November 16, 2019

سیاحتی مقام فضاگٹ میں بندروں کے ڈیرے

جدت ویب ڈیسک ::وادیٔ سوات کے مشہور ہل اسٹیشن فضاگٹ میں مرکزی سڑک کے کنارے بلند پہاڑوں کے درمیان چند بندروں نے ڈیرہ جما لیا ہے، جو سیاحوں کو دیکھ کر اچھل کود شروع کر دیتے ہیں، سیاح بھی گاڑیاں روک کر نظارہ دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔جہاں وادیٔ سوات میں موسم سرما کی بارشیں اور برف باری نے ماحول خوب صورت بنایا ہوا ہے وہاں خیبر پختون خوا کے مشہور ترین سیاحتی مقام فضاگٹ میں سیاحوں کے لیے ایک اور نظارے نے دل چسپی پیدا کر دی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ بندروں کا یہ ٹولہ جس میں حال ہی میں پیدا ہونے والے بندر بچے بھی شامل ہیں، پہاڑ پر موجود گھنے جنگل سے کھانے کی چیزوں کی تلاش میں نیچے اترتا ہے۔
سیاح بندروں کو دیکھ کر رکتے ہیں اور انھیں کھانے کی چیزیں پیش کرتے ہیں، قریب ہی بھٹے والے نے بھی ڈیرا جما لیا ہے، جس سے سیاح بھٹے خرید کر بندروں کو کھلاتے ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بندروں کا یہ ٹولہ کافی عرصے سے پہاڑی جنگل سے کھانے کی اشیا کی تلاش میں اتر کر نیچے آ رہا ہے، سڑک پر مٹر گشت کرنے کی وجہ سے اکثر ٹریفک بھی جام ہو جاتا ہے۔
اس پہاڑی پر محکمہ جنگلات کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے حوالے سے ہدایات پر مبنی ایک بورڈ بھی نصب کیا گیا ہے، جس پر لکھا گیا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ ہر شہری کا قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
مقامی شہری محمد یاسین کا کہنا تھا کہ وادیٔ سوات کو دنیا کے حسین ترین مقامات میں سے ایک شمار کیا جا سکتا ہے، ان سیاحتی مقامات کو مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم عمران خان نے پختون خوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے بلاشبہ قابل تعریف کام کیا ہے۔

Related image

Related image

Related image

November 16, 2019

کیا آپ جانتے ہیں پلکوں‌ کا بار بار جھپکنا کس خطرے کی علامت ہے؟

جدت ویب ڈیسک ::بصارت سے متعلق ویسے تو کئی امراض ہیں مگر کئی مواقعوں پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اچانک آنکھوں میں جلن اور اینٹھن شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مسلسل پلکیں جھپکتی ہیں۔
آنکھیں جھپکنا قدرتی عمل ہے البتہ غیر فطری طور پر یہ عمل جلدی جلدی ہونا کسی مرض کی نشاندہی کرتا ہے جن میں سے چند آپ کے پیش خدمت ہیں۔
آنکھیں بار بار جھپکنے کی وجوہات
چند لوگوں اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ اینٹھن اور درد کے باوجود اپنی آنکھوں کو کھلا رکھتے ہیں، اس عمل کو طبی زبان میں ’بلفارواپساسم‘ کہا جاتا ہے۔
امراض چشم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پلکیں جھپکنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے چند عام جیسے نیند کی کمی، تھکاوٹ، جسمانی مشقت، آنکھوں میں جلن، ذہنی تناؤ، نشہ آور چیزوں کا استعمال، ادویات کا سائیڈ ایفکٹ ہیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، تیز روشنی، ذہنی دباؤ، سگریٹ نوشی، کسی بات کی پریشانی کے دوران بھی پلکیں بار بار جھپکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ پلکیں بار بار جھپکنا اچھی علامت نہیں ، اگر اس بات کو نظر انداز کیا جائے تو بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق بار بار آنکھیں بند ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کے دماغی اعصاب درست انداز سے کام نہیں کررہے، اس بات کو نظر انداز کرنے کی صورت میں بڑی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔
ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ پلکیں جھپکنا قدرتی عمل ہے لہذا اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں البتہ اگر اس دوران آپ کی آنکھیں لال ہوجائیں اور بینائی متاثر ہونے لگے یا پھر پورے چہرے پر آنکھیں بند کرنے کے اثرات مرتب ہوں تو ڈاکٹرز سے فوری رجوع کریں۔

Image result for eyesight

November 14, 2019

آئیے بنائیں کیلے کی چائے۔۔ اہم فوائد جانیے

جدت ویب ڈیسک :: کیلا صرف کھانے کے کام نہیں آتا بلکہ پکا بھی سکتے ہیں ۔۔۔۔وہ بھی چائے۔۔ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں صحت بخش غذاؤں کی تلاش میں رہتے ہیں تو بعض اوقات ایسی دلچسپ اشیا ہمارے سامنے آتی ہیں جو بہت مفید ہیں مگر ہم انہیں استعمال نہیں کرتے۔
کیا آپ کے علم میں ہے کہ کیلے کی چائے انسانی صحت کے لیے مفید ہے، کیا آپ نے آج تک اس چائے کو استعمال کیا یا اس کے ذائقے کے بارے میں جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم بتاتے ہیں۔
کیلا دنیا کو وہ مشہور پھل ہے جو تقریباً ہر ملک میں ہی موجود ہے اور اسے فائدے کے لیے بطور پھل استعمال بھی کیا جاتا ہے حتیٰ کہ کیلے کے چھلکوں میں بھی بہت سے فوائد پوشیدہ ہیں جن کے بارے میں آگاہی رکھنے والے انہیں بھی استعمال کرتے ہیں۔
بعض لوگ ناشتے میں کھیلا ضرور کھاتے ہیں یا پھر دن میں ایک بار ضرور اس پھل کا استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کو توانا رکھ سکیں البتہ چند لوگ سکون و آرام حاصل کرنے کے لیے اس کی چائے بھی پیتے ہیں۔
چائے بنانے کا طریقہ
کیلے کی چائے بنانے کا طریقہ بہت آسان ہے، ایک برتن میں پانی بھر کر اس میں درمیانے سائز کا کیلا چھلکے سمیت ڈالیں اور پھر پانی کو ابلنے کے لیے رکھ دیں، جب ابال آجائے تو اسے چولہے سے اتار لیں اور پانی کو چھان لیں۔
چائے کو صرف کیلے یا چھلکے کے ساتھ بنایا جاسکتا ہے دونوں کے فوائد ایک جیسے ہی ہیں البتہ ماہرین کا ماننا ہے کہ کیلے کے چھلکے میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو سمیت والی چائے زیادہ فائدہ دیتی ہے۔
اپنے حساب سے چائے کو میٹھا کرنے کے لیے اس میں شہد ڈال لیں جو بہت زیادہ فائدے مند ہوگا۔ اب اپنی مرضی کے مطابق چائے کو استعمال کریں۔
چائے کے فوائد
کیلے کی چائے رات میں پینا بہت زیادہ فائدے مند ہے،اس سے پرسکون نیند آتی ہے، کیونکہ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم، کاپر اور وٹامن بی 6 کی وافر مقدار پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں بھی یہ چائے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

Related image

Image result for banana tea

November 14, 2019

باقرخانی ایک امر محبت کی نشانی

کراچی ۔جدت ویب ڈیسک ::پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو باقر خانی کے نام سے واقف نہ ہو، چائے کے ساتھ تل اور دانے دار چینی سے مزین سوندھی اور کراری باقرخانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔ لیکن، بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ خستہ باقرخانی کہاں سے آئی؟ اسے باقرخانی کیوں کہتے ہیں اور یہ کیسے تیار کی جاتی ہے؟
عام طور پر ناشتے میں استعمال ہونے والی باقر خانی کرکری پرت دار، پتلی اور روغنی ٹکیا ہے۔ جو میدہ، گھی اور دودھ سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے اوپر دانے دار چینی، خشخاش یا تل چھڑک کر اس کا ذائقہ مزید بڑھایا جاتا ہے۔ اس تندوری ٹکیا کے نام کے پیچھے باقر خان اور خانی بیگم کے عشق کی داستان ہے۔
بہت سے دیگر پاکستانی کھانوں کی طرح باقرخانی بھی مغلوں کے کچن میں متعارف ہوئی۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں بنگال کے شہروں میں باقرخانی بنائی اور کھائی جاتی تھی۔
روایات کے مطابق باقر خانی کا نام باقر خان کے نام پر رکھا گیا ہے جو نواب سراج الدولہ کے دور حکومت میں چٹاگانگ میں ایک فوجی جرنیل تھے۔ باقر خان ایک خوبصورت شاہی رقاصہ خانی بیگم کے عشق میں مبتلا تھے اور خانی بیگم بھی باقر خان کی دیوانی تھیں۔ محبت کی اس داستان میں ایک اور درباری افسر زین الخان کی انٹری ہوئی۔ جب اس کو تمام تر کوششوں کے باوجود خانی بیگم کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو اس نے خانی بیگم کو اغوا کر کے قید میں ڈال دیا۔
باقر خان نے جلد ہی خانی بیگم کو زین الخان کی تحویل سے آزاد کروا لیا۔ لیکن، ایک نئی مصیبت میں پھنس گیا۔ خانی بیگم کے آزاد ہونے پر زین الخان روپوش ہو گیا اور اپنے قتل کی افواہ پھیلا دی۔ اس قتل کا الزام باقر خان اور خانی بیگم پر آیا، اس جرم میں دونوں کو سزائے موت سنائی گئی۔
جب یہ خبر شہر میں پھیلی تو نان بائیوں نے باقر خان اور خانی بیگم سے عقیدت کے طور پر باقر خان کی پسندیدہ روٹی کو باقرخانی کا نام دے دیا۔
یہ باقرخانی جب بنگال سے پورے برصغیر میں پھیلی تو اس کے ساتھ باقر خان اور خانی بیگم کی محبت کی داستان بھی امر ہوگئی۔

Related image

November 14, 2019

ذیابیطس کا عالمی دن: کم کھائیں اور زیادہ چلیں۔ آگاہی کا دن

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ذیابیطس یا شوگر سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں ہر 4 میں سے ایک شخص ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہے۔
ذیابیطس کا عالمی دن منانے کا مقصد اس مرض سے پیدا شدہ پیچیدگیوں، علامات اور اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ’خاندان کی حفاظت کریں‘ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کا مرض موروثی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اگر خاندان میں یہ مرض موجود ہے تو اس سے حفاظت اور بچاؤ کے اقدامات کم عمری سے ہی اٹھائے جائیں۔
ذیابیطس دراصل اس وقت ہمارے جسم کو اپنا شکار بناتا ہے جب ہمارے جسم میں موجود لبلبہ درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دے اور زیادہ مقدار میں انسولین پیدا نہ کر سکے، جس کے باعث ہماری غذا میں موجود شکر ہضم نہیں ہو پاتی۔
یہ شکر ہمارے جسم میں ذخیرہ ہوتی رہتی ہے جو شوگر کی بیماری کے علاوہ بے شمار امراض پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کا ساتواں بڑا ملک ہے جبکہ سنہ 2030 تک یہ چوتھا بڑا ملک بن جائے گا جو ایک تشویشناک بات ہے۔
ذیابیطس کی کئی علامات ہیں جن میں پیشاب کا بار بار آنا، وزن کا گھٹنا، بار بار بھوک لگنا، پاؤں میں جلن اور سن ہونا شامل ہیں۔ ذیابیطس دل، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور دیگر اعضا کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس موذی مرض کی اہم وجہ غیر متحرک طرز زندگی اور غیر صحت مند غذائی عادات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس سے بچنے کے لیے انٹرنیشنل ڈایابیٹز فیڈریشن کی ہدایت ’کم کھائیں اور زیادہ چلیں‘ پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔
ان کے مطابق والدین 5 سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے پرہیز کروانا شروع کردیں۔ یہ وزن میں اضافے کا سبب ہیں اور موٹاپا ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کی سطح سے ہی ذیابیطس کی تشخیص اور علاج کے لیے قومی صحت پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج ہی اس بیماری کے باعث لاحق ہونے والی پیچیدگیوں سے بہتر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

November 9, 2019

کیا آپ لہسن ادرک کے یہ طبی فوائد جانتے ہیں؟

جدت ویب ڈیسک ::ادرک اورلہسن ایسی جڑی بوٹی نما سبزی ہے جو انسانی جسم پر ہونے والے بیماری کے کسی بھی حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اسے خالی پیٹ کھایا لیا جائے تو قوت مدافعت اور بڑھ جاتی ہے۔ویسے تو لہسن پاکستان میں پکنے والے تقریباً سبھی کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن کیا آپ اس جڑی بوٹی نما سبزی کے استعمال سے صحت پر پڑنے والے فوائد سے آگاہ ہیں؟

لہسن قدرتی طور پر ایک اینٹی بائیوٹک ہے جسے اگر صبح نہار منہ کھالیا جائے تو اس سے اچھا قدرتی علاج کوئی نہیں چلیے آپ کو اس جڑی بوٹی نما سبزی کے مندرجہ ذیل طبی فوائد بتاتے ہیں۔
پہلا : کھانسی کےلیے مفید
اس قدرتی اینٹی بائیوٹیک جڑی بوٹی میں موجود عناصر کھانسی کےلیے کافی مفید اور بہترین علاج ہیں جبکہ یہ ایسے جراثیم کا خاتمہ بھی کرتا ہے جو غذا کو ہضم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
دوسرا : چربی کم کرنے میں مفید
اگر آپ لہسن کا نہار منہ یا خالی پیٹ استعمال کرتے ہیں تو یہ جسم میں موجود فاضل چربی کو کھٹانے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ خون کو بھی پتلا کرتا ہے جو کولیسٹرول کنٹرول کرنے میں خاصا مددگار ہے۔
تیسرا : جگر اور مثانے کےلیے مفید
صبح کے وقت خالی معدے میں لہسن کے چند دانوں کا جانا بلند فشار خون کو نارمل کرنے میں معاون ہوتا ہے جبکہ یہ جگر اور مثانے کی کارکردگی کےلیے بہترین ہوتا ہے۔
چوتھا : بھوک بہتر بنانا
لہسن ایسی شہ ہے جو اعصابی نظام کو مزید قوی کرتا ہے اورہاضمے کے عمل کو مضبوط بناتا ہے جبکہ صبح خالی پیٹ کھالیا جائے تو یہ پیٹ میں ہونے والی خرابیوں کےلیے بھی بہت مفید ہے باالخصوص اگر آپ کو بار بار حاجت ہوتی ہے تو نہار منہ لہسن کا استعمال بہت بہترین ہے۔
ادرک کے طبی فوائد
ادرک معدہ کے جملہ امراض میں مفید ہے یہ دست اور بھی ہے اور قابض بھی ہے تازہ ادرک پسی ہوئی آدھی چمچ ادرک میں ایک چمچ پانی ایک عدد لیموں کا رس ایک چمچ پودینے کا رس اور ایک چمچ۔شہد ملا لیں یہ مرکب وہ لوگ جنھیں متلی قے بد ہضمی یرقان اور بواسیر کی شکایت دن میں تین بار چاٹ لیں یہ نسخہ ان بیماریوں میں بے حد اکسیر کا درجہ رکھتا ہے اگر بھوک کم لگتی ہو تو بھی ادرک استعمال کریں پیٹ کا درد اور اپھارہ دور کرنے لے لیے بھی ادرک کھائی جاتی ہے اگر ہاضمہ درست رکھنا ہو تو کھانے کے بعد تازہ ادرک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چبا لیں اس نسخے سے زبان کی میل بھی اترتی ہے اس کے علاوہ معدہ کئی بیماریوں سے بھی پاک رہتا ہے اگر جگر کی خرابی کے باعث پیٹ میں پانی جمع ہو جائے تو مریض کو ادرک کا پانی پلائیں کیونکہ پانی پیشاب آور ہے اور پیٹ کا ساراپانی نکال دیتا ہے اس کے علاوہ صرف ایک چوتھائی ادرک کے چمچ کے روزانہ استعمال سے آپ ذیابیطس سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور خون میں گلوکوز انسولین اور کولیسٹرول کا لیول کنٹرول میں رہتا ہے ایک تحقیق کے مطابق ادرک کے باقاعدہ استعمال سے جسم میں انسولین کی مقدار صحیح رہتی ہے جس کہ وجہ سے ذیابیطس ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں لہذا ایسے لوگ جنہیں ذیابیطس ہونے کا خطرہ لاحق ہو انہیں یہ ضرور استعمال کرنا چاہیے جبکہ دیگر افراد میں بھی یہ بہت فائدہ مند ہیں

Image result for garlic and ginger benefits

November 9, 2019

دانتوں کو چمکانے کے لئےچند قدرتی طریقے

جدت ویب ڈیسک ::دانتوں کو چمکانے کے لئے لوگ ہزاروں روے ڈینٹسٹ کو دے کر دانت صاف کرواتے ہیں تاہم چند قدرتی طریقوں سے آپ اپنے دانتوں کو سفید کر سکتے ہیں
دانتوں کا پیلاہٹ پن دور کرنے کی تراکیب::
پاپ کورن کے سخت کونے دانتوں پر سے بیکٹیریا کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں رات کو سونے سے پہلے اگر ٹوتھ برش نہ کع سکیں تو آخری غذا کے طور پر پاپ کارن کھالیں اس سے دانتوں میں موجود بیکٹیریا ختم ہو سکتے ہیں
ایک چمچ ناریل کے تیل سے دانتوں کو دھو لیں پندرہ منٹ تک ناریل کا تیل دانتوں پر لگا رہنے دیں تاکہ دانتوں میں موجود بیکٹیریا ختم ہو جائیں اور دانت صاف اور سفید ہو جائیں
دودھ میں موجد کیلشیم دانتوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے دودھ کے ساتھ لیموں بھی دانتوں کو چمکانے کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔۔۔بیکنگ سوڈا ٹوتھ پیسٹ کا حصہ ہوتا ہے ایک چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ملا کر ٹوتھ پیسٹ کی مدد سے اپنے دانتوں پر لگائیں یہ عمل روازنہ باقاعدگی سے کریں کچھ عرصہ بعد دانت چمکنے لگیں گے
اسٹرابریز میں شامل مالیس ایسڈ قدرتی طور پر دانتوں کی صفائی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ایک عدد اسٹرابیری پر نمک اور تھوڑا سا بیکنگ سوڈا لگا کر دانتوں پر ملنے سے دانتوں کا پیلاہٹ پن دور ہوجاتا ہے دانت سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں

November 9, 2019

خطرناک بیماریاں ختم کریں۔ رونا کچھ بیماریوں کے حوالے سے نہایت مفید ہے

جدت ویب ڈیسک ::خطرناک بیماریاں ختم کریں۔ رونا کچھ بیماریوں کے حوالے سے نہایت مفید ہے….ہمارےمعاشرے میں رونے والوں کو کمزورسمجھا جاتا ہے خاص طور پرمردوں کو اسی لیے مرد حضرات وہاں بھی نہیں روتے جہاں رو لینا چاہیے ایک تحقیق کے مطابق عورتیں مہینے میں پانچ سے سات مرتبہ جبکہ مرد مہینے میں ایک مرتبہ روتے ہیں حالانکہ رونا کچھ بیماریوں کے حوالے سے نہایت مفید ہے چند بیماریاں ایسی ہیں جو رونے سے ختم ہو جاتی ہیں آپ اگر ان بیماریوں میں سے کسی کا شکار ہیں تو بے فکر ہو کر روئیں یہ آپ کی صحت کے لیے مفید ہے چند بیماریاں۔درج ذیل ہیں
سٹریس اور ڈپریشن:
ایک تحقیق کے مطابق رونے سے سٹریس کا خاتمہ ہوتا ہے اور انسان سکون اور ریلیکس محسوس کرتا ہے ماہرین کے مطابق رونے کے تھوًی دیر بعد ذہنی تناو کا۔خاتمہ ہو جاتا ہے جس سے گہری نیند آتی ہے میڈیکل سائنس کے مطابق رونے سے پیراسمیتھیٹیک نروس سسٹم بیدار ہوتا ہے اور یہ سسٹم۔دماغ کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اسی طرح ہائی بلڈ پریشر جو کہ بہت سی خطرناک بیماریوں لا باعث ہے جس میں ہارٹ اٹیک فالج گردے فیل ہونے جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں ماہرین کے مطابق رونے سے انسان کا بلڈ پریشر نارمل ہوتا ہے اور دل کی تیز دھڑکنیں بھی نارمل۔ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ رونے کے دوران آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہماری آنکھوں کی صفائی کر دیتے ہیں اس کے علاوہ آنسو جسم سے فاضل مادے بھی خارج کر دیتے ہیں جو سٹریس کے دوران بڑھ جاتے ہیں اور اس سے ہمارے جسم کا کورٹیسل ہارمون لیول نارمل۔ہو جاتا ہے اس ہارمون کی زیادتی ذہنی تناو کا باعث بنتی ہے ہمارے جسم میں موجود میگنیز کی زیادہ تعداد ہمارے مُوڈ کو متاثر کرتی ہے جب ہم روتے ہیں توآنسووں کے راستے ہمارے جسم میں موجود میگانیز کی زیادہ تعداد خارج ہو جاتی ہے اور جب یہ خارج ہوتے ہیں تو مُوڈ بہتر ہونے کے ساتھ ہی گہری نیند حاصل ہو جاتی ہے جسمانی درد کی صورت میں رونے سے تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے ماہرین کے مطابق رونے کے دوران آنسووں کے ساتھ جسم سے ایسے کیمیکلز خارج ہو جاتے ہیں جسم کی تکلیف کم کرتے ہیں ساتھ ہی ہمارے غم کے احساس کو بھی کم کر دیتے ہیں

November 8, 2019

بلی نے ہیرو کا لقب حاصل کرلیا۔ ویڈیو وائرل۔بلی نے ایک سالہ بچے کی زندگی کیسے بچائی؟

جدت ویب ڈیسک ::بوگوٹا: کولمبیا کی ایک پالتو بلی نے چھوٹے بچے کی زندگی کو محفوظ بنا کر ہیرو کا لقب حاصل کرلیا۔
بوگوٹا اپارٹمنٹ کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بلی اور ایک چھوٹا بچہ صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک بچے نے گھٹنوں گھٹنوں چلنا شروع کردیا اور وہ سیڑھیوں کے قریب پہنچا۔
بلی نے جب بچے کو زینے کے قریب جاتے دیکھا تو وہ تیزی سے بچے کے پاس گئی اور اُس کو سیڑھیوں سے پیچھے دھکیل دیا جس کی وجہ سے بچہ بڑے حادثے سے بچ گیا۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بلی نے بچے کے سر پر پنجے بھی مارے۔ جس کے بعد بچہ سیڑھیوں سے پیچھے ہوا اور واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 27 سالہ ڈیانا لورینا نے جب سیکیورٹی کیمرہ چیک کیا تو دیکھا کہ اُن کا ایک سالہ بچہ سامیول بالکل سیڑھیوں کے قریب تھا۔
ڈیانا لورینا کا کہنا ہے کہ انہیں اب اپنی بلی پر فخر ہے کیونکہ اُس نے بچے کی زندگی کو محفوظ بنایا۔