August 8, 2017

ایچ بی ایف سی کو فعال ‘ مزید مالیاتی شعبے قائم کئے جائیں‘محسن شیخانی

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان میں رہائشی یونٹس کی طلب کو پورا کرنے کیلئے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چیئرمین محسن شیخانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی منصوبوں کو آسان قرضہ جات کی فراہمی کے لیے ہائوس بلڈنگ فنانس کمپنی کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید مالیاتی شعبے قائم کیے جائیں۔ چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس تعمیراتی صنعت کو سہولتوں کی فراہمی مین مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔انھوں نے کہا کہ ملکی معشیت کی ترقی کا بیشتر انحصار تعمیراتی شعبے پر ہوتا ہے، سو سے زائد صنعتوں کی ترقی کا دارو مداد تعمیرات شعبے کی ترقی سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں چاہے ترقی پزیر ممالک ہوں یا ترقی یافتہ تعمیراتی صنعت کوبہت اہمیت دی جاتی ہے،مستحکم معیشت کے حامل ممالک میں گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو معیاری اور کم لاگت رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بلڈرز اور ڈیولپرز کو مراعاتی پیکج دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ انتہائی افسوسنا ک امر ہے کہ پاکستان میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے۔پاکستان میں تعمیراتی صنعت کو دیوار سے لگایا جارہا ہے،،مراعاتی پیکج دینا تو دور کی بات تعمیراتی صنعت کی ترقی میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ محسن شیخانی نے کہا کہ آباد اپنے طور پر شہریوں کو اپنا گھر فراہم کرنے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اسلام آباد میں لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا اجرا آباد کا نمایاں کارنامہ ہے جس کے تحت اپنا گھر نہ رکھنے والے اسلام آباد کے رہائشیوں کو 15 سے 19 لاکھ روپے میں 120 گز کا معیاری گھر فراہم کیا جائے گا۔ آباد کراچی،پشاور اور لاہور میں بھی کم لاگت گھروں کے اسکیمیں شروع کرنے کا عزم رکھتا ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزارت ہائوسنگ اس سلسلے میں آباد کی کوئی مدد نہیں کررہی،آباد نے بارہا حکومت سے رعایتی اسکیموں کے لیے اراضی کے حصول ،انفرا اسٹرکچر کی فراہمی میں رعایت کی اپیلیں کی لیکن ان پر حکومت کی جانب سے کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے انفرا اسٹکچر کی ترقی اور معیاری رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لیے آباد فورتھ نمائش ” آباد اینٹرنیشنل ایکسپو 2017 ” کا انعقاد کررہا ہے جو 12 سے 14 اگست تک کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہورہی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ تعمیرات کے اس عالمی میلے سے عالمی کمپنیوں کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے ایم او یو سائن ہوں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کی تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا اور اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

August 7, 2017

سپلائی تاحال معطل، مارکیٹ میں چینی نایاب

کراچی جدت ویب ڈیسک شوگرملرز کی جانب سے چینی کی سپلائی تاحال معطل ہے،جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی نایاب ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق شوگرملز سے چینی کی سپلائی تیسرے دن بھی معطل رہی ، مارکیٹ سے چینی غائب ہے اور چینی صرف یوٹیلیٹی اسٹوز اور بڑے اسٹوز پردستیاب ہے۔ہول سیل بازار میں فی کلو چینی ایک ہفتے میں8روپے مہنگی ہوچکی ہے، 47 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت55روپے تک جا پہنچی ہے، ریٹیل سطح پر بھی چینی کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔کراچی کی مارکیٹ میں بھی چینی کی قلت کا سامناہے، کراچی ڈیلرز کے مطابق شوگر ملز کی جانب سے مل کی سپلائی روک دی گئی ہے ، جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔کراچی ہول سیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق چینی مارکیٹ سے غائب ہونے سے ہول سیل مارکیٹ میں چینی 55 روپے کلو جبکہ ریٹیل کی سطح پر 64 روپے کلو تک پہنچ گئی، دکانداروں کے مطابق چینی کی سپلائی معطل ہونے سے قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔یاد رہے تین روز قبل شوگر ملز مالکان نے پیداوار ی لاگت میں اضافے کو جواز بنا کر مارکیٹوں میں چینی کی فراہم بند کر دی تھی، مالکان کا کہنا ہے کہ چینی کی تیاری کی لاگت کے مقابلے میں فروخت کے نرخ بہت کم ہیں اور حکومت چینی کی ایکسپورٹ پر سبسڈی بھی نہیں دے رہی۔شوگرملرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کہ چینی کی سپلائی کا معاملہ ایجنٹس اور ہول سیلرز کے درمیان ہے، ایسوسی ایشن کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تاہم مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، حکومت نوٹس لے۔

 

 

August 4, 2017

کرنسی مارکیٹ میں کالی بھیڑوں پر نظر رکھی جائے‘میاں زاہد حسین

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کسی کوبھی موجودہ سیاسی بے یقینی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے۔ بعض عناصر راتوں رات کروڑوں روپے کمانے کیلئے مقامی کرنسی کی قدر سے کھیلنے کی کوشش کر سکتے ہیں اس لئے کرنسی مارکیٹ میں موجود کالی بھیڑوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت اور حزب اختلاف نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا جبکہ ملک بھر میں عدالتی فیصلے کے حق میں یا اسکے خلاف کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جو خوش آئند ہے کیونکہ اس سے کاروباری برادری کا خوف کم ہوا ہے اور گزشتہ چار سال سے معیشت کو بہتر بنانے کی کوششیں ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال کو نارمل بنانے کیلئے جلد از جلد اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ورنہ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینا پڑے گا۔ گزشتہ سال ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکاجبکہ برآمدات، ترسیلات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بھی قابل اطمینان نہیں ہے۔ سرکاری کارپوریشنز اور پاور سیکٹر میں حقیقی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے جبکہ توانائی کا شعبہ اب بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہے جسکی وجہ سے آئی ایم ایف نے امسال پانچ سو ارب روپے کے اضافی محاصل عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمدات 53 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جس سے گزشتہ سال کا تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ جاری حسابات کا خسارہ 148 فیصد اضافے کے ساتھ بارہ ارب سے زیادہ ہو گیا ہے جو 2015-16 میں پانچ ارب ڈالر تھا۔ اس صورتحال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا مشکل ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں معمولی استحکام زر مبادلہ کے باقی ماندہ ذخائر کو چاٹ جائے گا۔

August 4, 2017

وفاقی حکو مت پھر غریب عوام کیساتھ ہا تھ کر گئی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے توانائی پیدا کرنے والے اداروں کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی 20 سے 30 سال کے لیے سیکیورٹی لاگت وصول کرنے کی منظوری دے دی۔پاک چین راہداری منصوبے کے تحت توانائی کے 19 منصوبوں کی لاگت کی مد میں بجلی صارفین کے ٹیرف کا ایک فیصد وصول کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے ایک حکم نامے میں توانائی شعبے کے ریگولیٹر نے کہا ہے کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے حکم پر اضافی سیکیورٹی قیمت کو بڑھانے کی منظوری دی اور سی پیک کے تحت 19 توانائی کے منصوبوں کا تخمینہ 17 ارب روپے لگایا گیا ہے، نیپرا نے اس کا سالانہ تخمینہ 31 کروڑ 50 لاکھ روپے لگایا۔نیپرا نے اپنے جاری حکم میں کہا کہ وفاقی حکومت نے 22 ستمبر کو کابینہ کی اقتصادی تعاون کمیٹی کے فیصلے کے تحت ہدایات جاری کی تھیں۔خیال رہے کہ نیپرا نے اس حوالے سے بیشتر اسٹیک ہولڈرز، جس میں توانائی منصوبوں کے اسپانسر اور صارفین کے گروپ شامل ہیں، کے اعتراضات کو مسترد کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور بجلی کے صارفین سے اس کے لیے رقم وصول نہیں کی جاسکتی، اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ صارفین پہلے ہی ریاست کے اخراجات پورا کرنے کے لیے ٹیکس کی مد میں بھاری رقم ادا کررہے ہیں جس میں سیکیورٹی لاگت بھی شامل ہے۔نیپرا کا کہنا تھا کہ سی پیک معاہدے کے آرٹیکل 10 کے مطابق پاکستان منصوبے اور چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا ذمہ دار ہے اور اس حوالے سے سی پیک منصوبے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس اور فوج کا ایک ڈویژن قائم کیا جاچکا ہے۔اگر حکومت سیکیورٹی انتظامات کے لیے اضافی لاگت کی ذمہ داری لیتی ہے تو یہ بجٹ میں مختص کیا جائے گا جو قوم کا پیسہ ہے اور اس کی وجہ سے اتنی ہی مقدار میں رقم ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے کم کرنا ہوگی۔نیپرا کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ لاگت خاص طور پر سی پیک منصوبوں کے حوالے سے ہے، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس کی لاگت متعلقہ منصوبے سے ہی حاصل کی جائے، یہ سیکیورٹی اقدامات سی پیک کے تحت قائم توانائی کے منصوبوں کے تحفظ کو احسن طریقے سے جاری رکھنے اور اس کے تحت بجلی صارفین کے لیے بہتر منصوبے کا قیام ہے۔ریگولیٹر نے دعوی کیا کہ 19 منصوبوں میں سے 10 کے مالی اثرات نہیں ہیں جبکہ 3 منصوبوں کے مالی اثرات ایک پیسے سے بھی کم ہیں اور دیگر 6 منصوبوں کے مالی اثرات 1 سے 2 پیسے کے درمیان ہیں،نیپرا نے ادائیگیوں کا طریقہ کار بھی منظور کیا ہے جس کے مطابق سی پیک منصوبے کے تحت قائم آئی پی پیز (پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز) سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کریں گی۔

August 4, 2017

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت میں9 فیصد اضافہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک گذشتہ مالی سال 2016-17ئ کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں âاو ایم سیزá کی فروخت میں 9 فیصد کا اضافہ ہوا اور دوران سال او ایم سیز کی فروخت کا حجم 25.59 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں âاو ایم سیزá کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران پٹرول کی فروخت میں سب سے زیادہ اضافہ جبکہ فرنس آئل اور ڈیزل کی مجموعی قومی فروخت بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2017-18ئ کے آغاز میں ماہ جولائی 2017ئ کے دوران پٹرول، فرنس آئل اور ڈیزل کی فروخت کا حجم 2.2 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 8.6 فیصد زائد رہا ہے۔ او ایم سیز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے آغاز پر ماہ جولائی کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں بالترتیب 36 فیصد اور 14 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

August 3, 2017

گوگل نےسولہ سالہ ٹیچربھرتی کرلیا ،مزید جانیے

جدت ویب ڈیسک :گوگل نے بھی اپنا استاد رکھا لیا ہے ،رپورٹوں کے مطابق، نوجوان ٹیک ٹیک کمپنی میں ایک گرافکس ڈیزائنر کے طور پر کام کرے گا. حشمت شرما ایک گورنمنٹ اسکول میں 12 ویں گریڈ طالب علم ہیں جو سیارے زمین پر سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں میں سے ایک میں نوکری حاصل کرنے کی توقع نہیں رکھتے تھے.انہوں نے کہا: “کون جانتا تھا کہ میرے جیسے اوسط طالب علم گوگل میں کام کرے گا. میں اپنی خوشی کا اشتراک نہیں کر سکتا کہ میں کس طرح محسوس کروں گا، یہ ایک خواب ہے جیسے خواب سچ ہے. میرا محنت اچھا ہے. وہ کمپنی میں اپنے پہلے سال کے دوران تربیت حاصل کرے گا. ان کی تربیت کے دوران، ہرشٹ فی ماہ 400،000 (658،000 روپے) مہینے ملے گی. ایک بار جب ان کی تربیت مکمل ہو جاتی ہے تو، کمپنی ہر ماہ ان کی خدمات کے لۓ $ 1،200،000 (1،170،000 روپے) ادا کرے گی.گرافکس ڈیزائن 10 سال کی عمر سےیہ کام شروع کیا تھاہرشش 10 سال کی عمر کے بعد کام کی اس لائن میں ہے. اس کے چچا، روہت شرما نے خفیہ طور پر انہیں تربیت دی.گوگل میں جانے سے پہلے، ہارٹٹ نے دوسروں کے لئے گرافک ڈیزائننگ کی ملازمتوں کو بھی استعمال کیا تھا.میرے اسکول کے وقت کے دوران، میں نے بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے ستارے دونوں کے پوسٹر بنانے کے لئے استعمال کیا اور 40،000-50،000 روپے دلچسپ بات یہ ہے کہ، ہرشٹ نے ایک انسٹی ٹیوٹ کو گرافکس ڈیزائن کرنے کے لئے پیشہ ورانہ تربیت نہیں دی ہے.ہارٹٹ کی حیثیت سے یہ کہتا ہے کہ وہ دسمبر 2016 میں Google لنک کے ذریعے لاگو کرتے تھے. کچھ پوسٹروں پر ان کے گرافیک ڈیزائن کا کام انہوں نے منتخب کیا. جلد ہی، گوگل نے انہیں جون میں ایک مقررہ خط بھیجا.امریکہ نے 7 اگست کو کیلیفورنیا کے لئے ہریش کو چھوڑ دیا جائے گا. گوگل میں کام کے علاوہ، انہوں نے حکومت سے بھی ایک $ 7000 (11،500 روپے) انعام حاصل کیا ہے. اپ ڈیٹس کے مطابق، چاندریہ سے ایک 16 سالہ لڑکا، گوگل کو گوگل کے ذریعے  تنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے. 144 ملین روپے پاکستان میں 23.7 ملین روپے

 

August 3, 2017

کے ایف سی پاکستان ،بھوک مٹاؤ مہم،شہزاد رائے کے ساتھ

جدت ویب ڈیسک :زندگی ٹرسٹ شہزاد رائے کی تنظیم ہے، جس میں تعلیم فراہم کرنے والے غیر معمولی طالب علموں کوتربیت فراہم کرتا ہے جو اس بنیادی ضرورت کو برداشت نہیں کرسکتا. یہ فن فن، کھیلوں، صحت اور تربیتی ورکشاپ کی طرح سرگرمیاں بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے.سی ایس آر کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، سی ایف ایف نے ‘مٹاوٌ بھوک مہم کو متعارف کرایا جس میں انہوں نے زندگیگ ٹرسٹ سے ملک میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے تعاون کیا.زندگی کے ٹرسٹ کے مالک شہزاد رائے نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے کہ عوام کا یہ تصور ایک گورنمنٹ سکول ہے. یہ تعلیم کے لئے گورنمنٹ اسکولوں کو فٹ بنانے کے زندگی ٹرسٹ کا مقصد ہے. اور یہ بہت اچھا تھا کہ اس واقعہ میں زندگی ٹرسٹ کی مدد کی ہے دوسری طرف، سی ای ای کے سی سی او رضا پیربھی نے کہا کہ:یہ میرے لئے ایک عظیم ماں ہے کہ ہمیں اپنے مقصد کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، اسے آگے بڑھیں اور زنندگی ٹرسٹ سے منسلک کریں.اس عظیم پہلو کے ساتھ KFC نے ہر ایک کے دل کو ضرور جیت لیا ہے. ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس عظیم وجہ کو جاری رکھیں اور ہمارے ملک کو بڑھانے میں مدد کریں.اس سے پہلے، KFC پاکستان نے ہر بالٹ پر فروخت کرنے کے لئے RS.50 زندگی ٹرسٹ کو عطیہ دینے کا وعدہ کیا جس کا کراچی کراچی میں ایس ایم ایم فاطم جناح سکول کے طالب علموں کی تصویر کے ساتھ دوبارہ تبدیل کیا گیا تھا. یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور تمام دیگر تنظیموں کے لئے مثال ہے کہ انسانیت ہمیشہ ایک ترجیح ہے. جمعہ کو 28 جولائی کو زندگی ٹرسٹ کو جمعہ پاکستان میں ایک تقریب میں جمعہ کو جمع کیا گیا تھا.