May 16, 2020

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار غذائیں کونسی ہیں ؟

جدت ویب ڈیسک ::مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار غذائیں کونسی ہیں ؟۔۔نئے نوول کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ آپ سوچتے ہوں کہ اس صورتحال میں خود کو صحت مند کیسے رکھیں؟ کیا کوئی ایسی جادوئی چیز ہے جو آپ کو اس سے بچاسکتی ہے؟تو پہلے تو یہ جان لیں کہ انٹرنیٹ بلکہ سوشل میڈیا پر متعدد دعوئوں کے باوجود ایسی کوئی جادوئی غذایا گولی نہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناکر کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کرسکے۔
مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ایسے متعدد ذرائع موجود ہیں جو مدافعتی نظام کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے صحت مند رہنا ممکن ہوسکتا ہے اور کورونا وائرس کے خلاف جسم کو لڑنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ان میں ہاتھوں کی مناسب صفائی، اچھی غذا کا خیال، جسمانی طور پر متحرک رہنا، مراقبہ، اچھی نیند اور تنائو کو کنٹرول رکھنا شامل ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے غذا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور اس کے لیے چند غذائی عناصر کا استعمال کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
مضبوط مدافعتی نظام کووڈ 19 کے انفیکشن کا اثر کم کرنے میں کسی حد تک مدد کرسکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام، فلو اور دیگر امراض کی روک تھام بھی ہوسکتی ہے۔
ترش پھل
ایسا مانا جاتا ہے کہ وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں خون کے سفید خلیات بننے کی شرح بڑھتی ہے، جو انفیکشن میں لڑنے میں مددد دیتے ہیں۔
لگ بھگ تمام ترش پھلوں میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جیسے گریپ فروٹ، مالٹے، لیموں، سنترے اور متعدد ہی ایسے پھل۔
ہمارا جسم وٹامن سی کو خود بنانے یا محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو غذا کے ذریعے اسے حاصل کیا جاتا ہے ، خواتین کو روزانہ 75 ملی گرام جبکہ مردوں کو 90 ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر یہاں یہ واضح رہے کہ وٹامن سی ہوسکتا ہے کہ نزلہ زکام سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد دے سکتا ہے مگر ابھی ایسے شواہد نہیں کہ نئے نوول کورونا وائرس کے خلاف بھی موثر ہے۔
سرخ شملہ مرچ
پھلوں کے علاوہ سرخ شملہ مرچ میں بھی 127 ملی گرام وٹامن سی ہوتی ہے جبکہ یہ بیٹا کیروٹین سے بھی بھرپور ہوتی ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین جلد کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، جو جسم مین وٹامن اے میں بدل جاتا ہے جو آنکھوں اور جلد کو صحت مند بناتا ہے۔
لہسن
لہسن کا استعمال تو پاکستان میں بہت زیادہ عام ہوتا ہے، جو پکوان کا ذائقہ زیادہ بہتر کردیتا ہے۔ لہسن شریانوں کو اکڑنے کی رفتار سست کرنے میں بھی مددگار ہوسکتی ہے جبکہ کچھ کمزور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بلڈپریشر کی سطح بھی کم ہوسکتی ہے۔
لہسن میں مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کی طاقت بھی ہوتی ہے جس کی وجہ اس میں سلفر پر مبنی مرکبات کی موجودگی ہے۔
ادرک
ادرک ایک اور ایسا جز ہے جو ورم میں کمی لانے کے ساتھ گلے کی سوجن اور ورم والے امراض میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے، ادرک سے متلی کی کیفیت پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ادرک سے دائمی درد میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کی خصوصیات بھی ہیں۔
پالک
پالک وٹامن سی سے بھرپور سبزی تو ہے ہی اس کے سات ساتھ اس میں متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس اور بیٹاکیروٹین بھی موجود ہوتے ہیں، جو مدافعتی نظام کی انفیکشن کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔
دہی
دہی میں ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو امراض کے خلاف لڑنے کے لیے متحرک ہونے میں مدد دے سکتے ہین، چینی کے بغیر دہی کا استعمال اس حوالے سے زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے یا پھلوں اور شہد سے اس کو میٹھا کرکے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
دہی وٹامن ڈی کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے اور یہ وٹامن مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ اس سے امراض کے خلاف جسم کا قدرتی دفاع بہتر ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں بھی عندیہ دیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کووڈ 19 کے اثر کو سنگین بناسکتی ہے جبکہ اس وٹامن کی مناسب سطح اس مرض کی شدت میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔
بادام
بادام میں موجود وٹامن ای صٹ مند مددافعتی نظام کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے، یہ ایسا وٹامن ہے جو گریوں جیسے بادام میں موجود چکنائی کو جسم میں جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
سورج مکھی کے بیج
یہ بیج متعدد غذائی اجزا جیسے فاسفورس، میگنیشم اور وٹامن بی 6 اور ای سے بھرپور ہوتے ہیں، وٹامن ای کی خصوصیات تو اوپر درج کی جاچکی ہیں جو مدافعتی نظام کے افعال کو ریگولیٹ اور مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ سورج مکھی کے بیجوں میں سیلینیم کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے اور مختلف تحقیقی رپورٹس (جن میں سے بیشتر جانوروں پر ہوئی) میں بتایا گیا کہ یہ جز وائرل انفیکشنز جیسے سوائن فلو کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
ہلدی
ہلدی کا استعمال تو عرصے سے مختلف امراض کی روک تھام کے لیے ہورہا ہے اور طبی سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں اور اینٹی وائرل ہوتے ہیں، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

سبز چائے
سبز اور سیاہ چائے دونوں میں فلیونوئڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر سبز چائے میں ای جی سی جی نامی بہت طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ بھی ہوتا ہے، جو مدافعتی نظام کے افعال کو بہتر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ سبزچائے میں امینو ایس ایل theanine بھی موجود ہوتا ہے جو ٹی سیلز میں جراثیموں کے خلاف لڑنے والے مرکبات بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
پپیتا
پپیتا بھی ایسا پھل ہے جس میں وٹامن سی کی مقدار بہت زیاد ہوتی ہے جبکہ اس میں ایک انزائمے پاپاین بھی موجود ہوتا ہے جو ورم کش اثر رکھتا ہے۔ پپیتے میں پوٹاشیم، میگنیشم اور فولیٹ کی بھی مناسب مقدار ہوتی ہے جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
کیوی
پپیتے کی طرح کیوی بھی متعدد غذائی اجزا جیسے فولیٹ، پوٹاشیم اور وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے، وٹامن سی انفیکشن کے خلاف لڑنے میں مددگار خون کے سفید خلیات کو طاقت فراہم کرتا ہے جبکہ کیوی کے دیگر اجزا بھی دیگر جسمانی افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
چکن
چکن میں وٹامن بی سکس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ وٹامن متعدد کیمیائی ری ایکشنزز میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ یہ خون کے نئے اور صحت مند سرخ خلیات بننے کے لیے بھی ضروری ہے۔
درست مقدار کا خیال رکھنا
درحقیقت اوپر درج صرف ایک ہی غذا کا استعمال امراض کے خلاف میں مدد نہیں دیتا، غذا کی مقدار اور روزانہ درکار غذائی اجزا کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
اچھی غذا کا استعمال ایک اچھا آغاز ہوتا ہے جتو متعدد امراض سے تحفظ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔

What foods have the highest Vitamin C? - Happy Skin Days

May 16, 2020

سوڈان میں ڈاکٹروں کے پاس دستانے نہیں ، مریضوں کا معائنہ نہیں کر پارہے ہیں ، ڈاکٹر سارہ علی

خرطوم جدت ویب ڈیسک :سوڈان سے تعلق رکھنے والی جونیئر ڈاکٹر سارہ علی نے کہاہے کہ وہاں ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ بھی نہیں کر پا رہے کیونکہ ان کے پاس دستانے نہیں ہیں۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ انھیں ان اندازوں سے حیرت نہیں کہ افریقہ میں وبا کے پہلے سال میں 25 کروڑ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کورونا وائرس ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کے ملک کا نظامِ صحت پہلے ہی تباہ حال ہے،ان میں خود بھی اب کووِڈـ19 کی علامات ہیں اس لیے وہ خود کو گھر پر قرنطینے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے بارے میں ان کے تاثرات ایک تاریک منظر کشی کرتے ہیں۔ڈاکٹر سارہ نے کہا کہ آج خرطوم کا سب سے بڑا ہسپتال ڈاکٹروں سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ آ کر ہاتھ بٹائیں کیونکہ وہاں فی الوقت صرف تین ڈاکٹر ہیں۔انھوں نے کہا کہ لوگ دمے، دل کے دورے اور زخموں کی وجہ سے مر رہے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں ان کی نگہداشت کیلئے ڈاکٹر موجود نہیں۔ڈاکٹر سارہ نے بتایا کہ ملک میں وینٹیلیٹرز کی کمی ہے اور کْل آبادی کے لیے صرف 200 وینٹیلیٹر موجود ہیں۔

May 16, 2020

کرونا وائرس سے بچنا ہے ۔تو ماؤتھ واش کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ برطانوی ماہرین

جدت ویب ڈیسک ::لندن: برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے محفوظ رہنا ہے تو ماؤتھ واش کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کارڈف یونیورسٹی اینڈ اسکول آف میڈیسن میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماؤتھ واش کے مستقل استعمال سے کرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی کے پروفیسر اوڈنیل کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش وائرس کی بیرونی سطح کر تباہ کردیتا ہے۔پروفیسر کے مطابق یہ طریقہ سارس وائرس کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوا تھا اس کے کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہیں۔اگرچہ سائنسدان آزمائشوں میں ماؤتھ واش کی تاثیر کو جانچنے کے لیے فوری تحقیق کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ یہ کامیاب ہوگی۔
مختلف برانڈز کے ماؤتھ واش میں کئی قسم کے کیمیکلز، مثلاً ایتھانول، پیووڈین آئیوڈین وغیرہ ، ان بیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں جو منہ میں بدبو کا سبب بنتے ہیں، ساتھ ساتھ یہ منہ کی حقیقی بو کو اپنی خوشبو کے ذریعے چھپا دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اس دعوے کے جواب میں کہا تھا کہ ماؤتھ واش گرگل کرنا آپ کو انفیکشن سے محفوظ رکھ سکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ماؤتھ واش کا استعمال آپ کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے بچائے گا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کچھ برانڈز ماؤتھ واش آپ کے منہ میں تھوک میں کچھ منٹ کے لئے کچھ جرثوموں کو ختم کرسکتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کو انفیکشن سے بچائیں گے۔

Mouthwash could help lower COVID-19 transmissions, research ...

May 13, 2020

موسمِ گرما میں تربوز کا شربت پانی کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری صحت کے لیے مفید

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ماہرین صحت نے تربوز کو دل کے لیے بھی بہت مفید بتایا ہے۔ تربوز ایسا پھل ہے جو کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح کو کم کرتا ہے۔تربوز میں شامل اجزا ہماری صحت کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں جن میں‌ وٹامن سی، اے، میگنیشیم، پوٹاشیم، وٹامن بی ون، بی فائیو شامل ہیں۔ گرمیوں میں ہمارے جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ موسم کی شدت کے ساتھ معمولاتِ زندگی انجام دینے کے دوران پسینے کا زیادہ اخراج ہوتا ہے۔ خاص طور سخت مشقت اور دھوپ میں‌ کام کرنے والوں‌ کے جسم سے پسینے کی شکل میں‌ پانی کی خاصی مقدار نکل جاتی ہے۔
اس موسم کے پھلوں کی بات کی جائے تو خدا کی عطا کردہ بیش شمار نعمتوں میں سے ایک تربوز ہے جو موسمِ گرما میں پانی کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری صحت کے لیے مفید ہے۔یہ غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس وافر مقدار میں پانی اور فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔۔

رمضان میں افطار کے لیے اپنے گھر والوں کے سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا تربوز کا شربت پیش کریں، اور اس کی نہایت آسان ترکیب یہاں دی گئی ہے:

تربوز کا شربت

اجزاء:

  • تربوز
  • کالا نمک
  • چینی
  • لیموں کا رس
  • برف

ترکیب:

تربوز کے ٹکڑے کرلیں، اس کے بیجوں کو الگ کرنے کے بعد اسے گرائنڈر میں ڈال دیں، اب اس میں تھوڑا سا پانی، کالا نمک، لیموں کا رس اور چینی شامل کریں اور گرائنڈ کرلیں۔

بعد ازاں اس شربت کو گرائنڈر سے نکال کر ململ کے کپڑے سے چھان لیں تاکہ گودا اور شربت الگ ہوجائے۔

اس کے بعد ایک گلاس میں برف کے ٹکڑے ڈالیں اور اس پر شربت ڈال دیں، مزید ذائقہ بڑھانے کے لیے اپنے حساب سے لیموں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

اس گرمی میں افطار کے موقع پر مزیدار تربوز کا شربت گھر والوں کو پیش کریں۔

فوٹو: شٹراسٹاک

WATERMELON 10 HEALTH Benefits. and also TOXIC Cleansing of the ...

May 13, 2020

کورونا وائرس کے باعث مزید 31افراد زندگی کے بازی ہار گئے ، تعداد 737ہوگئی

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک :ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دور ان کورونا وائرس کے باعث مزید 31افراد زندگی کے بازی ہار گئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 737ہوگئی ،2255 نئے کیسز سامنے آگئے ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 33733 تک جا پہنچی ۔ بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹ جاری کردی جس کے مطابق ملک میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 33733 تک پہنچ گئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2255 نئے کیسز رپورٹ ہوئے،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اب تک کورونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ سینٹر کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 31 نئی اموات سامنے آئیںجس کے بعدکورونا وائرس سے سے موت کے منہ میں جانے والے افراد کی تعداد 737 تک پہنچ گئی۔ کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد سب سے زیادہ 13225 تک پہنچ گئی، سندھ میں 12610 کورونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق خیبر پختونخواہ میں کیسز کی تعداد 5021 اور اسلام آباد میں 759 ہوگئی،بلوچستان میں 2158 گلگت بلتستان میں 475 کیسز رپورٹ ہوئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 88 ہوگئی،مْلک بھر میں اب تک 8812 مریض مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک 317699 افراد کے کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کئے گئے۔

May 12, 2020

ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں کے دور ان مزید 39افراد کرونا وائرس سے زندگی کی بازی ہارگئے ، تعداد 706ہوگئی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں کے دور ان مزید 39افراد کرونا وائرس سے زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 706ہوگئی ،1140نئے کیسز سامنے کے بعد کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 32081تک جا پہنچی ،8555مریض صحتیاب ہوگئے ۔ منگل کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 32081تک پہنچ گئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1140 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد سب سے زیادہ 11869 تک پہنچ گئی۔کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق سندھ میں 12017 کورونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق خیبر پختونخواہ میں کیسز کی تعداد 4874 اور اسلام آباد میں 716 ہوگئی۔کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق بلوچستان میں 2061گلگت بلتستان میں 457کیسز رپورٹ ہوئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 86 ہوگئی۔ کمانڈ سینٹر کے مطابق مْلک بھر میں اب تک 8555 مریض مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ سینٹر کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 39 نئی اموات سامنے آئیں، کورونا وائرس سے سے موت کے منہ میں جانے والے افراد کی تعداد 706تک پہنچ گئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اب تک 3 لاکھ 5ہزار 851 افراد کے کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کئے گئے،گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 10957 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔