January 22, 2020

میتھی پھیپھڑوں کی سوزش اور خون کی کمی ،کھانسی کی شدت میں مفید

کراچی جدت ویب ڈیسک :: گھر میں میتھی پک رہی ہو تو اسکی خوشبو باہر سے ہی آنا شروع ہوجاتی ہے،لاجواب زائقہ والی میتھی ہر خاص و عام کو پسند ہے۔۔۔۔ تازہ میتھی کی خوش بُو تیز نہیں ہوتی، لیکن پھول آنے کے بعد جب اس کے پتّوں کو دھوپ میں سکھایا جاتا ہے تو یہ بہت خوش بُو دیتی ہے۔
طبی ماہرین نے میتھی کے جوشاندے کو حلق کی سوزش، وَرم اور سانس کی تکلیف میں نافع بتایا ہے۔ یہ کھانسی کی شدت کو بھی کم کرتی ہے۔برصغیر میں خوش بُو دار اور خوش ذائقہ پکوان کے لیے میتھی کا استعمال عام ہے۔
عربی میں میتھی کو حلبہ کہتے ہیں جو معدنی نمکیات، فولاد، کیلشیم اور فاسفورس سے بھرپور ترکاری ہے۔ میتھی کی افادیت سے متعلق متعدد احادیث اور روایات بھی بیان کی جاتی ہیں جن کے مطابق یہ ترکاری مختلف امراض‌ میں‌ نافع اور علاج معالجے میں مؤثر ہے۔
میتھی کو پھیپھڑوں کی سوزش، ہڈیوں کی کم زوری دور کرنے، خون کی کمی اور جوڑوں کے درد میں بھی ماہر طبیب استعمال کرواتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ اعصابی تھکاوٹ دُور کرنے میں مؤثر ہے۔ اسے مختلف صورتوں میں امراض سے نجات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میتھی کا پانی، بیج یا دانوں کا سفوف اور پتے بھی علاج کے لیے مخصوص طریقے سے استعمال ہوتے ہیں۔
میتھی کا استعمال چہرے اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کے بیجوں کو رگڑ کر ہفتے میں دو تین بار سَر دھویا جائے تو بالوں کی لمبائی بڑھتی ہے جب کہ کیل مہاسوں کے علاج کے لیے میتھی کے بیجوں کو پیس کر مخصوص مقدار میں گلیسرین میں ملا کر سوتے وقت چہرے پر لگانے سے نجات مل جاتی ہے۔ طب و حکمت سے متعلق مختلف کتب میں لکھا ہے کہ میتھی بالوں کو چمک دار بناتی ہے اور انھیں‌ گرنے سے روکتی ہے۔میتھی کا ساگ ہمارے یہاں بہت مشہور ہے جو کمر درد، گٹھیا، رعشے، لقوہ اور فالج جیسے امراض میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

Image result for methi benefits

Image result for methi benefits

January 21, 2020

مسلسل تناؤ کی کیفیت سے جِلد کے مسائل, حیران کُن تعلق ,بہترین حل

جدت ویب ڈیسک :: آج کل کے دور میں ہر کوئی پریشان اور ڈپریشن کا شکار ہے۔۔۔ ذہنی تناؤ کا ہمارے پورے جسم پر گہرا اثر پڑتا ہے، اگر کوئی انسان مسلسل ذہنی تناؤ کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے تو یہ اس کے قوتِ مدافعت کے نظام، نظامِ ہاضمہ، میٹابولزم اور ہارمونس کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔موجودہ دور میں تناؤ ہم سب کی زندگیوں کا ایک حصہ بن گیا ہے تو ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم سب لوگ اپنی زندگیوں میں کسی نا کسی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔
علاوہ ازیں مسلسل ذہنی تناؤ کی کیفیت امراضِ قلب، موٹاپا، ڈپریشن اور دماغی بیماریوں کا بھی باعث بن سکتی ہے۔
اگرچہ ہم میں سے بہت ہی کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ تناؤ اور جِلد کا براہِ راست تعلق ہے، اگر آپ کو اپنی جِلد ضرورت سے زیادہ خشک یا چہرے پر ریشز نظر آنے لگیں تو ہوسکتا ہے کہ اس مسئلے کی ایک وجہ تناؤ ہو۔
ذہنی تناؤ اور جِلد کے مسائل کے مابین تعلق
آپ کو یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ تناؤ کا ہماری دماغی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے، لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ اچانک سے صاف ستھری جِلد پر ایک پمپل (دانہ) نکل آئے تو اس کی ایک وجہ تناؤ بھی ہوسکتی ہے۔
مسلسل تناؤ کی کیفیت مبتلا رہنے کی وجہ سے جِلد کے مسائل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
کولمبیا ایشیا اسپتال کی ماہرِ جِلد ڈاکٹر کسومیکا کاناک کا کہنا ہے کہ جب کوئی بھی شخص تناؤ کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں ایڈرینالِن پیدا ہوتا ہے جو جِلد کو حساس بنا دیتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تناؤ نا صرف جِلد کے مسائل کا باعث بنتا ہے بلکہ اگر آپ کو پہلے ہی جِلد سے متعلق مسائل کا سامنا ہے تو تناؤ کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
تناؤ پر قابو پانے کا سب سے بہترین حل مراقبہ اور یوگا ہے، اپنے دن میں سے کچھ وقت نکال کر مراقبہ اور یوگا کرنے سے اس کیفیت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

January 20, 2020

ماہرین نے بیڈ ٹی کوصحت کیخلاف بڑا خطرہ قرار دے دیا

جدت ویب ڈیسک :::ماہرین طب نے چائے کے اوقات بھی بتادیئے اورنقصانات بھی بتادیئے ،اطلاعات کےمطابق ماہرین طب کا کہنا ہےکہ بعض لوگ نہار منہ چائے پینےیا ’ بیڈ ٹی‘ کے عادی ہوتے ہیں۔ماہرین نے بیڈ ٹی کوصحت کیخلاف بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
طبی ماہرین کی طرف سے یہ بات واضح طورپرکہی جارہی ہےکہ نہار منہ چائے پینا خود کو خطرے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ چائے کے جہاں فوائد ہیں تو دوسری جانب نقصانات بھی ہیں جن کا انحصار اس کے استعمال کے وقت پر ہوتا ہے۔
نہار منہ چائے پینا صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہےکیونکہ اس سے تیزابیت سمیت متعدد مسئال جنم لیتے ہیں۔ نہار منہ چائےپینا پیٹ کی متعدد بیماریوں کودعوت دینا ہے، چاہے وہ سبز چائے ہی کیوں نہ ہوصحت کے لیے مضر ہے۔
اگر ناشتہ کرنے سے پہلےہی چئے پی لی جائے تو اس سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے جو سینے میں جلن بدہضمی اور ڈکار آنے کی وجوہات بنتی ہے۔ ایسے افراد جو کو صبح سویرے چائے پینے کی عادت ہے انہیں چاہیے کہ وہ پہلے ٹھوس غذائیں کھالیا کریں ۔

January 20, 2020

کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ اخروٹ کھانا صحت کے لیے کتنازیادہ مفید ہے ؟؟؟

جدت ویب ڈیسک ::ڈرائی فروٹ کی اپنی اہمیت ہے ، کھانے میں پکانے میں اور خاص طور پر سردی میں۔۔۔۔بے وقت بھوک لگنے پر کچھ ایسا کھانا پسند کریں گے جو معدے اور دل کے لیے فائدہ مند ہو؟ تو اخروٹ کو آزما کر دیکھیں۔
درحقیقت کچھ مقدار میں روزانہ اخروٹ کھانا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ دل اور معدے کی صحت بہتر بناکر مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
طبی جریدے جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بے وقت بھوک لگنے پر صحت کے لیے نقصان دہ اشیا کی جگہ اخروٹ کو دینا غذائی معیار کو بہتر بنانے والی بظاہر چھوٹی سی تبدیلی ہے۔
تحقیق کے مطابق شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ غذا میں معمولی بہتری سے صحت کو بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے، دن بھر میں 55 سے 85 گرام اخروٹ کھانا صحت بخش غذا کا حصہ بن سکتا ہے کیونکہ اس سے معدے کی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تحقیق کے دوران 30 سے 65 سال کی عمر کے 42 رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں جو زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کے شکار تھے اور آغاز سے قبل 2 ہفتے اوسط امریکی غذا کا استعمال کرایا گیا۔
تحقیق مکمل ہونے پر محققین نے دریافت کیا کہ جن لوگوں کو غذا کے ساتھ اخروٹ کو 6 ہفتوں تک استعمال کرایا گیا، ان کے معدے میں بیکٹریا میں تبدیلیوں اور امراض قلب کے خطرات کا باعث بننے والے عناصر میں تبدیلیوں کو دریافت کیا گیا۔
محققین کا کہنا تھا کہ غذائیں جیسے اخروٹ سے جسم کو فیٹی ایسڈز، فائبر اور بائیو ایکٹیو مرکبات ملتے ہیں جو معدے کے بیکٹریا کی غذا کے طور پر کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں فائدہ مند میٹابولائز اور دیگر افعال کو حرکت دینے میں مدد ملتی ہے۔
ویسے یہ پہلی بار نہیں جب صحت کے حوالے سے اخروٹ کے مثبت اثرات پر روشنی ڈالی گئی، اس سے قبل ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا تھا کہ ہفتہ بھر میں کچھ مقدار میں گریاں کھانا موٹاپے اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے کیونکہ ان سے دماغ کا وہ خطہ متحرک ہوتا ہے جو کھانے کی اشتہا اور اضطراب کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جس سے اخروٹ کے مزید فوائد کو جاننے میں مدد مل سکے۔

Image result for akhrot benefits in urdu

Image result for akhrot benefits in urdu

January 20, 2020

سخت سردی میں سوپ پینا ،گھر پر بنانے کی آسان ترکیب جانیے

جدت ویب ڈیسک :: سوپ ہر ایک کا پسند یدہ ہوتا ہے ،گھر کا ہو تو زیادہ بہتر ہے لیکن شہروں میںسردیوں کا آغاز ہوتے ہی سڑکوں پر موجود سوپ کے ٹھیلوں پر رش لگ جاتا ہے، اس کے علاوہ گھروں میں بھی لوگ شوق سے سوپ پیتے ہیں۔
لیکن ہر کوئی سوپ بنا نہیں پاتا، کسی کو یہ مشکل لگتا ہے جبکہ کسی کو اسے بنانا آتا ہی نہیں۔
سخت سردی میں سوپ پینا بھی سب ہی کو کافی پسند ہے۔
تو موسم سرما میں یہاں دی گئی نہایت آسان ترکیب کے ساتھ اپنے گھر میں سب کو یہ چکن کارن سوپ بنا کر پلائیں۔
یقیناً ہر کوئی آپ کا بنایا ہوا سوپ پی کر دیگر مقامات کا سوپ بھول جائے گا۔

اجزاء:
مکھن – ایک کھانے کا چمچ
کارن- ابلے ہوئے دو پیالے
لہسن پیسٹ – ایک چائے کا چمچ
چکن – 250 گرام بون لیس کٹی ہوئی
چکن اسٹاک – 4 کپ
پانی – 2 سے 3 کپ
نمک – حسب ذائقہ
کالی مرچ – ½ چائے کا چمچ
سویا ساس – ایک کھانے کا چمچ
سرکا – 2 کھانے کے چمچ
کارن فلور – 4 کھانے کے چمچ
انڈے کی سفیدی – 3 عدد
ترکیب:
فرائی پین میں مکھن ڈالیں بعد میں لہسن پیسٹ ڈان کر دو منٹ کے لیے پکائیں، اب اس میں چکن شامل کریں اور تب تک پکائیں جب تک اس کا رنگ تبدیل نہ ہوجائے۔
چکن اسٹاک اور پانی شامل کرکے اسے اچھی طرح ابال لیں۔
نمک اور کالی مرچ ڈال کر مکس کریں۔
پھر اس میں سویا ساس اور سرکا ملا کر 8 سے 10 منٹ تک پکائیں۔
آخر میں کارن فلور میں تھوڑا سا پانی ملائیں اور سوپ میں شامل کریں لیکن ساتھ ساتھ اسے مکس بھی کرتے رہیں۔
آخر میں ابلے ہوئے کارن اور انڈے کی سفیدی مسلسل چمچ چلانے کے ساتھ شامل کریں۔
اور اب گرما گرم سوپ گھر والوں کو پیش کریں۔

فوٹو: شٹراسٹاک

January 20, 2020

چائنیز ڈش کی آسان ترکیب جانیے وہ بھی دیسی اسٹائل میں

جدت ویب ڈیسک :: کھانا ہمیشہ گھر کا ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔کیونکہ آجکل باہر کے کھانوں میں تو پتا نہیں کیا کیا پکا کر عوام کو کھلایا جارہا ہے۔۔۔دیسی کھانا کھانے کا ہر وقت دل نہیں چاہتا اور ایسے موقع پر کچھ نیا کھانا جو مزیدار بھی ہو اس کا انتخاب کون نہیں کرے گا؟
ایسے موقع پر چائنیز کھانے کو سب سے زیادہ فوقیت دی جاتی ہے، لیکن کئی افراد ایسا سمجھتے ہیں کہ چائنیز کھانا بنانا خاصہ مشکل ہے۔
دراصل یہ حقیقت نہیں، اگر آسان ترکیب سے بنایا جاتے تو چائنیز کھانوں کی کئی ڈشز ہیں جو گھر میں باآسانی تیار کی جاسکتی ہیں۔
یہ صرف آسان ہی نہیں بلکہ کافی مزیدار بھی ہوتی ہیں۔
ایسی ہی ایک چائنیز ڈش چکن جلفریزی کی نہایت آسان ترکیب یہاں بیان کی جارہی ہے۔
اسے اپنے گھر میں تیار کرکے گھر والوں کو کسی نئی ڈش کا ذائقہ چکھائیں۔
اجزاء:
تیل – پانچ کھانے کے چمچ

انڈے – دو عدد (نمک اور کالی مرچ پاؤڈر ملے ہوئے)

شملہ مرچ – ایک عدد لمبی کٹی ہوئی

پیاز – ایک عدد لمبی کٹی ہوئی

ادرک لہسن پیسٹ – دو چائے کے چمچ

بون لیس چکن – لمبی کٹی ہوئی ½ کلو

لال مرچ پاؤڈر – ایک چائے کا چمچ

ہلدی پاؤڈر – ½ چائے کا چمچ

کالی مرچ پسی ہوئی – ½ چائے کا چمچ

دھنیہ پاؤڈر – ½ چائے کا چمچ

ٹماٹو کیچپ – 4 کھانے کے چمچ

ٹماٹر پیسٹ – 2 کھانے کے چمچ

سویا ساس – ایک کھانے کے چمچ

گرم مصالحہ – ½ چائے کا چمچ

زیرہ پاؤڈر – ½ چائے کا چمچ

نمک – ½ چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ

ٹماٹر لمبے کٹے ہوئے – ایک عدد

ترکیب:
فرائی پین میں ایک چمچ تیل اور انڈے ڈال کر اوملیٹ تیار کرلیں، بعدازاں سائڈ پر رکھ لیں اور کیوبز میں کاٹ لیں۔
کڑھائی میں ایک چمچ تیل، شملہ مرچ اور پیاز ڈال کر ایک منٹ تک کے لیے پکالیں پھر الگ کرکے رکھ دیں۔
دوسری کڑھائی میں 3 چمچ تیل، ادرک لہسن پیسٹ اور بون لیس چکن شامل کریں اور رنگ تبدیل ہونے تک پکا لیں۔
لال مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، کٹی ہوئی کالی مرچ، دھنیہ پاؤڈر ڈال کر اچھی طرح مکس کرلیں۔
ٹماٹو کیچپ، ٹماٹر پیسٹ اور سویا ساس ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔
گرم مصالحہ پاؤڈر، زیرہ پاؤڈر اور نمک ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔
ٹماٹر، پکی ہوئی سبزیاں اور اوملیٹ ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔
مزیدار چکن جلفریزی تیار ہے، اسے گرم گرم چاولوں کے ساتھ گھر والوں کے سامنے پیش کریں۔

فوٹو/ شٹراسٹاک

فوٹو/ شٹراسٹاک

فوٹو: شٹراسٹاک

January 17, 2020

ہڑتال سے جوئیں ختم اور گنج پن دور کیا جاسکتا ہے

جدت ویب ڈیسک ::ہمارے یہاں ہڑتال کا لفظ انگریزی زبان کے اسٹرائک کا مفہوم ادا کرنے کے لیے مستعمل ہے۔
، مگر ہم کسی شٹر بند یا قلم چھوڑ ہڑتال کی بات نہیں کررہے بلکہ یہ ایک معدنی جنس ہے جسے زربیخ بھی کہتے ہیں۔ طبی اور کیمیائی اعتبار سے اسے مختلف ناموں سے شناخت کیا جاتا ہے اور اس کی اقسام کے لحاظ سے ادویہ تیار کی جاتی ہیں.
ماہرین کے مطابق اس کی پانچ اقسام ہیں جو مختلف امراض سے نجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ طبیب اس کی مخصوص مقدار سے دوا تیار کرتے ہیں۔
یہ زرد، سرخ، سفیدی مائل، سبز اور خاکی ہوتی ہے۔ ہڑتال یا زربیخ پیاس لگاتی ہے۔ اس کی مدد سے گوشت اور مسے کو کاٹا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خارش سے جلد پر پڑ جانے والے نشانات کے علاوہ داغوں کو دور کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر سَر میں جوئیں پڑ جائیں تو اس کا مخصوص طریقے سے استعمال ان سے نجات دلا سکتا ہے۔
ہڑتال گنج پن کو دور کرتی ہے۔ اسے عام طریقے سے کھانے سے گریز کرنا چاہیے کہ آنتوں میں خراش پیدا کرتی ہے۔ بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ یہ زہریلی ہوتی ہے اور اس کی مدد سے ہر قسم کا کیڑا مر جاتا ہے۔ مختلف حشرات کو بھگانے کے لیے اس کی دھونی بھی دی جاتی ہے۔

Image result for hartal medicine

Image result for hartal medicine

 

January 16, 2020

کیا آپ پھپھڑے باکس میں رکھ کر گھوم سکتے ہیں؟

لندن:جدت ویب ڈیسک ::کیا آپ پھپھڑے باکس میں رکھ کر گھوم سکتے ہیں؟ برطانیہ کی 24 سالہ خاتون کی زندگی کو ڈاکٹرز نے محفوظ بنالیا، وہ اب ایک باکس میں محفوظ پھیپھڑوں کی مدد سے سانس لیتی ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 24 سالہ خاتون شائنسی کے پھپھڑے ایک بیماری کی وجہ سے ختم ہوگئے، ڈاکٹرز نے اُن کی زندگی بچانے کے لیے رات دن کاوشیں کیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔
ڈاکٹرز نے ٹرانسپلانٹ کر کے ’اوسی ایس‘ باکس میں‌ رکھے ہوئے پھپھڑوں کی مدد سے انہیں مصنوعی طریقے سے سانس فراہم کی۔
ٹرانسپلانٹ کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور شائنسی اب ان ہی پھیپھڑوں کی مدد سے سانس بھی لے رہی ہیں۔
خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل چار اسپتالوں کا چکر لگا چکی تھیں جہاں ڈاکٹرز نے انہیں جواب دے دیا تھا، بعد ازاں وہ ماریوس برمن نامی سرجن کے پاس نومبر 2018 میں پہنچیں جنہوں نے کچھ امید دلائی۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ اُن کے باس 48 سالہ شخص کے عطیہ کردہ پھپھڑے او سی ایس باکس میں موجود ہیں، جو بہت زیادہ کارآمد ہوسکتے ہیں۔
میڈیکل ٹیم نے ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے ٹیسٹ کیے جس کے بعد اپریل 2018 میں خاتون کا پہلا آپریشن کیا گیا، بعد ازاں اُن کی نومبر میں شادی ہوئی تو اُس کے بعد دوسرا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لنگس باکس کو ساتھ لے کر ہی گھومتی ہیں کیونکہ سانس لینے کے لیے یہ باکس بہت ضروری ہے، میں عام لوگوں کی طرح مضبوط تو نہیں مگر اس بات پر بہت خوش ہوں کہ زندہ ہوں۔

January 15, 2020

نوجوانوں میں پیٹ کا کینسرکیوں بڑھنے لگا؟ تحقیق

واشنگٹن : جدت ویب  ڈیسک :: امریکی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پیٹ کا کینسر نوجوانوں میں بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی مایو کلینک کے ماہرین کی جانب سے گزشتہ 2 سے 3 دہائیوں کے دوران پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد کا جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دہائیوں میں نوجوان بڑی تعداد میں پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہوئے ہیں۔
ماہرین نے 1973 سے لیکے 2015 تک پیٹ کے کینسر میں مبتلا افراد کے میڈیکل ریکارڈ، بیماریوں، اور ان کی وجوہات کا جائزہ لیا جبکہ جن افراد کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تھا ان میں 30 سے 60 سال کی عمر کے افراد شامل تھے۔
سائنسی میگزین میں شائع تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ گزشتہ 2 سے 3 دہائیوں کے دوران پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر افرد کم عمر ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ 1970 تک 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہوتے تھے تاہم 1970 کے بعد عمر رسیدہ افراد کے موذی مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد ایک اعشاریہ کمی دیکھی گئی تھی جبکہ 30 سال کی عمر کے افراد کا پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد 40 سال کی عمر کے افراد بڑی تعداد میں کینسر میں مبتلا ہوئے ہیں۔
مذکورہ جائزے کو پیٹ کے کینسر کی تحقیق کے حوالے سے اب تک کے سب سے بڑی تحقیق کہا جا رہا ہے۔
ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ گزشتہ 2 سے 3 دہائیوں میں ادھیڑ عمر کے افراد کے بجائے نوجوان افراد کے پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟
تاہم ماہرین نے کہا کہ ڈیٹا سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ 30 سال کی عمر میں پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے والے مریضوں کو کینسر کی ادویات اور کیموتھراپی بھی خاص فائدہ نہیں دے رہیں۔

Image result for pain in stomach cancer

Related image

Image result for pain in stomach cancer