October 16, 2019

پاکستان کی رینکنگ میں 15 درجے بہتری، ورلڈ اکنامک فورم کی بین الاقوامی رپورٹ جاری

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک :: دنیا بھر کی معیشت پر نظر رکھنے والے ادارے ورلڈ اکنامک فورم نے عالمی مسابقتی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق پاکستان کی رینکنگ میں 15 درجے بہتری آئی۔
ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق عالمی مسابقت کے معاملے پر دنیا میں پاکستان کا درجہ 15 درجے بہتری کے بعد 52ویں نمبر پر آگیا۔
عالمی مسابقتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کادرجہ 67تھا، گورننس کے معاملے پر پاکستان کے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن دنیا کا ساتواں مؤثر ریگو لیٹر قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاروبارشروع کرنےمیں پاکستان کی درجہ بندی میں6پوائنٹس کی بہتری ہوئی، گزشتہ برس رینکنگ میں پاکستان کا نمبر 96 تھا مگر اب بہتری کے بعد 90ویں نمبر ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اُن چندممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک ہی دن میں کمپنی رجسٹر ہوجاتی ہے، کاروباری لاگت سےمتعلق پاکستان کی رینکنگ گزشتہ سال کی پوزیشن پر مستحکم رہی۔
مسابقتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس ای سی پی نےڈیجیٹلائزیشن سےمتعلق کئی اصلاحات متعارف کرائیں۔

October 15, 2019

انشورنس کمپنیاں اپنے سسٹم کو فوری طور پر ٹھیک کریں: چیئرمین ایف بی آر

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ بعض انشورنس کمپنیاں افغان ٹرانزٹ کی مصنوعات کی گارنٹیز کے لیے درست کام نہیں کر رہی ہیں، کمپنیاں اپنے سسٹم کو فوری ٹھیک کریں۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں انشورنس گارنٹیز کے سلسلے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انشورنس کمپنیوں کا اس مد میں فیس اور دیگر امور کے معاملات مناسب نہیں ہیں۔
شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آر کے مشاہدے میں ان مسائل کی نشان دہی ہوئی ہے، انھوں نے متنبہ کیا کہ ایسی انشورنس کمپنیاں اپنے امور کار بر وقت ٹھیک کر لیں۔
انھوں نے کہا بعض انشورنس کمپنیاں گارنٹیوں کے سلسلے میں ضروری شرایط اور فیس کے لیے طے شدہ ضابطے پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کر رہی ہیں، جس پر انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 18 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت اور عوامی آمد و رفت کی آسانی کے لیے طور خم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔
بتایا گیا کہ طور خم سرحد چوبیس گھنٹے کھلی رہے گی، جس سے وسط ایشیائی ریاستوں تک تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، طور خم ٹرمینل پر 16 ارب روپے لاگت آئی ہے اور ٹرمینل کا قیام پاکستان کی طرف سے افغان عوام کے لیے تحفہ ہے۔

October 12, 2019

گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی کی گئی ہے، ملک کے 2 بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے۔ گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔
تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے، حکومت نے ذرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، وزیر اعظم اور وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات بھی کم کیے گئے۔ 8 لاکھ اضافی لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا گیا۔ رواں سال 5 ہزار 500 ارب کے ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی سیکٹر کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ملازمتوں میں اضافہ ہو، پاکستان کے 2 بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے۔ گزشتہ مالی سال پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر تھا۔ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی کی گئی ہے۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات اور آمدنی میں گیپ کو 36 فیصد کم کیا، مالیاتی خسارے کو بھی کم کیا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی مالیاتی خسارہ 4 سو 76 ارب روپے ہے۔ ریونیو میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا، گزشتہ 3 ماہ میں کوئی ضمنی گرانٹس بھی نہیں جاری کی گئیں۔ نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 4 سو 6 ارب روپے حاصل کیے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں نان ٹیکس آمدنی میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔ نان ٹیکس آمدنی کو 1 ہزار 6 سو ارب تک لے کر جائیں گے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ماضی میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی ارب ڈالر ضائع کیے گئے، گزشتہ 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں بھی اعتماد بڑھا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں اگست سے اب تک 22 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے، نتائج آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں، عالمی ادارے پاکستان کے بارے میں اچھے بیانات دے رہے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کی مد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فنڈز جاری کیے۔ گزشتہ سال اسٹیٹ بینک کا منافع 51 ارب تھا، اب 185 ارب ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر سے 338 ارب روپے اضافی حاصل ہو سکتے ہیں۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے منافع میں مزید 200 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، پی ڈی ایل کی مد میں 250 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اس کا فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ حکومتی خسارے میں کمی کا مطلب ہے قرض بھی کم لینا پڑے گا۔ ایکسچینج ریٹ کو استحکام دے رہے ہیں تو سرمایہ کاروں اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، کرنسی میں استحکام آیا ہے۔ تین ماہ سے پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی۔ ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک ملازمت دلائی۔ حکومتی اقدامات کا تعلق عوام کی خوشحالی سے جڑا ہے۔ مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں منی لانڈرنگ کو روکا جائے، منی لانڈرنگ کو روکنے سے دنیا میں اچھا تاثر جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے جلد نکلنا چاہتے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے بتایا کہ دبئی لینڈ اتھارٹی جائیدادوں کی معلومات فراہم کرے گی، دبئی حکام سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اقامے کے غلط استعمال سے متعلق بھی بات چیت کی گئی، اقامے کا غلط استعمال اب نہیں ہوسکے گا۔  انہوں نے کہا کہ ڈبل ٹیکس ٹریٹی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ شناختی کارڈ کی شرائط سے متعلق تاجروں کو مطمئن کرلیں گے، تاجروں کے دونوں گروپوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

Image result for dr hafeez sheikh press conference

October 10, 2019

مہنگے پٹرول سے نجات، اب پاکستانی ساختہ سستی الیکٹرک موٹرسائیکل چلے گی

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک :: پیٹرول کی آسمان کو چھوتی قیمتوں سے پریشان موٹر سائیکل سواروں کے لیے خوشخبری ہے کہ اب پاکستان میں الیکٹرک انجن سے چلنے والی موٹرسائیکلیں تیار کی جارہی ہیں جسے 50 کلومیٹر کی ایوریج پر ماہانہ صرف 500 روپے میں چلایا جاسکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ساہیوال میں 2 اداروں نے باہمی اشتراک سے پٹرول کے بجائے برقی توانائی سے چلنے والی موٹرسائیکل کو مقامی سطح پر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کی ہیئت تو روایتی موٹرسائیکل کی طرح ہی ہے لیکن اس میں پٹرول سے چلنے والے انجن کے بجائے برقی توانائی سے کام کرنے والے انجن کو نصب کیا گیا ہے۔
یوں تو بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلیں پاکستان میں ایک دہائی سے موجود ہیں لیکن یہ سب درآمد شدہ ہیں جن کی قیمت لاکھوں میں ہیں لیکن کافی مہنگی ہونے کے باعث یہ موٹر سائیکلیں متوسط طبقے کی دسترس سے باہر ہیں تاہم ساہیوال کے عثمان شیخ نے اس موٹر سائیکل کو مقامی سطح پر تیار کرلیا ہے۔
ساہیوال سے تعلق رکھنے والے اوج ٹیکنالوجیز کے عثمان شیخ نے الیکٹرک بائیک کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کو پاکستان میں ہی اسمبل کرکے موٹر سائیکل تجارتی بنیادوں پر تیار کی ہے جس میں روایتی پرزوں جیسے گیئر، کک، گیئر لیور، موبل آئل اور چین گراری سیٹ کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ ماحول دوست بھی ہے۔
عثمان شیخ نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ہم نے پٹرول سے چلنے والی روایتی موٹر سائیکل کے پہلے سے موجود ایکو سسٹم سے فائدہ اٹھایا اور مقامی سطح پر الیکٹرک بیٹری سسٹم تیار کیا ہے اور ساتھ ہی کنٹرولر، بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس)، چارجر، موٹر اور بیٹری پیک ڈیزائن کیے ہیں۔
ان الیکٹرک بائیک کی رینج 70 کلومیٹر ہے جس کے بعد انہیں گھر یا دفتر میں 5 گھنٹے میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ بائیکس 50 کلومیٹر تک ایوریج دیتی ہے جس کا مطلب ہوا اسی رینج میں عام موٹر سائیکل کا پٹرول خرچہ ماہانہ 4 ہزار ہوگا تو الیکٹرک بائیک میں یہ خرچہ صرف 500 ہوگا۔
آلودگی سے پاک، بغیر شور کیے چلنے والی ماحول دوست اور کم خرچ الیکٹرک موٹرسائیکل کی ابتدائی طور پر قیمت 88 ہزار روپے رکھی گئی ہے جب کہ پٹرول پر چلنے والی موٹرسائیکل کو بھی الیکٹرک موٹرسائیکل میں تبدیل کرایا جا سکتا ہے۔ چین، جاپان اور یورپ کے کئی ممالک میں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کا استعمال عام ہے۔

پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل کو الیکٹرک بائیک پر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو : بی بی سی

October 9, 2019

اب پاکستان میں صرف بیٹری والے رکشے سڑک پر چل سکیں گے

جدت ویب ڈیسک ::وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیٹری سے چلنے والے رکشوں کی تیاری آخری مراحل میں پہنچ گی ہے اور چھ سے آٹھ ماہ تک ایسے دس ہزار رکشے سڑک پر ہوں گے۔
انہوں نے یہ دعویٰ سماجی رابطے کی ایپ ٹوئٹر پر کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگلے تین سے پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں انجن سے چلنے والے تمام رکشوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی کیونکہ بیٹری سے چلنے والے رکشوں بڑی تعداد میں متبادل کے طور پر سامنے آ چکے ہوں گے۔
پاکستان کوالٹی اسٹینڈرز اس وقت بیٹری کے رکشوں کے اسٹنڈرز بنا رہا ہے، انشاللہٰ چھ سے آتھ ماہ میں پہلا دس ہزار بیٹری رکشوں کا بیج (Badge) سڑک پر آجائیگا۔ تین سے پانچ سالوں میں انجن والا رکشہ سڑکوں پر بین (Ban) کر سکیں گے۔۔پاکستان میں بجلی سے چلنے والی موٹرسائیکلیں بننا شروع ہوگئیں۔۔ پٹرول سے چلنے والی موٹرسائیکل کا اگر ماہانہ خرچہ 4000 ہے اس موٹرسائیکل سے خرچہ کم ہوکر 500 روپے ماہانہ ہوجائے گا۔۔اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے بیٹری کے ذریعے چلنے والا موٹر سائیکل اور رکشہ خود چلا کر دکھایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی سے ماحول میں موجود نقصان دہ دھوئیں میں بھی کمی آئے گی۔

Image result for electric rickshaw in pakistan

October 8, 2019

پاکستان فیٹف بلیک لسٹ سے بچ جائے گا۔دوست ملکوں کی بھرپور حمایت

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :: پاکستان کے 3اہم دوست ممالک چین ،ترکی اور ملائشیا کی جانب سے فیٹف میں حمایت کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے جس کے باعث پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے حوالے سے بھارتی مذموم عزائم ناکام ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
پاکستان کی ٹیکنیکل ٹیم ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی سربراہی میں چین پہنچ گئی ہے اور چین سے آج (منگل) فیٹف کے ساتھ مذاکرات کیلئے پیرس جائے گی جبکہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر بدھ کو پیرس جائیں گے اور فیٹف اجلاس میں شرکت کے بعد عالمی بینک و آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا جائیں گے۔
اس ضمن میں وزارت خزانہ کے سینئر افسر نے پیر کے روز ’’ایکسپریس‘‘کو بتایا کہ فیٹف میں اگر تین ممبر ممالک کی جانب سے پاکستان کی حمایت کردی جائے تو پاکستان کا نام فیٹف کی بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونیوالے فیٹف کے اجلاس میں ایشیا پیسفک گروپ کی طرف سے اکتوبر 2018 میں کیے گئے آن سائیٹ جائزے کی رپورٹ میں منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات دور کرنے کے بارے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا۔