September 14, 2018

پاکستان میں 80 فیصد بچے متوازن غذا حاصل نہیں کرپاتے‘وزارت صحت

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :وزارت قومی صحت سروسز غذائیت ونگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں 6 سے 23 ماہ تک کے تقریباً 80 فیصد بچے متوازن غذا حاصل نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عمر کے نصف سے زائد بچے ٹھوس، نیم ٹھوس یا نرم غذا سے محروم رہتے ہیں جبکہ 2 سال کی عمر تک کے صرف 22 فیصد بچے غذائی تنوع کے کم از کم معیار تک پہنچ پاتے ہیں۔سربراہ غذائیت ونگ ڈاکٹر بسیر خان اچکزئی نے ذرائع کو بتایا کہ غذائیت کے حوالے سے آخری قومی سروے 2011 میں منعقد کیا گیا تھا، جس کے بعد نئے سروے کی ضرورت تھی تاکہ اس کی روشنی میں نئی پالیسی مرتب کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 6 ماہ میں مکمل ہونے والے اس سروے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بچے پروٹین، کاربوہائڈریٹس، وٹامنز اور خوراک کی دیگر اہم چیزیں حاصل نہیں کر پاتے۔انہوں نے بتایا کہ غذائیت سے بھرپور خوراک میں سب سے بڑا مسئلہ اس کی دستیابی ہے کیونکہ پھل، انڈے، گوشت مہنگے ہونے کی وجہ سے عام عوام کی قوت خرید سے دور ہیں، جبکہ دیسی کھانوں میں وٹامن بی 12، وٹامن اے، کیلشیئم اور آئرن بمشکل ہی موجود ہوتا ہے۔ڈاکٹر بسیر خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ملک بھر میں کھانے کی قیمتوں کو دیکھا تو یہ بات سامنے آئی کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کی فی گھر قیمت ایک لاکھ 4 ہزار سے 1 لاکھ 71 ہزار 30 روپے سالانہ کے درمیان ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ غذائی اشیائ کا بازار میں دستیاب ہونا مسئلہ نہیں لیکن جب تک فی گھر آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا اس صورتحال میں تبدیلی مشکل ہے۔سربراہ غذائیت ونگ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے 4 بڑے اقدام کی تجویز دی ہے، غریب گھرانوں کو کمیونٹی کی سطح پر وٹامنز فراہم کیے جانے چاہئیں، ماں کے دودھ پلانے سے متعلق آرڈیننسز پر عملدرآمد کی ضرورت ہے بچوں کے دودھ کے فارمولے پر اس بات کا ذکر ہونا ضروری ہے کہ یہ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ’غذائی قلت کو آٹے اور تیل سمیت وٹامن اے، ڈی اور فولک ایسڈ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے، ساتھ ہی بائیو ڈائیورسی فکیشن کی بھی ضرورت ہے کیونکہ گندم کی کچھ اقسام میں زنک اور فولک ایسڈ ہوتا ہے۔ڈاکٹر بسیر نے بتایا کہ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کے لیے کھانے کی ٹوکریاں تقسیم کی جانی چاہئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 40 فیصد پاکستانی بچوں کی نشوونما نامکمل ہے۔دوسری جانب وزارت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو تجویز دی گئی ہے کہ ضلعی سطح پر 10 لاکھ آبادی کے لیے ہر سال 40 کروڑ روپے خرچ کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ’اگر 4 سال تک 10 لاکھ ا?بادی پر 40 کروڑ روپے خرچ کرتے رہے تو بچوں کی نامکمل نشوونما کو 15 سے 20 فیصد کم کیا جاسکتا ہے۔

September 13, 2018

نجی اسکولز مالکان کا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

کراچی جدت ویب ڈیسک ::نجی اسکول مالکان نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے 5 فیصد اضافے کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔نجی اسکولز مالکان نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین ماہ تک سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔دو روز قبل محکمہ تعلیم سندھ نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے نجی اسکولوں کو فیسوں میں 5 فیصد سے اضافہ واپس کرنے یا پھر انہیں اگلے ماہ کی فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ذرائع کے مطابق نجی اسکولوں نے فیسوں میں کمی سے انکار کے حوالے سے محکمہ تعلیم کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔نجی اسکولوں کی جانب سے محکمہ تعلیم کو لکھے گئے خط کہا ہے کہ ہمارےاخراجات فیس کم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

September 11, 2018

قبل از وقت پیدا ہونے والا بچہ 28 سال بعد اسی اسپتال میں ڈاکٹر بن کر واپس آگیاجانیے حیران کن تفصیل

کیلیفورنیا جدت ویب ڈیسک :::فیس بک پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا گیا کہ پہلی تصویر 28 سال پرانی ہے جس میں نرس ولما وونگ کی گود ایک 29 ہفتوں کا پری میچیور بچہ موجود ہے لیکن دوسری تصویر میں یہی دو لوگ اسی اسپتال میں ایک ساتھ کام کررہے ہیں۔نرس ولما وونگ کا کہنا تھا کہ برینڈین جب ڈاکٹر بن کر واپس آیا تو مجھے یہ نام کچھ جانا پہچانا لگا اورآخر کار میرے سامنے یہ بات آشکار ہوگئی کہ یہ وہی پری میچیور بچہ ہے جس کی دیکھ بھال میں نے اسی اسپتال میں کی تھی۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے لیوسل پیکارڈ چلڈرن ہاسپٹل میں قبل از وقت پیدا ہونے والا بچہ 28 سال بعد اسی اسپتال میں ڈاکٹر بن کر واپس آگیا اورحیران کن طور پر اُس کی دیکھ بھال کرنے والی نرس بھی اس کی ٹیم کا حصہ بن گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے لیوسل پیکارڈ چلڈرن ہاسپٹل میں ایک عجیب منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب 28 سال قبل پیدا ہونے والا پری میچیور (یعنی قبل از وقت ولادت) بچہ ڈاکٹر بن کر اسی اسپتال میں واپس آیا اور حیران کن طور پر اس بچے کی دیکھ بھال کرنے والی نرس بھی اس کی ٹیم کا حصہ بن گئی۔
لیوسل پیکارڈ چلڈرن ہاسپٹل کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نرس اوربچے کی ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے جس میں پہلی تصویر میں نرس ولما وونگ کی گود میں پری میچیور بچہ برینڈین سیمینیٹور موجود ہے اور دوسری تصویر میں وہی بچہ ڈاکٹر بن کر اس نرس کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔

ڈاکٹربرینڈین کی 28 سال پہلے قبل ازوقت پیدائش ہوئی تھی تونرس ولما وونگ ہی ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں

September 10, 2018

ہم 90 روز میں تعلیمی پالیسی دے دیں گے، ملک میں امیر اور غریب کے لیے یکساں نظام تعلیم ہو گا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 90 روز میں تعلیمی پالیسی دے دیں گے اور ملک میں امیر اور غریب کے لیے یکساں نظام تعلیم ہو گا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا تعلیم سےمتعلق کلیئر وژن ہے اور حکومت تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔شفقت محمود نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابقہ پنجاب حکومت نے اداروں کو تباہ کیا، اسکل ڈیولپمنٹ کے مواقع سب کو مہیا کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو آئندہ ماہ تعلیمی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج نیشنل ٹاسک فورس فار ایجوکیشن کا اجلاس ہوا جس میں تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے 4 سب کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 90 روز میں تعلیمی پالیسی دے دی جائے گی اور غریب اور امیر کے لیے یکساں تعلیمی نظام ہو گا۔

September 6, 2018

اسکول کالجز میں انرجی، سافٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد،کہاں؟

‌ کراچی: جدت ویب ڈیسک ::سندھ فوڈ اتھارٹی نے اسکول کالجز میں انرجی، سافٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کردی۔
سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں میں غیرمعیاری چپس کی دستیابی پر بھی پابندی ہوگی، فوڈ اتھارٹی نے اجینو موٹو چائنا سالٹ کی خریدوفروخت پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے جانور کے بچے کو ذبح کرنے پر بھی پابندی ہوگی، کھلے مصالحوں کی فروخت پر ایک سال کے بعد مکمل بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایک سال میں کھلے مرچ مصالحے والے پیکجنگ متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سندھ فوڈ اتھارٹی کا کاربائیڈ کو پھل پکانے کے لیے ایک سال بعد پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، مصنوعات پر غلط لیبلنگ کو بھی روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ کھلا آئل اور گھی کی فروخت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی نے اسکول کالجز میں انرجی، سافٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کردی۔

Posted by Daily Jiddat Karachi on Thursday, September 6, 2018

September 4, 2018

جرمنی کی وزارتِ صحت کا فیصلہ, ہرشخص کو جسمانی اعضاء کا ’ڈونر‘ قراردینے پرغور

بون جدت ویب ڈیسک :: جرمنی کی وزارتِ صحت کی جانب سے ملک میں جسمانی اعضا کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش ِ نظر ملک کے ہر شہری کو اعضا کا عطیہ کنندہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جرمنی کے وزیر صحت جین سپاہن کوشش کررہے ہیں کہ ان کا ملک جسمانی اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے آپٹ آؤٹ پالیسی ( ہر شخص اعضا ء کا ڈونر) اختیار کرلے۔
مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس پالیسی کے حق میں ہیں جس کی وجہ رواں سال جسمانی اعضا ء کے ڈونرز کا تاریخ کی کم ترین شرح پر ہونا ہے جبکہ سائنس کے میدان میں ہونے والی روز افزوں ترقی کے سبب جسمانی اعضا ء کی ڈیمانڈ روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔
آپٹ آؤٹ پالیسی میں ہر شخص کو اعضاء کا عطیہ کنندہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی موت پر قابل استعمال اعضاء نکال لیے جاتے ہیں تا آنکہ وہ شخص از خود اس بات کا قانونی طریقے سے اظہار نہ کرے کہ موت کےبعد اس کے اعضاء نہ نکالے جائیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانا ہوگا کہ وہی اس بات پر بحث کرنے کی سب سے مناسب جگہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ہر آٹھ گھنٹے میں ایک ایسا مریض انتقال کرجاتا ہے جو کہ جسمانی اعضا کے حصول کے لیے کسی عطیہ کنندہ کا منتظر ہوتا ہے ، ابھی بھی دس ہزار لوگ انتظار کی فہرست میں موجود ہیں۔
جرمنی کی اعضا پیوند کاری کرنے والی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال صرف 797 افراد نے اعضا عطیہ کرنے کے لیے رجسٹریشن کرائی اور محض 2،594 اعضا لگائے جاسکے جبکہ دس ہزار لوگ اعضا کا انتظار کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ یورپ کے کئی ممالک جیسا کہ آسٹریا ، بیجلئم، کروشیا، اسٹونیا ، فن لینڈ، فرانس ، یونان ، ہنگری ، اسپین ، نیدر لینڈ ، روس اور ترکی پہلے ہی یہ نظام اپنا چکے ہیں تاہم ان میں سے کچھ ممالک میں ڈونر کے ورثاء کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ڈونر نے اپنے اعضا سے متعلق وصیت نہیں کی تو وہ اس معاملے میں فیصلہ کرسکیں

September 4, 2018

جسم کو نقصان پہنچانے والے 5 غلط تصورات جان بچانے کے بارے میں 7 غلط تصورات یا ٹوٹکے ، جانیے

جدت ویب ڈیسک ::  ماہرین کا کہنا ہے کہ جان بچانے کے بارے میں یہ غلط فہمیاں ہماری جان بچانے کے بجائے ہمیں موت سے بھی ہمکنار کرسکتی ہیں۔آئیے آپ بھی ان غلط تصورات سے واقفیت حاصل کیجیئے تاکہ آپ لاعلمی میں اپنی جان سے نہ کھیل جائیں ……عرصہ دراز سے ہماری جسم اور صحت کے بارے میں مختلف تصورات قائم ہیں۔ یہ تصورات یا ٹوٹکے جنہیں ہم اپنے، اور ہمارے والدین اپنے بچپن سے سنتے آر ہے ہیں، ہمارے ذہنوں میں بیٹھ چکے ہیں۔لیکن نئے دور میں ہونے والی نئی نئی تحقیقوں کے باعث ان میں سے کئی تصورات غلط ثابت ہوتے گئے۔ ان میں سے کچھ تصورات ایسے تھے جو کسی ہنگامی صورتحال میں جان بچانے کے بارے میں قائم تھے۔۔
سانپ کے کاٹنے کی صورت میں

ایک عام تصور یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو سانپ کاٹ لے تو اس کے قریب موجود کسی شخص کو اس کا زہر چوس کر پھینک دینا چاہیئے۔اس طریقے سے شاید آپ سانپ کے زہر کا شکار شخص کو تو بچالیں گے، لیکن آپ کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے۔سانپ کے زہر کو چوسنا آپ کے منہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ فوراً ایمبولینس کو بلایا جائے تاکہ ایمبولینس میں موجود تربیت یافتہ عملہ مریض کو ابتدائی امداد دے سکے۔

ہائپو تھرمیا

ہائپو تھرمیا ایک ہنگامی طبی صورتحال ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک نیچے گر جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے شخص کے لیے ابتدائی امداد یہ سمجھی جاتی ہے کہ اسے گرم پانی کے ٹب میں لٹا دیا جائے لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے۔گرم پانی کا ٹب ایک دم سرد جسم کو تیز گرمی فراہم کرے گا جو اسے مفلوج کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اس کے برعکس ہائپو تھرمیا کے شکار شخص کو خشک رکھتے ہوئے اسے گرم رکھیں۔ اسے گرم کپڑے پہنائیں اور کمبل اڑھا دیں۔ اس طریقے سے آہستہ آہستہ اس کا جسم کا درجہ حرارت معمول پر آجائے گا۔
شارک کا حملہ
اگر آپ زیر سمندر تیراکی کر رہے ہوں اور شارک آپ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو لازماً آپ کو ہاتھا پائی کے ذریعے اسے خود سے دور رکھنا ہے۔
ایسی صورت میں یاد رکھیں کہ شارک کے چہرے کو نشانہ بنانے کے بجائے اس کے کمزور اعضا یعنی پھیپھڑوں اور آنکھوں کو نشانہ بنائیں۔ریچھ کے حملے کی صورت میںاگر آپ کسی فیلڈ وزٹ پر جنگل یا شہر سے دور کسی علاقے میں ہیں جہاں جنگلی حیات موجود ہوں تو آپ کو جانوروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ کا سامنا ریچھ سے ہو تو پرانی کہانیوں کے مطابق اس کے سامنے مردہ بن کر لیٹنے کی ضرورت نہیں۔
جنگل میں بھٹکنے کی صورت میں

اگر کسی موقع پر آپ جنگل میں بھٹک جائیں تو اپنے لیے پناہ یا کھانے کی تلاش سے قبل پانی تلاش کریں۔ آپ کچھ کھائے بغیر کئی دن زندہ رہ سکتے ہیں مگر پانی کے بغیر ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔جنگل میں خوراک کی تلاش اگر آپ جنگل میں کسی جانور کو کوئی پودا کھاتے ہوئے دیکھیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بھی وہ شے کھا سکتے ہیں۔جنگلوں یا صحرائی علاقوں میں صرف وہی شے کھائیں جنہیں آپ نے اس سے قبل کھایا ہو یعنی آپ انہیں اچھی طرح پہچانتے ہوں۔
صحرا میں پانی کی تلاش
عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ صحرائی پودے کیکٹس میں موجود مادہ پینے کے قابل ہوتا ہے۔ دراصل کیکٹس کی صرف چند اقسام ایسی ہوتی ہیں جن میں موجود پانی پیا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں غیر موزوں پانی انسان اور جانور دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔