August 8, 2017

عید قرباں قریب ہے،گوشت کھائیےضرور،لیکن احتیاط سے

جدت ویب ڈیسک :بکرا عید قریب ہے اور بڑا گوشت تو گھروں میں ہوگا کیونکہ قربانی ہوگی ایسے میں کھانا بھی بنے گا لیکن ذرا احتیاط سے کھائیں اس سے بلڈ پریشر بھی ہائی ہوتا ہےمزید کیا نقسان ہے اور کیا کیا فائدے توجانیں امریکی ریاست ٹینسی کی ونڈر بلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سیچوریٹڈ چکنائی یا چربی کا باقاعدہ استعمال پھیپھڑوں کے کینسر میں 14 فیصد اضافہ کرسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ گو کہ چکنائی جسم کے لیے بے حد ضروری ہے تاہم اس کی بہت زیادہ مقدار جسم کو امراض قلب سمیت بہت سی بیماریوں میں مبتلا کرسکتی ہے۔ماہرین نے تجویز دی کہ ان بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ متوازن غذا کو اپنایا جائے اور صرف گوشت پر انحصار کرنے کے بجائے سبزیوں، پھلوں، دالوں اور مچھلی وغیرہ کو اپنی غذا کا حصہ بنایا جائے۔تحقیق میں شامل ایک پروفیسر کے مطابق ایسا نہیں کہ آپ گوشت سے بالکل دور ہوجائیں اور اسے کھانا چھوڑ دیں، تاہم گوشت کا استعمال ہفتے میں صرف ایک بار بہتر ہےیہ چکنائی مختلف اقسام کے گوشت اور مکھن وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ خطرہ ان افراد میں مزید بڑھ جاتا ہے جو تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں۔کیا آپ بہت زیادہ گوشت کھانے کے عادی ہیں اور گوشت کے بنا آپ کو کھانا ادھورا لگتا ہے؟ تو پھر آپ اپنے پھیپھڑوں کے لیے کینسر کو دعوت دے رہے ہیں۔احتیاط سب سے اچھی چیز ہے گوشت کے جہاں بہت فائدے ہیں وہاں ذرا نقصان بھی ہے

 

August 8, 2017

مسجد میں بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے،سچا واقعہ ، پڑھیے

جدت ویب ڈیسک :مسجد نبوی میں بچے کھیلیں یا شور مجائیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا ۔۔۔ پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے کیلئے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا تھا۔ مسجد نبوی میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں۔ اسے بے حد غصہ آیا، کہنے لگا، “یہ سراسر بے ادبی ہے”۔ اس نے بچوں کو ڈانٹا۔ اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا۔ اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ دانٹے۔ افسر نظم و نسق کا متوالہ تھا۔ اس نے ڈاکٹر کی سنی ان سنی کردی۔ رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے۔۔۔”اسی رات افسر نے خواب دیکھا۔ حضور اعلیٰ صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائے، خشمگیں لہجے مین فرمایا، “اگر آپ مسجد مین بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے۔۔۔اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹرز سے ایک تار موصول ہوا جس مین اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فورا” ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔آپ کو اس واقعہ کا کیسے پتہ چلا”؟ میں نے قدرت سے پوچھا۔”مجھے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے بتایا جس کے پاس وہ افسر ٹھہرا ہوا تھا”۔ (ممتاز مفتی)۔نیچے دی گئی تصویر ترکی استنبول کی ایک مسجد کی ہے جس میں دیکھ سکتے ہیں کے مسجد کی کارنر میں ایک بچوں کے کھیلنے کے واسطے پلے لینڈ بنایا ہوا ہے۔۔ترک کہتے ہیں کے پہلے بچوں کو مسجد کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرو خواہ وہ کھیلنے کی لالچ میں ہی کیوں نا آئیں۔۔آھستہ آھستہ وہ خود ہی عبادات اور فرائض کی طرف مائل ہوجائیں گے ۔۔۔

August 7, 2017

جلدی سونے کے فوائد قرآن کی روشنی میں ، جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک : آج کل کی نوجوان نسل دن کو سوتی ہے اور رات بھر جاگتی ہے، اس لیے چہرے پر رونق نہیں اور سر پر بال نہیں ،کیو نکہ اللہ تعالی نے رات سونے اور آرام کرنے کو بنائی ہے اور دن کام اور روزی کی تلاش کے لیے بنایا ہے اس طریقہ سے اللہ نے ہمیں بنایا…رات کو سوئیں اور دن میں کام کریں..*آج مجھے کچھ نیا پتہ چلا….ایک قدرتی کینسر وکسین کا۔*اللہ فرماتا ہے:(ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشکل میں ہوں)20:2اللہ نے ہم سب کے دماغ میں ایک *گلینڈ* رکھا ہے جسے *پاینیل گلینڈ* کہتےہیں اسے *انسانی جسم کا حیاتیاتی گھڑیال* بھی کہتے ہیں اور یہ ہمارے بصری اعصاب سے منسلک ہوتا ہے.یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے جتنا ایک مٹر *ہر روز عشاء کے بعد یہ گلینڈ ایک مادہ تیار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے میلاٹونین کہتے ہیں جو خون کی نالیوں میں بہتا ہےاور جسم کو کینسر سے بچاتا ہے*یہ صرف اندھیرے میں کام کرتا ہےاگر محض آنکھ ہی روشنی میں رہے تو بھی یہ کام نہیں کرتا کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ ابھی رات نہیں ہوئی..پھر اگر آپ رات کو بھی روشنی میں رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قدرتی ویکسین سے محروم کر رہے ہیں…اللہ فرماتا ہے:(ہم نے رات کے آثار ختم کیے اور روشن دن بنایا)17:12بدقسمتی سےہم نے آجکل رات کے آثار کو دن کی نسبت زیادہ دیدنی کر دیا ہے کہ ہم رات بھر جاگتے ہیں اور سارا دن سوتے ہیں.۔۔ہمارے آباواجداد جو رات کو جلد سونے اور جلدی جاگنے کے عادی تھےوہ کینسرکا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی ایسی کسی بیماری کا جن کا آجکل ہم سنتے ہیں*فارمی مرغیوں پر ایک تحقیق کی گئ ایک قدرتی طور پر پلتی مرغی جو جلدی سوتی ہے اور کھانے کے لیے جلدی جاگتی ہے جبکہ مصنوعی طریقے سے رکھی گیی مرغی کو کھانا رات کو جاگتا رکھ کر کھلایا جاتا ہے**%30کینسر مصنوعی طریقے سے پالی گئی مرغیوں کی وجہ سے ہوا جبکہ قدرتی طریقہ سے پالی گئی مرغیاں کسی بھی بیماری سے پاک تھیں.۔۔اللہ نے ہماری حفاظت کے لیے یہ قدرتی ویکسین ہمارے اندر رکھی ہے آئیں جلدی سو کر اس سے فائدہ حاصل کریں*یہ گلینڈ عشاء کے فوراً بعد اپنا کام شروع کرتا ہے جو فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جاری رہتا ہےسبحان اللہ جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جو رات کا تیسرا پہر ہےاپنے ہدایت نامہ(قرآن) پہ عمل کریں اور ہمیشہ تندرست رہیں۔۔۔ان شاءاللہ۔۔۔۔کینسر کا علاج احادیث سے بھی ثابت ہے اور سائنس سے بھی…اس شاندار علاج (جسے اللہ نے انسان کے اندر رکھا ہے…)کو لازمی پڑھیں اور آگے شئیر کریں

August 4, 2017

شیف ہونے پر فخر‘ اداکاری میں بھی لوہا منوائوں گی‘ فرح محمد

کراچی سے ثاقب اسلم دہلوی کی رپورٹ/اللہ پاک نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے مگر بعض لوگ اپنی صلاحیتوں کو منوانے سے قاصر ہوتے ہیں اور بعض کو اپنی محنت پر اتنا یقین ہوتا ہے کہ وہ نت نئے تجربے کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے ویسے توبے شمار نام ایسے ہیں جنہوں نے ایک سے زائد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں سے خوب پزیرائیاں وصول کیں حال ہی میں ایک نام پاکستان کی صف اول شیف فرح محمد کا بھی آیا ہے جو ان دنوں اپنے پہلے سوپ کی شوٹ میں مصروف ہیں ان سے ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی کامیابیاں سمیٹنے کیلئے سخت محنت و جدوجہد کرنی پڑتی ہے میں نے شروعات سے ہی خود کو سخت محنت کا عادی بنا رکھا ہے میں ایک منفرد شیف بننا چاہتی تھی جس کیلئے میں نے انسٹیٹیوٹ سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے آپ بہت کچھ نت نئی جدت کھانے میں شامل کیں تاکہ لوگوں کو کچھ نیا ملے اللہ کا شکر ہے کہ میں جو بھی بناتی ہوں وہ سب میرا خود سے تیار کیا کھانا ہوتا ہے میں اب تک تمام چینلز پر شیف کہ فرائض انجام دے چکی ہوں مگر ہم ٹی وی اور اے آر وائی کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی ہوں ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں رہنے والے ہر شخص میں ایک ایکٹر موجود ہوتا ہے مجھ میں بھی کہیں اداکاری کا شوق چھپا بیٹھا سورہا تھا پر اسے جگانے میں میری دودوستوں کا ہاتھ شامل ہے جس میں صنم جھنگ اور صنم بلوچ شامل ہیں ان دونوں کی خواہش تھی کہ میں اداکاری کرکہ اپنی صلاحیتیں ٹی وی ڈراموں میں بھی منوائوں اور میں نے ایم ڈی پروڈکشن کہ تحت بننے والے تھوڑی سی وفا سوپ میں اپنی فنکارانہ صلاحیتیں منوانے کیلئے ریکاڈنگ شروع کردی ہے اداکاری ایک مشکل شعبہ ہے پر اگر سمجھ کر کیا جائے تو ہر کام آسان ہوتا ہے انسان خود سے بہت جلدی سیکھتا ہے میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ میں پاکستان کی شیف ہوں میرے چاہنے والے مجھے بہت پیار کرتے ہیں جس پر میں سب کی تہہ دل اے شکرگزار رہتی ہوں میں کبھی خود کو بہت بڑا نہیں سمجھا میں جیسے پہلے تھی ویسے ہی آج ہوں اس سوپ کہ ڈائریکٹر سید وہاب جعفری نے بہت ہی اچھی ڈائریکشن دے رہے ہیں جب سیٹ پر ماحول فیملی جیسا ہو تو کام کرنا اور بھی آسان ہوجاتا ہے یہ اسکرپٹ بہت ہی منفرد ثابت ہوگا ہماری ڈرامہ انڈسٹری نے جو کامیابیاں سمیٹی ہیں اس کا تصور تو ایک ناممکن سی بات تھی پر کہتے ہیں نے ہمت مرداں مدد خداسوشل میڈیا پر میں نے اپنے چاہنے والوں کیلئے اپنے نام سے فین پیج بنایا ہوا ہے جسے بے شمار لوگوں نے پسند کیا ہے مگر می کہنا چہتی ہوں میرا کوئی اکائونٹ نہیں ہے لوگ جعلی اکائونٹ بناکر میرے چاہنے والوں کو پریشان کررہے ہیں۔

August 4, 2017

ہیلتھ کلیئرنس کے بغیر جانوروں کی آمد‘موذی امراض پھیلنے کا خدشہ

کراچی سے رحیم شاہ کی رپورٹ/عیدالاضحی کی وجہ سے اندرون ملک سے کراچی میں لائے جانے والے جانوروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ،ٹھیکیدار کی جانب سے بغیر ہیلتھ کلیرنس سرٹیفکیٹ کے ٹیکس وصولی کا انکشاف ،بیمار جانوروں سے شہر میں موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ،2016میں کانگو وائرس سے ہلاکت ہو چکی ہے،شکایات پر محتسب اعلیٰ نے نوٹس لے لیا، کے ایم سی اور ڈی ایم سی انتظامیہ سے وضاحت طلب کرلی،تفصیلات کے مطابق: ملک کے مختلف شہروں سے کراچی میں دودھ دینے والے اور عیدالاضحی کی عید میں قربانی کے لئے لائے جانے والے مویشیوں سے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور کیپنگ ٹیکس کی مد میں ٹھیکیدار 200روپے وصول کر رہاہے اور بغیر ویکسین و اسپرے سرٹیفکیٹ دیکر شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے،خدشہ ہے کہ بغیر ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے مویشیوں کو شہر میں داخل کرنے کی اجازت دینا خطرناک عمل ہے،کیونکہ 2016میں بھینس کالونی میں صابر نامی شخص کی کانگو وائرس سے ہلاکت ہو چکی ہے،بیمار جانوروں کے شہر میں داخل ہونے سے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے،کیونکہ ڈیری فارمز اور مویشی تاجران کو جانوروں کی چیچڑیوں سے پھیلنے والی بیماریوں سے آگاہی نہیں رکھتے اس لئے سندھ حکومت کا محکمہ ویٹرنری اور لائیو اسٹاک ذمیدار ہے کہ جانوروں پر سائپر میتھرین اسپرے یا اعلیٰ کوالٹی کا آئیور میکٹین لگایا جائے تاکہ جانور اور انسان موذی بیماریوں سے محفوظ رہہ سکے ، مگر ٹھیکیدار اور انتظامیہ کی ملی بگھت نے اس عمل کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے،اس حوالے سے ڈیری اینڈ کیٹل فارمز ایسوسی ایشن نے معتدد احتجاج کئے ، کے ایم سی اور ڈی ایم سی انتظامیہ کو آگا ہ بھی کیا مگر سنوائی نہ ہوئی جس پر فارمز میں محتسب اعلیٰ سندھ کو درخواستوں اور خطو ط کے ذریعے آگا ہ کیا تو محتسب اعلیٰ نے کراچی میونسپل کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

August 4, 2017

کھانا کھائیں بیماریاں ساتھ لے جائیں،اسٹوڈنٹ بریانی کی نئی آفر

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی معروف فوڈ چین اسٹوڈنٹ بریانی میں پاڈے اور بھینس کے گوشت کا استعمال‘ خفیہ کچن میں تیار ہونے والی اسٹوڈنٹ بریانی فرنچائز نیٹ ورک معیار کو بر قرار رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں‘ تفصیلات کے مطابق کراچی میں لائنزایریا پر ٹھیلے پر فروخت ہونے والی معروف بیف بریانی اسٹوڈنٹ کسی دور میں معیاری اور ذائقے دار بریانی کے طور پر جانا جاتا تھا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار میں وسعت آنے کی وجہ سے اسٹوڈنٹ بریانی نہ صرف معیار کھو چکی ہے‘ بلکہ وہ ذائقہ بھی نہیں رکھتی جو دو سے تین دہائی قبل ہوا کرتا تھا‘ شہر بھر اور ملک بھر میں فرنچائز قائم کی گئی ہیں مگر اکثریت فرنچائز اسٹوڈنٹ بریانی کے معیار کو بر قرار رکھنے میں قطعی طور پر ناکام ہوچکی ہے‘ بلکہ بے پناہ فرنچائز غیر تجربہ کار لوگوں کو دی گئیں‘ جبکہ اربوں روپے فرنچائز کی مد میں وصول کیے گئے ‘ اسٹوڈنٹ بریانی کی انتظامیہ شہر میں کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنا چکی ہے‘ مگر معیار کو خاطر میں نہ لانا ایک عام سی بات نظر آرہی ہے‘ اسٹوڈنٹ بریانی میں کسی دور میں گائے یعنی بچھیا کے گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا‘ کیونکہ کراچی میں قصاب مافیہ بڑے پیمانے پر گوشت کے نام پر بھینس اور پاڈے کا گوشت فروخت کررہے ہیں جس کی وجہ جانوروں کا بے پناہ مہنگاہ ہوجانا اور منافع خوری بتایا جاتا ہے ‘ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹ بریانی کی بے شمار فرنچائز پر ناقص مرغی کا گوشت بھی استعمال ہورہا ہے‘ مہنگے ترین نرخ رکھنے کے باوجود اسٹوڈنٹ بریانی نے اپنے معیار کو کسی حد خیر آباد کہہ دیا ہے‘ لائنز ایریا پر اسٹوڈنٹ بریانی کے آبائو اجداد جب ٹھیلے پر بریانی فروخت کرتے تھے تو معیاری گوشت اور ذائقے کی ضمانت ہوتی تھی‘ مگر وقت اور حالات بدلنے کے بعد کروڑوں روپے دیکر حاصل کیے جانے والے فرنچائز اور صدر میں عالی شان عمارت پر قائم ہونے والی اسٹوڈنٹ بریانی کا وہ معیار ہرگز بر قرار نظر نہیں آتا‘ ڈاکٹروں کے مطابق بیمار بھینس اور سنڈے کا گوشت کا استعمال سے کینسر‘ بلڈ پریشر‘ ڈائے بیٹک اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے‘ ناقص گوشت اور ناقص اجزاء کے استعمال کی وجہ سے عام شہریوں میں بیماریوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے‘ بلکہ صارف ایسی جگہ کھانے سے گریز کرے جہاں پر صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری کھانا تیار نہیں کیا جاتا۔

August 4, 2017

کراچی میں بڑے بیوٹی پارلر زخواتین کی کھال اتارنے لگے

کراچی جدت ویب ڈیسک شہر کراچی میں چلنے والے بڑے بڑے بیوٹی پارلر عام صارف کی کھال اتارنے میں مصروف‘ ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے شکایت روز کا معمول بن گئی‘ دلہن میک اپ کے نام پر سفید پوش طبقے سے لاکھوں روپے کی لوٹ مار‘ ٹیکس نادہندہ ہونے کے باوجود انکم ٹیکس کی خاموشی معنی خیز‘ تفصیلات کے مطابق کراچی میں چلنے والے بڑے بیوٹی پارلر جن میں کاشی بیوٹی پارلر طارق روڈ‘ بھابھیز بیوٹی پارلر‘ ماہ روز بیوٹی پارلر‘ نجلاس بیوٹی پارلر‘ اے وان بیوٹی پارلر اور شگفتہ اعجاز بیوٹی پارلر سے متعلق ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ بیوٹی پارلر میں عام صارف اور سفید پوش طبقے کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے‘ یومیہ لاکھوں روپے بٹورنے والے یہ بیوٹی پارلر ٹیکس کی چوری میں بھی ملوث ہیں‘ کم آمدن ظاہر کرکے انکم ٹیکس آفیسرز کے ساتھ ملی بھگت کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب بھی پائے گئے ہیں‘ ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے صارف اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ ان بیوٹی پارلرز میں جانے کے بعد چہرے کے جلدی امراض ‘ بال خوراور عورتوں میں گنج پن کی بیماریوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے‘ بہتر امیج دکھانے کے لئے صرف پارلر میں شو شا کرکے اور متوسط طبقے کو متاثر کرکے ان سے میک اپ پیکج کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جارہی ہیں‘ محکمہ ہیلتھ کی غفلت اور ملی بھگت کی وجہ سے ان پارلرز میں دیسی کریموں اور دیسی ٹریٹمنٹ کا استعمال عام سے بات ہوکر رہ گئی ہے‘ وقتی طور پر افادہ پانے والے صارف بعد میں مہلق بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں‘ مشہور و معروف بیوٹی پارلروں میں انکم ٹیکس افسران سے بھی تعلقات بنا رکھے ہیں اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو چھپانے میں کسی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں‘ ایک اندازے کے مطابق بڑے بڑے نام رکھنے والے یہ بیوٹی پارلر حکومت پاکستان کو ٹیک کی مد میں کروڑوں روپے کا چونا لگا رہے ہیں‘ عام صارف کی شکایت کے مطابق ماہ روز بیوٹی پارلر‘ کاشی بیوٹی پارلر‘ بھابھیز بیوٹی پارلر‘ نجلاز بیوٹی پارلر‘ ایوان بیوٹی پارلر اور شگفتہ اعجاز بیوٹی پارلر کو فوری طور پر بند کرکے محکمہ ہیلتھ کے ملوث عملے اور انکم ٹیکس کے ملوث افسران کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔