May 20, 2018

قیمتوں کے کنٹرول کے نظام کو عوام کے مفاد میں موثر بنانے کی ضرورت ہے‘ڈاکٹرمرتضیٰ مغل

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کے آتے ہی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے جو حکومت کی نا اہلی اور ملی بھگت کا ثبوت ہے۔ متعدد پھلوں سبزیوںاور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اسی فیصد سے ایک سوبیس فیصد تک اضافہ ملک میں قیمتوں کے کنٹرول کے نظام کی کمزوری کا ثبوت ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجروں نے عوام کی استحصال کی تمام حدیں پھلانگ لی ہیں مگر انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تاجر وں کی بھاری اکثریت جائز منافع کمانے کے بجائے عوام کو لوٹنے کو ترجیح دیتی ہے جبکہ انھیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں کاروباری برادری کو لگام ٖڈال کر عوام کو مناسب نرخ پر اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے کے بجائے رمضان پیکج اور سستے بارازوں پر انحصار کرتی ہیں جس سے گرانفروشی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ غیر معیاری اشیاء کی فروخت سے کرپشن کے مزید دروازے کھل جاتے ہیں۔ذخیرہ اندوزاس مہینے میں مارکیٹ میں پانی مرضی سے اتار چڑھائو پیدا کر کے اربون روپے کماتے ہیں جبکہ ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کا نہ ہوناحکومت کی ترجیحات کا ثبوت ہے جو کسی قیمت پر کاروباری برادری کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ہے۔کبھی کبھار قیمتوں کی چیکنگ اور جرمانے وغیرہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے رچائے جانے والے فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ حکومت کو چائیے کہ عوام کی خدمت کے بجائے منافع خوروں کی خدمت کا نعرہ لگائے اور ووٹ بھی انہی سے مانگے۔

May 20, 2018

حکومتی مدت ختم ہونے کے قریب؛ ترقیاتی بجٹ صرف 67 فیصد استعمال کیا جا سکا

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مزید 11ارب 21کروڑ 61لاکھ روپے جا ری کر دیے گئے ہیں،جبکہ کہ رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ âپی ایس ڈی پیá کی مد میں 1001ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی مدت ختم ہونے کے قریب آ گئی مگر اب تک 6کھرب70ارب 75کروڑ 59 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 67 فیصدہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مزید 11 ارب 21 کروڑ 61لاکھ روپے جاری کیے گئے، دوران وفاقی وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کی جانب سے ڈیفنس ڈویڑن کیلئے 2 کروڑ 41 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کیلئے 31 کروڑ 95 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں،کیڈ کیلئے 1کروڑ 54لاکھ، داخلہ کیلئے 24 کروڑ 50 لاکھ،سائنس و ٹیکنالوجی32کروڑ 88لاکھ،نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کو آر ڈینیشن کیلئے 9ارب 21کروڑ 41لاکھ روپے،پانی و بجلی کیلئے 1ارب 6 کروڑ 92 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں،جس کے بعد مجموعی طور پر اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے ایوی ایشن ڈویڑن کیلئے مجمو عی طور پر 3ارب 39کروڑ روپے،کابینہ ڈویڑن 13کروڑ 45لاکھ روپے،کیڈ 2ارب 65کروڑ 85لاکھ روپے،تجارت 48کروڑ 50 لاکھ،مواصلات ڈویڑن 10ارب 12کروڑ 70لاکھ روپے،دفاعی پید اوار 1ارب 78 کروڑ 72لاکھ روپے،اسٹیبلشمنٹ 5کروڑ 39لاکھ، فیڈر ل ایجو کیشن اینڈ پر وفیشنل ٹریننگ 1 ارب 52کروڑ 82لاکھ،ہائیر ایجوکیشن کمیشن 19ارب 1کروڑ،ہاؤسنگ اینڈ ورکس 7ارب 32کروڑ 42لاکھ،انسانی حقوق 9کروڑ 15لاکھ،انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2ارب 49کروڑ 36لاکھ،بین الصوبائی ہم آہنگی 1ارب 12کروڑ 40 لاکھ،داخلہ 12ارب 12کروڑ 56لاکھ ،قانون و انصاف 68کروڑ 91لاکھ ، نارکوٹکس کنٹرول 5کروڑ 47لاکھ، غذائی تحفظ و ریسرچ 1ارب 5کروڑ 32لاکھ ، نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کو آر ڈینیشن 18ارب 50کروڑ 86لاکھ ، قومی تاریخ و ادبی ورثہ 7 کروڑ 22 لاکھ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 12ارب 61کروڑ 64لاکھ،پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی 28کروڑ 65لاکھ، پیٹرولیم و قدرتی وسائل 46کروڑ 44 لاکھ، منصوبہ بندی ترقی واصلاحات 2ارب 10کروڑ 16لاکھ ، پورٹس اینڈ شپنگ 1ارب 77 کروڑ 20لاکھ ، ریلویز 19ارب 38کروڑ 48لاکھ ، سائنس و ٹیکنالوجی 1ارب 20 کروڑ 27لاکھ، شماریا ت 8کروڑ ، سپارکو 2ارب 42کروڑ 29لاکھ روپے ، ٹیکسٹائل 80 لاکھ اور پانی و بجلی کیلئے مجموعی طورپر 31ارب 50کروڑ 96لاکھ روپے جا ری کیے جا چکے ہیں۔

May 19, 2018

کے الیکٹرک کی پرزے کی تنصیب کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 24 گھنٹے رہ گئے

کراچی:جدت ویب ڈیسک :: کے الیکٹرک کی پرزے کی تنصیب کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 24 گھنٹے رہ گئے، بیس مئی کو پرزہ لگانے کے بعد لوڈ شیڈنگ معمول پر لانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔کے الیکٹرک کی پرزے کی تنصیب کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 24 گھنٹے رہ گئے
تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہالینڈ سے پہنچنے والا پرزہ تاحال نصب نہیں کیا جاسکا ہے، پرزے کی تنصیب اور ٹیسٹنگ میں کم از کم دس دن لگیں گے، جس کا مطلب ہے کہ رمضان کا پہلا ہفتہ لوڈ شیڈنگ میں گزرے گا۔دوسری طرف کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ یہ مقامی خرابی ہے، اسے لوڈ شیڈنگ سے تشبیہ دینا مناسب نہیں۔دریں اثنا کے الیکٹرک کے دعوؤں کے برعکس مختلف علاقوں میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے، شہری علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے جب کہ مضافاتی علاقوں میں 14 گھنٹے سے بھی زائد کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

May 17, 2018

نائجیریا میں 3000 ٹن چاول اور 5000 ٹن چینی برآمد کرنے کے لئے حکومت کے ٹینڈر نوٹس جاری

جدت ویب ڈیسک ::نائجیریا میں 3000 ٹن چاول اور 5000 ٹن چینی برآمد کرنے کے لئے حکومت نے ٹینڈر نوٹس جاری
تجارت کی وزارت کے مطابق، حکومت نے 3000 میٹرک ٹن آئرن 6 چاول برآمد کرنے کے لئے ٹینڈر نوٹس جاری کیے ہیں. اگلے فصل کے لئے برآمدات بہتر بنائے جائیں گے، حکومت کسانوں کو حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ بہتر انداز میں چاول کی اگلی فصل حاصل کرے.  وزارت نے کہا ہے کہ حکومت نے نائجروں کو برآمد کرنے کے لئے 5000 میٹرک ٹن چینی کی سہولت بھی فراہم کی ہے. ٹینڈرز کو ٹی سی سی حکام کے ذریعہ جاری کیا گیا ہے.نائجیریا کو اس چینی برآمد میں چینی ملز مالکان اپنے بقایا رقم کی ادائیگی کے علاوہ فوری طور پر گندم کی قیمتوں کو پورا کرنے کے لئے کرائے گا.پاکستان نے حال ہی میں گندم کی برآمدات میں اضافہ دیکھا ہے، اپریل کے مہینے کے دوران اس سے قبل ایک مہینے میں ملک اعلی برآمدات کا مشاہدہ کیا ہے. اپریل 2018 کے مہینے میں پاکستان نے 300،000 ٹن گندم برآمد کیا.
گزشتہ 9 ماہ کے دوران پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ بھی ہوا. ٹیکسٹائل سیکٹر میں مشکلات کے باوجود ملک نے صنعت میں مسلسل ترقی دیکھی ہے. جولائی سے مارچ 2017-18 تک مجموعی ٹیکسٹائل کی برآمد 9. 9. 9 بلین ڈالر کے دوران کھڑے ہو گیا. پاکستان بیورو کے اعداد و شمار پی بی ایس کے مطابق 2016-17 میں برآمدات 9.27 بلین ڈالر تھے.

May 16, 2018

بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیرایف بی آر کاوی بوک سسٹم کے نفاذ پر اصرار ناقابل فہم ہے،میاں زاہد حسین

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مےن اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے بنیادی سہولیات مہیا کئے بغیر سست بارڈر پر کسٹم کلیئرینس کا WeBocسسٹم متعارف کرانے پر مقامی تاجر سراپا احتجاج ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ انٹرنیٹ بیسڈ سسٹم کے لئے انٹرنیٹ کی سہولت بنیادی جزو ہے، جس کے بغیر یہ سسٹم قابل عمل نہیں ہے، اس کے باوجود کسٹم حکام کا WeBocکے ذریعے کلیئرینس پر اصرار ناقابل فہم ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کئے بغیر کسٹم کے جدید نظام کو نافذ کرنے سے مقامی تاجر اس سسٹم کے نفاذ سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ اس سسٹم کے نفاذ کے لئے درکار بنیادی سہولیات فراہم کریں اور پاکستانی تاجروں کو اس نظام سے باقاعدہ طور پر ٹریننگ دی جائے اور اس سلسلے میں انکے جائز تحفظات کو دور کیا جائے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ کسٹم حکام کے اصرارکے باعث ملک کی سب سے بڑی تجارتی راہداریCPEC پر واقع بارڈر پر 6ہفتے سے تجارتی سرگرمیاںمعطل ہیں، جس نے نہ صرف گلگت بلتستان کے تاجر متاثر ہورہے ہیں بلکہ ملک بھر میںدرآمداتی اوربرآمداتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہاکہ گوادر پورٹ پر بھی و ی بوک کے نفاذ کی شرط نے درآمدات و برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب تک گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوسکا۔ گوادر میں بھی بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور انٹرنیٹ کی عدم فراہمی کے باعث فوری طور پر WeBocکا نفاذ ممکن نہیں اور اس میں مزید 3ماہ کا عرصہ درکار ہے، اس سلسلے میں FBR، کسٹم اور دیگر ادارے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ اس جدید سسٹم کے نفاذ کے لئے درکار سہولیات مہیا کرنے کے لئے اقدامات کریں اور انفراسٹرکچر کی تکمیل تک کسٹم کے ون کسٹم سسٹم کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو بحال کریں۔ طورخم بارڈر پر وی بوک نافذ کیا گیا جو تاحال سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہے، جس کے باعث درآمدات اور برآمدات میں تاخیر روز کا معمول ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہFBRکا بین الاقوامی تجارت WeBocکی کلیرینس سے مشروط کرنا اس صورت میں نفع بخش ہوگا اور اس جدید سسٹم کے فوائد بشمول صحیح انوائسنگ، ٹیکسیشن اور آن لائن ٹریکنگ ، وغیرہ حاصل ہوسکیں گے جب حکومت اور تاجر ایک پیج پر ہوں اور تاجروں کو بلا تا خیر یہ سسٹم مہیا ہو۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستانی تاجر بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں اور ملک کی ترقی بزنس کمیونٹی کی پہلی ترجیح ہے، وی بوک کے نفاذ کے لئے تاجروں کی واحد شرط اس سسٹم کے لئے درکار انفراسٹرکچر کی فراہمی ہے، جو واضح طور پر حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرے اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ برآمدی اور درآمدی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔

May 16, 2018

. رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعطیلات کے دوران تمام مسافروں کے لئے خصوصی پیکج کرائے میں 20فیصد کمی ،ترجمان ریلوے

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان ریلوے نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس نے رمضان المبارک کے ابتدائی بیس دن کے دوران مسافروں، ایکسپریس اور میل ٹرینوں کی بیس کلاسوں میں بیس فیصد کم کر دی ہے.
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے ہدایات پر رمضان المبارک پیکجوں کا اعلان کیا گیا تھا اور منگل کو ایک ترجمان کے ذریعہ آگاہی کے مطابق رضاکاروں سے پہلے بک مارک تمام ٹکٹوں پر لاگو کیا جائے گا. رمضان کے ابتدائی بیس دن کے بعد، قومی ریل کیریئر کے بعد عید الفطر کی تعطیلات کے دوران تمام مسافروں کے لئے ایک اور خصوصی پیکج دکھایا جائے گا.
پاکستان ریلویز نے پیش کردہ پیکجوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالی، ریلوے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالرحیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسافروں کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کم از کم دو درجن واقعات اور مواقع پر ٹرینوں میں رعایت کی شرح پیش کی گئی ہے. .اس دوران، ریلوے پولیس آئی جی ڈاکٹر مجيب الرحمن نے ہدایت کی ہے کہ ریلوے سٹیشنوں، ٹرینوں اور کسی بھی ناپسندیدہ حادثات یا واقعات سے بچنے کے لئے دیگر تنصیبات پر بیک اپ سیکورٹی اقدامات اٹھائے جائیں.منگل کو اپنے دفتر میں منعقد ایک اجلاس کی قیادت کرتے ہوئے، آئی جی نے تمام ایس پیز کو ہدایت کی کہ ریلوے اسٹیشنوں، مساجدوں اور ٹرینوں پر خاص طور پر سریری، تاریکی اور افتخار کے گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ اہلکاروں کی حیثیت سے.دیئے جانے والے ہدایات کے مطابق کوئی پلیٹ فارم نہیں چھوڑ دیا جائے گا اور طلباء کو یہاں اور وہاں گھومنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے.
ریلوے کی تنصیبات کے تمام داخلہ اور باہر نکلنے والے پوائنٹس کو بھی مناسب طریقے سے محفوظ اور منظم کیا جانا چاہئے اور تمام آنے والے مسافروں اور ان کے متعلقہ سامان کو ریلوے اسٹیشنوں پر دھاتی ڈٹریکٹر کے ساتھ چیک کیا جانا چاہئے.ریلوے پولیس اہلکاروں کو ریلوے پولیس کے اقتدار کے علاقے میں باقاعدگی سے گشت کرے گا.