Browse Category

کالم

پھربڑامعرکہ گیلانی سنجرانی

اداروں کو آزادی دینے کے دعویدار وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اس بات پرلبیک کہنے والے الیکشن کمشن پر تنقید ایسے کر رہے ہیں جیسے اس میںحکومت کے نوکرچاکربیٹھے ہوں۔ الیکشن کمشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ حکومت نہیں آئین اور الیکشن رولز کا پابند ہے حکومت ایک ویڈیوکی بناپر گیلانی کو نا اہل کرانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ اب تو ایوان میں ووٹ کے ذریعے مقابلہ ہی رہ گیا ہے۔ اس مقابلے کے لئے حکومت کون سے حربے استعمال کرتی ہے اور کیا وہ کارگر بھی ثابت ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ تو

روزنامہ جدت کی خبر پر وزیر اعلیٰ سندھ کی ڈی ایم سی کو بھی پنشن بقایاجات دینے کا حکم

سرکاری ملازمین اپنی پنشن اور بقایاجا کو ریٹائر ہوئے دو سال سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ سرکاری آفسوں کے دھکے کھا رہ یہوتے ہیں لیکن ان ملازمین کو واجبات نہیں ملتے ہیں۔ گھر بنوانا ہے۔ گھر خریدنا ہے ان کی بٹیوں کی شادی ان پیسوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔ وہ فنڈ کہاں پنشن بھی مشکل سے ملتی ہے اور غریب ملازمین 60 سال سروس کرنے کے بعد پریشان نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا گزارہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو کہ پیسے لے کر

محکمہ تعلیم تبادلوں کی وجہ سے تعلیمی مسائل میں اضافہ ہوا ہے

محکمہ تعلیم میں بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی کی وجہ سے کئی ٹیچرز اور غیر تدریسی عملہ کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے اور اس پر یہ کہ کئی اسکولوں میں ٹیچرز وغیر تدریسی عملہ زیادہ ہے تو کہیں عملہ بہت کم ہیں۔ کم ہونے والے اسکولوں سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکولوں اور کالجوں میں کئی کلاسیں سبجیکٹ ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے خالی پڑی ہوئی ہیں۔ یعنی ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے طلباء بھی کلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں اور اس پر یہ کہ بہت سے اسکولوں اور

پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا ہے میرے شہر کے لوگوں نے

حقیقت یہ کہ بنیادی خصوصیات جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں اورجن کی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہوا وہ علم اور شعور ہیں۔ کتب بینی حصول علم اور بیداری شعور کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ صرف درسی یا نصابی کتب کے مطالعہ سے شعور بیدار نہیں ہوتا اس کے لئے دیگر نافع کتب کے مطالعہ کی عادت ضروری ہے۔کثرت مطالعہ سے حاصل کردہ یہ شعور فرد کی تربیت کرتا ہے، اخلاقیات، تہذیب و تمدن سے آشنا کرتا ہے،زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا ہے، مشکلات کو آسان کرنے کا ہنر سکھاتا ہے،

خواتین کا دن اور آزادی

مارچ میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں زور و شور سے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھای جاتی ہے اس مقصد کے لیے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اور اب تو عورت مارچ ہوتا ہے جو آزادی مارچ نہیں بلکہ بربادی مارچ ہے جس میں اٹھاے پلے کارڈز ہر آنکھ کو شرمندہ کر دیتے ہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے مطابق ہماری مسلمان عورت کو اس کے دائرے سے نکال کر تماشہ بنایا جا رہا ہے سوال یہ ہے کہ مغرب کی عورت کو آزادی مانگ کر کیا ملا؟ رسوای۔بوجھ۔ مشقت اب وہاں عورت مرد

مودی پھنس گیا

آپ نے یہ مشہور مقولہ کبھی نہ کبھی تو ضرورسنا ہوگا کہ” کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں”۔اس مقولے کے پیچھے ایک سچی داستان ہے پہلے وہ داستان سن لیں پھر آپ کو بتاؤں گا کہ یہ منقولہ آج کے دور میں کس طرح دوبارہ حقیقت بن کر سامنے آگیا ہے۔ سردارکھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے اور پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے۔ایک دن معمولات سے بیزار ہوکر سردارکھڑک سنگھ اپنے بھانجے کے پاس گئے اور کہا کہ” شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے

زندہ لوگوں کے لئے بڑی عمارتیں مرنے کے بعد دو گز زمین نہیں ملی

شہر کراچی میں قبرستانوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے اور بہت سے قبرستان بھرنے کے بعد کچھ عرصے بعد وہاں نئی قبریں بنائی جارہی ہیں خاص کر شہر کے مضافاتی علاقے لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، نئی کراچی اور اورنگی ٹائون کے تقریباً تمام قبرستان قبریں بننے کے بعد تقریباً فل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مرنے والوں کے لئے جگہ کم پڑ گئی ہے۔ لانڈھی نمبر1 اسماعیل گوٹھ قبرستان جو کہ فاروق مل کے قریب ہے وہ مکمل بھر چکا ہے لیکن پتہ نہیں گورکن پھر جگہ نکال لیتے ہیں۔ اس طرح کورنگی نمبر6 کا مین اسٹاپ

پیغامِ محبت

کسی بھی مذہب کو ماننے والے لوگوں میں ہرطرح کی حیثیت رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں، قادر مطلق بھی ہمارا ایک پیغمبربھی ایک اور کتاب بھی ایک ہے،سلام اس آمنہ کے لعل پہ جو اس کائنات کے ہونے کا سبب بنا، اور سنت رسول زندگی کاایسا لائحہ عمل دے گیا جو اطاعت گزار کیلئے ہمارے معاشرے اور انسانی زندگی کو مختلف اخلاقی پہلوئوں کی ضرورت پوری کرتی ہے، یہ تمام اخلاقی پہلو ہمیں آپ کی سوانح میں ملتے ہیں کتنی خوش قسمت ہے امت مسلمہ کہ اسے زندگی کا کوئی بھی معیار بنانے اور اخلاقیات کوجاننے کیلئے پورا عملی

قومی، صوبائی اور سینیٹر میں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات کرائے جائیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک عوام کا ہے کسی کی جاگیر نہیں۔ اپنے ملک میں دہرا معیار نہیں چلنے دوں گا۔ سینیٹ میں خرید و فروخت جاری ہے۔ بلوچستان میں 50 کروڑ سے 70 کروڑ میں خرید و فروخت ہورہی ہے، مجھے بھی سینیٹ کے لئے سیٹ فروخت کی آفر ہوئی تھی۔ ہم سینیٹ کے لئے ٹکٹ میرٹ پر دیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف حالیہ سینیٹ انتخابات کے بعد ایوان بالا میں بھی سب سے بڑی جماعت ہوگی۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی

1 2 3 116