July 25, 2017

فاسٹ فوڈ کے شوقین افراد کیلئے بری خبر!!!

کراچی جدت ویب ڈیسک فاسٹ فوڈ کے ساتھ سافٹ ڈرنکس کا استعمال آپ کے موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔اس بات کا انکشاف امریکی زرعی محکمے سے وابستہ ماہ شینن کیسپرسن نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور دیگر مشروبات بدن میں چربی جمع ہونے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔اس سلسلے میں سائنسدانوں نے 27 صحت مند افراد کو مشاہدے کے لیے ایک کمرے میں رکھا اور ان میں آکسیجن لینے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کی شرح کو نوٹ کیا۔ ان کے پیشاب کے نمونوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ دوسری جانب کیلوریز ختم کرنے اور غذائیت کا حساب بھی رکھا گیا۔رضاکاروں کو دو روز تک 15 فیصد اور 30 فیصد پروٹین والے کھانے کھلائے گئے جن میں 500 کیلوریز تھیں۔ ایک گروپ کو چینی والے مشروب اور دوسرے کو بغیر چینی کے مشروب دیئے گئے۔معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے زیادہ پروٹین اور شکر والی سافٹ ڈرنکس پی تھیں ان میں چربی کی آکسیڈیشن دیگر کے مقابلے میں 12.6 گرام تھی لیکن اس کے دیرپا اثرات بہت خطرناک ہوسکتی ہیں اور ہمیں مسلسل موٹاپے کی جانب لیجاسکتے ہیں۔

July 25, 2017

آئس مینWIM HOF نے دنیائے سائنس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا

جدت ویب ڈیسک :جنہیں دنیا آئس مین کے نام سے جانتی ہے 1959میں نیدرلینڈ کے ایک علاقےStittadمیں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنے ناقابل تصور صلاحیتوں کو دکھاکر20سے زائد ورلڈ ریکارڈ بنائے ۔یہ انتہائی سخت ترین حالات میں یعنی نقطہ انجماد سے کئی گناہ کم سردی میں اور بے پناہ گرمی میں بھی اپنے دل کی دھڑکن،سانسوں اور اعضاء پر کنٹرول کس طرح رکھ پاتے ہیں سائنسدان حیران ہیں۔
ڈاکٹر رونڈا پیٹرک کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی اسکول میں نام ور طالب علم نہیں تھا اورنہ ہی نفسیات، سائنس یا کسی دوسرے کلی یا تحقیق نظم و ضبط کا پیشہ اپنانے کیلئے اسکول جاتا تھاتاہم کم عمری میں ہی اس بات کا احساس تھا کہ انسانی رویے،نفسیات اور ارد گرد کے مسائل میںمجھے دلچسپی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی سال قبل وم ہوف کی زندگی میںایک موڑ ایسا آیا جب اس کی بیوی نے پانچ بچوں کے ساتھ خود کشی کرلی جس کے باعث اسے شدید صدمہ پہنچابیوی کے وفات کے بعد اس کی زندگی اداس گزرنے لگی تھی مگر اس نےفیصلہ کیا کہ وہ ایک”سپر ہیومن“بن کر دکھائے گا اور اس کیلئے اس نے بے حد مشقت کی اوراس قسم کی ٹریننگ کی جس سے ان کا جسم انتہائی کم درجہ اور زیادہ درجہ حرارت برداشت کرسکے۔ اور انہوں نے کئی کارنامے سرانجام دیئے جن میں ورلڈ ریکارڈ سمیت کئی اہم کارنامے درج ذیل ہیں:
ننگے پائوں برف پر میرا تھن جس کا دورانیہ 16گھنٹے 34منٹ تھا ۔
66میٹر تک برف کے نیچے پانی میں تیراکی اور ایک سانس کے بعد 120میٹر فاصلہ مکمل کیا۔
2000میٹر کی بلندی پر ایک ہاتھ پر پورے جسم کا وزن ڈال کر کھڑے رہے۔
2007میں مائونٹ ایوریسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی 6.7کلومیٹر تقریباً 22,000فٹ کی اونچائی سر کرنے کے بعد بدقسمتی سے چوٹی سر کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کا پائوں زخمی ہوگیا تھا۔ یہ بھی ایک بڑا کارنامہ تھا کہ 29,000میں سے 22,000فٹ کی بلندی تک پہنچے جبکہ اکثر کوہ پیما بیماری،ہیپوتھیرمیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔
2008میں وم ہوف نے اپنا سابقہ ریکارڈ) 1گھنٹہ 13منٹ اور48سیکنڈ)توڑ کرایک گھنٹہ اور 52منٹ تک آئس بار میں بیٹھے رہے جو کہ حقیقت میں ایک پاگل پن سے کم نہیںاس طرح ان کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا اور یہ اعزاز اب تک انہیں کے پاس ہے۔
2009 میں20°C – کے قریب درجہ حرارت میں، ایک مکمل میراتھن (42.195 کلومیٹر (26.219 میل))، فن لینڈ میں آرکٹک سرکل کے اوپر مکمل کی واضح رہے کہ انہوں نے شارٹس کے سوا کچھ نہیںپہن رکھا تھا اور یہ فاصلہ 5گھنٹے25منٹ میں طے کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا۔
2011 ستمبرمیںWim Hofنے پانی کے بغیر Namib صحرا میں ایک مکمل میراتھن دو ڑ کر دنیا کو حيران کردیا ۔

 

July 25, 2017

ترقی پذیر معاشرے کی زوال پذیر فطرت مغرب میں آج بھی عورت کی خرید وفروخت ہو تی ہے

جدت(ویب ڈیسک)مغرب میں عورت کی باقاعدہ تجارت ہو تی ہے 1997 میں مغربی محقق”کریس ڈی اسٹوب” نے یورپ میں عورتوں کی تجارت پر تحقیق کی اورانکشاف کیا کہ” مغرب میں عورت کی زندگی جہنم ہے، صرف اسپین مین 5 لاکھ خواتین جسم فروشی پر مجبور ہیں، ڈنمارک جس کو ملحدین کا گڑھ کہا جاتا ہے اب اس کو بغیر نکاح کے شادی کی جنت کہا جا رہا ہے، سوٹزرلینڈ کو اب کلب کی لڑکیوں کا ملک کہا جاتا ہے”۔دوسری طرف امریکی نیوز چینل CNN نے ایک اخباری رپورٹ نشر کی کہ جس میں Maryland (امریکہ) میں johns Hopkins یونیورسٹی کے اہم تحقیقات پراعتماد کیا گیا ہے جس کے مطابق امریکہ میں ہر سال 2 لاکھ بچوں اورعورتوں کی باقاعدہ غلام کے طور پرخرید و فروخت ہو تی ہے اور ایک لاکھ 20 ہزارعورتیں مشرقی یورپ(روس اور اس کے آس پاس غریب ممالک) سے جسم فروشی کے لیے مغربی یورپ سمگل کی جاتی ہیں ۔15 ہزارعورتوں کو جسم فروشی کے لیے امریکہ بھیج دیا جاتا ہے جن سے اکثریت کا تعلق میکسیو سے ہو تا ہے۔ مشرقی ایشاء سے لائی جانے والی عورت کو امریکہ میں 16 ہزار ڈالر میں بیچا جاتا ہے جن کو بے حیائی کے اڈوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے بھی بڑی مصیبت ہو سکتی ہے جواب یہ ہے کہ جی اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ان عورتوں کو بیچتے وقت نمبر اور اسٹمپ لگا یا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار” انڈیپنڈنٹ” نے 30 ستمبر 2014 کو ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا”Human Traffickers Victims branded like cattle جسم فروشی کی غرض سے برطانیہ سے غلاموں کو ٹرکوں میں بھر دیا جاتا ہے پھران کو 200 سے 6000 پاونڈ کے درمیان فروخت کیا جاتا ہے۔اخبار نے اس کو عورت کی غلامی کہا ہے جس کو جانوروں کی طرح امریکہ اور یورپ میں فروخت کیا جاتا ہے باقاعدہ کمشن والے دلال ہیں جو اس میں ہزاروں ڈالرز کماتے ہیں۔

July 24, 2017

خطرناک ڈنک مارنے والی شہد کی مکھیاں،انسانی زندگی کی ضمانت

جدت ویب ڈیسک :خطرناک ڈنک مارنے والی شہد کی مکھیاں اس دنیا میں ہمارے وجود کی ضمانت ہیں اور اگر یہ نہ رہیں تو ہم بھی نہیں رہیں گےنسل انسانی کے لیے ضروری یہ ننھی مکھیاں اس وقت کئی خطرات کا شکار ہیں۔ جانوروں کی دیگر متعدد اقسام کی طرح انہیں بھی سب سے بڑا خطرہ بدلتے موسموں یعنی کلائمٹ چینج سے ہے۔ موسمی تغیرات ان کی پناہ گاہوں میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی فضائی آلودگی بھی ان مکھیوں کے لیے زہر ہے اور اس کے باعث یہ کئی بیماریوں یا موت کا شکار ہورہی ہیں۔ایک اور وجہ پودوں پر چھڑکی جانے والی کیڑے مار ادویات بھی ہیں۔ یہ ادویات جہاں پودوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کا صفایا کرتی ہیں وہیں یہ فائدہ مند اجسام جیسے ان مکھیوں کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مکھیوں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری اپنی نسل کو معدومی کا خطرہ ہےشہد کی مکھیاں یہ کام صرف چھوٹے پودوں میں ہی نہیں بلکہ درختوں میں بھی سر انجام دیتی ہیں۔ درختوں میں لگنے والے پھل، پھول بننے سے قبل ان مکھیوں پر منحصر ہوتے ہیں کہ وہ آئیں اور ان کی پولی نیشن کا عمل انجام دیں۔واضح رہے کہ یہ عمل اس وقت انجام پاتا ہے جب شہد کی مکھیاں پھولوں کا رس چوسنے کے لیے پھولوں پر آتی ہیں۔دوسری جانب ان مکھیوں سے ہمیں شہد بھی حاصل ہوتا ہے جو غذائی اشیا کے ساتھ کئی دواؤں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ ہمیں ان مکھیوں کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ شہد کی مکھیاں پودوں کے پولی نیٹس (ننھے ذرات جو پودوں کی افزائش نسل کے لیے ضروری ہوتے ہیں) کو پودے کے نر اور مادہ حصوں میں منتقل کرتے ہیں۔ اس عمل کے باعث ہی پودوں کی افزائش ہوتی ہے اور وہ بڑھ کر پھول اور پھر پھل یا سبزی بنتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ہماری غذائی اشیا کا ایک تہائی حصہ ان مکھیوں کا مرہون منت ہے۔ امریکی ماہرین معیشت کے مطابق امریکا میں شہد کی مکھیاں ہر برس اندازاً 19 بلین ڈالر مالیت کی افزائش زراعت کا باعث بنتی ہیں۔۔کیا آپ نے کبھی شہد کی مکھیوں کو نمو پاتے اور بڑے ہوتے دیکھا ہے؟انڈے سے لاروا نکلنے اور اس کے مکمل مکھی بننے تک کا عمل نہایت ہی حیرت انگیز ہے جسے ایک فوٹو گرافر آنند ورما نے عکس بند کیا ہے۔چھ ماہ کے طویل عرصے میں عکس بند کی گئی اس ویڈیو کو ٹائم لیپس کے ذریعے پیش کیا ہے اور یوں صرف 1 منٹ کے اندر ایک ننھے کیڑے کو آپ مکمل شہد کی مکھی بنتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

July 23, 2017

سوشل میڈیا کے ذریعے صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے‘ثنا غوری

کراچی جدت ویب ڈیسک تحریک منہاج القرآن کے طلبہ ونگ مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ طالبات کے زیر اہتمام اسٹوڈنٹس کچہری بعنوان معاشرے میں سوشل میڈیا کے اثرات گلشن اقبال میں منعقد ہوئی۔کچہری کی مہمان خصوصی معروف صحافی پروفیسر ثنا ئ غوری تھیں جبکہ مصطفوی اسٹو ڈنٹس موومنٹ کراچی کی صدر شگرف کمال،ناظمہ ندا جلیل،سیکرٹری اطلاعات منیبہ نصیر کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف کالجز یونیورسٹیز کی طالبات نے شرکت کی۔کچہری سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ثنائ غوری نے کہا سوشل میڈیا کے زریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے. تمام گفتگو panelistsاور شرکائ کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی قرار داد پیش کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا اس دور کا بہت کارآمد ہتھیار ہے جس کو ہم اپنے حق اور خلاف دونوں طرح استعمال کر سکتے ہیں مگر اس کو اپنی تعلیمی ضرورتوں، معلومات کے حصول، اپنے عزیز وا قربائ سے رابطے اور معاشی فائدے کے لئے استعمال کر کے عقلمندی کا ثبوت دینا چاہیے اور اپنی حساس معلومات کو اغیارکے سامنے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کا تعمیری استعمال بہت سے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔سوشل میڈیا کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی اصل وجہ تخلیق کیا ہے،ورلڈ وائڈ اور بلخصوص پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی طرف کیا رجحان ہیں سوشل میڈیا سے احساسات کا بہت تعلق بن گیا ہے، اور اس کے اثرات ھم اپنی زندگیوں میں کیسے دیکھتے ہیں ماہر نفسیات اس کے استعمال کے بارے میں کیا کہتے ہیں،سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کیا مقصد ہونا چاہیے ، ان چیزوں کا ادراک معاشرے کے ہر فرد کو ہونا چاہیے ۔سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسکا استعمال مثبت ہو ۔شرکائ کچری نے ایسی سرگرمیوں جنکا تعلق معاشرے کی بہتری کیلئے ہے کے انعقاد پر ایم ایس ایم کو مبارکباد دی ۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات تحریک منہاج القرآن کراچی نے ناظم تحریک مرزاجنید کے ہمراہ مہمان خصوصی ثناغوری کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا ۔

July 21, 2017

محمد علی جناح یونیورسٹی کے نئے سیمسٹرکا قبل از داخلہ ٹیسٹ اتوار ہوگا

کراچی جدت ویب ڈیسک محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں ستمبر کے مہینہ سے شروع ہونے والے نئے سیمیسٹر فال۔2017 کے بیچلر،گریجویٹ،ڈاکٹرل اوربہترین پیشہ کے انتخاب کے تعلیمی پروگراموں میں داخلہ فارم جمع کرانے والے امیدواروں کا قبل از داخلہ ٹیسٹ اتوار ،۳۲ جولائی کو صبح دس بجے یونیورسٹی کے مین کیمپس واقع شارع فیصل کراچی نزد فائین ہاوس بس اسٹاپ منعقد ہوگا۔واضح رہے کہ ماجو نے اپنے اگلے سیمسٹر میں بیچلرز ڈگری پروگراموں میں بی ایس اکاونٹنگ اینڈ فنانس،میڈیا سائینس، اکنامکس،کمپیو ٹر سائینس اور سافٹ وئیر انجینئرنگ،بی بی اے اور بی ای الیکٹریکل اور کمپیو ٹر سسٹم انجینئرنگ میں داخلے شروع کئے ہیں جبکہ گریجویٹ ڈگری پروگراموں ایم بی اے اور ایم ایس مینجمنٹ سائینس،اکنامکس اینڈ فنانس،کمپیوٹر سائینس اور الیکٹریکل انجینئرنگ اور ڈاکٹرل پروگراموں میں پی ایچ ڈی مینجمٹ سائینس،کمپیوٹر سائینس اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں داخلے اعلان کئے تھے۔دریں اثنا محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں آج شام چار بجے سے آٹھ بجے تک داخلہ کے خواہشمندطلبہ کی رہنمائی کے لئے ایک اوپن ہاوس سیشن کا انعقاد کیا گیاہے جس میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں کے ڈین، شعبہ جاتی سربراہ اور اساتذہ موجود رہیںگے جن سے طلبہ اپنے تعلیمی پروگرام کے سلسلے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔ماجو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کا تعلیمی پروگرام ملک کی معیشت کے موجودہ تقاضوں اور جاب مارکیٹ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ماجو کے نصاب کو ٹیکنالوجی کے شعبہ کی موجودہ ڈیمانڈ اور اس کے نئے رحجانات کو مد نظر رکھتے ہو ئے اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم ماجو میں ٹریننگ سیشن،سیمینار اور ورکشاپ کا انعقاد کرتے رہتے ہیں تاکہ ہمارے طلبہ جنہوں نے عملی طور پر یہاں جو کچھ سیکھا ہے اس سے وہ اپنی عملی زندگی میں بھر پور استفادہ کرسکیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماجو میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ جنہوں نے انٹر کے امتحانات میں 80 یا اس سے زائید مارکس لیے ہوں انکی سو فیصد ٹیوشن فیس معاف کردی جاتی ہے جبکہ 75 سے 79 فی صد مارکس والوں کی 75 فیصد اور 70 سے 74 فیصد مارکس لینے والے طلبہ کی پچاس فیصد ٹیوشن فیس معاف کردی جاتی ہے۔