January 23, 2021

ٹینڈر ڈیفالٹ رحمت بن گیا۔ پاکستان کو ایل این جی کے 2 فوری متبادل ٹینڈرز کم قیمت پر مل گئے

اسلام آباد :: ایل این جی ٹینڈر ڈیفالٹ پاکستان کیلئے رحمت بن گیا۔ ایل این جی کے دو فوری متبادل ٹینڈرز عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باعث کم قیمت پر مل گئے۔ ترجمان وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ نیا ایل این جی کارگو پہلے کارگو سے 22 فیصد کم قمیت پر خریدا گیا۔دو غیر ملکی سرکاری کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے سپلائی ڈیفالٹ ہونا پاکستان کیلئے رحمت بن کر سامنے آیا، جہاں قدرتی گیس ایل این جی کے دو فوری متبادل ٹینڈرز عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باعث کم قیمت پر مل گئے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ فوری ٹینڈر میں 9.58 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سب سے کم بولی لگائی گئی۔ قطر ایل این جی سے 8  ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی لگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جاپان کے انرجی ریگولیٹر کی جانب سے اسپاٹ مارکیٹ سے باہر نکلنے اور جنوبی کوریا کی جانب سے اضافی گیس نہ خریدنا۔

ایل این جی مارکیٹ کے گرنے میں کے دو اہم عوامل ہیں۔ اس وقت یورپی اور مشرق بعید میں درآمد کنندگان فی ایم ایم بی ٹی یو کے بالترتیب 7.5 اور 8.2 ڈالر ادا کر رہے ہیں۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اگلے سال اکتوبر تک ایل این جی کی قیمتیں اگلے سال اکتوبر تک مزید کم ہوکر 5 سے 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو یا برنٹ کے 10 سے 12 فیصد ہوجائیں گی۔ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ پی ایل ایل نے فروری کیلئے مزید ایک ایل این جی سپاٹ کارگوز کا انتظام کر لیا ہے جو 22 فیصد کم قیمت پر خریدا گیا۔اس کارگو کو ملا کر کل 9 ایل این جی کارگوز فروری کیلئے دستیاب ہونگے۔ پچھلے ایل این جی کارگو کی ڈلیوری ونڈو 49 دنوں کی تھی جبکہ نیا کارگو 35 دنوں میں ترسیل ہو گا۔۔ پچھلے ایل این جی کارگو کی ڈلیوری ونڈو 49 دنوں کی تھی جبکہ نیا کارگو 35 دنوں میں ترسیل ہو گا۔

January 22, 2021

اسٹیٹ بینک کا بنیادی شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

کراچی :: اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، بنیادی شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھنے سے مہنگائی کی شرح 7 سے9 فیصد رہنے کا خدشہ ہے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی عارضی اضافے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، کورونا کے باعث معیشت میں وہ بہتری نہیں آئی جو ہونی چاہیے تھی، کورونا کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہوا۔ اُن کا کہنا تھا معاشی ریکوری کو سپورٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے، کمیٹی نے معاشی اعدادوشمار کے بعد شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد رہنے کی امید ہے۔ ابھی بھی وہ بہتری نہیں آئی جو ہم اپنی عوام کے لیئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ایک وقت تھا جب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ 19 بلین ڈالر کا تھا، آج کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں ہے۔ ہم نے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ بیس بنایا اور اسے مستحکم کیا۔

January 22, 2021

حکومت نے دو سال میں 5 ارب ڈالرز اور 4……5 ٹریلین روپے کے قرضے لیے

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک: حکومت نے دو سال میں 5 ارب ڈالرز اور 4……5 ٹریلین روپے کے قرضے حاصل کیے ۔این ایف سی میں صوبوں کے حصوں میں کوئی کٹوتی نہیں ہوئی وزارت خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران حکومت نے بین الاقومی مالیاتی اداروں سے 5 ارب ڈالرز کا قرضہ بھی لیا جبکہ 16……4 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے جبکہ 19……9 ٹریلین روپے کے اندرونی قرضے واپس کیے گئے ۔چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا۔ وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے این ایف سی میں سے صوبوں کے 154 ارب کی کٹوتی کے سوال کا جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ این ایف سی سے کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوئی، وفاق یہ حق ہی نہیں رکھتا کہ ایوارڈ سے صوبوں کی کٹوتی کرے ، 154 ارب کی کٹوتی کا سوال ہے ، جب اختیار ہی نہیں تو کٹوتی بھی نہیں۔وزارت خزانہ نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ 2018 سے 2020 کے دوران حکومت نے قومی مالیاتی اداروں سے 4……5 ٹریلین روپے کے اندرونی قرضہ جات حاصل کیے ، جن میں شیڈیولڈ بینکوں سے 1……8 ٹریلین اور اسٹیٹ بینک سے 3……6 ٹریلین روپے کے قرضے شامل ہیں۔مشیر تجارت نے کہا کہ ہماری ایکسپورٹس بڑھنا شروع ہوچکی ہیں ، جنوری 2019میں ایکسپورٹس میں 14 فیصد اضافہ ہوا، کورونا وبائ کے دوران ایکسپورٹس میں کچھ کمی آئی، سال 2018، 20 میں ہماری مجموعی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے ۔

January 21, 2021

ملک میں مہنگائی کی دلدل میں پھنسے عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاریاں شروع

اسلام آباد: ویب ڈیسک ::: ملک میں مہنگائی کی دلدل میں پھنسے عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں، سی پی پی اے نے بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 80 پیسے اضافے کی درخواست نیپرا میں دائر کردی۔
تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی(سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) میں بجلی کی قیمتوں میں1 روپے 80 پیسے اضافے کی درخواست دائر کردی۔ نیپرا 27جنوری کو بجلی قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر سماعت کرے گا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ فرنس آئل پر12روپے27پیسے میں مہنگی ترین بجلی پیداکی گئی، گزشتہ ماہ مجموعی طور پر7ارب روپے56کروڑیونٹ بجلی پیدا ہوئی۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق درخواست میں یہ بھی لکھا ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت 47ارب41کروڑ روپے رہی، بجلی کی پیداوار پر فیول لاگت6روپے26پیسے رہی۔
درخواست متن کے مطابق بجلی فیول لاگت ریفرنس پرائس کاتخمینہ4روپے46پیسے لگایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ متعلقہ ادارے کا کہنا ہے کہ بجلی قیمتوں میں اضافے کی درخواست ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی۔ جبکہ اضافے کی صورت میں صارفین پر10ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

January 16, 2021

دسمبر 2020 میں ٹیکسٹائل برآمدات تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں

اسلام آباد: سال 2020 کے آخری مہینے دسمبر میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 22.72 فیصد تک بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں یہ ایک ارب 14 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ماہانہ بنیادوں پر ملک کی برآمدات اس ماہ کے دوران 9.20 فیصد تک بڑھی۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی بنیاد پر جولائی سے اگست کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6 ارب 90 کروڑ40 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 7.79 فیصد بڑھ کر 7 ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی۔رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 12 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔
ٹیکسٹائل کا سامان جس نے مثبت تجارتی نمو میں حصہ ڈالا اس میں نائٹ ویئر (بنا ہوا لباس) بھی شامل تھا جس کی برآمدات مالی سال 21 کی پہلی ششماہی میں ایک ارب 84 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 58 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔
اسی طرح بیڈویئر برآمدات بھی 16.38 فیصد بڑھ کر ایک ارب 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، تولیہ کی برآمدات 17.47 فیصد بڑھ کر 44 کروڑ 57 لاکھ 9 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔
مزید یہ کہ خیموں، کنوس اور ترپال کی برآمدات 57.77 فیصد بڑھ کر 6 کروڑ 24 لاکھ 77 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی، اس کے علاوہ تیار کپڑوں (ریڈی میڈ گارمنٹ) کی برآمدات 5.54 فیصد اضافے سے ایک ارب 49 کروڑ ڈالر رہی۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آرٹ، سلک اور سنتھیٹک ٹیکسٹائل میں 0.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 16 کروڑ 75 لاکھ 2 ہزار ڈالر رہی جبکہ میڈ اپ آرٹیکل 17.46 فیصد اضافے سے 37 کروڑ 92 لاکھ 29 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔علاوہ ازیں جن اشیا کی برآمدات میں منفی رجحان رہا ان میں خام کپاس بھی شامل ہے جو 96.14 فیصد کم ہوکر 5 لاکھ 92 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی جبکہ کاٹن یارن میں 26.36 فیصد کمی ہوئی اور یہ 40 کروڑ 7 لاکھ 30 ہزار ڈالر تک آگئی۔
اس کے علاوہ کاٹن کلاتھ کی برآمدات بھی 7.73 فیصد کم ہوکر 93 کروڑ 50 لاکھ 9 ہزار ڈالر ہوگئی جبکہ یارن (کاٹن یارن کے سوا) میں 7.28 فیصد کمی ہوئی اور یہ ایک کروڑ 34 لالکھ 64 ہزار ڈالر ہوگئی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی مرچنڈائز برآمدات رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.98 فیصد تک بڑھ گئی۔
ادارہ شماریات کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران ملک سے مجموعی برآمدات 12 ارب 11 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 11 ارب 52 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔
تاہم زیر جائزہ اسی عرصے کے دوران ملک میں ہونے والی درآمدات بھی گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کی 23 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے 5.72 فیصد بڑھ 24 ارب 52 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ان اعداد و شمار کی نیاد پر ملک کا تجارتی خساہ پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی بنسبت 6.44 فیصد بڑھ گیا۔

January 13, 2021

پاکستان کا بینکنگ آؤٹ لک مستحکم قرار ۔موڈیز نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سنادی

اسلام آباد: دنیا بھر میں مالیاتی نظم ونسق کی بنا پر درجہ بندی کرنے والی بین الاقوامی کمپنی موڈیز نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سنادی ہے۔
تفصیلات کے مطابق موڈیز نے پاکستان کا بینکنگ آؤٹ لک مستحکم قرار دے دیا ہے، موڈیز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کرونا صورتحال کے باوجود بینکاری سیکٹر میں لکویڈٹی بہتر ہے، پاکستان میں بینکاری نظام میں ترقی کے امکان خوش آئند ہیں۔موڈیزکی رپورٹ کے مطابق سال دوہزار اکیس میں پاکستانی معاشی ترقی مالی 1.5فیصد رہے گی جبکہ پاکستان کی معاشی سرگرمیاں کرونا سے پہلے کی سطح پربرقرار رہےگی، اس کے علاوہ رواں سال نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 5 سے7 فیصد رہے گی۔موڈیز نے اپنی رپورٹ میں سال 2022 میں پاکستان کی معاشی نمو بڑھنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں پاکستان کی معاشی نمو 4.4فیصد تک ہوگی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کرونا وبا کےدوران کامیاب حکمت عملی کے باعث صنعتوں کا پہیہ چلتا رہا، عالمی وبا کے دوران پاکستان میں تعمیرات کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال اگست میں عالمی وبا کی پہلی لہر کے دوران عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کا ریٹنگ آؤٹ لک بڑھا کر مستحکم کیا تھا اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی B تھری پر برقرار رکھی تھی۔
بعد ازاں فچ نے بھی پاکستان کی معیشت کا آؤٹ لُک مستحکم قرار دے دیا تھا۔