July 28, 2017

تمام مرد اور خواتین اس کو ایک بار ضرور پڑھیں۔۔۔۔تمام نوجوان لڑکیوں کے نام ایک پیغام۔۔۔۔۔

کراچی جدت ویب ڈیسک : مجھے اپنی مسلمان عورتوں سے کچھ کہنا ہے،، خدا کے لیے ہوش کرو، یہ آزادی آزادی کا نعرہ نہ لے ڈوبے تمہیں..مجھے اس وقت بہت رونا آیا تھا۔
جب آج سے 15 سال پہلے، انٹرنیٹ کیفے سکینڈل کے باعث، اکلوتی بیٹی کی پنکھے سے لٹکی لاش سے باپ لپٹ کر زارو قطار رو رہا تھا۔ مجھے اس وقت بھی رونا آیا، جب ایک خبیث لڑکے نے، ایک لڑکی سے ناراضگی پر، اس کی برہنہ ویڈیو اپ لوڈ کردی، اور اس بے چاری کو اپنی نبض کاٹ کر دنیا سے جانا پڑا۔
مجھے اس وقت بھی رونا آیا، جب ایک لڑکی، ایک لڑکے کے سامنے بے لباس رو رہی تھی، کہ میری ویڈیو ڈیلیٹ کردو۔اور وہ کہہ رہا تھا کہ میرے دوستوں کو بھی خوش کرو۔ اور اس رات وہ چھت سے کود کر مر گئی۔مجھے اس وقت بھی رونا آیا، جب ایک لڑکی اپنی سہیلی کے ہمراہ، اپنے محبوب سے ملنے گئی اور وہاں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن کر سسک سسک کر مر گئیں۔ اور ہسپتال والوں نے جب فون کیا تو، والدین نے کہا ہماری تو کوئی بیٹی ہی نہیں۔مجھے اس دن بھی رونا آیا، جب ایک لڑکی کو، اس کےمحبوب نے نشہ آور جوس پلا کر، اپنے دوستوں کے سامنے پیش کیا۔ اور اس غم کی ماری نے، ایک ٹرک تلے آکر جان دیدی۔مجھے ان سب لڑکیوں کی حالت پر رونا آتا ہے، جو گھر سے محبوب کو ملنے نکلتی ہیں۔ اور آج کسی قحبہ خانے میں موت کی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ یاد رکھیں مرد تو جسم کا بھوکاہے۔ وہ عورت کو نوچ بھی لیتا ہے۔ کاٹ بھی لیتا ہے۔اسے انسان سے کتا بننے میں دیر نہیں لگتی۔لیکن اسے ایسا بننے کا موقع عورت دیتی ہے۔اور سمجھتی ہے کہ میری عزت کا رکھوالا بنے گا۔لیکن وہ جانتی نہیں کتا وفادار ہوتا ہے۔لیکن مرد درندہ بن جائے تو بہت خطرناک ہوتا ہے۔

July 27, 2017

صحت مند زندگی نعمت ، موٹاپاکم کرنے والی غذائیں کونسی ہیں ؟جانیے

جدت ویب ڈیسک :صحت مند زندگی بہت بڑی نعمت ہے ، اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے موٹاپا کم کرنے کے لئے کیا کریں کیا کھائیں ،زندگی کے مصروف شیڈول میں ورزش کرنے کا وقت نکالنا بہت مشکل عمل ہوتا جارہا ہے۔ دفاتر میں 8 گھنٹے بیٹھنے اور پھر بقیہ وقت ٹی وی یا اسمارٹ فون کے ساتھ گزارنے کی وجہ سے موٹاپا ایک عام مسئلہ بنتا جارہا ہے۔موٹاپا امراض قلب اور فالج سمیت بے شمار بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہنا ضروری ہے۔آج ہم آپ کو ایسی غذائیں بتا رہے ہیں جو وزن کم کرنے کے لیے معاون ہیں اور انہیں اپنے غذائی معمول کا حصہ بنا کر آپ موٹاپے سے محفوظ رہ سکتے ہیں مچھلی۔۔۔مچھلی فائدہ مند چکنائی سے بھرپور غذا ہے جو جسم کو خشکی سے بچاتی ہے۔ مچھلی بھی وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔زیتون کا تیل۔۔۔۔ کھانا پکانے کے لیے عام تیل کے بجائے زیتون کے تیل کا استعمال بھی وزن کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔یہ امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کی صفائی کرتا ہے جس کے باعث خون میں لوتھڑے نہیں بننے پاتے۔گریپ فروٹ۔۔۔۔ یہ پھل خون میں موجود چکنائی کی سطح کو کم کرتا ہے جس سے خون جمنے، لوتھڑے بننے یا گاڑھا ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔فروٹ چاٹ۔۔۔۔صرف پھلوں کی بنی ہوئی چاٹ بھی وزن کم کرنے میں معاون ہے۔ یہ جسم کی غذائی ضروریات پوری کر کے اس کی توانائی کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ فروٹ چاٹ میں کریم یا چینی شامل کرنے سے گریز کیا جائے ۔انجیر۔۔۔۔بے وقت بھوک کو مٹانے کے لیے انجیر سب سے بہترین شے ہے جو وزن میں کمی بھی کرتی ہے۔ اس میں نہایت کم کیلوریز موجود ہوتی ہیں تاہم ان میں موجود ریشہ معدے کو سیر ہونے کا احساس دلاتا ہے۔دہی۔۔۔۔۔ وزن کم کرنے کے لیے دہی بھی نہایت بہترین غذا ہے۔ یہ معدے کو بے شمار اقسام کے بیکٹریا سے محفوظ رکھتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔پالک۔۔۔۔پالک کاربو ہائیڈریٹس، وٹامن اور ریشے سے بھرپور سبزی ہے۔ یہ معدے کو دیر تک سیر رکھتی ہے جس کے باعث پیٹ بھرا رہنے کا احساس رہتا ہے اور ہم بے وقت کھانے سے بچے رہتے ہیں۔کدو۔۔۔۔کدو ایک ہلکی پھلکی سبزی ہے جو قوت مدافعت اور توانائی میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ معدے کو جلن اور تیزابیت سے بھی محفوظ رکھتی ہے، علاوہ ازیں یہ موٹاپا کم کرنے کے لیے نہایت مفید ہے۔لوبیہ۔۔۔۔۔لوبیہ کی دال جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو معمول پر رکھتی ہے اور خون کی نالیوں کو صاف رکھتی ہے جس سے دوران خون رواں رہتا ہے۔یاد رکھیں صحت مند اور سڈول جسم کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے جسم میں دوران خون باقاعدگی سے حرکت کر رہا ہو۔ خون کی گردش جتنی رواں ہوگی، موٹاپے کا امکان اتنا ہی کم ہوگا۔

July 27, 2017

پپیتا کھائیں ،صحت پائیں، بیج بھی فائدہ مند

جدت ویب ڈیسک :پپیتا ہاضمے کے لیے بہترین پھل ہے جس کا نہ صرف پھل بلکہ بیج اور پتے بھی اپنے اندر بے شمار خصوصیات رکھتے ہیں۔پپیتے کے بیجوں کو آدھا یا ایک چائے کا چمچ کوٹ کر یا پیس کر سلاد کی ڈریسنگ میں، دودھ یا شہد کے ساتھ ملا کر کھایا جاسکتا ہے۔یہ بیج اپنے اندر مندرجہ ذیل خصوصیات اور فوائد رکھتے ہیں۔ایک ماہ تک باقاعدگی سے پپیتے کے بیج جوس یا سلاد کے ساتھ استعمال کرنے سے جگر ڈی ٹاکسیفائی ہوتا ہے۔ یہ جگر سے تمام تیزابی اجزا کی صفائی کر کے جگر کو صحت مند رکھتا ہے۔پپیتے کے بیج ہاضمے کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔جانیں: پپیتے کے پتوں کے طبی فوائد۔۔۔یہ میٹابولزم میں اضافہ کرتے ہیں اور آنتوں کے کیڑوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔پپیتے کے بیجوں میں قدرتی طور پر سوزش کو مندمل کرنے کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو جوڑوں کے درد اور سوجن کو دور کرتی ہیں۔ان بیجوں کی تھوڑی سی مقدار ہی نقصان دہ بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے کافی ہے۔ یہ وائرل انفیکشن جیسے ڈینگی ،ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے مفید ترین ہیں۔پپیتے کے غذائی اجزا کینسر کے خلیات اور ٹیومر کی افزائش کو روکتے ہیں۔ یہ آئسو تھائیو سائینیٹ سے لبریز ہوتے ہیں جو لیو کیمیا، بڑی آنت، پھیپھڑوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی روک تھام کرتے ہیںپپیتے کے بیجوں میں اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔یہ گردوں کو صحت مند رکھتے ہیں اور انہیں کئی امراض سے بچاتے ہیں۔

 

July 27, 2017

کراچی، پشاور، راولپنڈی بدترین ماحولیاتی شہروں میں شامل

جدت ویب دیسک :پاکستان کے 3 شہر دنیا کے فضائی آلودہ کے شکار 20 شہروں کی فہرست میں پچھلے 3 سال سے اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں ، ان میں دو صوبائی دارالحکومت اور ایک وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر بھی ہے ۔ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ کے مطابق کراچی ،پشاور اور روالپنڈی نے ماحولیاتی لحاظ سے دنیا کے بدترین شہروں میں جگہ بنالی ہے،دنیا کے پندرہ شہروں میں پشاور دوسرے ،راولپنڈی چوتھے اور کراچی چودہویں پر موجود ہے۔فضائی آلودگی پر جاری ورلڈ اکانومک سروے کی 2015 اور 2016 میں فہرست میں بھی یہی 3 شہر شامل تھے، بھارتی شہر دسویں، بارہویں اور سترہویں نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی اہم وجہ حیاتیاتی ایندھن ہے اورزیادہ تر ایشائی ممالک اس کا شکار ہیں ،یہ آلودگی انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور مختلف جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 70 لاکھ افراد صرف فضائی آلودگی کےباعث مر جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے حکومتی اور انفرادی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے

July 27, 2017

زمین کے درجہ حرارت پر کنٹرول کے نئے منصوبے

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :  سوئٹرزلینڈ کے شہر زیورخ کے مضافات میں ایک سوئس کمپنی کلائم ورکس کی 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کی فیکٹری نے مئی میں فضا سے گرین ہاؤس گیسوں کو کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ اس فیکٹری میں دیو قامت پنکھے اور فلٹر لگائے گئے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی پیمانے پر کاربن ڈائی اکسائیڈ کھینچنے والا دنیا کا پہلا بڑا پلانٹ ہے۔ ہوا سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں کھینچنے سے عالمی درجہ حرارت کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اس پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی معروف  ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے 75 لاکھ ڈالر کے عطیات اکھٹے کیے ہیں۔ اپنے اس منصوبے پر وہ 2018ئ میں ایری زونا میں اپنے کام کا آغاز کریں گے۔ اس پراجیکٹ کے تحت زمین پر پہنچنے والی سورج کی حرارت کی شدت کم کی جائے گی اور یہ ہدف مصنوعی بادل بنا کر حاصل کیا جائے گا۔سائنس دان زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور مصنوعی طریقے سے زمین پر آنے والی سورج کی حدت کم کرنے کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پراجیکٹ بہت مہنگا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف پورے کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تیزی سے کرہ ارض کا درجہ حرارت کم کر سکیں۔

July 26, 2017

خبردار۔۔۔ گٹھلی کھانے سے پرہیز کریں،ورنہ موت

جدت ویب ڈیسک :پھل کھائیں صحت پائیں لیکن انکے بیج یا گھٹلی نہیں خوبانی اور آلوبخارا جیسے پھل کھائیں تو بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ان کی گٹھلی توڑ کر اس میں موجود ’گری‘ کھا جاتے ہیں لیکن ایک پھل ایسا ہے جس کی گٹھلی کی گری کھانا آپ کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے،چنانچہ غلطی سے بھی اس کی گری مت کھائیں۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ پھل ’چیری‘ ہے۔برطانوی شہر بلیک پول میں 29سالہ میتھیو کریمی نامی شخص نے چیری کھائی اور اس کے بعد اس کے دل میں آیا کہ اس کی گٹھلی توڑ کر گری بھی ٹرائی کرے۔اس نے ایک گٹھلی توڑی اور گری کھائی تو اسے اس کا ذائقہ اچھا لگا چنانچہ اس نے 2 اور گٹھلیاں اور بھی توڑیں اور ان کی گری بھی کھا لی۔دس منٹ بعد ہی اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ اسے سردرد ہونے لگا، غنودگی طاری ہو گئی اور جسم بے حس و حرکت محسوس ہونے لگا۔ کچھ دیر بعد اس کی غنودگی جب زیادہ بڑھنے لگی اور بخار بھی ہو گیا تو اس نے اپنی بیوی 23سالہ جارجینا میسن کو ایمبولینس بلانے کو کہا۔جب طبی عملہ پہنچا تو اس نے بتایا کہ میتھیو نے کافی مقدار میں زہریلی چیز کھا لی ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال لیجانا ہو گا۔ چنانچہ اسے بلیک پول وکٹوریہ ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ صحت مند ہونے پرجب میتھیو نے ڈاکٹروں نے بیماری کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اسے بتایا کہ ”چیری کی گٹھلی سے نکلنے والی گری میں ’Cyanide‘ نامی عنصر پایا جاتا ہے جو دراصل ہائیڈروسیانک ایسڈ کا نمک ہوتا ہے جو انتہائی زہریلا ہوتا ہے اور اس کی تھوڑی سی مقدار بھی آدمی کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔ بالخصوص بچوں کے لیے یہ انتہائی مہلک ہوتا ہے اور ان کے بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

 

 

 

July 26, 2017

ڈینگی بخار نے تباہی مچادی ، 300 افراد ہلاک

کولمبو جدت ویب ڈیسک سری لنکا میں رواں سال مون سون کی بارشوں کے بعد پھیلنے والے ڈینگی بخار کے باعث 300 افراد ہلاک ہو گئے۔سری لنکا کے حکام کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہوا جس کے نتیجے میں ڈینگی نے وبا کی صورت اختیار کرلی ہے۔مئی 2003 میں بھی سری لنکا میں شدید مون سون بارشوں کے باعث آنے والے طوفان کے نتیجے میں تقریباً 250 افراد ہلاک اور 10 ہزار گھر تباہ ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق رواں سال اب تک ڈینگی کے ایک لاکھ سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سے لگ بھگ 300 مریض دم تور گئے ہیں۔سری لنکا میں ڈینگی سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس پر قابو پانے کے لیے ہلالِ احمر سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں سری لنکا کی حکومت کے علاوہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔عالمی تنظیموں کے علاوہ آسٹریلیا کی حکومت نے بھی اس وبا سے نمٹنے کے لیے سری لنکا کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ریڈ کراس اور ہلالِ احمر کے عہدیداران کے مطابق ڈینگی سے ہزاروں افراد متاثر ہوچکے ہیں جس کے باعث سری لنکا کے بیشتر ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض موجود ہیں۔ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرسری لنکا کا مغربی صوبہ ہوا ہے جہاں بارشوں سے بھی شدید نقصانات ہوئے تھے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے جو اس وقت بھی 100 سے زائد ملکوں میں وبا کی صورت میں موجود ہے۔عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39 کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنھیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ سری لنکا میں رواں سال مئی میں شدید بارشوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے تھے۔