August 23, 2017

جرمنی پولیس نےٹرمپ کی شکل والی نشہ آور گولیاں فروخت کرنے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا

جدت ویب ڈیسک :فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن پولیس نے اوزنابرگ کے شہر میں خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی کی اور دو افراد کو گرفتار کرلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد امریکی صدر کی شکل سے مشابہ نشہ آور گولیاں فروخت کرنے کا کام کررہے تھے۔پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں نشہ آور گولیاں برآمد کی گئیں جبکہ ان کی فروخت میں ملوث دو آسٹروی باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار افراد نشہ آور گولیاں آن لائن فروخت کرتے تھے۔پولیس حکام کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے دونوں افراد سگے باپ بیٹے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کی ہم شکل نشہ آور گولی کا نام ’ایکٹسی‘ ہے اور یہ مضر صحت بھی ہے، ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر استعمال کرنے سے اب تک کئی لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان گولیوں کو کھانے سے متعلقہ شخص کا بلڈ پریشر بہت بڑھ جاتا ہے اور سر چکراتا ہے ساتھ میں گھبراہٹ بھی محسوس ہوتی ہے جس سے ذہنی حالت خراب ہونے کے بہت زیادہ خدشات ہیں۔ممنوعہ گولیوں کی فروخت پر پوری دنیا میں پابندی عائد ہے، ان گولیوں کی اگلے حصے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر جبکہ اس کے پچھلے حصے پر ان کا نام درج ہے۔

August 22, 2017

بچوں کی پسندیدہ سلانٹی پر پابندی لگانے کا فیصلہ

لاہورجدت ویب ڈیسک :: بچے ہمارا مستقبل ہیں اور کلرڈ سلانٹی معدے جگر کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر کا باعث بھی بنتی ہے، اسی وجہ سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں فروخت ہونے والی کلرڈ سلانٹی مضر صحت ہونے کے باعث پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتھارٹی حکام کے مطابق کلرڈ سلانٹی بنانے والی کمپنیوں کو یکم اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی جائے گی تا کہ کمپنیاں اپنا سٹاک ختم کر لیں اور یکم اکتوبر کے بعد سلانٹی کی فروخت پرپابندی ہو گی۔یکم اکتوبر کے بعد اتھارٹی کی جانب سے پنجاب بھر میں چیکنگ کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی پر کاروبار بند کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے روزنامہ دنیا سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ کلرڈ سلانٹی جو ہمارے بچے بہت شوق سے کھاتے ہیں، ان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

August 21, 2017

زیابیطس کے شکار لوگوں کو ایسی غذا لینی چاہیے جو انہیں انسولین اور دیگر پیچیدگیوں سے محفوظ رکھے

جدت ویب ڈیسک : ذیابیطس یعنی شوگر کے مریضوں کو خاص طور پر غذا کا خیال رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ماہرین صحت کہتے ہیں ذیابیطس کے شکار لوگوں کو ایسی غذا لینی چاہیئ جو انہیں انسولین اور دیگر پیچیدگیوں سے محفوظ رکھے۔ غذا کا درست تعین کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی پسندیدہ چیزیں کھانا چھوڑ دی جائیں بلکہ کھانے کے نظام کو منظم کیا جائے ماہرین چند ایسی غذائیں تجویز کرتے ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کو ضرور استعمال کرنی چاہئیں۔امرود:امرود میں بھی جامن کی طرح گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے ۔امرود وافر مقدارمیں فائبر فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے قبض کی شکایت دور ہوجاتی ہے جو کہ عمومی طور پر شوگر کے مریضوں کو ہوتی ہے۔کچھ تحقیق کے مطابق امرود جسم کی شوگر کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور دوپہر کی خوراک کے لئی موثر ہے۔ہلدی:ہلدی بھی شوگر کے مریضوں کے لیے مؤثر ہے ۔ہلدی کو بلڈ پریشر کا لیول متوازن رکھنے کے لیے ایک طاقتور غذائی اجزاء مانا جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ہلدی کا استعمال شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے اور جسم سے کیلوریز تیزی سے کم کرتا ہےچقندر:چقندر میں کاربوہائیڈریٹ کی کمی پائی جاتی ہے لیکن اس میں وٹامن، فائبر فائیٹو نیوٹرینٹ کی مقدار پائی جاتی ہے۔چقندر سے لپوئک ایسیڈ بھی ملتا ہے جس کے باعث جسم میں زہریلے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں۔ٹماٹر:ٹماٹر کا استعمال دل کے لیے مفید ہے یہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بچاتا ہے جن کا خدشہ ذیابیطس کے باٰعث ہوتا ہے۔ٹماٹر میں وٹامن سی ، اے اور پوٹیشیم پایا جاتا ہے۔ٹماٹر میں کیلوریز کی کمی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے ۔کریلے:ماہرین کے مطابق روزانہ صبح ایک گلاس کریلے کا رس پینے سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔کریلے ذیابیطس کی شکایت کو ختم کرنے میں انتہائی مفید ہیں۔ کریلہ خون صاف کرتا ہے اور جسم کو جراثیم سے دور رکھتا ہے جب کہ ساتھ ہی کیلوریز بھی کم کرتا ہے ۔جامن:جامن وہ پھل ہے جو جگر، نظام ہاضمہ اور شوگر کے لیے بے حد موثر ہے ۔جامن کی بیج کا پاوڈربلڈ پریشر اور شوگرلیول کو متوازن کرتا ہے ۔جامن میں گلائسیمک انڈیکس کی کمی ہوتی ہے جس کی مدد سے شوگر کے مریض بار بار بھوک میں آسانی سے کھا سکتے ہیں۔بھارتی اینڈوکرائینولوجسٹ کے ماہر ڈاکٹر سنجے کلرا کے مطابق ذیابیطس کے مریض کو ایسی غذا لینی چاہیے جس میں کاربوہائیڈریٹ اور کیلوریز کم ہوں لیکن وہ غذائیت سے بھرپور ہو۔

 

 

 

 

 

 

 

August 21, 2017

بلوچستان ہیپاٹائٹس کےاعتبار سے انتہائی ہائی رسک قرار

جدت ویب ڈیسک :بلوچستان صوبے میں ہیپاٹائٹس کےحوالےسےانتہائی ہائی رسک اضلاع کی تعداد آٹھ ہوگئی۔پاکستان میں انسداد ہیپاٹائٹس کےحوالےسےقائم ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی جانب سے پہلے بلوچستان کےسات اضلاع کو ہیپاٹائٹس کےحوالےسےانتہائی ہائی رسک قرار دیا جاچکا ہے۔وزیراعلیٰ کا پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس کے صوبائی کوآرڈی نیٹرڈاکٹراسماعیل میروانی کےمطابق ہائی رسک اضلاع میں ہیپاٹائٹس کی شرح 10سے32فیصدہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔میں ہیپاٹائٹس کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔صوبے کےایک اورضلع کو ہیپاٹائٹس کےاعتبار سے انتہائی ہائی رسک قراردےدیاگیا اس صورتحال کےباعث فری اسکریننگ اورویکسی نیشن کاپروگرام شروع کیاجارہاہے۔ڈاکٹراسماعیل میروانی کے مطابق فری اسکریننگ اورویکسی نیشن اکتوبرکےوسط میں شروع ہوگی۔پروگرام کے پہلےمرحلےمیں 10لاکھ افراد کی مفت اسکریننگ اورویکسی نیشن کی جائےگی۔ڈاکٹراسماعیل میروانی کاکہناہے کہ مہم کادوسرامرحلہ آ ئندہ سال فنڈزکی دستیابی پرمکمل کیاجائےگا۔عوام میں ہیپاٹائٹس کی روک تھام کےحوالےسےآگہی مہم بھی چلائی جائےگی تاکہ عوام میں اس بیماری کےحوالےسےخود ہی شعور بیدار ہو۔ان کا یہ بھی کہناتھا کہ حکومت کی جانب سے بیپاٹائٹس بی،سی اور ڈی کےمریضوں کاعلاج بھی کیاجارہاہے اوراس کےاخراجات حکومت برداشت کررہی ہے۔ان میں نصیرآباد،سبی، ژوب،کوہلو،بارکھان،لورالائی اورموسیٰ خیل شامل ہیں تاہم اب اس فہرست میں ایک اور ضلع جعفرآبادکابھی اضافہ ہوگیاہے۔