July 26, 2017

تشویشناک خبر‘دنیا میں انسان کی معدومیت کا خطرہ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے مردوں میں سپرم یعنی نطفوں کی تعداد میں کمی حالیہ رفتار سے جاری رہی تو انسان معدوم ہو سکتا ہے۔محققین نے 200 الگ الگ تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ان خطوں میں مردوں کے نطفوں کی تعداد آئندہ 40 سال سے بھی کم عرصے میں موجودہ تعداد سے نصف رہ جائے گی۔تاہم ہیومن رپروڈکشن اپ ڈیٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو کچھ ماہرین قابل بھروسہ نہیں مانتے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ہاگائی لیون نے کہا ہے کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے، وہ اس حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ماہرین نے یہ اندازہ 1973 سے 2011 کے دوران ہونے والے 185 مطالعوں کے نتائج کو سامنے رکھ کر لگایا ہے۔ڈاکٹر لیون جو کہ وبائی امراض کے ماہر ہیں نے گفتگو میں بتایا کہ اگر یہی رحجاجن رہا تو انسان معدوم ہو جائیں گے۔جو سائنس دان اس تحقیق میں شامل نہیں تھے اس ریسرچ کی کوالٹی کی تعریف تو کرتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ شاید ابھی اتنی پختہ نہیں ہے۔یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر لیون یورپ، شمالی امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مردوں کے نطفوں کی کل تعداد میں 59 اعشاریہ تین فیصد کمی دیکھی۔اس کے مقابلے میں جنوبی امریکہ، ایشیا اور افریقہ میں مردوں کے نطفوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی تاہم تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ ان خطوں میں بہت کم اس قسم کی ریسرچ کی گئی ہے۔گذشتہ تحقیقات میں معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں نطفوں میں تیزی سے کمی کے ایسے ہی اشارے ملتے ہیں لیکن اس سے انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ وہاں بہت زیادہ آبادی ایسی تھی جو نقائص کا شکار تھی۔ مثلاً وہاں ریسرچ میں شامل کیے جانے والے مردوں کی تعداد یا تو بہت کم تھی یا پھر ایسے مردوں کو لیا گیا جو پہلے ہی اپنے علاج کے لیے کلینک جاتے تھے۔یہ بھی کہا گیا کہ اس قسم کی تحقیق کو سائنسی جرنل میں شائع ہونا چاہیے تھا۔ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ پہلے پہل سپرم کی تعداد معلوم کرنے کے طریقے میں شاید انھیں اصل تعداد سے کئی زیادہ گن لیا جاتا تھا۔

July 26, 2017

جھگڑالو بیوی اور پالتو کتا، شادی شدہ حضرات ایک بار ضرور پڑھیں

کراچی جدت ویب ڈیسک میں دوپہر کو پورچ میں بیٹھا تھا کہ اس دوران ایک السیشن نسل کا خوبصورت لیکن انتہائی تھکا ماندہ سا چھوٹا کتا کمپاؤنڈ میں داخل ہوا، اس کے گلے میں پٹہ بھی تھا، میں نے سوچا ضرور کسی اچھے گھر کا پالتو کتا ہے ، میں نے اسے پچکارا تو وہ پاس آ گیا،میں نے اس پر محبت سے ہاتھ پھیرا تو وہ دم ہلاتا وہیں بیٹھ گیا،بعد میں میں جب اٹھ کر اندر گیا تو وہ کتا بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں چلا آیا اور کھڑکی کے پاس اپنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا اور میرے دیکھتے دیکھتے سو گیا،میں نے بھی کمرے کا دروازہ بند کیا اور صوفے پر آن بیٹھا، تقریبا ایک گھنٹے نیند کے بعد کتا اٹھا اور دروازے کی طرف گیا تو اٹھ کر میں نے دروازہ کھول دیا، وہ باہر نکلا اور چلا گیا،اگلے دن اسی وقت وہ پھر آ گیا، کھڑکی کے نیچے ایک گھنٹہ سویا اور پھر چلا گیا_اس کے بعد وہ روز آنے لگا، آتا، سوتا اور پھر چلا جاتا،میرے ذہن میں تجسس دن با دن بڑھتا ہی جا رہا تھا کہ اتنا شریف، سمجھدار اور پیار کرنے والا کتا آخر ہے کس کا اور کہاں سے آتا ہے ؟ایک روز میں نے اس کے پٹے میں ایک چٹھی باندھ دی، جس لکھ دیا: آپ کا کتا روز میرے گھر آکر سوتا ہے ، یہ آپ کو معلوم ہے کیا؟اگلے دن جب وہ پیارا چھوٹا سا کتا آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پٹے میں ایک چٹھی بندھی ہوئی ہے ، اس کو نکال کر میں نے پڑھا،اس میں لکھا تھا: یہ بہت اچھا پالتو کتا ہے ، میرے ساتھ ہی رہتا ہے لیکن میری بیوی کی دن رات کی جھک جھک، بک بک کی وجہ وہ سے سو نہیں پاتا اور روز ہمارے گھر سے کہیں چلا جاتا ہے ،اگر آپ اجازت دے دیں تو میں بھی اس کے ساتھ آ سکتا ہوں کیا۔

July 26, 2017

ظالمو۔۔۔۔کچھ شرم کرو

کراچی جدت ویب ڈیسک سردار اپنے خاندان کے ساتھ ٹرین میں جا رہا تھا،دورانِ سفر ایک باڈی بلڈرنما پہلوان سے لڑائی ہو گئی،پہلوان نے سردار کے گال پہ زور سے تھپڑ مارا،سردار – میری تو کوئی بات نہیں، لیکن میرے بھائی کو مارا تو پھر دیکھنا -پہلوان نے بھائی کے منہ پر بھی زور سے مکہ مار دیا -سردار – تو نے اگر میرے بیٹے کو ہاتھ بھی لگایا پھر تیری خیر نہیں -پہلوان نے بیٹے کو بھی اٹھا کے پرے پھینک دیا -سردار اب غصے سے بولا – میری بیوی کو کچھ کہا تو تجھے مجھ سے کوئی نہیں بچا پائے گا -پہلوان نے بیوی کو بھی چٹیا پکڑ کے سیٹ سے نیچے گرا دیا -اب سردار خاموشی سے سیٹ پر بیٹھ گیا،تھوڑی دیر بعد جب اسٹیشن سے اترے تو ایک آدمی بولا -سردارجی ، یہ بات آپ کے تھپڑ پر ہی ختم ہو سکتی تھی ، لیکن آپ نے پہلوان کو چھیڑ کر پورے خاندان کو پٹوا دیا -سردار – بھائی تم نہیں سمجھو گے ، اگر میں اکیلا پِٹتا تو یہ سب گھر جا کر میرا مذاق اڑاتے ۔
نوٹ :- شریف خاندان سے مماثلت اتفاقیہ سمجھی جائے ۔

July 26, 2017

ماں مرگئی اور۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔داستان پڑھیے

جدت ویب ڈیسک :اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے جسم کی ، میرے اندر کا شیطان پوری طرح جاگ چکا تھا جب میں کمرے میں اس کے پیچھے داخل ہوا وہ برقعہ پہن رہی تھی مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کر کے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں اس کی جانب بڑھا، اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور وہ برقعہ پہن رہی تھی۔ پاس جا کر جب میں نے اسے پکارا تو وہ میری طرف مڑی۔ اسکا چہرہ آنسووں سے تر اور برف کی مانند ایسے سفید تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں چکرا سا گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟وہ ایسے کیوں رو رہی ہے؟ میری طرف دیکھتے ہوئے وہ چند لمحے خاموش رہی اور میرے دوبارہ پوچھنے پر گھٹی گھٹی آواز میں بولی “ماں مر گئی۔” “کیا؟” جب مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے دوبارہ بولی کہ “آج میری ماں مر گئی۔” اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میری شیطانی ہوس، جس کو پورا کرنے کے لیے میں اس کی جانب آیا تھا، مجھ سے میلوں دور بھاگ گئی۔ “تو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” میں نے غصے اور حیرت سے اس سے پوچھا۔ ” کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ اس لئے میں مجرا کرنے آئی تھی۔ مگر نائیکہ آج پیسے ہی نہیں دے رہی۔ کہتی ہے بہت مندی ہے۔ تماش بین کوٹھے پر نہیں آتے۔ جو آتے

July 25, 2017

اب پاکستان میں ادویات اپنا اتا پتا بھی بتائیں گی،کیسے؟ جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان میں پہلی بار ادویات کے ڈبوں پربارکوڈ لگادیے گئے جس سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیاہے جہاں تمام ادویات پر بار کوڈز لگائے گئے ہیں۔اس ضمن میںوزارت قومی صحت کے ذرائع نے بتایاکہ پاکستانی دوائو ںکی برآمد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی بار دوائوں کی پیکنگ کے پیکٹس اور ڈبوں پر بار کوڈز لگائے گئے ہیںجس سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں پر بین الاقوامی مروجہ بہترین پریکٹس جاری ہے اور اس سے ملکی برآمدات میں تیزی آئی ہے، اس اقدام سے نہ صرف مریضوں کو معیاری دوائیں دستیاب ہوںگی بلکہ اس سے جعلی دوائوں کا بھی خاتمہ ہو گا۔حکام نے کہاکہ موجودہ حکومت کے دور میںدوائوں کے ریگولیٹری نظام میں بہتری آئی ہے اور4سال کے دوران دواسازی کے شعبے میں ترقی ہوئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ادویہ سازی کی قومی صنعت وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان دوائوں کی برآمد کے اہداف پورے کرنے میں ہماری شراکت دار ہے اور یہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ 40 ممالک کو معیاری دوائیں کی برآمد کا ہدف موثر طور پر پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی)اور انڈسٹری کی استعداد کار میں اضافہ کے لیے صحت کے عالمی ادارہ اور ایس پی جیسے شراکت ا داروں کے اشتراک سے2سال کے دوران متعدد تربیتی ورکشاپس اور سیمینار ز منعقد کرائے گئے جن میں دوا سازی سے متعلقہ 500 افراد نے تربیت حاصل کی، پاکستان سے دواں کی برآمد میں اضافہ ہوا جو کہ ماضی میں کم ہو گیا تھا،ڈریپ نے رجسٹریشن کیلیے تیز تر سسٹم متعارف کرایا ہے جس کے تحت اب رجسٹریشن کی درخواستیں 2روزکے اندر اندر نمٹا دی جاتی ہیں۔

July 25, 2017

گردوں کے عارضے سے بچنا اب ممکن !!!

کراچی جدت ویب ڈیسک گردوں کے امراض سے بچنا اب بہت آسان، یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور تیزابیت کی سطح کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں تاہم دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی کا استعمال گردوں کے امراض کے نتیجے میں موت کے خطرے کو ٹال سکتا ہے۔ڈربی رائل ہسپتال کی ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی کے نتیجے میں گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے، ایسے افراد کی زندگی بچنے کا انحصار گردوں کی پیوند کاری پر ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو دور کرنا گردوں کے امراض سے تحفظ دینے کا آسان طریقہ ہے خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کسی شخص کو معمول سے کم پیشاب آرہا ہو، قے و متلی، معدے میں درد، ذہنی الجھن اور چکر وغیرہ جیسی علامات کا سامنا ہو تو یہ گردوں کے امراض کی علامات ہوسکتی ہیں۔