January 21, 2021

کورونا میں اضافہ: 24 گھنٹے کے دوران 54 اموات، 2363 نئے مریض رجسٹرڈ

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :کورونا وائرس سے 54 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 11 ہزار 157 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 لاکھ 27 ہزار 146 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 363 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 51 ہزار 603، سندھ میں 2 لاکھ 38 ہزار 470، خیبر پختونخوا میں 64 ہزار 373، بلوچستان میں 18 ہزار 670، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 894، اسلام آباد میں 40 ہزار 430 جبکہ آزاد کشمیر میں 8 ہزار 706 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں اب تک 75 لاکھ 25 ہزار 432 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 43 ہزار 744 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 4 لاکھ 80 ہزار 696 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 2 ہزار 324 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 54 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 11 ہزار 157 ہوگئی۔ پنجاب میں 4 ہزار 501، سندھ میں 3 ہزار 843، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 811، اسلام آباد میں 460، بلوچستان میں 192، گلگت بلتستان میں 102 اور آزاد کشمیر میں 248 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

January 20, 2021

نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری

کراچی:ویب ڈیسک :: اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کی جانب سے نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان نے بڑی اور قابل ذکر تبدیلیوں کے ساتھ نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق جامعات میں پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی کے طلبہ پر مکمل یا من و عن اطلاق نہیں ہوگا تاہم پالیسی کے کچھ جزوی حصوں سے پرانے طلبہ فائدہ لے سکتے ہیں، اس حوالے سے نوٹیفیکیشن میں پالیسی کے annexure 1.8 کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق سیکشن 4.4 بی جو کہ ٹھیس کی ایویلیو ایشن کے حوالے سے ہے اور پی ایچ ڈی ٹھیس کی ایویلیو ایشن اب پاکستانی پروفیسر بھی کرسکتے ہیں اور اگر طالب علم اپنا ریسرچ پیپر ایکس کیٹگری کے جنرل میں شائع کروالیں تو اس کے پی ایچ ڈی تھیسز کو صرف ایک ہی پروفیسر کے پاس ایویلیو ایشن کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔ پالیسی کی اس شق سے پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی طلبہ بھی اب فائدہ لے سکیں گے مزید یہ کہ شق 4.5 کے مطابق پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لیے “y” کیٹگری میں ایک ریسرچ پیپر چھپوانا ضروری ہے اسی طرح 4.7 شق میں طلبہ کو اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ 8 سال میں پوری کرنی ہوگی اگر کوئی طالب علم کسی ناگزیر وجہ کی بنا پر اس عرصہ میں اپنی ریسرچ مکمل نہ کرسکے تو competent authority اسے مزید سال کی مہلت دے سکتی ہے۔  پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس پالیسی نے ڈاکٹریٹ کے خواشمند طلبہ کے لیے محض اپنے ہی ڈسپلن میں پی ایچ ڈی کرنے کی عائد شرط ختم کردی ہے، طلبہ 4 سالہ بی ایس کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی کرسکیں گے، طلبہ ایک سے دوسرے ”ضابطے“ (Discipline) میں بھی شرائط کے ساتھ پی ایچ ڈی کرسکتے ہیں، طلبہ کے لیے ایم فل لیڈنگ ٹوپی ایچ ڈی کے دروازے تو بند رکھے گئے ہیں تاہم دوران پی ایچ ڈی مطلوبہ قابلیت کی بنیاد پر صرف ایم ایس/ایم فل ڈگری لی جاسکے گی۔

اسی طرح پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے لیے مطلوبہ مدت میں کم از کم 2 سال تک اپنے ملک میں رہنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے، مزید براں پی ایچ ڈی مقالے جائزے کے لیے غیرملکی ماہرین کو بھیجنے کی لازمی شرط بھی ختم کرتے ہوئے اسے پاکستانی ماہرین کو بھجوانے کی بھی اجازت ہوگی پالیسی ڈرافٹ کے مطابق نئی پالیسی یکم جنوری 2021سے قابل اطلاق ہے۔ پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلوں کے لیے کم سے کم مطلوبہ قابلیت ”بی ایس“یا مساوی ڈگری ہے دوران ایم ایس/فل کی تکمیل کی مطلوبہ قابلیت تک پہنچنے والے طالب علم کواس کی منشا کے مطابق مذکورہ سند تفویض کرسکتی ہے اور پی ایچ ڈی کے لیے انرولمنٹ کرانے والے امیدواروں کو ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے دوران مطلوبہ معیارات پورے کرنے کی صورت میں ایم ایس/ایم فل ڈگری جاری کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

January 20, 2021

جسم میں آئرن کی کمی کی کچھ نشانیاں نظر انداز نہ کی جائیں، ماہرین

ویب ڈیسک ::انسانی جسم میں طاقت نہ ہوتو بندہ نڈھال  ہوجاتا ہے جسم میں آئرن کی کمی اینیمیا (خون کی کمی) کا شکار بنانے کا اہم سبب ہے، آئرن کی کمی کے دوران جسم مناسب مقدار میں ہیمو گلوبن بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ہیمو گلوبن خون کے سرخ خلیات کا وہ پروٹین ہے جو آکسیجن جسم کے دیگر حصوں میں پہنچاتا ہے اور اس کی عدم موجودگی سے مسلز اور ٹشوز اپنے افعال سر انجام نہیں دے پاتے۔۔ماہرین کے مطابق مندرجہ بالا علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ان کے ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر کے مشورے سے فوری آئرن بڑھانے والی ادویات لی جائیں

یہاں آپ کو جسم میں آئرن کی کمی کی کچھ نشانیاں بتائی جارہی ہیں جن کے ظاہر ہوتے ہی آپ فوری اقدام اٹھا سکتے ہیں۔جسمانی تھکن آئرن کی کمی کی سب سے عام علامت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئرن کی کمی سے ہیمو گلوبن بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے جو آکسیجن پھیپھڑوں سے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچاتا ہے۔ جب اس پروٹین کی کمی ہوتی ہے تو مسلز اور ٹشوز کم آکسیجن کی وجہ سے تھکاوٹ کے شکار ہوجاتے ہیں۔خون کے سرخ خلیات میں موجود ہیمو گلوبن جلد کو صحت مند سرخی مائل رنگت فراہم کرتا ہے، آئرن کی کمی کے نتیجے میں ہیمو گلوبن کی مقدار کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں جلد زرد ہوجاتی ہے۔سانس لینے میں مشکل یا سینے میں درد، خصوصاً جسمانی سرگرمیوں کے دوران، آئرن کی کمی کی ایک اور علامت ہے۔ اس کی وجہ بھی ہیموگلوبن کی مقدار میں خون کے سرخ خلیات کی کمی ہونا ہے۔آئرن کی کمی کے نتیجے میں سر درد یا آدھے سر کا درد عام ہوجاتا ہے، جس کی وجہ دماغ تک آکسیجن مناسب مقدار میں نہ پہنچنا ہے، یہ دباؤ سر درد یا آدھے سر کے درد کا باعث بنتا ہے۔دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی بھی آئرن کی کمی کی ایک اور علامت ہوسکتی ہے، ہیمو گلوبن کی سطح میں کمی کے نتیجے میں دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے دل کی دھڑکن غیر معمولی ہوجاتی ہے یا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل بہت تیز دھڑک رہا ہے۔ سنگین معاملات میں ہارٹ فیلیئر کا بھی خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

جب جلد اور بالوں کو آئرن کی کمی کا سامنا ہو تو وہ خشک اور زیادہ نازک ہوجاتے ہیں، بلکہ گنج پن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے یا بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔ناخن کا بھربھرا ہوجانا بھی آئرن کی کمی کی ایک ایسی علامت ہے جو زیادہ عام نہیں بلکہ یہ اینیمیا کی سطح پر نمودار ہوتی ہے۔ اس اسٹیج پر ناخن غیر معمولی حد تک پتلے ہوجاتے ہیں اور ان کی ساخت بھی بدل جاتی ہے۔اگر موسم سے قطع نظر ہاتھ اور پیر ٹھنڈے ہو رہے ہوں تو یہ واضح طور پر اینیمیا یا آئرن کی کمی کی علامت ہے۔آئرن کی کمی کی ایک عجیب ترین علامت عجیب چیزوں کو کھانے کی خواہش پیدا ہونا بھی ہے جیسے لکڑی، مٹی یا برف وغیرہ۔

January 20, 2021

سر درد کیوں ہوتا ہے ؟ وجہ جاننا ضروری قرار

لاہور: (ویب ڈیسک) ایک تحقیق کے مطابق سب سے عام محرکات یا کھانے کی چیزیں جو سر درد کو بڑھا سکتی ہیں وہ مصنوعی بازاری کھانے، چاکلیٹ، کیفین، پنیر، تلا ہوا گوشت اور اضافی پریزرویٹوز کے ساتھ دیگر کھانے کی اشیا ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بعض اوقات سر درد فالج، دماغ میں مسائل، یا دماغ میں خون کی کمی کی علامت ہوتا ہے۔ سر درد ایک عام بیماری ہے جو ہمارے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ تھوڑے وقت کے لیے یا مستقل درد رہتا ہو دونوں صورتوں میں یہ نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے اور انسان کو معمول کے کام کرنے سے بھی روک دیتا ہے۔

طبی معلومات کی ویب سائٹ بولڈ سکائی میں شائع رپورٹ کے مطابق سردرد کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں: غذائی مسائل، پینے کے پانی کی ناکافی مقدار، کام کے ماحول اور گھر کے علاوہ عام صحت کے مسائل وغیرہ۔ زیادہ تر معاملات میں سر درد نسبتاً بے ضرر ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ سنگین بیماریوں کی علامت ہوسکتا ہے جیسے فالج، یا خون کی کمی وغیرہ۔

اکثر لوگوں کے لیے سر درد ایک عام تکلیف کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن سر درد کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ اس بات کا یقین ہو کہ کوئی سنجیدہ وجہ نہیں ہے۔ صحت مند طرز زندگی کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے جس میں صحتمند غذائیں اور ورزش بھی شامل ہے۔

سر درد کی مختلف اقسام

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی شخص جب سر درد سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اس کی صحت کی خرابی کی علامت ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ کچھ اقسام اس کی بنیادی وجوہات کو ظاہر کرتی ہیں جو لوگوں کی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ سر درد کی قسم کو واضح کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے، لیکن عام علامات میں دباؤ، سر کا پھٹنا، مستقل یا وقفے وقفے سے درد ہونا بھی شامل ہے۔

سر درد بغیر کسی وجہ کے پیدا ہوسکتا ہے یا پھراس کا تعلق کسی سرگرمی یا ورزش سے ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس کا آغاز شدید درد کی صورت میں ہوسکتا ہے یا پھر دائمی درد ہوسکتا ہے۔ سر درد کی تین اقسام میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے: بنیادی سر درد، ثانوی سر درد، اعصابی درد، چہرے کا درد اور سر درد کی دیگر اقسام۔ اگرچہ سر کے کسی بھی حصے میں درد کو سر درد کی تعریف میں لایا جاسکتا ہے، لیکن درد کی وجہ، مدت اور شدت درد کی قسم کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔

سردرد کے اسباب

سر درد کئی وجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہے۔ صحت کے بنیادی مسائل سے لے کر کھانے کی عادات تک بہت سے عوامل اس درد اور دھڑکن کا باعث بن سکتے ہیں۔ سر درد کی بنیادی وجوہات دباؤ، انتہائی تناؤ اور نیند کی کمی ہیں۔ وہ لوگ جو کام کی وجہ سے دباؤ میں رہتے ہیں یا زبردست نفسیاتی مسائل کاسامنا کرتے ہیں وہ اس قسم کےسر درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔

دوسری طرف بنیادی سر درد کے مقابلے میں ثانوی سر درد عام نہیں ہے، کیونکہ وہ عام طور پر آئس کریم کی زیادہ مقدار کھانے یا ایئر بیگز میں مسائل یا پھر ریڑھ کی ہڈی کی پریشانیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

وہ کھانے جو سردرد کا سبب بنتے ہیں

کچھ کھانے کی چیزیں آپ کے سر میں درد پیدا کرنے یا سر درد کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ اگرچہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے سر درد کا محرک کہا جائے، لیکن کچھ عام کھانے پینے کی اشیا ایسی ہیں جو سر درد پیدا کرتی ہیں یا اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔

سب سے عام محرکات یا کھانے کی چیزیں جو سر درد کو بڑھا سکتی ہیں وہ مصنوعی بازاری کھانے، چاکلیٹ، کیفین، پنیر، تلا ہوا گوشت اور اضافی پریزرویٹوز کے ساتھ دیگر کھانے کی اشیا ہیں۔

وہ کھانے جو سردرد میں کمی لاتے ہیں

دوسری طرف کچھ ایسی غذائیں ہیں جن کو درد کا خوف کیے بغیر کھایا جاسکتا ہے، بلکہ ان کے کھانے سے سردرد ختم ہوتا ہے جیسے کیلے، تھوڑا سا قہوہ، بادام، پالک، پکا ہوا آلو، بروکولی وغیرہ۔

کچھ گھریلو علاج درد کو ٹھیک کرنے میں معاون ہوتے ہیں، اسی طرح سر درد سے وابستہ تکالیف جیسے گردن اور کمر میں درد سے نجات دلانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اس فہرست میں جس کے کئی نتائج ہوسکتے ہیں لیکن اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں، اس میں مصالحے، چائے، یا گہرے سانس کھینچنا شامل ہیں۔
یوگا، دوائی کھانے سے اگرچہ درد سے وقتی نجات مل جاتی ہے، لیکن باقاعدہ گولیاں کھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

یوگا ایک قدرتی علاج سمجھا جاتا ہے جن لوگوں کو آدھے سر کا درد ہوتا یا تناؤ کے درد سے دوچار ہوتے ہیں، یوگا کی مختلف مشقوں سے مختلف قسم کے سر درد دور کرنے میں مدد ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر یوگا کی مشقیں ہیں جو سردی سے جمع بلغم کی وجہ سے ہونے والے سر درد کو دور کرتی ہیں، اور اگر کسی شخص کو تناؤ کا سر درد ہو تو آرام کے لیے یوگا کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص تھکاؤٹ کے نتیجے میں سر درد میں مبتلا ہے تو دماغ میں خون کی گردش کو تیز کرنے کے لیے خصوصی مشقیں کی جاتی ہیں۔

January 19, 2021

لوکی صحّت بخش ہی نہیں‌ دافعِ امراض بھی ہے،ماہرینِ غذائیت

ویب ڈیسک ::سبزیاں بھی اللہ  پاک کی ایک نعمت  ہیں جن کے بےشمار فوائد ہیں ہر سبزی میں شفا اور علاج  موجود ہے،بس تھوڑا توجہ کی ضرورت ہے،جن میں ایک لوکی بھی ہے،لوکی، وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہے اور ایک صحّت بخش سبزی ہے۔ اسے کئی امراض اور جسمانی تکالیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ سبزی وٹامن سی، کے، اے، ای، پوٹاشیم اور میگنیشیم کے حصول کا بہترین ہے اور اس میں بانوے فی صد پانی جب کہ صفر کیلوریز ہوتی ہیں۔لوکی میں آئرن اور زنک جیسے ضروری معدنیات بھی قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔لوکی ٹھنڈی تاثیر رکھنے والی سبزی ہے جس کا جوس بھی مفید ہے۔ اس کا جوس ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت اور معالج لوکی کو کولیسٹرول، شوگر لیول برقرار رکھنے اور بلڈ پریشر متوازن رکھنے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔لوکی کے جوس کے فوائد میں‌ جسم میں ٹھنڈک میں پیدا کرنا اور خاص طور پر گرمیوں میں معدے کو ٹھنڈا رکھنا شامل ہے۔ اس سبزی کا جوس السر کے مریضوں کے لیے بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔لوکی کے جوس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کا سبب وہ فائبر ہے جس سے کوئی بھی زیادہ دیر تک شکم سیری محسوس کرتا ہے اور اس میں‌ کیلوریز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔اس سبزی سے دل کی صحّت بھی اور حفاظت بھی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر صبح خالی پیٹ لوکی کا جوس پینے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے دل کے افعال بہتر طریقے سے انجام پاتے ہیں۔لوکی میں ایک قسم کا نیورو ٹرانسمیٹر پایا جاتا ہے جو دماغ کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کا جوس تناؤ، افسردگی اور دیگر ذہنی عوارض سے بچنے میں‌ مدد دیتا ہے۔ لوکی کا جوس پیٹ کی تکالیف اور مسائل میں‌ بھی فائدہ دیتا ہے۔ یہ قبض ختم کرتا ہے اور اس سبزی میں‌ موجود پانی اور فائبر ہمارے نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہےکرنے میں مدد کرتا ہے۔لوکی کو سبزی کے طور پر استعمال کیا جائے یا اس کا جوس نکال کر پیا جائے، یہ موسمِ گرما اور سردیوں میں بھی اپنے قدرتی اجزا کی وجہ سے ہماری جسمانی اور ذہنی صحّت کے لیے مفید ہے۔

لوکی کے فوائد و استعمالات لوکی ساری... - دیسی معلومات اور علاج | Facebook

Know Your Food - Bottle Gourd or Lauki

January 18, 2021

ناک کی بناوٹ آپ کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ آپ کی ناک کیسی ہے ؟

ویب ڈیسک ::ہر انسان کی ساخت اور بناوٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے اور خاص طور پر ناک انسان کے چہرے کی خوبصورتی میں اہم سمجھتی جاتی ہے۔آپ نے بھی شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرے کی بناوٹ کو ضرور نوٹ کیا ہوگا تو چلیں آج ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ ناک کی بناوٹ انسان کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔

1۔ رومن ناک

فوٹو: بشکریہ برائٹ سائڈ

ایسے لوگ جن کی ناک کی بناوٹ تھوڑی لمبی ہوتی ہے وہ بہادر اور درست فیصلہ لینے والوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں جب کہ یہ بلند نظر اور باہمت ہوتے ہیں۔

2۔ چھوٹی ناک

فوٹو: بشکریہ برائٹ سائڈ

ایسے انسان جن کی ناک کی بناوٹ چھوٹی ہوتی ہے ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے جب کہ انہیں آزادی سے محبت ہوتی ہے۔

3۔ عقابی ناک

فوٹو: بشکریہ برائٹ سائڈ

ایسے لوگ جن کی ناک کی بناوٹ عقابی ہوتی ہے ان کی شخصیت میں کاروباری صلاحیت ہوتی ہے اور یہ بہت با ہمت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

4۔ چپٹی ناک

فوٹو: بشکریہ برائٹ سائڈ

ایسے افراد جن کی ناک کی بناوٹ چپٹی ہوتی ہے ان کی شخصیت میں لاپرواہی کا عنصر شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہیں اکثر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

5۔ غیر معمولی بناوٹ والی ناک

فوٹو: بشکریہ برائٹ سائڈ

جس شخص کی ناک کی بناوٹ غیر معمولی ہوتی ہے ان کے نظریات مضبوط جب کہ ان کی شخصیت میں ضد شامل ہوتی ہے، ایسے لوگ کافی سخی ہوتے ہیں۔

January 18, 2021

تعلیمی اداروں کی مرحلہ وار بحالی، نویں تا بارہویں جماعت تک تدریسی عمل شروع

کراچی: جدت ویب ڈیسک :ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب 26 نومبر سے بند تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا مرحلہ وار بحالی کا عمل شروع ہوگیا ہے جس کے تحت نویں سے بارہویں جماعت کے لیے تدریسی عمل شروع ہوگیا ہے۔ وزرائے تعلیم کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں ملک بھر میں تقریبا 2 ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہنے کے بعد نویں سے بارہویں جماعت تک تعلیمی سلسلہ آج سے بحال ہو گیا۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے جس پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے۔ طلبہ کو سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں پہلی سے آٹھویں کلاسز کے طلبہ یکم فروری کو اسکول جائیں گے جبکہ یونیورسٹیز بھی یکم فروری سے کھولی جائیں گی۔ واضح رہے کہ کورونا کی دوسری لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزرائے تعلیم کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کی رو سے 26 نومبر سے 24 دسمبر اور پھر 11 سے18 جنوری تک آن لائن کلاسوں کے ذریعے تعلیم دی جاری رہی تھی جب کہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات دی گئی تھیں۔

January 18, 2021

مزید 1920 افراد میں کورونا کی تشخیص، 46 مریض جاں بحق

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید ایک ہزار 920 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 46 افراد انتقال کرگئے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے اجری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوویڈ 19 کے 37 ہزار 949 ٹیسٹ کئے گئے، اس طرح اب تک ملک میں کورونا کی تشخیص کے لئے کئے گئے ٹیسٹس کی تعداد 74 لاکھ 5 ہزار 571 ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا کے ایک ہزار 920 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 21 ہزار 211 تک پہنچ گئی ہے۔این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں سیگر صوبوں کے مقابلے میں کورونا کے سب سے زیادہ مصدقہ سندھ میں 2 لاکھ 35 ہزار 576 مریض ہیں، پنجاب میں ایک لاکھ 49 ہزار 782، خیبر پختونخوا میں 63 ہزار 615، بلوچستان میں 18 ہزار 612، اسلام آباد میں 40 ہزار 111، آزاد کشمیر میں 8 ہزار 631 جب کہ گلگت بلتستان میں کورونا کیسز کی تعداد 4 ہزار 884 ہے۔