؟

’’امی نے ۔۔۔ اگر امی سپورٹ نا کرتی تو یہ سب ممکن نہ ہوتا ۔ شروع شروع میں تو وہ چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر و غیرہ بن جائوں لیکن میں زبردستی اس فیلڈ میں گھس گئی ۔ جب امی نے دیکھا کہ میرا شوق ہی نہیں، جنون ہے تو پھر وہ بھی سپورٹ کرنے لگیں ۔ میں آگے بڑھی اور کامیابیاں ملنے لگیں تو پھر ابو نے بھی خوشی کا اظہار کیا ۔ اور اب امی ابو دونوں خوش ہیں میری کامیابیوں سے اور دونوں ہی مجھے آگے بڑھاتے ہیں ۔ مکمل سپورٹ کرتے ہیں‘‘ ۔

آپ یہ بتائیں کہ خود آپ اپنے فن کو As a criticکیسے دیکھتی ہیں ؟

’’میں تو جب بھی اپنے کسی فن پارے کو دیکھتی ہوں تو مجھے کوئی نہ کوئی گنجائش نظر آتی ہے کہ اس کو اس طرح کرلیتی یا اس جگہ پر یوں کرتی تو اور زیادہ بہتر ہو جاتی۔ اس طرح ہر بار مجھے اپنے کام میں بہتری کی نئی گنجائش نظر آجاتی ہے ۔میں اپنے کام سے کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتی ۔ اس حساب سے جب اپنے ہم عمر آرٹسٹس کا کام دیکھتی ہوں تو اس پر بھی مجھے کئی پہلو سے بہتری لانے کے آئیڈیاز سوجھتے ہیں ۔ ایک بات جو عجیب محسوس ہوتی ہے کہ میرا کام دوسرے لوگوں ، یہاں تک ہم عمر آرٹسٹوں کو بہت پسند آتا ہے مگر مجھے ہر بار اپنے کام میں کوئی نہ کوئی کمی محسوس ہوتی ہے‘‘ ۔

رنگوں میں آپ کی Choiceکیا ہوتی ہے ؟ زندگی کو ہلکے اور شوخ رنگوں میں دیکھتی ہوں یا پھر      یاسیت کے گہرے رنگوں کو برتنا پسند کرتی ہیں ؟

’’مجھے اپنے طور پر تو Vibrantکلرز پسند ہیں ۔ ویسے کسی ایک رنگ کی بات کی جائے تو مجھے نیلا (Blue)رنگ بہت پسند ہے۔ یہ مجھے بہت Fascinateکرتا ہے ۔ میں تقریباً ہر پینٹنگ میں اس کو استعمال کرتی ہوں‘‘۔

اس وقت زیادہ تر کس طرح کا کام کررہی ہیں ؟

’’زیادہ تر آج کل پورٹریٹس میں کام کرتی ہوں ۔ لوگوں کی Demandsپر ان کے یا ان کے لیے کسی اور کے پورٹریٹس بناتی ہوں ۔ اس طرح میرا کام عام گھروں تک بھی پہنچ رہا ہے اور شائقین فن کا حلقہ بھی بہت وسیع ہوتا جارہا ہے‘‘ ۔

کچھ آرٹسٹ اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ٹریننگ مراکز میں دوسروں کو سکھاتے ہیں ۔ آپ اس طرح کی کوئی سرگرمی کرتی ہیں ؟

’’میں کچھ ایسے بچوں بچیوں کو سپورٹ کررہی ہوں جو اس فن کی جانب آنا چاہتے ہیں مگر غربت کی وجہ سے Affordنہیں کرپاتے ۔ ایسے چند بچے اور بچیاں میرے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ جن کو میں کلرز ، برش اور کوچنگ فراہم کررہی ہوں اور اس کا رزلٹ بہت اچھا نکل رہا ہے ۔ ہمارے بچوں بچیوں میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر معاشی اور معاشی دبائو کی وجہ سے ان کو مواقع نہیں ملتے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں ۔ ایسے ہی طبقے سے میں نئے آرٹسٹ Exploreکرکے انہیں آگے بڑھانا چاہتی ہوں‘‘۔

Best Of Luckمریم!

’’آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ سے میرے آرٹ سے متعلق گفتگو کے لیے وقت نکالا ‘‘۔

July 27, 2017

صدرالدین ہاشوانی

پاکستان ہمارے بزرگوں کی بیش بہا قربانیوں کا ثمر ہے پاکستان دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے بلند و بالابرف پوش کوہسار وں، سنگلاخ پہاڑوں اورذرخیزی پھیلاتے دریائوں، وسیع و عریض سبزہ زاروں کی یہ سرزمین ایک محنتی قوم کی ملکیت ہے ۔جو اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ مملکت خداداد پاکستان نے کچھ ایسے گوہر نایاب عظیم اور باکمال لوگ پیدا کئے ہیں جو اپنے اخلاق ،محبت ،احساس ،جذبات،رواداری اور وطن سے محبت میںہر دور میں،ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے ہیں ۔یہ لوگ اپنے رو یوں ، کردار،عملی اقدامات اور افکار کا جرأت مندی کے ساتھ اظہار کرتے ہیں ۔ہاشو گروپ آف کمپنیز اور ہاشو فائونڈیشن کے سربراہ صدر الدین ہاشوانی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے یہی لوگ ہمارے لئے عطیات خداوندی سے کم نہیں ، یہی شجر سایہ دارپاکستانی عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں ۔صدرالدین ہاشوانی نے ظلم و جبر اور استحصال کی سفاک طاقتوں کا جرأت اور بہادری سے مقابلہ کیا ۔صدر الدین ہاشوانی حب الوطنی کا ایک مینارہ ہیں۔ان کا مقصد حیات پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور عالمی سطح پر سربلندی ہے ۔

دنیا بھر میں ہو ٹلنگ انڈسٹری کے رہنما ء کی حیثیت سے شہرہ آفاق شہرت رکھنے والے صدر الدین ہا شوانی کی ذات میں سچ گوئی رچی بسی ہے ۔وہ پاکستانی عوام کے لئے درد مند دل رکھنے والے انتہائی مخلص انسان ہیں۔فلاحی کاموں میں ان کی صاحبزادی بھی ان کی ہم قدم ہیں۔ہا شوانی صاحب ملک و قوم کی بہتری کیلئے اپنے جذباتی لگائو سے ایک لمحے کیلئے بھی غافل نہیں رہتے ۔کبھی بھی، کہیں بھی بات اگر ملکی مفاد ات کے خلاف ہو تو ان معاملات پر وہ کسی قیمت پر سمجھو تہ نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں تاخیر نہیں کر تے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔صدرالدین ہاشوانی ذاتی ترقی پر خوش ملک میں رائج جمہوری نظام ،کرپشن اور لوٹ مار اور ملکی ترقی کے سکوت پر افسردہ ہیں۔ بقول ان کے پاکستان نے ہمیں عزت، دولت اور پہچان دی ۔آج وطن کی مٹی ہر پاکستانی سے اپنے قرض کا تقاضا کر رہی ہے ۔میںچاہتا ہوںکہ امید اور رجائیت کی وہ کرن جس سے میرامن منور ہے نوجوانوں کوایک بہتر پاکستان اور روشن مستقبل کی نوید سے ہمکنا ر کرے ۔ایک ایسا بہتر پاکستان جہاں 20کروڑ انسان عادلانہ ،صاف ستھرے اور خوشحال پاکستان کے لئے سرگرم عمل ہوں ،کیونکہ یہ ان کا استحقاق ہے ۔

ما ہنامہ’’ انداز جہاں ‘‘نے ’’ہاشوانی گروپ آف کمپنیز ‘‘اینڈ ’’ہا شو فائو نڈ یشن‘‘ کے روح رواںصدرالدین ہا شوانی سے اپنے قارئین کے لئے خصوصی بات چیت کی ہے ،جو عزم وحوصلے اور مثبت طرز فکر اور کامیاب زندگی کے زریں اصولوں کے علاوہ ان کی زندگی میں دردمندی کے احساسات کو اجا گر کرتی ہے۔

صدر الدین ہا شوانی نے کہا کہ بحیثیت پا کستانی ہمیںیہ بات سوچنی چاہئے بلکہ اپنا محاسبہ بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے جن لو گوں کو منتخب کیا وہ حق حکمرانی رکھتے بھی ہیں یا نہیں ؟کیوں کہ پا کستان کسی ایک شخص کی جا گیر نہیں ہے ۔یہ ملک ،یہاں بسنے والے20کروڑپاکستانیوں  کا ہے اس پر سب کا برابر حق ہے ۔ہمارے یہاں جس طرز حکمرانی کا نا م جمہوریت ہے وہ تجارت کی شکل اختیا ر کر چکی ہے۔ حکمران کرسی حا صل کرنے کیلئے کروڑوں خرچ کرتے ہیں اور اربوں کماتے ہیں ۔اور ملک دن بدن آئی ایم ایف ،ورلڈبینک ،ایشین بینک کے قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جارہا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ملک کو 14,15  صوبوں میںتقسیم کردیا جائے لیکن یہ تقسیم لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہو نی چاہیے اور ان صوبوں کو حکمرانی کے اختیارات دینے چا ہئیں ملک میں رائج موجود ہ سسٹم ناکام ہوچکا ہے۔ آئین کے مطابق سسٹم میںاصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

صدرالدین ہا شوانی نے کہاکہ اس کرپٹ نظام اور حکمرانوں کے خلاف حق اور سچ کی بات کریں تو آپ کو سچ بولنے کی پاداش میں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ میں نے ایک کتاب لکھی (the truth prevails)جس میں نے اس وقت کی حکومت اور سابقہ حکومتوں کا موازنہ کیا ۔جس پر مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملیںاور مجبوراًمجھے فیملی کے ساتھ ملک چھوڑنا پڑا ، یہ میرے سچ بولنے کی سزا تھی۔ بات یہ ہے کہ اگر خطرات آپ کی ذات تک محدود ہوں تو آپ اپنے یقین تک تو اس کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن با ت آپ کے گھرانے تک جانے کا اندیشہ ہوتو پھر سو چنا پڑتا ہے ۔میں نے 6 سال اس ملک کے حکمرانوں کے باعث جلا وطنی میں گزارے اور وہیں سے بیٹھ کر اپنا کاروبار دیکھتا رہا ۔یہ بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ اگر میں چاہتاتو وہاں اپنا مکان لے سکتا تھا لیکن میں نے یہ عرصہ کرائے کے مکان پرگذارا ،میرا ایمان ہے کہ پا کستان میرا وطن ہے میں نے پاکستان میں جنم لیا اور زندگی کی آخری سانس بھی یہیں لوں گا پاکستان نے مجھے سب کچھ دیااور آج میں جو کچھ بھی ہوں پاکستان کی بدولت ہوں ۔ مجھے افسوس ا س بات کا ہے کہ پاکستان میں میرے نہ ہونے سے ہاشوفائونڈیشن کا رفاہی کا م متاثر ہوا بہرحال میری بیٹی اب اس پر تیزی سے کام کررہی ہے جو زر کثیر سے ہاشو فائونڈیشن کے کام کو از سرے نو دیکھے گی اور فعال کرے گی ۔

صدرالدین ہاشوانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا انحصار تعلیم اور صحت کے مضبوط ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنی ہی فکر کی اور کبھی عوامی مفادات کے با رے میں نہیں سوچا ،آپ خو د دیکھیں ہمارے یہاںنظام تعلیم کہاں کھڑا ہے ؟ صحت کے شعبے میں آپ نے کون سے کا رنا مے انجام دیئے ہیں ؟ ہما رے یہا ں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نو جوانوں کی جو کھیپ تیا ر ہو رہی ہے ہم انہیں کہا ں ایڈ جسٹ کریں گے ؟اس کیلئے ہم نے کون سے اقدامات کئے ہیں ؟لا زمی بات ہے کا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا جب ان نو جوانو ں کو اپنے ملک میں کام کرنے کے مواقع میسر نہیں آئیں گے تو ہمارایہ قیمتی اثاثہ دیگر ممالک کا رخ کرے گااور ہم ان کی اعلیٰ صلاحیتوں سے استعفادہ  حاصل نہیں کر سکیں گے ۔

انتخابی مہم اور انتخابی نظام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ دھاندلی کا ایک مضبو ط اور منظم سسٹم ہے جس میں ایک شخص قبل از وقت بتا سکتا ہے کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گااور پانچ سال کیلئے حکمرانی کا حق کس کے حصے میں آئیگا ۔ہما رے یہاں جمہوریت کی شکل میں صلاحیتوں اور وسائل کابے دریغ زیاںہوتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں بد قسمتی سے جاگیر دارانہ نظام آج بھی زندہ اور قائم ہے ایسے الیکشن جس کے نتائج سے ہر شخص پہلے سے ہی آگاہ ہو بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جس الیکشن کے نتائج پہلے سے ہی مرتب کر لئے جائیں ایسا نظام سرمائے اور وقت کازیاں ہے صدرالدین ہاشوانی نے زور دیکر کہا کہ پاکستان میں جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے ہمارے یہاں سیاست ایک

منا فع بخش کا روبار بن چکی ہے ۔ سیا ست کے اس کا روبارمیں لو گ ننگے پائوں آتے ہیں اور ارب پتی بن جا تے ہیں اس بارے میں آپ کو اپنی ایک مثال بتاتا ہوں 1977کی بات ہے الیکشن میں میرا عزیز اُمید وار تھا میں اس کے لئے اپنا ووٹ کا سٹ کرنے گارڈن کراچی کے علاقے میںواقع پولنگ اسٹیشن گیا وہاں طویل قطار لگی ہوئی تھی خیر میں بھی لا ئن میں کھڑا ہو گیا لیکن جب میری باری آئی توپولنگ افسر نے بتایا کہ آپ کا ووٹ تو کا سٹ ہو چکا ہے اس کے بعد میں کبھی و وٹ ڈالنے نہیں گیا ہاشوانی صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری سسٹم بنیا دی طور پر ایک ایسا دھوکا ہے جس میں حکومت ملک اور عوام کے سا تھ فراڈ کر تی ہے اور اس کیلئے اپنا کھیل کھیلتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں جمہوریت ایسی طرز حکمرانی کا نام ہے جوعوام کیلئے ،عوام کے ذریعے اور عوام کی ہو تی ہے لیکن ہمارے یہاں یہ چند رئیس شخصیا ت اور خا ندانو ں کی میراث بنی ہوئی ہے جو اس سے پو را پورا فائدہ اٹھا تے ہیں ۔اپنی جیبیں بھر تے ہیںان کی تمام تر توجہ اپنی جا ئیدادیں بڑھا نے پر مرکو ز ہو تی ہے ۔

صدرالدین ہاشوانی نے کہا پاکستان کے حالات ساز گار ،حکمرانوں کے عزائم مخلصانہ اور اقدامات عوام دوست اور ریاست نواز ہوتے توا س مملکت کے عوام کی زندگی دیگر ترقی یافتہ مما لک کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسودہ اور خوشحال ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی بھی صورتحال خوشگوار نہیں رہی اور اسکی بنیادی وجہ کرپشن ہے انہوں نے کہاکہ میرا ایمان ہے کسی بھی ملک کی ترقی خوشحالی کا انحصار شفافیت پر ہوتا ہے۔شفافیت ہی کی کوکھ سے تعلیم ،صحت ، ترقی اورخوشحالی کے فروغ کے مواقع جنم لیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاستدان موت کو بھول چکے ہیں ان کے دل سے اللہ پر یقین بھی ختم ہو چکا ہے اور خوف خدا نام کی کوئی چیز ان کے پا س باقی نہیں رہی کیونکہ اگر ان کے دل میں اللہ اور موت کا یقین ہو تا تو یہ عوامی خدمت کو اپنا شعار بناتے ۔

ایک سوال کے جواب میں صدرالدین ہا شوانی نے کہا کہ بحالت مجبوری مجھے 6سال بچوں کے سا تھ دبئی میں رہنا پڑا لیکن میرا دل پاکستان میں لگا ہوا تھا۔ دبئی میں قیام کے دوران میںکئی مرتبہ پا کستان آیا اور اپنے ہی ہو ٹل میں ٹھہرا بہر حال میں مستقل طور پر پا کستان آگیا ہوں انہوں نے بتایا کہ ان کے پا کستان میں قیام کے دوران میر پور آزاد کشمیر کے کمشنر صاحب نے مجھ سے میر پور میں ایک ہو ٹل کی تعمیر کی درخواست کی تھی جس پر میں نے ہوٹل کی تعمیر کا کا م شروع کیا تھا لیکن پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی حکو مت کی جانب سے اچانک تعمیر کا کام رکوادیا گیا ایسا اس وقت کیا گیا جب ہوٹل کی نہ صرف بیسمنٹ مکمل ہو چکی تھی بلکہ تعمیر کا کا م آخری مراحل میں تھا جس کے نتیجے میں دوسال تک ہو ٹل کا کام رکا رہا۔ ہا شوانی نے کہا کہ میں نے زندگی میں ہمیشہ سچ بولا ہے اور آخری سانس تک اپنے اس اصول پر کا ر بند رہوں گا ۔ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیںڈرتا ،بچپن میں ماں کی طرف سے سچ مجھے وراثت میں ملا اور بچپن ہی سے سچ بولنا میری سرزشت میں شامل ہے ۔چاہے کوئی میری تعریف کرے یا برائی کرے میری زندگی کا ایک یہ بھی اصول رہا ہے کہ میں نے دولتمند اور با اثر افراد کے مقابلے میں ہمیشہ غریب لو گوں کا سا تھ دیا ہے اوردیتا رہوںگا۔

ایک سوال کے جواب میں ہا شوانی صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں مستقل سکونت کے بعدحیدر آباد ،ملتان اور میر پور خاص میں چار نئے ہوٹل بنانے کا منصوبہ بنا یا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں ایسا کیوںنہ کروںیہ دولت میں نے پا کستان سے کمائی ہے اسے پا کستان میں بہتری پر ہی خرچ کروں گا میں نے اپنا سب کچھ پا کستان کیلئے وقف کیا ہے اور ایسا کر کے ہی میںاپنے ضمیر کے سامنے سر خرو ہو سکتا ہوں

ملک میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جناب صدر الدین ہاشوانی کا کہناتھا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ حکومت بجلی ، گیس اور تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے موجو د قدرتی وسائل سے استعفادہ کیو ں نہیں کرتی ۔آخر حکو مت ان لا زمی اور بنیا دی اشیا ء کے حصول کیلئے برآمدات پر انحصار کیوں کئے ہوئے ہے ۔حالانکہ پا کستان کی سر زمین لامحدود قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔پاکستان اللہ کی جانب سے ہمیں دیا گیا ایسا تحفہ ہے جس میں چار خو بصور ت موسم ہیں ۔اس کے علاوہ شفاف چشمے،نہری نظام اور دریا ہیں ہمارے پا س سمندر اور ساحل ہے ،دنیا کے دو بلندترین پہا ڑ کے ٹو اور ہمالیہ پاکستان میں ہیں اور محنت و مشقت کرنے والی جفا کش قوم ہے لیکن با ت یہ ہے کہ ہم کر کیا سکتے ہیں ؟ہم تو صرف کہہ ہی سکتے ہیں کیوں کے ہم نے خو د ایسے نہ اہل لوگوں کو منتخب کیا جو صرف اقتدار کے مزے لو ٹ رہے ہیں ۔

ہا شوانی صاحب نے کہا کہ سیاست دانوں سے تنگ ،دہشت گردی کرپشن ،لوٹ مار ،بے روزگار ی اور مصائب کے ڈھیر پر بیٹھی قوم کے لئے پاک فو ج امید کی آخری کرن ہے پاک فوج ہی ملک میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے اور کر رہی ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس ضمن میں ایسے کئی انقلابی اقدامات کئے ہیں جن پر میں ان کو سیلوٹ کر تا ہوں انہوں نے نظام کو منظم اور موثر بنانے کے لئے جو قدم اٹھایا ہے فوج ہی وہ واحداورمنظم ادارہ ہے جس کے پا س ذرائع اور عمل در آمد کرنے کیلئے افواج پا کستان کی صورت میں با ہمت اور با عمل افراد پر مشتمل ٹیم مو جو د ہے اگر ہمارا عدالتی نظام بھی فوج کی طرح مظبوط اور مو ثر ہوجائے تو پاکستان ترقی کی منازل بڑی تیز ی سے طے کر سکتا ہے ۔

نو جو انوں کیلئے اپنے پیغام میں ہا شوانی صاحب کا کہناتھا کہ آج کی نوجوان نسل پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔مو جو دہ صورتحال میں کسی مرحلے پر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہو تا ہے کہ ہماری نو جو ان نسل اس قدر ذہین اور طاقتور ہے مگر بد قسمتی سے انہیں اپنے جو ہر دکھا نے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے پاک فوج کے سربرا ہ جنرل راحیل شریف نے روشن پاکستان کی بنیاد ر کھ دی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کا مستقبل تابنا ک ہے ۔