July 24, 2019

آپ کی صحت کا محافظ،آپکا باورچی خانہ۔۔۔جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک ::آپ کی صحت کا محافظ،آپکا باورچی خانہ۔اس میں موجود اشیاء کے طبی فوائد۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی معا شرے کی ترقی کا دار و مدار اس معاشرے میں موجود انسانوں کی صحت سے ہوتا ہے۔اگر انسان اپنی غذا کے استعمال میں صحت کے بنیادی اصولوں کا خاص خیال رکھے تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
غذا کے استعمال سے پہلے اس میں موجود غذائیت او ر مزاج کا جاننا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے ۔کسی بھی قسم کی غذا کو کھانے سے پہلے اس کی مقدار خوراک کا علم ہونا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے۔
غذا کے استعمال میں وقت کے انتخاب کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔موجودہ دور کی مہنگائی میں ایک عام بیمار ی کا علاج بھی نہایت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بعض اوقات رات کے کسی حصے میں معمولی سی بیماری کے علاج کے لیے کوئی انتظام نہیں ہوتا اور انسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ایسی صورت میں اگر گھر میں موجود اشیا سے علاج کرنے سے افاقہ اور صحت حاصل ہو جائے تو یہ ایک کرشمہ سے کم نہیں ہوتا ۔
یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہمیں اپنے باورچی خانہ میں موجود سبزیوں، میوں اور مصالحہ جات کے فوائد اور خواص کا علم ہو۔ہمارے باورچی خانہ میں موجود مصالحہ جات کا مناسب مقدار میں استعمال ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حفظان صحت کے مطابق غذا کا استعمال
غذا کے استعمال میں موسم کے اعتبار سے احتیاط کرنی چاہیے ۔گوشت ،مچھلی اور انڈے وغیرہ سردیوں میں استعمال کیے جائیں اور دہی ، دودھ ، ترکاری کا استعمال گرمیوں میں کرنا زیادہ مناسب ہے۔
برسات کے موسم میں ہری سبزیاں کھیرا، تربوز اور دہی وغیرہ کا استعمال مناسب نہیں ہوتا ،اس طرح خوب پیٹ بھر کرکھانا کھانے اور بار بار کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا چاہیے ، دو کھانوں کے درمیان ہمیشہ کم ازکم وقفہ تین گھنٹے تو ضرور ہونا چاہیے ، تیز گرم مصالحہ دار اور چکنی غذاؤں سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ صحت کے لیے مضر ہیں۔
کھانا کھانےسے متعلق چند ضروری ہدایات
مندرجہ ذیل غذاؤں کا ایک ساتھ استعمال مناسب نہیں ہے ، ان کے ایک ساتھ استعمال سے صحت متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جیسا کہ۔
1۔ مچھلی اور دودھ کا ایک ساتھ استعمال
2۔ پائے کے بعد انگور کا کھانا
3۔ چاول کے بعد تربوز کا استعمال
4۔ چاول کے بعد ستو کا استعمال
5۔ انار اور ہریسہ
6۔ گرم گرم کھانا نہیں کھانا چاہیے
7۔ غذا اچھی طرح چبا کر کھانی چاہیے
8۔ پھل اور سبز ترکاریاں روزانہ استعمال کی جانے چاہئیں، اس طرح غذا میں رد و بدل کرتے رہنا چاہیے
9۔ مناسب ورزش صحت کے لیے ضروری ہے
10۔ نیند صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے
سبزیوں کے طبی فوائد
۔ ادرک1
۱۔ کاسرریاح ،ہاضم اور امراض معدہ میں مفید
۲۔ ریامی دردوں مشلا گنٹھیا، فالج میں اس کا استعمال مفید ہے، درد پشت ،درد کمر میں بیرونی طور پر تیل میں جلا کر یا دیگر ادویہ کے ہمراہ تیل بنا کر مالش کی جاتی ہے
۳۔ ادرک گردے اور مثانہ کو طاقت دیتی ہے
۴۔بچوں کی کھانسی کی صورت میں ادرک کا عرق شہد میں ملا کر دینے سے کھانسی کا خاتمہ ہو جاتا ہے
۵۔ ہاضمے دار چورن بنانے کے لیے سونٹھ (خشک ادرک) اور اجوائن دیسی لے کر آپ ادرک میں تر کریں اور پھر سایہ میں خشک کریں اور نمک ملاکر سونف بنا لیں ، حسب ضرورت استعمال کریں
2۔ بند گوبھیCabbage
۱۔ یہ بلغم بننے کو روکتی ہے
۲۔ اس کا بطور سلاد استعمال کولیسٹرول کے لیے بے حد مفید ہے
۳۔اس کا استعمال موٹاپے کو کم کرتا ہے
3۔ پودینہ Pepper mint
۱۔ چہرے کے داغ دھبوں کو دور کرنے کے لیے پودینہ کو سرکہ میں پیس کر بطور لیپ استعمال کرنا مفید ہوتا ہے
۲۔ پودینہ کا استعمال مقوی معدہ ہوتا ہے
۳۔جسم سے ریاح کو خارج کرتا ہے
۴۔ پودینہ کو انجیر کے ہمراہ جوشاندہ کی صورت میں استعمال کرنے سے سینہ اور پھیپھڑوں سے غلیظ مواد آسانی سے خارج ہو جاتا ہے اورکھانسی دمہ، درد سینہ میں مفید ہے
۵۔ بھوک لگاتا ہے
6۔ پودینہ پیشاب آور ہے
۷۔ اسہال میں پودینے کا استعمال مفید ہے
4۔ پیاز Onion
۱۔ تلی کے ورم کا سب سے کامیاب علاج پیاز کا استعمال ہے
۲۔ خارش میں پیاز کا رس ملنے سے آرام ہوتا ہےاور خارش دور ہو جاتی ہے
۳۔ پیاز کے عرق میں شہد کا اضافہ مقوی باہ ہوتا ہے
۴۔ پیاز کو مقوی و محرک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے
5۔ پیٹھا White Pumpkin
۱۔ بلڈپریشر اور گرمی کے لیے مفید ہے
۲۔ دماغی کام کرنے والوں کے لیے پیٹھے کا حلوہ بے حد مفید ہے
۳۔ یہ ہڈیوں کی پرورش کرتا ہے اور نیند لاتا ہے
۵۔ پیشاب کی جلن کو ختم کرنے میں پیٹھا اکسیر کا درجہ رکھتا ہے
6۔ سہانجنہ Moringa
۱۔ بھوک لگاتا ہے
۲۔ وجع مفاصل اور درد کمر میں مفید ہے
۳۔گلے کی سوزش کی صورت میں اس کا استعمال مفید ہے
7۔ توری۔ laActangu
۱۔ قبض کشا ہے
۲۔ بواسیر کو درست کرتی ہے
۲۔ حرارت کو تسکین دیتی ہے
۴۔مسکن حرارت اور مدربول ہے
8۔ ٹماٹر Tomato
۱۔ ٹماٹر خون کو صاف کرتا ہے
۲۔ جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے
۳۔ وہم اور وحشت کو ختم کرتا ہے
۴۔طبیعت کو فرحت دیتا ہے
۵۔ بچوں کے لیے اس کا جوس نہایت مفید ہے
6۔ گردہ کی پتھری والے مریض ٹماٹر استعمال نہ کریں
9 چقندرBeet Root:
1 اعصاب کو قوت بخشتاہے اورجسم کو طاقتور بناتاہے
2 سر میں سکری ہو تواس کے پتے ابال کر سر دھونےسےدورہو جاتی ہے
3 اس کےپتےاگر مہندی کے ہمراہ رگڑ کر لگائیں تو سرکے بال نرم و ملائم ہو جاتے ہیں ، گرتے بال رک جاتےہیں
4 مادہ تولید گاڑھا کرتاہے
5 جوڑوں کے درد میں چقندر نہایت مفید ہے
10 دھنیاCoriender :
1 پیاس کو روکتاہے اورقےکو ختم کرتا ہے، مقوی معدہ ہے ،معدےکا صفرا دور کرتاہے
2 دل و دماغ کو ٹھنڈک اورطاقت دیتاہے
3 تبخیر معدہ کے لیے پانچ تولہ مغز بادام ، پانچ تولہ سونف اور اڑھائی تولہ دھنیا ہمراہ دیسی تولہ چینی کے سفوف بنا کر ایک تولہ کھانا کھانے کے بعد کھانےسے مرض دورہوتاہے اوردماغ کو قوت ملتی ہے
4 نزلہ ،زکام ، سر درد ،سر چکرانے کی صورت اطریفل کشیر کا استعمال مفید ہے
11۔ شلجمTurnip
۱۔ جسم کو طاقتور بناتا ہے ، بدن کی کمزوری کو دور کرتا ہے
۲۔ خشک کھانسی میں بے حد مفید ہے
۳۔ضعف جگر،گنٹھیا، ضعف مشانہ میں شلجم بے حدمفید ہے
12۔کریلاHairy Mardica
۱۔یہ مغوی معدہ اور قاتل کرم شکم ہے
۲۔کریلا صفرا اور بلغم کا مسہل ہے
۳۔اعصابی طاقت دیتا ہے
۴۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے
13۔گاجرCarrot
۱۔کچی گاجرکھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتاہے
۲۔گاجر سیب کامتبادل ہے
۳۔گاجر دل کے امراض میں مفیدہے
۴۔گاجر مفرح اور مقوی اعضائے رئیسہ ہے
14۔لہسنGarlic
۱۔یہ خوراک کو جلد ہضم کرتاہے
۲۔پیشاب اور حیض جاری کرتاہے
۳۔انار دانہ ، پودینہ،ادرک اورلہسن کی چٹنی بہت سے طبعی فوائد رکھتی ہے
۴۔بلندفشار خون میں اس کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتاہے
15۔مرچRed Pepper
۱۔مرچ بھوک لگاتی ہے اور ریح کو جسم سے خارج کرتی ہے
۲۔مرچ وبائی امراض کا سب سے بڑا تریاق ہے
۳۔بلغمی امراض والوں کے لیے مرچ بہت مفید ہے اور کھانے کو ہضم کرتی ہے
۴۔حیض اورپیشاب کی بندش کو کھولتی ہے
16۔مولیRadish
۱۔مولی نمک کے ساتھ کھانے سے جگر کی اصلاح ہوتی ہے
۲۔مولی کا مستقل استعمال گردہ اور مثانہ میں موجود پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے ہمیشہ کے لیے جسم سے خارج کردیتا ہے
3۔یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملاکر پلانے سے مرض ختم ہوجاتاہے
4۔مسوڑھوں کے امراض پائیوریا اور دانتوں کی مختلف بیماریوں میں اسکا استعمال مفید ہوتاہے
17۔میتھی
۱۔میتھی کا استعمال اعصاب کو طاقت دیتاہے
۲۔میتھی کے جو شاندہ میں شہدملاکرپلانے سے دمہ میں بے حد فائدہ ہوتا ہے
۳۔تخم میتھی کوپیس کر چہرے پر لگانے سے رنگ نکھر جاتا ہے
۴۔ میتھی کے بیجوں کو رگڑ کر اس پانی سے ہفتہ میں دو بار سر دھونے سے سر کے بال لمبے ہو جاتے ہیں اور گرنے سے بالکل بندہو جاتے ہیں
18۔اجوائن دیسی
۱۔ اجوائن دیسی کھانا ہضم کرتی ہے اور بھوک بڑھاتی ہے
۲۔کاسر ریاح ہے ، فساد بلغم اوراپھارہ کو دور کرتی ہے
۳۔گردہ ،مشانہ کی پتھری کو توڑتی ہے
۴۔کالی کھانسی کے مرض میں اجوائن کا پانی نہایت مفید ہے
۵۔دمہ کے مریض میں اجوائن خراسانی کا استعمال نہایت فائدہ مند ہوتاہے
٦۔تمام اقسام کے نزلوں میں مفید ہے
۷۔ایک ماشہ اجوائن شہد میں ملاکرکھانے سے پرانے درد سر ،عرق النسائ اور نقرس میں مفید ہے
19۔ اسپغول
۱۔آنتوں کے زخموں ،مروڑ ہونے کی حالت میں بے حد مفید ہے۔ اس میں شربت صندل ایک چمچ ڈال کر پلانا مفید ہوتا ہے
۲۔قبض کشا ہے ، آنتوں میں پھسلن پیداکرتی ہے ،رات سوتے وقت ایک گلاس دودھ میں ایک تولہ اسپغول کا استعمال دائمی قبض میں بھی مفید ہے
20۔الائچی خورد
۱۔مقوی معدہ ہے، معدہ کی رطوبت کو خشک کرتی ہے
۲۔قے، متلی اور منہ کی بدبو کو دو ر کرتی ہے
۳۔ آنتوں کی مختلف بیماریوں میں بے حد مفید ہے
21 الائچی کلاں
1 بھوک بڑھاتی ہے

2 مفوی معدہ ہے
3 گرم مصالحہ میں استعمال ہوتی ہے
4 مفرح قلب ہوتی ہے
22 املی
1 دل و معدے کو قوت دیتی ہے
2 جگر کی خرابی اور یرقان میں املی دو تولہ ،تخم کانسی سات ماشہ ، گل نیلوفردو تولہ اور مکوبھگو کر پینا بہت مفید ہے
3 سوزاک میں املی کا پانی پینا مفید ہوتا ہے
23 انار دانہ saeed pomegranate
1 انار دانہ ہاضم ہے
2 بھوک لگا تا ہے
3 مفوی معدہ ہے
4 پودینے کی چٹنی بنانے میں انار دانہ ایک اہم جز ہے
4 پیٹ درد میں انار دانہ پانی میں رگڑ کر نمک اور کالی مرچ حسب ضرورت ملا کر پینے سے درد فورا دور ہو جاتا ہے
24 انڈہ
1 انڈہ خون پیدا کرتا ہے
2 کمزور مریضوں کی بہتر ین غذا ہے
3 انڈہ لحمیات کا بہترین ماخذ ہے
25 تیز پات
1 ریاح کو تحلیل کرتا ہے
2 معدہ کی اصلاح کرتا ہے
3 مفرح دماغ و قلب ہے
4 گوشت کو گلانے کے لیے ہنڈیا میں دو پتے تیز پات کے ڈال دیے جائیں تو گوشت گل جاتا ہے ، سالن خوش ذائقہ تیار ہو جاتا ہے
26 دار چینی
1 خوشبو دار او ر دافع تعفن ہے
2 کھانسی اور دمہ میں دار چینی کو ہم وزن شہد میں ملا کر چٹانے سے فائدہ ہوتا ہے3 نزلہ اور زکام میں دار چینی کا سفوف ایک ماشہ صبح و شام ہمراہ پانی استعمال کرنا مفید ہے
27 دہی
1 – دہی معدے کی گرمی کو دور کرتا ہے
2 – منہ میں نکلے ہوئے چھالوں کے لیے مفید ہے
3 دہی پیاس کو تسکین دیتی ہے
4 معدے اور آنتوں کے ورم اس کے استعمال سے دور ہو جاتے ہیں
2 زعفران saffron
1 حواس اور دل ودماغ کو قوت دیتا ہے
2 جگر کی اصلاح کرتا ہے
3 چہرے کے رنگ کو نکھارتا ہے
29 زیتون Olive
1 زیتون قبض کشائ ہے
2 پتھری کو توڑتا ہے ، پیشاپ کو جاری کرتا ہے
3 روغن زیتون کا مستقل استعمال السر ( (ulcerسے نجات کا سبب ہے
30 زیرہ سفید
1 زیرہ سفید کو لیموں کے رس میں رگڑ کر کھانے سے متلی فورا دور ہو جاتی ہے
2 ریاح اور ورم کو تحلیل کرتا ہے
3 آنتوں کو طاقت دیتا ہے
31 زیرہ سیاہ :
1 زیرہ سیاہ کا استعمال چہرے کا رنگ نکھارتا ہے
2 پیشاب اور حیض کو جاری کرتا ہے
3 بلغم کو دور کرتا ہے
4 ریاح اور ورموں کو تحلیل کرتا ہے
32 ساگودانہ SAGO
1 اسہال ، پیچش اور بخار کے لیے بہترین غذا ہے
2 بدن کو فربہ بناتا ہے
3 جسم کو طاقت حاصل ہوتی ہے
4 ریاح اور ورموں کو تحلیل کرتا ہے
33 سرکہ VINIGAR
1 دماغ کو قوت دیتا ہے
2 کھانا ہضم کرتا ہے اور بھوک لگاتا ہے
3 طحال کے امراض میں جامن کا سرکہ بے حد مفید ہے
4 پیٹ کے کیڑوں کو مارتا ہے
5 پیٹ کے اپھارہ میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے
6 سرکہ پیشاب آور اور مصفی خون ہے
34 سونف FANNEL SEEDS
1 سونف ہاضم اور کاسر ریاح ہوتی ہے
2 پیشاب اور حیض کو جاری کرتی ہے
3 مغوی معدہ ہے
4 بلغم کو دور کرتی ہے
5 بادی کو دور کرتی ہے
6 ہر قسم کے سر درد کے لیے سونف دس تولہ، مصری دس تولہ باریک پیس کر سفوف بنا لیں تین تولہ سفوف کا استعمال مقوی دماغ ہے
7 بینائی اور دماغ کی طاقت کے لیے سونف اور مصری ہمراہ بادام رات کو دودھ کے ساتھ مفید ہے
35 سیاہ مرچ BLACK PEPPER
1 یہ ریاح کو خارج کرتی ہے ،محلل اورام ہے اور کاسر ریاح ہے
2 پٹھوں ،معدہ اور جگر کو قوت دیتی ہے
3 زہر کو جسم سے قے کے ذریعے سے نکالتی ہے
4 غذاؤں کو لطیف بناتی ہے
5 غذائی اشیاء کے نقصان دہ اثرات کو دور کرتی ہے
6 دمہ ،کھانسی ،زکام، بدہضمی میں اس کا استعمال مفید ہے
7 اس میں فولاد وٹامن بی اور ای شامل ہوتے ہیں
8 منہ کی بدبو ختم کرتی ہے
9 گلے کی خراش میں کالی مرچ منہ میں چبانے سے افاقہ ہوتا ہے
36 شہد HONEY
1 شہد حرارت عزیزی کو قوی کرتا ہے
2 امراض قلب میں بے حد مفید ہے
3 پھیپھڑوں کی صفائی کرتا ہے
4 دماغی تھکن کی صورت میں ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ ملا کر پینے سے تھکن فورا دور ہو جاتی ہے
37 گڑ JAGGERY
1 کھانے کو ہضم کرتا ہے
2 طبیعت کو نرم کرتا ہے
3 بلغم کو چھانٹتا ہے
38 گھی
1- گھی بدن کو طاقت دیتا ہے
2 دردوں اور ورموں کو تحلیل کرتا ہے
39 لونگ CLOVES
1 لونگ مفرح اور دل و دماغ کو طاقت دیتی ہے
2 اعضائے رئیسہ کو قوت اور فرحت بخشتی ہے
3 منہ کی بدبو دور کرتی ہے
4 لونگ ،سونٹھ ،جائفل ، حرمل کو روغن کنجد میں پکا کر ملنا جوڑوں کے درد کے لیے مفید ہے
40 لیموں LEMON
1 دافع صفراء ہے
2 تازہ لیموں کی شکنجی بخار میں افاقہ دیتی ہے
3 وزن کم کرنے کے لیے لیموں کا رس ہمراہ دو چمچ شہد نہار منہ بہت مفید ہے
4 لیموں میں فاسفورس ،فولاد ، پوٹاشیم اور کیلشیم کی وافر مقدار کے ساتھ وٹامن بی اور سی بھی موجود ہوتا ہے
41 مکھن BUTTER
1 آواز کو صاف کرتا ہے
2 قبض کشا ہوتا ہے
3 مقوی دماغ ہوتا ہے
4 جلد کو نرم کرتا ہے
5 مکھن اگر شکر اور خشخاش ملا کر کھایا جائے تو بدن کو فربہ کرتا ہے
42 مہندی HENNA
1 مہندی مصفی خون ہے
2 الرجی میں اس کا استعمال نہایت مفید ہے
43 نمک SALT
1 نمک دانتوں کا عمدہ منجن ہے
2 خارش کے مریض کے لیے نیم کے پتوں میں نمک اور پانی ملا کر پہلے جوش دیں ا ور پھر اس پانی میں غسل دیں خارش دور ہو جائے گی
3 نمک کے غرارے کرنے سے گلے کی خراش دور ہو جاتی ہے
4 کھانے کو لذیذ بنا تا ہے
5 معدہ اور آنتوں کو صاف کرتا ہے
44 نوشادر CHLORIDE AMMONIUM
1 پیشاب آور ہے
45 ہلدی TURMERIC
1 ورموں کو تحلیل کرتی ہے
2 خون کو صاف کرتی ہے
3 یرقان میں اس کا استعمال نہایت مفید ہے
4 چوٹ لگنے یا موچ آنے کی صورت میں ہلدی اور چونا ہم وزن رگڑ کر لیپ کرنا مفید ہے
5 چہرے کے داغ دھبوں کو دور کرنے کے لیے ہلدی میں سرسوں کا تیل ملا کر لگانے سے چہرے کا رنگ نکھر آتا ہے
6 ہلدی، سونٹھ اور چینی ملا کر کھانے سے جوڑوں کا درد دور ہو جاتا ہے
7 بلغم کو دور کرتی ہے ، جگر اور سینے کو صاف کرتی ہے
46 ہینگ ASEFPIDTOD
1 ہاضم ہے، بھوک بڑھاتی ہے
2 ریاح اور اورام کو تحلیل کرتی ہے
3 پیشاب اور حیض کو جاری کرتی ہے
4 دماغی اور اعصابی امراض میں مفید ہے
5 ہینگ کو ہمیشہ بریاں کر کے استعمال کرنا چاہیے
6 بدن میں گرمی پہنچاتی ہے
7 ہینگ کھانے سے پیٹ کا اپھارہ بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے
8 ماش کی دال ،اروی کچالو میں ہینگ ڈالنے سے ان کے مضر اثرات زائل ہو جاتے ہیں

July 23, 2019

میرا رنگ سفید ہو جائے الٹا میری جلد ہی جل گئی۔شروتی شرما

جدت ویب ڈیسک ::شروتی شرما(فرضی نام) نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’میں اپنی شادی کے روز بہت بری لگ رہی تھی۔ اس دن میں انتہائی بدصورت نظر آ رہی تھی۔‘ وہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے نزدیک رہتی ہیں۔ بہت ساری ایشیائی خواتین کی طرح انھوں نے بھی شادی کے دن سے قبل اپنی جلد کو نکھارنے کی ٹھانی۔وہ امید کر رہی تھیں کہ شادی کے دن تک ان کی جلد خوبصورت اور چمکدار ہو جائے گی۔
انھوں نےبتایا کہ ’شادی سے دو ماہ قبل میں ایک سیلون میں گئی جنھوں نے مجھے ایک رنگ گورا کرنے والی کریم تھما دی۔ جب میں نے اس کریم کو ایک ہفتے تک استعمال کیا تو میرا چہرا جھلس سا گیا۔‘
گہرے دھبے
31 سالہ شروتی نے اپنی شادی سے پہلے مہمانوں کی فہرستوں اور خریداری سے متعلق منصوبہ بندی کرنے کے بجائے اپنا وقت اور پیسہ اپنی جلد کے علاج پر صرف کیا۔
‘پہلے میری جلد پر سفید زخم پڑے جو بعد میں گہرے دھبوں میں تبدیل ہو گئے
رنگ گورا کرنے والی جو کریم انھیں اس سیلون سے ملی تھی وہ سری لنکا میں منظور شدہ مصنوعات میں سے نہیں تھی۔ اسے غیر قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔
ایک سال کے علاج کے باوجود گہرے نشانات اب بھی پریرا کی گردن پر نمایاں ہیں۔ ایسی کئی شکایات کے بعد اب سری لنکن حکام غیر منظور شدہ رنگ گورا کرنے والی کریمز کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
مارکیٹ
لیکن یہ مسئلہ صرف سری لنکا میں موجود نہیں ہے۔ ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین گوری رنگت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
سنہ 2017 میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ کی قدر کا تخمینہ چار ارب آٹھ کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ سنہ 2027 میں یہ دگنا ہو کر 8.9 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔
ان مصنوعات کی طلب بنیادی طور پر ایشیا اور افریقہ کے متوسط طبقے کے صارفین سے آتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں
ان مصنوعات میں صابن، کریمیں، سکرب، ٹیبلٹس اور یہاں تک کہ ٹیکے بھی شامل ہیں جن کے ذریعے جلد کا رنگ پیدا کرنے والے میلانن نامی خلیے کی پیداوار سست کی جا سکتی ہے اور یہ طریقہ انتہائی مقبول ہیں۔
عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
نائجیریا کی 77 فیصد خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کر کے افریقہ میں سرِ فہرست ہیں۔ اس کے بعد ٹوگو کی 59 فیصد اور جنوبی افریقہ کی 35 فیصد خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
ایشیا میں 61 فیصد انڈین اور 40 فیصد چینی خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
عالمی چیلنج
جوں جوں ان مصنوعات کی طلب بڑھ رہی ہے ویسے ہی ان سے متعلق مسائل بھی بڑھ رہے ہیں

Related image

کریم

منیلا

July 22, 2019

کیا آپ کا جم جانے کے لیے وارڈروب بنا ہے؟

کراچی جدت ویب ڈیسک ::کیا آپ اپنی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے باقاعدگی سے جم جاتے ہیں ، اگر ہاں تو پھر اس کے لیے ایک باقاعدہ وارڈروب آپ کی روز کی مشقت کو دلچسپ بنا سکتا ہے۔
عموماً باڈی بلڈنگ یا فٹنس کے لیے جم جانے والے افراد ایک عام سے ٹی شرٹ اور اسپورٹ ٹراؤزر میں جم کا رخ کرتے ہیں جس میں ورک آوٹ کرنا ان کے لیے آرا م دہ ہو، لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جم جانے کے لیے بھی ایک وارڈروب ہونا چاہیے ۔
اگر نہیں سوچا تو آج سے سوچنا شروع کریں کہ یہ عمل آپ کی روزمرہ کی باڈی بلڈنگ کا ایک پیشہ ورانہ رخ دے گا، اور آپ اپنے روٹین کے ورک آؤ ٹ میں حیرت انگیز اور خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔
اگر آپ واقعی یہ وارڈروب بنانے جارہے ہیں تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس وارڈروب میں کیا کیا ہونا چاہیے۔
شرٹ
ایکسرسائز کے لیے بغیر آستینوں والی شرٹ آپ کو جم میں لگے آئینوں کے ذریعے اپنے ورک آؤٹ کے مسلز پر فوری اثرات جانچنے میں مدد دیتی ہے ، اگر آپ ہلکے رنگوں کی شرٹ استعمال کریں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ اب تک کتنا پسینہ بہا چکے ہیں۔
ٹراؤزر کا انتخاب
بہت سے لوگ اکثر جینز کی پتلون یا شارٹ نیکر میں جم چلے جاتے ہیں، جبکہ ورک آؤٹ کرنے کے لیے سویٹ پینٹس یا پاجامے انتہائی مناسب ہیں، اگر آپ گہرے رنگوں کے پاجامے استعمال کریں تو اور بھی بہتر ہے ۔ اس سے پسینہ بہنے پر آپ کے زیریں جسم کے خدوخال نمایاں نہیں ہوں گے۔
فٹ وئیر
یقیناً آپ نے دفتری استعمال کے جوتے الگ اور پارٹی کے جوتے الگ کررکھے ہوں گے ، اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے جم کے لیے بھی جوتے مختص کریں ، بہتر یہ ہے کہ یہ جاگرز یا اسنیکرز ہوں ، چپل میں جم جانا انتہائی معیوب لگتا ہے اور کبھی کبھار ہاتھ سے ویٹ لفٹنگ کا سامان گر جانے کی صورت میں آپ کے پاؤں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے
ہیڈ بینڈ
کسی بھی کھیل یا ورک آؤٹ کی طرح باڈی بلڈنگ میں بھی بال حد سے زیادہ تنگ کرتے ہیں، اگر آپ جم جاتے ہیں تو آپ کو اس کا اندازہ ضرور ہوگا، سو ایک اچھا سا ہیڈ بینڈ آپ کے ان مسائل کو حل کرسکتا ہے۔

July 22, 2019

کانٹیکٹ لینز لگا کر نہانے والے برطانوی کی آنکھ ضائع

جدت ویب ڈیسک ::برطانیہ میں کانٹیکٹ لینز اتارے بغیر نہانے والا شخص اپنی دائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگیا۔
برطانوی اخبار شروپ شائر سٹار میں شائع ہونے والے ایک کالم ’ اپنی بینائی کی لڑائی‘ میں متاثرہ مریض نے اپنی زندگی کے سب سے ہولناک حادثے کے متعلق لکھا ، 29 سالہ نک ہمفریز نے جو مذکورہ اخبار میں ملازم بھی ہیں لکھا ایک برس قبل چشمے کی اذیت سے نجات حاصل کرنے کے لیے کانٹیکٹ لینز کا استعمال شروع کیا اور شاید یہ میری زندگی کا سب سے برا فیصلہ تھا۔
وہ کہتے ہیں ایک دن صبح اٹھنے کے بعد ورزش کے لیے جم گیا اور کسرت کرنے کے بعد قدرے جلد ہی گھر لوٹا تاکہ غسل کر کے دفتر جانے کی تیاری کر سکوں اور بغیر لینز اتارے نہانے چلا گیا، غسل کے بعد آنکھ میں معمولی تکلیف ہوئی لیکن اسے نظر انداز کرتے ہوئے دفتر پہنچا اور معمول کے کام جاری رکھے لیکن آہستہ آہستہ آنکھ لال ہونے لگی اور مجھے دیکھنے میں دقت محسوس ہونے لگی۔
ان کا کہنا تھا کہ معالجین نے اس تکلیف کو آنکھ میں الرجی سمجھا تاہم جب مکمل طبی ٹیسٹ ہوئے تو انکشاف ہوا کہ نوجوان نہانے کے دوران لینس میں پانی بھرجانے کے باعث میں مرض کا شکار ہو گئے اور بینائی سے محروم ہو گیا۔

July 19, 2019

پاکستانی کھانوں کی دھوم ، روایتی کھانوں پر مشتمل کتاب کی اقو ام متحدہ نیویارک میں تقریب

جدت ویب ڈیسک ::اقوام متحدہ میں پاکستانی کھانوں اور ثقافت کی دھوم مچ گئی۔ روایتی کھانوں پر مشتمل کتاب کی نیویارک میں تقریب رونمائی ہوئی۔
ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کتاب کے ذریعے پاکستانی کلچر، روایتی ذائقوں اور خوبصورت ثقافت کو روشناس کروایا گیا ۔
صدر جرنل اسمبلی تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ صدر جنرل اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دورہ پاکستان میں کھانوں، ثقافت اور لوگوں سے ملنے والے پیار سے متاثر ہوئی۔
مستقل پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ تقریب کا مقصد پاکستانی کلچر،روایتی ذائقوں اور خوبصورت ثقافت سے روشناس کروانا ہے، کتاب اقوام متحدہ کے تمام مشنز میں تقسیم کی جائے گی۔

July 16, 2019

برطانیہ میں پاکستان کی سر جڑی بچیوں کاپچپن گھنٹے میں کامیاب آپریشن

جدت ویب ڈیسک :: برطانیہ میں پاکستان کی سر جڑی بچیوں کو کامیاب آپریشن کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والی دو سالہ بچی صفا اور مروہ اللہ کو چار ماہ قبل لندن کے مقامی اسپتال داخل کرایا گیا، اس عرصے میں دونوں بہنوں کے تین بڑے آپریشنز کیے گئے جن پر مجموعی طور پر پچپن گھنٹے لگے۔
پیچیدہ عمل میں ڈاکٹرز کے علاوہ سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی حصہ لیا، دونوں بچیاں اس وقت لندن میں ہی مقیم ہیں جہاں اُن کی فزیو تھراپی جاری ہے اور وہ آئندہ سال وطن واپس آئیں گی۔
چارسدہ کی زینب نے دوایسی بچیوں کو جنم دیا جن کے سرایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے،گھر والوں نے مکہ مکرمہ کی پہاڑیوں صفا و مروہ کی مناسبت سے دونوں کے نام بھی صفا اور مروہ رکھ دیے ، ،جوں جوں بچیوں کی عمر بڑھی تو ماں نے سرالگ کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی تلاش شروع کردی۔
صفا اور مروہ کی ماں نے سرالگ کرنے کیلئے پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر اویس جیلانی سے رابطہ کیا،دونوں بچیوں کومخیرحضرات کے تعاون سے برطانیہ پہنچایا گیا،علاج کے اخراجات پاکستان کی کاروباری شخصیت مرتضیٰ لاکھانی نے اٹھائے۔
گزشتہ برس 25اکتوبر کو ڈاکٹر اویس جیلانی اور ڈاکٹر ڈناوے سمیت میڈیکل ٹیم نے20 گھنٹے طویل آپریشن کیا جس میں دماغ کی شریانوں کےرابطے ختم کئےگئے،دونوں بچیوں کے بچنے کے چانس انتہائی کم تھے تاہم تقریباً ایک ماہ بعد دوسرے آپریشن کا مرحلہ آیا جب15گھنٹے طویل آپریشن کے دوران شریانوں کو الگ الگ کردیا گیا۔
اگلا مرحلہ کھوپڑی کو گول کرنا اور جلد تیار کرنا تھا،یہ مشکل کام بھی ڈاکٹروں کی ٹیم نے سرانجام دے ہی دیا اور فروری 2019میں 17گھنٹے طویل آپریشن کے دوران دونوں بچیوں کے سروں کو الگ الگ کردیا گیا،اس کامیاب آپریشن کے بعد ڈاکٹر جب باہر آئے تو بچیوں کی ماں زینب نے دونوں کے ہاتھ چوم لئے۔
ڈاکٹر اویس جیلانی اور ڈاکٹر ڈناوے اس قسم کے دو آپریشن پہلے بھی کرچکے ہیں تاہم صفا و مروہ کے آپریشن کو میڈیکل کی تاریخ کا مشکل ترین آپریشن قرار دیا جارہا ہے۔
دونوں بچیوں کو 5ماہ بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تاہم دونوں فزیو تھراپی کرانے کیلئے آئندہ سال جنوری تک برطانیہ میں ہی رہیں گی۔

Image result for pakistani 2 baby head operation in london

برطانیہ سر جڑی بچیاں ‏ کامیاب آپریشن ‏ لندن ‏ ‏92 نیوز

July 15, 2019

توند سے نجات۔گرم موسم کی شدت میں کمی لانے والا مزیدار مشروب۔۔

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ستو کا شربت بنانے کا طریقہ۔۔۔۔۔۔
ستو کو شکر (پسا ہوا گڑ) میں مکس کریں اور پھر اسے مکسچر کو ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کریں، اس کے بعد اس میں تھوڑا سا لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔اگر آپ توند سے نجات پانا چاہتے ہیں یا پیٹ پھولنے کے مسئلے سے پریشان ہیں تو اس موسم کے ایک فائدہ مند مشروب کو پینا عادت بنالیں۔
ستو سے بننے والا یہ مشروب گرم موسم میں جسم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے ساتھ گرمی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔
ستو ایک قسم کا آٹا ہے جسے مختلف قسم کی گندم یاجو وغیرہ کو آگ پر پکا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شربت بنایا جاتا ہے جبکہ کئی اقسام کی دیگر کھانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
توند سے نجات
ستو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، پروٹین سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ پیٹ کو بھی دیر تک بھرے رکھتا ہے، اس کے علاوہ ستو میں موجود پروٹین جسمانی وزن میں کمی یا یوں کہہ لیں چربی گھلانے کا بھی کام کرتا ہے، ستو پیٹ پھولنے کے مسئلے کو بھی دور کرتا ہے جبکہ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے جسم کو کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔
نظام ہاضمہ میں بہتری
خالی پیٹ ستو کا شربت پینا معدے کے مختلف مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرم موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، جبکہ ستو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جسمانی توانائی میں اضافہ
ستو میں آئرن موجود ہوتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور دن بھر جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید
ستو میں گلیسمیک انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کا استعمال معمول بنانا (چینی یا گڑ کے بغیر) بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے بھی اس کا شربت مفید ہے۔

نوٹ:  اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Image result for how to make sattu drink

Related image

July 11, 2019

اب کپڑے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔کیونکہ۔۔۔جانیے

جدت ویب ڈیسک ::اب کپڑے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واشنگ مشین میں کپڑے دھوئے بغیر بھی زندگی ممکن ہے، مگر کیسے؟
واشنگ مشین میں دھونے سے زیرِ جامہ کی شکل اور رنگ خراب ہوسکتے ہیں۔۔۔
’بنیادی طور پر ہمیں زندگی میں ایک اصول بنا لینا چاہیے۔ اگر کسی چیز کو صفائی کی ضرورت نہیں تو اسے صاف نہ کیا جائے۔‘
یہ بات معروف فیشن ڈیزائنر سٹیلا مکارٹنی نے برطانوی اخبار آبزرور کو ایک انٹرویو میں بتائی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے یہ گُر لندن کے مشہور درزیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھا ہے۔
سٹیلا مکارٹنی کے بقول ’اصول یہ ہے کہ آپ میل یا گندگی کو خشک ہونے دیں تا کہ اسے برش سے صاف کیا جاسکے۔‘
ممکن ہے کہ یہ بات انہوں نے انٹرویو کے آخر میں ویسے ہی کہہ دی ہو، لیکن یہ پڑھ کر وہ لوگ ضرور حیران ہوئے ہوں گے جو ہر ہفتے اپنے ڈھیر سارے کپڑے دھوتے ہیں۔
کیا ان کی بات میں واقع کوئی وزن ہے اور کیا کپڑے نہ دھونا قدرے بہتر عمل ہے؟
کپڑے دھونے سے ماحول کو خطرہ
مکارٹنی نے کپڑے نہ دھونے کا یہ مشورہ پہلی مرتبہ نہیں دیا۔ بلکہ انھوں نے کئی بار کہا ہے کہ کپڑوں کی لمبی زندگی کے لیے واشنگ مشین کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔پلاسٹک سوپ فاؤنڈیشن نامی ادارے سے تعلق رکھنے والی کارکن لورا ڈیاز سینچز بھی اس بات سے متفق ہیں کیونکہ ان کے مطابق روزمرہ کے کپڑوں میں مصنوعی مواد، جیسے پولیسٹر اور ایکریلک، زیادہ ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا ’جب بھی ہم کپڑے دھوتے ہیں تو اوسطاً 90 لاکھ پلاسٹک کے باریک ریشے یا مائیکروفائبرز ماحول میں داخل ہو جاتے ہیں۔
’فرق اس چیز سے پڑتا ہے کہ ہم اپنے کپڑے کس طرح دھوتے ہیں یا ہمارے کپڑے کس چیز سے بنتے ہیں۔ مگر ہم جتنی بار کپڑے دھوئیں گے اس سے ماحول میں اتنے زیادہ مائیکروفائبرز داخل ہوں گے۔‘
ان کے مطابق کپڑے دھوتے وقت مشین کا درجہ حرارت کم رکھتے ہوئے کپڑے دھونے والے پاؤڈر کی بجائے مائع ڈٹرجنٹ استعمال کرنا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ واشنگ مشین میں زیادہ کپڑے نہیں ڈالنے چایییں کیونکہ تھوڑے کپڑوں میں رگڑ بھی کم پیدا ہوتی ہے۔
کپڑے محفوظ رکھنے کا فن
لیکن بات صرف مائیکروفائبرز سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی تک محدود نہیں۔ کپڑے دھونے سے ان کی زندگی کم ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جلد ہی ایسے کپڑے پھینک کر نئے کپڑے خرید لیں گے۔
لندن کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر میں فیشن ڈیزائننگ کورس کے سربراہ اینڈریو گرووز نے بتایا کہ واشنگ مشین میں لگنے والی رگڑ سے ہی داغ دُھلتے ہیں لیکن اسی وجہ سے کپڑوں کی شکل اور رنگ خراب ہو جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا ’میری الماری میں عشروں سے کچھ کپڑے موجود ہیں جو اب بھی نئے لگتے ہیں کیونکہ میں ان کی دیکھ بھال کرنا جانتا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات مہنگے اور روزمرہ دونوں قسم کے کپڑوں پر لاگو ہوتی ہے۔ ان کے مطابق آپ جتنی احتیاط برتیں گے آپ کے کپڑے اتنا ہی لمبا عرصہ چلیں گے۔
یہ بات خواتین کے زیرِ جاموں پر سچ ثابت ہوتی ہے۔ مکارٹنی نے آبزرور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’روزانہ انگیا تبدیل نہیں کرتیں‘۔
اس بات سے زیر جامہ کی ڈیزائنر نایومی ڈی ہان بھی متفق ہیں۔ ڈی ہان نے اپنے برانڈ کے خریداروں کو مشورہ دیا ہے کہ پانچ مرتبہ پہننے کے بعد انگیا کو نیم گرم پانی میں ڈال کر بچوں کے شیمپو سے اپنے ہاتھوں سے دھونا چاہیے۔
ان کے کپڑے مہنگے داموں میں فروخت ہوتے ہیں لیکن انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ بات روزمرہ کے زیر جامے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سپورٹس برا کو زیادہ دھونا چاہیے۔
ان کے مطابق واشنگ مشین سے نازک کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ ’اس سے تاریں باہر نکل آتی ہیں، رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور شکل بگڑ سکتی ہے۔‘
نائومی ڈی ہان کے مطابق اگر آپ کو پھر بھی کپڑے دھونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ’کپڑے پھٹنے کا خیال رکھیں، لانجری بیگ استعمال کریں، زیادہ گرم پانی میں مت دھویں، دھونے کے بعد ان کی شکل ٹھیک کرلیں اور سُکھانے کے لیے کپڑے لٹکا دیں یا ہموار سطح کا استعمال کریں۔‘
مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی کپڑے دھونے کے بعد انھیں خشک کرنے والی مشین یا ڈرایئر میں مت سُکھائیں۔
اگر لیوائز کے سی ای او چِپ برگھ اپنی جینز نہیں دھوتے تو آپ کیوں دھوتے ہیں؟
جینز تو رہنے ہی دیں
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مہم ’لو یور کلودز‘ یا ’اپنے کپڑوں سے پیار کریں‘ کی سربراہ سارہ کلیٹن کہتی ہیں کہ جینز دھونے کے بجائے اسے پہننے کے بعد ہوا لگوا لیں۔ ’اگر جینز پر کوئی داغ لگا ہوا ہے تو صرف اس داغ کو پانی سے صاف کرلیں اور پوری جینز کو نہ دھوئیں۔‘بغیر دھوے جینز پہننا شاید ماننے میں نہ آتا ہو لیکن معروف کمپنی لیوائز کے سربراہ چِپ برگ بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔
سال 2014 کے دوران مئی میں لوگ اس بات سے خاصے حیران ہوئے تھے جب چِپ برگ نے بتایا تھا کہ جو جینز انھوں نے پہن رکھی ہے اسے انھوں نے کبھی نہیں دھویا۔ اس بات کے پانچ سال بعد انھوں نے رواں سال مارچ میں امریکی چینل سی این این کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی جینز کو ابھی تک نہیں دھویا۔ ان کی جینز کو بغیر دُھلے 10 سال گزر چکے ہیں۔
پروفیسر گرووز چِپ برگ کی بات سے متفق ہیں اور یہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ اپنی جینز فریزر میں رکھ کر جراثیم مار سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو میں جانتا ہوں وہ اپنی جینز کبھی نہیں دھوتے۔ ’یہ بات عجیب لگتی ہے کیونکہ جینز ایک ایسی چیز ہے جو شاید روز پہنی جاتی ہے۔ شاید ایسا اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ جینز کا رنگ پھیکا پڑے۔‘ان کے مطابق لوگوں کو یہ رویہ جینز کے ساتھ ساتھ باقی کپڑوں کے لیے بھی اپنانا چاہیے۔

بشکریہ بی بی سی

July 10, 2019

نفرت اور غصے کے جذبات۔۔کینسر میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔تحقیق

کراچی ۔جدت ویب ڈیسک ::ہر بُری بات اور کام پر غصہ تو انسانی فطرت ہے منفی جذبات آپ کو کینسر میں مبتلا کرسکتے ہیں۔۔۔
ہم میں سے بہت سے افراد اپنے ساتھ برا کرنے والوں کے خلاف نفرت اور غصے کے جذبات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ جذبات ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ غصہ اور نفرت جیسے منفی جذبات ہمیں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا کرسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق منفی جذبات صرف دماغ کو ہی نہیں بلکہ جسم کو بھی یکساں نقصان پہنچاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جذبات کرونک اینگزائٹی پیدا کرتے ہیں، یہ اینگزائٹی اینڈرلائن اور کارٹیسول نامی ہارمون پید اکرتی ہے۔
جسم میں ان ہارمونز کی بہت زیادہ افزائش ان مدافعتی خلیات کونقصان پہنچاتی ہے جو کینسر کے خلاف مدافعت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ان جذبات کی زیادتی انسان کو کینسر میں مبتلا کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کا آسان حل یہ ہے کہ چیزوں کو درگزر کیا جائے اور معاف کرنے کی عادت اپنائی جائے۔ یہ دماغی و جسمانی دونوں طرح کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو معاف کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کی نیند بھی بہتر ہوتی ہے، معدے کے مسائل کا کم سامنا ہوتا ہے جبکہ مختلف تکالیف کے لیے دوائیں بھی کم کھانی پڑتی ہیں۔