May 22, 2018

گرمی کو شکست دینے کیلئے گھریلو مفید مشروبات ، رمضان کا لطف دوبالا

جدت ویب ڈیسک ::رمضان اور موسم  کی گرمی اور پانی کا زیادہ استعمال ہی انسان کو تروتازہ رکھ سکتا ہے ، رمضان المبارک میں خصوصاً رواں برس کے رمضان میں جبکہ گرمیاں اپنے پورے جوبن پر ہیں تو ایسے میں افطار کے موقع پر مشروبات کا استعمال عام ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد سافٹ ڈرنکس اور کولا مشروبات کے بجائے گھر کے بنے ہوئے تازہ جوسز، لیموں پانی، اسموتھی یا دیگر مشروبات کا استعمال کرنا چاہیے۔ ذیل میں دیئے گئے چند مشروبات افطاری میں بنا کر نوش فرمائیں، اس سے نہ صرف گرمی کا زور کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ صحت بخش ہونے کی وجہ سے یہ فائدہ مند بھی ہیں۔

کھجور کا شیک

اجزاء

کھجور   آدھا کپ

کریم   1 سے 2 کپ

دودھ    1 کپ

شہد    ایک چوتھائی کپ

ونیلا آئسکریم   1 کپ

ترکیب

کھجوروں کی گٹھلیاں نکال کر انہیں ٹکڑے کرلیں۔

ایک بلینڈر میں سارے اجزاء شامل کریں اور اچھی طرح سے بلینڈ کرلیں۔

گلاس میں نکالیں اور برف شامل کرکے سرو کریں، چاہیں تو گارنشنگ کے لیے پستہ بادام یا آئسکریم بھی شامل کردیں۔

روح افزا ملک شیک

اجزاء

روح افزاء شربت    4 کھانے کے چمچ

دودھ    2 کپ

چینی     حسب ضرورت

برف کے کیوبز  حسب ضرورت

پستہ، بادام    حسب خواہش

ترکیب

ایک بلینڈر میں روح افزاء، دودھ، چینی اور برف کے کیوبز ڈال کر 2 سے 3 منٹ کے لیے بلینڈ کرلیں۔

گلاس میں نکالیں اور کٹے ہوئے پستے، بادام چھڑک کر پیش کریں۔

تربوز کا شربت

اجزاء

تربوز    ایک سے 2 کپ (چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹے ہوئے)

پانی    2 گلاس

چینی   حسب ضرورت

لال شربت  4 کھانے کے چمچ

لیموں کا رس  ایک سے 2 کھانے کے چمچ

برف کے کیوبز   حسب ضرورت

ترکیب

ایک بلینڈر میں پانی، چینی، لیموں کا رس، لال شربت اور برف کے کیوبز ڈال کر 2 سے 3 منٹ کے لیے بلینڈ کرلیں۔

اب اس میں تربوز کے ٹکڑے بھی شامل کردیں۔

گلاس میں نکال کر پودینے کے پتے کے ساتھ ٹھنڈا ٹھنڈا سرو کریں۔

لیموں پانی

اجزاء:

لیموں   5 سے 6 عدد

چینی    تین چوتھائی کپ یا حسب ذائقہ

برف   ایک کپ

پانی   4 کپ

ترکیب:

ایک بلینڈر میں ساری چیزیں ڈال کر اچھی طرح سے بلینڈ کرلیں اور پھر گلاس میں نکال لیں۔

برف شامل کریں اور پودینے کے ٹکڑے سے سجا کر پیش کریں۔

مینگو لسی

گرمیوں میں ویسے ہی لسی پینے میں بہت بھلی معلوم ہوتی ہے اور چونکہ یہ آموں کا موسم ہے تو افطار میں پیش کی گئی مینگو لسی لطف بڑھا دیتی ہے۔

اجزاء

آم    2 عدد

دہی   ڈیڑھ کپ

شہد    2 چمچ

برف     حسب ضرورت

ترکیب:

آموں کو دھونے کے بعد چھیل کر ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور بلینڈر میں ڈال کر پیوری بنا لیں۔

اب اس میں دہی، شہد اور برف شامل کریں اور مزید بلینڈ کریں۔

مزیدار مینگو لسی تیار ہے، گلاسوں میں نکال کر برف ڈال کر سرو کریں۔

May 22, 2018

روزے سے کینسر کا علاج ممکن ہے ،جاپانی سائنسدان کا موقف

جدت ویب ڈیسک ::روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا ،پروردگار عالم کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، اور اسی رب رحیم و کریم کی اطاعت و بندگی میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اس ذات عالی صفات نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ عطاء فرما دیا ہے۔ دیگر احکامات الہٰیہ کی طرح ہم پر روزے رمضان میں فرض کیے گئے ہیں۔ ان کا اصل مقصد تو تقویٰ پیدا کرنا ہے مگرجسمانی اور طبی لحاظ سے روزہ کے اندر شفائی اثرات موجود ہیں۔جاپانی سائنسدان کا موقف ہے کہ روزہ میں انسان کی جسم کو روزہ کی حالت میںہونے کی وجہ سے پروٹین کا ملنا بہت کم یا بلکل بند ہوجاتا ہے جس کی وجہ کینسر کے خلیوں کا پھیلاؤ ٹھہر جاتا ہے اور جب ان کو مستقل طور پر پروٹین نہ مل رہا ہو تو اس کی وجہ سے وہ خلیے اپنے موت مر جاتے ہیں ۔
اس کے جسمانی فوائد اور اثرات کے بارے میں ایک جاپانی ڈاکٹر نے اپنے حالیہ تحقیق میں یہ دعوی کیا کہ روزے سے کینسر کا علاج ممکن ہے ۔ سائنسدان کا کہنا تھا کہ جسم میں موجود کینسر کے خلیے پروٹین سے بنتے ہیں اور پھر جا کر دوسرے خلیوں میں بدل جاتے ہیں ۔ لیکن جو شخص روزے رکھتا ہے اس کے لئے یہ بے حد آسان ہے کہ وہ اپنے کینسر کا علاج کر سکے ۔

May 19, 2018

نسوار کھانے والے عراق نہیں جاسکتے جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے ، جانیے

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::اگر نسوار کھانی تو عراق نہیں جاسکتے ،عراق میں نسوار کھانے والے پاکستانیوں کی شامت آگئی، عراقی حکومت نے نسوار کو منشیات قرار دے کر کئی پاکستانیوں کو حراست میں لے لیا۔  تفصیلات کے مطابق عراق میں تعینات پاکستانی سفارتخانہ کے کمیونٹی اتاشی نے ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن کو خط ارسال کیا ہے جس میں سی اے اے کو متنبہ کیا گیا ہے پاکستان سے عراق نسوار کی آمد روکی جائے۔پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ڈی جی سی اے اے کو لکھے گئے اور خط کا متن ہے کہ پاکستان کے تمام ایئرپورٹس سے عراق آنے والے مسافروں کو نسوارکے استعمال کی روک تھام کی جائے بصورت دیگر انہیں عراق پہنچنے پر حراست میں لے لیا جائے گا۔ایئر پورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ نسوار کے خلاف سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے آگاہی مہم بھی شروع کردی گئی ہے جس میں مسافروں کو بتایا جارہا ہے کہ عراق پہنچنے پر نسوار برآمد ہونے کی صورت میں انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔نسوار زمین میں اگنے والی تمباکو کی پتیوں سے بنی مصنوعات ہے یہ بغیر دھویں والے تمباکو کی ایک مثال ہے۔ نسوار کا ااستعمال ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوا اور یورپ میں 17 ویں صدی سے عام استعمال ہوا۔ یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا میں اس کی شروعات ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ ہیٹی کے مقامی لوگوں سے 1496ء-1493ء میں کولمبس کے امریکہ دریافت کے سفر کے دوران رامون پین نامی راہب نے اسے سیکھا اور عام کیا ۔نسوار کا استعمال ہمارے خطے میں زیادہ تر افغانستان، پاکستان، بھارت، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان میں ہوتا ہے، پاکستان میں عموماً اسے پشتون ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے بھی نسوار کثیر تعداد میں استعمال کرتے ہیں اور یہاں اسے نشہ آور یا منشیات تصور نہیں کیا جاتا۔
یاد رہے کہ عراق سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں کی مقامی انتظامیہ نے کئی پاکستانیوں کو نسوار رکھنے کے جرم میں گرفتار بھی کیا ہے اور ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی گئی ہے۔

May 18, 2018

دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں،طبی ماہرین

کراچی جدت ویب ڈیسک :دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں. عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق ہر سال 17.3 ملین افراد ان بیماریوں سے وفات پا جاتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں واقع ہوتی ہیں. یہ پیش گوئی کی جاتی ہے کہ سال 2030 تک ان بیماریوں سے ہونے والی اموات کی تعداد 23 ملین سے زائد ہو جائے گی۔ایک اندازے کے مطابق بلند فشار خون دنیا بھر میں تقریبا 40 فیصد بالغوں کو متاثر کرتا ہے. پاکستان میں 50 فیصد بالغ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں. اسکیمک ہارٹ ڈیزیز مردوں میں 46 فیصد CVD اموات اور خواتین میں 38 فیصد کی ذمہ دار ہے. بلندفشار خون کے صرف 50 فیصد مریضوں کی تشخیص ہوپارہی ہے. ان میں سے بھی صرف نصف کا علاج کیا جاتا ہے.۔بلند فشار خون کی بیماری عمر کے ساتھ بڑھتی ہے. نوجوانی میں یہ بیماری خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ ہوتی تھی. تاہم، 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں اب یہ عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین نے گزشتہ روز لاہور کے مقامی ہوٹل میں عالمی یوم بلند فشار خون کے سلسلے میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران کیا. اس کا مقصد بلند فشار خون اور دل کی بیماریوں کے بارے میں شعور بڑھانا تھا. پریس کانفرنس کا انعقاد نو وارٹس کی جانب سے پاکستان کارڈیک سوسائٹی (پی سی ایس) اور پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ (پی ایچ ایل) کے اشتراک سے کیا گیا تھا.۔پریس انفرنس کے مقررین میں صدر پاکستان کارڈیک سوسائٹی پروفیسر محمد نعیم اسلم، چیپٹر کوآرڈینیٹر پی سی ایس لاہور پروفیسر زبیر اکرم، صدر پاکستان ہائپرٹینشن لیگ پروفیسر صولت صدیقی، پروفیسر ثاقب شفیع شیخ، چیئرمین سائنٹفک کونس پی سی ایس ڈاکٹر بلال شیخو محی الدین اور ڈاکٹر کامران بابر شامل تھے.۔طبی ماہرین نے بتایا کہ دل، فالج و گردے ناکارہ ہونے جیسی بیماریوں کی طرح بلند فشار خون کی وجوہات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے. اس لیے اس سے بچا اور احتیاطی تدابیر پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے. ڈاکٹروں نے زور دیا کہ پاکستان کی آبادی میں اس بیماری کی شدت کو کم کرنے کے لئے صحت مند طرز زندگی اور احتیاطی تدابیر بھی اہم ہے.۔پروفیسر محمد نعیم اسلم نے کہا کہ دل کی ناکامی (ایچ ایف) کی وجہ دل کی جسمانی ساخت یا کام میں تبدیلی ہوتی ہے جس سے دل کو خون صحیح طرح فراہم نہیں ہو پاتا. یہ بہت خطرناک ہوتی ہے.۔تقریبا ایک سے دو فیصد بالغ آبادی کو دل کی بیماری کا سامنا ہے. دائمی دل کی بیماری کے مریضوں میں بیماری کے پانچ سال کے اندر موت کی شرح 50 فیصد ہے. انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں، تمام ہسپتالوں میں داخل ہونے والے ایک سے چار فیصد مریضوں کو پرائمری تشخیص میں دل کی بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں. وہ اوسطا ہسپتال میں پانچ سے 10 دن تک داخل رہتے ہیں.۔پروفیسر زبیر اکرم نے کہا کہ دل کے مریضوں کو نہ صرف بیماری سے لڑنا پڑتا ہے بلکہ ان کی روز مرہ مصروفیات بھی محدود ہو جاتی ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ بیماری کیریئر اور حاضریوں کے لیے بھی بوجھ بنتی ہے۔پروفیسر صولت صدیقی نے کہا کہ دل کی بیماری کی تشخیص میں کسی ماہر کا کیاگیا ایکو کارڈیوگرافی ٹیسٹ انتہائی اہم ہے۔پروفیسر ثاقب شفیع شیخ نے کہا کہ دل کے مریضوں کے علاج سے ان کامعیار زندگی بہتر ہو جاتا ہے. اسپتال میں کم داخل ہونا پڑتا ہے. اموات میں بھی کمی آجاتی ہے۔مریضوں میں جہاں غذائیت یا ادویات اثر نہ کریں تو دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے کہ ان مریضوں کو مناسب غذا اور ادویات کی اہمیت کے متعلق مشاورت اور تعلیم ملنی چاہیے.

May 18, 2018

ماہرین نے ڈی ہائیڈریشن جاننے کے لیے ایک انتہائی آسان طریقہ بتایا ہے، دیکھیے

جدت ویب ڈیسک ::بجلی کی بندش ،موسم گرما میں تپتی دھو پ سے جسم میں موجود پانی کی وافر مقدار نکل جاتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے جب کہ مصروفیات کی وجہ سے عمومی طور پر لوگ اس معاملے کو نظر انداز کردیتے ہیں۔  لیکن اب آپ چند سیکنڈز میں یہ جان سکتے ہیں کہ کہیں آپ کو ڈی ہائیڈریشن تو نہیں؟ ماہرین نے ڈی ہائیڈریشن جاننے کے لیے ایک انتہائی آسان طریقہ بتایا ہے جس کے تحت آپ کہیں بھی ہوں اس عمل کو بآسانی انجام دے کر جسم میں پانی کی کمی معلوم کرسکتے ہیں۔اس طریقہ کار کے مطابق آپ ہاتھ کی جلد کو چٹکی کے انداز میں پکڑ کر اسے چند سیکنڈز تک کھینچ کر رکھیں اور کم ازکم تین سیکنڈ کے بعد اسے چھوڑ دیں، اگر چھوڑنے کے فوری بعد جلد اپنی اصلی حالت میں آجائے اور اس کا رنگ تبدیل نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کوئی کمی نہیں تاہم اگر فوری کے بجائے جلد اصلی حالت میں واپس آنے کے لیے تھوڑا وقت لے اور اس کا رنگ تبدیل ہوجائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی نشانی ہے۔بچوں کے جسم میں پانی کی کمی جانچنے کے لیے یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا تاہم اس کی جگہ ہاتھ نہیں بلکہ پیٹ ہوگا، بچوں کے پیٹ پر چٹکی والے انداز سے مذکورہ طریقہ کار کو انجام دے کر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں

May 14, 2018

ماں کا دودھ بچوں کے لئے کیوں ضروری ہے؟ دنیا بھر میں ہر سال 76 لاکھ سے زائد بچے ماں کا دودھ پینے سے محروم، یونیسیف کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف

نیویار ک جدت ویب ڈیسک ::: ماؤ ںکےعالمی دن پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 76 لاکھ سے زائد بچے ماں کا دودھ پینے سے محروم رہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق یونیسیف نے ماؤں کے بچوں کو دودھ پلانے (بریسٹ فیڈنگ) سے متعلق سروے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ غریب ممالک کے ساتھ اب امیر ترین ملکوں کے بچے بھی ماں کے دودھ سے محروم ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں زیادہ آمدنی اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم اور اوسط آمدنی والے ملکوں میں بھی ماں کا دودھ پلانے کی شرح کے فرق میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے 21 فیصد بچے ماں کے دودھ سے محروم ہیں اور عالمی سطح پر ان کی تعداد 76 لاکھ سے زائد ہے جبکہ غریب ملکوں میں صرف 4 فیصد بچے ماں کے دودھ سے محروم ہیں۔بچوں سے متعلق عالمی ادارے کے مطابق دنیا کے امیر ترین ممالک میں آئرلینڈ وہ واحد ملک ہے جہاں کے 45 فیصد بچے ماؤں کے دودھ سے محروم ہیں، اعداد و شمار کے مطابق فرانس کے 63 فیصد، امریکا 74.4، اسپین 77 فیصد بچے ماں کا دودھ پینے سے محروم رہے جبکہ سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں 99 فیصد ماؤں نے بچوں کو دودھ پلایا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے جہاں 94 اعشاریہ چار فیصد مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماؤں کے دودھ نہ پلانے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ اُن کی جسمانی خوبصورتی ہے جبکہ غریب ممالک کی مائیں بیماریوں کے باعث دودھ پلانے سے قاصر رہتی ہیں

May 14, 2018

محمد علی جناح یونیورسٹی میں نیشنل انجینئرنگ کے مقابلوں کا پروگرام اسپارکوم18-کل منعقد ہوگا

کراچی جدت ویب ڈیسک محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے الیکٹریکل اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سو سائیٹی کے اشتراک سے پیر کے روز یونیورسٹی کیمپس میں نیشنل انجینئرنگ مقابلوں کے پروگرام اسپارکوم۔18کا انعقاد کیا ہے جو صبح سوا نو بجے سے شام پونے چار بجے تک جاری رہے گا۔پروگرام کے کو آرڈینیٹر شعیب احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے دوران ہونے والے چھ مقابلوں میں حصہ لینے والے انجینئرنگ کے طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا ہوگا جس میں انھیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھر پور موقع مل سکے گا۔اس ایونٹ کا پہلا پروگرام معلومات عامہ کا مقابلہ بز ہے جس میں سرکٹ کا تجزیہ،ڈیجیٹل لاجک اور الیکٹرنکس کے مضامین سے سوالات تیار کئے گئے ہیں۔دوسرا پروگرام سرکٹ رکس اسپیڈ وائیرنگ کا مقابلہ ہے جس میں حصہ لینے والے طلبہ کو سرکٹ فراہم کیا جائے گا، مقابلہ میں حصہ لینے والوں کو فراہم کردہ سرکٹ پر ایک مقررہ وقت میںبریڈبورڈ بنانا ہوگا۔تیسرا پروگرام ریس تھرو ہے جوکہ ایک ٹائم ٹرائیل مقابلہ ہے جو کہ قطار میں چلنے والے روبوٹ کی خاطر ترتیب دیا گیا ہے۔مقابلہ میں حصہ لینے والوں کو اپنے روبوٹ کو جانچنے اور اوپر کا ہاتھ محفوظ بنانے کا پورا موقع دیا جائے گا۔اگلا مقابلہ سائینس ورلڈ سینئر انجینئرنگ پروجیکٹ نمائش ہے جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے کسی بھی سیمسٹر میں زیرتعلیم طلبہ حصہ لے سکیں گے۔پانچواں پروگرام سائینس ورلڈ جونیئر ہے جس میں اسکولوں کے طلبہ کو اس بات کا موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ نمائش میں حصہ لے کر اپنے پروجیکٹس پیش کرکے اپنی مہارت کا اظہار کرسکیں۔آخری ایونٹ اسپیڈ پروگرامنگ ہے اس مقابلہ میں حصہ لینے والوں کو پروگرامنگ میں اپنی مہارت کا اظہار کرنا ہوگا، اس مقابلہ میں حصہ لینے والوں کو ایک مخصوص مقصد بتایا جائے گا جس کو انھیں مقررہ مدت میں مکمل کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ نیشنل انجینئرنگ کے ہرمقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو تیس ہزار روپے تک کے انعامات دیئے جائیں گے۔