July 17, 2017

کراچی و حیدر آباد سمیت سندھ کے 14 اضلاع میں پینے کے صاف پانی میں انسانی فضلہ پائے جانے کا انکشاف

جدت ویب ڈیسک :سندھ میں پینے کے پانی کے معیار سے متعلق فراہمی نکاسی آب کمیشن کی ٹاسک فورس کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔جب کہ کراچی میں 90 فیصد پانی کے نمونے پینے کے لیے نقصان دہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے پانی کے 33 فیصد نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا جب کہ ٹھٹھہ میں 75 فیصد پانی کےنمونوں میں انسانی فضلہ ملا جو کہ صوبے بھر میں سب سے زیادہ مقدار ہے اور سب سے کم انسانی فضلے کے نمونے تھرپارکر کے پانی میں پائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق واٹر بورڈ حکام نے بتایا کہ پانی میں کلورین ملایا جاتا ہے اور ایک ماہ میں ایک کروڑ سے زائد مالیت کی کلورین استعمال کی جاتی ہے لیکن شہر سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونوں میں کلورین شامل ہی نہیں ہے اور 40 فیصد آبادی کو ٹینکرز کے ذریعے سپلائی ہونے والے پانی میں بھی کلورین نہیں ہوتا۔دوسری جانب اس معاملے پر وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کراچی و حیدرآباد میں فلٹر پلانٹس کے لیے رقم مختص کی گئی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے فوری اقدامات کیے جائیں گے جب کہ دونوں شہروں میں فلٹر پلانٹس کی اپ گریڈیشن بھی رواں سال کی جائے گی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 14 اضلاع میں 83 فیصد پانی کے نمونے انسانی جانوں کے لیے خطرناک حد تک مضر ہیں۔رپورٹ میں میرپورخاص میں 28 فیصد، ٹنڈوالہ یار 23، بدین 33، جامشورو 36، ٹنڈو محمد خان 30 ، لاڑکانہ 60 اور حیدر آباد میں 42 فیصد پانی کے نمونوں میں انسانی فضلہ پائے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔جب کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں اسپتالوں میں فراہم کیے جانے والا پانی بھی انتہائی مضر صحت ہے۔رپورٹ کے مطابق سندھ کے 14 اضلاع کے 71 اسپتالوں میں بھی پانی کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے اور اسپتالوں کو فراہم کردہ 88 فیصد پانی کے نمونے مضر صحت نکلے جب کہ ان حاصل نمونوں میں سے 33 فیصد نمونوں میں سیوریج کا پانی شامل ہے۔

July 15, 2017

راول ڈیم میں زہر ملائے جانے کا انکشاف ،ہزاروں من مچھلیاں ہلاک

جدت ویب ڈیسک : مچھلی نہ پکڑنے کی سزا محکمہ فشریز کے حکام کا کہنا ہےکہ ڈیم میں مچھلیاں پکڑنے اور کشتی رانی پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے مافیا کو مچھلیاں پکڑنے سے روکنے پر اس نے ڈیم کے پانی میں زہر ملا دیا جس سے اب تک تین دنوں میں ہزاروں من مچھلیاں ہلاک ہوچکی ہیں۔میئر اسلام آباد اور چیرمین سی ڈی اے شیخ انصر نے گفتگو میں کہا کہ راول ڈیم کا انتظام اور کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس ہے، ڈیم کا پانی راولپنڈی کےشہریوں کو دیا جاتا ہے جب کہ اسلام آباد کو خان پور اور سملی ڈیم سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔حکام کے مطابق راول ڈیم سے پینے کے لیے بھی پانی فراہم کیا جاتا ہے اس لیے پانی میں زہر ملائے جانے کے بعد پینے کا پانی بھی زہریلا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ڈیم کا پانی شدید آلودہ ہوچکا ہے جب کہ زہر ملانے سے متعلق حتمی رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد ہی بتایا جاسکے گا کہ ڈیم میں کس قسم کا زہر ملایا گیا۔راول ڈیم انتظامیہ کے مطابق ڈیم سے روزانہ 24 ملین گیلن پانی واسا کو دیا جاتا ہے اور واساکی درخواست پر ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کی گئی ہے جب کہ راولپنڈی کو بھی عارضی طور پر پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے اور رپورٹ آنےکے بعد پانی کی فراہمی بحال کی جائے گئی۔انتظامیہ کا کہنا ہےکہ پانی کے نمونوں کی تحقیقات واسا کرتا ہے، پانی اورمچھلی کےنمونوں کا تجزیہ کیا جارہا ہے، ڈیم میں مچھلی کی 10سے زائد اقسام موجود ہیں جب کہ ابتدائی تحقیقات کے تحت صرف سلورمچھلی مردہ پائی گئی۔ڈیم میں مبینہ طور پر زہر ملانے کا مقدمہ محکمہ فشریز کی مدعیت میں تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کرلیا گیا ہے تاہم اس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔راول ڈیم کا علاقہ اسلام آباد انتظامیہ کے انڈر میں آتا ہے لیکن انتظامیہ نے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

July 15, 2017

متوازن غذا،ورزش،صحت مند زندگی کی علامت، مزید پڑھیے

جدت ویب ڈیسک ؛تحقیق کے مطابق غذا میں فریزر کیے ہوئے پھل اور سبزیوں کو کھانا مضر ہے اس سے ان کی قدرتی افادیت میں کمی آجاتی ہے جس سے معدے میں خرابی اور تیزابیت کی شکایت کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے اس لیے ماہرین غذا کے انتخاب محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔غذاکے غلط انتخاب کا اثر صحت پر براہِ راست ہوتا ہے تو ایسے میں موٹاپا، معدے کی خرابی نظام ہاضمہ کی شکایات موصول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیں صحت مندانہ تیل کا استعمال:ماہرین کا کہنا ہےکہ کھانا بنانے کے لیے ایسے تیل کا استعمال کیا جائے جوصحت کے لیے مفید ہو۔ماہرین صحت کے مطابق کھانے میں تیل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ اچھی صحت کے لیے تیل کی مقدار کھانے میں کم رکھی جائے اس سے جسم میں فیٹ سالیوبل وٹامنز جذب ہوجاتے ہیں۔کافی پینے سے جسم کے تمام اعضاء حرکت میں رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں وہ دیر تک جیتے ہیں اور یہ دل کے، دماغ، جگر اور سروسس جیسی بیماری کے خدشات لاحق ہونے سے محفوظ رکھتی ہےغذا میں تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ سفید ڈبل روٹی کے استعمال کے بجائے براؤن بریڈ کا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔فریزر کے پھلوں اور سبزیوں سے پرہیز:ماہرین کے مطابق فریزر والے پھل اور سبزیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سبزیوں اور پھلوں کو فریز کرنے سے ان میں نیوٹریشن ختم ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی اس میں وٹامنز اور معدنی افادیت فراہم کرنے میں بھی کمی آجاتی ہے جو کہ صحت میں بہت سی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔اس لیے فریزر والی غذا سے پرہیز کیا جائے اور تازہ پھل اور سبزیوں کا انتخاب کیا جائے۔جسم میں آئرن کی ضرورت:جسم میں آئرن کا ہونا انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آئرن سے جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے۔تحقیق کے مطابق آئرن کا جسم میں وافر مقدار میں ہونا دل کے امراض سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے اس لیے ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جس سے آئرن حاصل ہو۔

July 15, 2017

آپ کا بلڈ گروپ کیا ہے ؟؟ جانئے آپ کیلئے کیا بہتر ہے

جدت ویب ڈیسک:دنیا میں موجود تمام افراد A،B،ABیاOقسم کے خون کے حامل ہیں ،ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے خون کی اپنی خصلتیں ہیں انہی کے حوالے سے کچھ تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
خون کی قسم اور بیماریاں
اس بات کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ کون کس قسم کے خون کا حامل ہےاور اسی لحاظ سے یہ بیماریوں کا کم یا زیادہ شکار ہوسکتا ہے ۔
خون کی اقسام اور غذا
یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آپ کو خون کے حساب سے کونسی غذا موافق آتی ہےاور کس غذا سے پرہیز ضروری ہے ۔
Aٹائپ کے حامل افراد کو زیادہ سے زیادہ سبزیاں اپنے خوراک کا حصہ بنانا چاہئیں۔
Oٹائپ کے افراد کو مچھلی اور گوشت کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے۔
ABٹائپ کے حامل افراد کو سی فوڈ اور آئرن سے بھرپور غذائوں کا استعمال کرنا چاہئے۔
Bٹائپ کے حامل افراد کو سرخ غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل رکھنا چاہئے۔
خون کی قسم اورپیچیدگیاں
Oٹائپ خون کے حامل افراد کو باقی کے مقابلے میں زیادہ آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔
خون کی قسم اور وزن
خون کی قسم اور وزن کا بڑا گہرا تعلق ہے جس میںOٹائپ حامل افراد زیادہ چربی والے اورAٹائپ میں تقریباً اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
خون کی قسم اور حمل
ABقسم کی حامل خواتین زیادہ آسانی سے زچگی کے مراحل طے کرپاتی ہیں۔
خون کی قسم اور ایمرجنسی
کسی بھی حادثے کی صورت میں اگر آپ کو خون کی ضرورت پیش ہو تو یاد رکھئےOاور Rh-قسم کے حامل افراد عالمگیر ڈونر بن سکتے ہیں جبکہ ABٹائپ کے حامل افراد کو کسی کا بھی خون دیا جاسکتا ہے۔

July 14, 2017

حیرت انگیز انکشاف ،پاکستان میں ہر سال کتنا پانی ضائع ہوتا ہے؟

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک :پاکستان میں ہر سال بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی بہت خراب صورت حال ہے اگر کوئی بڑا ڈیم ہوتا تو اتنا پانی ضائع نہ ہوتا ،واپڈاکے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 25 ارب روپے کی مالیت کا پانی ضائع کردیا جاتا ہے۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق بد انتظامی اور نئے ذخائر تعمیر نہ کرنے کے باعث سنہ 1990 میں پاکستان ان ممالک کی صف میں آگیا تھا جہاں آبادی زیادہ اور آبی ذخائر کم تھے جس کے باعث ملک کے دستیاب آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔سنہ 2005 میں پاکستان پانی کی کمی والے ممالک کی صف میں آکھڑا ہوا۔اب ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مزید جاری رہی تو بہت جلد پاکستان میں شدید قلت آب پیدا ہوجائے گی جس سے خشک سالی کا بھی خدشہ ہےوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے دوران واپڈا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دریاؤں میں ہر سال 14.5 کروڑ ایکڑ فٹ ( پانی کو ناپنے کا پیمانہ) پانی آتا ہے تاہم اس میں سے صرف 1.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ہی مناسب طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے۔بریفنگ میں واپڈا چیئرمین نے بتایا کہ تربیلا ڈیم کی بنیاد میں ریت جمع ہو رہی ہے جس کے باعث اس کے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت میں 36 فیصد کمی آگئی ہے۔ان کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت 96 لاکھ ملین ایکڑ فٹ سے گھٹ کر 66 لاکھ ملین ایکر فٹ ہوگئی ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 70 سالوں میں پاکستان میں صرف 2 ڈیم تعمیر کیے جاسکے ہیں۔ماہرین ماحولیات و آب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قلت آب کی صورتحال قدرتی نہیں بلکہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم فوری طور پر نئے آبی ذخائر بنانے پر توجہ دیں تو ہم ممکنہ خشک سالی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر موجود ہے جہاں آبادی کے لحاظ سے آبی ذخائر پر شدید دباؤ ہے تتیجتاً پاکستان میں تیزی سے آبی قلت واقع ہورہی ہے اور بہت جلد پاکستان خشک سالی کا شکار ملک بن سکتا ہے۔