September 24, 2020

پی آئی اے میں ملازمین کیلئے رضا کارانہ علیحدگی اسکیم متعارف

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک : پی آئی اے انتظامیہ نے ملازمین کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے رضا کارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کروا دی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے کے اضافی ملازمین کیلئے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، اسکیم کے تحت ملازمین رضاکارانہ طور پر اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی آئی اے میں ساڑھے 14 ہزار ملازمین ہیں، قطر ایئر لائن کے 240 جہاز، 32 ہزار ملازمین اور فی اوسط جہاز 133 ملازمین بنتے ہیں، ایمریٹس269 جہاز، 62 ہزار ملازمین فی اوسط جہاز231 ملازمین، ترکش ایئر لائن 329 جہاز، 31 ہزار ملازمین اور فی اوسط جہاز94 ملازمین، اتحاد ایئرلائن 102 جہاز، 21530 ملازمین، فی اوسط جہاز211 بنتے ہیں جب کہ پاکستان کی پی آئی اے ایئر لائن میں 29 جہاز،14500 ملازمین اور فی اوسط جہازملازمین500 بنتے ہیں جو ادارے کی خسارے کی بڑی وجہ ہیں، اگر بیلنس شیٹ سے500 ارب کے قرضہ جات نکال دیئے جائیں توفرق سامنے آسکتا ہے۔سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ قومی ایئرلائن کو 400 ارب کا خسارہ جب کہ ایئر لائن کے ذمہ 100ارب سے زائد کی لائبلٹی واجب الادا ہیں، اتنے بڑی خسارے کے ساتھ دنیا کی کوئی ایئر لائن کھڑی نہیں ہو سکتی۔ کمیٹی کو بتایا کہ رضاکارانہ سکیم سے 3200 ملازمین کیلئے 12 ارب87کروڑ روپے کا خرچ آئے گا اور سالانہ تنخواہوں پر 4ارب20کروڑ روپے کا فرق پڑے گا۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ گزشتہ 2 برس سے کہہ رہا ہوں کہ کمیٹی کو ایک موازنہ رپورٹ پیش کی جائے کہ وہ کمپنیاں جو منافع میں جارہی ہیں ان کی ویلیو چین انیلیسزرپورٹ پیش کی جائے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، ادارے کا آڈٹ مکمل ہوگیا ہے، 97 فیصد کمپلائنس رپورٹ آ گئی ہے، ایس ایم ایس نہیں تھا وہ بھی بن گیا ہے، آیوسا کمپنی کے پا س جا رہے ہیں، لائسنس والے ایشو بھی جلد حل جائیں گے۔

September 18, 2020

تفصیلات جاری۔کس رکن پارلیمنٹ نے کتنا ٹیکس دیا؟

ویب ڈیسک ::تفصیلات جاری۔کس رکن پارلیمنٹ نے کتنا ٹیکس دیا؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ارکان پارلیمنٹ کی سال 2018 کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی۔
ایف بی آر کےمطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے سب سے زیادہ 24 کروڑ 13 لاکھ 29 ہزار 362 روپے ٹیکس دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2018 میں 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس دیا جب کہ بلاول بھٹو نے اس نے کچھ ہزار روپے زیادہ یعنی 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے ٹیکس دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کوئی ٹیکس نہیں دیا
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ میں سب سے زیادہ ٹیکس وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے 48 لاکھ 8ہزار 948روپے ٹیکس دیا جب کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 10 لاکھ 22ہزار184 روپے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 2 لاکھ 35 ہزار 982 روپے ٹیکس ادا کیا۔
ایف بی آر کی جاری کردہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اس دوران کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے، رہنما مسلم لیگ اور رکن قومی اسمبلی شہباز شریف نے 97 لاکھ 30 ہزار 545 روپے جب کہ ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے ٹیکس دیا۔
تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر اسد عمر نے 53 لاکھ 46 ہزار 342 روپے ٹیکس دیا۔

 

September 18, 2020

سی ای اوپی آئی اےارشدملک کاآڈٹ ٹیم کاشکریہ ۔آیاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ ٹیم نے پی آئی اے کے آڈٹ کا بیشترحصہ مکمل کرلیا

اسلام آباد : آیاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ ٹیم نے پی آئی اے کے آڈٹ کا بیشترحصہ مکمل کرلیا اور پی آئی اے کے طریقہ کار، شفافیت اور آڈٹ میں تعاون پراظہار اطمینان کیا۔
تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آیاٹا) نے پی آئی اے کا آپریشنل سیفٹی آڈٹ مکمل کرلیا، آیاٹاکی آڈٹ ٹیم نےپی آئی اےانتظامیہ کوبریفنگ دی اور پی آئی اے کے طریقہ کار، شفافیت اور آڈٹ میں تعاون پر اظہار اطمینان کیا۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ بہت جلدآڈٹ ٹیم مشاہدات،نتائج سےآگاہ کرےگی، پی آئی اےسیفٹی کےمعیار میں مسلسل بہتری پریقین رکھتی ہے ، آڈٹ کےنتائج پرعمل درآمد کویقینی بنایاجائے گا۔
اس سے قبل آڈٹ ٹیم آئی او ایس اے نے پی آئی اے کی عبوری رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا تھا ، جس میں کہا گیا کہ 2018 میں ہونے والے آڈٹ کے مقابلے میں مشاہدات کئی درجہ کم نکلے، ٹیم نے 5 روزہ آڈٹ کے دوران پی آئی اے کے سیفٹی کے 1 ہزار 72 پیرا میٹرز کی جانچ کی۔آڈٹ کی عبوری رپورٹ کے مطابق پی آئی اے نے 98.5 فیصد پیرا میٹر پر آڈٹ کو مطمئن کرلیا، دیگر کا جواب ابھی دیا جانا ہے۔
ترجمان کے مطابق آڈٹ کا مقصد پی آئی اے کے سیفٹی میعار اور طیاروں کی جانچ پڑتال ہے، ایئر لائنز کا ہر 2 سال بعد جائزہ لیا جاتا ہے، آئی اے ٹی اے کے تحت تجارتی ہوا بازی میں حفاظت کی کارکردگی پر نتائج جاری کیے جاتے ہیں۔سی ای اوپی آئی اےارشدملک نےآڈٹ ٹیم کاشکریہ ادا کرتے ہوئے ٹیم کی قابلیت،پیشہ وارانہ مہارت کوبھی سراہا، آڈیٹرز نے 7ستمبر سے کام کا آغاز کیا، جو 18 ستمبر کو مکمل ہوگا۔

September 17, 2020

کے الیکٹرک نے نیپرا سے فی یونٹ بجلی ایک روپے 54 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کردی۔

 

ویب ڈیسک ::کے الیکٹرک نے نیپرا سے فی یونٹ بجلی ایک روپے 54 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کردی۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں کے الیکٹرک کی فی یونٹ بجلی ایک روپے 54 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

کے الیکٹرک نے کثیر سالہ ٹیرف کے وسط مدتی جائزے کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافے کی استدعا کرتے ہوئے مزید 143ارب 86کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اجازت مانگی۔

کے الیکٹرک حکام نے 2022 تک کراچی میں بجلی کا شارٹ فال ختم کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ 2022 تک کراچی میں بجلی کی قلت ختم ہو جائے گی، اس وقت بجلی کی طلب 4050 میگاواٹ اور پیداوار 4140 میگاواٹ ہو گی۔

کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے متعلق سوال کے جواب میں کے الیکٹرک حکام نے جواب دیا کہ طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ بارشوں کا پانی جمع ہونا تھا،  یہ کہنا درست نہیں کہ اوور لوڈنگ کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہوئی،  سڑکوں پر 6 فٹ تک پانی کھڑا تھا، شہر میں کچھ فیڈرز 6 دن بھی بند رہے، بجلی بند نہ کرتے تو جانی نقصان کا اندیشہ تھا، اگر عوام سے پوچھا جائے تو وہ کے الیکٹرک کی تائید کریں گے۔

نیپرا نے کے الیکٹرک کی کثیر سالہ ٹیرف کے وسط مدتی جائزے کی درخواست پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی جائزہ سرمایہ کاری کی حد تک تھا، اس جائزے کا مقصد کے الیکٹرک کی سرمایہ کا جائزہ لینا تھا، کے الیکٹرک کی درخواست میں بہت ساری چیزیں آؤٹ آف اسکوپ ہیں اور ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنھیں زیر بحث نہیں لانا چاہیے تھا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ کےالیکٹرک جس کارکردگی کا دعوی کررہی ہے وہ زمین پہ کہیں نظر نہیں آرہی، اگر اس نے بہتری کی ہے تو یہ کہیں نہ کہیں نظر آنی چاہئے تھی، کے الیکٹرک کے قول و فعل میں تضاد ہے، صرف کےالیکٹرک کےالفاظ پہ انھیں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے سکتے، کےالیکٹرک نے نصف مدت میں مقررہ سرمایہ کاری کاصرف 39 فیصد مکمل کیا، اب مزید 144 ارب کی سرمایہ کاری مانگ رہی ہے۔

September 16, 2020

فلائٹ آپریشن بند ہونے سے پی آئی اے کو 28 کروڑ کا نقصان

اسلام آباد : ویب ڈیسک ::وزیر ہوابازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ یورپین سیکٹرزپرفلائٹ آپریشن بندہونےسے28کروڑ نقصان ہوا، پی آئی اے کو یہ نقصان جولائی تااگست 2020 ہوا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے تحریری جواب جمع کرایا ، جس میں غلام سرور نے کہا کہ یورپین سیکٹرزپرفلائٹ آپریشن بند ہونے سے 28 کروڑ نقصان ہوا، یورپی سیکٹرز پر1.69 ارب کے بجائے 1.41 ارب روپے ریونیو ہوا ، پی آئی اے کو یہ نقصان جولائی تا اگست 2020 ہوا۔
وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ برطانیہ سیکٹر پر 52 کروڑ روپے منافع کمایا گیا، برطانیہ اور پاکستان میں پروازیں چلانے کیلئے مالٹا کمپنی سے خدمات لی گئیں ، پی آئی اے نے برطانیہ کیلئے ابتک 4 راؤنڈ ٹرپ چارٹر پروازیں چلائیں اور برطانیہ سیکٹر پر 5.31 ارب لاگت کے مقابلے 5.81ارب ریونیو حاصل ہوا۔
غلام سرور نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے کینیڈا، یو اے ای، اومان، قطر کیلئے پروازیں شروع کر دیں جبکہ ملائیشیا، افغانستان، سعودی عرب کیلئے بھی پروازوں کا دوبارہ آغاز ہوا۔
سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازوں کی بندش سے رواں سال پی آئی اے حج آپریشن بھی نہیں ہو سکا ، جس کے باعث قومی ایئرلائن کو 12ارب روپے کا نقصان کا سامنا رہا۔
پی آئی اے کو عمرہ سیزن نہ ہونے کی وجہ سے بھی 5 ماہ کے دوران ساڑھے نو ارب روپے سے زائد کا نقصان کا سامنا رہا، پی آئی اے عمرہ سیزن میں ایک سال کے دوران 22 ارب روپے کا ریوینو حاصل کرتا تھا۔خیال رہے کہ پروازوں پر پابندی یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے جولائی میں عائد کی تھی۔ یورپ کے لیے آپریشن کی بندش سے قومی ایئرلائن کو رواں سال اربوں روپے سے زائد کے نقصان کا اندیشہ ہے، پی آئی اے نے اس سال ریونیو کا ہدف 196 ارب روپے رکھا تھا۔

September 2, 2020

قومی ایئر لائن کا غیر ضروری اخراجات میں کمی کا فیصلہ ،ترجمان پی آئی اے

کراچی: ویب ڈیسک ::قومی ایئر لائن نے برطانیہ میں پروازوں کی بندش کے معاملے کی وجہ سے غیر ضروری اخراجات میں کمی کا فیصلہ کر لیا۔
پی آئی اے نے یورپ کے بعد برطانیہ میں تعینات عملہ اور افسران کو واپس بلانے پر غور شروع کر دیا، ذرایع کا کہنا ہے کہ پابندی کے باعث لندن، برمنگھم، مانچسٹر، بریڈ فورڈ سے ایئرلائن عملے کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر برطانیہ میں پی آئی اے کا 19 کے قریب عملہ و افسران تعینات ہیں، اس عملے میں 7 سے زائد پاکستان سے پوسٹنگ پر گئے ہیں جب کہ دیگر 12 مقامی عملے ہیں، عملے کی واپسی سے پی آئی اے کو لاکھوں پاؤنڈز کی بچت ہوگی۔ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ لندن سے ایک انجینئر اور ایک پسنجر سیلز منیجر کے واپسی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق برطانیہ اسٹیشن سے عملے و افسران کی واپسی سے پی آئی اے کے اخراجات میں کمی واقع ہوگی، برطانیہ کی جانب سے عائد پابندی کے باعث پی آئی اے متبادل ذرایع سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پی آئی اے نے یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پروازوں پر 6 ماہ پابندی کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے لیے اپیل مناسب وقت پر دائر کرے گی، قومی ایئر لائن کی جانب سے اپیل سے متعلق تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔

September 2, 2020

پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایشیا کی بہترین مارکیٹ قراردیدی گئی

کراچی: جدت ویب ڈیسک :پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک بار پھر ایشیا کی بہترین اسٹاک مارکیٹ کا اعزاز حاصل کرلیا۔ نیویارک میں قائم ریسرچ فرم مارکیٹ کرنٹس ویلتھ نیٹ کے مطابق 2020 میں ایشیا میں سب سے بہتر کارکردگی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج چوتھی بہترین اسٹاک مارکیٹ رہی۔ پی ایس ایکس کے سی ای او ایم ڈی فرخ ایچ خان نے اس حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کووڈ 19کا بہترین انداز سے مقابلہ کیا۔ اس کی معیشت دیگر ممالک کے مقابلے میں تیزی سے بحال ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ غیرملکی خریدار جو پچھلے دو سال سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے خالص فروخت کنندہ تھے وہ اگست کے مہینے میں خالص خریدار بن کر ابھرے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان قومی صحت اور معاشی انتظام کاری کے تناظر میں کورونا سے بہترین انداز میں نمٹا ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک، دونوں نے مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے جراتمندانہ اقدامات کیے۔ فوری اور موثر اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ ٹریک پر آگئی ہے۔

August 29, 2020

یکم ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافے کا امکان

اسلام آباد : ویب ڈیسک ::یکم ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافے کا امکان ہے، اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے ماہ ستمبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری کرلی، آئل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت خزانہ نے ارسال کردی۔

سمری میں پٹرولیم مصنوعات 5 روپے فی لٹر مہنگی کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ساڑھے 4 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاحتمی فیصلہ وزارت خزانہ ،وزیراعظم کی مشاورت سے کرے گی اور 31 اگست کو نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

یاد رہے ماہ اگست میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3روپے86پیسےفی لیٹرکااضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 103 روپے97 پیسے فی لیٹرہوگئی تھی۔

August 24, 2020

پاکستان ریلویز نے گزشتہ 2 برس کے دوران بحالی اور ترقی کے 10منصوبے مکمل کئے

لاہور:جدت ویب ڈیسک : پاکستان ریلوے نے گزشتہ دو برس کے دوران ستائیس ارب تینتالیس کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے بحالی اور ترقی کے دس منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں خانیوال تا رائے ونڈ پٹڑی کو دو رویہ کرنا، ریلوے ٹریک کی مرمت کے نظام کو جدید بنانا، رولنگ کے ذخیرے اور ٹریک کی بحالی، راولپنڈی کوہاٹ سیکشن پر ریل کار کا دوبارہ آغاز اور ڈیوٹی پر موجود عملے کیلئے وی ایچ ایف مواصلاتی نظام کی مزید بہتری شامل ہے۔ موجودہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے بارے میں ایک دستاویز کے مطابق پاکستان ریلوے خصوصی اقدامات اور منصوبوں کے ذریعے دس ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کرنے میں کامیاب رہا جس کے باعث اس کے سالانہ خسارے میں چار ارب روپے کی کمی لانے میں مدد ملی۔ دستاویز میں کہا گیا کہ رواں سال کیلئے ریلوے کی آمدن کا ہدف تریپن ارب سے بڑھا کر اٹھاون ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔