January 17, 2019

پانی ہمیشہ چھان کر پئیں ۔۔ورنہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔جانیے

ویت نام:جدت ویب ڈسیک ::63 سالہ ویت نامی خاتون اپنے حلق میں بے آرامی اور کسی پھوڑے کی شکایت لے کر ہسپتال آئیں تو ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا تو وہ حیران رہ گئے کہ ان کے حلق کے ایک جانب 6 انچ لمبی جونک چپکی ہوئی ہے جو ان کا خون پی کر زندہ تھی۔ آنکھ، ناک اور حلق کے ڈاکٹروں نے ان کے حلق میں گوشت کا غیرمعمولی ٹکڑا دیکھا اور اسے فوری طور پر نکالا جو حقیقت میں ایک جونک تھی۔
ہا گیانگ شہر کے ایک ڈاکٹر نگوین تان کا خیال ہے کہ خاتون نے کسی تالاب کا کنویں کا پانی پیا تھا جس میں بچہ جونک تھی اور وہ خاتون کے حلق میں جاکر چپک گئی۔ اس کے بعد خاتون نے سانس لینے میں دقت اور ناک بند ہونے کی شکایت کی اور جب یہ کیفیت مزید خراب ہوگئی تو وہ ہنگامی حالت میں ہسپتال پہنچیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک عجیب طبی واقعہ ہے۔ اگر خون پینے والی اس جونک کو بروقت نہ نکالا جاتا تو یہ یہ دردِ سر، حلق کی بندش اور یہاں تک کہ جان لیوا کیفیات کی شکار بھی ہوسکتی تھیں۔ تاہم اس سے قبل چین میں ایک شخص کے ناک میں تین ماہ سے چپکی جونک کو نکالا گیا تھا اور ایک خاتون کے جسم سے جونک برآمد کی گئی تھی ہم جانتے ہیں کہ جونک (لیچ) دوسروں کے خون پر زندہ رہتی ہیں۔ لیکن ایک انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹروں نے ایک خاتون کے حلق سے زندہ جونک برآمد کی ۔

January 17, 2019

امراضِ قلب اورذیابیطس سے بچانے والی وہ باتیں جس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا

واشنگٹن ،جدت ویب ڈسیک ::: ایک نئی تحقیق کے مطابق سات اہم باتوں کو خیال رکھتے ہوئے ذیابیطس، فالج اور امراضِ قلب سمیت کئی جان لیوا بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ ان تمام باتوں کا تعلق ورزش سے بھی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا اور اسی بنا پر ورزش کو خاص مقام حاصل ہے۔
اس ضمن میں امریکی ماہرین نے ایک دلچسپ سروے کیا ہے جس کی نگرانی اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ویکسنر میڈیکل سینٹر اینڈ کالج آف میڈیسن کے ڈاکٹر جوشوا جےجوزف نے کی ہے۔ اس مطالعاتی سروے میں اوسط 63 سال کے 7,758 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ شرکا سے رہن سہن کے سات وہ سادہ طریقے اور مؤثر طریقوں کے بارے میں پوچھا گیا جو صحت کے لیے ایک عرصے سے بہترین سمجھے جاتے رہے تھے۔
اچھی صحت کے سات اصول
ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے ورزش، مناسب غذا، درست وزن برقرار رکھنا، صحتمند کولیسٹرول، بلڈ پریشر پر قابو، خون میں گلوکوز کی درست مقدار اور ترکِ تمباکو نوشی سے آپ کئی امراض سے دور رہ سکتے ہیں جن میں جان لیوا فالج، ہارٹ اٹیک، ذیابیطس اور دیگر سرِ فہرست ہیں۔
اس کی تفصیلات جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہوئی ہیں اور اس کے تحت معلوم ہوا ہے کہ چار سے تمام سات باتوں کے نہ ہونے سے اگلے دس برس میں ذیابیطس کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ تمام کیفیات سے دوچار خواتین و حضرات میں ذیابیطس اور خود دل کے امراض کا خطرہ بڑھا ہوا دیکھا گیا۔
خون میں شکر یا گلوکوز کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ذیابیطس سے دور رہنے کا سب سے آسان نسخہ ہے اور اگر سات میں تین یا چار چیزوں کا خیال رکھا جائے تو شوگر کا خطرہ ازخود 80 فیصد ٹل سکتا ہے۔ یہ تحقیق ’پرہیز علاج سے بہتر‘ کو ثابت کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین 40 سال کی عمر کے بعد ان سات باتوں کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

Image result for walking diabetic and heart

January 15, 2019

مصالحوں سے تیار کردہ،غذا کو خراب ہونے سے بچانے والا کاغذ

جدت ویب ڈسیک ::اس کاغذ کو تیار کیے جانے کی کہانی بھی بہت دلسچپ ہے۔مختلف غذائی اشیا کو اگر فریج میں رکھ دیا جائے تو وہ خراب تو نہیں ہوتے تاہم ان کا ذائقہ بدل جاتا ہے جس کے بعد انہیں ضائع کردیے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے، تاہم اب کاغذ کا ایسا ٹکڑا تیار کیا ہے جو غذا کو خراب ہونے سے بچا سکتا ہے۔فریش پیپر کہلایا جانے والا کاغذ کا یہ ٹکڑا پھلوں اور سبزیوں کو 4 گنا زیادہ وقت کے لیے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اس کاغذ کی تیاری میں نامیاتی مصالحہ جات شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ اجزا بیکٹیریا کی افزائش کو روکتے ہیں جو اشیائے خورد و نوش کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
اسے بنانے والی بھارتی نژاد خاتون کویتا شکلا نے پہلی بار یہ کاغذ 12 برس کی عمر میں بنایا تھا۔ ایک بار جب انہوں نے آلودہ پانی پی لیا تھا تو ان کی دادی نے انہیں بیمار ہونے سے بچانے کے لیے مصالحوں سے بنی ہوئی چائے پلائی تھی۔
اس کے بعد کویتا نے مصالحوں پر مختلف تجربات کرنے شروع کیے کہ وہ کیا کیا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ آج ان مصالحوں سے تیار کردہ کاغذ 35 ممالک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ کاغذ غذا کو خراب ہونے سے بچا کر غذا کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے، غذا کے خراب ہونے کی وجہ سے دنیا کی نصف زراعت ہر سال کوڑے میں پھینک دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ اجزا ان انزائمز کو بھی پیدا ہونے سے روکتے ہیں جو پھلوں کو مزید پکا کر انہیں گلا سڑا دیتے ہیں۔

Kavita Shukla Lifestyle Shot on Farm 201

Image result for fresh paper

Related image

Image result for fresh paper

Image result for fresh paper

January 14, 2019

کیا یہ تصویرذہنی تناؤ کی نشاندہی کر رہی ہے۔آپ نے اس تصویر میں کیا پایا؟

جدت ویب ڈسیک ::کیا یہ تصویرذہنی تناؤ کی نشاندہی کر رہی ہے۔آپ نے اس تصویر میں کیا پایا؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ سوشل میڈیا پر ہر روز ذہن گھما دینے والی تصاویر سامنے آتی رہتی ہیں، ایسی ہی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے جو لوگوں میں ذہنی تناؤ کی نشاندہی کر رہی ہے۔
یہ رنگ برنگی سی تصویر پوسٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر ان افراد کو بالکل ساکن نظر آئے گی جو ذہنی تناؤ کا شکار نہیں، جو معمولی تناؤ کا شکار ہیں ان کو یہ تصویر معمولی حرکت کرتی محسوس ہوگی جبکہ سخت ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار افراد کو یہ تصویر نہایت تیزی سے حرکت کرتی معلوم ہوگی۔ابتدا میں اس تصویر کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ایک جاپانی ماہر نفسیات نے تخلیق کی ہے، تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ تصویر ایک یوکرینی مصور نے بنائی ہے اور اس کا ذہنی تناؤ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر بے شمار افراد اس تصویر کو اسٹریس ٹیسٹ سمجھ کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ سخت ڈپریشن کا شکار ہیں لہٰذا انہیں یہ تصویر بہت تیزی سے حرکت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
کچھ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تصویر صرف ایک بصری دھوکہ ہے اور باوجود اس کے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، انہیں یہ تصویر بالکل ساکت معلوم ہوئی۔

Related image

Related image

January 14, 2019

— چین میں شہریوں کیلئے ‘دل کی بھڑاس نکالنےکےلئےاینگر روم متعارف

جدت ویب ڈسیک :: — چین میں شہریوں کیلئے ‘دل کی بھڑاس نکالنےکےلئےاینگر روم متعار ف ۔۔۔۔۔۔ہم میں سے اکثر لوگوں کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے، لیکن گھر کی یا آفس کی چیزیں توڑ کر اس کا اظہار نہیں کیا جاسکتا، ایسے ہی لوگوں کے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے چین میں ‘اینگر روم’ (Anger Room) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں لوگوں کے سخت ترین غصے کا عتاب سہنے کے لیے ہرقسم کا کاٹ کباڑ جمع کیا گیا ہے۔
ستمبر 2018 میں دارالحکومت بیجنگ میں قائم کیے گئے اس اینگر روم کو ‘اسمیش’ (SMASH) کا نام دیا گیا ہے، جسے جن مینگ اور ان کے دوستوں نے قائم کیا ہے۔
اسکائی نیوز کے مطابق اس کمرے میں بلے اور ہتھوڑیاں موجود ہیں، جن کے ذریعے لوگ ماہانہ 15 ہزار بوتلیں توڑ کر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔
یہ انوکھی سروس صرف 23 امریکی ڈالر فیس کے عوض آدھے گھنٹے کے لیے حاصل کی جاسکتی ہے، جبکہ چار افراد کے گروپ کی صورت میں یہ رقم 75 امریکی ڈالر ہوجاتی ہے۔
واضح رہے کہ اینگر روم اس سے قبل امریکا اور دیگر ممالک میں بھی قائم ہیں، لیکن چین میں یہ تجربہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔
25 سالہ جن مینگ کے مطابق ان کا استعمال شدہ اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں سے رابطہ ہے، جہاں سے انہیں ٹوٹی پھوٹی اشیاء مثلاً ٹی وی، ٹیلی فون، گھڑیاں، برتن، مجمسے، ساؤنڈ ریکارڈر اور اسپیکرز وغیرہ کی سپلائی ملتی رہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی توقعات سے بڑھ کر ماہانہ 600 کے قریب افراد ان کی دکان پر آتے ہیں، جو اس سے قبل ایک فیکٹری کا حصہ تھا، لیکن اب اسے ایک آرٹ ایریا میں تبدیل کردیا گیا ہے۔جن مینگ کے مطابق یہاں آنے والے افراد کی عمریں 20 سے 35 برس کے درمیان ہوتی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ یہ جگہ تشدد کے فروغ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کا اسٹریس کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔جن مینگ کے مطابق یہ جگہ تشدد کے فروغ کےلیے نہیں بلکہ لوگوں کا اسٹریس کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے  جن مینگ کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ ایک ایسا ہی اینگر روم کسی شاپنگ مال میں بھی کھولا جائے جہاں لوگ خریداری کے ساتھ ساتھ اپنا غصہ بھی نکال سکیں۔

January 12, 2019

کیا کبھی بانس میں پکنے والی انوکھی بریانی کھائی ؟؟؟

جدت ویب ڈسیک ::بیمبو بریانی بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے شمالی علاقے کی مقامی ڈش ہے جو اپنے منفرد انداز کی وجہ سے تیزی سے مشہور ہوئی۔دیسی کھانوں میں سرفہرست ’بریانی‘ کی کئی اقسام ہیں تاہم آج ہم آپ کو بانس میں پکنے والی بیمبو بریانی کے بارے میں بتائیں گے۔
یہ بریانی ویسے ہی تیار کی جاتی ہے مگر فرق صرف برتن کا ہوتا ہے، چند سالوں قبل گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے لوگ برتن میسر نہ ہونے کی وجہ سے بانس کا استعمال کرتے تھے مگر اب یہ ڈش مشہور ہوتی جارہی ہے۔عام طور پر بریانی بنانے کے لیے پتیلے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں چاول ڈال کر پکائے جاتے ہیں البتہ بیمبو بریانی کو ایک خاص قسم کے بانس کی لکڑی میں تیار کیا جاتا ہے۔بانس کی لکڑی کو اندر سے کھوکھلا کر کے اسے تقریباً دیڑھ سے دو فٹ کے ٹکڑوں میں کاٹ کر دوسری طرف ایک کپڑا ٹھونس دیا جاتا ہے۔
پکاتے وقت اس میں سب سے پہلے چاول پھر پانی ڈالا جاتا ہے اور پھر جیسے ہی پانی خشک ہو اور چاول گل جائیں تو اس میں مزید مصالحے اور گوشت شامل کیا جاتا ہے۔بانس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ آگ نہیں پکڑتا اس لیے چاول اور دیگر مصالحہ جات شامل کر کے بریانی بنائی جاتی ہے۔آندھرا پردیش کے علاقے ویجایاوادا میں سریش نامی شہری نے پہلا ہوٹل اگست 2018 میں کھولا جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگیا اور لوگ انوکھے طریقے سے تیار ہونے والی بریانی کھانے آنے لگے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ بھارت کے شمالی علاقوں میں برتن میسر نہیں تھے تو وہاں کے مقامی بانس کی لکڑی میں کھانا تیار کرکے اسے بڑے بڑے پتوں پر ڈال کر پیش کرتے تھے۔ویجایاودا میں کھولا جانے والے ہوٹل میں آنے والوں کو بھی اُسی طرح پتے پر بریانی رکھ کر پیش کی جاتی ہے۔بریانی بنانے کا مکمل طریقہ، بھیگے چاول اور مصالحہ اور گوشت سب کچھ مکس کر کے بانس میں ڈال دیتے ہیں اور آگ پر رکھ دیتے ہیں
https://www.youtube.com/watch?time_continue=8&v=KJkModaNshw
January 12, 2019

اگلے ماہ 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کو بہنوں کے دن کے طور پر منائیں گے۔یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کا اعلان

فیصل آباد جدت ویب ڈسیک ::: صوبہ پنجاب کی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کو بہنوں کے دن کے طور پر منائیں گے۔  یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا کی جانب سے کیے جانے والے اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ ہماری اپنی ثقافت و روایات بہت زرخیز ہیں، مغربی ثقافت میں رنگنے کے بجائے ہم اس دن کو بہنوں کے دن کے طور پر منائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس دن طالبات کو اسکارفس، شال اور گاؤن تحفتاً دیے جائیں گے جن پر یونیورسٹی کا نام لکھا ہوگا۔
وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ ہماری ثقافت میں خواتین بطور بہن، ماں، بیٹی اور بیوی بہت زیادہ خود مختار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ثقافت کو بھول رہے ہیں اور مغربی ثقافت کو اپنے اوپر حاوی کر رہے ہیں۔ ’ایسی قومیں جو اپنی ثقافت بھلا دیں جلد اپنا نشان کھو بیٹھتی ہیں‘۔وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ اپنی ثقافت کی حفاظت دنیا میں اپنی پہچان اور عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، اور نوجوان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے یونیورسٹی کے کلاک ٹاور کے نزدیک ’آئی لو ۔ یو اے ایف‘ کے ماڈل کا افتتاح بھی کیا۔

January 12, 2019

دن میں 3 وقت سیر ہو کر کھانا صحت مند رکھتا ہے، لیکن اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟

 

جدت ویب ڈسیک ::ایک عمومی خیال ہے کہ دن میں 3 وقت سیر ہو کر کھانا صحت مند رکھتا ہے، لیکن اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟ آئیں جانتے ہیں۔ایک بین الاقوامی اسپورٹس نیوٹریشن کنسلٹنٹ مشل ایڈمز کا کہنا ہے کہ صرف غذائیت بخش اشیا کھانا ہی صحت کی ضمانت نہیں، بلکہ اہم یہ کہ انہیں اس طرح کھایا جائے کہ وہ جسم کو فائدہ پہنچائیں۔
مشل کا کہنا ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو وہ ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے، اس توانائی کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے جس کے اندر اسے استعمال کرنا ہوتا ہے، اگر اس وقت میں اس توانائی کو استعمال نہ کیا جائے تو یہ چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔مشل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں، تو 3 وقت سیر ہو کر کھانے کا خیال چھوڑ دیں اور اس کی جگہ دن میں 6 وقت کھانا کھائیں۔
اس بات کی ایک توجیہہ یہ بھی ہے کہ 2 کھانوں کے درمیان آنے والا وقفہ بہت زیادہ ہوتا ہے جس میں آپ کی بھوک چمک اٹھتی ہے لہٰذا جب کھانا آپ کے سامنے آتا ہے تو آپ معمول سے زیادہ کھا لیتے ہیں، یوں آپ کی وزن کم کرنے کے لیے بھوکا رہنے کی کوشش ضائع ہوجاتی ہے۔مشل کا کہنا ہے کہ 3 وقت کھانے کے بجائے اپنے کھانے کو 6 وقت میں تقسیم کریں اور کھانے کی مقدار کم رکھیں۔
اس سے نہ صرف آپ کی بھوک قابو میں رہے گی بلکہ کھائی جانے والی تمام غذائیت جزو بدن ہو کر آپ کو صحت مند بنائے گی۔ اس طریقے پر عمل کر کے آپ کو کسی چیز سے پرہیز بھی نہیں کرنا پڑے گا اور آپ سب کچھ کھا سکیں گے۔آپ کو کتنی کیلوریز درکار ہیں؟
ماہرین کے مطابق کیلوریز کی اسٹینڈرڈ مقدار مردوں کے لیے فی کلو 28 اور خواتین کے لیے 25 ہے۔
آپ کو دن میں کتنی کیلوریز درکار ہیں، یہ جانے کے لیے اپنے موجودہ وزن کو 28 (مرد) یا 25 (خاتون) سے ضرب دیں، یہ حساب آپ کو بتائے گا کہ دن میں کتنی کیلوریز آپ کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔۔۔۔۔مشل کے مطابق اپنے کھانے کا شیڈول یوں بنائیں۔

ناشتہ: صبح 8 بجے
اسنیکس 1: صبح ساڑھے 10 بجے
دوپہر کا کھانا: 1 بجے
اسنیکس 2: شام ساڑھے 4 بجے
رات کا کھانا: شام 7 بجے
اسنیکس 3: رات ساڑھے 9 بجے