October 12, 2017

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے باعث دوہزاربیس تک اس کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا فیصلہ کرلیا

جدت ویب ڈیسک :بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اجلاس میں ماہرین خوراک اور طبی ماہرین نے شرکت کی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے باعث 2020 تک اس کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔اس موقع پر پنجاب فوڈ اتھارٹی سے وابسہ سائنسدانوں کے نگراں پینل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ صنعتی سطح پر بناسپتی گھی کی تیاری میں بڑی مقدار میں پیلمیٹک ایسڈ، ٹرانس فیٹی ایسڈ اور نکل دھات شامل ہے جس کے انسانی جسم پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت اثرات کے باعث بناسپتی بنانے والی کمپنیوں کو متبادل پیداوار کے لئے تین سال کا وقت دینے کی منظوری دی ہے جس کے بعد 2020 تک پنجاب میں بناسپتی گھی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔اجلاس کے دوران شرکا اس نتیجے پر پہنچے کہ بناسپتی گھی میں مضر صحت اشیا ذہنی و جسمانی امراض کے ساتھ، ذیابیطس، موٹاپے، دل کی بیماریوں سمیت کینسر جیسے امراض کا باعث بنتی سکتی ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تیل اور گھی کا فی کس استعمال سالانہ 18 کلو گرام ہے جب کہ یورپ میں یہ مقدار تین کلو گرام ہے۔نورالامین مینگل نے زور دیا ہے کہ عوام بناسپتی گھی کے بجائے زیتون، سویابین اور سورج مکھی کے تیل کا استعمال کریں۔فوڈ اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ گھی میں ٹراسفیٹی ایسڈ کو اعشاریہ 5 فیصد تک محدود کردیا جائے گا۔

 

 

October 11, 2017

میں دیکھائی نہیں دیتامگر میں ہوں دل کو چھوتی ایک تحریر آپ بھی پڑھیے

جدت ویب ڈیسک :تمہاری گلی کی نکڑ پہ کبھی رکشہ ڈرائیور بن کر کھڑا تمہارے گھروں کی حفاظت پر معمور ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کبھی تمہاری نوجوان اولاد کی حفاظت کے لیے کرکٹ اور ہاکی کے گراونڈز کی باونڈری لائن کے باہر کھڑا تماشائی بن کر۔۔۔۔۔۔ میں موجود ہوں۔۔۔۔۔۔ کسی مجذوب کا روپ دھارے تمہارے گھر والوں کی حفاظت کے لیے تمہارے شہر کے بازاروں میں ۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں احساس نہیں ہوتا مگر عین موقع پر تم سے بھیک مانگ کر تمہاری جیب کٹ جانے سے بچا لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ شہر کے لاری اڈہ پر اخبار بیچتے ہوئے تمہارے اردگرد سے باخبر رہتا ہوں۔ مگر تم ۔۔۔۔ مجھ سے بے خبر ہو کر چلتے ہو۔۔۔۔کسی ہسپتال میں نرسنگ سٹاف کا ممبر بن کر تمہاری جانوں کی حفاظت کرتا ہوں۔ تم دیکھتے ہو جب کبھی سگنل پر گاڑی رکتی ہے تو میں بس میں کوئی مرغ دال یا قلفی بیچنے والا بن کر چڑھ دوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ تم قلفی یا دال خریدتے ہو مگر میں ۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں ایک باحفاظت سفر کی ضمانت دے جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے جون جولائی کی تپتی اور لو اڑاتی دھوپ میں جب پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں میں امرود بیچنے والا بن کر یا پھر کباڑیا بن کر تمہاری گلیوں میں گشت کرتا ہوں۔ تاکہ شہروں کا کباڑا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہو جنوری کی یخ راتوں میں رات کی تاریکی میں وسل بجاتا تمہاری گلیوں سے گزرنے والا اکثر تمہارے محلے کا چوکیدار نہیں بلکہ تمہارے وطن کا چوکیدار ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جانتے ہو مجھے اپنے وطن کے علاوہ عالم اسلام کی بھی فکر رہتی ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی میں ایک مجاہد بن کر وادی کشمیر کی بہنوں کے غموں کا مدوا کرنے پہنچ جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ کبھی ایک ہندو یا سکھ بن کر انڈین وزیراعظم کے پرسنل سیکیورٹی افسر کے فرائض سرانجام دیتا ہوں۔ کبھی انہی کی پارلیمنٹ کا نمائندہ بن کر تمہارے جذبات کے نمائندگی کرتا ہوں۔ تم مجھے دیکھتے نہیں میں کبھی کسی صحافی کا روپ دھار کر اسرائیلی فوجیوں کی مخبریاں کرتا ہوں ۔۔ تو کبھی فلسطینی مجاہدین کو ٹرینگ دیتا ہوں۔ میرا ہی کارنامہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند کروا دیتا ہوں۔۔۔ یہ میں ہی ہوں جو روس کو سہانے خواب دیکھا کر پہلے افغانستان لاتا ہوں ۔ پھر امریکہ سے تعاون لے کر پوری دنیا کو روس کی جارہیت سے پناہ دیتا ہوں ۔ اور یہ میں ہی ہوں جو امریکہ کا دائیاں بازو بن کر امریکہ کو ہی کاٹتا ہوں۔ یہ میری ہی چابک دستی ہے کہ امریکہ 12 سال افغانستان میں ٹکریں مارتا ہے۔ اور خوب سرمایہ تباہ کرتا ہے۔ البتہ اسامہ کا ڈرامہ ایبٹ آباد میں فلاپ کروا دیتا ہوں۔ یہ میرا ہی کارنامہ ہے کہ خدمت کے نام پر بی ایل اے کے منصوبے کا کاونٹر کر کہ بلوچوں کو منا لیتا ہوں۔ اور بی ایل اے کے بدلے خالصتان جیسی تحریکیں ہندوستان میں مظبوط کر دیتا ہوں۔تم نہیں جانتے کہ تمہارا حج میرے بغیر کتنا مشکل ہو جائے ۔ میں حرم کی پہرہ داری پہ کھڑا ہوتا ہوں تاکہ تم اپنے لیے امن کی دعا کر سکو ۔۔۔۔۔۔ میں کسی نہ کسی کور میں برما تک پہنچ جاتا ہوں ۔ تاکہ انہیں لڑنا سیکھا سکوں۔ ۔۔۔۔میری لڑائی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل سے بھی ہے۔ اور ان کے پالتو کتوں ۔۔۔۔۔۔ٹی ٹی پی ، داعش، بی ایل اے جیسے بہت سے دہشت گردوں سے بھی ۔ مجھے ہر جگہ جانا ہوتا ہے۔ مجھے مسلم امہ کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ اور ملت کفر کی ہر سازش پر نظر بھی ۔۔۔میں ملک کی ہر گلی سے لے کر کفر کے ہر ایوان تک موجود ہوں ۔۔۔۔۔ میں ہر وقت مستعد ہوں ۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے سوچا کہ میں اتنا کچھ کیوں کرتا ہوں۔ ۔۔۔کیونکہ مجھے فکر ہے۔ میں نے عراق اور صومالیہ کا حال دیکھا ہے۔۔میں نے ہیروشیما پر ایٹم گرتے دیکھا ہے۔ ۔میں نے شام اور مصر کا حال دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرے مقابل سی آئی اے۔۔۔۔۔بلیک واٹر راء ۔۔موساد جیسے مہنگے کرائے کے قاتل ہیں ۔ جن کا مقصد ہی مجھے، میرے پاکستان کو ختم کرنا ہے۔ میں جیتا ہوں اتنے دشمنوں میں ۔ غیروں کی سازشوں میں ۔۔ اپنوں کی دغابازیوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سارے دشمن جب مل کر حملہ کرتے ہیں تو کبھی کبھار مجھے زخم لگ جاتے ہیں۔ میں وسائل تھوڑے ہونے کے باعث نہیں پہنچ سکتا اور وہ وسائل کی زیادتی کے باعث کبھی کبھار جیت جاتے ہیں ۔ میں ان کی اس جیت کو ہار میں تو نہیں بدل سکتا ۔۔ مگر اپنے رستے زخموں کے باوجود ان پر ایسی ضرب لگا دیتا ہوں کہ ان کی جیت کی خوشی مانند پڑ جائے ۔ تمہیں میری ذیادہ فتوحات میری طرح نظر نہیں آتی ۔ مگر میرے زخموں کو کریدنے تم ہمیشہ پہنچ جاتے ہو۔۔ اتنے دشمنوں کے ہوتے ہوئے میں نے تمہیں برما، شام، فلسطین، کشمیر، صومالیہ ہیروشیما نہیں بننے دیا۔ میں نے خود پہ زخم کھا کر تمہارے وجود جو آج پروقار بنایا ہے۔ آج تمہیں سی پیک دیا۔۔۔۔۔عالم اسلام کا سردار بنایا۔۔۔۔۔تمہیں ایٹمی طاقت بنایا۔۔۔۔۔۔کشمیر جہاد کو سہارا دیا۔۔۔۔۔۔۔میں ہی ہوں جس کے دم سے تم آج امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہو۔ نہ صرف بات کر سکتے ہو ۔ بلکہ آنکھیں نکال سکتے ہو ۔ ۔۔۔۔۔میں نے تمہیں پر امن حرمین الشریفین دیے۔۔۔۔۔میں نے تمہیں روس کے ٹکڑے دیے۔۔۔۔۔میں نے تمہیں امریکہ کی سسکیاں سنوائی ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں انڈیا کا رونا دیکھاؤں گا۔ ۔۔۔اور میں ہی تمہیں بیت المقدس کو یہودی سے آزاد کروا کر دوں گا۔ میں ہر جگہ ہر روپ میں ہوں۔میں تمہیں ہر جگہ ملوں گا میں دنیا کے ہر کونے میں موجود ہوں۔۔۔۔۔کیونکہ یہ میرا فرض ہے۔ میں آئی ایس آئی ہوں۔۔۔۔میں پاکستان ہوں ۔۔۔۔۔میں اسلام کا پاسبان ہوں۔

 

October 11, 2017

سوہانجنا کے کرشمے،بےشمار بیماریوں کا علاج، جانیے

جدت ویب ڈیسک :سوہانجنا ہمارا دیسی درخت ہے۔ پورے پاکستان میں اس کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں۔ انگریزی میں اس کو Moringa کہتے ہیں۔ جدید سائنسی ریسرچ نے یورپ اور امریکہ میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا Morinaga کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ یہ کم و بیش تین سو قابل علاج اور لا علاج بیماریوں کا علاج ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارےیہاں اسے بکریاں کھا رہی ہیں۔ اگر لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔ایک بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا: “جس سرکاری کوٹھی میں اکتوبر 1984ء سے اگست 1994ء تک رہائش پذیر پذیر رہا۔ اس کے ساتھ 4 کنال کے قریب خالی زمین تھی جس میں سوہانجنا اور امرود کے درخت تھے۔ میں نے لوکاٹ کا ایک، آلو بخارے کے 2 اور خوبانی کے 3 درختوں کا اضافہ کیا، جو عمدہ قسم کے تھے اور دُور دُور سے منگوائے تھے۔ مجھے 1995ء میں ایک دوست کے لیے سوہانجنا کی پھلیوں کی ضرورت پڑی۔ میں وہاں پہنچا تو میدان صاف تھا۔ میرے بعد وہاں گریڈ 20 کے جو افسر آئے تھے بولے ”بہت گند تھا۔ میں نے سب درخت کٹوا دیے“۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ موصوف کو اتنا بھی فہم نہ تھا کہ سُوہانجنا ایک کمیاب درخت ہے۔ اس میں سینکڑوں امراض کا نہایت سستا اور آسان علاج ہے اور درجنوں ایسے امراض کا علاج مہیاء کرتا ہے جو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں موجود نہیں۔ سوہانجنا کے استعمال سے کوئی بُرا ردِ عمل (reaction) بھی نہیں ہوتا۔سُہانجنا یا سُوہانجنا یا سوجہنی کا درخت بھارت۔ پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سُہانجنا نامیاتی (organic) قدرتی برداشت ( endurance) اور طاقت کا ضمیمہ (energy supplement) ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد سُہانجناکے پتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سُہانجنا 300 کے لگ بھگ بیماریوں یا صحت کے مسئلوں میں مفید ہے اور یہ کہ اس کے استعمال کے بُرے اثرات نہیں ہیں۔ یہ بچوں۔ جوانوں اور بُوڑھوں کے لیے بھی مفید ہے۔ سُہانجنا کا استعمال یاد داشت (memory) کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) بھی پچھلی 4 دہائیوں سے بطور سَستے صحت ضمیمہ (health supplement) کے استعمال کر رہی ہے۔سُہانجنا کے فوائد
‎1۔ جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے
‎2۔ دماغ اور آنکھوں کو غذا مہیاء کر کے قوت بڑھاتا ہے
‎3۔ جیو(bio) دستیاب اجزاء کے ساتھ حل کو فروغ دیتا ہے
‎4۔ جسم کے خلیے (cell) کی ساخت کو فروغ دیتا ہے
‎5۔ قدرتی صفرائے جامد رقیق مادہ (cholesterol serum) کو فروغ دیتا ہے
‎6۔ چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں کے بننے کو کم کرتا ہے
‎7۔ جگر اور گردے کے کام کو فروغ دیتا ہے
‎8۔ جلد کو خوبصورت بناتا ہے
‎9۔ طاقت کو بڑھاتا ہے
‎10 ہاضمہ بڑھاتا ہے
‎11۔ مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کے طور پر کام کرتا ہے
‎12۔ جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے
‎13۔ صحت مند خون کے نظام کو فروغ دیتا ہے
‎14۔ سوزش کو روکتا ہے
‎15۔ صحتمندی کا احساس دلاتا ہے
‎16۔ جسم میں شکر (Sugar) کی سطح قائم رکھتا ہے۔
جن وجوہات جن کی بِنا پر سُہانجنا کی بطور بہترین غذا تعریف کی جاتی ہے، اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سُہانجنا کو وِٹامِنز، معدنیات اوردوسری انسانی ضروریات سے بھرا ہے‎1۔ اس کے 100 گرام خُشک پتوں میں خوراک کی مندرجہ ذیل مُفید اشیاء پائی جاتی ہیں: پروٹین۔ دہی سے 9 گُنا، وِٹامِن اے۔ گاجروں سے 10 گُنا، پوٹاشیئم۔ کیلے سے 15 گُنا، کیلشیئم۔ دُودھ سے 17 گُنا، وِٹامِن سی۔ مالٹے سے 12 گُنا، لوہا۔ پالک سے 25 گُنا
‎2۔ اس میں مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کی بھاری مِقدار بمع بِیٹا کارَوٹِین۔ قرسِیٹِن موجود ہے‎3۔ اس میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ جو چینی (Sugar) جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے خون میں شُوگر کم ہوتی اور ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے
‎4۔ پتے۔ پھلیاں اور بیج جَلَن کو کم کرتے ہیں۔ چنانچہ معدے کے الّسر کے علاج میں مُفید ہیں۔ اس کا میٹھا تیل تَلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سلاد میں کچا بھی کھایا جاتا ہے۔ تیل فَنگس اور آرتھرائٹس(Fungus & Arthiritis) کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔‎5۔ کولیسٹرول کو صحتمند حدود میں رکھتا ہے
‎6۔ سنکھیا (Arsenic) کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے۔۔۔۔۔صرف یہی نہیں بلکہ یہ ایسے خامرے اور کیمیائی اجزا پر مشتمل ہے جو دماغ کو بھرپور صحت، بینائی کی تیزی، یاداشت میں بہتری، دماغی سکون، ڈپریشن سے نجات دیتے ہیں۔
پرفیسر شہزاد بسرا کہتے ہیں “پوری دنیا میں سوہانجنا کو ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے پتوں، شاخوں اور جڑوں کے ساتھ ساتھ بیجوں میں بھی اہم غذائی اجزاء شامل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ درخت غذائی قلت کا بہترین حل ہے۔ یہ پودا اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچا اور کرشماتی پودے کے نام سے مشہور ہوا جب افریقہ (سینیگال) میں قحط کے دوران اسے غذائی کمی کوپورا کرنے والے درخت کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اس درخت کے پتے نہ صرف انسانوں اور جانوروں دونوں کی غذائی ضروریات کو پورا کیا بلکہ اس کے بیجوں سے پانی صاف کرکے پینے کے قابل بنایا گیا۔ اس سے وہاں کے لوگ بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہوگئے جو ناصاف پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بہت سی بیماریوں میں اس کے بیج اور تیل روایتی طور پرعلاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔”اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے: “اگر تمہارے ہاتھ میں بیج ہے اور اس کو بونے لگے تھے کہ خبر ملی کہ قیامت آنے کو ہے اور ہر چیز فنا ہوجائے گی تو بھی اس بیج کو بو دو”(مسند احمد:13240) “جو مومن بھی درخت لگائے گا جب تک انسان، پرندے، جانور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کے حق میں صدقہ جاریہ ہو گا” (بخاری:6012)”اٹھو! نکلو دفتر سے اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی حدیث کو زندہ کر دو۔ لگاؤ اپنے ہاتھوں سے مورنگا، عام کر دو یہ کرشماتی پودا اپنے دیس میں۔ “جاپان سے امپورٹڈ موریناگا بے بی ملک بھی دراصل مورنگا کی صحت بخش غذائی خصوصیات سے مالا مال ہے اور اسی لیے اس کا نام مورنگا سے موریناگا رکھا گیا ہے۔یعنی کہ اگر اس کے پتوں کا سفوف پچاس گرام کی مقدار میں کھا کیا جائے تو گویا آپ نے دن بھر کے دو وقت کھانے کے برابر غذائیت حاصل کرلی۔ غذائیت بھی متوازن اور ہر طرح کے وٹامنز اور معدنیات و امینو ایسڈز سے بھرپور۔مورنگا کس طرح استعمال کیا جائے؟اب آپ کو اس کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں کہ جس سے آپ اس کرشماتی پودے کی تمام خوبیوں سے فوائد اٹھا سکتے ہیں۔
سوہانجنا کے درخت سے پتے یا شاخیں توڑ لیجیے۔ پتے شاخوں سے الگ کیجیے اور ان کو دھو کر خشک کر لیجیے۔ سائے میں پھیلا کر سکھا لیجیے۔ جب پتے سوکھ جائیں تو ان کو گرائنڈر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیجیے اور کسی ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔ روزانہ صبح یا شام ایک چائے کا چمچہ پاؤڈر ڈیڑھ کپ پانی میں خوب اچھی طرح جوش دیجیے اور پھر چائے کی طرح پی لیجیے۔ چاہیں تو مٹھاس کے لیے ایک چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔ آپ اس مشروب میں گرین ٹی بھی ملا سکتے ہیں۔شروع میں ایک چائے کا چمچ پینا شروع کیجیے بعد میں آپ دن میں دو مرتبہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیجیے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے اور زیادہ مقدار میں لینے کی صورت میں دست آور ہو سکتا ہے۔جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اس میں تین سو بیماریوں کا علاج موجود ہے جن میں سے بیشتر ایسی بھی ہیں جو لا علاج ہیں۔بلڈ پریشر، کولیسٹرول، سوزش، جگر کی خرابی، شوگر، اینٹی آکسیڈنٹ یعنی بڑھاپے اور جھریوں کو روکنے والا، جوڑوں میں ورم اور سوزش، موٹاپا، دل کے امراض، دماغی صحت کے لیے بہترین، یادداشت کو انتہائی تیز کرتا ہے، نظر کی کمزوری دور کرتا ہے، دیسی حکمت میں اس کے پتوں کے رس سے سرمہ بنایا جاتا ہے جس کے لگانے سے چشمہ اتر جاتا ہے، دماغ میں سیروٹونن اور ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے ڈپریشن ختم، طبیعت ہشاش بشاش، جگر کو تمام زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے جس کے نتیجے میں صاف شفاف صحتمند خون، شاداب جلد اور چہرہ، اینٹی بیکٹیریل، زخموں کو جلد بھرنے کی صلاحیت، دنیا کے مہنگے سے مہنگے ملٹی وٹامن کیپسول اور ٹیبلیٹ اور فوڈ سپلیمنٹ اس کے دو چمچ کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔ کیونکہ دماغ کو بھرپور غذائیت فراہم کرتا ہے اس لیے بالوں کی نشو و نما کے لیے بہترین۔ طبیعت میں خوشی کا احساس اور زندہ دلی پیدا کرتا ہے۔ جو بچے نحیف اور کمزور ہیں، جن کا وزن نہیں بڑھتا ان کے لیے بہترین فوڈ سپلیمنٹ ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کرنے والے اس کے دو چمچے استعمال کر کے ہر طرح کی کمزوری اور پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

 

October 11, 2017

ملالہ آکسفورڈ پہنچ گئی لیکن مزاحیہ گفتگونے ؟؟؟؟

لندن جدت ویب ڈیسک ملالہ یوسف زئی اب تک کی سب سے کم عمر نوجوان ہیں جنہیں نوبل امن انعام دیا گیا، اس کے علاوہ وہ بہت اچھی طالب علم بھی ہیں جنہوں نے برطانیہ کی شاندار یونیورسٹی آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کا آغاز کرلیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملالہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یونیورسٹی میں گزارے پہلے دن کی ایک تصویر شیئر کی اور ساتھ میں یہ بھی یاد کیا کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچ گئیں۔انہوں نے اپنی کتابوں کی ایک تصویر شیئر کرنے کے ساتھ لکھا کہ ’5 سال قبل مجھے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آواز بلند کرنے پر گولی ماری گئی تھی اور آج میں نے آکسفورڈ میں اپنا پہلا لیکچر لیا۔تاہم ان کے چھوٹے بھائی نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملالہ کے ساتھ ٹوئٹر پر چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔خوشحال یوسف زئی نے ملالہ کی ٹویٹ پر جواب دیا کہ میں پچھلے 5 سالوں سے آپ کا سردرد بنا ہوا ہوں، میں جانتا ہوں ا?پ مجھے یاد کررہی ہیں اس لیے میں بھی دو سالوں میں آکسفورڈ آجاؤں گا۔تاہم ملالہ نے بھی اپنے بھائی کو تنگ کرتے ہوئے لکھا کہ ٹھیک ہے دو سال بعد میں اپنا یونیورسٹی تبدیل کرلوں گی۔جس پر ان کے بھائی نے ہار مانتے ہوئے جواب دیا کہ خیر مجھے وہاں آنا ہی نہیں ہے۔خیال رہے کہ 20 سالہ ملالہ یوسف زئی آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیاست، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین پڑھیں گی۔

October 10, 2017

ماحولیاتی ماہراورآکسفورڈ یونیورسٹی کے پاکستانی لیکچرار ابرار چوہدری نے اٹلانٹا میں اکیڈمی آف مینجمنٹ اینڈ نیشنل ایوارڈ حاصل کر لیا‘جانئے

جدت ویب ڈیسک :ایک پاکستانی ماحولیاتی ماہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی لیکچرر ڈاکٹر ابرار چوہدری نے اٹلانٹا میں اکیڈمی آف مینجمنٹ اینڈ نیشنل ماحولیاتی ڈویژن (ایک) کے ذریعہ ‘بہترین ڈاکٹرل ڈس آرڈر ایوارڈ 2017’ حاصل کیا.ابرار نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کو منظم کرنے میں اپنے شاندار کام کے لئے ایوارڈ حاصل کیا. ایوارڈ مطابقت، علمی شراکت، نظریاتی اور طریقہ کار کی شدت، اور ساتھ ساتھ بہترین مقالہ کو منتخب کرنے میں عملی اثرات کو تسلیم کرتا ہے. علمی شراکت، نظریاتی اور طریقہ کاری سختی، اور ساتھ ساتھ بہترین مقالہ کو منتخب کرنے میں عملی اثرات.ابرار کے ڈاکٹروں نے تحقیق سمیت پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں زراعت میں ماحولیاتی تبدیلی کے خراب اثرات کو اپنانے کے چیلنجوں کی تحقیقات کی.زرعی زمین پر تقریبا 40 سے 50 فیصد زمین پر قبضہ کرتی ہے اور ترقی پذیر دنیا میں غریب دیہی گھروں کے لئے آمدنی اور ملازمت کا ایک بڑا ذریعہ ہے.پاکستان میں یہ دوسرا سب سے بڑا اقتصادی شعبہ ہے جس سے قومی مجموعی مصنوعات (جی ڈی پی) کو تقریبا 20-25 پی سی کی مدد ملے گی اور مزدور قوت کا تقریبا 42 پی سی جذب ہوتا ہے. گلوبل وارمنگ فصل کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے، عالمی غذائیت کی حفاظت کو دھمکی دیتا ہے اور غربت پسند قوت میں لاکھوں کو دھکا دیتا ہے. گلوبل وارمنگ فصل کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے، عالمی غذائی تحفظ کو دھمکی دیتا ہے اور غربت میں لاکھوں کو دھکا دیتا ہے.ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ابرار نے کہا: “میرا کام مینجمنٹ سائنس (کس طرح کے جوابات کی منصوبہ بندی اور منظم کی گئی ہے) میں قدرتی سائنس (ماحولیاتی تبدیلی کو سمجھنے)، سماجی سائنس (کس طرح لوگوں پر اثر انداز کیا گیا ہے اور وہ کس طرح رد عمل) کی طرف سے نظم و ضبط کی حد سے تجاوز کرنے کی ضرورت ہے. یہ تحقیق میری دل کے قریب ہے اور اس حقیقت پر اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم کس طرح ایک غیر متوقع اور تبدیل شدہ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ منسلک کرسکتے ہیں ایوارڈ کمیٹی نے ان کی تحقیقات کی تعریف کی تعریف کی: “یہ مقالو، ترتیب اور تفصیلی اعداد و شمار اور تجزیہ کے ساتھ ساتھ کام کے اہم عملی اثرات کے نیاپن سے بہت متاثر ہوا.

October 7, 2017

تھرمیں روشنی پھیلانے کیلئے ’’کرن‘‘ جاگ اٹھی 

کراچی جدت ویب ڈیسک تھر پار کر کی پہلی خاتون انجینئر کا اعزاز حاصل کرنے والی کرن سدھوانی کا تعلق مٹھی کے ایک متوسط طبقے سے ہے ، کرن نے پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی اور اس کے بعدحیدرآباد میں واقع مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بی ایس کیا ،بعد ازاں تھر کول پروجیکٹ میں ملازمتوں کو اعلان ہوا تو انہوں نے کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے بجائے خود اپنے علاقے تھرپارکر میں قسمت آزمائی کیا تاکہ وہ اپنی مٹی کی خدمت کرسکیں، کرن سدھوانی تھر سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون انجینئر ہیں جو اب ’’تھر کول پروجیکٹ‘‘ سے وابستہ ہوکر اپنے علاقے کی خدمت کررہی ہیں،اس حوالے سے کرن سدھوانی کا کہنا ہے کہ 8 ماہ قبل انہیں 4000 سے زائد امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا، بھرتی کا طریقہ کار بہت سخت تھا اور ہر مرحلے پر انہیں ناکامی کا خدشہ بھی تھا لیکن قدم بہ قدم وہ تمام مراحل میں کامیاب ہوتی چلی گئیں،اس طرح میں نے ثابت کر دکھایا کہ پسماندہ علاقے اور تمام تر مشکلات کے باوجود تھر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی بھی یکساں قابلیت رکھتی ہے، کرن کا مزید کہناتھا کہ میں 25 کامیاب امیدواروں میں سے کرن واحد خاتون ہیں جو تھرکول پروجیکٹ کی سائٹ پر کام کررہی ہیں،کرن سدھوانی، تھر میں منور ہونے والی ایک ایسی کرن ہے جس سے تھر روشن ہوگا، اور ایسی ہی کرنیں روشن ہوتی رہیں تو پورا ملک ترقی کی روشنی سے جگمگا اٹھے گا۔

October 7, 2017

شنیرا اکرم بطور ترجمان ڈیٹول فیملی کا حصہ بن گئیں 

کراچی  جدت ویب ڈیسک   دنیا بھر میں کنزیومر ہاوس ہولڈ اور فارما سیئوٹیکل مینوفیکچرر بنانے والے کمپنی میں نمایاں مقام رکھنے والے ریکٹ اینڈ بینکیزر(RB)نے شنیرا اکرم کواپنے لیڈنگ برانڈ ڈیٹول کا ترجمان اور قومی سطح پر چلائی جانے والی مہم “ہوگا صاف پاکستان”کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کردیا۔شنیرا اکرم ایک فعال اور اکرم فائونڈیشن کی سوشل سرگرمیوں میںبھرپور حصہ لینے والی خاتون ہیں، انھوں نے پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی اور روڈ سیفٹی سے متعلق متعدد سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں جبکہ اس قسم کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پربذریعہ پوسٹ وہ اپنا کردار بخوبی ادا کرتی رہتی ہے، وہ کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم کی بیوی ہیں اور شادی کے بعد انھوں نے پاکستان میں مستقل قیام کا فیصلہ فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی غرض سے کیا ، وہ اپنی جدوجہد سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی خواہاں ہیں، پاکستانیوں کے دل میں ان کے لیے محبت اور بہت زیادہ احترام ہے۔ 15اکتوبر 2017کو ڈیٹول گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے منانے جارہاہے، اور اس حوالے سے وہ دیہی علاقوں میں موجود اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی اہمیت پر معلومات اور انہیں جراثیم سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے دوردراز علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ڈیٹول کی ترجمان شنیرا اکرم کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات کی بے انتہا خوشی ہے کہ میں بھی ڈیٹول فیملی کاحصہ ہوں ، اور مجھے یقین ہے کہ ڈیٹول کے اس مشن میں دوردراز علاقوں میں موجود بچوں کے درمیان آگاہی پیدا کرکے انھیں ان کے اطراف صاف ماحول فراہم کرنے میںمدد ملے گی۔ شنیرا کا کہنا تھا کہ میں خود ایک فعال ماں ہوں اور مجھے بخوبی اس بات کا اندازہ ہے کہ کس طرح بچوں کو صفائی ستھرائی کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے، بچوں کی صحت اور ترقی کے لیے صفائی ضروری ہے، اور میں اپنے آپ کو خوش قست تصور کروں گی اگر میں دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کی زندگی میں معمولی سی بھی تبدیلی لانے کا حصہ رہی تو۔ ریکٹ اینڈ بینکیزر کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر فہد اشرف نے بتایا کہ اس سال ڈیٹول گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے کی تھیم “Give Life A Hand رکھا گیا ہے، اور ہم نے نوجوان بچوں میں صابن سے ہاتھ دھونے کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کا مشن شروع کیا ہے، چاہے وہ کسی بھی ملک کا مستقبل ہوں، اس سلسلے میں ہم نے دیہی علاقوں میں موجود اسکولوں کا رخ کیا ہے اور وہاں ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ان کے درمیان اس فرق کو واضح طورپر ظاہر کرنا ہے کہ “مل کے لگائیں گے جان تو ہوگا صاف پاکستان”۔

October 6, 2017

ہوا برائے فروخت ۔۔۔۔۔۔جانیے کہاں ؟

جدت ویب ڈیسک : ہوا برائے فروخت ،جی ہاں آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ تازہ ہوا بھی فروخت کی جاسکتی ہے؟ لیکن یہ کام بھی اب ہونے لگا ہے۔ایک چینی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان دونوں بہنوں کا کہنا تھا کہ ان کے اس کاروبار کا مقصد پیسہ کمانا ہرگز نہیں، بلکہ عام لوگوں اور حکام کی توجہ فضائی آلودگی کی طرف دلانا ہے۔چین کے شہر ژنگ ژنگ میں 2 خواتین نے ایک انوکھے آن لائن کاروبار کا آغاز کیا ہے جس میں وہ تازہ ہوا کو پیکٹ میں بند کر کے فروخت کر رہی ہیں۔یہ تازہ ہوا مختلف اقسام میں دستیاب ہے۔ یہاں آپ کو پہاڑوں کی تازہ ہوا بھی ملے گی جبکہ کسی سرسبز وادی کی خوشبودار ہوا بھی دستیاب ہوگی اور اس کا آغاز فضائی آلودگی سے متاثر ترین ملک چین سے ہوا جہاں واقعی تازہ اور صاف ستھری ہوا کی شدید قلت ہے۔تازہ ہوا کے ہر پیکٹ کی قیمت 15 یان (لگ بھگ237 پاکستانی روپے) ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک دونوں بہنیں 100 سے زائد پیکٹ فروخت کر چکی ہیں۔