January 8, 2021

وزن کم کرنے کا آسان ٹوٹکا،پانی سمیت چار چیزیں درکار

ویب ڈیسک ::مٹاپا یا اضافی وزن کا شکار افراد مشکلات اور کئی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں، چند لوگ اس سے نجات پانے کے لیے سر توڑ کوشش بھی کرتے ہیں مگر انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملتی۔
مٹاپے کو کم کرنے کے لیے متاثرہ افراد ڈائٹنگ، ادویات کا استعمال اور سخت ورزش بھی کرتے ہیں مگر ایک وقت بعد وہ تھک ہار کر دوبارہ اپنے معمول پر آجاتے ہیں۔نہ ڈائیٹنگ نہ ورزش، ایک ماہ میں‌وزن کم کرنے کا آسان ٹوٹکا
نوٹ: ذیابیطس یا دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد اپنے طبیب سے مشورے کے بعد ٹوٹکا آزمائیں۔
آج ہم آپ کو بتارہے ہیں ایک مہینے میں تقریباً 18 سے 20 کلو گرام تک وزن کم کرنے کا آسان اور آزمودہ ٹوٹکاجسے آپ گھر میں تیار کر کے استعمال کرسکتے ہیں۔
آپ کو اس کے لیے کوئی لمبی چوڑی فہرست کی ضرورت نہیں بلکہ پانی سمیت چار چیزیں درکار ہوں گی۔
اجزا
ایک چمچ تخم بالنگا
ایک لیموں (جوس نکال لیں)
ایک چمچ شہد
ڈیڑھ گلاس پانی
طریقہ
تخم بالنگا کو ایک گھنٹے تک پانی میں بھگو ئیں اور پھر اسے ڈیڑھ گلاس پانی میں ڈال دیں۔
پھر اس میں لیموں کا رس ملائیں ، بعد ازاں اس میں شہد شامل کریں۔
اب ان تمام چیزوں کو گرینڈر میں ڈال کر مزید پانی شامل کریں اور اسے اچھی طرح سے پیس لیں تاکہ تمام چیزیں مکس ہوجائیں اور یہ جوس کی طرح بن جائے۔
طریقہ استعمال
روزانہ صبح ناشتے سے پہلے اسے نوش فرمائیں۔ جس سے نہ صرف وزن میں تیزی سے کمی ہوگی بلکہ آپ کا میٹابولزم بھی تیز ہوگا۔

January 8, 2021

پھٹکری: جلدکی بیماریوں میں‌ مددگار

ویب ڈیسک ::پھٹکری ، حیرت انگیز خصوصیات کی حامل ہوتی ہے اور اس کے کئی فوائد ہیں۔جس سے گھروں میں ایک عام استعمال پانی صاف کرنے کے لیے کیا جا تا ہے،جلد کی صحّت و صفائی اور نکھار میں‌ مددگار :یہ کیمیائی مرکّب ہے جو جراثیم کُش ہی نہیں‌ بلکہ صحّت و صفائی اور خوب صورتی کے لیے بھی مفید ہے۔ خاص طور پر خواتین کو کئی جھنجھٹوں سے نجات دلا سکتی ہے اور اس کا استعمال انھیں مختلف جلدی مسائل سے بھی بچاتا ہے۔ اکثر خواتین تھریڈنگ، ویکسنگ کے لیے پارلر کا رُخ کرتی ہیں تاکہ چہرے کے بالوں سے نجات حاصل کرسکیں، لیکن گھر ہی میں پھٹکری کا مخصوص طریقے سے استعمال کریں تو یہ ان بالوں کا مستقل خاتمہ ہی نہیں‌ کرتی بلکہ انھیں صاف ستھری اور بے داغ جلد بھی دیتی ہے۔
اس کے لیے پھٹکری پیس کر روزانہ اتنی ہی مقدار میں پانی میں گھول کر روئی کی مدد سے چہرے پر لگانی چاہیے۔ ہفتے میں کم از کم تین بار ایسا کرنے چہرے پر بالوں کی افزائش کم ہو گی۔
کیل مہاسوں اور دانوں سے پریشان خواتین پھٹکری کو پیس کے پانی میں شامل کرلیں اور پھر اسے دانوں اور کیل مہاسوں پر تقریباً بیس منٹ تک لگا رہنے دیں تو ان سے نجات ممکن ہے۔ تاہم ہر جلد پر یہ ٹوٹکا کارگر ثابت نہیں‌ ہوتا اور تکلیف ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس عمل میں‌ احتیاط چاہیے۔ اگر پھٹکری لگانے پر آپ کو جلد پر جلن کا احساس ہو تو چہرہ دھو لیں اور اسے آئندہ نہ آزمائیں۔
اسی طرح پھٹکری کا ایک چھوٹا ٹکڑا جھریوں سے نجات دلا سکتا ہے جسے گیلا کر کے آہستگی سے چہرے پر رگڑنا ہو گا۔ اس کے بعد عرقِ گلاب سے چہرہ دھو کر موسچرائزر استعمال کرلیں۔
پسی ہوئی پھٹکری جلدی بیماری داد اور چنبل کا علاج بھی ہے۔ اسے پانی یا سرکے میں ملا کر صبح شام متاثرہ ‌حصّے پر لگانے سے داد اور چنبل سے نجات مل سکتی ہے۔
سردیاں زورو‌ں پر ہیں اور ہر چھوٹا بڑا سَر میں خُشکی سے پریشان ہے۔ اگر سَر میں خشکی ہے تو شیمپو کے ساتھ ایک چٹکی پھٹکری اور نمک شامل کرکے سَر دھو لیا جائے تو خشکی سے نجات مل جائے گی۔
پھٹکری باآسانی بازار سے مل جاتی ہے اور عام دست یاب ہے۔ یہ سفید رنگ کی ڈَلیوں کی صورت میں ہوتی ہے جس کے چند فوائد ہم نے بتائے ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ یہ ایک کیمیائی عنصر ہے، جسے غیرمستند اور ناآزمودہ ٹوٹکے یا طریقے سے استعمال کرنے سے آپ کسی جسمانی تکلیف اور جلدی مسئلے کا بھی شکار ہو سکتے ہیں اور معالج کی ہدایت کے بغیر ایسے ٹوٹکے آزمانے سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کوئی بھی ٹوٹکا اور ایسا نسخہ آزمانے سے پہلے ماہر معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہوگا۔

10 Minute Skin Brightening Technique To Remove Tanning From Fitkari Alum

15 Alum powder Uses and benefits for skin, hair and health | Natural remedies for pimples, Alum powder, Pimples remedies

January 8, 2021

کیا مونگ پھلی سے بھی الرجی ہوسکتی ہے؟مونگ پھلی کی الرجی نہایت احتیاط کی متقاضی،بچاو کیسے ممکن؟

ویب ڈیسک ::سعودی ویب سائٹ پر شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق حال ہی میں بچوں میں مونگ پھلی کی الرجی یا اینفیلیکسس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ماہرین کے مطابق بالغ افراد یا بچوں میں مونگ پھلی سے الرجی ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔مونگ پھلی کی الرجی نہایت احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے، اس کی معمولی سی مقدار بھی خطرناک ردعمل کا باعث بن سکتی ہے اور الرجی کا حملہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔
اس کی حساسیت اگر ہلکی بھی ہو تو اس کا خطرہ مستقبل میں زیادہ ہوسکتا ہے۔
اینفیلیکسس کی علامات
شدید الرجی یا اینفیلیکسس ایک ہنگامی صورتحال ہے، اس کی علامات میں گلے میں سوجن جو سانس لینا دشوار کر دے، بلڈ پریشر میں شدید کمی (جھٹکا)، تیز نبض اور چکر آنا یا ہوش ختم ہونا شامل ہیں۔
وجوہات
مونگ پھلی کی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کا مدافعتی نظام غلطی سے مونگ پھلی کے پروٹین کو کسی نقصان دہ چیز کے طور پر شناخت کرتا ہے۔
مونگ پھلی کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ رابطے مدافعتی نظام کو خون کے دھارے میں روگسوچک کیمیکلز جاری کرنے کا سبب بنتے ہیں، مونگ پھلی کے نقصانات مختلف طریقوں سے ہوسکتے ہیں۔
مونگ پھلی یا اس میں شامل کھانے کی اشیا سے براہ راست رابطہ، کبھی کبھی جلد سے براہ راست رابطہ الرجک رد عمل کو متحرک کرسکتا ہے، مونگ پھلی کا آٹا یا کھانا پکانے کے دوران اس کا تیل استعمال کرتے وقت سانس لینے کی صورت میں بھی الرجک ردعمل ہوسکتا ہے۔
مونگ پھلی کی الرجی میں خطرے کے عوامل مندرجہ ذیل ہیں۔
بچوں میں خاص طور پر نوزائیدہ بچوں میں کھانے کی الرجی زیادہ پائی جاتی ہے۔ جیسے جیسے آپ کی عمر بڑھتی ہے، آپ کا نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور آپ کے جسم میں ایسی کھانوں پر رد عمل ظاہر کرنے کا امکان کم ہوتا ہے جو الرجی کا باعث بنتے ہیں۔کچھ بچے بڑے ہوتے ہی مونگ پھلی کی الرجی سے چھٹکارا پاتے ہیں تاہم اس کا امکان بھی موجود ہے کہ بالغ ہونے کے بعد یہ دوبارہ ہوجائے۔
اگر کسی کو پہلے ہی ایک کھانے سے الرجی ہے تو دوسرے کھانے سے الرجی پیدا ہونے کا زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے، اسی طرح الرجی کی ایک اور قسم کا ہونا، جیسے بخار وغیرہ کھانے کی الرجی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
بچاؤ کیسے کیا جائے؟
حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اس بات کی تصدیق کے مضبوط ثبوت موجود ہیں کہ 4 سے 6 ماہ کی عمر میں خطرے سے دو چار بچوں کی خوراک میں مونگ پھلی شروع کرنے سے کھانے کی الرجی پیدا ہونے کے خطرے میں 80 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔مونگ پھلی کی الرجی پیدا ہونے کا خطرہ ان بچوں میں ہوتا ہے جو ہلکے سے شدید ایگزیما، انڈے کی الرجی یا دونوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے بچے کی غذا میں مونگ پھلی شامل کرنے سےقبل اپنے بچے کے ڈاکٹر سے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کرلیں۔
مونگ پھلی سے الرجی کا شکار افراد کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کے کھانوں میں مونگ پھلی نہ ہو، پروسسڈ شدہ کھانے کی اشیا پر ہمیشہ لیبل پڑھیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان میں مونگ پھلی یا ان کی کوئی مصنوعات نہ ہو۔
علامات
مونگ پھلی کھانے کے کچھ دیر بعد اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے، اس کی ممکنہ طور پر یہ علامات ہوسکتی ہیں۔
مونگ پھلی کے کھانے سے جلد پر خارش، سرخ پن یا سوجن ہو جاتی ہے، منہ اور گلے یا ان کے آس پاس خارش بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسہال، پیٹ میں درد، متلی یا قے کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔
مونگ پھلی کھانے سے گلے میں تنگی محسوس ہوتی ہے، سانس میں تکلیف بھی ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے کھانے سے ناک کے بہنے کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔

January 6, 2021

طبّی فوائد سے مالا مال ایلوویرا کی افادیت جانیے

ویب ڈیسک ::ایلوویرا ہمارے لیے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔جسے کوار گندل بھی کہتے ہیں، یہ جڑی بوٹی طبّی فوائد سے مالا مال ہے۔ اس سے علاج اور ادویہ تیّار کی جاتی ہیں۔
یہ نباتی خزانہ وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، ای اور مختلف اقسام کے وٹامن بی کے علاوہ پروٹین، امائینو ایسڈز، فولک ایسڈ اور کیلشیم، میگنیشیئم، زنک، آئرن، کاپر وغیرہ شامل ہیں جو نمکیات کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور ہماری مجموعی صحّت کے لیے مفید ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق اس جڑی بوٹی کو ہاضمے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا رس نکال کر روزانہ استعمال کرنے سے نظامِ ہاضمہ میں بہتری آتی ہے اور پیٹ کے متعدد امراض سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
ایلوویرا زمانہ قدیم ہی سے طب و صحّت کے حوالے سے مشہور ہے اور انسان کے زیرِ استعمال رہا ہے۔ اسے اپنے وقت کے طبیب اور حکما مختلف طریقوں سے علاج اور صحّت و تن درستی کے لیے تجویز کرتے رہے ہیں۔ اسے کھایا بھی جاتا ہے اور اس کا رس نکال کر بھی پیتے ہیں۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں‌ کہ وٹامنز اور منرلز ہمارے جسم کی اہم ضرورت ہیں‌ اور ان کی کمی اور جسم میں ان کا عدم توازن مختلف طبی مسائل اور امراض کا سبب بنتا ہے۔ ایلوویرا کا جوس وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت ایلوویرا کا جوس پینے سے کئی ایسے جراثیم کا خاتمہ ہوجاتا ہے جو خون کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ایلوویرا ہمارے جس میں خون کی کمی دور کرنے میں بھی مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطبق یہ جگر کی خرابی میں بھی مفید ہے۔ اسے یرقان کے مریض دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ایلوویرا کا جوس جسم کی قوّتِ مدافعت بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم اس جڑی بوٹی کا علاج اور امراض سے نجات کے لیے استعمال یا طریقہ اور اس کی خوراک وغیرہ کسی مستند اور ماہر معالج، طبیب کی ہدایت کے مطابق کرنا چاہیے۔ صحّت اور علاج معالجے کے لیے کسی بھی جڑی بوٹی اور دوا کا ازخود استعمال اور اس کی زیادہ مقدار یا خوراک نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

Know About the endless benefits of aloe vera!

Benefits of Aloe Vera | Aloevera Benefits | Steadyrun | Health, Aloe vera, Aloe vera juice

January 4, 2021

حکومت کا 11 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے 11 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس جاری ہے۔ صوبائی وزرا تعلیم اور دیگر حکام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے اور وزارت صحت کے حکام کورونا کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزارت صحت کی سفارش کی روشنی میں تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولے جائیں گے جب کہ یکم فروری سے یونیورسٹیز کھولی جائیں گی۔ اجلاس میں مئی کے آخری ہفتے اور جون کے ابتدائی ایام میں ہونے والے بورڈ امتحانات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ موسم سرما و گرما کی چھٹیوں میں کمی پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے نئے تعلیمی سال 2020-21 اگست 2021 میں شروع کرنے کا بھی جائزہ لیا اور قومی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔

January 4, 2021

تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھلیں گے یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

اسلام آباد ویب ڈیسک ::: تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولنے یا نہ کھولنے کا فیصلہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم آج کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے کی تعلیمی ادارے 11 جنوری سے نہ کھولنے کا عندیہ دیا تھا تاہم تعلیمی ادارے کب کھلیں اس کا فیصلہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم آج ہونے والے اجلاس میں کریں گے۔اجلاس میں صوبائی وزرائے تعلیم و دیگر حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے اور تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق حتمی مشاوت ہوگی۔
اجلاس کے دوران اسکول اور بورڈ امتحانات مئی کے آخری ہفتے اور جون کے شروع میں منعقد کرنے پر بھی مشاورت کی جائے گی اور اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو بھجوائی جائیں گی۔بہار اور گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی پر بات بھی ایجنڈے کا حصہ ہے جبکہ نیا اکیڈمک سال اگست میں شروع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کا ہے کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے منعقد ہونے والی اجلاس میں کرونا کی تازہ صورتحال بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔