March 31, 2020

نارنگی میں موجود فائبر بلڈ پریشر کو کم کرنے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طبی تحقیق

ویب ڈیسک ::۔۔۔۔ہم اپنے اللہ کا کیسے شکر ادا کریں جس نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کیں ،دنیا کے گرم علاقوں میں کاشت کیا جانے والا پھل نارنگی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک ہے، یہ نہ صرف خوش ذائقہ، فرحت بخش ہے بلکہ صحت کے لیے بہت مفید ہے۔

دنیا بھر میں سٹرس فروٹ بہت پسند کیے جاتے ہیں اور نارنگی پھلوں کے اسی گروہ میں شامل ہے۔ اسے ہم سنگترہ بھی کہتے ہیں۔

نارنگی دل، معدے اور دورانِ خون سے متعلق امراض اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ طبی ماہرین اس کی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر اسے ہر عمر کے انسانوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔

یہ پھل وٹامن سی، فولیٹ، تھیامین اور اینٹی آکسیڈنٹس کا مجموعہ ہے۔

یہ پھل بنیادی طور پر کاربوہائیڈریٹس اور پانی کی زائد مقدار کی وجہ سے صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

طبی سائنس کے مطابق یہ پھل فائبر کا بھی اہم ذریعہ ہے اور یہ معدنیات بالخصوص وٹامن سی، فولیٹ، پوٹاشیم اور تھیامین بھی فراہم کرتا ہے۔

طبی تحقیق بتاتی ہے کہ نارنگی میں موجود فلیوو نوائڈ بالخصوص ہیسپیریڈن دل کے امراض کے خلاف مزاحمت کرنے والا جزو ہے۔ ماہرین کے مطابق چار ہفتوں تک نارنگی کا جوس استعمال کر کے خون پتلا کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نارنگی میں موجود فائبر بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بعض طبی مطالعے بتاتے ہیں کہ یہ گردوں کو پتھری سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

نارنگی جسم میں آئرن کی کمی بھی دور کرتا ہے اور قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

اس پھل پر طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ قبض دور کرتا ہے اور اس کی مدد سے معدے کے السر سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مستند اور ماہر ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

Citric fruits. (Oranges & etc) (الاترج) – The Tibb-e-Nabvi

March 30, 2020

اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت ہے تو فوری ٹیسٹ کرائیں۔۔کرونا وائرس سے قبل ظاہر ہونے والی 8 بڑی علامات

انگلینڈ: ویب ڈیسک ::اگر آ پکو ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو رہی ہے تو فوری اپنا اورگھر والوں کا ٹیسٹ کرائیں ۔۔۔۔۔برطانیہ کے طبی اور تحقیقی ماہرین نے کرونا وائرس سے قبل ظاہر ہونے والی 8 بڑی علامات تلاش کرلیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں کرونا وائرس کی علامات جاننے کے حوالے سے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے اور متاثرہ افراد کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں مطالعہ کیا۔

ماہرین نے تحقیق کے دوران ایک رپورٹ تیار کی جس میں وہ 8 علامات بتائی گئیں ہیں جو کرونا وائرس سے قبل ظاہر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اگر کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہو تو متاثرہ شخص کرونا کی تشخیص کا ٹیسٹ ضرور کروائے

ماہرین نے جنوری کے وسط سے لے کر 25 مارچ تک سامنے آنے والے کیسز کے مریضوں کا ڈیٹا جمع کیا اور اُس کی روشنی میں ہی رپورٹ مرتب کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کے ٹیسٹ پازیٹیو آئے اُن کو قبل از وقت کوئی ایک اور بہت سو کو تمام ہی ظاہر ہوئیں تھیں۔

جسمانی تھکاوٹ

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بخار، نزلہ، خشک کھانسی کی وجہ سے مریض کو شدید جسمانی تھکاوٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اُس کا سانس پھولنے لگتا ہے۔

سانس بہت زیادہ پھولنا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامت یہ ہے کہ متاثرہ شخص کی سانس کا توازن بگڑ جاتا ہے اور پھر ایک وقت میں اُس کے پھیپھڑے ہوا کو جمع کرنے کی صلاحیت تک کھو دیتے ہیں جس کی وجہ سے سانس بہت زیادہ پھولتا ہے۔

آنکھوں کا انفکیشن

ماہرین کے مطابق آنکھوں کا سرخ ہونا یا بار بار آنسو بہنا کرونا کی بڑی علامات میں سے ایک ہے کیونکہ آشوب چشم کا کوئی بھی مرض سینہ جکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہےْ

خشک کھانسی

تحقیقی رپورٹ کے مطابق خشک کھانسی کا بہت زیادہ ہونا یا پھندہ لگنا بھی کرونا کی علامت ہے۔ یہ عام کھانسی نہیں ہوتی بلکہ عام طور پر  زیادہ تمباکونوشی کرنے والے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

دماغی تھکاوٹ اور سر میں درد

ماہرین نے بتایا کہ سر میں درد رہنا یا دماغی تھکاوٹ ہوجانا بھی کرونا کی خاموش علامت ہے۔

تیز بخار

کسی بھی شخص کو 100 فیرن ہائیڈ یا اُس سے زیادہ بخار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے جسم کرونا سے متاثر ہوچکا ہے۔ ایسے بخار میں سینہ اور پیٹ (پشت) بھی تپ رہی ہوتی ہے۔

ذائقے اور سونگھنے کی حس ختم ہونا

تحقیقی رپورٹ کے مطابق کسی بھی شخص کی ذائقے اور خوشبو سونگھنے کی حس ختم ہونا کرونا کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہے کیونکہ جب زکام بہہ نہیں پاتا تو کان اور حلق کو متاثر کرتا ہے جس کے بعد ناک اور زبان غیرمعمولی طور پر اپنی حس کو کھو دیتی ہیں۔

پیٹ میں درد رہنا

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ میں درد رہنا اور پیشاب کے وقت اس کی شدت کا بڑھ جانا کرونا کی بڑی علامت میں سے ایک ہے۔ اگر ایسی تکلیف کسی شخص کو محسوس ہو تو وہ خود کو سب سے علیحدہ کرلے۔

ماہرین کے مطابق چین کے شہر ووہان میں کرونا سے متاثر ہونے والے 204 مریضوں میں سے 49 فیصد کو صرف پیٹ میں درد کی شکایت تھی اور ان کے ہاضمے کا نظام بھی خراب ہوگیا تھا۔

March 27, 2020

خواتین متوجہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میک اپ کی دکان میں ’ٹیسٹرز‘ استعمال نہ کریں

ویب ڈیسک  ::خواتین متوجہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میک اپ کی دکان میں ’ٹیسٹرز‘  استعمال نہ کریں

عام طور پر دکانوں میں نمونے کے طور پر رکھے جانے والے ٹیسٹر آئی لائنر، لپ سٹک اور دوسری اشیا کو استعمال کرنے کے لیے کسی پر روک ٹوک نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں میک اپ بیچنے والی ’بوٹس‘ اور ’سوپر ڈرگ‘ جیسی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ استعمال شدہ میک اپ ٹیسٹرز بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم متعدد فارمیسیز اور میک اپ بیچنے والی دوسری دکانوں میں اب بھی یہ نمونے موجود ہیں۔ حالانکہ ان دکانوں میں لوگوں کے لیے جگہ جگہ ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ اختیار کرنے کا مشورہ دینے والے پوسٹر بھی آویزاں ہیں۔
برطانیہ میں میک اپ کا سامان فروخت والے سٹورز نے اپنی دکانوں میں موجود میک اپ ٹیسٹرز کو پھینکنے کا اعلان کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ ٹیسٹرز صارفین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
میک اپ کی دکانوں میں موجود ٹیسٹرز کو کوئی بھی گاہک کسی مخصوص چیز کی خریداری سے قبل اپنے اوپر استعمال کر کے دیکھ سکتا ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ان اشیا کے ذریعے جراثیم پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ برطانیہ کے میک اپ فروخت کرنے والے چند سٹورز نے کہا ہے کہ وہ ان ٹیسٹرز کو مستقبل قریب میں اپنی دکانوں سے ہٹا دیں گے۔
کووڈ 19 کا وائرس کھانسی کے ساتھ منہ سے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہونٹوں، آنکھوں یا چہرے کے کسی اور حصے پر استعمال کیا گیا ٹیسٹر کسی دوسرے گاہک کے لیے وائرس منتقل کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں ادویات اور میک اپ بیچنے والی کمپنی بوٹس کا کہنا ہے کہ ’ہمارے گاہکوں اور یہاں کام کرنے والوں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہم ٹیسٹرز کے استعمال سے متعلق نئی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ دکانوں میں میک اپ کمپنیوں کے نمائندگان کی موجودگی میں ہم ٹیسٹرز کو ہٹا رہے ہیں۔‘

بوٹس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اپنے یہاں کام کرنے والے سبھی ملازمین اور خریداری کے لیے دکان میں آنے والے سبھی صارفین کے لیے ہینڈ سینیٹائزر کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے علاوہ دکانوں میں کام کرنے والے افراد سے بھی بار بار ہاتھ دھونے کو کہا جا رہا ہے

Thanks BBC

Consumer Study from Perfect365 Shows 63% of Consumers Will No ...

Zwaai de zomer uit met een lipstick in koraal | bol.com Stijl Magazine

All Makeup & Cosmetics | Makeup, Lipstick colors, Beauty hacks

March 19, 2020

کورونا کے متاثرین آئبوپروفن کی جگہ پیراسیٹامول استعمال کریں، ڈبلیو ایچ او

جنیوا: ویب ڈیسک :: عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسچیان لینڈمیئر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام الناس کو مشورہ دیا ہے جو لوگ ناول کورونا وائرس (کووِڈ19) سے متاثر ہیں انہیں چاہیے کہ درد کی صورت میں آئبوپروفن کی جگہ پیراسیٹامول استعمال کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئبوپروفن ممکنہ طور پر ناول کورونا وائرس کے مضر اثرات کو شدید تر کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ آئبوپروفن پاکستان میں ’’بروفن‘‘ اور ’’ایرینیک‘‘ کے ناموں سے عام دستیاب ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ مشورہ معتبر طبی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ ریسپائریٹری میڈیسن‘‘ کے
شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کی بنیاد پر دیا جارہا ہے۔
یہ تحقیق چین میں کورونا وائرس سے شدید طور پر متاثر، سیکڑوں مریضوں کے مطالعے پر مبنی ہے جو پہلے ہی ذیابیطس یا دل و دماغ کی کسی بیماری میں مبتلا تھے اور درد کے علاج کےلیے دیگر مختلف دوائیں استعمال کررہے تھے۔
ان مریضوں کے تجزیئے پر یہ امکان سامنے آیا ہے کہ آئبوپروفن اور اسی جماعت کی دوسری درد کُش دوائیں ایک ایسے خامرے (اینزائم) کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتی ہیں جو کورونا وائرس کی اثر پذیری کو بڑھاوا دے کر اس کے اثرات شدید تر کردیتا ہے۔
اگرچہ یہ امکان ابھی صرف مفروضے کی صورت میں ہے لیکن اس بارے میں مناسب شہادتیں مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے عام لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس کی وجہ سے بیمار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں جسمانی درد کی شکایت بھی ہے تو بہتر ہے کہ وہ صرف پیراسیٹامول پر گزارا کریں اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر ہی آئبوپروفن استعمال کریں۔

March 18, 2020

کیا کھائیں؟کرونا وائرس اور امراض سے پاک رکھنے والی 10 قدرتی غذائیں کونسی ہیں

کراچی جدت ویب ڈیسک ::کیا کھائیں؟ کرونا وائرس اور امراض سے پاک رکھنے والی 10 قدرتی غذائیں کونسی ہیں۔دنیا بھر میں کورونا کا شور اور خوف ہے لیکن بعض غذائیں ایسی ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر آپ کو کئی طرح کے امراض سے بچاسکتی ہیں اور قوی امید ہے کہ اس سے جسم میں کورونا وائرس سے لڑنے کیخلاف بھی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے۔
لیکن یہ بات اسی جگہ ختم نہیں ہوتی کیونکہ جسمانی امنیاتی نظام ہمہ وقت کئی امراض اور بیماریوں سے مسلسل لڑتا رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے عام دستیاب غذائیں آپ کو طویل عرصے تک تندرست رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
ذیل میں جو غذائیں دی جارہی ہیں وہ عام حالات میں بھی کئی امراض سے محفوظ رکھتی ہیں جن میں فلو، جاڑا لگنا اور نزلہ و زکام وغٰیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام غذائیں آپ کے جسم کو وائرس کے خلاف طاقتور بناتی ہیں۔
کھٹے رس دار پھل
وٹامن سی پورے امنیاتی نظام کو طاقتور بناتا ہے۔ وٹامن سی خون کے سفید خلیات کی پیداوار بڑھاتا ہے اور ہر طرح کے انفیکشن سے لڑتا ہے۔
اس لیے نارنگی، گریپ فروٹ، نارنجی اور لیموں وغیرہ کا رس پینے سے بدن میں وٹامن سی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور امنیاتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
پالک
پالک بھی وٹامن سی سے بھرپور ہے اور اس میں بھی بی ٹا کیروٹین اور دیگر اہم اجزا پائے جاتے ہیں جن میں انتہائی مفید اینٹی آکسیڈنٹس بھی ہوتے ہیں۔ اس میں موجود آکزیلک ایسڈ کئی انفیکشن سے بچاتا ہے اور یوں وائرس سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔
دہی
دہی کئی طرح سے انتہائی مفید ہے کیونکہ اس میں وٹامن ڈی کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے اور وٹامن ڈی کئی طرح کی بیماریوں سے بچا کر امنیاتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ دہی میں چینی ، پھل اور شہد ملاکر کھائیں اور اپنے قدرتی دفاعی نظام کو مزید طاقتور بنائیں۔
ہلدی
ہلدی کو بھی اب ’سپرفوڈ‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ایک جادوئی مرکب ’سرکیومن‘ کئی طرح کے کینسر کے خلاف مفید ثابت ہوچکا ہے ۔ شوخ پیلے رنگ کی ہلدی جوڑوں کے درد اور اندرونی سوزش کو دور کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ لیکن سرکیومن کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ ہرطرح سے جسم کو بیماریوں کے خلاف مضبوط بناتی ہے۔ اس لیے ہلدی کا استعمال جاری رکھیں۔
سبزچائے
سبز چائے کئی طرح کی معدنیات، فلے وینوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹس، اور دیگر مفید اجزا سے  بھری ہوئی ہے۔
اس میں ایک طرح کا طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ای جی سی جی بھرپور مقدار میں موجود ہوتا ہےجو امنیاتی نظام کو طاقتور بناتا ہے۔ سبز چائے میں ایک اور طاقتور امائنو ایسڈ ایل تھینائن پایا جاتا ہے جو جسم کے اندر جاکر ٹی خلیات کو مضبوط کرکے بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔
سرخ شملہ مرچیں
غذائی ماہرین کے مطابق شملہ نما سرخ مرچوں میں بھی وٹامن سی کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے۔ ان میں بی ٹا کیروٹین کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے جس سے جسم بیماریوں اور وائرس سے لڑنے کے قابل بنتا ہے۔ ایک اونس مرچوں میں نارنجی سے دوگنی مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وٹامن سی جلد اور آنکھوں کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
شاخ گوبھی
بروکولی یا شاخ گوبھی کو اب ’سپرفوڈ‘ کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ یہ سبزی اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے اور وٹامن اے، سی اور ای کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر اور دیگر مفید اجزا سے مالامال ہے۔ شاخ گوبھی کو کچا کھایا جائے تو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے جبکہ اس کے کھانے ہمارا امنیاتی نظام بہت طاقتور ہوسکتا ہے۔
لہسن
برصغیر کے کھانوں میں لہسن عام استعمال ہوتا ہے اور ہر تہذیب میں ہزاروں سال سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ قدیم طب میں ہی لہسن کو کئی بیماریوں اور انفیکشن سے بچاؤ کا بہترین نسخہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پھر لہسن کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتا ہے جس کے سائنسی ثبوت بھی مل چکے ہیں۔
لہسن میں ایک حیرت انگیز مرکب پایا جاتا ہے جو سلفر کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مرکب کو ایلیسین کہا جاتا ہے۔ سائنس سے ثابت ہوچکا ہے کہ ایلیسین مختلف طریقوں سے جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
ادرک
لہسن کے بعد ادرک بھی ہمارے کھانوں میں شامل عام شے۔ ادرک جسمانی سوزشن کو کم کرتی ہے اور غنودگی کو دور کرنے میں بہترین ثابت ہوئی ہے۔ دوسری جانب گلے کے تکلیف اور سانس کی رکاوٹ دور کرنے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس میں شامل بعض اجزا کئی امراض سے بچاتے ہیں۔

Image result for healthy food

Image result for healthy food

Image result for healthy food green tea

March 18, 2020

جامعہ کراچی کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے

کراچی :جدت ویب ڈیسک :: جامعہ کراچی کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات نظر انداز کر دیں، ایچ ای جے اور کے آئی بی جی میں معمول کے سرگرمیاں جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے پیش نظر سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کی سختی سے ہدایات کی گئی تھی تاکہ کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکے لیکن جامعہ کراچی نے صوبائی حکومت کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے۔ایچ ای جے اور کے آئی جی میں معمول کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں دونوں اداروں کا عملہ مختلف امور کی انجام دہی کےلیے بھی بلایا گیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں تدریسی اور غیر تدریسی سرگرمیاں تو معطل ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں بھی وزیراعلیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔یاد رہے کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی تعطیلات کو 30 مئی تک بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت نے کرونا کی وجہ سے گرمیوں کی تعطیلات قبل از وقت دے دیں جبکہ نویں اور دسویں جماعت کے 16 مارچ سے شروع ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں

March 14, 2020

کوروناوائرس کس وقت سب سے زیادہ (پھیلتا) ہے؟؟؟

ویب ڈیسک ::آج کل ہر طرف کرونا وائرس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ فی الحال یہ ابتدائی نتائج ہیں تو مزید تحقیق سے ہی ان کی تصدیق ہوسکے گی۔ایسے افراد جو نئے نوول کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان کی جانب سے کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد اولین 7 دن میں اسے دیگر صحت مند افراد میں منتقل کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں یہ نیا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا، جسے عالمی ادارہ صحت نے جنوری میں گلوبل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا اور جب سے ہی اس کے بارے میں جاننے کے لیے سائنسدان مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
نوول کورونا وائرس کے بارے میں جاننے کا بنیادی مقصد اس کی روک تھام کی موثر حکمت عملیوں کو ترتیب دینے میں مدد ہے۔
اگرچہ اب بھی اس وائرس کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس بہت تیزی سے پیش رفت کرتا ہے۔ فی الحال یہ ابتدائی نتائج ہیں تو مزید تحقیق سے ہی ان کی تصدیق ہوسکے گی۔
اب جرمنی کی جامعات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دریافت کرلیا ہے کہ یہ وائرس کس وقت سب سے زیادہ متعدی (پھیلتا) ہے۔
بنڈسوئیر انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی، Klinikum München-Schwabing، Charité Universitätsmedizin Berlin اور یونیورسٹی ہاسپٹل ایل ایم یو میونخ کی یہ تحقیق ابھی کسی جریدے میں شائع نہیں ہوئی، یعنی دیگر سائنسدانوں نے اب تک اس کے معیار اور مستند ہونے کا تجزیہ نہیں کیا۔
تحقیق کے نتائج سے ممکنہ عندیہ ملتا ہے کہ آخر کیوں یہ وائرس بہت آسانی سے پھیل رہا ہے، کیونکہ بیشتر افراد اس وقت اسے پھیلا رہے ہوتے ہیں، جب اس کی علامات معمولی اور نزلہ زکام جیسی ہوتی ہیں۔ تاہم محققین نے اس کو آن لائن شائع کیا ہے جس میں دیکھا گیا ہے کہ یہ وائرس مختلف مراحل میں کس طرح اور کن ذرائع سے پھیلتا ہے۔
محققین نے کووڈ 19 کے شکار 9 افراد کے متعدد نمونوں کا تجزیہ کیا جن کا علاج میونخ کے ایک ہسپتال میں ہورہا تھا اور ان سب میں اس کی شدت معتدل تھی۔
یہ سب مریض جوان یا درمیانی عمر کے تھے اور کسی اور مرض کے شکار نہیں تھے۔
محققین نے ان کے تھوک ، خون، پیشاب، بلغم اور فضلے کے نمونے انفیکشن کے مختلف مراحل میں اکٹھے کیے اور پھر ان کا تجزیہ کیا۔
مریضوں کے حلق سے لیے گئے نمونوں سے انکشاف ہوا کہ یہ وائرس جب کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، جبکہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں وائرس کے کسی قسم کے آثار دریافت نہیں ہوئے تاہم فضلے میں وائرل این اے موجود تھا۔
محققین کا کہنا تھا کہ یہ سارز وائرس سے بالکل مختلف ہے، جس میں وائرس کی منتقلی کا عمل 7 سے 10 دن میں عروج پر ہوتا ہے مگر نیا نوول کورونا وائرس میں یہ عمل 5 دن سے پہلے ہی تیز ہوجاتا ہے اور سارز کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جن افراد میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے، ان میں وائرس کے متعدی ہونے کا عمل 10 یا 11 ویں دن تک عروج پر پہنچتا ہے جبکہ معتدل مریضوں میں 5 دن کے بعد اس عمل کی شدت میں بتدریج کمی آنے لگتی ہے اور 10 ویں دن ممکنہ طور پر یہ مریض اسے مزید پھیلا نہیں پاتے۔
مگر محققین کے مطابق فضلے میں وائرس آر این اے کی موجودگی سے وہ وائرل کلچر بنانے میں ناکام رہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ممکنہ طور انفیکشن پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کہ طبی عملے کو ہسپتال میں بستروں کی کمی پر قابو پانے کے لیے مریضوں کو ہسپتال سے جلد ڈسچارج کرنے اور خود کو الگ تھلگ کرنے کے عمل میں مدد مل سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی فرد میں علامات کو 10 گزر چکے ہیں تو اسے ہسپتال سے ڈسچارج کرکے گھر میں الگ تھلگ رکھا جا سکتا ہے۔

March 13, 2020

کالی مرچ: تجارت کے میدان سے صحت کی دنیا تک۔فائدے ہی فائدے

ویب ڈیسک ::طبی ماہرین کے مطابق عام استعمال کے اس بیج میں مخصوص مہک کے ساتھ الکلائیڈز بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا ذائقہ کچھ تیکھا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بخار کے بعد کی کم زوری دور کرنے، نظامِ انہضام کی فعالیت میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ اسی طرح بعض جلدی امراض اور انفیکشن کو بھی کالی مرچ کے استعمال سے دور کیا جاسکتا ہے
کالی مرچ کا استعمال ہمارے ہاں عام ہے۔ یہ کچن میں موجود مسالا جات میں سرِ فہرست اور ہماری غذا و ضروریات کا اہم جزو ہے۔ نباتاتی سائنس کے ماہرین نے اسے Piper nigrum کا نام دیا ہے جب کہ انگریزی زبان میں اسے Black pepper کہتے ہیں۔
کالی مرچ، ایک پھول دار بیل سے حاصل ہوتی ہے جسے خشک حالت میں ہم اپنے کھانوں میں ذائقہ پیدا کرنے کے علاوہ بعض امراض کے علاج اور جسمانی تکالیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
کہتے ہیں یہ وہ غذائی جنس ہے جسے زمانۂ قدیم میں بھی نہایت اہم اور قیمتی جانا جاتا تھا۔ کالی مرچ کی کاشت اور اس کی تجارت نہایت نفع بخش سمجھتی جاتی تھی اور منڈیوں میں کالی مرچ کی خریدوفروخت کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
اس کی بیل کی لمبائی 1500 میٹر تک ہوسکتی ہے جب کہ اس سے خشک حالت میں حاصل ہونے والی مرچ ملی میٹر میں اور گول شکل کی ہوتی ہے۔ اس کی بیل کو عام باغات کے علاوہ بڑے رقبے پر بھی اگایا جاتا ہے جس کے لیے ماہرینِ زراعت مختلف مہینے موزوں بتاتے ہیں۔
اسے بیل کی شاخوں سے مخصوص طریقے سے الگ کر کے دھوپ میں سکھایا جاتا ہے اور اس دوران کوشش کی جاتی ہے کہ بیجوں کو پھپھوندی نہ لگے اور یہ ہر قسم کی کیڑوں اور دیگر خرابیوں سے محفوظ رہیں۔
کالی مرچ گہرے بھورے، کالے رنگ اور سخت حالت میں ہمارے سامنے آنے سے پہلے سبز اور لال رنگ کا پھل ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق عام استعمال کے اس بیج میں مخصوص مہک کے ساتھ الکلائیڈز بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا ذائقہ کچھ تیکھا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بخار کے بعد کی کم زوری دور کرنے، نظامِ انہضام کی فعالیت میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ اسی طرح بعض جلدی امراض اور انفیکشن کو بھی کالی مرچ کے استعمال سے دور کیا جاسکتا ہے

Image result for کالی مرچ کی تاثیر

March 12, 2020

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ کڈنی ڈے یا گردوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے

ویب ڈیسک ::پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ کڈنی ڈے یا گردوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ خود سے دوائیں کھانا یعنی سیلف میڈیکیشن اور جنک فوڈ گردوں کے امراض کی بڑی وجہ ہیں۔
گردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد گردوں کے امراض اور ان کی حفاظت سے متعلق آگہی و شعور پیدا کرنا ہے۔ یہ دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 24 لاکھ اموات گردوں کے مختلف امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں اور یہ امراض موت کا چھٹا بڑا سبب بن چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گردوں کے امراض کا خدشہ مردوں سے زیادہ خواتین میں ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 19 کروڑ 50 لاکھ خواتین گردوں کے مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب گردوں کے امراض میں مبتلا ڈائیلاسز کروانے والے مریضوں میں زیادہ تعداد خواتین کے بجائے مردوں کی ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گردوں کے امراض خواتین میں ماں بننے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں جبکہ یہ حمل اور پیدائش میں پیچیدگی اور نومولود بچے میں بھی مختلف مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ ادھر پاکستان کے محکمہ صحت کے مطابق پاکستان میں 1 کروڑ 70 لاکھ کے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں ہر سال 20 ہزار اموات گردوں کے مختلف امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ازحد ضروری ہے۔ خود سے دوائیں کھانا یعنی سیلف میڈیکیشن اور جنک فوڈ بھی گردوں کے امراض کی بڑی وجہ ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خصوصاً گرمی میں گردوں کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہیئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
گردے کے امراض کی بر وقت تشخیص کے لیے باقاعدگی سے بلڈ، شوگر، بلڈ پریشر، یورین ڈی آر اور الٹرا ساؤنڈ کروانا بھی ضروری ہیں۔

Image result for world kidney day 2020

Image result for world kidney day 2020