July 27, 2017

کراچی، پشاور، راولپنڈی بدترین ماحولیاتی شہروں میں شامل

جدت ویب دیسک :پاکستان کے 3 شہر دنیا کے فضائی آلودہ کے شکار 20 شہروں کی فہرست میں پچھلے 3 سال سے اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں ، ان میں دو صوبائی دارالحکومت اور ایک وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر بھی ہے ۔ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ کے مطابق کراچی ،پشاور اور روالپنڈی نے ماحولیاتی لحاظ سے دنیا کے بدترین شہروں میں جگہ بنالی ہے،دنیا کے پندرہ شہروں میں پشاور دوسرے ،راولپنڈی چوتھے اور کراچی چودہویں پر موجود ہے۔فضائی آلودگی پر جاری ورلڈ اکانومک سروے کی 2015 اور 2016 میں فہرست میں بھی یہی 3 شہر شامل تھے، بھارتی شہر دسویں، بارہویں اور سترہویں نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی اہم وجہ حیاتیاتی ایندھن ہے اورزیادہ تر ایشائی ممالک اس کا شکار ہیں ،یہ آلودگی انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور مختلف جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 70 لاکھ افراد صرف فضائی آلودگی کےباعث مر جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے حکومتی اور انفرادی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے

July 27, 2017

زمین کے درجہ حرارت پر کنٹرول کے نئے منصوبے

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :  سوئٹرزلینڈ کے شہر زیورخ کے مضافات میں ایک سوئس کمپنی کلائم ورکس کی 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کی فیکٹری نے مئی میں فضا سے گرین ہاؤس گیسوں کو کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ اس فیکٹری میں دیو قامت پنکھے اور فلٹر لگائے گئے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی پیمانے پر کاربن ڈائی اکسائیڈ کھینچنے والا دنیا کا پہلا بڑا پلانٹ ہے۔ ہوا سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں کھینچنے سے عالمی درجہ حرارت کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اس پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی معروف  ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے 75 لاکھ ڈالر کے عطیات اکھٹے کیے ہیں۔ اپنے اس منصوبے پر وہ 2018ئ میں ایری زونا میں اپنے کام کا آغاز کریں گے۔ اس پراجیکٹ کے تحت زمین پر پہنچنے والی سورج کی حرارت کی شدت کم کی جائے گی اور یہ ہدف مصنوعی بادل بنا کر حاصل کیا جائے گا۔سائنس دان زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور مصنوعی طریقے سے زمین پر آنے والی سورج کی حدت کم کرنے کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پراجیکٹ بہت مہنگا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف پورے کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تیزی سے کرہ ارض کا درجہ حرارت کم کر سکیں۔

July 26, 2017

خبردار۔۔۔ گٹھلی کھانے سے پرہیز کریں،ورنہ موت

جدت ویب ڈیسک :پھل کھائیں صحت پائیں لیکن انکے بیج یا گھٹلی نہیں خوبانی اور آلوبخارا جیسے پھل کھائیں تو بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ان کی گٹھلی توڑ کر اس میں موجود ’گری‘ کھا جاتے ہیں لیکن ایک پھل ایسا ہے جس کی گٹھلی کی گری کھانا آپ کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے،چنانچہ غلطی سے بھی اس کی گری مت کھائیں۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ پھل ’چیری‘ ہے۔برطانوی شہر بلیک پول میں 29سالہ میتھیو کریمی نامی شخص نے چیری کھائی اور اس کے بعد اس کے دل میں آیا کہ اس کی گٹھلی توڑ کر گری بھی ٹرائی کرے۔اس نے ایک گٹھلی توڑی اور گری کھائی تو اسے اس کا ذائقہ اچھا لگا چنانچہ اس نے 2 اور گٹھلیاں اور بھی توڑیں اور ان کی گری بھی کھا لی۔دس منٹ بعد ہی اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ اسے سردرد ہونے لگا، غنودگی طاری ہو گئی اور جسم بے حس و حرکت محسوس ہونے لگا۔ کچھ دیر بعد اس کی غنودگی جب زیادہ بڑھنے لگی اور بخار بھی ہو گیا تو اس نے اپنی بیوی 23سالہ جارجینا میسن کو ایمبولینس بلانے کو کہا۔جب طبی عملہ پہنچا تو اس نے بتایا کہ میتھیو نے کافی مقدار میں زہریلی چیز کھا لی ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال لیجانا ہو گا۔ چنانچہ اسے بلیک پول وکٹوریہ ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ صحت مند ہونے پرجب میتھیو نے ڈاکٹروں نے بیماری کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اسے بتایا کہ ”چیری کی گٹھلی سے نکلنے والی گری میں ’Cyanide‘ نامی عنصر پایا جاتا ہے جو دراصل ہائیڈروسیانک ایسڈ کا نمک ہوتا ہے جو انتہائی زہریلا ہوتا ہے اور اس کی تھوڑی سی مقدار بھی آدمی کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔ بالخصوص بچوں کے لیے یہ انتہائی مہلک ہوتا ہے اور ان کے بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

 

 

 

July 26, 2017

ڈینگی بخار نے تباہی مچادی ، 300 افراد ہلاک

کولمبو جدت ویب ڈیسک سری لنکا میں رواں سال مون سون کی بارشوں کے بعد پھیلنے والے ڈینگی بخار کے باعث 300 افراد ہلاک ہو گئے۔سری لنکا کے حکام کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہوا جس کے نتیجے میں ڈینگی نے وبا کی صورت اختیار کرلی ہے۔مئی 2003 میں بھی سری لنکا میں شدید مون سون بارشوں کے باعث آنے والے طوفان کے نتیجے میں تقریباً 250 افراد ہلاک اور 10 ہزار گھر تباہ ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق رواں سال اب تک ڈینگی کے ایک لاکھ سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سے لگ بھگ 300 مریض دم تور گئے ہیں۔سری لنکا میں ڈینگی سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس پر قابو پانے کے لیے ہلالِ احمر سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں سری لنکا کی حکومت کے علاوہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔عالمی تنظیموں کے علاوہ آسٹریلیا کی حکومت نے بھی اس وبا سے نمٹنے کے لیے سری لنکا کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ریڈ کراس اور ہلالِ احمر کے عہدیداران کے مطابق ڈینگی سے ہزاروں افراد متاثر ہوچکے ہیں جس کے باعث سری لنکا کے بیشتر ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض موجود ہیں۔ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرسری لنکا کا مغربی صوبہ ہوا ہے جہاں بارشوں سے بھی شدید نقصانات ہوئے تھے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے جو اس وقت بھی 100 سے زائد ملکوں میں وبا کی صورت میں موجود ہے۔عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39 کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنھیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ سری لنکا میں رواں سال مئی میں شدید بارشوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے تھے۔

July 26, 2017

سیانا تو پھر سیانا ہی ہوتا ہے

کراچی جدت ویب ڈیسک ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک کتا جنگل میں راستہ بھول گیا۔ ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اْسے شیر کے دھاڑنے کی آواز سنائی دی۔ کتا دل ہی دل میں بولا “لو بھئی، آج تو موت پکی ہے ۔اچانک اْسے اپنے قریب پڑے ایک جانور کا ڈھانچہ نظر آیا، اور پھر اگلے ہی لمحے اْسے ایک ترکیب سوجھی۔اْس نے ایک ہڈی اْس ڈھانچے سے نکال کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لی، اِس دوران شیر اْس کی پچھلی طرف نہایت قریب پہنچ گیا۔کتے نے بڑی بہادری سے شیر کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ہڈی پر منہ مارناشروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ غراتے ہوئے اپنے آپ سے بولا “آج تو شیر کے شکار کا مزہ ہی آگیا، اگر کہیں سے ایک آدھ شیر اور مل جائے تو مزہ دو بالا ہو جائے ۔۔!۔ شیر نے جیسے ہی کتے کی یہ بات سنی اْس کی تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ اْلٹے پاؤں وہاں سے بھاگ گیا۔ایک بندر اْوپر درخت پر بیٹھا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ کتے سے بولا “اچھا بیوقوف بنایا ہے شیر کو میں ابھی اْسے سب سچ سچ بتا کے آتا ہوں۔۔ کتے نے اْسے بہت روکا لیکن وہ نہ رْکا اور شیر کی کچھاڑ میں پہنچ کر سارا ماجرہ سنا دیا کہ، کس طرح کتے نے اپنی جان بچانے کے لیے اْسے بیوقوف بنایا تھا۔شیر نے جب یہ سنا تو وہ غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور بولا اچھا، یہ بات ہے ! چلو میرے ساتھ ابھی اْس کتے کو سبق سکھاتا ہوں۔ جب یہ دونوں وہاں پہنچے تو کیا دیکھا، کتا ویسے ہی اْن کی طرف پشت کر کے بیٹھا ہوا ہے اور زور زور سے بول رہا ہے ۔میرا بھوک سے بْرا حشر ہو رہا ہے اور یہ بندر کا بچہ کب سے شیر کو لانے گیا ہے ابھی تک واپس نہیں آیا۔

July 26, 2017

تشویشناک خبر‘دنیا میں انسان کی معدومیت کا خطرہ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے مردوں میں سپرم یعنی نطفوں کی تعداد میں کمی حالیہ رفتار سے جاری رہی تو انسان معدوم ہو سکتا ہے۔محققین نے 200 الگ الگ تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ان خطوں میں مردوں کے نطفوں کی تعداد آئندہ 40 سال سے بھی کم عرصے میں موجودہ تعداد سے نصف رہ جائے گی۔تاہم ہیومن رپروڈکشن اپ ڈیٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو کچھ ماہرین قابل بھروسہ نہیں مانتے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ہاگائی لیون نے کہا ہے کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے، وہ اس حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ماہرین نے یہ اندازہ 1973 سے 2011 کے دوران ہونے والے 185 مطالعوں کے نتائج کو سامنے رکھ کر لگایا ہے۔ڈاکٹر لیون جو کہ وبائی امراض کے ماہر ہیں نے گفتگو میں بتایا کہ اگر یہی رحجاجن رہا تو انسان معدوم ہو جائیں گے۔جو سائنس دان اس تحقیق میں شامل نہیں تھے اس ریسرچ کی کوالٹی کی تعریف تو کرتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ شاید ابھی اتنی پختہ نہیں ہے۔یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر لیون یورپ، شمالی امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مردوں کے نطفوں کی کل تعداد میں 59 اعشاریہ تین فیصد کمی دیکھی۔اس کے مقابلے میں جنوبی امریکہ، ایشیا اور افریقہ میں مردوں کے نطفوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی تاہم تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ ان خطوں میں بہت کم اس قسم کی ریسرچ کی گئی ہے۔گذشتہ تحقیقات میں معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں نطفوں میں تیزی سے کمی کے ایسے ہی اشارے ملتے ہیں لیکن اس سے انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ وہاں بہت زیادہ آبادی ایسی تھی جو نقائص کا شکار تھی۔ مثلاً وہاں ریسرچ میں شامل کیے جانے والے مردوں کی تعداد یا تو بہت کم تھی یا پھر ایسے مردوں کو لیا گیا جو پہلے ہی اپنے علاج کے لیے کلینک جاتے تھے۔یہ بھی کہا گیا کہ اس قسم کی تحقیق کو سائنسی جرنل میں شائع ہونا چاہیے تھا۔ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ پہلے پہل سپرم کی تعداد معلوم کرنے کے طریقے میں شاید انھیں اصل تعداد سے کئی زیادہ گن لیا جاتا تھا۔

July 26, 2017

جھگڑالو بیوی اور پالتو کتا، شادی شدہ حضرات ایک بار ضرور پڑھیں

کراچی جدت ویب ڈیسک میں دوپہر کو پورچ میں بیٹھا تھا کہ اس دوران ایک السیشن نسل کا خوبصورت لیکن انتہائی تھکا ماندہ سا چھوٹا کتا کمپاؤنڈ میں داخل ہوا، اس کے گلے میں پٹہ بھی تھا، میں نے سوچا ضرور کسی اچھے گھر کا پالتو کتا ہے ، میں نے اسے پچکارا تو وہ پاس آ گیا،میں نے اس پر محبت سے ہاتھ پھیرا تو وہ دم ہلاتا وہیں بیٹھ گیا،بعد میں میں جب اٹھ کر اندر گیا تو وہ کتا بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں چلا آیا اور کھڑکی کے پاس اپنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا اور میرے دیکھتے دیکھتے سو گیا،میں نے بھی کمرے کا دروازہ بند کیا اور صوفے پر آن بیٹھا، تقریبا ایک گھنٹے نیند کے بعد کتا اٹھا اور دروازے کی طرف گیا تو اٹھ کر میں نے دروازہ کھول دیا، وہ باہر نکلا اور چلا گیا،اگلے دن اسی وقت وہ پھر آ گیا، کھڑکی کے نیچے ایک گھنٹہ سویا اور پھر چلا گیا_اس کے بعد وہ روز آنے لگا، آتا، سوتا اور پھر چلا جاتا،میرے ذہن میں تجسس دن با دن بڑھتا ہی جا رہا تھا کہ اتنا شریف، سمجھدار اور پیار کرنے والا کتا آخر ہے کس کا اور کہاں سے آتا ہے ؟ایک روز میں نے اس کے پٹے میں ایک چٹھی باندھ دی، جس لکھ دیا: آپ کا کتا روز میرے گھر آکر سوتا ہے ، یہ آپ کو معلوم ہے کیا؟اگلے دن جب وہ پیارا چھوٹا سا کتا آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پٹے میں ایک چٹھی بندھی ہوئی ہے ، اس کو نکال کر میں نے پڑھا،اس میں لکھا تھا: یہ بہت اچھا پالتو کتا ہے ، میرے ساتھ ہی رہتا ہے لیکن میری بیوی کی دن رات کی جھک جھک، بک بک کی وجہ وہ سے سو نہیں پاتا اور روز ہمارے گھر سے کہیں چلا جاتا ہے ،اگر آپ اجازت دے دیں تو میں بھی اس کے ساتھ آ سکتا ہوں کیا۔

July 26, 2017

ظالمو۔۔۔۔کچھ شرم کرو

کراچی جدت ویب ڈیسک سردار اپنے خاندان کے ساتھ ٹرین میں جا رہا تھا،دورانِ سفر ایک باڈی بلڈرنما پہلوان سے لڑائی ہو گئی،پہلوان نے سردار کے گال پہ زور سے تھپڑ مارا،سردار – میری تو کوئی بات نہیں، لیکن میرے بھائی کو مارا تو پھر دیکھنا -پہلوان نے بھائی کے منہ پر بھی زور سے مکہ مار دیا -سردار – تو نے اگر میرے بیٹے کو ہاتھ بھی لگایا پھر تیری خیر نہیں -پہلوان نے بیٹے کو بھی اٹھا کے پرے پھینک دیا -سردار اب غصے سے بولا – میری بیوی کو کچھ کہا تو تجھے مجھ سے کوئی نہیں بچا پائے گا -پہلوان نے بیوی کو بھی چٹیا پکڑ کے سیٹ سے نیچے گرا دیا -اب سردار خاموشی سے سیٹ پر بیٹھ گیا،تھوڑی دیر بعد جب اسٹیشن سے اترے تو ایک آدمی بولا -سردارجی ، یہ بات آپ کے تھپڑ پر ہی ختم ہو سکتی تھی ، لیکن آپ نے پہلوان کو چھیڑ کر پورے خاندان کو پٹوا دیا -سردار – بھائی تم نہیں سمجھو گے ، اگر میں اکیلا پِٹتا تو یہ سب گھر جا کر میرا مذاق اڑاتے ۔
نوٹ :- شریف خاندان سے مماثلت اتفاقیہ سمجھی جائے ۔