August 9, 2019

ڈالر کی قدر میں بہتری پر خوش نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ڈالر کی قدر میں بہتری سے خوش نہیں جس کی وجہ سے امریکی صنعت سازی متاثر ہورہی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے فیڈرل ریزرو âوفاقی ذخائرá پر شرح سود بہت زیادہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دہائیوں پرانی امریکی پالیسی کو توڑتے ہوئے ٹوئٹ میں کہا کہ ڈالر کی قدر میں تنزلی سے امریکی ادارے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ میں ڈالر کی قدر مضبوط ہونے پر خوشی سے جھوم اٹھوں گا لیکن بطور صدر میں خوش نہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ فیڈرل ریزرو نے دیگر ممالک کے مقابلے میں شرح سود بہت زیادہ رکھا جس سے ڈالر کی قدر بڑھی اور ہماری مینوفیکچرنگ کمپنیاں مثلا کیٹرپلر، بوئنگ، جان ڈگری، کار ساز اور دیگر اداروں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو کاروبار کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور چین کے مابین ’تجارتی جنگ‘ کے باعث دونوں ممالک میں کشیدگی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹیکس لگانے پر بیجنگ نے اپنی کرنسی کی قدر میں معمولی کمی کردی تاہم کئی دہائیوں سے امریکی انتظامیہ نے ہمیشہ ڈالر کی قدر کو بہتر بنانے کی کوشش کی جس کی بدولت استحکام ممکن ہوا اور سستی درآمدی مصنوعات بنا کر مہنگائی کا تناسب کم رکھا گیا لیکن ڈالر کی قدر مضبوط ہونے کی وجہ سے امریکی برآمد مہنگی ہوجاتی ہیں۔علاوہ ازیں اس معاملے پر بتایا گیا کہ امریکا اور چین کے مابین ٹیرف میں اضافے کے بعد بیجنگ میں کیٹر پلر کی سیل بری طرح متاثر ہوئی اور کمپنی کو رواں سال کم ترین منافع ہوا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ شرح سود میں کمی لائے۔

August 8, 2019

پی این ایس سی، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ نج کاری فہرست سے باہر

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::نج کاری کمیٹی نے پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کو نج کاری فہرست سے نکالنے کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی نج کاری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نج کاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ اداروں کی اسٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
مشیر خزانہ نے نج کاری کمیشن کو سرکاری اداروں کی نج کاری کا عمل تیز کرنے اور آیندہ اجلاس سے قبل 10 اداروں کی نج کاری کے لیے مالی مشیروں کے تقرر کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں نج کاری کی فہرست میں شامل 8 اداروں کے متعلق بھی بتایا گیا، ان اداروں میں بلوکی اور حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، ماڑی پیٹرولیم، ایس ایم ای بینک، فرسٹ ویمن بینک، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور، جناح کنونشن سینٹر، لاکھڑا کول کمپنی شامل ہیں۔بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل مل کی بحالی کے بعد نج کاری کی جائے گی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں کی 32 پراپرٹیز کے لیے مالی مشیروں کے تقرر کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر فروخت کیے جانے کا فیصلہ ہوا تھا اور چھ مارچ کو ہونے والے کمیٹی اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان اسٹیل بند ہونے سے ماہانہ 40 کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے۔حکومت کی طرف سے پاکستان اسٹیل کی نج کاری کے اعلان پر چین اور روس کی کمپنیوں نے اسے خریدنے کے لیے دل چسپی ظاہر کی تھی۔

August 1, 2019

شہریوں کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ

جدت ویب ڈیسک ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر عوام پھٹ پڑے اور حکومت سے اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
حکومت نے پھر پٹرول بم گرا دیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 روپے 90 پیسے فی لٹر تک کا اضافہ کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا۔ پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس سے نئی قیمت 117.83 روپے فی لٹر ہو گئی۔ ڈیزل 5 روپے 65 پیسے اضافے کے بعد فی لٹر 132.47 کا ہو گیا۔
مٹی کا تیل 5 روپے 38 پیسے مہنگا کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 103.84 روپے فی لٹر ہو گئی۔ لائٹ ڈیزل 8 روپے 90 پیسے اضافے سے فی لٹر 97.52 روپے کا ہو گیا۔پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے پر مہنگائی کی چکی میں پستے عوام پھٹ پڑے اور قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے اور اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ حکومت غریبوں کے حال پر رحم کرے۔وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ کا کہنا ہے پٹرولیم قیمتیں بڑھنے سے کرایوں میں اضافہ اور مہنگائی مزید بڑھے گی ۔

July 24, 2019

بیس شہروں کیلئے جائیداد کی قیمتیں بڑھ گئیں،نوٹیفکیشنز جاری

کراچی جدت ویب ڈیسک :: ایف بی آر نے ملک کے بیس شہروں کیلئے جائیداد کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ کر دیا ، نوٹیفکیشنز بھی جاری ہو گئے ۔
جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق آج سے شروع، رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی خرید وفروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس میں بھی 40 سے45 فیصد اضافہ کیا گیا، نان فائلر کیلئے 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کردی۔
بیس شہروں میں پراپرٹی کے سرکاری نرخ میں مزید 30 فیصد تک اضافہ کر کے ایف بی آر نے تمام شہروں کے علیحدہ علیحدہ نوٹی فیکشنز جاری کردئیے ۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی، سرگودھا، گوادار اور جہلم بھی شامل ہیں ۔کراچی کے بعض علاقوں میں پراپرٹی ویلیو ایشن میں 75 فیصد تک اضافہ بھی کیا گیا ۔
اسلام آباد، لاہور میں پانچ سال سے کم پرانی عمارت کا فی مربع فٹ ریٹ 1500 روپے ، پانچ سال پرانی تعمیر شدہ عمارت کا ریٹ ایک ہزار فی مربع فٹ مقرر کردیا گیا۔
سیکٹر آئی نائن، آئی 10 کے صنعتی زون اور چک شہزاد میں فارم ہاوسز کیلئے فی کنال اراضی کی قیمت 50لاکھ جبکہ کہوٹہ ٹرائی اینگل صنعتی زون اور ترلائی میں فارم ہاوسز کی قیمت 40لاکھ روپے فی کنال مقرر کردی گئی ۔رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی خرید وفروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس میں بھی 40 سے45 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ جائیداد فروخت کرکے 50 لاکھ منافع کمانے والوں کو 5 فیصد، ایک کروڑ تک منافع پر 10 فیصد ، ڈیڑھ کروڑ تک منافع پر 15 فیصد، ڈیڑہ کروڑ سے زائد منافع پر 20 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔
ایف بی آر نے نان فائلر کیلئے 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کردی۔ فائلر کو جائیداد کی خریداری 1 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس اور نان فائلر کو خرید کردہ جائیداد کا 5فیصد بطور جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جائیداد پانچ سال بعد فروخت کرنے کی صورت میں ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔

July 23, 2019

دل کھول کرشاپنگ کرنے کےمزے ختم ہو گئے ،پچاس ہزار سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار

جدت ویب ڈیسک ::پچاس ہزار سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار ، خاتون اپنے شوہر یا والد کا شناختی کارڈ دکھا کرشاپنگ کرسکے گی ، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس سرکلر جاری کر دیا۔
دل کھول کرشاپنگ کرنے کےمزے ختم ہو گئے 50 ہزار کی خریداری پر قومی شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دے دیا گیا۔
ایف بی آر کے سیلز ٹیکس سرکلر کے مطابق فنانس ایکٹ 2019 کے تحت بعض محدود ٹرانزیکشنز پر قومی شناختی کارڈ لازمی قراردیدیا گیا ۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 23 میں ترمیم کردی گئی ۔
شناختی کارڈ کی فراہمی کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ خریدار بھی سیلز ٹیکس رجسٹرڈ فرد ہو ، قانون پچاس ہزار سے کم مالیت کی خریداری کی صورت میں شناختی کارڈ کی دستیابی کو لازمی قرار نہیں دیتا۔
کاروبار کی ترویج کے لئے قانون میں لچک موجود ہے ، اگر خریدار بیچنے والے کو غلط شناختی کارڈ فراہم کرتا ہے تو بیچنے والے کی نیک نیتی پر بیچی گئی اشیاء پر جرمانہ لاگو نہ ہو گا۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریٹیلرز جن کے لئے قوانین زیر تجویز ہیں وہ سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس قانون کا اطلاق بزنس ٹو بزنس ٹرانزیکشنز اور پچاس ہزار سے زائد مالیت کی ٹرانزیکشنز پر ہوگا۔
قانون کا مقصد جعلی کاروبار کی روک تھام ہے ، اس قانون کو قطعاً کاروباری افراد کو ہراساں اور کاروباری ٹرانزیکشنز میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
چیف کمشنر کی اجازت کے بغیر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا ، خاتون خریداری کےلئے اپنے شوہر یا باپ کا شناختی کارڈ استعمال کر سکے گی۔
سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ 41 ہزار 484 ایسے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد ہیں جو ریٹرنز کے ساتھ اصل ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔