February 19, 2019

بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت کا سلسلہ بند ہو گیا

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ذرائع وزارت تجارت کے مطابق بھارتی تاجروں نے تمام آرڈرز منسوخ کردیئے ہیں۔جبکہ پچھلے دو روز سے پاکستان سے کوئی بھی مال بھارت نہیں جاسکا۔سیمنٹ کے 350 بڑے ٹرک واہگہ بارڈر پر کھڑے ہیں۔سوڈا،چمڑا،سالٹ اور کیمیکل کے سیکڑوں ٹرک واہگہ بارڈر پر موجود ہیں۔وزارت تجارت کے ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی تاجروں نے 16 فروری کو جانے والا کروڑوں کا مال واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔بھارت میں پاکستانی اشیا پر دو سو فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔بھارتی تاجروں نے ایڈوانس میں دیے گئے کروڑوں روپے واپس مانگ لیے ہیں۔جبکہ دوسری جانب وزیر خارجہ شام محمود قریشی سے بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کی ملاقات ہوئی ہے۔پلوامہ معاملے پر ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر تبادلہ خیال ہوا۔جب کہ ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

February 19, 2019

پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کے درمیان 4 روزہ مذاکرات پیرس میں شروع ہوگئے

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک :: پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کے درمیان 4 روزہ مذاکرات پیر کو پیرس میں شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے درمیان شروع ہونے والے 4 روزہ مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی قیادت وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کررہے ہیں جو گزشتہ روز اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پیرس پہنچے۔ وفد میں نیکٹا، ایف آئی اے، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ایف بی آر اور ایس ای سی پی سمیت دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔حکومت نے ایف اے ٹی ایف کیلیے تیارکردہ فنکشنل اسٹریٹجی پیرس میں شروع ہونیوالے مذاکرات میں پیش کر دی ہے جس پر اگلے 3روز تک مزید بات چیت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے تحت وفاق کیلیے مقرر کردہ تمام اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم صوبوں سے متعلق کچھ اہداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔

February 18, 2019

ہم سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کریں گے عبدالرزاق داؤد

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اسلام آباد میں سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس ہوئی جس میں دونوں ممالک کے تاجروں، سرمایہ کاروں اور دیگر کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بات چیت کی گئی۔وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری بہت اہم ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کا نیا باب شروع ہورہا ہے، کانفرنس میں فوڈ ، ٹرانسپورٹ، کیمیکل سمیت دیگر اہم شعبوں کی شخصیات شرکت کررہی ہیں، پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کرے گا اور سرمایہ کاری کے بہترین مواقع پیش کرے گا، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے آزاد تجارتی معاہدے کیلئے بھی مختلف تجاوز زیر غور ہیں۔کانفرنس میں سعودی وفد کی قیادت ’کونسل آف سعودی چیمبرز‘ کے نائب سربراہ عبداللہ مرزوق الشماری نے کی۔ کونسل آف چیمبرز 28 تجارتی و صنعتی چیمبرز پر مشتمل اہم ادارہ ہے۔
سعودی وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القصبی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات خطے کیلیے اہم ہیں، باہمی روابط سے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا، مخلصانہ تعلقات پر وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں اور پاکستان سے تعلقات ایک نئی جہت کو پہنچ رہے ہیں، دورے میں پاکستان کے ساتھ مختلف مسائل اور چیلنجز پر بات ہوئی اور دونوں ممالک درپیش چیلنجز سے مل کر نمٹ سکتے ہیں۔

February 14, 2019

پاکستان کیلئے وزٹ ویزا فیس میں کمی کا اعلان

جدت ویب ڈیسک ::پاکستانیوں کے لئے سعودی حکومت کی جانب سے بڑا ریلف مل گیا۔ حجاز مقدس کا سفر کرنے والے عقیدت مندوں کے لئے سعودی حکومت نے ویزا فیس میں بڑی کمی کر دی۔سعودی عرب میں تقریباَ گزشتہ دو سال سے وزٹ ویزا فیس کو بڑھا کر دو ہزار ریال کر دیا گیا تھا جس سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو خاصی مشکل کا سامنا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو اپنے پاس نہیں بلا سکتے تھے مگر موجودہ پاکستانی گورنمنٹ کی کوششوں سے وزٹ ویزا فیس میں دو ہزار ریال کی بجائے 338 ریال یعنی پاکستانی ساڑھے بارہ ہزار پاکستانی فیس کر دی گئی ہے جس سے پاکستانی نا صرف خوش ہیں بلکے پاک سعودی گورنمنٹ کے شکرگزار بھی ہیں۔اس کے علاوہ ملٹی پل وزٹ ویزا کی فیس 8 ہزار سے کم کرکے 675 سعودی ریال کر دی گئی ہے۔
ویزا فیس میں کمی پر پاکستانی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں جس نے ان کے لئے آسانی پیدا کی ، اب وہ سعودی عرب میں اپنے پیاروں سے کسی بھی وقت ملنے جاسکتے ہیں اور مقدس مقامات کی زیارت کر سکتے ہیں۔

February 14, 2019

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کاروبار میں منفی رجحان

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان اسٹاک ایکسچینج میںمارکیٹ میں آج 12 کروڑ29 لاکھ سے زائد شیئرزکا کاروبار 06ارب 22کروڑ روپے سے زائد میں ہوا جبکہ آج کاروبار کے لحاظ سے لوٹے کیمیکل، ڈی جی کے اور فوجی سیمنٹ سرفہرست رہے، آج کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کاروبار میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور ہنڈرڈ انڈیکس 54.12 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 40489.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بازار حصص میں کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا ۔ کاروبار کے آغاز پر ہنڈرڈ انڈیکس 40 ہزار 544 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔ ابتدا میں ہی انڈیکس میں18 پوائنٹس تک کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس 40 ہزار 562 پوائنٹس پر چلا گیا۔ اس کے بعد مارکیٹ میں کمی کا رجحان نظر آیا او ر پہلے سیشن میں ہی ایک وقت میں انڈیکس میں پہلے 51 اور پھر 226 پوائنٹس تک کی کمی ہوئی جس سے انڈیکس 40 ہزار 18 پوائنٹس پر چلا گیا ۔ پہلے سیشن میں زیادہ تر مارکیٹ منفی زون میں ہی ٹریڈ کرتی رہی ۔
دوسرے سیشن میں بھی کاروبار کا آغاز منفی رجحان سے ہو ا اور انڈیکس میں 162پوائنٹس تک کی کمی ہوئی اور انڈیکس 40 ہزار 381 پوائنٹس پر چلا گیا ۔ اس کے بعد مارکیٹ میں استحکام دیکھنے میں آیا، مارکیٹ مثبت زون میں داخل ہو گئی اور انڈیکس میں 41پوائنٹس تک کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 40ہزار 585 پوائنٹس پر پہنچ گیا لیکن یہ اضافہ لمحاتی ثابت ہوا اور انڈیکس ایک بار پھر منفی ٹریڈنگ کرنے لگا اس کے بعد کاروبار کے اختتام تک مارکیٹ میں مندی کا سلسلہ جاری رہا اور انڈیکس کا اختتام بھی54.12 کی کمی کے ساتھ ہوا۔
آج کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5.34 پوائنٹس کی کمی ہوئی جس کے بعد30 انڈیکس 19,430.57 پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 53.19 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ29,322.18 پوائنٹس پر بند ہوا۔

February 13, 2019

وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی خزانے کو 120ارب روپے کے نقصان سے بچالیا

جدت ویب ڈیسک ::ای سی سی کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ اسد عمر قومی مفاد کے منافی منصوبے ایوارڈ کرنے پر برس پڑے ۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ایف ڈبلیو او نے طویل محنت کے بعد پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ماچھیکے شیخوپورہ سے تاروجبہ نوشہرہ تک ترسیل کیلئے آئل پائپ لائن کا منصوبہ تیارکیا اور اوگرا سے لائسنس کے حصول کیلئے درخواست کی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملکی مفاد کے منافی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کاآئل پائپ لائن تعمیر کا مہنگا ترین منصوبہ منسوخ کرتے ہوئے قومی خزانے کو 120ارب روپے کے نقصان سے بچالیا ہے ۔ ای سی سی نے فرنٹیئر آئل کمپنی کو شیخوپورہ تا نوشہرہ 460کلومیٹر طویل آئل پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ فرنٹئیرآئل کمپنی ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی ہے ۔ فرنٹیئر آئل کمپنی وفاقی حکومت کی جانب سے مالی وسارون گارنٹی کے بغیر آئل پائپ لائن تعمیر کریگی۔ 460کلومیٹر آئل پائپ لائن کی تعمیر کے اخراجات فرنٹیئرآئل کمپنی خودبرداشت کریگی۔ای سی سی نے آئی پی پیز کی طرز پر حکومتی گارنٹی اورقومی خزانے سے ادائیگیوں سے انکار کردیا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نیب کی تحقیقات کاسامنا کرنے والے ایم ڈی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم مبین صولت نے یہ منصوبہ فرنٹیئر آئل کمپنی کی بجائے چینی کمپنی پرمشتمل کنسورشیم کے ذریعے تعمیرکی ای سی سی کے اجلاس میں خود ہی منظوری بھی دیدی۔ اوگرا کی جانب سے چینی کمپنی کو انتہائی مہنگے دام اور قومی خزانے پربوجھ ڈالتے ہوئے آئل پائپ لائن کی تعمیر اور 15سال تک آپریٹ کرنے کا ٹھیکہ دینے کی بھرپورمخالفت کی گئی۔اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام کی مخالفت کے باوجود انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کے ذریعے ٹینڈر طلب کرکے سنگل بولی کے ذریعے چینی کمپنی پر مشتمل کنسورشیم کی بڈاورٹیرف تسلیم کیا گیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بطور چیئرمین ای سی سی اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو پائپ لائن تعمیر کرنے کے منصوبے سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے 31مئی کو سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن راجہ سکندر سلطان اور دیگر افسران کی قیمت پرمذاکرات کیلئے قائم کمیٹی پر حتمی منظوری اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کیساتھ فسیلیٹیشن ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن راجہ سکندر سلطان نے اوگرا آرڈیننس کیخلاف ورزی، معاہدے میں نقائص،چینی کمپنی پر مشتمل کنسورشیم کو نوازنے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کے خدشے کے باعث دستخط کرنے سے انکار کردیا۔
اوگرآرڈیننس کے سیکشن 21کے مطابق وفاقی حکومت اوگرا کو کوئی بھی ایسی ہدایت جاری نہیں کر سکتی جو اوگرا کے رولز کے خلاف ہو۔ انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کی ویب سائٹ پر دئیے گئے ٹیرف کے مطابق شیخوپورہ ، گجرات سیکشن تک ریٹ 649روپے میٹرک ٹن ہوگا۔جبکہ روات ،نوشہرہ سیکشن کا ریٹ 915روپے فی میٹرک ٹن ہوگا ۔اس ٹیرف کے مطابق پائپ لائن سے ڈیزل کی ترسیل عام کیٹینر اور ٹرالروں سے بھی زیادہ مہنگی ہوگی۔جبکہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کوئی بھی آئل یا گیس پائپ لائن منصوبہ صرف اس ہی صورت میں قابل عمل ہو سکتا ہے جب تک وہ عام روڑ ٹرانسپورٹ سے 40یا 50فیصد سستا ہو۔ اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قومی ائیرلائن کیلئے 5 ارب 60 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی۔ منگل کو وزیرخزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قومی اداروں کے مالی معاملات اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔ پی آئی اے جاری کی گئی رقم سے طیاروں کو قابل استعمال بنانے کیلئے پرزے خریدے گی۔اس کے علاوہ ای سی سی نے کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھانیکی بھی منظوری دی۔اجلاس میں کپاس اگانے والے علاقوں کو سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے ریسرچ وڈیویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائیگی جبکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے چین سے مدد لینے اور چین کے تجربے سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔
شاہد خاقان عباسی نے کنسورشیم میں شریک ٹیکنوانجینئرنگ کو دیگر کمپنیوں کے حصے کی پرفارمنس گارنٹی جمع کرانے کیلئے بھی دباؤ ڈالا مگر ٹیکنو کمپنی کی جانب سے اپنے حصے کی 40فیصد سے زائد پرفارمنس گارنٹی جمع کرانے سے انکار کردیا گیا۔دستاویز کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر چائنہ انرجی کنسٹرکشن انٹرنیشنل کارپوریشن، جیرہی آئل اینڈ گیس انجینئرنگ کارپوریشن،ٹیکنو انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور سی جے ٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکہ ایوارڈ کرنے کی بھرپور تگ ودو کی گئی۔ملکی بہترین مفاد کے پیش نظر ایف ڈبلیو او کا منصوبہ سارون گارنٹی کے بغیر کمرشل بنیادوں پر جبکہ چینی کمپنی پرمشتمل کنسورشیم کو سارون گارنٹی اور دیگر مراعات وفاقی حکومت نے فراہم کرنا تھیں۔چینی کمپنی کنسورشیم کا پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ترسیل کا ٹیرف آئل ٹینکر کے ریٹ کے برابر جبکہ ایف ڈبلیو اور کی کمپنی کا ٹیرف آئل ٹینکرز کے مقابلے میں 42فیصد کم ہوگا جس سے پٹرولیم مصنوعات کے صارفین اور قومی خزانے کو سالانہ 8ارب روپے سے زائد فائدہ ہوگا۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے پیش نظر کسی بھی تیل یا گیس سے متعلق منصوبے کی منظوری اور قیمت کا تعین اوگراآرڈیننس کی شق 7کے مطابق یہ اوگرا کا اختیار ہے ۔