October 14, 2019

نجی اسکول نیب کے ریڈار پر آ گئے

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک :: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد کے بڑے نجی اسکولوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی اسکول (روٹس ملینیم) کی انتظامیہ اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام کے خلاف تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔
نیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ سیکٹر ایف ٹین میں قائم نجی اسکول (روٹس ملینیم) ٹرسٹ کی جگہ پر قائم ہے، اس معاملے میں سی ڈی اے حکام نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ پلاٹ کے غلط استعمال پر قومی ادارے سی ڈی اے کو نقصان پہنچا ہے۔
چیئرمین نیب جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں پراسیکیوٹرجنرل آپریشنز اور پراسیکیوشن حکام شریک ہوئے۔
عارف علی شاہ بخاری کےخلاف تحقیقات، سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ، وائس چانسلر فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس،صائمہ بلڈرز صائمہ گروپ، شعبہ ریونیو ضلع کراچی کے افسران اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر امیرزادہ خان کوہاٹی کے خلاف انکوائریز بند کردی گئی ہیں۔نیب نے سلطان علی لاکھانی اورمیسرز شان گروپ و دیگر کا معاملہ بینک کے ساتھ باہمی معاہدہ ہوجانے کی وجہ سے قانون کے مطابق نمٹا دیا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے دس انکوائریاں شواہد کی عدم موجوگی اور دیگر قانونی وجوہات کی بنا پر بند کردی ہیں۔

October 11, 2019

مردکےبریسٹ کیسے بڑھ گئے؟امریکی عدالت کا جانسن اینڈ جانسن پر 13 کھرب روپے کا جرمانہ

جدت ویب دیسک ::پینسلوانیا: معروف کمپنی جانسن اینڈ جانسن پر امریکی عدالت نے ایک دوا کے مضر اثرات کی وجہ سے 8 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے جو پاکستانی 13 کھرب روپے بنتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا کی عدالت نے بچوں کی جلد کی معروف مصنوعات اور مختلف امراض میں استعمال ہونے والی ادویہ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی جانسن اینڈ جانسن کو متاثرہ مریض کو 8 ارب امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔امریکی عدالت کی جانب سے مریض کو 8 ارب ڈالر کی ادائیگی کے حکم پر جانسن اینڈ جانسن نے فیصلے کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے نفسیاتی امراض میں استعمال ہونے والی دوا ’ریسپیریڈون‘ کے حوالے سے حقائق کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے بہت زیادہ جرمانہ سنایا ہے۔
قبل ازیں امریکی عدالت میں آئٹزم کے مریض 26 سالہ نکولس مری نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ وہ جانسن اینڈ جانسن کی دوا ’ریسپیریڈون‘ 2003 سے استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی جسمانی ساخت میں تبدیلی رونما ہوئی اور ان کے بریسٹ بڑھ گئے، کمپنی نے اس مضر اثر سے متعلق انتباہ جاری نہیں کیا تھا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ متاثرہ مریض نکولس مری نے اس سے قبل بھی جانسن اینڈ جانسن کیخلاف 2015 میں ایک مقدمہ جیتا تھا جس میں اُن کو کمپنی کی جانب سے 6 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی رقم ادا کی گئی تھی۔ امریکی عدالتوں میں ’جانسن اینڈ جانسن‘ کے خلاف ہزاروں درخواستیں زیر التوا ہیں۔2016 میں ایک امریکی خاتون نے جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر کے استعمال سے کینسر ہونے پر مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت کے حکم پر متاثرہ خاتون کو کمپنی نے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کیا تھا۔ اسی طرح 2018 میں بھی سینٹ لوئس کی ایک عدالت نے 5 ارب ڈالر اور اوکلوہاما کی عدالت نے 57 کروڑ ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
واضح رہے کہ 1889 میں یعنی 130 سال قبل بننے والی کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی مصنوعات 200 ممالک میں فروخت ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں کمپنی کے ملازمین کی تعداد 1 لاکھ 30 ہزار ہے جب کہ کمپنی کی سالانہ کمائی 80 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

Image result for johnson and johnson

October 9, 2019

اس فروٹ کو جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ایک ایسا پھل جو اس موسم میں کافی زیادہ نظر آتا ہے جسے جاپانی پھل کے نام سے جانا جاتا ہے مگر اردو میں اسے املوک کا نام دیا گیا ہے، جبکہ انگلش میں persimmon کہا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ چین سے تعلق رکھنے والا پھل ہے جس کی کاشت ہزاروں سال سے ہورہی ہے اور اب دنیا بھر میں اس کی مختلف اقسام کو اگایا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر اسے جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں اگائی جانے والی اس کی ایک قسم Diospyros kaki کی بہت زیادہ مقبولیت ہے جو لگ بھگ دنیا بھر میں اگائی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسے جاپانی پھل کا نام بھی دیا گیا ہے۔
نارنجی یا ٹماٹر جیسا یہ پھل اپنی مٹھاس اور شہد جیسے ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جیسا درج کیا جاچکا ہے کہ اس کی سیکڑوں اقسام اب دنیا بھر میں موجود ہیں، جن میں چند زیادہ مقبول ہیں۔
اس پھل کو تازہ، خشک یا پکا کر بھی کھایا جاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کی جیلی، مشروبات، پائی، سالن اور پڈنگ وغیرہ بھی تیار ہوتے ہیں۔
یہ صرف مزیدار ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں نیوٹریشن یا غذائی اجزا بہت زیادہ ہیں جو متعدد طریقوں سے صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ درج ذیل میں املوک یا جاپانی پھل کے فوائد جان سکتے ہیں تاکہ اس موسم کی اس سوغات کو اپنی غذا کا حصہ بناسکیں۔
غذائی اجزا سے بھرپور
اگرچہ اس کا حجم زیادہ نہیں ہوتا مگر اس میں غذائی اجزا کی مقدار متاثر کن ہے، درحقیقت ایک پھل میں 118 کیلوریز، 31 گرام کاربوہائیڈریٹس، ایک گرام پروٹین، 0.3 گرام چکنائی، 6 گرام فائبر، روزانہ درکار وٹامن اے کی 55 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن سی کی 22 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن ای کی 6 فیصد جبکہ وٹامن کے کی 5 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 6 کی 8 فیصد مقدار، پوٹاشیم کی روزانہ درکار 8 فیصد مقدار، کاپر کی درکار 9 فیصد جبکہ میگنیز کی 30 فیصد مقدار جسم کو دستیاب ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ پھل وٹامن بی 1، وٹامن بی 2، فولیٹ، میگنیشم اور فاسفورس کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے اور کم کیلوریز کے ساتھ فائبر کی موجودگی اسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے اچھا پھل بناتی ہے
وٹامنز اور منرلز کے علاوہ اس میں متعدد نباتاتی مرکبات جیسے فلیونوئڈز اور کیروٹین وغیرہ موجود ہوتے ہیں، جو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا طاقتور ذریعہ
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، اینٹی آکسائیڈنٹس خلیات کو تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مالیکیولز کو نقصان پہنچتا ہے جن کو فری ریڈیکلز بھی کہا جاتا ہے۔
یہ تکسیدی تناؤ مختلف امراض جیسے امراض قلب، ذیابیطس، کینسر اور دماغی عوارض جیسے الزائمر وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے، مگر اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں جیسے جاپانی پھل کا استعمال اس تکسیدی تناؤ سے لڑنے میں مدد دے کر ان مخصوص امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔
فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بھی امراض قلب، عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے جسمانی تنزلی اور پھیپھڑوں کے کینسر سے تحفظ کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں اور اس پھل میں وہ بھی جسم کو ملتا ہے۔
بیٹا کیروٹین کی موجودگی کے باعث بھی یہ پھل امراض قلب، مختلف اقسام کے کینسر اور میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بیٹا کیروٹین کا زیادہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔
دل کی صحت کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند
امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں اور کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، خوش قسمتی سے بیشتر اقسام کے امراض قلب کی روک تھام مختلف عناصر کا خیال رکھ کر ممکن ہے جیسے ناقص غذا سے دوری۔
جاپانی پھل میں موجود مختلف اجزا کا امتزاج اسے دل کی صحت کے لیے ایک مثالی انتخاب بناتا ہے، جیسا اوپر درج بھی کیا جاچکا ہے کہ دل کی صحت کے لیے اس کے اجزا کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
مگر یہ بھی جان لیں کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بلڈ پریشر اور نقصان دل کولیسٹرول کی سطح کو کم کرکے دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں جبکہ ورم بھی کم ہوتا ہے، جبکہ اس میں موجود ایک اور جز tannins بھی بلڈپریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
جسمانی ورم میں کمی لاسکتا ہے
امراض قلب، جوڑوں کے امراض، ذیابیطس، کینسر اور موٹاپا سب کا تعلق دائمی ورم سے جوڑا جاتا ہے۔مگر ورم کش مرکبات سے بھرپور غذاؤں کا استعمال اس ورم کو کم کرکے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
جاپانی پھل وٹامن سی کے حصول کا اچھیا ذریعہ ہے جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ایک پھل سے روزانہ درکار 22 فیصد مقدار حاصل کی جاسکتی ہے، یہ وٹامن خلیات کو فری ریڈیکلز سے بچانے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ جسم کو ورم سے لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ غذائی شکل میں وٹامن سی کا زیادہ استعمال ورم سے ہونے والی بیماریوں امراض قلب، مثانے کے کینسر اور ذیابیطس وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
جاپانی پھل میں کیروٹین، فلیونوئڈز اور وٹامن ای بھی موجود ہیں اور یہ سب اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی ورم سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
فائبر سے بھرپور
جسم میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خصوصاً نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول سے امراض قلب، فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔
پانی میں حل ہوجانے والے فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ جاپانی پھل زیادہ فائبر والا پھل ہے جو ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم کرسکتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو بالغ افراد جاپانی پھل میں موجود فائبر سے بننے والی کوکی بار 12 ہفتوں تک دن میں 3 بار کھاتے ہیں، ان میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
فائبر آنتوں کی سرگرمیوں کو بھی معمول پر لاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔
اس پھل میں موجود فائبر کاربوہائیڈریٹ کو ہضم کرنے اور شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست کرتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر لیول کی سطح بڑھنے سے روکنا ممکن ہوپاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی میں حل ہونے والے غذائی فائبر کا استعمال بڑھانا بلڈ شوگر لیول کی سطح میں نمایاں بہتری آتی ہے، جبکہ فائبر آنتوں میں موجود فائدہ مند بیکٹریا کو ایندھن پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جس سے نظام ہاضمہ اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
صحت مند بینائی کے لیے معاون
جاپانی پھل میں وٹامن اے اور ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہیں جو آنکھوں کے لیے صحت کے لیے ضروری ہیں، وٹامن اے بینائی کے مختلف افعال میں مدد دیتا ہے جبکہ اس پھل میں موجود ایک پروٹین rhodopsin بھی معمول کی بینائی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ جاپانی پھل میں لیوٹین اور zeaxanthin بھی ہوتے ہیں جو کیروٹین اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو صحت مند بینائی کے لیے فائدہ مند ہیں، ان دونوں اجزا سے بھرپور غذا آنکھوں کے مخصوص امراض کا خطرہ ممکنہ طور پر کم کرسکتے ہیں جیسے عمر بڑھنے سے پٹھوں میں آنے والی کمزوری، جس کے نتیجے میں قرینہ متاثر ہوتا ہے اور بینائی سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

October 9, 2019

گھر پر فش پیزا بنائیں

جدت ویب ڈیسک ::فش پیزا بنانے کی ترکیب
اجزاء:
فش فلے ایک پاؤ کیوبز کاٹ لیں
کارن فلور ایک کھانے کا چمچ
نمک حسب ذائقہ
شملہ مرچ ایک عدد
کالی مرچ پسی پاؤ چائے کا چمچ
لہسن ادرک پیسٹ آ دھا چائے کا چمچ
ٹماٹر ایک عدد باریک کیوبز کاٹ لیں
پیاز ایک عدد باریک کاٹ لیں
تیل دو کھانے کے چمچ
موزریلا چیز آدھا پیکٹ کدوکش کر لیں
مکھن آدھا کھانے کا چمچ
اوریگانو آدھا چائے کا چمچ
انڈا آدھا
پارسلے آدھی گڈی کاٹ لیں
پیزا ڈو ایک پاؤ
شملہ مرچ ایک عدد باریک قتلے کاٹ لیں
سبز مرچیں 2 عدد باریک کاٹ لیں
پیزا ساس ڈیڑھ کھانے کا چمچ

ترکیب:
فش کو اچھی طرح دھو کر اس میں نمک کارن فلور کالی مرچیں ادرک لہسن کا پیسٹ اور آدھا چمچ پانی ڈال کر اچھی طرح مکس کر کے ہلکی آنچ پر فرایی کر لیں یہاں تک کہ گولڈن براؤن ہو جائے اس دوران پیزا ڈو بنا لیں پھر اس پیزا ڈو کو رول کر کے پیزا پین میں ڈال دیں پین میں آٹا یعنی ڈو ڈالنے سے پہلے ہلکا سا آئل لگا دیں پھر اس پر پیزا ساس لگا کر فش کے ٹکڑے پیاز ٹماٹر سبز مرچیں چیز شملہ مرچ اور کٹے ہوئے پارسلے ڈال کر کناروں پر پگھلا ہوا مکھن لگا کر برش سے انڈا لگائیں (مکھن سے پیزے سے خوشبو آئے گی جبکہ انڈا لگانے سے گولڈن سا رنگ آئے گا) اب پیزے کو پہلے سے 200 سینٹی گریڈ پر گرم کئے گئے اوون میں پندرہ منٹ کے لئے بیک کر لیں جب پیزا بن جائے تو اوون سے نکال کر برش سے دوبارہ کناروں پر پگھلا ہوا مکھن لگائیں اور گرم گرم سرو کریں

October 8, 2019

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ’ذہین جوتا‘ تیار۔(اسمارٹ الیکٹرک سول)

نیوجرسی: جدت ویب ڈیسک :: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیروں کا خصوصی خیال رکھیں کیونکہ اس مرض میں لگنے والے زخم بہت مشکل سے ٹھیک ہوتے ہیں اور بسا اوقات ناسور بن جاتے ہیں اور بہت سنگین صورتحال میں پیر کٹوانا بھی پڑتا ہے۔ نتیجتاً ذیابیطس کا مریض صرف چند سال کے اندر اندر فوت ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے ذیابیطس میں پیروں کے زخموں سے بچنے پر بطورِ خاص زور دیا جاتا ہے۔
اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پی ایچ ڈی طالب علم لِن لی نے تحقیق کے بعد بونبوٹن نامی کمپنی بنائی ہے جس نے جوتے کے اندر لگانے والا ’ذہین برقی تلا‘ (اسمارٹ الیکٹرک سول) بنایا ہے جسے کسی بھی عام جوتے کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔
اس میں مضبوط سینسر لگے ہیں جو گرافین سے بنائے گئے ہیں۔ یہ سینسر پیر کے تلوے کے مختلف مقامات پر دباؤ کو نوٹ کرتے رہتے ہیں اور اس کے درجہ حرارت میں تبدیلی کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کسی قسم کی سوزش یا اندرونی جلن بڑھ رہی ہے تو اس میں موجود بلیو ٹوتھ فوری طور پر اس کی اطلاع ایک ایپ کے ذریعے مریض کے اسمارٹ فون تک بھیجتا ہے۔
ساتھ ہی ایپ بتاتی ہے کہ آپ کو کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ دوسری جانب جوتے کا اسمارٹ سول آپ کے ڈاکٹروں اور عزیزوں کو بھی اطلاع دیتا ہے کہ پیر میں زخم پڑنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔سول کے اندر چھوٹی اور باریک بیٹریاں لگی ہیں جو مسلسل چار ماہ تک پورے نظام کو بجلی دے سکتی ہیں۔ کمپنی 25 یا 50 ڈالر ماہانہ کے عوض تمام سہولیات فراہم کررہی ہے جن میں ایپ، سول کی مرمت اور بیٹریوں کی فراہمی شامل ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن اور امریکی کمپنیاں بھی اسی طرح کے اسمارٹ جوتے اور سول بناچکی ہیں۔ سان فرانسسکو کی ایک کمپنی نے ذیابیطس کے مریضوں کےلیے برقی موزے بھی تیار کیے ہیں جو اب فروخت بھی ہورہے ہیں۔

Image result for diabetic smart electric shoes new

بونبوٹن کمپنی کی جانب سے تیارکردہ اسمارٹ ان سول کے ذریعے پیر کی جلد میں 0.1 درجے سینٹی گریڈ کی کمی بھی محسوس کی جاسکتی ہے (فوٹو: نیواٹلس)

October 8, 2019

نئی فنگس دریافت ۔اس فنگس کو صرف چھونے سے بھی موت واقع ہوسکتی ہے

آسٹریلیا: جدت ویب ڈیسک ::دنیا کی خطرناک ترین اور جان لیوا فنگس (پھپھوندی) آسٹریلیا کے دور افتادہ علاقے میں پہلی مرتبہ دریافت ہوئی ہے۔ اس سے قبل یہ دیگر ممالک میں مل چکی ہے جن میں جاپان اور کوریا سرِ فہرست ہیں۔اسے ’پوائزن فائر کورل فنگس‘ کہا جاتا ہے جس کی ایک واضح تصویر مقامی فوٹوگرافر نے حاصل کی ہے۔ یہ فنگس کیرنس کے علاقے میں موجود تھی جسے جیمز کوک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے فوری طور پر پہچان لیا۔
فنگس کی شوخ رنگت کی بنا پر لوگ اسے کسی مشروم کی طرح قابلِ نوش سمجھتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ شوخ سرخ رنگت کی بنا پر جاپان اور کوریا کے کئی لوگ اسے کھا کر موت کے گھاٹ اترچکے ہیں۔ عین اسی طرح کے مشروم دونوں ممالک میں چائے میں ڈال کر نوش کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ مشروم، فنگس کی ہی ایک قسم ہوتی ہے۔
جیمز کوک یونیورسٹی کے پروفیسر میٹ بیرٹ کہتے ہیں کہ اس دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دیگر ممالک کے ساتھ آسٹریلیا میں بھی موجود ہے جس سے اس کی وسعت اور اہمیت سامنے آتی ہے۔   واضح رہے کہ یہ دنیا کی واحد مشروم ہے جسے چھوا جائے تو اس کا زہر بدن میں سرایت کرسکتا ہے جس کے بعد مریض کی حالت قابلِ رحم ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب کھانے کی صورت میں قے، ہیضہ (ڈائریا) اور بخار کے ساتھ بدن سن ہوجاتا ہے؛ اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فنگس کا زہر پہلے دماغ پر اثر کرکے اسے سکیڑ دیتا ہے اور اس کے بعد کئی اعضا کو متاثر کرکے موت کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن بروقت تدبیر و علاج سے متاثرہ شخص کی جان بچائی جاسکتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر یہ فنگس ادویہ سازی میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ پوائزن فائر کورل فنگس کی تصویر رے پامر نے کھینچی ہے جو کئی برس سے فنگس اور مشروم کی تصاویر کھینچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ فائرکورل پوائزن فنگس دیکھ کر حیران رہ گئے اور فوری طور پر اس کی تصویر اتارلی۔

Image result for australia found new fungus

Image result for australia found new fungus

Related image

Image result for australia found new fungus

October 3, 2019

میک اپ کا سامان چھپکلیوں سے بنائے جانے کا انکشاف

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک ::  میک اپ کے سامان کی تیاری میں چھپکلیوں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔  دیواروں اور چھتوں پر رینگنے والی یہ مخلوق جسے ہم بےضرر سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں دراصل ہماراے آرائش کے سامان کا حصہ بن چکی ہے۔
وائس آف انڈونیشیا کے مطابق انڈونیشیا کے کیپتا کان نامی گاؤں کے باسی چھپکلیاں پکڑ کے سپلائی کرتے ہیں اور اس سے اچھی خاصی رقم بناتے ہیں۔
جریدے کے مطابق انڈونیشیا کے اس گاؤں میں آپ کو جگہ جگہ چھپکلیوں کے ڈھیر لگے نظر آئیں گے۔
گاؤں کے رہائشی رات کے وقت چھپلکیوں کو تلاش کرکے پکڑنے کے لیے نکلتے ہیں، چھپکلیوں کو پکڑنے کے لیے ایک خاص قسم کی چَھڑی کا استعمال کیا جاتا ہے جس پر گِلو لگی ہوتی ہے، گلو لگی چھڑی کے ذریعے چھپکلی کو پکڑنا آسان ہو جاتا ہے۔چھپکلیاں پکڑنے والے انہیں جمع کرکے اس کام کی سربراہی کرنے والے حوالے کر دیتے ہیں جو انہیں 1 کلو چھپکلیوں کے عوض 3 ڈالر دیتا ہے۔
سپلائی کی گئی چھپکلیوں کو سرف سے دھونے کے بعد دھوپ میں سُکھایا جاتا ہے جس کے بعد یہ مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔
یہ چھپکلیاں میک اپ کے سامان کے علاوہ جلد کی الرجی اور خارش کی ادویات کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہیں۔