October 19, 2020

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھنے کے بعد پاکستان میں بھی اضافہ

کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی فی تولہ 350روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس 24 قیراط سونے کی قیمت 12 ڈالر کے اضافے سے 1912 ڈالر کی سطح پرپہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی پیر کو فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 350روپے اور 300روپے کا اضافہ ہوگیا۔
اضافے کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ ماکٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 116000روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 99451روپے ہوگئی۔
بلین مارکیٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دبئی گولڈ مارکیٹ کے مقابلے میں پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں پیر کو بھی فی تولہ سونے کی قیمت 2000روپے کم رہی ہے۔ تاہم اسکے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1260اور دس گرام چاندی کی قیمت 1080روپے 24پیسے پر مستحکم رہی۔

October 16, 2020

چینی کمپنی علی بابا نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی گاڑی متعارف کروادی

لاہور : ویب ڈیسک :: چینی کمپنی علی بابا کی جانب سے فروخت کی جانے والی گاڑی اب پاکستانی بھی خرید سکتے ہیں، چین میں تیار کی جانے والی الیکٹرک کار کی قیمت صرف ڈیڑھ لاکھ روپے، بذریعہ آن لائن خریداری ممکن، ایک مرتبہ مکمل چارج کے بعد 100کلومیٹر فاصلہ طے کر سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک چینی کمپنی کی جانب سے دنیا کی سستی ترین گاڑی فروخت کی جا رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس گاڑی کی قیمت 1 ہزار امریکی ڈالرز سے بھی کم، یعنی تقریباً ڈیرھ لاکھ روپے پاکستانی ہے۔
2 دروازوں والی یہ الیکٹرک کار چین کی مشہور کمپنی علی بابا کی جانب سے بذریعہ آن لائن فروخت کی جا رہی ہے۔یوں پاکستانیوں سمیت کسی بھی ملک کے شہری یہ گاڑی خرید سکتے ہیں۔اس گاڑی کو دنیا کی سستی ترین گاڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم قیمت کم ہونے کی وجہ سے گاڑی کا معیار اور خصوصیات بھی کچھ زیادہ متاثر کن نہیں ہیں۔گاڑی کی خصوصیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں اس گاڑی کا سائز قدرے کم ہے، جبکہ یہ مکمل طور پر الیکٹرک ہے۔
گاڑی کو مکمل چارج ہونے میں 10 گھنٹے کا وقت لگتا ہے، ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے کے بعد یہ گاڑی 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ تاہم گاڑی کی رفتار انتہائی کم ہے۔ گاڑی زیادہ سے زیادہ 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جا سکتی ہے۔

October 15, 2020

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

اسلام آباد ویب ڈیسک ::: خوشخبری اوگرا نے وفاقی حکومت کو موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کی سمری ارسال کردی ہے تاہم موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کر دی ہے جو آج(جمعرات) وزارت خزانہ کو بھجوائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق اوگرا کی طرف سے پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی گئی سمری میں 16 اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں موجودہ سطح پر ہی رکھنے کی سفارش کی گئی ہےتاہم حکومت موجودہ سیاسی صورتحال اور عوامی ردعمل کے باعث مہنگائی کی شرح میں کمی کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی کر سکتی ہے جس کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی جا سکتی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کی مشاورت سے وزیراعظم کی منظوری سے آج ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت فی لیٹر ڈیزل پر 30روپے، پٹرول پر 27روپے 32پیسے پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے اورمٹی کے تیل پر فی لیٹر 11روپے 43پیسے پٹرولیم لیوی عائد ہے اور اگر حکومت نے عوام کو ریلیف دینا ہوا تو پٹرولیم لیوی کی شرح میں کمی کی جائے گی البتہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ وزیر اعظم کی مشاور ت اور منظوری سے کرے گی۔

October 14, 2020

پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، آئی ایم ایف

واشنگٹن: ویب ڈیسک ::عالمی مالیاتی فنڈ نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافے کی پیشن گوئی کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح منفی سے بہتر ہو کر ایک فی صد ہونے کی توقع کے باوجود رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں 10 اعشاریہ 2 فیصد اضافہ ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ برس مہنگائی کی شرح آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد ہونے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں 2021 میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 4 اعشایہ 5 فیصد سے بڑھ کر 5 اعشاریہ 1 فیصد ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
اس بات کا انکشاف عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے دنیا کے تمام ممالک کی معیشت کے حوالے سے متعلق ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں کرونا وائرس کے اثرات کے تناظر میں آئندہ پانچ سال تک کی معیشت کے اندازے لگائے گئے ہیں۔ اس سے قبل عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں بھی پاکستان میں غربت بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جاچکے ہیں۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب پاکستان میں آٹا، دال، چینی، دودھ، انڈے، گوشت سمیت دیگر اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی قیمتوں کو خود مانیٹر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے لیے انہوں نے ٹائیگر فورس کو اہداف بھی دیئے ہیں۔

October 13, 2020

حکومت عوام کوسستے مکانات کی تعمیر اور خریداری کیلئےمارک اپ زر اعانت فراہم کریگی۔ اسٹیٹ بینک

کراچی ویب ڈیسک ::اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےسستے مکاناتی قرضےکیلئےحکومت کی مارک اپ زر اعانت کا اعلان کردیا۔
حکومت عوام کوسستے مکانات کی تعمیر اور خریداری کیلئےمارک اپ زر اعانت فراہم کریگی۔
پہلی بارمکان بنانے اور خریدنے والوں کو سستے مارک اپ ریٹ پر قرضے مل سکیں گےیہ سہولت اسٹیٹ بینک کےانتظامی تعاون کےساتھ فراہم کی جائےگی۔حکومت نے10سال میں قرضوں پر مارک اپ ادائیگی کیلئے33 ارب روپےمختص کیےہیں اس مقصد کیلئے اسٹیٹ بینک اورحکومت پاکستان نےمفاہمتی یادداشت پردستخط کیےہیں۔
مارک اپ زر اعانت کی سہولت تمام بینکوں کےذریعےدستیاب ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے عام قرضوں کی بھی حد ڈیڑھ لاکھ سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ روپے کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عام قرضوں اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے قرضہ لینے والوں کی سالانہ آمدنی اب 12 لاکھ اور 15 لاکھ روپے ہونی چاہئے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گھریلو یا ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سونا گروی رکھوا کر قرضہ لینے کی حد میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ فنانس قرضوں کی حد میں اضافے کا فیصلہ اس حقیقت کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ مائیکرو فنانس بینکوں کے ذریعے قرض کی موجودہ حد سستے ہاؤسنگ فنانس کو فروغ دینے کے لیے ناکافی تھی۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ہاؤسنگ فنانس اور مائیکرو انٹرپرائز قرضوں کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

October 13, 2020

فیصل آباد میں انڈے کی قیمت دگنی ، عدم دستیابی سے قیمتیں پنجاب کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

فیصل آباد:ویب ڈیسک :: مارکیٹ میں انڈے کی عدم دستیابی سے قیمتیں پنجاب کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایک انڈے کی قیمت 9 سے بڑھ کر 18 روپے ہو گئی، غریب عوام نے سر پکڑ لئے۔ ہول سیل ڈیلرز بھی انڈے کی عدم دستیابی پر پریشانی کا شکار ہیں۔
روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں انڈے کی بھی انٹری، گزشتہ چند دنوں میں انڈے کی قیمت میں 100 گنا اضافہ ہوا، ایک انڈے کی قیمت 9 سے بڑھ کر 18 روپے تک جا پہنچی۔
پروٹین، آئرن، وٹامن اور دیگر غذائیت سے بھر پور صحت مند متوازن غذا سمجھا جانے والا انڈہ بھی اب عام آدمی کی جیب پر بھی بوجھ بننے لگا ہے۔
دکاندار کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث فارمر نے نقصان سے بچنے کے لیے انڈہ تیارہی نہیں کیا جس سے شارٹیج ہوئی اور قیمتیں بڑھیں۔ انڈہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری اداروں نے انڈے کی طلب اور رسد پر دھیان دیا ہوتا تو قیمتوں سمیت سپلائی چین متاثر نہ ہوتی۔مارکیٹ میں انڈے کی عدم دستیابی سے قیمتیں پنجاب کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔