February 24, 2018

اب پاکستان بچانے میں علماءکوکرداراداکرناہوگا‘آصف زرداری

مظفرآباد جدت ویب ڈیسک :پیر سیدعبدالجبار شاہ سوہاوی سجادہ نشین دربار عالیہ سوہاوہ شریف آزادکشمیرکی پاکستان کے سینئر علماءو مشائخ کے ہمراہ پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی پالیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں علما ءو مشائخ کا اہم قردار رہا ہے اور اب پاکستان کو بچانے میں بھی علماءاپنا قردار ادا کریں۔ زرداری ہاﺅس اسلام آباد میںملاقات کے دوران پیر سیدعبدالجبار شاہ سوہاوی سجادہ نشین دربار عالیہ سوہاوہ شریف آزادکشمیر نے آصف علی زرداری کو بتا یا کہ علماءکرام ملک میں امن و امان قائم رکھنے اور لوگوں کو دین اسلام کے اصل راستے پر چلانے کے لئے اپنا بھرپور قردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آزادکشمیر سے لے کر پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان سمیت ہر جگہ علماءکرام پاکستان کا تشخص بحال کرنے اور اسلام کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ آصف علی زردار کا علماءکرام کی خدامات کو سراہتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کو معرض وجواد لانے میں خانکاﺅں کے سجادہ نشین حضرات نے بنیاد اور قلیدی کردار اد کیا تھا اب جس مشکل دور سے پاکستان گزر رہا ہے اس کو بچانے کے لئے علماءو مشائخ ہمارا ساتھ دیں اور اپنا مزہبی فریضہ سر انجام دیتے ہوئے دین کی اصل اور آئیڈیل شکل لوگوں کے سامنے رکھیں تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت پیغام جائے۔ ملاقات کے دوران دہشت گردی کی سخت مزمت کی گئی اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں سے بھرپور تعاوں کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

February 24, 2018

رینجرزکی کارروائی ‘ منشیات فروش کی حراست سے دوغیرملکی بازیاب

کراچی جدت ویب ڈیسک :پاکستان رینجرز سندھ نے کراچی کے علاقے ڈیفنس سے مبینہ منشیات فروشوں کی حراست سے دو غیرملکی باشندوں کو بازیاب کرا دیا جبکہ 3 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔رینجرز کی جانب سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق ڈیفنس کے علاقے خیابان محافظ میں ایک بنگلے میں غیرملکی مغویوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا اور تلاشی کے دوران تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے موسس جوزف اور نائجیریا سے تعلق رکھنے والے فرانک انیگبوک کو بازیاب کرا دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق تنزانیہ اور نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد مختلف منشیات فروشوں کے ساتھ کراچی پہنچے تھے۔موسس جوزف کو مبینہ منشیات فروش کی جانب ضامن کے طور پر کراچی بھیجا گیا تھا جن کو رقم کی بروقت عدم ادائیگی پر ڈیفنس کے بنگلے میں یرغمال بنایا گیا تھا۔رینجرز کے مطابق فرانک انیگبوک دوسرے منشیات فروش کے ساتھ ڈیل میں کراچی آیا تھا تاہم انھیں موسس کو یرغمال بنانے والے مبینہ منشیات فروش نے اٹھا لیا تھا۔اعلامیے کے مطابق مذکورہ چھاپے کے دوران تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، ایک ایس ایم جی میگزین، 19 عدد ایس ایم جی راو¿نڈز، ایک بلٹ پروف جیکٹ، ایک ایس ایم جی پاو¿چ بھی برآمد کرلیا گیا۔رینجرز کا کہنا تھا کہ گرفتار تمام ملزمان سے ابتدائی تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق غیرملکیوں کو یرغمال بنانے والے مرکزی ملزم کا تعلق بلوچستان کے علاقے پنجگور سے ہے جو اندرون اور بیرون ملک منشیاتی فروشی کے کاروبار میں ملوث ہے جبکہ ان کی پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایک اسمگلر سے شراکت داری ہے۔اعلامیے کے مطابق ڈیفنس کے جس بنگلے میں چھاپہ مارا گیا تھا وہ مذکورہ اسمگلر کی ملکیت اور ان کے تعلقات بین الاقومی منشیات اسمگلروں سے بھی ہیں۔گرفتار دیگر ملزمان مرکزی ملزم کی معاونت کررہے تھے۔رینجرز کا کہنا ہے تینوں ملزمان کو قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔بازیاب غیرملکی باشندوں کو سفری دستاویزات کی عدم موجودگی پر فارن ایکٹ کے تحت پولیس کے کردیا گیا۔

February 24, 2018

پاکستان عسکریت پسندوں کو قتل کرنےکی بجائے افغانستان دھکیل دے،امریکہ

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک جیسے عسکریت پسند گروپوں کے جنگجوو¿ں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی بجائے انہیں واپس افغانستان کی جانب دھکیل دینا چاہیے۔غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک اعلیٰ امریکی عہدیدارنے کہاکہ پاکستان سے کہا جا رہا ہے کہ اسے حقانی نیٹ ورک یا اس طرز کے دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ارکان کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی بجائے انہیں واپس افغانستان کی جانب دھکیل دینا چاہیے۔ اس عہدیدار کے مطابق افغان سرزمین پر امریکی اور افغان فورسز ان عسکریت پسندوں سے نمٹ سکتی ہیں۔اس امریکی عہدیدار کے مطابق میرے خیال میں پاکستان اب خود کو مضبوط نہیں بلکہ دباو¿ میں محسوس کر رہا ہے۔ امریکی عہدیدار نے ان چہ مگوئیوں کو رد کر دیا کہ پاکستان پر ڈالا جانے والا یہ دباو¿ الٹا بھی پڑ سکتا ہے اور پاکستان اپنے ردعمل میں کوئی دوسرے چھوٹے اور ٹیکٹیکل قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔اس عہیدار نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امریکی مطالبات پر کیے جانے والے اقدامات کے لیے امریکا نے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا، تاہم پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو اپنے سرحدی علاقوں سے نکالے۔

February 24, 2018

کراچی ، مختلف حادثات وواقعات میں خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق

کراچی جدت ویب ڈیسک :شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات وواقعات میں خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔پولیس نے دہشتگردی کے مقدمات میں مطلوب ملزم سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد کرلیا۔تفصیلات کے مطابق زمان ٹاون پولیس نے ملزم حفیظ کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا،پولیس کے مطابق گرفتار ملزم قتل اور انسداد دہشتگردی کے مقدمات میں مفرور تھا،،اورنگی ٹاون منگھوپیر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےایک ملزم کو گرفتار کرلیا پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے گذشتہ روز گیارہ سالہ بچی کے ساتھ زیاتی کی کوشش کی تھی،پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے،لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی مین اسٹاپ کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک خاتون جاں بحق ہو گئی،ہاکس بے نظیر ٹاو¿ن کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا،پولیس نے متوفی کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا،،لیاری لاشاری محلہ میں گرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا،پولیس نے لاش کو کارروائی کے لئے اسپتال منتقل کر دیا،،احسن آباد کے علاقے معمار بنگالی موڑ کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

February 24, 2018

احد چیمہ شہباز شریف کا فرنٹ مین طو طا ہے ، عمران خان

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ احد چیمہ شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے، احد چیمہ وہ طوطا ہے جس میں شہباز شریف کی جان ہے، نیب نے احد چیمہ کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تو لاہور میں اس کے حق مین بینر لگ گئے، بیوروکریٹس کا کام ملک کی خدمت کرنا ہوتا ہے، نہ کہ شریف خاندان کی خدمت کرنا ہے، نواز شریف 300ارب روپے کی کرپشن میں ثبوت دینے کے بجائے رو دھوکر عوام کو عدلیہ کے خلاف اکسا رہا ہے، تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف اور شہباز شریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان نے ہر ادارے میں کرپشن کےلئے اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں، احد چیمہ بھی شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے اور احد چیمہ وہ طوطا ہے جس میں شہباز شریف کی جان ہے، احد چیمہ وہ بندہ ہے جو اربوں کے منصوبوں کو ڈیل کرتا رہا، آشیانہ ہا¶سنگ سکیم میں احد چیمہ پر کرپشن کے الزامات ہیں، نیب احد چیمہ کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرتی ہے تو لاہور میں اس کے حق میں بینر لگا دیئے جاتے ہیں اور پنجاب کے کرپٹ بیورو کریٹس اس کس بچانے کے لئے آگے آجاتے ہیں، کیونکہ شہباز شریف کو پتہ ہے اگر احد چیمہ نے منہ کھولا تو ان کی کرپشن سامنے آجائے گی، شہباز شریف نے صوبے میں اپنا نظام بنایا ہوا ہے، بنیادی سہولتوں پر خرچ ہونے والا پیسہ میگا پراجیٹس پر خرچ کیا گیا، شہباز شریف نے 9سالوں میں9ہزار ارب روپے خرچ کیا لیکن عوام کو بنیادی سہولیات نہ مل سکیں، 130ارب روپے میٹرو بس پر لگائے گئے جو چلتی ہی نہیں اور مسلسل خسارے میں جارہی ہے، نیب سے درخواست کریں گے کہ اسلام آباد، لاہور، ملتان، میٹرو بس کی تحقیقات کی جائے تاکہ کرپشن سامنے آسکے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت نے تمام اداروں کو مفلوج کر دیا ہے اور ہر ادارے میں اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں کی نواز شریف پانامہ کرپشن کیس میں 300ارب کی کرپشن کا جواب دینے کے بجائے رودھوکر عوام کو عدلیہ کے خلاف اکسا رہے ہیں، لیکن پوری قوم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے، عمران خان نے کہا کہ فواد حسن فواد بیوروکریسی کا گارڈ فادر ہے۔اس طرح آفتاب سلطان جس کوآئی بی پربٹھا دیا ہے، اسی طرح قمرزمان جوپہلا ڈی جی نیب تھا۔انہوں نے حدیبیہ پیپرزمیں ان کوسہولت فراہم کی۔انہوں نے کہاکہ سعید احمدجس کے بارے میں اسحاق ڈار نے کہاکہ وہ منی لانڈرنگ کرتا تھا۔ظفرحجازی جس پرکرپشن کے الزامات ہیں۔ان سب کے ساتھ شہبازشریف کرپشن کرتا ہے۔، خیبرپختونخواہ میں ہم نے بیورو کریٹس کو غلط کام کرنے سے روکا ہے، چیف سیکرٹری اعظم خان سے پوچھیں کہ ان سے غلط کام کروانے کی کسی میں جرات نہیں، ہم نے خیبرپختونخواہ میں ڈی جی کی تعیناتی کا حق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو دیا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

February 24, 2018

نیب کوچاہیے دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھے ‘سردار ایاز صاد ق

لاہور جدت ویب ڈیسک :سپےکرقومی اسمبلی سردار اےاز صادق نے کہاکہ عدالتی فےصلوں پر تنقےد کرنا ہمار ا بنےادی حق ہے اور جس سے اتفا ق نہےں ہوگااس پر تنقےد کرنے کے ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کرےں گے اورہمےں تنقےد کرنے سے کوئی نہےں روک سکتا ، نےب مشرف کے دور کا کالاقانون ہے اس قانون مےں پہلے جےل مےں ڈالا جاتا تھا اور بعد مےں تحقےقات شروع کی جاتی تھی اس قانون پر قومی اسمبلی مےں اکثرےت رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔ان خےالات کااظہارانہوںنے اپنے حلقے مےں نئے ترقےاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے کےا ۔ سردا ر اےاز صادق نے کہاکہ پارلےمنٹ 20کروڑ عوام کا ادارہ ہے اور اس کو اےک مقام حاصل ہے اور جو لوگ پارلےمنٹ مےں آتے ہےں وہ عوام کی آواز ہوتے ہےں ،عوام کی آواز کو قومی اسمبلی او رسےنےٹ تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔انہوںنے کہاکہ قومی اسمبلی اور سےنےٹ کو جو اہمےت حاصل ہے اس کوئی ختم نہےں کرسکتا ۔انہوںنے کہاکہ مشرف پاکستان آنا چاہتے ہےں مگر آنے سے گھبراتے ہےں ۔ انہوںنے کہاکہ سےاستدان ہی ہوتے ہےں جو ہر ظلم کے سامنے سےسہ پلائی دےور بن جاتے ہےں اور اسکی سب سے بہترےن مثال سابق وزےراعظم مےاں نوازشرےف ہےں جو ظلم کے سامنے کھڑے بھی ہوئے اور عوام کاموقف کو پےش بھی کےا ۔ انہوںنے اےک سوال کے جواب مےں کہاکہ عدالتی فےصلوں پر تنقےد کرنا ہمار ا حق ہے اور جس سے اتفا ق نہےں ہوگااس پر تنقےد بھی کرےں گے اور تبصرہ بھی کرےں گے ہمےں تنقےد کرنے سے کوئی نہےں روک سکتا ۔ انہوںنے نےب کے حوالے سے کہاکہ نےب کوچاہیے دوسروں کی عزت نفس کا خےال رکھے اور اس حوالے سے چےئرمےن نےب کو خود نوٹس لےنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ جب تک جرم ثابت نہ اس سے پہلے کسی کو گرفتار کرنا غےر مناسب ہے جس سے اس کے اہل خانہ پر برے اثرات مرتب ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ پی سی او ججز کا اےک ڈکےٹر سے حلف لےنا غےر مناسب تھا مجھے معلوم نہےں کہ اس وقت کوئی پی سی او جج موجود ہے کہ نہےں مگر مےں نہ ہی کسی پی سی او جج کو مانتا ہوں اور نہ ہی کسی پی سی او جج کے سامنے پےش ہونگا ۔نےب مشرف کے دور کا کالاقانون ہے اس کو بنانے کا مقصد سےاستدانوں کی وفا دارےاں تبدےل کرواناتھا اوراس کالے قانون کی وجہ سے متعدد کاروباری حضرات ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔اس قانون مےں سب سے پہلے جےل مےں ڈالا جاتا اور بعد مےں تحقےقات شروع کی جاتی تھی اس قانون پر قومی اسمبلی مےں اکثرےت رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔

February 24, 2018

سندھ کی بیورو کریسی کے گرد گھیرا تنگ تحقیقاتی اداروں کیخلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ

کراچی جدت ویب ڈیسک :پنجاب کے بعد سندھ سمیت دیگر تین صوبوں کی بیورو کریسی کے گرد شکنجہ تنگ کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے بعد سندھ کی بیورو کریسی پر ہاتھ ڈالنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے جبکہ سندھ کی بیورو کریسی نے نیب اور ایف آئی اے کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے تحت احتجاج اور مظاہروں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب سیکرٹری سروسز سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے پر بھی بیورو کریسی میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ بیورو کریسی اور تحقیقاتی اداروں کی جنگ میں شہریوں کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق نیب سمیت مختلف تحقیقاتی اداروں نے کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات میں مطلوب افسران کی فہرستیں تیار کرلی ہیں جس کے باعث چاروں صوبوں کی بیورو کریسی خوف و ہراس کا شکار ہوگئی ہے۔ سندھ میں بیورو کریسی نے نیب اور ایف آئی اے کے خلاف احتجاج کی تیاری شروع کردی، ڈی ایم جی افسران کے خلاف براہ راست اور اچانک کارروائی کے خلاف وزیراعظم اور وزیراعلی سیکرٹریٹ کو چارٹر آف ڈیمانڈ پر مبنی احتجاجی یادداشت پیش کرنے کے لیے مشاورت اور نکات کی تیاری شروع کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نیب کی جانب سے آئندہ چند ہفتوں میں سندھ سمیت چاروں صوبوں میں نچلے گریڈ کے اہلکاروں سے لے کر گریڈ 22 یا مساوی عہدے کے افسران کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے جن میں 17 کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو ڈی ایم جی اور پی ایس سی افسران اور نیب کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے موجودہ اور سابق افسران کا ایک غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے سینئر بیورو کریٹس نے سند میں نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے افسران کو ہراساں کرنے کے تدارک کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ بیشتر ڈی ایم جی اور سینئر افسران کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ نیب کی جانب سے بیورو کریٹس کی گرفتاری کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار مناسب نہیں، نیب سمیت اگر کسی بھی تحقیقاتی ادارے کو گرفتاری مطلوب ہے تو مجوزہ طریقہ کار کو اختیار کیا جائے اور چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر متعلقہ افسر کے خلاف چارج شیٹ سے آگاہ کیا جائے۔ سندھ میں سیکرٹری سطح کے 27 افسران اس سے قبل بھی وزیراعلی سندھ کے پاس جاکر یہ شکایت کر چکے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں اپنے امور انجام نہیں دے سکتے۔ ایف آئی اے اور نیب انہیں اور ان کے ہم منصب سابقہ افسران کے خلاف تحقیقات کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے وہ کسی بھی طرح قانونی نہیں ہے۔