April 23, 2019

سونےکی فی تولہ قیمت میں ایک ہزارروپےکی کمی ریکارڈ

جدت ویب ڈیسک ::آل صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق اس کمی کے بعد فی تولہ قیمت 68 ہزار800 روپے ہوگئی ہے جبکہ دس گرام سونےکی قیمت 857 روپےکمی کےبعد 58 ہزار 985 روپے ہوگئی ہے۔
گزشتہ روز بھی سونےکی فی تولہ قیمت میں دوسوروپےکی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔آل صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 200 روپے کی کمی کے بعد سونے فی تولہ قیمت 69 ہزار800 روپے ہوگئی تھی جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 172 روپے کمی کے بعد 59 ہزار842 روپے ہوگئی تھی۔اس سے قبل سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ہوا تھا جس کے بعد سونے کی قیمت 70 ہزارسے زائد ہوگئی تھی۔تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت میں 06 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی جس کے بعد سونے کی قیمت 1278 سے کم ہو کر1272 فی اونس تک پہنچ گئیں۔ جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی۔

April 23, 2019

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں نصف فیصد کا اضافہ ریکارڈ

نیویارک جدت ویب ڈیسک : ایرانی تیل پرپابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں نصف فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔برینٹ خام تیل کی قیمت چوہتر ڈالر پچاس سینٹس اور امریکی خام تیل کی قیمت پنسٹھ ڈالر پچانوے سینٹس فی بیرل ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کا دیکھنے میں آیا ، برینٹ خام تیل کی قیمت میں نصف فیصد کا اضافہ ہوا اور برینٹ کی قیمت74ڈالر 50سینٹس فی بیرل ہوگئی ۔اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت65 ڈالر95 سینٹس فی بیرل ہوگئی ، امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی نصف فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔خام تیل کی قیمت میں اضافہ ایرانی خام تیل پرامریکی پابندیوں میں اضافہ ہے، امریکا نے ایران کو دیاگیا استثنی ختم کردیا، اطلاق2مئی سے ہوگا۔امریکی کی جانب سےجاری بیان کےمطابق ایران پرپابندیاں عائد کی گئیں تھیں تاہم چند ممالک کوایران سے خام تیل کی خریداری کی اجازت دی گئی تھی، ان ممالک میں چین، بھارت، جنوبی کوریا، جاپان اور ترکی شامل ہیں۔چین نے امریکی فیصلے کو ماننے سےانکارکردیا ہے، ایران کی خام تیل کی پیداوار دس لاکھ بیرل یومیہ ہے جس میں سے نصف چین کو جاتا ہے۔یاد رہے رواں ماہ کے شروع میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچی گئی تھی ، امریکی خام تیل کی قیمت 63 ڈالر 48 سینٹس فی بیرل اور برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر 62 سینٹس فی بیرل ہوگئی تھی۔واضح رہے گزشتہ برس اکتوبر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی تھی۔بعد ازاں ایک ماہ بعد دسمبر میں خام تیل کی قیمت سال کی کم ترین سطح پر آگئی تھی اور عالمی منڈی میں چوبیس گھنٹوں میں خام تیل ساڑھے تین ڈالر فی بیرل سستا ہوگیا تھا۔

April 23, 2019

2 مئی سے ایران سے تیل کی خریداری پردی گئی چھوٹ ختم کر دی جائےگی: واشنگٹن

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور تیل پیداکرنےوالے ممالک کی تنظیم’اوپیک’ کے دوسرے رکن ممالک ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپیک کےرکن ممالک عالمی منڈی میں ایرانی تیل کا “مکمل متبادل” ہوسکتےہیں۔امریکی حکومت کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہےکہ ایران پرعاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیںکی جائے گی۔ ان کا کہنا ہےکہ جن ممالک کو عارضی طورپرایران سے تیل خرید کرنے کی اجازت دی گئی تھی انہیں 2 مئی کے 2019 کے بعد مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب اور اوپیک میں موجود دوسرے ممالک ایرانی تیل پر پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی کمی پوری کرسکتے ہیں۔ واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ ایران سے بعض ممالک کو تیل خرید کرنےکی ددی گئی مہلت میں مزیدتوسیع نہیں کرے گا۔ امریکی حکام کا کہناہے کہ ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندیاں ایران پر عاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا حصہ ہیں۔ ایرانی تیل پر پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایرانی تیل کی مرکزی آمدن ختم ہوجائے گی۔ادھر عالمی منڈی میں خاتم تیل کی قیمت میں تین اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد تیل کی قیمت 74.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ گذشتہ برس نومبرکے بعد تیل کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ اس سے قبل تیل کی قیمت 73.63 فی بیرل تک پہنچی تھی۔

April 22, 2019

ایمنسٹی اسکیم سے اختلاف, عبدالحفیظ شیخ کی ایف بی آر کو نیا مسودہ تیار کرنے کی ‏ہدایت

جدت ویب ڈیسک ) ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے اسد عمر کی ایمنسٹی اسکیم سےاختلاف کرتے ہوئے ایف بی آر کو نیا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
اثاثہ جات کی ڈیکلیئریشن سے متعلق مستعفی وزیر خزانہ اسد عمر کی ایمنسٹی اسکیم عبدالحفیظ شیخ کو قبول نہیں ، وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے شرائط وضوابط اور ٹیکس ریٹس اور سلیبز سے اتفاق نہیں کیا۔ ایف بی آر کو اسکیم میں تبدیلی کی ہدایت کردی۔وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ بےنامی اثاثوں کو ظاہر کرنے پر ٹیکس ریٹ میں کمی اور بیرون ملک سے اثاثے واپس لانے کی شرط میں نرمی کا امکان ہے جبکہ غیرملکی اثاثوں اوررقم سے پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ اورغیرملکی کرنسی بانڈ خریدنے کی اجازت ہوگی۔حکام نے بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کیرٹ اینڈ اسٹک پالیسی کے تحت اسکیم نافذ ہوگی اور اس کے باعث روزگارمیں اضافہ اورغربت میں کمی ہوگی۔ایف بی آر کی جانب سے اگر ترمیمی مسودہ تیار کرلیا تو سمری منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی جائے گی۔
حکومت نے ملک میں معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کا بھی ادراک کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹس اور سلیبز پر نظرثانی کا کام شروع ہوچکا۔

April 20, 2019

حکومت نے آئی ایم ایف سے سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ پر رضا مندی ظاہر کردی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :حکومت نے آئی ایم ایف سے ملک میں وفاق اور صوبائی آمدن کو بڑھانے کے لیے سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے نفاذ پر رضامندی کا اظہار کردیا۔ حکومتی دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو آمدن بڑھانے کے لیے اضافی کوششیں کرنی ہوں گی جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک ہوگا۔آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تین سالہ اصلاحاتی عمل کے دوران وفاقی سطح پر ٹیکسز میں 2.3 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا جو مجموعی طور پر 10 کھرب 80 ارب روپے تک ہوگا۔ان ٹیکسز کو لاگو کرنے کا عمل آئندہ مالی سال 20-2019 سے کردیا جائے گا جس میں 1.1 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اس کے بعد مالی سال 20-2021 میں 0.9 فیصد جبکہ 21-2022 میں 0.3 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر ٹیکسز کو بھی 0.1 فیصد سالانہ بنیادوں پر بڑھایا جائے گا تاکہ مالی سال 21-2022 میں 1.6 فیصد تک ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو حاصل کیا جاسکے جو رواں مالی سال کے دوران 1.3 فیصد ہے۔مذکورہ پیشرفت سے متعلق دستاویزات کے مطابق وسیع پیمانے پر ٹیکس اقدامات سے مختلف اہداف حاصل کرنے کی امید لگائی گئی تھی، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پر اضافی ٹیکس کریڈٹ اور استثنی کو ختم کرکے ٹیکس اخراجات میں واضح کمی کرنا شامل ہے جبکہ اس کے ساتھ سنگل ایڈڈ ویلیو ٹیکس (وی اے ٹی) کے نفاذ سے خصوصی طریقہ کار کو دور کیا جائے گا جبکہ شرح ٹیکس کو کم کیا جائے گا۔اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ان وسط مدتی مالیاتی تخمینے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سالانہ بنیادوں پر کلیدی اقدامات کے ممکنہ نتائج پر سامنے آئے ہیں۔اگر حکومت پاکستان اورعالمی مالیاتی ادارہ معاہدے کے بعد پہلے مالی سال کے دوران جی ڈی پی کو 1.1 فیصد تک بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں تو اس سے 0.4 فیصد تک جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوگا جو تقریبا 175 ارب روپے تک ہوسکتا ہے۔تاہم اس پر قابو پانے کے لیے وی اے ٹی کا نفاذ ضروری ہوگا جو 0.3 فیصد کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا جبکہ دیگر فرق ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کے خاتمے سے پورا کیا جائے گا۔اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے دیگر پالیسی اور اصلاحاتی اقدامات میں بیکنگ سیکٹر پر لگائے جانے والے ود ہولڈنگ ٹیکس کی کمی شامل ہے جس کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور یہ آمدن پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔

April 15, 2019

پی آئی اے کاا سٹاف کیوں گم ہونے لگا۔۔۔۔ فلائٹ اسٹیورڈ لندن میں گرفتار

جدت ویب ڈیسک ::پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے باکمال ملازمین نے ایک لاجواب کارنامہ سرانجام دیا ہے، ویزہ منسوخ ہونے کے باوجود فلائٹ اسٹیورڈ لندن پہنچ گیا جسے برطانوی امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔موصول اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے پی کے 701 پر جعل سازی کر کے جنرل ڈیکلریشن پر مانچسٹر پہنچنے والےفلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو برطانوی امیگریشن نے حراست میں لے لیا۔بتایا گیا ہے کہ فضائی میزبان برطانیہ کے ویزے کے حصول کی منسوخی پر جنرل ڈیکلیریشن ہر ڈیوٹی نہیں کر سکتا، پی آئی اے کے فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود نے یوکے کے ویزہ کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی جبکہ انتظامیہ بھی غافل رہی اور یوکے امیگریشن نے معمول کے چیک پر ملازم کو گرفتار کر لیا۔
دوسری جانب پی آئی اے پر جرمانہ عائد کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ بغیر ویزہ مانچسٹر کی پرواز پر ڈیوٹی کیسے کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو پہلی دستیاب پرواز پی کے 702 پر واپس لایا جا رہا ہے ۔۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل قومی ایئر لائن کی لاہور سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبان بھی دوران ڈیوٹی پیرس میں غائب ہو گئی تھی

April 15, 2019

پاکستان کے آئی ایم ایف سے معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ماہ کیا جائے گا

جدت ویب ڈیسک :: پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پاگئے، آئی ایم ایف سےپاکستان کو ملنے والا بیل آؤٹ پیکج 3 سال کیلئے ہوگا اور حجم 6 ارب ڈالر ہوگا، پیکج پر دستخط اسی ماہ کیے جائیں گے۔عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے ساتھ اجلاسوں کے بعد پاکستانی وفد وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں پاکستان واپس پہنچ گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر دستخط اپریل میں ہی کرلیے جائیں گے ، آئی ایم ایف کا وفد رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا ،اس دورے کی تاریخ آئندہ ایک دو روز میں طے کی جائے گی۔پاکستان اثاثہ جات ڈیکلیریشن اسکیم کو مالیاتی وفد کے دورے سے پہلے قانونی شکل دے گا ، اثاثہ جات ڈیکلیریشن اسکیم کی حتمی منظوری کابینہ سے لی جائے گیجس کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسکیم نافذ کردی جائے گی،ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی مجوزہ اسکیم پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ۔