July 26, 2017

دنیا کی کونسی کمپنی کس ملک سے بڑی ہے ؟؟ جانئے اس دلچسپ رپورٹ میں

جدت ویب ڈیسک :دنیا کی سب سے منافع بخش کاروباری کمپنیوں کا موازنہ اگر دنیا کے ممالک سے کیا جائے تو آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ کئی نامور کمپنیاںمالیاتی اعتبارسے دنیا کے کئی ممالک سے بڑی شمار ہوتیں،کچھ اسی طرح کی نامور کمپنیوں کی تفصیل جائیے جو کہ ایک غیر سرکاری تنظیم گلوبل جسٹس نے ترتیب دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر عالمی طور پر دسویں نمبر پر شمار کی جانے والی کارپوریشنBPکو کسی ملک کا درجہ دیا جائے تو وہ دنیا میں 27واں بڑا ملک تصور کیا جاتا ۔اور یہ سوئیٹرز لینڈ سے بڑا ہوتا۔
اگر دنیا کی معروف کمپنی Appleکو کسی ملک کا درجہ حاصل ہوتا تو یہ دنیا کا 25ویں بڑا ملک شمار کیا جاتااور یہ بیلجیم سے بڑا ہوتا۔
اسی طرح اگر دنیا کی مشہور گاڑیاں بنانے والی کمپنی Toyota Motorدنیا میں کسی ملک کی حیثیت رکھتی تو یہ دنیا کا 23ویں بڑا ملک تصور کیا جاتا اور VolksWagenکمپنی جو گاڑیاں بناتی ہے 22ویں نمبر پر ہوتاجبکہ Exxon Mobilکو 21ویں بڑا ملک تصور کیا جاتا۔اور آپ کو یہ جان کر مزید حیرت ہوگی کہ اگر ان تمام کمپنیوں کا مالیاتی حجم مل کر انڈیا سے زیادہ ہوتا۔
اسی طرح اگر پیٹرولیم کمپنی Royal Dutch Shellجو کہ دنیا کی پانچواں بڑا معاشی ادارہ ہے اگر کسی ملک کا درجہ رکھتا تو اس کا نمبر 18واں ہوتا۔جو کہ میکسیکو سے بڑاتصور کیا جاتا۔اگر Sinopec Groupکسی ملک کا درجہ رکھتا تو اس کا نمبر 16واں ہوتا۔China National Petroleumکا نمبر اس دوڑ 15واں جبکہState Gridکا 14واں نمبر ہوتا۔ اور ان تمام کمپنیوں کے اثاثے ملک کر سائوتھ کوریا سے زیادہ ہوتے۔اسی طرح اگر دنیا کی سب سے بڑے گروپ Walmart کو کسی ملک کا درجہ حاصل ہوتا تو اس کا 10واں نمبر ہوتا جو کہ آسٹریلیا اور اسپین سے بڑا تصور کیا جاتا۔

 

July 26, 2017

عالمی سطح پرتوانائی کے حصول کےمتبادل ذرائع نے کوئلہ کو پیچھےچھوڑ دیا

جدت(ریسرچ ڈیسک)بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع میں نصف سے زائد کے حساب سے اضافہ ہوا ۔پانچ لاکھ سولر پینل 2015 میں ہر روز نصب کئے گئےجبکہ صرف چین میں دو ہوائی ٹربائین ہر گھنٹے نصب کئے گئے۔IEA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Fatih Birolنے اسے بجلی کی پیداوار میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متبادل توانائی کا حصول عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے حصول کے متبادل ذرائع سے 153گیگا بائٹ بجلی حاصل کی گئی جو کینیڈا کی بجلی کے تمام مصرف سے زیادہ ہے۔ان ذرائع، جیسا کہ ہوا، شمسی اور پن بجلی کے حوالے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔کوئلے کے مقابلے میں توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع پر آنے والی لاگت اب بھی کوئلہ سے کئی گنا کم ہے اور تیزی سے ان ذرائع کی تنصیب سے اس کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔2015ء میںتوانائی کے حصول کے متبادل ذرائع کے ذریعے سےعالمی توانائی کی پیداوار کا 23 فی صد کوئلہکے 40فیصد کے مقابلے میں حاصل کیا گیا۔جس میں بڑا عمل دخل موسم کا رہا کیونکہ مسلسل سورج کی روشنی نہ ہونا اور ہوا کی کمی کے باعث پوری مقدار میں بجلی کا حصول ممکن نہیں رہتاالبتہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ متبادل ذرائع کے نظام میں توسیع لائی جارہی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ 2021ء تک اس نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی توانائی 825گیا واٹ تک ہوجائے ۔چین کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے ایشیا میں مرکزی حیثیت کے ساتھ معیشت کو ترقی دینے کے حوالے سے عالمی رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔IEA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Fatih Birolکے مطابق اگلے پانچ برسوں میں چائنا اور انڈیا ہی پوری دنیا کی کل توانائی کی نصف کے قریب پیدوار کرپائیں گے۔Mr.Birolنے توقع ظاہر کی کہ اس کی لاگت میں مزید کمی ہوگی اور اس طرح توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع کے پھیلائو بڑھ جائے گا۔

 

July 25, 2017

غربت کے خاتمے ،خطے میں ترقی کے لئے ،نوجوانوں کو سہولیات اور مراعات کے ساتھ مواقع فراہم کئے جائیں ‘شہریار علی ملک

لاہو رجدت ویب ڈیسک :سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ینگ انٹرپرینیورز کے چیئرمین شہریار علی ملک نے نوجوانوں کو سہولیات اور مراعات کے ساتھ ساتھ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ وہ جنوبی ایشیائ سے غربت کے خاتمے اور خطے میں ترقی و جدت کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سارک چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 70ویں اجلاس میں علاقائی ترقی کے لئے ینگ انٹرپرینیورز کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیائ کے نوجوانوں کو جدید تکنیکی تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے اور دوسروں کے لئے روزگار کاباعث بن سکیں۔ انہوں نے کہاکہ سارک کے خطے کو غربت اور بیروز گاری جیسے یکساں مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو نوجوانوں کی صلاحیتوں میں بہتری اور نکھار پیدا کرکے اور ان کو ترقی دے کر کم کیاجاسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا خطہ بہتری کی طرف گامزن ہے۔نوجوانوں کو جدید تعلیم سے بہرہ ور کرکے نہ صرف غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ معاشی ترقی کی رفتار میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا غربت اور بیروزگاری ہمارے معاشرے کے بڑے مسائل ہیں اور خطے کے نوجوانوں کو ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مل کرکام کرناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رکن ممالک میں بیروزگاری اور غربت میں کمی لانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نوجوانوں کی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑاملک ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے پاپولیش فنڈز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 200ملین میں سے 63 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے 58.5فیصد ایسے نوجوان ہیں جن کی عمر 20سے 24سال ہے۔ انہوںنے کہاکہ جنوبی ایشیائ کے ممالک بالخصوص سارک بالعموم نوجوان کی ترقی اور بہتری کے لئے وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی سے نہ صرف جیو پولیٹیکل مسائل میں کمی آتی ہے بلکہ اس سے غربت میں کمی، سکولوں کانظام بہتر کرنے اور طویل المدتی پائیدار ترقی کی رفتار کوتیز کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے لوگوںکا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے۔ اس موقع پر موجود شرکائ نے سارک چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے نائب صدر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس سے نوجوانو ں کی ترقی میں مدد ملے گی

July 25, 2017

تیل کی قیمتوں میں کمی، سعودی معیشت کمزور

جدت ویب ڈیسک : آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ سعودی معیشت کے کمزور پڑنے سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں معاشی نمو کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے۔گزشتہ روز جاری کردہ ورلڈاکنامک آٹ لک2017 اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق رواں سال سعودی معیشت 0.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کرے گی جو اپریل کی پیشگوئی سے 0.3 فیصد کم ہے، یہ سعودی معیشت کی 2009 کے بعد سے بدترین کارکردگی ہوگی جب عالمی معاشی بحران کے باعث معیشت 2 فیصد سکڑ گئی تھی۔آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال خطے میں معاشی ترقی کی رفتار بڑھ کر 3.3 فیصد پر پہنچ جائے گی، سعودی معیشت بھی 1.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کرے گی تاہم یہ بھی اپریل کی پیش گوئی سے 0.2 فیصد کم ہے۔ 2016 میں 5 فیصد ترقی کی غیرمتوقع کارکردگی کے بعد مشرقی وسطی و شمالی افریقہ کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کی معیشتیں رواں سال 2.6 فیصد کی کم رفتار سے ترقی کریں گی، گزشتہ سال خطے کی اچھی اقتصادی کارکردگی کی بڑی وجہ زیادہ تیل پیداوار کی وجہ سے ایران کی 6.5 فیصد سے زیادہ کی ٹھوس معاشی ترقی تھی

July 25, 2017

سی ڈی ڈبلیوپی میں99.4 ارب روپے سے زائدمالیت کے 15ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : سی ڈی ڈبلیوپی نے99.4 ارب روپے سے زائدمالیت کے 15ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی جبکہ 5میگا منصوبے مزید منظوری کے لیے ایکنک کوبھجوادیے گئے۔سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا، جس میں سی ڈی ڈبلیو پی نے ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے میں 43.8 ارب روپے کے4 منصوبے منظور کیے۔ منصوبوں میں7.3ارب روپے لاگت سے کوئٹہ دادھر این 56سیکشن کی بحالی اور اپ گریڈیشن، 4.7ارب روپے لاگت سے کیلاش ویلی کا47کلومیٹرسے زائد روڈ، 31.1ارب لاگت سے ریلو ے کی830 بوگی فریٹ اور250 مسافر کوچزکی تیاری اور78کروڑ80 لاکھ کی لاگت سے ریلو ے کے ملا زمین کے کوارٹرزکی تیاری کے منصوبے شامل ہیں، اسی طرح فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ کے شعبے میں 36.1 ارب روپے لاگت کاکراچی سیوریج پلان بھی منظور کرلیاگیا، راولپنڈی اور چکلالہ کینٹ بورڈ کے رہائشی کوپانی کی فراہمی کے لیے 88کروڑروپے کی منظوری دیدی گئی۔وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہاکہ کراچی سیوریج پلان منصوبہ انوائرمنٹ کیلیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ اسی طرح سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے صحت کے شعبے میں4.7 ارب کے 2 منصوبوں سمیت گورننس کے شعبے میں 1.65 ارب کے 3 منصوبے منظور کرلیے، سی ڈی ڈبلیو پی نے گورننس کے شعبے میں 60کروڑ روپے لاگت سے پختونخوا میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گول یونٹ کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی، 70کروڑ روپے لاگت سے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے منصوبے کی منظوری دی گئی اسی طرح زراعت کے شعبے میں 73کروڑ90لاکھ روپے لاگت سے نیشنل پیسٹی سائیڈ ریزائیڈسسٹم کا منصوبہ اورتعلیم کے شعبے میں2.9 ارب کا سائنس ٹیلنٹ فارمنگ اسکیم کا منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا

July 25, 2017

فرٹیلائزر سبسڈی اسکیم کے تحت واجبات کی کلیئرنس و ایڈجسٹمنٹ کے لیے اعلی سطح کا اجلاس طلب

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے فرٹیلائزر سبسڈی اسکیم کے تحت رواں مالی سال سمیت گزشتہ 2سال کے اربوں روپے کی سبسڈی واجبات کی کلیئرنس و ایڈجسٹمنٹ کے لیے اعلی سطح کا اجلاس طلب کرلیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جمعہ کو وزارت خزانہ میں طلب کیے جانے والے اجلاس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کے سیکریٹریز خزانہ اور سیکریٹریز زراعت کے علاوہ ممبر نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر اسلام آباد، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر ایف ای اوڈی سمیت دیگر اعلی حکام شرکت کریں گے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ 28جولائی کو بلائے جانے والے اجلاس میں سال 2015-16، سال 2016-17 اور سال 2017-18 کے لیے فرٹیلائزر سبسڈی اسکیموں سے متعلق مختلف مسائل زیر بحث آئیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سبسڈی اسکیم کے تحت وفاق اور صوبوں نے سبسڈی میں حصہ ڈالنا تھا جبکہ کے پی کے سمیت بعض صوبوں کی جانب سے اس اسکیم کے تحت واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، اس لیے اجلاس میں چاروں صوبوں کے فرٹیلائزر سبسڈی اسکیم کے تحت واجبات کی ادائیگی اور اسکی ایڈجسٹمنٹ کی کلیئرنس کا جائزہ لیا جائے گا اور جس صوبے کے ذمے جو واجبات ہوں گے ان کی یا تو ادائیگی کی جائے گی یا پھر بجٹ سے ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔اجلاس میں وفاقی سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اسلام آباد، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو طارق پاشا سمیت دیگر وفاقی وصوبائی سیکریٹریز اور متعلقہ حکام شرکت کریں گے