July 17, 2017

پی ایس اوکی مالی حالت انتہائی مخدوش

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان اسٹیٹ آئل کی مالی حالت انتہائی مخدوش ہوگئی ، مختلف اداروں پر پی ایس او کے مجموعی واجبات 285ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔پی ایس او ذرائع کے مطابق مختلف اداروں پر پی ایس او کے مجموعی واجبات 285ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جس میں پاو ر سیکٹر سب سے زیادہ 176ارب 10کروڑ روپے کا نادہند ہ ہے ،واپڈ ا نے پی ایس او کے 116ارب 80کروڑ ،حبکونے 42ارب 40کروڑ اور کیپکو نے 16ارب 90کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔اسی طرح سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے 14ارب اورپی آئی اے نے پی ایس او کے 13ارب 30کروڑادا کرنے ہیں۔پی ایس او نے پی آئی اے کی جانب سے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر سیکرٹری ایوی ایشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ 15ماہ میں پی ایس او کے صرف پاور سیکٹرپر واجبات میں 45ارب 10کروڑ روپے اورمختلف اداروں پر مجموعی واجبات میں 61ارب 10کروڑ روپے کا اضافہ ہواہے۔مختلف اداروں سے بقایا جات کی عدم وصولی کے باعث پی ایس اوکا بینکوں سے قرضوں پر انحصار بڑھ گیاہے اورادارہ بینکوں کا مجموعی طور پر 127ارب 40کروڑ روپے کا مقروض ہوگیا ہے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران پی ایس او کو37ارب روپے ادا کیے گئے جس میں 20ارب روپے فروری اور 17ارب روپے جون 2017میں ادا کیے گئے ۔

July 15, 2017

پاکستان کی پہلی کوریئرگرل،عائشہ صدیقہ

جدت ویب ڈیسک :بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں جو ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین بھی فیلڈ میں کام کرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں اور خصوصاً ان شعبوں میں جو مردوں کے لئے خاص سمجھے جاتے تھے ان میں بھی خواتین نے نمایاں کردار ادا کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ خواتین کسی بھی لحاظ سے مردوں سے کم نہیں۔ایسی ہی ایک پر عزم،بہادر اور باصلاحیت شخصیت ہیں عائشہ صدیقہ جو محض 19سال کی عمر میں صنف نازک کیلئے بہترین مثال کے طور پر سامنے آئی ہیں ان کے بقول بچپن سے کچھ انوکھا کام کرنا چاہتی تھیں اس لئے ایسے شعبہ کا انتخاب کیا جس میں عام طور پر خواتین آنا پسند نہیں کرتیں یا ان کیلئے غیر موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ عائشہ سردار دنیا کی سب سے بڑی کوریئر کمپنی فیڈ ایکس کی پہلی پاکستانی خاتون ہیں جو ڈاک لینے اور تقسیم کرنے کا کام کررہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم پی ای سی ایچ ایس کالج سے کامرس میں انٹر کیا والد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور والدہ بینکر ہیں ان کی ایک بہت بھی ملازمت کررہی ہیں۔ میں نے اس شعبہ کا انتخاب ایک روایتی سوچ”خواتین یہ کام نہیں کرسکتیں“کے خاتمے کیلئے کیا تاکہ خواتین کیلئے ایک مثال قائم ہو اور دوسری خواتین کو بھی تحریک ملے۔ اپنے کام کر حوالے سے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ انتہائی خوشگوار ثابت ہوا،عملہ میرے ساتھ تعاون کرتا ہے اور سب سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ میرے والدین کو میری اس ملازمت پر کوئی اعتراض نہیںبلکہ جب انہیں پتا چلا کہ ہماری بیٹی ایک ایسا کام کرنا چاہتی ہے جو پاکستان میں پہلے کسی خاتون نے کیا تو انہوں نے بڑی حوصلہ افزائی کی جبکہ فرم کی انتظامیہ کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایک لڑکی نے کویئر کی ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے ایک کے بجائے تین انٹرویوز لئے اور میرے جذبے اور اعتماد کو جانچ کر مجھے ملازمت دی۔ اب میں ملازم کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میری ڈیوٹی کے اوقات صبح نو سے شام سات بجے تک ہیں اور اگر دیر سویر بھی ہوجائے تو مجھے پریشانی نہیں ہوتی۔ فیلڈ میں جہاں جاتی ہوں سب اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں اور فیلڈ میں دیکھ کر کئی لڑکیاں نہ صرف خوش ہوتی ہیں بلکہ کوریئر بننے کی خواہش کا اظہار بھی کرتی ہیں۔

July 14, 2017

پاکستان اسٹیل ملز‘ہرماہ نقصان میں1.40ارب کا اضافہ

کراچی جدت ویب ڈیسک مالی مشکلات سے دوچار پاکستان اسٹیل ملز مسائل کے پہاڑ تلے دب گئی ، پاکستان اسٹیل ملز پر واجبات ریکارڈ200ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں،نجی ٹی وی نے سر کاری دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی مالی مشکلات میں ہر گزرتے روز کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور مجموعی واجبات 200 ارب روپے سے بڑھ گئے ،اسٹیل ملز پرنیشنل بینک کے واجبات 50ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئے ہیں جبکہ حکومتی قرض 40ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملزپرنیشنل بینک،حکومتی قرض، کے الیکٹرک ،گیس اور بجلی چارجز ،میڈیکل اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں ، گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈز کی مد میں واجبات بڑھ رہے ہیں ،پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات میں ہر ماہ میں ایک ارب40کروڑ روپے کا اضافہ ہورہا ہے ۔دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کے پاس فنڈز ہیں اور نہ ہی منافع کا کوئی ذریعہ بچا ہے ، اس لیے مالی وسائل کیلئے اسٹیل ملز کی اراضی اور تیار مصنوعات بیچ کر فنڈز حاصل کرنے کے دو ہی ذرائع بچے ہیں۔دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کا انتظام و انصرام ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے ،اسٹیل ملز کے 8ڈائریکٹوریٹ میں سے ایک بھی موجود نہیں جبکہ ادارے میں 25جنرل منیجرز میں سے صرف 3جی ایم ہیں اورگیس بندش کے باعث اسٹیل مل گزشتہ 2 سال سے بند پڑی ہے ۔

July 13, 2017

نیشنل بینک کے صدر سعید احمد عادی مجرم نکلے

کراچی جدت ویب ڈیسک ؛نیشنل بینک کے صدر سعید احمد عادی مجرم نکلے،اسحاق ڈار نے دوستی نبھانے کے چکر میں بین الاقوامی سزائ یافتہ مجرم سعید احمد کے ہاتھ میں قومی خزانہ کی چابی تھمادی‘ جاوید کیانی نے جے آئی ٹی میں سب کچھ اگل گیا،وزیراعظم ہائو س کے منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کا بھی انکشاف‘ جاوید کیانی کی سعید احمد کیخلاف سلطانی گواہ بننے کی پیشکش ‘سیاسی حلقوں میں کھلبلی کی اصل وجہ سامنے آگئی،ملک میںسابقہ روایات کے مطابق چن کر کرپٹ شخص کو نیشنل بینک صدر بنایا گیا‘برطانیہ میں نرسنگ ہوم چلانے والے سعید احمد کو پہلے گورنر اسٹیٹ بینک بھی بنایا جاچکا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے پانامہ کیس کی جے آئی ٹی میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں اور وفاقی حکومت کی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ بھی یہی بتائی جارہی ہے ۔ نیشنل بینک کے صدر نے جے آئی ٹی میں اعتراف کیا کہ برطانیہ میں نرسنگ ہوم چلانے والے سعیداحمد کو سعودی عرب میں دوران ملازمت کرپشن کے الزام میں ادارے نے جیل بھجوادیا تھا تاہم وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے وفاقی وزیرخزانہ سے سعید احمد جیسے عادی مجرم کو پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ڈپٹی گورنر اور بعد ازاں نیشنل بینک کا صدر بنادیا یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ نیشنل بینک کے بیشتر صدر پر کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں تو یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیشنل بینک کا صدر بننے کیلئے سب سے بڑی کوالیفکیشن کرپشن ہے جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق شوگر مل کے مالک جاوید کیانی نے اپنے ماموں سعید احمد کے کہنے پر منی لانڈرنگ کیلئے جعلی اکائونٹ کھولے جاوید کیانی نے جے آئی ٹی کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے سعید احمد کیخلاف سلطانی گواہ بننے کی پیشکش بھی کی ہے۔

July 12, 2017

شیل کے پمپس پر ایندھن کی فراہمی میں کمی کا سامنا

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی میں ایندھن کی کمی کے باعث شیل کمپنی کے متعدد پٹرول پمپس بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ معیاری ٹینکرز کی تعداد کم ہونے پر سپلائی کا مسئلہ ہوا ہے ۔تفصیلات کے مطابق صارفین کو ملٹی نیشنل کمپنی شیل کے کچھ انفرادی پمپس پر ایندھن کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے شیل کے متعدد پمپس پر تیل کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ واقعے کے سبب کمپنی ٹینکرز کے معیار پر کڑی نظر رکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری ٹینکرز کی تعداد کم ہونے پر سپلائی کا مسئلہ ہوا ہے۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ باقی پمپس اور دیگر کمپنیوں کے پمپس پر صورتحال معمول پر ہے۔ ڈیلرز کے مطابق پنجاب تیل سپلائی کے دوران موٹر وے پولیس بھی ٹینکرز کی سخت چیکنگ کر رہی ہے۔ ڈیلرز نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ امکان ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی انفرادی پمپس پر تیل سپلائی پہلے جیسی نہ رہے۔