May 23, 2019

رمضان کی سوغات پھینی کہاں سے آئی؟

جدت ویب ڈیسک :: پاکستان بھر میں ماہ رمضان میں مقبول ہونے والی پھینی دراصل آئی کہاں سے؟ویسے تو پاکستان کے زیادہ تر شہروں میں پھینی سال کے 12 ہی مہینے دستیاب ہوتی ہے، مگر رمضان المبارک میں یہ بیکری اور مٹھائی کے کھانوں سے باہر نکل کر روڈ اور ٹھیلوں پر آجاتی ہے۔
پھینی کی تاریخ سے متعلق کوئی حتمی دستاویز تو موجود نہیں، تاہم زیادہ تر ماہرین طباخ کا خیال ہے کہ یہ خالصتا مشرق وسطیٰ یا وسطی ایشیائی ممالک کی غذا ہے، جو آہستہ آہستہ دیگر دنیا میں پھیلی۔
لیکن پھینی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دوسرے خطے کی غذا ہونے کے باوجود خالصتا برصغیر کی غذا لگتی ہے، اس کا ایک سبب شاید یہ بھی ہے کہ پھینی انڈٰین پوری اور راجستھانی ستارفینی جیسے لگتی ہے۔
پھینی کو کراچی سے راولپنڈی، کوئٹہ سے پشاور، اسلام آباد سے حیدرآباد، لاہور سے سکھر تک بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے، کیوں کہ ایک تو یہ ہر جگہ آسانی سے زیادہ مقدار میں دستیاب ہوتی ہے، اور دوسرا یہ جلد تیار ہوجاتی ہے۔پھینی سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور فاٹا سمیت ملک کے تمام علاقوں میں یکساں مقبول ہے۔
پاکستان میں پھینی کو شوق سے کھائے جانے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رمضان شروع ہونے سے کچھ دن قبل ہی پھینی کے اسٹال سجنا شروع ہوجاتے ہیں، اور ماہ مبارک شروع ہوتی ہی اس کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پھینی نوجوانوں کے بجائے درمیانی اور بڑی عمر کے افراد سمیت بچوں میں زیادہ مقبول ہے، تاہم نوجوان بھی اسے کھائے بغیر رہ نہیں سکتے۔  پاکستان کا کوئی ایسا شہر نہیں ہے، جو یہ دعویٰ کرے کہ پھینی سب سے زیادہ اس شہر میں ہی کھائی جاتی ہے، یہ تمام شہروں میں یکساں مقبول ہے، لوگ اسے رمضان شریف میں نماز تراویح کے بعد سے لے کر سحری تک کھاتے رہتے ہیں، جب کہ کچھ شوقین افراد کبھی کبھار افطار میں بھی اس کا بندوبست کرتے ہیں۔
پھینی ویسے زیادہ تر سحری کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اور اس کی مقبولیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ جلد ہی تیار ہونے والی بہت ہی نرم اور لذیذ غذا ہے۔

Image result for pheni history

Image result for pheni history

May 17, 2019

بچوں سے متعلق باتیں کونسی ہیں ؟ جو استاد کو بتانا ضروری ہیں

جدت ویب ڈیسک ::اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے۔ نئے اسکول میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ آپ کے بچے کو کہاں کہاں ٹیچر کا تعاون اور مدد درکار ہے۔جب تربیت اور پڑھائی کی بات آئے تو بچوں کے اساتذہ اس حوالے سے خوب مہارت رکھتے ہیں، مگر وہ بچوں کے بارے میں کبھی بھی والدین سے زیادہ نہیں جانتے۔ لہٰذا بطور والدین یہاں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ استاد کو اپنے بچوں سے متعلق ان باتوں سے آگاہ رکھیں جو بچوں کی اسکول میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔
ہم یہاں آپ کو وہ 6 باتیں بتاتے ہیں جو آپ کو لازمی طور پر اپنے بچوں سے متعلق ٹیچر کو بتانی چاہئیں۔
بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے؟
والدین چونکہ اپنے بچے کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کرتے وقت اچھا خاصا وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں اس لیے والد یا والدہ کو یہ بہتر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے۔ آیا آپ کا بچہ ہینڈ ایکٹیوٹی (اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی سرگرمی) کے ذریعے تیزی سے سیکھتا ہے یا پھر ویڈیوز کے ذریعے، بچے کو اسکول بھیجنے سے قبل اس کے ٹیچر کو ان باتوں کے بارے میں بتائیے۔
بچے کی دلچسپی کا محور
اگر آپ کے بچے میں پینٹنگ کی خداداد صلاحیت ہے یا پھر اگر وہ کسی فن کی تربیت رکھتا ہے تو اس بارے میں اس کے ٹیچر کو ضرور بتائیے۔ آپ کے بچے کے پسندیدہ مشاغل کے بارے میں ٹیچر کو پتہ ہوگا تو انہیں اسکول میں موجود دیگر ایسے افراد یا بچوں سے ملانے میں مدد ملے گی جو ان مشاغل یا سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں یا پھر آپ کے بچے کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔
صحت سے متعلق مسائل یا خاص حالات
اگر آپ کے بچے کو صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے خاص مسائل کا سامنا ہے تو پھر اس کے کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک استاد بچے کی صحت سے متعلق حالات سے واقف ہوگا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو کسی قسم کی خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی ٹیچر کو آگاہ رکھیں۔
گھریلو مسائل
اگر آپ کے گھریلو معاملات کسی قسم کے تناؤ کا شکار ہیں جو آپ کے بچے کے رویوں کو متاثر کرسکتا ہے تو ہر حال میں ٹیچر کو ان حالات سے مطلع کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا بچہ بہتر انداز میں صورتحال کو سنبھال رہا ہو تو بھی اسکول انتظامیہ کو ان معاملات سے آگاہ رکھیں۔
بچے کی شخصیت
ہر بچہ اپنی مخصوص شخصیت رکھتا ہے۔ اگر ٹیچر آپ کے بچے کی شخصیت کے پہلوؤں کے بارے میں پہلے سے جانتا ہوگا تو وہ آپ کے بچے کو ہر معاملے میں بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد کرسکے گا۔
بچہ کہاں پختہ اور کہاں کمزور ہے؟
آپ کا بیٹا ریاضی میں بہت اچھا ہوسکتا ہے مگر ممکن ہے کہ انگریزی میں اسے مشکلات پیش آتی ہوں۔ اسی طرح آپ کی بیٹی انگلش کا ہوم ورک تو شوق سے کرتی ہو مگر ممکن ہے کہ سائنس اسے بھاتی نہ ہو۔ یہ تمام باتیں ان کے ٹیچرز کو بتائیے۔ ایسا کرنے سے ٹیچر بچے کی کمزوریوں پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ تمام مضامین میں کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

May 16, 2019

اگرافطار پارٹی کی رونق بڑھانی ہے تو مزیدار سندھی بریانی بنائیے

جدت ویب ڈیسک ::رمضان کے دوران اگر آپ اپنے گھر میں افطار پارٹی رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں تو افطاری میں پیش کی جانے والے عام ڈشز کے ساتھ مزیدار سندھی بریانی بنانے کا انتخاب برا نہیں۔سب سے زیادہ پریشانی اس ہی بات پر ہوتی ہے کہ افطار بنایا جائے یا کھانا پیش کیا جائے؟
تاہم کیوں کہ اس بار اپنی افطار پارٹیز میں کچھ نیا کرکے دیکھیں؟روزہ کھولنے کے لئے افطار میں سموسے، پکوڑے، چھولے، دہی بڑے وغیرہ تو پیش کریں ہی کیوں کہ ان کے بغیر افطاری مکمل نہیں، البتہ کھانے میں صرف ایک ڈش سندھی بریانی بنالیں جو باقی ہر ڈش پر بھاری ثابت ہوگی۔ اگر آپ نے دوستوں یا خاندان کے افراد کے لیے گھر میں افراد پارٹی رکھنے کا ارادہ کیا ہے
بریانی ویسے بھی دعوتوں میں بننے والا پکوان ہے، تو اپنے گھر رمضان میں عام بریانی کے بجائے سندھی بریانی بناکر لوگوں کا دل جیت لیں۔
سندھی بریانی کو تیار کرنا تھوڑا محنت طلب ضرور ہے، مگر اتنا مشکل بھی نہیں کہ اسے گھر پر تیار نہ کیا جاسکے، اس کی آسان ترکیب یہاں جانیئے:
اجزاء
چاول باسمتی اعلیٰ کوالٹی 500 گرام

مرغی یا گوشت 500 گرام چھوٹی بوٹیاں

آلو 300 گرام کاٹ لیں

ٹماٹر 250 گرام کاٹ لیں

پیاز 2 عدد کاٹ کاٹ لیں

آلو بخارے 150 گرام

دہی 150 گرام

کوکنگ آئل 2 کپ

بریانی ایسنس حسب ضرورت

سرخ مرچ پاؤڈر حسب ضرورت

نمک حسب ضرورت

ہری مرچ 6 عدد

پودینہ اور دھنیا ایک ایک گٹھی

لہسن اور ادرک پاؤڈر ایک ایک چائے کا چمچ

مکس ثابت گرم مصالحہ 75 گرام کوٹ لیں

زردے کا رنگ حسب ضرورت

ترکیب
سب سے پہلے ایک برتن میں آدھے تیل کے ساتھ پیاز تلیں،اور انہیں دہی کے ساتھ بلینڈ کرلیں۔  ایک علیحدہ برتن میں باقی تیل میں لہسن، ادرک اور گرم مصالحہ بھن لیں، جب یہ بھن جائیں تو ان میں آلو ڈال لیں۔ مصالحہ اور آلو گل جائیں تو اس میں گوشت ڈال کر تھوڑا سا پانی ڈال کر بھن لیں، آخر میں ٹماٹر، پیاز، نمک، دھنیا پودینہ،دہی، آلو بخارہ اور دیگر چیزیں بھی ڈال دیں۔ الگ برتن میں چاول بوائل کریں۔ ایک بڑے برتن میں پہلے قورمہ پھر اس کے اوپر چاول ڈالیں، سب سے اوپر بریانی ایسنس اور زردے کا رنگ ڈال کر تھوڑے پانی کے ساتھ دم کرلیں۔ چند منٹ بعد اتارکر پلیٹوں میں نکال لیں۔ چاہیں تو رائتہ تیار کرکے اس سے نوش فرمائیں، چاہیں تو سلاد کے ساتھ کھائیں۔

Image result for sindhi biryani

May 14, 2019

آنکھوں کا دھندلانا سنگین بیماری کی علامت،نئی تحقیق پڑھیے

جدت ویب ڈیسک ::بینائی ٹھیک ہونے کے باوجود آنکھیں دھندلا جاتی ہوں؟کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے ؟
اگر ہاں تو یہ معاملہ سنگین بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ دل کی شریانوں میں سنگین بیماری کی علامت بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بات یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یہ تحقیق آن لائن طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئی۔
تحقیق میں ایک 77 سالہ شخص کے کیس کا ذکر کیا گیا جسے دائیں آنکھ میں کئی بار دھندلے پن کا سامنا ہوا جس کا دورانیہ 5 منٹ سے بڑھ کر ایک گھنٹے تک پہنچا۔
اس شخص کے معائنے سے معلوم ہوا کہ شریان میں خون کی رکاوٹ پیدا ہونے سے اس کی آنکھوں تک سپلائی رکی جس سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔
ایتھنر کی نیشنل اینڈ کیپوڈیسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح کی رکاوٹ عام طور پر کولیسٹرول اور خون کے خلیات کے اکھٹے ہونے سے پیدا ہوتی ہے جو سر اور گردن تک خون پہنچانے والی شریان کو متاثر کرتی ہے۔بظاہر تو یہ رکاوٹ بہت معمولی ہوتی ہے مگر اس کے نتیجے میں سنگین طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے بینائی کے خاتمے یا جان لیوا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی علامات خون کی شریانوں کے مسائل کے لیے بھی انتباہی علامات ہوسکتی ہیں۔مگر یہ ان لوگوں کے لیے خطرے کی علامت ہوتی ہیں جنہیں پہلے کبھی نظر کی کمزوری یا دیگر مسائل کا سامنا نہ ہوا ہو۔محققین کے مطابق آنکھوں کے معائنے سے ڈاکٹر شریانوں کے نظام کو دیکھ سکتے ہیں کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شریانوں کے مسائل کا اظہار آنکھوں سے نہ ہو۔

May 13, 2019

افطار میں سموسےپکوڑے نہیں کھانے تو ۔۔ سنگاپورین رائس بنالیں

کراچی جدت ویب ڈیسک ::رمضان میں افطار کے دوران بہت سے افراد سموسے پکوڑوں جیسی ڈشز کھانا پسند کرتے ہیں، جبکہ کئی لوگ افطار کے ساتھ ہی رات کا کھانا کھانے کو فوقیت دیتے ہیں۔
ویسے تو عام دنوں لوگ وہی عام ڈشز رات کے کھانے میں بنا کر گھر والوں کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں لیکن اگر رمضان میں افطار کے وقت کھانا کھانا چاہ رہے ہیں تو پھر اس موقع پر کچھ دلچسپ بنائیں۔
یہ ڈش پاکستان میں بےحد شوق سے بنائی اور کھائی جاتی ہے، جبکہ لوگ اسے کئی تقاریب اور شادیوں میں بھی اپنے پکوانوں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔
سنگاپورین رائس بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی پسندیدہ ڈش ہوتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کو تیار کرنا مشکل ہے اور یہ گھر پر اتنی اچھی نہیں بن سکتی جتنی اچھی بازار میں ملتی ہے۔
لیکن ایسا بالکل نہیں ہے، یہاں سنگاپورین رائس بنانے کی نہایت آسان ترکیب بیان کی جارہی ہے، رمضان میں افطار کے لیے اس ترکیب کو گھر والوں کا دل جیتنے کے لیے ضرور اپنائیں۔
اس لذیذ ڈش کی مزیدار ترکیب یہاں پڑھیں:

چکن گریوی کے اجزاء:
چکن ½ کلو بون لیس بوٹیوں میں کاٹ لیں

سویا ساس کھانے کا ایک چمچ

سرکا ایک کھانے کا چمچ

تیل دو کھانے کے چمچ

نمک ½ چائے کا چمچ

لال مرچ ½ چائے کا چمچ

ادرک لہسن پیسٹ ایک کھانے کا چمچ

کالی مرچ ½ چائے کا چمچ

چلی ساس ایک چائے کا چمچ

کیچپ ½ کپ

پانی دو سے تین کھانے کے چمچ

فرائڈ سبزی اور نوڈلز کے اجزاء:
ابلے ہوئے نوڈلز 200 گرام

تیل ایک کھانے کا چمچ

ادرک لمبا کٹا ہوا ایک کھانے کا چمچ

شملہ مرچ لمبی کٹی ہوئی ½ کپ

ہری پیاز کا سفید حصہ کٹا ہوا ¼ کپ

ہری پیاز کا ہرا حصہ کٹا ہوا ¼ کپ

بند گوبھی لمبی کٹی ہوئی ایک کپ

گاجر لمبا کٹا ہوا ½ کپ

نمک حسب ذائقہ

کالی مرچ حسب ذائقہ

لال مرچ پاؤڈر ½ چائے کا چمچ

تل کا تیل ¼ چائے کا چمچ

سویا ساس دو کھانے کے چمچ

مایو ساس بنانے کے اجزاء:
مایونیز ½ کپ

کیچپ 1/3 کپ

چلی ساس ایک چائے کا چمچ

نمک ایک چٹکی

کالی مرچی ایک چٹکی

چاول:
چاول ½ کلو

نمک ایک چائے کا چمچ

تیل ایک چائے کا چمچ

ترکیب:
چکن گریوی: تیل گرم کرکے چکن شامل کریں، اس میں ادرک لہسن کا پیسٹ ڈالیں، رنگ تبدیل ہونے تک فرائی کریں، سویا ساس، سرکا، نمک، لال مرچ، کالی مرچ شامل کریں اور اچھی طرح ملائیں، بعدازاں چلی ساس، کیچپ اور تھوڑا سا پانی شامل کرکے تین سے چار منٹ تک پکائیں، تیار ہونے کے بعد اسے ایک پیالے میں نکال لیں۔
فرائڈ سبزی اور نوڈلز: اس ہی پتیلی میں تھوڑا سا تیل ڈالیں اور ساری سبزیاں شامل کرلیں، صرف ہری پیاز کے ہرے حصے کو چھوڑ دیں، سویا ساس، نمک، کالی مرچ، لال مرچ شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک فرائی کریں، ابلے ہوئے نوڈلز شامل کریں اور ملائیں، تیل، ہری پیاز کا ہرا حصہ شامل کریں اور دوبارہ ملائیں، تیار ہونے ہر الگ رکھ لیں۔
مایو ساس: ایک پیالے میں مایونیز، کیچپ، چلی ساس، نمک اور کالی مرچ شامل کریں، اچھی طرح ملائیں، مایو ساس تیار ہونے پر چاہیں تو اسے کسی بوتل میں رکھ لیں۔
چاول دو کپ نمک کے ساتھ پکا کر علیحدہ رکھ لیں، اور لہسن اور ہری مرچ کا کاٹ کر الگ سے فرائی کرلیں۔
سجاوٹ: ایک ڈش میں چاول کی تہہ لگائیں، دوسری تہہ فرائی سبزیوں اور نوڈلز کی لگادیں، جس کے بعد سب سے اوپر چکن کی تہہ لگائیں۔
آخر میں مایو ساس اوپر سے ڈالیں اور فرائی کی ہوئی ہری مرچ اور لہسن شامل کرکے گھر والوں کے سامنے پیش کریں۔

Image result for singaporian rice recipe

May 11, 2019

کیا آج افطار میں چکن پکوڑے کھانا پسند کریں گے؟

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ہم سب کو ہی افطار میں بھلے کچھ ملے یا نہ ملے لیکن پکوڑے کھانا ضرور پسند ہوں گے، مگر روزانہ ایک جیسے پکوڑے کھا کھا کر یقیناً ہر کوئی چاہتا ہوگا کہ افطار میں نئے نئے انداز کے لذیذ پکوڑے کھانے کو ملیں۔اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ رمضان میں افطاری پکوڑوں کے بغیر ادھوری ہے۔سبزی کے پکوڑے تو عموماً ہر کوئی افطار کے دوران کھاتا ہی ہے لیکن کیا آپ کے گھر چکن کے پکوڑے بھی بنائے جاتے ہیں؟اگر نہیں تو یہاں چکن پکوڑے بنانے کی نہایت آسان ترکیب بیان کی جارہی ہے، جسے آپ نے باورچی خانے میں بھی ضرور آزمائیں:
اجزاء:
دو کپ بیسن

چکن

دو سبز مرچ

ایک چائے کا چمچ سرخ مرچ پاؤڈر

ایک چائے کا چمچ اجوائن

ایک چائے کا چمچ سوکھا دھنیہ

ایک چائے کا چمچ زیرہ

بیکنگ پاؤڈر

نوٹ: پکوڑے کی تیاری کے لیے اپنی پسند کی کسی بھی سبزی کو ترجیح بھی دی جاسکتی ہے۔
طریقہ کار:
بون لیس چکن کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر رکھ لیں۔ دوسری جانب تمام اجزاء کو کچھ مقدار میں پانی ڈال کر آپس میں مکس کرلیں، اس میں چکن چامل کرلیں، پھر اسے اس وقت تک ڈیپ فرائی کریں جب تک وہ کرکرے اور خستہ نہ ہوجائیں۔اب چاٹ مصالحے، دہی، چٹنی، یا کیچپ کے ساتھ کھائیں

May 10, 2019

ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔۔آپ کا جسم صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے،جانیے

جدت ویب ڈیسک :: ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔۔آپ کا جسم صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے،جانیے ۔۔ اور اس میں کسی قسم کی تبدیلیاں جیسے رنگت غائب ہوجانے سے لے کر کسی نئی چیز کا نمودار ہونا کسی قسم کے عارضے کی علامت ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تبدیلی کسی قسم کی غذائی کمی کا نتیجہ ہو اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی سنگین مرض ہو جیسے ذیابیطس، امراض قلب یا دیگر۔ تو یہ ضروری ہے کہ جسم میں آنے والی نئی تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے اور ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ڈاکٹر کسی قسم کے مرض سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں، اگر جسم میں درج ذیل تبدیلیاں نظر آئیں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ناخنوں پر شگاف

شٹر اسٹاک فوٹو

ناخنوں میں شگاف عام طور پر کسی قسم کی انجری، بالوں کے گرنے وغیرہ کا باعث ہوتے ہیں، یہ ناخنوں کی چنبل کی علامت بھی ہوسکتی ہے جو جوڑوں کے امراض یا ورم کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔

دانتوں پر نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ دانتوں پر سفید، زرد یا بھورے نشانات اچانک نظر آئے جن کا تعلق کافی، چائے یا تمباکو نوشی سے نہ ہو تو یہ شکمی عارضہ یا زبان میں سوزش کی علامت ہوسکتی ہے، یہ آٹو امیون مرض ہے جس میں جسم گندم، جو یا رائی میں پائے جانے والے پروٹین گلیوٹین پر ردعمل ظاہر کرتا ہے جس سے معدے کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ غذائی اجزا کو جذب کرنا مشکل ہوتا ہے جن میں سے ایک کیلشیئم بھی ہے جو دانتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گردن پر سیاہ نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو

گردن پر خارش کے نتیجے میں سیاہ حلقے بن جاتے ہیں، یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ شخص ذیابیطس یا انسولین کی مزاحمت کا سامنا کررہا ہے۔

جلد مالٹے کے چھلکے جیسی ہوجائے

شٹر اسٹاک فوٹو

جلد پر ڈمپل جو مالٹے کے چھلکے سے ملتے جلتے ہوں، مختلف طبی مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں، ان میں سے ایک خواتین میں بریسٹ کینسر کی نشانی بھی ہے، جس کے دوران ان ڈمپلز میں سرخی اور سوجن کی شکایت بھی ہوسکتی ہے، ذیابیطس کے مریضوں میں بھی اس طرح کا جلدی ردعمل ہاتھوں اور پیروں میں نظر آتا ہے، اس کا فیصلہ ڈاکٹر ہی تشخیص کے بعد کرسکتا ہے۔

خراشیں پڑنا

شٹر اسٹاک فوٹو

اگر جسم میں کسی وجہ کے بغیر خراشیں نمودار ہورہی ہیں تو یہ خون کے کینسر کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے، اس مرض کے دوران خون کی آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جس کے باعث ہلکی رگڑ پر بھی خراش نمودار ہوجاتی ہے، یہ وٹامن سی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔

ہتھیلی پر سرخ نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو

ہتھیلی پر سرخ نشانات کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سے کچھ سنگین بھی ہوتی ہیں، یہ نشانات چنبل کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جبکہ کسی قسم کے انفیکشن کی جانب بھی اشارہ ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ جگر کے امراض اور جوڑوں کے امراض میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

خون میں سرخ نشان ابھرنا

شٹر اسٹاک فوٹو

آنکھ میں سرخ نشان ابھر آنا خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے خصوصاً اگر وہ 2 ہفتے کے اندر غائب نہ ہوں، کیونکہ ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے مریض میں دماغی شریان پھٹنے کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔

کسی قسم کی گلٹی

شٹر اسٹاک فوٹو

درحقیقت جسم میں کسی بھی نئی یا مشتبہ تبدیلی کو کبھی نظر انداز مت کریں خصوصاً گلٹی کو، طبی ماہرین کے مطابق کوئی بھی نئی گلٹی یا اس میں تبدیلی جسم میں نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر رجوع کریں، یہ ضروری ہے کہ اس تبدیلی کا جائزہ لیا جائے کیونکہ وہ کینسر کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

ناخنوں میں گہری لکیر

شٹر اسٹاک فوٹو

ناخن انسانی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں، اس پر کچھ نشانات غذائی کمی کی جانب اشارہ ہوسکتے ہیں یا موروثی ہوسکتے ہیں، مگر ناخن میں سیاہ یا گہرے بھورے رنگ کی لکیر زیادہ سنگین بھی ہوسکتی ہے بلکہ یہ رسولی کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔

بشکریہ شٹر اسٹاک فوٹوز

May 7, 2019

کھجور کھانے کے اہم فوائد ،شوگر کے مریض کےلئے کتنا ضروری ؟

جدت ویب ڈیسک ::کھجور کھانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پھل چھ ہزار قبل مسیح سے کاشت کیا جارہا ہے۔
یہ چند سب سے میٹھے پھلوں میں سے ایک ہے اور اس کی متعدد اقسام ہوتی ہیں تاہم یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، کاپر، مینگنیز، میگنیشم اور وٹامن بی سکس جیسے اجزاءشامل ہوتے ہیں جو کہ متعدد طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔
یہاں طبی سائنس کے تسلیم شدہ وہ فوائد جانیں جو کھجور کھانے سے آپ کو حاصل ہوسکتے ہیں۔
نظام ہاضمہ کو بہتر اور قبض سے نجات دلائے
فائبر آنتوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری جز ہے اور قبض کی روک تھام کرتا ہے، کھجور میں جذب ہونے والا اور جذب نہ ہونے والا فائبر موجود ہوتا ہے جو کہ آنتوں کے نظام کی صفائی میں مدد دیتا ہے اور اسے اپنا کام موثر طریقے سے کرنے دیتا ہے۔
دل کی صحت کے لیے بہترین
اسرائیل کے ٹیکینو انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق روزانہ انار کے جوس اور 3 کھجوروں کا استعمال دل کے امراض کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انار اور کھجوریں اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو دل کی شریانوں کے سخت ہونے اور سکڑنے کا خطرہ ایک تہائی یا 33 فیصد تک کم کردیتے ہیں۔
ورم کش
کھجور میگنیشم سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ ایسا منرل ہے جو ورم کش خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جب میگنیشم کا استعمال بڑھتا ہے تو کئی طرح کے ورم کی سطح میں کمی آتی ہے، جس سے خون کی شریانوں کے امراض، جوڑوں کے امراض، الزائمر اور دیگر بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
خون کی کمی دور کرنے میں مددگار
کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
بلڈ پریشر میں کمی
کھجور میں شامل میگنیشم بلڈ پریشر میں کمی لانے میں بھی مدد دینے والا جز ہے، جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بھی جسم کے لیے فائدہ مند ہے جو دل کو مناسب طریقے سے کام کرنے اور بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
فالج سے بچاؤ
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ سو ملی گرام میگنیشم کا استعمال فالج کا خطرہ 9 فیصد تک کم کردیتا ہے اور جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ جز کھجوروں میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
ہڈیوں کی مضبوطی
کھجوریں میں موجود مینگنیز، کاپر اور میگنیشم ایسے اجزاءہیں جو ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یہ بھربھرے پن کے مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
دماغی صحت بہتر بنائے
طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے والی ایک تحقیق کے مطابق جسم میں وٹامن بی سکس کی مناسب مقدار دماغی کارکردگی میں بہتری اور اچھے امتحانی نتائج کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

نوٹ :شوگر کے مریض اور ہائی بلڈ پریشر والے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے  کھجورکھا ئیں