July 21, 2017

بڑھاپے میں یاداشت پر اثرانداز ہونے والی سات علامات کیا ہیں؟ جانیے

جدت ویب ڈیسک :ماہرین کا کہنا ہے کہ طرز زندگی میں معمولی تبدیلیوں سے بڑھاپے میں یادداشت کی خرابی کے مرض ڈیمینشیا سے کافی حد تک تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 5 کروڑ افراد ڈیمینشیا اور الزائمر کا شکار ہیں۔ سنہ 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر 13 کروڑ سے زائد ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والی 9 وجوہات کی طرف توجہ دے کر ان امراض سے حفاظت کی جاسکتی ہے جو کہ یہ ہیں۔درمیانی عمر میں ہونے والا بلند فشار خون1موٹاپا2بالوں کا جھڑنا3ذہنی دباؤ4ذیابیطس5جسمانی طور پر غیر متحرک رہنا6تمباکو نوشی7تنہائی کی زندگی گزارنا،ڈیمینشیا 70 سال کی عمر کے بعد ظاہر ہونے والا مرض ہے جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے اور بالآخر یہ خلیات مر جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ ڈیمینشیا کی تشخیص بہت بعد میں ہوتی ہے مگر دماغی خلیات کی خرابی کا عمل بہت پہلے سے شروع ہوچکا ہوتا ہے۔ان کے مطابق مندرجہ بالا عوامل کی طرف توجہ دے کر دماغی خلیات کو خرابی سے بچایا جاسکتا ہے

July 20, 2017

ایک چھوٹی سی غلطی نے پورے خاندان کی جان لے لی،کیسے؟؟

جدت(ریسرچ ڈیسک)تقریباً ہرگھرکےباروچی خانے میںآلو کی موجودگی عام سی بات ہے ۔ جو زیادہ آسانی سے دستیاب اور بہت جلد تیار ہونے والی غذا ہے اور ہر کوئی اسے پکانے پر دسترس رکھتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کے اس سے آپ کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ایک معمولی سی غلطی جو ایک خاندان نے 2014ء میں کی تھی ثابت کرتی ہے کہ یہ معمولی سبزی کس طرح خطرناک ہوسکتی ہے۔اس وقت Maria Chelyshevaعمر 8برس تھی اور اس کی ماں نے اسے کچن سے آلولینے بھیجا وہ جب آلو لینے گئی تو اسے خبر نہیں تھی کہ آلو سڑ چکے ہیں ۔اسے کے واپس نہ آنے پر سب سے پہلے اس کا باپ گیا اور پھر اس کی ماں،پھر اس کا بھائی اپنےماں باپ کو دیکھنے گیا جو کچن سے واپس نہیں آئے۔ اس کی دادی ماں نے کسی کے واپس نہ آنے پر پڑوسیوں کو آواز دی ۔ وہ انتہائی خوفزدہ تھی اور اس نے بتایا کہ ایک ایک کرکے تمام لوگ کچن میں گئے مگر واپس کوئی نہیں آیا،یہ بالکل کسی خوفناک فلم کا سین لگ رہا تھا اور دادی بھی کافی گھبرائی ہوئی تھی…دراصل اس بے چارے خاندان کے ساتھ کیا ہوا ۔چونکہ آلو بری طرح سڑ چکے تھے اور ان میں ایک قسم کا زہریلا کیمیکل پیدا ہوگیا تھا جسےglycoalkaloidکہتے ہیں اور جو سڑے ہوئے آلوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے جس کا ناصرف استعمال خطرناک ہوتا ہے بلکہ اس کے سونگھنے سے بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔ خوشی قسمتی سے لڑکی کی جان بچ گئی چونکہ اس کی دادی نے کچن کا دروازہ کھولا جس کے باعث ٹاکسن کی کچھ مقدار نکل گئی ۔
اگر آپ آلو اسٹور کرنا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ سڑ تو نہیں رہے ……اپنے خاندان کے تحفظ کی فکر کیجئے

July 20, 2017

نیم شفا سے بھرپور ایک دواخانہ قرار

کراچی جدت ویب ڈیسک طبی ماہرین نے نیم کی زبردست اہمیت بتاتے ہوئے اسے شفا سے بھرپور ایک دواخانہ قرار دیاہے جبکہ یہ منہ کی بدبو دور کرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کو جراثیم سے پاک کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق نیم کے پتوں کا پیسٹ زخم کے جراثیم اور انفیکشن فوری طور پر ختم کرتا ہے۔ اسی بنا پراسے زخم مندمل(بھرنے)کرنے والی جادوئی دوا کہتے ہیں۔ نیم کے تازہ پتوں کو پیس کر پانی ملائیں اور اس کا ایک پیسٹ بنا لیں اور اسے زخم پر لگائیں، یہ نہ صرف زخم کو جلدی بھرے گا بلکہ جادوئی انداز میں جراثیم کا خاتمہ بھی کر دے گا۔ماہرین نے بتایا کہ نیم کو جلد کا ٹونر کہا جاسکتا ہے، اس کی مدد سے پھوڑے پھنسیاں، مہاسے، سیاہ کیلیں اور دھبے دور کیے جاسکتے ہیں، اس کے پتوں سے نکالا گیا رس کئی طرح کے جلدی امراض کو دور کرسکتا ہے کیونکہ اس میں بیکٹیریا کے خلاف لڑنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔ نیم کے پتے جلد کو نمی فراہم کرنے اور فنگس سے بچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔ماہرین کے مطابق نیم کے پھولوں کا رس وزن کم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔ نیم کے پھولوں کا رس جسمانی استحالہ (میٹابولزم)کو تیز کرتا ہے اور چربی گھلاتا ہے، پھولوں کے رس کو لیموں یا شہد کے ساتھ ملا کر پینے سے فوری نتائج ملتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیم بالوں کی جوں کا سخت دشمن ہے اور جراثیم پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اس کے علاوہ سر کی خشکی دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق نیم کی مسواک منہ کے لیے بہت مفید ہے۔ ایک جانب تو یہ منہ میں موجود جراثیم اور بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہے تو دوسری جانب لعاب میں الکلائن کی سطح کو برقرار رکھتی ہے۔ نیم دانتوں کو اجلا بناتا ہے اور مسوڑھوں کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ منہ کے زخم اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔

July 19, 2017

جرمنی میں نسوانی اعضا کی جراحی میں اضافے کا خطرہ

برلن جدت ویب ڈیسک جرمنی میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکنوں نے کہاہے کہ تارکین وطن کی آمد میں اضافے سے 2016 میں ان لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جنہیں نازک نسوانی اعضائ کی قطع و برید کے عمل سے گذرنا پڑا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی میں رہنے والی 58 ہزار سے زیادہ لڑکیاں ایسی ہیں جن کے نازک نسوانی اعضائ کی جراحی ہو چکی ہے۔خواتین کے حقوق کی تنظیم ’ٹیری ڈی فیمس‘ کی ترجمان شارلٹ وہیل نے کہا کہ یہ تعداد 2015 کے مقابلے میں 10 ہزار کا اضافہ ہے۔عورتوں کے حقوق کی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا تھا کہ اس وقت جرمنی میں کم ازکم 13 ہزار لڑکیوں کو نازک اعضاکی جراحی کا خطرہ ہے جس پر جرمنی میں پابندی ہے۔شارلٹ کا کہنا تھا کہ اگر اس کا موازنہ سن 2015 سے کیا جائے تو یہ 4 ہزار کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ جرمنی میں بڑے پیمانے پر ایسے ملکوں سے تارکین وطن کی آمد ہے جہاں نازک نسوانی اعضا ئ کی قطع و برید وہاں کی روایات میں شامل ہے جس کی نمایاں مثال صومالیہ اور عراق ہیں۔سن 2016 میں دو لاکھ 80 ہزار کے لگ بھگ تارکین وطن جرمنی پہنچے تھے جن کی اکثریت مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں جاری لڑائیوں سے اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والوں کی تھی۔ اسی طرح پچھلے سال 8 لاکھ 80 ہزار تارکین وطن جرمنی میں داخل ہوئے۔ترجمان شارلٹ کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ جرمنی میں آنے والوں کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے اور ان کمیونیٹز سے بات کی جائے جن کے ہاں یہ چیز ایک ثفافتی رسم کے طور پر رائج ہے۔افریقہ ، ایشیا اور مشرق وسطی ٰ کے کچھ ملکوں کے کمیونیٹز میں یہ روایت موجود ہے۔

July 19, 2017

گزشتہ برس سوا کروڑ بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہے

کراچی جدت ویب ڈیسک پولیو ویکسین جو عمر بھر کی معذوری سے بچوں کو محفوظ کرتی ہے اس کے باوجود 2016 میں سوا کروڑ بچوں کو ان حفاظتی ٹیکوں سے محروم رکھا گیا۔صحت کے عالمی ادارے کی جانب سے جاری گئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر دسویں یا تقریبا ایک کروڑ29 لاکھ چھوٹے بچوں کو 2016 کے دوران حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بچوں کو خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے بچائو کی پہلی خوراک جسے ڈی ٹی پی 3 کہا جاتا ہے، نہیں مل سکی جبکہ مزید 66 لاکھ بچے ایسے ہیں جنہیں ویکسین کی پہلی خوراک تو دی گئی لیکن گزشتہ سال وہ اس کی دوسری اور تیسری خوراک سے محروم رہے۔صحت کے عالمی ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سن 2010 سے ان بچوں کی تعداد 86 فی صد کی سطح پر ٹہری ہوئی ہے جو حفاظتی ٹیکوں کا معمول کا کورس مکمل کرتے ہیں۔پچھلے سال کے دوران کسی علاقے یا کسی ملک میں اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی جبکہ حفاظتی ٹیکوں کا عالمی ہدف 90 فی صد مقرر کیا گیا ہے۔بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کو موجودہ شرح کے ذریعے دنیا بھر میں ہر سال 20 سے 30 لاکھ تک ایسے بچوں کی جان بچائی جا رہی ہے جو خناق، تشنج، کالی کھانسی اور خسرے سے ہلاک ہو جاتے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق عوامی صحت کے شعبے میں یہ مہم انتہائی موثر اور کم خرچ ہے۔صحت کے عالمی ادارے کے 194 ملکوں میں ایک تہائی ملک حفاظتی ٹیکوں ڈی ٹی پی 3 کے لیے مقررہ 90 فی صد کا ہدف حاصل کر چکے ہیں۔حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہنے والے بچوں کی اکثریت جنگ سے متاثرہ یا انتہائی غریبوں ملکوں میں رہتی ہے۔

July 18, 2017

اب مچھروں کو مچھر ہی ختم کریں گے

نیویارک جدت ویب ڈیسک مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی ایسی بیماریوں کا مختلف ادویات کی مدد سے اْس وقت ہی علاج ممکن ہے، جب یہ بیماریاں ابتدائی صورت میں ہوں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں سالانہ لاکھوں افراد ملیریا سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔لیکن ماہرین صحت، سائنسدان اور عالمی ادارے اس حوالے سے مسلسل کوشاں ہیں اور ایسی ہی ایک کوشش کے ذریعے اب خطرناک مچھروں کو مچھروں کے ذریعے ہی ختم کرنے کا منصوبہ شروع کردیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل کی خالق کمپنی ’ایلفا‘ کے ادارے ’ورلی لائف سائنسز‘ ماسکیٹو میٹ اور کنسولیڈیٹ ماسکیٹو ابیٹمینٹ ڈسٹرکٹ نے ایسے نر مچھر تیار کیے ہیں، جو زیکا، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریاں پھیلانے والے مادہ مچھروں کو ختم یا کم کریں گے۔کمپنیوں نے ’ڈیبگ پروجیکٹ‘ کے تحت نر مچھروں کی کئی وقت تک خصوصی کیمیکل کے ذریعے خاص لیبارٹری میں افزائش کی، جہاں ان مچھروں کو ’والباکیا‘ نامی بیکٹیریا دیا گیا، جس سے یہ مچھر انسانوں کو کاٹنے کی عادت سے محروم ہوگئے۔ماہرین کے مطابق مچھروں کی خصوصی بیکٹیریا کے ذریعے افزائش کے ذریعے یہ انسان دوست بن گئے، جس کے بعد یہ انسانوں کو نہیں کاٹیں گے اور نہ ہی کوئی بیماری اور وائرس پھیلائیں گے۔یہ خصوصی نر مچھر ایسے مادہ مچھروں سے میلاپ کریں گے، جو پہلے ہی علاقے میں موجود ہوں گے، لیکن ان کے ملاپ سے مادہ مچھر انڈے دینے یا انڈوں سے بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ماہرین کے مطابق اس عمل کے ذریعے مچھروں کی آبادی آہستہ آہستہ کم ہوگی اور اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکے گا کہ کس علاقے میں کتنے مچھر ہیں اور اسی حساب سے ایسے ہی لاکھوں نر مچھر تیار کرکے اس علاقے میں چھوڑے جائیں گے۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے ماہرین نے کیلی فورنیا کے 300 ایکڑ رقبے پر پھیلے ایک علاقے کا انتخاب کیا، جہاں 14 جولائی سے لاکھوں کی تعداد میں یہ مچھر چھوڑے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق بیک وقت 10 لاکھ نر مچھروں کو مرحلہ وار لیبارٹری سے خصوصی وین کے ذریعے علاقے میں لے جاکر چھوڑا جائے گا۔خیال رہے کہ ان مچھروں کو خصوصی طور پر زیکا وائرس، چکن گونیا اور ڈینگی وائرس پھیلانے والے خصوصی مادہ مچھروں کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔