July 16, 2019

برطانیہ میں پاکستان کی سر جڑی بچیوں کاپچپن گھنٹے میں کامیاب آپریشن

جدت ویب ڈیسک :: برطانیہ میں پاکستان کی سر جڑی بچیوں کو کامیاب آپریشن کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والی دو سالہ بچی صفا اور مروہ اللہ کو چار ماہ قبل لندن کے مقامی اسپتال داخل کرایا گیا، اس عرصے میں دونوں بہنوں کے تین بڑے آپریشنز کیے گئے جن پر مجموعی طور پر پچپن گھنٹے لگے۔
پیچیدہ عمل میں ڈاکٹرز کے علاوہ سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی حصہ لیا، دونوں بچیاں اس وقت لندن میں ہی مقیم ہیں جہاں اُن کی فزیو تھراپی جاری ہے اور وہ آئندہ سال وطن واپس آئیں گی۔
چارسدہ کی زینب نے دوایسی بچیوں کو جنم دیا جن کے سرایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے،گھر والوں نے مکہ مکرمہ کی پہاڑیوں صفا و مروہ کی مناسبت سے دونوں کے نام بھی صفا اور مروہ رکھ دیے ، ،جوں جوں بچیوں کی عمر بڑھی تو ماں نے سرالگ کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی تلاش شروع کردی۔
صفا اور مروہ کی ماں نے سرالگ کرنے کیلئے پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر اویس جیلانی سے رابطہ کیا،دونوں بچیوں کومخیرحضرات کے تعاون سے برطانیہ پہنچایا گیا،علاج کے اخراجات پاکستان کی کاروباری شخصیت مرتضیٰ لاکھانی نے اٹھائے۔
گزشتہ برس 25اکتوبر کو ڈاکٹر اویس جیلانی اور ڈاکٹر ڈناوے سمیت میڈیکل ٹیم نے20 گھنٹے طویل آپریشن کیا جس میں دماغ کی شریانوں کےرابطے ختم کئےگئے،دونوں بچیوں کے بچنے کے چانس انتہائی کم تھے تاہم تقریباً ایک ماہ بعد دوسرے آپریشن کا مرحلہ آیا جب15گھنٹے طویل آپریشن کے دوران شریانوں کو الگ الگ کردیا گیا۔
اگلا مرحلہ کھوپڑی کو گول کرنا اور جلد تیار کرنا تھا،یہ مشکل کام بھی ڈاکٹروں کی ٹیم نے سرانجام دے ہی دیا اور فروری 2019میں 17گھنٹے طویل آپریشن کے دوران دونوں بچیوں کے سروں کو الگ الگ کردیا گیا،اس کامیاب آپریشن کے بعد ڈاکٹر جب باہر آئے تو بچیوں کی ماں زینب نے دونوں کے ہاتھ چوم لئے۔
ڈاکٹر اویس جیلانی اور ڈاکٹر ڈناوے اس قسم کے دو آپریشن پہلے بھی کرچکے ہیں تاہم صفا و مروہ کے آپریشن کو میڈیکل کی تاریخ کا مشکل ترین آپریشن قرار دیا جارہا ہے۔
دونوں بچیوں کو 5ماہ بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تاہم دونوں فزیو تھراپی کرانے کیلئے آئندہ سال جنوری تک برطانیہ میں ہی رہیں گی۔

Image result for pakistani 2 baby head operation in london

برطانیہ سر جڑی بچیاں ‏ کامیاب آپریشن ‏ لندن ‏ ‏92 نیوز

July 15, 2019

توند سے نجات۔گرم موسم کی شدت میں کمی لانے والا مزیدار مشروب۔۔

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ستو کا شربت بنانے کا طریقہ۔۔۔۔۔۔
ستو کو شکر (پسا ہوا گڑ) میں مکس کریں اور پھر اسے مکسچر کو ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کریں، اس کے بعد اس میں تھوڑا سا لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔اگر آپ توند سے نجات پانا چاہتے ہیں یا پیٹ پھولنے کے مسئلے سے پریشان ہیں تو اس موسم کے ایک فائدہ مند مشروب کو پینا عادت بنالیں۔
ستو سے بننے والا یہ مشروب گرم موسم میں جسم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے ساتھ گرمی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔
ستو ایک قسم کا آٹا ہے جسے مختلف قسم کی گندم یاجو وغیرہ کو آگ پر پکا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شربت بنایا جاتا ہے جبکہ کئی اقسام کی دیگر کھانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
توند سے نجات
ستو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، پروٹین سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ پیٹ کو بھی دیر تک بھرے رکھتا ہے، اس کے علاوہ ستو میں موجود پروٹین جسمانی وزن میں کمی یا یوں کہہ لیں چربی گھلانے کا بھی کام کرتا ہے، ستو پیٹ پھولنے کے مسئلے کو بھی دور کرتا ہے جبکہ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے جسم کو کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔
نظام ہاضمہ میں بہتری
خالی پیٹ ستو کا شربت پینا معدے کے مختلف مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرم موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، جبکہ ستو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جسمانی توانائی میں اضافہ
ستو میں آئرن موجود ہوتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور دن بھر جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید
ستو میں گلیسمیک انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کا استعمال معمول بنانا (چینی یا گڑ کے بغیر) بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے بھی اس کا شربت مفید ہے۔

نوٹ:  اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Image result for how to make sattu drink

Related image

July 11, 2019

اب کپڑے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔کیونکہ۔۔۔جانیے

جدت ویب ڈیسک ::اب کپڑے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واشنگ مشین میں کپڑے دھوئے بغیر بھی زندگی ممکن ہے، مگر کیسے؟
واشنگ مشین میں دھونے سے زیرِ جامہ کی شکل اور رنگ خراب ہوسکتے ہیں۔۔۔
’بنیادی طور پر ہمیں زندگی میں ایک اصول بنا لینا چاہیے۔ اگر کسی چیز کو صفائی کی ضرورت نہیں تو اسے صاف نہ کیا جائے۔‘
یہ بات معروف فیشن ڈیزائنر سٹیلا مکارٹنی نے برطانوی اخبار آبزرور کو ایک انٹرویو میں بتائی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے یہ گُر لندن کے مشہور درزیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھا ہے۔
سٹیلا مکارٹنی کے بقول ’اصول یہ ہے کہ آپ میل یا گندگی کو خشک ہونے دیں تا کہ اسے برش سے صاف کیا جاسکے۔‘
ممکن ہے کہ یہ بات انہوں نے انٹرویو کے آخر میں ویسے ہی کہہ دی ہو، لیکن یہ پڑھ کر وہ لوگ ضرور حیران ہوئے ہوں گے جو ہر ہفتے اپنے ڈھیر سارے کپڑے دھوتے ہیں۔
کیا ان کی بات میں واقع کوئی وزن ہے اور کیا کپڑے نہ دھونا قدرے بہتر عمل ہے؟
کپڑے دھونے سے ماحول کو خطرہ
مکارٹنی نے کپڑے نہ دھونے کا یہ مشورہ پہلی مرتبہ نہیں دیا۔ بلکہ انھوں نے کئی بار کہا ہے کہ کپڑوں کی لمبی زندگی کے لیے واشنگ مشین کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔پلاسٹک سوپ فاؤنڈیشن نامی ادارے سے تعلق رکھنے والی کارکن لورا ڈیاز سینچز بھی اس بات سے متفق ہیں کیونکہ ان کے مطابق روزمرہ کے کپڑوں میں مصنوعی مواد، جیسے پولیسٹر اور ایکریلک، زیادہ ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا ’جب بھی ہم کپڑے دھوتے ہیں تو اوسطاً 90 لاکھ پلاسٹک کے باریک ریشے یا مائیکروفائبرز ماحول میں داخل ہو جاتے ہیں۔
’فرق اس چیز سے پڑتا ہے کہ ہم اپنے کپڑے کس طرح دھوتے ہیں یا ہمارے کپڑے کس چیز سے بنتے ہیں۔ مگر ہم جتنی بار کپڑے دھوئیں گے اس سے ماحول میں اتنے زیادہ مائیکروفائبرز داخل ہوں گے۔‘
ان کے مطابق کپڑے دھوتے وقت مشین کا درجہ حرارت کم رکھتے ہوئے کپڑے دھونے والے پاؤڈر کی بجائے مائع ڈٹرجنٹ استعمال کرنا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ واشنگ مشین میں زیادہ کپڑے نہیں ڈالنے چایییں کیونکہ تھوڑے کپڑوں میں رگڑ بھی کم پیدا ہوتی ہے۔
کپڑے محفوظ رکھنے کا فن
لیکن بات صرف مائیکروفائبرز سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی تک محدود نہیں۔ کپڑے دھونے سے ان کی زندگی کم ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جلد ہی ایسے کپڑے پھینک کر نئے کپڑے خرید لیں گے۔
لندن کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر میں فیشن ڈیزائننگ کورس کے سربراہ اینڈریو گرووز نے بتایا کہ واشنگ مشین میں لگنے والی رگڑ سے ہی داغ دُھلتے ہیں لیکن اسی وجہ سے کپڑوں کی شکل اور رنگ خراب ہو جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا ’میری الماری میں عشروں سے کچھ کپڑے موجود ہیں جو اب بھی نئے لگتے ہیں کیونکہ میں ان کی دیکھ بھال کرنا جانتا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات مہنگے اور روزمرہ دونوں قسم کے کپڑوں پر لاگو ہوتی ہے۔ ان کے مطابق آپ جتنی احتیاط برتیں گے آپ کے کپڑے اتنا ہی لمبا عرصہ چلیں گے۔
یہ بات خواتین کے زیرِ جاموں پر سچ ثابت ہوتی ہے۔ مکارٹنی نے آبزرور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’روزانہ انگیا تبدیل نہیں کرتیں‘۔
اس بات سے زیر جامہ کی ڈیزائنر نایومی ڈی ہان بھی متفق ہیں۔ ڈی ہان نے اپنے برانڈ کے خریداروں کو مشورہ دیا ہے کہ پانچ مرتبہ پہننے کے بعد انگیا کو نیم گرم پانی میں ڈال کر بچوں کے شیمپو سے اپنے ہاتھوں سے دھونا چاہیے۔
ان کے کپڑے مہنگے داموں میں فروخت ہوتے ہیں لیکن انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ بات روزمرہ کے زیر جامے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سپورٹس برا کو زیادہ دھونا چاہیے۔
ان کے مطابق واشنگ مشین سے نازک کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ ’اس سے تاریں باہر نکل آتی ہیں، رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور شکل بگڑ سکتی ہے۔‘
نائومی ڈی ہان کے مطابق اگر آپ کو پھر بھی کپڑے دھونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ’کپڑے پھٹنے کا خیال رکھیں، لانجری بیگ استعمال کریں، زیادہ گرم پانی میں مت دھویں، دھونے کے بعد ان کی شکل ٹھیک کرلیں اور سُکھانے کے لیے کپڑے لٹکا دیں یا ہموار سطح کا استعمال کریں۔‘
مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی کپڑے دھونے کے بعد انھیں خشک کرنے والی مشین یا ڈرایئر میں مت سُکھائیں۔
اگر لیوائز کے سی ای او چِپ برگھ اپنی جینز نہیں دھوتے تو آپ کیوں دھوتے ہیں؟
جینز تو رہنے ہی دیں
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مہم ’لو یور کلودز‘ یا ’اپنے کپڑوں سے پیار کریں‘ کی سربراہ سارہ کلیٹن کہتی ہیں کہ جینز دھونے کے بجائے اسے پہننے کے بعد ہوا لگوا لیں۔ ’اگر جینز پر کوئی داغ لگا ہوا ہے تو صرف اس داغ کو پانی سے صاف کرلیں اور پوری جینز کو نہ دھوئیں۔‘بغیر دھوے جینز پہننا شاید ماننے میں نہ آتا ہو لیکن معروف کمپنی لیوائز کے سربراہ چِپ برگ بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔
سال 2014 کے دوران مئی میں لوگ اس بات سے خاصے حیران ہوئے تھے جب چِپ برگ نے بتایا تھا کہ جو جینز انھوں نے پہن رکھی ہے اسے انھوں نے کبھی نہیں دھویا۔ اس بات کے پانچ سال بعد انھوں نے رواں سال مارچ میں امریکی چینل سی این این کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی جینز کو ابھی تک نہیں دھویا۔ ان کی جینز کو بغیر دُھلے 10 سال گزر چکے ہیں۔
پروفیسر گرووز چِپ برگ کی بات سے متفق ہیں اور یہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ اپنی جینز فریزر میں رکھ کر جراثیم مار سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو میں جانتا ہوں وہ اپنی جینز کبھی نہیں دھوتے۔ ’یہ بات عجیب لگتی ہے کیونکہ جینز ایک ایسی چیز ہے جو شاید روز پہنی جاتی ہے۔ شاید ایسا اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ جینز کا رنگ پھیکا پڑے۔‘ان کے مطابق لوگوں کو یہ رویہ جینز کے ساتھ ساتھ باقی کپڑوں کے لیے بھی اپنانا چاہیے۔

بشکریہ بی بی سی

July 10, 2019

نفرت اور غصے کے جذبات۔۔کینسر میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔تحقیق

کراچی ۔جدت ویب ڈیسک ::ہر بُری بات اور کام پر غصہ تو انسانی فطرت ہے منفی جذبات آپ کو کینسر میں مبتلا کرسکتے ہیں۔۔۔
ہم میں سے بہت سے افراد اپنے ساتھ برا کرنے والوں کے خلاف نفرت اور غصے کے جذبات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ جذبات ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ غصہ اور نفرت جیسے منفی جذبات ہمیں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا کرسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق منفی جذبات صرف دماغ کو ہی نہیں بلکہ جسم کو بھی یکساں نقصان پہنچاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جذبات کرونک اینگزائٹی پیدا کرتے ہیں، یہ اینگزائٹی اینڈرلائن اور کارٹیسول نامی ہارمون پید اکرتی ہے۔
جسم میں ان ہارمونز کی بہت زیادہ افزائش ان مدافعتی خلیات کونقصان پہنچاتی ہے جو کینسر کے خلاف مدافعت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ان جذبات کی زیادتی انسان کو کینسر میں مبتلا کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کا آسان حل یہ ہے کہ چیزوں کو درگزر کیا جائے اور معاف کرنے کی عادت اپنائی جائے۔ یہ دماغی و جسمانی دونوں طرح کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو معاف کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کی نیند بھی بہتر ہوتی ہے، معدے کے مسائل کا کم سامنا ہوتا ہے جبکہ مختلف تکالیف کے لیے دوائیں بھی کم کھانی پڑتی ہیں۔

July 9, 2019

لو بلڈ پریشر کی علامات کیا ہوتی ہیں ،جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک :: لو بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ پریشر کے چکر میں انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔خون کے بہاؤ کا عمل نارمل رہنا از حد ضروری ہے، جس طرح ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار خون نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، اسی طرح کم فشار خون یا لو بلڈ پریشر بھی جسم کو نقصان پہنا سکتا ہے۔
اکثر افراد لو بلڈ پریشر کی علامات سے ناواقف ہوتے ہیں، اس پر قابو پانے کے لیے اس کی علامات جاننا ضروری ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کون سی علامات لو بلڈ پریشر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
سر چکرانا
کافی دیر تک بیٹھ کر اچانک اٹھنے پر سر چکرا جانا بھی لو بلڈ پریشر کی علامت ہو سکتی ہے۔
توجہ مرکوز نہ ہو پانا
لو بلڈ پریشر کی وجہ سے آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں بھی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں دماغ تک خون نہیں پہنچ رہا ہوتا۔
دھڑکن تیز ہونا
خون کا بہاؤ بہت زیادہ ہو یا بہت کم ہو تو دونوں صورتوں میں دل کو خون پمپ کرنے کے لیے اضافی کام کرنا پڑتا ہے جس سے دل پر بوجھ پڑتا ہے، اسی وجہ سے دھڑکن تیز ہوسکتی ہے۔
تھکاوٹ
ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم یہ لو بلڈ پریشر کی علامت بھی ہوتی ہے۔
ڈی ہائیڈریشن
لو بلڈ پریشر کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے جبکہ ڈی ہائیڈریشن بھی لو بلڈ پریشر کی وجہ بن سکتا ہے۔ مستقل لو بلڈ پریشر رہنے کی وجہ سے پانی کی کمی سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے۔
بینائی دھندلانا
لو بلڈ پریشر کے سنگین سائیڈ افیکٹس میں سے ایک بینائی دھندلانا ہے، یہ نہ صرف خوفناک تجربہ ہوتا ہے بلکہ اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔

July 9, 2019

تحقیق میں انکشاف۔وائی فائی ڈیوائسز سے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ

جدت ویب ڈیسک ::تحقیق میں انکشاف۔وائی فائی ڈیوائسز سے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا بھر میں جنک فوڈ کے بڑھتے رجحان اور ڈپریشن کی بلند ہوتی سطح نے لوگوں کی صلاحیت تولید پر بھی اثر ڈالا ہے، حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ وائی فائی مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وائی فائی کی الیکٹرو میگنیٹک لہریں مردوں کی تولیدی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور اسپرمز کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 15 فیصد جوڑے حمل کے مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی مسائل مردوں سے متعلق ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مردوں کی زرخیزی ذہنی تناؤ، خراب غذائی عادات، یا جینیاتی مسائل کی وجہ سے متاثر ہوسکتی ہے تاہم اس کی وجہ موبائل فون بھی ہوسکتے ہیں۔
اس تحقیق کے لیے 52 مردوں کے گروپ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ وائی فائی سے بالکل دور رہا، دوسرے گروپ نے پروٹیکشن شیلڈ کے ذریعے وائی فائی استعمال کیا جبکہ تیسرے گروپ نے بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے وائی فائی استعمال کیا۔تحقیق کے نتائج میں دیکھا گیا کہ 2 گھنٹے بعد لیے جانے والے نمونوں میں وائی فائی استعمال نہ کرنے والے گروپ کی تولیدی صلاحیت 53.3 فیصد رہ گئی تھی جبکہ شیلڈ کے ساتھ وائی فائی استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 44.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے وائی فائی استعمال کرنے والوں کی تولیدی صلاحیت صرف 26.4 رہ گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائی فائی اور موبائل کے سگنلز تو یوں بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، تاہم مردوں کو بانجھ پن کے خطرے سے بچنے کے لیے اس کا استعمال کم کردینا چاہیئے اور وائی فائی کو بیٹھنے اور سونے کی جگہوں سے دور رکھنا چاہیئے۔

 

July 2, 2019

کھٹا میٹھاآلو بخارا کھائیں ۔کیا فائدے ہیں ؟

جدت ویب ڈیسک ::یہ موسم گرما کی سوغات ہے،اور متعدد پھل بھی بازاروں میں ملتے ہیں، جن میں سے بیشتر ہی لوگوں کو پسند بھی ہوتے ہیں اور ایسا ہی ایک پھل آلو بخارہ ہے۔
جو نہ صرف ذائقے دار اور صحت بخش ہے بلکہ اسے خشک کرکے بھی چٹنی یا مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ پھل بادام اور آڑو کی نسل کے پھلوں میں شامل ہے جس کی متعدد اقسام اور حجم بازار میں ملتے ہیں، جبکہ ذائقہ میٹھا یا کھٹا ہوتا ہے جبکہ اس کا رس بھی مزیدار ہوتا ہے۔ یہ پھل پوٹاشیم، سیلینیئم اور دیگر منرلز کے ساتھ وٹامن سی اور بیٹاکیروٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔
یہاں آپ اس پھل کے فوائد جان سکیں گے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مددگار
آلوبخارے میں ایسے بائیو ایکٹیو کمپاؤنڈ موجود ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مرض کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، یہ پھل جسم میں بلڈ شوگر لیول ریگولیٹ کرنے والے ہارمون کی سطح بھی بڑھاتا ہے جبکہ اس میں موجود فائبر جسم کی کاربوہائیڈریٹ جذب کرنے کی رفتار کو سست کرتا ہے۔ آلوبخارے کو کھانے کی عادت انسولین کی حساسیت بڑھاتی ہے جس سے ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے اس مرض کی پیچیدگیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔
دماغی صحت کے لیے بھی مفید
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق آلو بخارے میں موجود پولی فینولز دماغی افعال کو بہتر کرتا ہے جبکہ دماغی کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
نظام ہاضمہ کو بہتر کرے
آلو بخارہ غذائی فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ غذائی فائبر کی 2 اقسام جلاب کی طرح کام کرکے قبض کو دور کرتی ہے جبکہ کچرے کے موثر اخراج میں مدد دیتا ہے۔ قبض کے شکار افراد کو خشک آلو بخارے بہترین علاج ثابت ہوسکتا ہے۔
بینائی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے
وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور پھل آنکھوں کی صحت بہتر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ اجزاءآنکھوں کی صحت کو مستحکم رکھنے کے لیے فائدہ مند جبکہ عمر بڑھنے سے پٹھوں کی کمزوری اور موتیا وغیرہ سے بچا سکتے ہیں۔ آلو بخارہ کیروٹین، لیوٹین اور دیگر سے بھرپور پھل ہے جو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
دل کا دوست
خشک آلو بخاروں کو کھانا شریانوں میں خون کے بہاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس کے نتیجے میں دل کو مختلف امراض جیسے کارڈیک اریسٹ، فالج اور دیگر سے تحفظ مل سکتا ہے۔
جسمانی دفاعی نظام بہتر کرے
وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ وٹامن جسم کی انفیکشن اور ورم کے خلاف جسم کی مزاحمت کو زیادہ بڑھاتا ہے۔

دوران خون بہتر کرے
آلو بخاروں میں وٹامن کے اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو کہ جسم کی آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر کرتے ہیں، اسی طرح اس پھل میں مناسب مقدار میں آئرن اور کاپر بھی موجود ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کے بننے میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجے میں خون کی کمی دور ہوتی ہے جبکہ خون بھی صاف ہوتا ہے اور دوران خون بہتر ہوتا ہے۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور
آلو بخارے میں کئی اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس کافی مقدار میں موجود ہیں جو کہ جسم کو فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصانات سے بچاتے ہیں، اس میں موجود فینولز نیورونز کو تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔
آلو بخارے ہڈیوں کو 20 فیصد زیادہ مضبوط بناتا ہے، جبکہ خشک آلو بخارے بھی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ ہڈیوں کو ریڈی ایشن سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
۔جلد کے لیے فائدہ مند
وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو جگمگانے، نوجوان رکھنے میں مدد دیتے ہیں، وٹامن سی جلد پر جھریاں اور فائن لائنز کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
ہڈیاں مضبوط بنائے

July 2, 2019

تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال۔کتنا نقصان دہ ؟

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::طبی ماہرین کے مطابق تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھرموپول سے بنے کپ اور پلیٹس کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے لیکن اب ماہرین اس کے نقصان سے آگاہ کردیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے اور ان چیزوں میں گرم مشروبات کے استعمال سے اس کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ برس ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس پر پابندی عائد کی گئی تھی اس کے باوجود اسٹائروفورم کی فروخت کا عمل جاری ہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حوالے سے ضابطے بھی جاری کیے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کون سا میٹریل کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہونا چاہئے۔
فوڈ اتھارٹی کے مطابق تھرموپول سے بنے کپ اور پلیٹس کے بجائے کاغذ اور گتے سے بنے میٹریل میں کھانے کا استعمال کیا جائے۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) عثمان کے مطابق اسٹائروفورم کا استعمال فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں زیادہ کیا جاتا ہے، جب ہم کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں تو بچ جانے والا کھانا ان اسٹائروفورم میں پیک کرکے دیا جاتا ہے۔کیپٹن (ر) عثمان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسٹائروفورم کو کھانے پینے کی اشیا کے استعمال میں پابندی لگائی۔انہوں نے کہا کہ جس کمپنی میں ان ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کو بنایا جارہا ہے ہم ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں گے، کمپنیز کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی انڈسٹری میں ایسے میٹریل بنائیں جو کھانے پینے کی اشیا میں استعمال نہ ہوں۔ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق ان اسٹائروفورم کے متبادل کے طور پر پولی پروپلین یا پیپر بیسڈ پروڈکٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، پولی پروپلین زیادہ بہتر کوالٹی کا پلاسٹک ہوتا ہے جو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے جہاں ان اسٹائرفورم کی فروخت جاری ہے اس کی شکایت پنجاب فوڈ اتھارٹی سے کریں۔

Image result for Disposable Parcel biryani

June 28, 2019

ڈائٹنگ کرنے والے اور وزن بڑھانے والے افرادگرمیوں میں کھیرےکااستعمال بڑھائیں

جدت ویب ڈیسک ::کھانے سے قبل کھیرے کھانا بھوک کم کرنے اور بڑھانے دونوں میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ڈائٹنگ کرنے والے اور وزن بڑھانے والے افراد دونوں کھانے سے قبل کھیرا کھا کر مطلوبہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔گرمیوں کا موسم جہاں گرمی سے بے حال کردیتا ہے وہیں بھوک بھی اڑا دیتا ہے، گرم موسم میں روایتی کھانے کھانا نہایت مشکل لگتا ہے۔
تاہم ایسے میں جسم کو درکار غذائی ضروریات بھی پوری کرنی ہیں، لہٰذا ایسی غذائیں کھانی چاہئیں جو اس موسم میں جسم کو ہلکا پھلکا رکھیں اور جسم کو توانائی بھی فراہم کریں۔
کھیرا موسم گرما کی ایسی ہی جادوئی غذا ہے۔ یہ اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں جب عام طور پر بیشتر افراد تیزابیت کی شکایت کرتے ہیں، کھیرا اسے دور کرنے کا نہایت آسان علاج ہے۔ کھیرے میں ایسے وٹامنز پائے جاتے ہیں جو معدہ کی جلن، تیزابیت اور السر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
کھیرے میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین اور کیلشیئم بھی موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے معدہ میں جانے والی غیر ہاضم غذا اور تیزابیت والے اجزا آسانی سے تحلیل ہوجاتے ہیں اور السر سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
کھیرے میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے جسم میں پانی کا تناسب برقرار رہتا ہے۔ اس میں موجود وٹامنز بی کی بڑی مقدار صرف دماغی کارکردگی میں توازن پیدا کرتی ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال ذہنی دباؤ کی وجہ سے جسم پر منفی اثرات بھی مرتب نہیں ہونے دیتا۔

Related image

Image result for cucumber salad benefits