June 25, 2019

شادیوں پر سونے کی جیولری خواتین کی پہنچ سے دور۔ سونے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

جدت ویب ڈیسک ::کراچی / اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں قیمتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں جس کی وجہ سے سونے کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت میں فی اونس 20 ڈالرز کا اضافہ ہوا جس کے مقامی صرافہ بازاروں پر بھی منفی اثرات نظر آئے۔ بلین مارکیٹ میں سونا 20 ڈالراضافے کے بعد 1328 فی اونس تک پہنچا۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا، فی تولہ قیمت میں 1150 جبکہ 10 گرام کے ریٹ 986 روپے بڑھ گئے۔
جیولیرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی فی تولہ اور 10 گرام قیمت بالترتیب 80 ہزار 500 اور 69 ہزار 15 روپے تک پہنچ گئیں۔
بتاریخ : 25 جون 2019 کے ریٹ
فی تولہ /80,500 روپے
دس گرام /69,015 روپے
حالیہ اضافے کے بعد سونے کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کے صرافہ بازاروں میں سونے کی لین دین نئے ریٹ کے ساتھ ہوئی۔

June 23, 2019

40 ہزار کے بانڈ رجسٹرڈ ہونے والے ہیں، چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیررجسٹرڈ پرائزبانڈرکھنا غلط ہے،40ہزارمالیت کے بانڈ2020تک رجسٹرڈ ہونےوالے ہیں، 948بلین روپے کے غیر رجسٹرڈ پرائز بانڈ ملک میں موجود ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ ہماری ایمنسٹی اسکیم کا مقصد اور اسی لیے ہم نے بیریئر ایسڈ پر کوئی ڈکلیریشن ایسڈ نہیں دی ہے، بیریئر ایسڈ میں پرائز بونڈ ، گولڈ اور کیش ہوتا ہے ، ملک میں اس وقت دو طرح کے پراز بانڈ ہیں ایک رجسٹرڈ اور دوسرا غیر رجسٹرڈ۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ پرائز بانڈ آپ ڈکلیئر کرسکتے ہیں اس کا کوئی ایشو نہیں ، بیریئر پرائز بانڈ ان رجسٹرڈ ہے اس کا رائٹ نہیں ہے، اس کیلئے 40ہزارمالیت کےبانڈ2020تک رجسٹرڈ ہونےوالے ہیںلہٰذا مارچ 2020تک یہ پرائز بانڈ کیش کروانا ہوگا، اس کے علاوہ جو دیگر چھوٹے پرائز بانڈ ہیں وہ ختم ہوجائیں گے مگر بیریئر پرائز بانڈ پر آج ایمنسٹی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 948بلین روپے کے غیر رجسٹرڈ پرائز بانڈ ملک میں موجود ہیں۔

June 17, 2019

ملک میں کافی حد تک معاشی استحکام آچکا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی:جدت ویب ڈیسک :: گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ ملک کے بیرونی خسارے میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، ملک میں کافی حد تک معاشی استحکام آچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی ٹیم ملک میں معاشی استحکام لارہی ہے، ملک کے بیرونی خسارے مین کمی آئی ہے۔
ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ غیر یقینی صورت حال ختم کرکے لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، ملک کا معاشی مستقبل روشن ہے، ملک میں غیریقینی کی صورت حال ختم کرکے دم لیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ پر پالیسی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے، حکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور ایکسچینج ریٹ پر دباؤ آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لینا نہیں چاہتی، حکومت کے قرض کم ہوئے تو مہنگائی کی شرح بڑھنا بند ہوجائے گی۔
ڈاکٹر رضا باقر کے مطابق عید کے بعد روپے کی قدر میں کمی دیکھی جارہی ہے، جون میں کمپنیوں کے کھاتے مکمل ہوتے ہیں، ڈالڑ کی طلب بڑھتی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے بیرون ادائیگیوں کا زور کم ہوا ہے، اہم اپنے معاشی مستقبل سے پر امید ہیں، برآمدات بڑھانے کے اور عوامل ہیں، ایکسچینج ریٹ کو فکس رکھنا ہماری بیرونی خسارے کا سبب ہے۔انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافے سے ڈالر کی قدر میں کچھ کمی ہوئی تھی، عید کے بعد ترسیلات میں کچھ کمی ہوئی، ڈالر کی قدر دوبارہ بڑھنے لگی۔ رضا باقر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرضے دینے پر راضی ہوتے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام سے دنیا کو مثبت پیغام جاتا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے دیا اب میرا کوئی تعلق نہیں ہے، امید ہے 3 جولائی کو آئی ایم ایف بورڈ قرضے کی منظوری دے دے گا۔

June 15, 2019

موبائل فون پر ٹیکس سلیب میں تبدیلی، کتنی رقم ادا کرنا ہوگی؟

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :: حکومت نے درآمدی قیمت کے مطابق 6 مختلف سلیبس کے لیے بجٹ 20-2019 میں موبائل فون پر فلیٹ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا، اس اقدام سے زائد قیمتوں کے مقابلے میں سستے موبائل پر کم ٹیکس ہوگا۔ فنانس سپلیمنٹری (دوسرا ترمیمی) بل 2019 نے موبائل فون کی درآمد موثر بنانے کے لیے 12 مارچ سے تمام 4 ٹیکسز ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور موبائل لیوی کو ایک سنگل فکسڈ ریٹ (مقررہ شرح) میں ضم کردیا تھا۔
اس تناظر میں 30 ڈالر کی قیمت تک کے موبائل فون کی درآمد پر فکسڈ ریٹ 180 روپے سے بڑھ گیا ہے اور اب 360 کے فلیٹ ریٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 500 روپے کے موجودہ ریٹ کے بجائے 36 ہزار 900 روپے فی سیٹ ادا کرنے ہوں گے۔
مارچ سے قبل 60 ڈالر تک مالیت کے موبائل فون پر درآمدی مرحلے میں 250 روپے فی سیٹ ٹیکس لگتا تھا جبکہ 60 سے 130 ڈالر کے درمیان موبائل فون کے لیے اس کی درآمدی قیمت کا 10 فیصد جبکہ 130 ڈالر سے زائد پر 20 فیصد ٹیکس ہوتا تھا۔
تاہم حکومت سمجھتی ہے کہ فلیٹ ریٹس میں تبدیلی درآمدی مرحلے میں موبائل فون کی منصفانہ تشخیص تخمینہ کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ درآمدات سے زیادہ سے زیادہ وصولی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
اسی طرح حکومت نے ڈیوٹی فری اور مسافروں کے سامان کے ذریعے ملک میں موبائل فون لانے اور ان کی مارکیٹ میں فروخت سے متعلق رپورٹس کے بعد موبائل فونز کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے۔
مقررہ شرح میں تجویز کردہ اضافے کے مطابق 30 سے 100 ڈالر کے درمیان کی درآمدی مالیت رکھنے والے موبائل فونز پر 1800 روپے کے موجودہ ریٹ کے مقابلے میں 3600 روپے فی سیٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ 100 سے 200 ڈالر کے درمیان مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر مقررہ شرح 2700 سے بڑھا کر 5400 روپے فی سیٹ ہوگی۔
ان فونز کے لیے جن کی مالیت 350 ڈالر فی سیٹ سے کم لیکن 200 ڈالر سے زیادہ ہے اس پر 3600 روپے کی موجودہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے مقابلے میں 7200 روپے فی سیٹ چارج کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں 350 سے 500 ڈالر مالیت کے موبائل فون پر موجودہ 10 ہزار 500 روپے کے مقابلے میں 20 ہزار 700 روپے کے فلیٹ ریٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ اگر موبائل فون کی درآمدی مالیت 500 ڈالر سے زائد ہے تو اس پر 18 ہزار 500 روپے کے بجائے اب 36 ہزار 900 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی دینا ہوگی۔
واضح رہے کہ 18-2017 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قانونی درآمدی مالیت 84 کروڑ 76 لاکھ 56 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
اس سے قبل جب چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت ڈیوٹی فری یا دیگر ممالک سے بہت معمولی ڈیوٹی کے اطلاق پر یہ درآمدات 1 ارب ڈالر کے نشان کو تجاوز کرگئی تھی۔
تاہم حکومت کی جانب سے ڈیوٹی اسٹرکچر میں تبدیلی اور موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد کُل قانونی درآمدات میں کمی جبکہ اسمگل شدہ درآمدات میں اضافہ ہوا۔
قبل ازیں مئی 2018 میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں غیر معیاری، اسمگل اور استعمال شدہ فونوں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈیوائس کی تصدیق، رجسٹریشن اور بند کرنے کا نظام متعارف کروایا تھا۔دوسری جانب مقامی اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے حکومت نے موبائل فون کٹس اور پارٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنایا ہے۔
اس وقت سی کے ڈی/ایس کے ڈی حالت میں موبائل فون پر ہر کٹ کی مالیت کے حساب سے مخصوص شرح پر ریگولیٹری ڈیوٹی ہے۔
تاہم موبائل فون پارٹس پر کوئی ریگولیٹری ڈیوٹی نہیں ہے، موبائل فون مینوفکچررز موبائل فون کی سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کٹس کو الگ الگ کنسائنمنٹس میں درآمد کرتے ہیں اور انہیں موبائل فون کے پارٹس قرار دیتے ہیں تاکہ ریگولیٹری ڈیوٹی سے بچا جاسکے۔اسی تناظر میں مقامی اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے کٹس پر موجودہ ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹادی گئی اور کٹس اور پارٹس دونوں پر 5 فیصد کا یونیفارم ریٹ عائد کیا گیا ہے۔

June 14, 2019

سونا اور ڈالراُڑنے لگے۔۔۔۔

جدت ویب ڈیسک :کراچی / اسلام آباد: عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں سونے جبکہ انٹربینک میں ڈالر کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر152 سےبڑھ کر153.70 روپےکا ہوگیا، انٹر بینک میں ڈالر 1 روپے 34 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد امریکی کرنسی بلند ترین سطح 152 روپے 90 پیسےپر بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت تین ڈالر اضافے کے بعد 1337 ڈالر فی اونس تک پہنچی، بلین مارکیٹ میں اضافے کے منفی نتائج مقامی صرافہ بازاروں پر نظر آئے۔جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام کی قیمتوں میں بالترتیب 600 اور 514 روپے اضافہ ہوا۔ حالیہ اضافے کے بعد فی تولہ 73ہزار 150 جبکہ 10 گرام کی قیمت 62 ہزار 715 روپے تک پہنچ گئی۔
کراچی، حیدر آباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کے صرافہ بازاروں میں سونے کی لین دین نئے ریٹ کے ساتھ ہوئی۔
دوسری جانب کرنسی ایسوسی ایشن اور فاریکس ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر1.50روپے مہنگاہوا جس کے بعد انٹربینک میں قیمت 152.90 روپے تک پہنچی۔
ماہرین کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے سے بیرونی قرضوں میں 451 ارب روپے کا اضافہ ہوا، گزشتہ چار سیشنز میں انٹربینک میں امریکی کرنسی چار روپے تیس پیسے مہنگی ہوئی۔