October 16, 2018

حکومت نےبجلی کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر موخر کردیا

جدت ویب ڈیسک ::اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر سربراہی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا۔ ای سی سی نے دسمبر تا فروری زیرو ریٹڈ شعبوں کو سو فیصد آر ایل این جی فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ مارچ سے نومبر تک پانچ زیرو ریٹڈ شعبے پچاس فیصد آر ایل این جی اور پچاس فیصد سوئی گیس استعمال کریں گے۔ای سی سی کے اجلاس میں صرف ایک ایجنڈا ہی زیر بحث آسکا اور بجلی کے نرخوں میں ردو بدل پر بات نہ ہوسکی۔ کمیٹی نے بجلی کی قیمت میں اضافے کا معاملہ ایک بار پھر موخر کردیا۔
واضح رہے کہ حکومت اس سے قبل گیس کی قیمتوں میں 10 سے لے کر 143 فیصد تک اضافہ کرچکی ہے جب کہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پر مہنگائی کا بم بھی گرایا جاچکا ہے۔
نیپرا نے حکومت کو 3 روپے 82 پیسے فی یونٹ اضافہ کی سفارش کی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں صارفین سے تقریباً 400 ارب روپے ماہانہ اضافی وصول کئے جائیں۔

Related image

October 16, 2018

وزیر ریلوے شیخ رشید نےسکھر اسٹیشن پرمزید 2 ٹرینوں کا افتتاح کردیا

سکھر جدت ویب ڈیسک ::: وزیر ریلوے شیخ رشید نے سکھر اسٹیشن پر 2 نئی ٹرینوں کا افتتاح کردیا۔
ٹرینوں کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ 100 روزہ ایجنڈے میں ملک میں ٹرینوں کا جال بچھاؤں گا، پاکستان ریلوےکی مال ٹرینوں کو دگنا کروں گا اور روہڑی سے کوٹری موہن جودڑو ایکسپریس بھی چلائی جائے گی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ میرے پاس جو بھی اختیارات ہیں انہیں بروئے کار لاؤں گا، پاکستان ریلوےکو سی پیک منصوبے میں اہم کردار حاصل ہوگا اور چین کے ساتھ ایم ایل ٹو پر بھی بات کروں گا۔
شیخ رشید نے کہا کہ جتنی غربت سکھر میں دیکھی پاکستان میں کہیں نہیں دیکھی، کرپشن کرنے والا اس شہر میں معزز بن جاتا ہے اور کرپشن بڑے آدمی کے ماتھے کا جھومر بن گئی ہے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ محکمے کے مزدوروں کو مراعات فراہم کریں گے، ڈی ایس ریلوےکو کہا ہے کہ غریب کو ہاتھ نہ لگاؤ اور امیر کو چھوڑو نہیں۔وزیر ریلوے نے رواں سال 10 نئی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا تھا اور اسی کے تحت انہوں نے آج مزید دو ٹرینوں کا افتتاح کیا، ایک ٹرین سکھر سے خانپور اور دوسری روہڑی سے کوٹری تک چلے گی۔

October 15, 2018

موبائل فون کی تصدیق کا دوسرا مرحلہ 20 اکتوبر کو ختم ،پی ٹی اے سے غیر منظور شدہ موبائل فون کا استعمال ممکن نہیں رہے گا

کراچی: جدت ویب ڈیسک :: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ موبائل فون کی شناخت کی تصدیقی نظام کے دوسرے مرحلے میں 20 اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیرمنظور شدہ موبائل فون کی فروخت اور استعمال ممکن نہیں رہے گا۔موبائل فون کی تصدیق کا دوسرا مرحلہ 20 اکتوبر کو ختم ہوگا اس بارے میں عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے تاہم پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر تک ایسے تمام موبائل فون جو فعال ہیں اور پاکستانی نیٹ ورک پر چل رہے ہیں اگر ان کے آئی ایم ای آئی نمبر پی ٹی اے سے منظور شدہ نہ ہوں تب بھی کام کرتے رہیں گے۔

ایسے موبائل فون سیٹ کو ان پر چلنے والی سموں کے مالکان کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبروں سے منسلک کردیا جائے گا، موبائل فون کی تصدیق کے نظام کے تحت دوسرے مرحلے کے بعد ایسے تمام موبائل فون جو غیرقانونی طور پر درآمد کیے گئے فروخت کرنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ ان موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی شناختی کارڈ نمبر سے منسلک ہوں گے۔
پی ٹی اے کے مطابق موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر کی تصدیق کے لیے آئی ایم ای آئی نمبر8484 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا، کسی بھی موبائل فون کا آئی ایم ای آئی نمبر *#06# ڈائل کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔پی ٹی اے کے مطابق آئی ایم ای آئی نمبر 8484 پر بھیجنے کے بعد پی ٹی اے کی جانب سے 4 میں سے کوئی ایک جواب موصول ہوگا پہلی صورت میں موبائل سیٹ کی تصدیق ہوگی جس کا مطلب ہے کہ متعلقہ فون پی ٹی اے کی منظوری سے قانونی طریقے سے درآمد کیا گیا ہے۔
فون کی تصدیق کے لیے میسج کا تیسرا جواب ” نان کمپلائن ڈیوائسز” کی شکل میں موصول ہوگا یہ وہ فون ہیں جو نہ ہی پی ٹی اے سے منظور شدہ ہیں اور نہ ہی جی ایس ایم اے سے رجسٹرڈ ہیں صارفین کی سہولت کے لیے ایسے تمام فون سیٹ بھی اس میں زیراستعمال سم کے مالک کے شناختی کارڈ پر رجسٹر کرلیے جائیں گے۔
چوتھا پیغام بلاک ڈیوائس کی شکل میں آسکتا ہے یہ وہ چوری یا گمشدہ ڈیوائسز ہیں جنھیں تصدیق کے پہلے مرحلے میں بلاک کردیا گیا ہے۔ ایسے تمام فون جو پی ٹی اے سے منظور شدہ نہ ہوں اور نہ ہی جی ایس ایم اے سے رجسٹر شدہ ہوں پی ٹی اے کے نظام میں خودکار طریقے سے بآسانی رجسٹر کیے جاسکتے ہیں صرف اسے موبائل میں سم لگاکر کال، ایس ایم ایس یا موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنا ہوگا تاکہ فون کو سم کیلیے درج کردہ بائیومیٹرک اور کمپیوٹرائزڈ شناختی نمبر سے منسلک کیا جاسکے تاہم نان کمپلائنٹ ڈیوائسزایک بار جس سم کے کوائف پر رجسٹرڈ کرلیے جائیں 20 اکتوبر کے بعد کسی دوسری سم پر استعمال نہیں ہوسکیں گے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ڈیوائسز کی تصدیق کا دوسرا مرحلہ 20 اکتوبر کو مکمل ہونے کے بعد اسمگل شدہ موبائل فون کی فروخت ناممکن ہوگی اور اس وقت غیرقانونی طریقے سے درآمد کر کے اسٹاک میں رکھے فون بھی ناکارہ ہو جائیں گے۔
دوسری صورت میں سسٹم “ویلڈ ڈیوائسز” کا پیغام دے سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ فون عالمی تنظیم جی ایس ایم اے سے منظور شدہ ہے تاہم یہ ڈیوائس پی ٹی اے کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے ایسی تمام ڈیوائسز اور فون بھی20 اکتوبر سے قبل پی ٹی اے کے نظام میں متعلقہ سم کے مالک کے شناختی کارڈ پر رجسٹر کرلی جائے گی اور 20 اکتوبر کے بعد بھی چلتی رہے گی۔

October 14, 2018

پاکستان سٹاک ایکسچینج نے کیپٹل مارکیٹ بارے لوگوں کو آگاہی کیلئے ایک پروگرام شروع کر دیا

فیصل آباد جدت ویب ڈیسک : پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ریجنل انچارج سرمد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج نے کیپٹل مارکیٹ بارے لوگوں کو آگاہی کیلئے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو بہتر آگاہی دینا ۔ لسٹڈ کمپنیوں کو فنڈ ریزنگ کیلئے متبادل طریقوں بارے بتانا اور پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کیلئے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی پالیسیوں کی وضاحت کرنا ہے، پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں صرف ڈیڑھ لاکھ سرمایہ کار ہیں اور تشویش کی بات یہ ہے کہ اُن کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو رہا ۔ اب میں ساڑھے گیارہ سو کے قریب کمپنیاں ہیں جن میں 56 کمپنیاں پرائمری اور سیکنڈری ٹریڈنگ کی لسٹ میں شامل ہیں۔ پہلے 20 کروڑ سے زائد سرمایے والی کمپنیوں کی ہی لسٹنگ ہوتی تھی جبکہ اب ڈھائی کروڑ سے 20 کروڑ تک کے سرمایہ والی کمپنیاں بھی لسٹنگ کراسکتی ہیں۔ اس وقت 3 ملین چھوٹے اور درمیانے ادارے ہیں ۔ ان میں سے 80 فیصد نان ایگری کلچر ہیں جو قومی جی ڈی پی میں 40 فیصد کا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان اداروں کو ترقی اور توسیع کیلئے بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے جبکہ سٹاک ایکسچینج کے ذریعے وہ خود اپنے لئے فنڈ ریزنگ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے اداروں کو کیپٹل مارکیٹ کے دھارے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں باہمی مشاورت سے مزید اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ تاکہ ملک کی مجموعی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے ۔ یہ بات انہوںنے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیائ علمدار حسین سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج کے بارے میں بنیادی اور ضروری معلومات کو فیصل آباد چیمبر کے ممبران میں سرکولیٹ کیا جائے گا جس کے بعد سٹاک ایکسچینج کے تعاون سے خصوصی سیشن بھی منعقد کیا جاسکتا ہے۔ سید ضیائ علمدار حسین نے کہا کہ فیصل آباد کے ایس ایم ای سیکٹر کو کیپٹل مارکیٹ کے فوائد بارے آگاہی دینے کیلئے خصوصی نشست کا اہتمام کیا جائے گا سینئر نائب صدر میاں تنویر احمد نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر سٹاک ایکسچینج کے بارے میں ضروری معلومات سرکولیٹ کرنے کے علاوہ خواہشمند سرمایہ کاروں اور سٹاک ایکسچینج کے نمائندوں کیلئے بہت جلد ایک خصوصی سیشن کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ سابق صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ جو لوگ سود کے بغیر کاروبار کر نا چاہتے ہیں ان کیلئے سٹاک ایکسچینج فنڈ ریزنگ کا اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع حاجی محمدسلےم، رانا اکرام للہ ، انجینئر عاصم منیر، محمد ادریس سدھے شیخ ،محمدسعےد،بھی موجود تھے۔

October 14, 2018

ڈالر کی اونچی اڑان سے روئی کے بھاﺅمیں فی من 600 تا 800 روپے کا نمایاں اضافہ

کراچی جدت ویب ڈیسک :مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث روئی کے بھاﺅمیں فی من 600 تا 800 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا روئی کا بھاﺅ بڑھ کر فی من 8300 تا 8700 روپے ہوگیا، اسی طرح پھٹی کے بھاﺅ میں بھی فی 40 کلو 200 تا 300 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاﺅ فی من 8300 تا 8700 روپے جبکہ پھٹی کا بھاﺅ صوبہ سندھ میں 3700 تا 4100 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں فی 40 کلو 3700 تا 4200 روپے رہا۔صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاﺅ فی من 8400 تا 8500 روپے پھٹی کا بھاﺅ فی 40 کلو 3600 تا 4200 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 650 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8500 روپے کے بھاﺅ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ روپے کے نسبت ڈالر کی قیمت میں تقریباً10روپے کے ہوشربا اضافہ کے باعث ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے روئی کی خریداری تیز کردی ہے، جس کے باعث روئی کے بھاﺅ میں فی من 600 تا 800 روپے کا یکمشت اضافہ ہوگیا نتیجتاًپھٹی کا بھاﺅ فی 40 کلو 200 تا 300 روپے بڑھ گیا۔علاوہ ازیں پولیسٹر فائیبر کے بھاﺅ میں فی کلو 5 روپے اضافہ ہونے سے پولیسٹر فائیبر کا بھاﺅ بڑھ کر فی کلو 203 روپے کی اونچی سطح پر پہنچ گیا۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ پورے ملک میں گیس کی قیمت یکساں ہونے کے سبب خصوصی طور پر صوبہ پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز زیادہ متحرک ہوگئی اور روئی کی خریداری بڑھادی ہے۔ گیس کے بھاﺅ یکساں ہونے اور ڈالر کی اونچی اڑان کے سبب پنجاب کے ایپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز نے عندیہ دیا ہے کہ صوبہ پنجاب کی بند پڑی ہوئی کئی ٹیکسٹائل ملز دوبارہ فعال ہوسکے گی اگر ایسا ہوا تو یہ اچھا شگون ثابت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ روپے کے نسبت ڈالر کی قیمت بڑھنے سے امید کی جارہی ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہوگا ملک کی معیشت کو فائدہ ہوسکے گا لیکن زمینی حقیقت کے مطابق بیرونی درآمد کنندگان ڈالر کی قیمت بڑھنے کا ڈسکاﺅنٹ مانگ لیتے ہیں جس کے باعث خاطر خواہ فائدہ گو کہ نہیں ہوگا بہر حال برآمدات پر مثبت اثر ہوگا۔بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں اتار چڑھاﺅ رہا نیویارک کاٹن میں اضافہ ہوا جس کی وجہ وہاں سے طوفان کی خبریں آرہی ہیں جبکہ بھارت اور چین میں روئی کے بھاﺅ میں مندی کا رجحان رہا۔نسیم عثمان نے بتایا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے جوش میں آکر روئی اور پھٹی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں ڈالر کی قیمت کچھ کم ہونے کی وجہ سے روئی اور پھٹی کا بھاﺅ بھی کم ہونے لگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال ملک میں روئی کی پیداوار ایک کروڑ 12 تا 15 لاکھ گانٹھوں کی ہونے کی توقع ہے جبکہ مقامی ملوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیرون ممالک سے روئی کی تقریباً 40 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑیں گی۔

October 13, 2018

آئی ایم ایف کے پاس ضرور جارہے ہیں لیکن قومی سلامتی پرسمجھوتا نہیں کریں گے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::: وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے.
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے بھی 18 بار آئی ایم ایف پروگرام میں جاچکا ہے، 7 بار فوجی اور 11 بار سویلین حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں.پاکستان پہلے بھی 18 بار آئی ایم ایف پروگرام میں جاچکا ہے، 7 بار فوجی اور 11 بار سویلین حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں اسدعمر نے کہا کہ ملک کوہر ماہ دو ارب ڈالرز کے خسارے کا سامنا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے.وزیرخزانہ اسدعمر نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے درآمدی بل میں خاطرخواہ اضافہ ہوگیا. ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ڈھائی مہینے بعد ہی آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی تھی، سعودی عرب، چین یا کسی دوست ملک نے قرضے کے لئےشرائط نہیں رکھیں. اسدعمرنے واضح‌ کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس ضرور جارہے ہیں، لیکن قومی سلامتی پرسمجھوتا نہیں کریں گے، سی پیک کے قرضوں سے ہم پرکوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا.
وزیرخزانہ اسدعمر کا کہنا تھا کہ سی پیک سے متعلق امریکی حکام کا بیان سراسرغلط ہے، ہمیں رواں سال قرضوں کی مد میں 9 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں، چین کوہمین آئندہ 3سال میں 90 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں.